جب سے نئی اسمبلیاں تشکیل پائی ہیں ، ایل ایف او کا بحران شدید سے شدید تر ہوتا جارہا ہے، متحدہ مجلس عمل اور دیگرسیاسی جماعتوں کے آئے دن حکومت سے مذاکرات کی خبریں اخبارات میں چھپتی رہتی ہیں لیکن مذاکرات کا یہ اونٹ ابھی تک کسی کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آتا۔ ایل ایف او کیا ہے؟ اور دینی وسیاسی جماعتوں کو اسے تسلیم کرنے میں کن مشکلات کا سامنا ہے؟ اس کو مان لینے سے ملکی استحکام کو کون سے خطرات لاحق ہوتے ہیں؟ ذیل کے صفحات میں اسی ایل ایف او کے ارتقا اور اس میں موجود قوانین کو بالاختصار پیش کیا گیا ہے۔ محدث کے حلقہ قارئین میں چونکہ علماء ، قانون دان اور اہل دانش حضرات کی بڑی تعداد شامل ہے، جنہیں ان مسائل پر عوام الناس کی رہنمائی کا فرض انجام دینا ہوتا ہے، اس لحاظ سے زیر نظر مضمون کے مطالعہ سے وہ بخوبی کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں ۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین مجریہ ۱۹۷۳ء اور اس سے قبل نافذ ہونے والے تمام دساتیر میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ پاکستان میں جمہوری نظام رائج رہے گا اور عوام کے منتخب کردہ نمائندوں ہی کو حکمرانی کا حق حاصل ہوگا۔اس آئین میں یہ بھی تحریر ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان پرحاکمیت ِاعلیٰ اللہ بزرگ و برتر کی ہوگی۔ قرآن اور حدیث سے متصادم کوئی قانون یا ضابطہ نافذ نہیں کیا جاسکے گا اور فوج سمیت تمام سرکاری اور نیم سرکاری ادارے منتخب سیاسی حکومت کے ماتحت ہوں گے۔

کوئی شخص جو سرکاری نوکری میں منفعت بخش عہدے پر فائز ہے، کوئی سیاسی اعلیٰ عہدہ حاصل نہیں کرسکے گا اور ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے دو سال بعد تک کسی الیکشن میں حصہ لے کر اقتدار پرقبضہ نہیں کرسکے گا۔ اتنی واضح آئینی پابندیوں کے باوجود وطن عزیز بار بار آئینی بحران کا شکار ہوتا رہا ہے اور وہ بھی فوجی طاقتوں کی طرف سے۔

سب سے پہلے میجر جنرل (ر) سکندر مرزا نے سیاسی بحران پیدا کیا۔ جس کے نتیجے میں وہ خود ایک مختصر عرصے کے لئے پاکستان کے صدر بن گئے۔ اس کے کچھ ہی روز بعد جنرل محمد ایوب خان نے انہیں برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ ایوب خان کے زوال پر جنرل محمدیحییٰ خان نے زمامِ اقتدار سنبھالی۔ ان کے دورِ حکومت میں پاکستان کی افواج کو اسلامی تاریخ کی سب سے بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ملک دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ ۱۹۷۷ء میں جنرل محمد ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کو برطرف کردیا بعد ازاں چیف مارشل ایڈمنسٹرسے خود صدرِ پاکستان بن گئے۔ جبکہ ۱۲؍اکتوبر ۱۹۹۹ء کو جنرل پرویز مشرف نے اسی طرح میاں محمد نوازشریف کی سول حکومت کا تختہ اُلٹ دیا۔

تمام فوجی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو قانونی شکل دینے کے لئے آئین میں تبدیلیوں اور گنجائشیں پیدا کرنے کا وطیرہ اپنایا۔ جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا۔ آئین میں کی گئی یہ تبدیلیاں اس وقت ایک دستوری بحران کی صورت اختیار کرچکی ہیں۔ حکومت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان گذشتہ تقریباً ایک سال سے مذاکرات جاری ہیں۔ بہت سی باتوں پر اتفاقِ رائے ہوچکا ہے یا خاموشی اختیار کی جارہی ہے لیکن چند ایک احکامات ایسے ہیں جنہیں ہضم کرنا سیاسی جماعتوں کے لئے سخت مشکل ہے اور انہی نکات پر ایک ایسا ڈیڈلاک پیدا ہوچکا ہے جس نے پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل پر بھیانک سائے مسلط کردیے ہیں۔

یہ آئینی بحران کیا ہے؟ پرویز مشرف حکومت نے آئین میں کیا کیاتبدیلیاں کی ہیں؟وہ کون سے آئینی اقدامات ہیںجو بحران کی بنیاد بن رہے ہیں۔ ایسے بہت سے سوالات ہیں جو زبانِ خلق پر مچل رہے ہیں ۔ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے کئے جانے والے ان اقدامات کاجائزہ لیا جائے تو جو صورت حال اُبھر کر سامنے آتی ہے، اس کی مختصر داستان کچھ اس طرح سے ہے :

عبوری آئینی حکم نمبر۱ ...مجریہ ۱۹۹۹ء

یہ حکم نامہ ۱۴؍اکتوبر ۱۹۹۹ء کو اسلام آباد سے جاری کیا گیا۔ اس حکم کے ابتدائیہ میں کہا گیاتھا کہ چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور چیف آف آرمی سٹاف اور چیف ایگزیکٹو اسلامی جمہوریہ پاکستان اپنے ان اختیارات کے تحت جو آج ہی ملک میں ہنگامی حالات کے اعلانِ نفاذ سے اُنہیں حاصل ہوئے ہیں، کے ذریعے عبوری آئینی حکم نمبر ۱ مجریہ ۱۹۹۹ء نافذ کرتے ہیں۔ انہیں آئندہ چیف ایگزیکٹو کہا جائے گا :

عبوری آئینی حکم نمبر۱ کی خاص خاص باتیں حسب ِذیل ہیں :

1. یہ حکم پورے پاکستان پر لاگو ہوگا اور فوری طور پر نافذ العمل سمجھا جائے گا۔

2. اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین ۱۹۷۳ء کی دفعات معطل رہیں گی اور وہ تمام قوانین معطل رہیں گے جنہیں چیف ایگزیکٹو معطل قرار دیں۔ البتہ جہاں تک ممکن ہوسکے گا ملک کو آئینی دفعات کے قریب قریب چلایا جائے گا۔

3. اس حکم نامے سے قبل ملک بھر میں جو عدالتیں کام کررہی ہیں وہ حسب ِمعمول کام کرتی رہیں گی۔ البتہ سپریم کورٹ آف پاکستان، تمام ہائی کورٹس اور دیگرعدالتیں چیف ایگزیکٹو کے خلاف کوئی حکم جاری نہیں کرسکیں گی اورنہ ہی کسی ایسے شخص کے خلاف کوئی ہدایت یا حکم جاری کریں گی جو چیف ایگزیکٹوکی اتھارٹی کے تحت کوئی خدمات سرانجام دے رہا ہو۔

4. آئین ۱۹۷۳ء کے باب اوّل حصہ دوم کے تحت عوام کو حاصل بنیادی حقوق جاری رہیں گے۔ بشرطیکہ وہ ہنگامی حالات کے نفاذ کے حکم نامے اور چیف ایگزیکٹو کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری ہونے والے دیگر احکامات سے متصادم نہ ہوں۔

5. صدرِ پاکستان، چیف ایگزیکٹو کی ہدایات کے مطابق کام کریں گے۔ تمام صوبوں کے گورنر صاحبان بھی چیفایگزیکٹوکے زیر ہدایت کا م کرنے کے پابند ہوں گے۔

6. کسی عدالت، ٹربیونل یا کسی بھی دوسری اتھارٹی کے سامنے ۱۴؍اکتوبر ۱۹۹۹ء کے ہنگامی حالت کے نفاذ کو چیلنج نہیں کیاجاسکے گا، نہ ہی اس کی اجازت ہوگی۔

7. چیف ایگزیکٹو یا اس کے کسی مجاز نمائندے کے خلاف کوئی جج منٹ، ڈگری، رِٹ، حکم یا کارروائی کسی بھی عدالت یا ٹربیونل سے جاری نہ ہوسکے گی۔

8. آئین کی معطل دفعات کے علاوہ دیگر قوانین حسب ِمعمول جاری و ساری رہیں گے۔ اس وقت تک جب تک کہ چیف ایگزیکٹو کسی قانون کو معطل نہ کردیں۔ اس میں ترمیم نہ کردیں یا اسے دوسرے سے منسوخ نہ کردیں۔

(بعدازاں ۱۵؍نومبر کو تیسری عبوری آئینی ترمیم کے ذریعے لفظ ِقانون کے آگے تمام آرڈیننس، احکامات، رولز، بائی لاز، ریگولیشنز اور نوٹیفیکشنز کا اضافہ بھی کردیا گیا۔)

مذکورہ بالا عبوری آئینی آرڈر کے ساتھ ہی ہنگامی حالت کے نفاذ کا حکم بھی جاری کیا گیا۔ اس حکم میں کہا گیا کہ مسلح افواج کے چیفس آف سٹاف اور افواجِ پاکستان کے کور کمانڈروں سے مشاورت اور ان کے فیصلوں کے مطابق، جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویزمشرف پورے پاکستان میں ہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے مزید اعلان کرتے ہیں کہ

1. اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین معطل کیا جاتا ہے۔

2. صدرِ پاکستان بطور صدرِ پاکستان اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

3. قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیاں اور سینٹ معطل متصور ہوگی۔

4. وزیراعظم، وفاقی وزرا، وزرائِ مملکت، وزیراعظم کے مشیر، صوبائی وزرا، صوبائی مشیر اور وزرائِ اعلیٰ اپنے اپنے عہدوں سے برطرف تصور کئے جائیں گے۔

5. تمام پاکستان، افواجِ پاکستان کے کنٹرول میں رہے گا۔

6. یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور ۱۲؍اکتوبر ۱۹۹۹ء سے مؤثر خیال کیا جائے گا۔

[اس حکم نامے کے آخر میں جنرل پرویز مشرف کے دستخط ثبت ہیں اور ۱۴؍اکتوبر۱۹۹۹ء کی تاریخ درج ہے۔]

عبوری آئینی حکم میں ۱۲؍اکتوبر۱۹۹۹ء سے پہلے خدمات پر مامور سپریم کورٹ، فیڈرل شریعت کورٹ، ہائی کورٹ کے جج صاحبان، محتسب ِاعلیٰ اور چیف احتساب کمشنر کو ہدایت دی گئی کہ وہ حسب ِسابق اپنی ملازمت کی شرائط پرکام کرتے رہیں۔ بعد ازاں ۱۵؍ نومبر ۱۹۹۹ء کو اس حکم میں ایک اضافی ترمیم کرکے چیف الیکشن کمشنر کو بھی حسب ِسابق شرائط ِملازمت پر کام جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ اسی طرح اسی روز عبوری آئینی حکم میں ایک اور ترمیم کرکے صدر پاکستان اور چاروں صوبوں کے گورنر صاحبان کو اس امر کا پابند کردیا گیا کہ وہ چیف ایگزیکٹو کی ہدایت یا اجازت کے بغیر کوئی آرڈیننس جاری نہیںکرسکتے۔ اور یہ کہ چیف ایگزیکٹو کے زیر ہدایت جاری کردہ آرڈیننس آئین میں دی گئی مخصوص مدت تک مؤثر رہنے کی پابندی سے آزاد ہوں گے۔ (آرڈیننس XIV آف1999ء)

گورنروں کی تقرری

آئین میں مذکورہ بالا ترمیمات کے ساتھ ہی ساتھ گورنروں، ججوں اور وزیروں کے حلف سے متعلق بھی احکامات کاسلسلہ جاری رکھا گیا۔ چیف ایگزیکٹو نے اپنے حکم نمبر ۴ مجریہ ۱۹۹۹ء کے ذریعے صدر پاکستان کو اس امر کا پابند کردیا کہ وہ چاروں صوبوں میں صرف چیف ایگزیکٹوکے ہدایت کردہ اشخاص ہی کو گورنر تعینات کرسکتے ہیں۔ اور یہ کہ گورنر حضرات صرف چیف ایگزیکٹو کی خوشنودی حاصل رہنے تک گورنر رہ سکیں گے۔ مزید یہ کہ گورنر صاحبان چیف ایگزیکٹوکے وضع کردہ ضوابط کے دائرے میں رہ کر ہی فرائض سرانجام دے سکیں گے۔ اگر کوئی گورنر کسی وجہ سے ملک سے باہر چلا جائے تو اس کی جگہ (صدر کے بجائے) چیف ایگزیکٹو کا منتخب کردہ شخص گورنر کے فرائض سرانجام دے گا۔ جو چیف ایگزیکٹو کے زیرہدایت خدمات سرانجام دے گا۔ اس حکم نامے کے ساتھ ایک شیڈول بھی دیا گیا تھا جس میں اس حلف کے الفاظ درج تھے جو چیف ایگزیکٹو کے نامزد کردہ گورنر نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے اُٹھانا تھا۔ اس حلف میںاگرچہ یہ تحریر تھا کہ گورنر اسلامی آئیڈیالوجی اور نظریۂ پاکستان کی حفاظت کرے گا اور اپنے کسی ذاتی مفاد کو پیش نظر نہیں رکھے گا اور کسی خوف کے بغیر عوام کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ کرے گا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ مندرجہ ذیل الفاظ بھی حلف کی عبارت میں شامل تھے :

''میں ۱۴؍اکتوبر ۱۹۹۹ء کے اعلان اور عبوری آئینی حکم نمبر۱ مجریہ ۱۹۹۹ء کا تابع فرمان رہوں گا جو کہ چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، چیف آف آرمی سٹاف اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو نے ۱۴؍اکتوبر کو جاری کیا تھا یا بعد ازاں وقتاً فوقتاً وہ جاری کریں گے۔''

نیشنل سیکورٹی کونسل کی تشکیل

چیف ایگزیکٹو نے اس کے بعد حکم نمبر ۶ کے ذریعے مؤرخہ ۳۰؍نومبر ۱۹۹۹ء کو نیشنل سیکورٹی کونسل تشکیل دینے کا حکم نامہ جاری کیا۔ نیشنل سیکورٹی کونسل میں چیف آف نیول سٹاف اور چیف آف ائر سٹاف کو رکن نامزد کیا گیا۔ کونسل کے چیئرمین کے طور پر چیف ایگزیکٹونے خود اپنے آپ کو نامزد کیا اور اپنے اختیار میں یہ بھی رکھا کہ وہ جب چاہیں جس کو چاہیں کونسل کا رکن منتخب کرسکتے ہیں اور جسے چاہیں کونسل سے فارغ کرسکتے ہیں۔ نیشنل سیکورٹی کونسل کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ چیف ایگزیکٹو کونسل سے، اگر مناسب سمجھیں تو قومی مفاد، ملکی سلامتی، خارجہ اُمور، بدعنوانی، احتساب، بنک قرضوں کی واپسی، عوامی رقوم کی بازیابی، نادہندگان کے معاملات، مالیاتی اُمور، معاشی اور سماجی اُمور، عوامی فلاح وبہبود، صحت، تعلیم، اسلامی آئیڈیالوجی، انسانی حقوق، اقلیتوں کی حفاظت اور ترقی نسواں پر مشورہ کرسکتے ہیں۔

اس حکم نامے کی دفعہ ۷ میں کہا گیا ہے کہ نیشنل سیکورٹی کونسل چیف ایگزیکٹو کو جو مشورہ دے گی، اس کی منظوری کا حق چیف ایگزیکٹو کو حاصل ہوگا۔ اسی طرح ان فیصلوں کے نفوذ اور اثر پذیری کو چیف ایگزیکٹو اپنی مرضی کے مطابق عملی جامہ پہنانے کا اختیار رکھے گا۔ نیشنل سیکورٹی کونسل کے غیر سرکاری ارکان کے لئے بھی ایک حلف نامہ تجویز کیا گیا ہے۔ جس میں اسلامی آئیڈیالوجی، نظریۂ پاکستان وغیرہ کو پیش نظر رکھنے کے علاوہ یہ حلف لینا بھی لازم قرار دیا گیا کہ کونسل کے ارکان چیف ایگزیکٹو کے احکامات اور ان کے ۱۴؍اکتوبر کو جاری کردہ اعلانِ ایمرجنسی اور عبوری آئینی حکم کے تابع فرمان رہیں گے۔

کابینہ کے بارے میں

۳۰؍اکتوبر ۱۹۹۹ء بطورِ چیف ایگزیکٹواسلامی جمہوریہ پاکستان جنرل پرویز مشرف نے حکم نمبر۷ جاری کیا۔ اس حکم کے ذریعے چیف ایگزیکٹو کی مدد کے لئے ایک کابینہ کی تشکیل کو ممکن بنایا گیا۔ اگرچہ صدر پاکستان کو اس حکم میںوفاقی وزرا کی نامزدگی کا اختیار دیا گیا لیکن ساتھ ہی یہپخ بھی لگا دی گئی کہ صدر پاکستان کسی بھی شخص کو چیف ایگزیکٹوکی ہدایت کے بغیر نامزد نہیںکرسکتے۔ کسی وفاقی وزیر کی برطرفی بھی صدر موصوف کے اختیار میں نہ تھی۔ بلکہ یہ امربھی چیف ایگزیکٹو کی صوابدید پرمنحصر تھا اور ان وزرا کی تبدیلی بھی صرف چیف ایگزیکٹو صاحب ہی کے اختیار میں تھی۔ اس حکم میں یہ بھی درج ہے کہ وفاقی وزیر عہدے پر فائز ہونے سے قبل اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کے سامنے حلف اُٹھائے گا جس میں معمول کی اور باتوں کے علاوہ ۱۴؍ اکتوبر کے اعلان اور عبوری آئینی حکم نمبر۱ کی روشنی میںچیف ایگزیکٹو کے تابع فرمان رہنے اور ان کے بعدازاں جاری کردہ احکامات پر بھی صدقِ دل سے عمل کرنے کی پابندی شامل تھی۔

۱۵؍نومبر ۱۹۹۹ء کو صوبائی وزرا کی نامزدگی سے متعلق بھی آرڈر نمبر ۸ جاری کیا گیا۔ اس میں گورنر صوبہ کوپابند کیا گیا تھا کہ وہ چیف ایگزیکٹو کی پیشگی منظوری کے بغیر صوبائی وزیر مقرر نہ کرے۔ اس حکم میں صوبائی وزرا کو بھی ایک حلف اٹھانے کاپابند کیاگیا۔ حلف میںحسب ِذیل عبارت شامل تھی :

''میں ۱۴؍اکتوبر کے اعلان اور عبوری آئینی حکم نمبر۱ مجریہ ۱۹۹۹ء کی پابندی کروں گا جوکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، چیف آف آرمی سٹاف اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو نے ۱۴؍اکتوبر کو جاری کیا تھا یا اس کے بعد جاری کئے۔ اور میںگورنر صاحب کے ان احکامات کی پابندی کروں گا جن کی منظوری وہ چیف ایگزیکٹو سے پیشگی طور پر حاصل کرچکے ہوں گے۔''

مندرجہ بالا عبارت کے ساتھ صوبائی وزرا پراسلامی آئیڈیالوجی اور نظریۂ پاکستان کے مطابق عمل کرنے کی شرط بھی عائد کی گئی تھی۔

ججوں کے لئے نیا حلف

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت میں جنرل پرویز مشرف نے ۳۱؍ دسمبر ۱۹۹۹ء کو حکم نمبر ۱۰ مجریہ ۱۹۹۹ء کے ذریعہ ہائی کورٹوں اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس صاحبان اور دیگر تمام جج صاحبان پر بھی از سر نو حلف اٹھانے کی پابندی عائد کردی۔ اس طرح اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو بھی عبوری آئینی حکم نمبر۱ اور ۱۴؍اکتوبر کے اعلانِ اقتدار کا تابع فرمان بنالیا۔

۲۵ جنوری ۲۰۰۰ء کو چیف ایگزیکٹو صاحب نے عبوری آئینی حکم مجریہ ۱۹۹۹ء اور ہنگامی حالت کے نفاذ کے حکم کے تحت عہدے کا حلف برائے ججز آرڈر ۲۰۰۰ء جاری کیا۔ اس حکم میں کہا گیا تھا کہ ہنگامی حالت کے نفاذاور عبوری آئینی حکم کے تحت ضروری ہوگیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان، ہائی کورٹوں اور وفاقی شرعی عدالت کے جج صاحبان نئے سرے سے حلف اُٹھائیںگے تاکہ وہ عبوری آئینی حکم مجریہ ۱۹۹۹ء اور ہنگامی حالت کے نفاذ کے فرمان کی روشنی میں اپنے اختیارات استعمال کرسکیں۔ اس حکم نامے کی دفعہ ۳ میں صراحت کی گئی کہ جو جج اس حکم کے تحت حلف نہیں اٹھائے گا یا حلف کے لئے بلایا نہیں جائے گا، وہ اپنے عہدے سے محروم ہوجائے گا۔ اس قانون میں یہ پابندی بھی عائد کی گئی کہ اس حکم نامے کے اجرا کے بعد جو نئے جج تعینات ہوں گے ان کے لئے بھی یہ حلف اٹھانا لازمی ہوگا۔ اس قانون کی دفعہ ۳ کی ذیلی دفعہ ۳ میں نیا حلف اٹھانے والے ججوں کو اس امر کابھی پابند کیا گیا کہ وہ ۱۴؍اکتوبر کے ہنگامی حالت کے اعلان اور عبوری آئینی حکم نمبر۱ مجریہ ۱۹۹۹ء مع جملہ ترمیمات کے خلاف کسی طرح کی کوئی سماعت نہیں کرے گا۔ ذیلی دفعہ (۴) میں بیان کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ یا وفاقی شرعی عدالت کے جج صاحبان، صدر مملکت؍چیف ایگزیکٹو یا چیف ایگزیکٹو کے نامزد کردہ شخص کے سامنے حلف اٹھائیں گے جبکہ ہائی کورٹوں کے جج صاحبان اپنے اپنے صوبے کے گورنر یا گورنر کے نامزد کردہ شخص کے سامنے حلف اٹھائیں گے۔اس حکم نامے کے ساتھ ایک شیڈول بھی دیا گیا تھا۔ اس شیڈول میںاس حلف کی عبارت درج تھی جو جج صاحبان نے اٹھانا تھا۔ اس عبارت میں دوسرے عمومی حلفیہ لوازم کے ساتھ یہ جملے بھی درج ہیں :

''میں ۱۴؍ اکتوبر کے ہنگامی حالت کے نفاذ کے حکم اور عبوری آئینی حکم نمبر۱ مجریہ ۱۹۹۹ء (مع جملہ ترمیمات) کے ضوابط کے مطابق ایمانداری اور اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دوں گا۔

''یہ کہ میں تابع فرمان رہوں گا ۱۴؍اکتوبر ۱۹۹۹ء کے ہنگامی حالت کے حکم کا اور عبوری آئینی حکم نمبر ۱ مجریہ ۱۹۹۹ء کا مع اس میں بعد ازاں ہونے والی تمام ترمیمات کے اور سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کا۔''

شمالی علاقہ جات پر کنٹرول

اس سے قبل ۸؍ نومبر ۱۹۹۹ء شمالی علاقہ جات کونسل لیگل فریم ورک (ترمیمی) حکم جاری کیا گیا۔ ترمیم کے ذریعے دفعہ ۱۷؍اے کا اضافہ کرکے کونسل کو اس امر کاپابند بنایا گیاکہ وہ قانون سازی کے لئے جو بھی بل منظور کرے، اسے حتمی طور پر پاس کروانے کے لئے پندرہ دن کے اندر اندر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو کو بھجوائے۔ ترمیم کی ذیلی دفعہ ۳ میں صراحت کی گئی تھی کہ صرف چیف ایگزیکٹو کی منظوری کے بعد ہی مجوزہ بل قانون کا درجہ حاصل کرسکے گا اور نافذ کیا جاسکے گا۔

قومی احتساب بیورو

۱۶؍ نومبر ۱۹۹۹ء کو چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے جنرل پرویز مشرف نے آرڈیننس نمبر ۱۷( مجریہ ۱۹۹۹ئ) کے ذریعہ قومی احتساب بیورو کے زیرعنوان ایک احتسابی ادارہ قائم کیا۔ جس کامقصد قوم کی لوٹی ہوئی دولت اور کرپشن کے ذریعے حاصل کردہ جائیدادوں کو بازیاب کروانا تھا۔ یہ آرڈیننس صدر پاکستان کی جانب سے نافذ کیا گیاتھا۔ اس کی دفعہ ۶ میں بیان کیا گیا کہ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کی نامزدگی صدر پاکستان کریں گے۔ لیکن صرف اس مدت تک جس کا تعین چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے کیا ہوگا۔ یا جب تک چیف ایگزیکٹو بیورو کے چیئرمین کو اس کے منصب پر برقرار رکھنا چاہئیں گے۔ اس قانون کے تحت چیئرمین کی تنخواہ، مراعات، سہولیات، مرتبہ اور شرائط ِملازمت کا تعین بھی چیف ایگزیکٹو کی صوابدید پر منحصر قرار پایا۔ اگر چیئرمین مستعفی ہونا چاہے تو اسے پابند کیا گیا ہے کہ وہ (صدر پاکستان کے بجائے) اپنا استعفیٰ چیف ایگزیکٹو کی خدمت میںپیش کرے۔

چیف الیکشن کمشنر کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا اختیار

چیف ایگزیکٹو اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ۴؍ نومبر ۲۰۰۰ء کو حکم نمبر ۹(مجریہ ۲۰۰۰ئ) جاری کیا۔ اس حکم میں کہا گیاتھا کہ چیف ایگزیکٹو کو چیف الیکشن کمشنر کی مدتِ ملازمت میں اپنی صوابدید کے مطابق توسیع کا اختیار حاصل ہوگا اور وہ وقتاً فوقتاً اس مدتِ ملازمت پر نظرثانی بھی کرسکے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ۳۰؍ ستمبر ۲۰۰۰ء کو حکم نمبر۸ کے تحت چیف ایگزیکٹو صاحب چیف الیکشن کمشنر کو لوکل گورنمنٹ الیکشن آرڈر ۲۰۰۰ء کے تحت ملک بھر میں بلدیاتی الیکشن کروانے کے احکامات جاری کرچکے تھے۔ جبکہ ۲۷؍ ستمبر کو انتخابی فہرستوں کے قانون میںتبدیلی کرکے پرانی انتخابی فہرستوں کو مسترد کردیا گیا اورنئی انتخابی فہرستوں کی تیاری کا حکم جاری کیاگیا۔

قوانین میں خاص تبدیلی

چیف ایگزیکٹو نے ۱۴؍نومبر۲۰۰۰ء کو حکم نمبر۱۰ (مجریہ ۲۰۰۰ئ) جاری کیا۔ اس حکم میںکہا گیا تھا کہ جس کسی قانون، ایکٹ، آرڈیننس، حکم، رول، بائی لائ، ریگولیشن، نوٹیفکیشن یا کسی دوسری قانونی دستاویز میں جہاں جہاں صدر مملکت، وزیراعظم، گورنر یاوزیراعلیٰ کے الفاظ تحریرہیں۔ وہاں وہاں ان الفاظ کی جگہ بالترتیب چیف ایگزیکٹو اور گورنر کے الفاظ مستعمل متصور ہوں گے۔

اس کے ساتھ ہی حکم نمبر۱۱ مجریہ ۲۰۰۰ء کے تحت گورنر صاحبان کو پابند کردیا گیا کہ وہ کسی طرح کی قانون سازی کرنے سے قبل اس کامسودہ چیف ایگزیکٹو کے سامنے پیش کرکے اس کی منظوری حاصل کریں گے اور اس سلسلے میں اپنے اقدامات سے چیف ایگزیکٹو کو آگاہ رکھیں گے۔ گورنر کی طرف سے نافذ کردہ کسی بھی قانون کو اگر چیف ایگزیکٹو بدلناچاہئیں، اس میں ترمیم کرنا چاہیں یا سرے سے اسے ختم کرنا چاہیں تو متعلقہ گورنر چیف ایگزیکٹو کی ہدایت پرعمل کرنے کا پابند ہوگا۔

۲۱؍اگست ۲۰۰۰ء کو جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے سول ملازمتوں میں بھرتی کے لئے مقررہ عمر میں اضافے کا اختیار حاصل کرلیا۔ اور اس سلسلے میں پہلے سے موجود ضوابط مجریہ ۱۹۹۳ء میںترمیم کردی گئی۔ ایک اور آرڈیننس نافذ کیا گیا جس کے ذریعے حکومت کو یہ خصوصی اختیار حاصل ہوگیا کہ وہ جس ملازم کو چاہے ان اختیارات کے ذریعے ملازمت سے برخواست کرسکے۔ ۲۱؍اگست کو اس سلسلے میں ایک اضافی آرڈیننس جاری کیا گیا اور برخواست ہونے والے ملازمین کو حکومت کے نامزد کردہ افسران کے سامنے برخاستگی کے خلاف عرضداشت پیش کرنے کا حق دیا گیا۔

۶؍جولائی ۲۰۰۲ء کو چیف ایگزیکٹو نے حکم نمبر ۱۹ جاری کیا۔ اس حکم کی دفعہ ۲ میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص دو مرتبہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہ چکا ہے یا دو مرتبہ وزیراعلیٰ منتخب ہوچکا ہے یا ایک مرتبہ وزیراعظم اور ایک مرتبہ وزیراعلیٰ رہ چکا ہے، وہ ان عہدوں پرنئے سرے سے منتخب ہونے کے لئے نااہل سمجھا جائے گا۔ قطع نظر اس بات کے کہ اس نے ان عہدوں پر اپنی آئینی معیاد پوری کی تھی یا نہیں؟

ججوں کے لئے مراعات

۶؍ دسمبر ۲۰۰۰ء کو پرویز مشرف حکومت نے بذریعہ صدرِ مملکت حکم نمبر ۲ (مجریہ ۲۰۰۰ئ) جاری کیا۔ جس میں ججوں کی ملازمتوں سے متعلق پہلے سے موجود قانون میں تبدیلی کردی گئی اور قرار دیا گیا کہ اگر کوئی پنشن یافتہ ریٹائرڈ جج حکومت ِپاکستان کے تحت یا کسی صوبہ کے تحت یا پھر حکومت کے زیر انتظام چلنے والے کسی ادارے میں خدمات انجام دینے پر مامور کیا گیا ہے تو وہ موجودہ عہدے پرتنخواہ، الاؤنسز اور تمام مراعات بھی حاصل کرنے کا حقدار ہوگا اور بطورِ جج ریٹائرمنٹ کے بعد جو پنشن اسے ملنا تھی، وہ پوری پنشن بھی وصول کرنے کا استحقاق رکھے گا۔ حکم نمبر۲ مذکورہ بالا میںیہ سہولت صرف سپریم کورٹ کے ججوں کو دی گئی تھی لیکن بعد ازاں حکم نمبر ۳ کے ذریعے اس سہولت کادائرہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج صاحبان تک بھی پھیلا دیا گیا۔

چیف ایگزیکٹو کا حلف نہ لینے والے ججوں کے لئے پنشن فوائد

جنرل پرویز مشرف نے چیف ایگزیکٹو آرڈر نمبر ۲ مجریہ ۲۰۰۰ء یکم فروری ۲۰۰۰ء کو جاری کیا۔ اس میںکہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے جن ججوں نے ججوں کے حلف نامہ کے حکم نمبر ۱ مجریہ ۲۰۰۰ء کے تحت حلف نہیں لیا یا جن سے حلف نہیںلیا گیا ان کے بارے میں سمجھا جائے گا کہ وہ ۶۵ سال تک بطورِ جج ملازمت کے بعد ریٹائر ہوچکے ہیں اور اس بنیاد پر وہ پوری پنشن اور معمول کی تمام مراعات کے حقدار متصور ہوں گے۔ اسی طرح ہائی کورٹ کے ان ججوں کے بارے میںحکم جاری کیاگیا کہ اگر حلف نہ لینے والے جج کی بطورِ جج ملازمت ۵ سال سے کم ہو تو وہ اس ہائی کورٹ میں جہاں وہ جج رہا ہو، بطورِ وکیل بھی پیش ہوسکے گا۔ لیکن اگر وہ پانچ سال یا اس سے زیادہ مدت تک بطور ِجج کام کرچکا ہو تو اس کے بارے میں سمجھا جائے گاکہ وہ ۶۲ سال کی عمر تک ملازمت کرکے ریٹائر ہوا ہے۔ اور اس بنیاد پر وہ پوری پنشن اور دیگر معمول کی مراعات حاصل کرنے کا حقدار ہوگا۔

حلف لینے والے ججوں کے لئے مراعات

حکم نمبر۴ مجریہ ۲۰۰۰ء کے ذریعے سپریم کورٹ کے حاضر ججوں کی پنشن مراعات میں اضافہ کرتے ہوئے قرار دیا گیا۔ کہ ایسے ججوں کے اپنی اصل عمر کے مطابق پنشن کمیوٹیشن کا حق حاصل ہوگا۔

ریٹائر ہونے والے ججوں اور بیوگان کے لئے مراعات

جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے۱۸؍ جنوری ۲۰۰۱ء کو صدارتی حکم نمبر۱ (مجریہ ۲۰۰۱ئ) جاری کیا۔ اس حکم کے ذریعے ججوں کی مراعات سے متعلق سابقہ حکم میں ترمیم کی گئی۔ اور اس کے پیراگراف نمبر ۲۵ کو حسب ِذیل مفہوم کے ضابطے میںڈھال دیا گیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد سپریم کورٹ کا جج اور اس کی موت کے بعد اس کی بیوہ ان مراعات کی تاحیات حقدار رہے گی :

1. ایک ڈرائیور اور ایک اردلی کی مفت خدمات

2. ایک ہزار لوکل ٹیلی فون کالز ہرماہ مفت

3. ایک ہزار یونٹ بجلی ہرماہ مفت

4. (hm-3)10کیوبک فٹ سوئی گیس ہرماہ مفت

5. پانی کی سپلائی مفت

6. دو سو لیٹر پٹرول ہر ماہ مفت

7. مذکورہ بالا تمام مالی فوائد پر انکم ٹیکس معاف

ان مالی مفادات اور مراعات کے عوض ریٹائرڈ جج صاحب سے کہا گیاتھا کہ حکومت اور دیگر فریقین کے درمیان اگر کبھی حکومت چاہے، تو بلامعاوضہ ثالث بنناقبول فرما لیں۔

بعد ازاں ۲۵؍ فروری ۲۰۰۱ء کو مذکورہ بالا مراعات کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا اور صدارتی حکم نمبر ۲ کے تحت مذکورہ قانون کے پیرا ۲۵ میں مزید ترمیم کی گئی۔ اس ترمیم کے مطابق ریٹائرڈ جج صاحبان کو مفت10(hm-3) کیوبک فٹ ماہوار کردی گئی۔ اسی طرح قانون میں دفعہ (Ia) کا اضافہ کرکے مندرجہ ذیل عبارت شامل کی گئی۔

''اگر سپریم کورٹ کا کوئی جج ملازمت کے دوران انتقال کرجاتا ہے یااس قانون کے نفاذ سے قبل ہی فوت ہوچکا ہے تو اس کی بیوہ بھی مذکورہ بالا تمام مراعات حاصل کرنے کی حقدار ہوگی۔''

صدرِ پاکستان کی عہدے سے فراغت

۲۰؍ جون ۲۰۰۱ء جنرل پرویز مشرف نے چیف ایگزیکٹو آرڈر نمبر ۲ مجریہ ۲۰۰۱ء جاری کیا۔ اور ۱۴؍اکتوبر ۱۹۹۹ء کے اعلانِ اقتدار کی بنیاد پر صدر مملکت جناب جسٹس (ر)محمد رفیق تارڑ کو صدارت کی ذمہ داریوں سے فوری طور پر فارغ کردیا اور اس حکم نامے کو ہنگامی حالت کے حکم مؤرخہ ۱۴؍اکتوبر ۱۹۹۹ء میںترمیمی حکم کے طور پر نافذ کردیا۔ اس حکم کے پیرا کی ذیلی دفعہ (بی) میں ترمیم کرکے حسب ِذیل عبارت کا اضافہ کیاگیا۔اس کامفہوم حسب ِذیل ہے :

(ط) ہنگامی حالت کے ترمیمی حکم مجریہ ۲۰۰۱ء کے نفاذ سے فوری قبل جوشخص بطورِ صدرِ مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ اس کو فوری طور پراس عہدے سے فارغ کیا جاتا ہے۔

اس حکم کے ذیلی پیرا (ڈی) میں کچھ دوسرے سیاسی عہدوں پر فائز شخصیات کو بھی ان کے عہدوں سے فارغ کردیا۔ ذیلی پیرا (ڈی) کا مفہوم حسب ِذیل ہے :

(ڈی) چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کو پہلے ہی اپنے عہدوں سے فارغ کیاجاچکا ہے۔ اب سپیکر اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر بھی فوری طور پر اپنے عہدوں سے فارغ متصور ہوں گے۔

چیف ایگزیکٹو بطور صدرِ پاکستان

اسی روز یعنی ۲۰؍ جون ۲۰۰۱ء کو جب صدر پاکستان کو اپنے عہدے سے ہٹایا گیا۔ حکم نمبر ۳ مجریہ ۲۰۰۱ء کے ذریعے صدر مملکت جانشینی حکم جاری کیا گیا۔ اس حکم کی دفعہ ۳ کا مفہوم کچھ اس طرح ہے :

''(وجہ جو بھی ہو) صدرِ مملکت کا عہدہ خالی ہونے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر قرار پائیں گے اور وہ تمام اُمور سرانجام دیں گے جو صدر مملکت کا خاصہ ہیں یاجو انہیں آئین یا کسی اور قانون کے تحت تفویض کئے گئے ہیں۔''

اس حکم نامے میںمندرجہ ذیل دیگر امور قابل ذکر ہیں:

(الف) یہ کہ چیف ایگزیکٹو اس وقت تک بطورِ صدر اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے جب تک کوئی دوسرا صدر اس عہدے پر فائز نہیں ہوجاتا۔

(ب) یہ کہ صدر کا عہدہ سنبھالنے سے قبل چیف ایگزیکٹو چیف جسٹس آف پاکستان سے حلف لیںگے۔ (اس حلف کی عبارت خود چیف ایگزیکٹو نے اپنی طرف سے حکم کے ساتھ شیڈول کے طور پر شامل کردی)

تجویز کردہ صدارتی حلف کی عبارت حسب ِذیل مفہوم کی حامل ہے:

''میں قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میں ایک مسلمان ہوں۔ میں اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھتا ہوں۔ اور یہ بھی یقین رکھتا ہوں کہ اللہ کی بھیجی ہوئی مقدس کتابوں میںسے قرآن آخری کتاب اور پیغمبروں میں سے حضرت محمد1 آخری پیغمبر ہیں۔ جن کے بعد اور کوئی پیغمبر نہیں ہوسکتا۔ میں یقین رکھتا ہوں قیامت کے دن پر اور ان تمام لوازم پر جن کی تعلیم قرآن و سنت میںدی گئی ہے۔ میں سچے عقیدے اور پاکستان کے وقار کو ملحوظ رکھوں گا۔

بطورِ صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اپنے فرائض ایمانداری اور بہترین صلاحیت کے مطابق قانون اور ۱۴؍اکتوبر کے حکم بابت نفاذ ہنگامی حالت و عبوری آئینی حکم نمبر۱ مجریہ ۱۹۹۹ء (معہ ترمیمات )کے تحت سرانجام دوں گا۔ اور پاکستان کی حاکمیت ِاعلیٰ ، اتحاد، یکجہتی اور خوشحالی کو پیش نظر رکھوں گا۔ میں اسلامی آئیڈیالوجی کی حفاظت کروں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے۔''

صدارتی عہدہ سنبھالنے کے اس حکم کی دفعہ ۴ میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی وجہ سے چیف ایگزیکٹو؍ صدر پاکستان ملک سے باہر ہوں، کسی اور وجہ سے کام نہ کررہے ہوں، تو ان کی جگہ چیف جسٹس آف پاکستان اس مدت کے لئے عارضی طور پر بطورِ صدر کام کریں گے۔ عارضی طور پر صدرِ مملکت کا عہدہ سنبھالنے والوں پر بھی یہ لازم قرار دیا گیا کہ مندرجہ بالاحلف اُٹھائیں۔ (جس کا مرکزی نکتہ ۱۴؍اکتوبر کے اقدامات کے تابع رہنے کی قسم لینا ہے)۔

صدرِ پاکستان کی تنخواہ میں اضافہ

چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے صدر پاکستان کا عہدہ سنبھالنے کے آٹھ ماہ بعد آرڈیننس نمبر XI مجریہ 2002ء جاری کیا۔ اس کے تحت صدر پاکستان کی تنخواہ، الاؤنسز اور مراعات کے قانون مجریہ ۱۹۷۵ء میں ترمیم کردی گئی اور دیگر تمام مراعات کے ساتھ ساتھ سابقہ تنخواہ مبلغ ۲۳ ہزار روپے ماہوار میں اضافہ کرکے اسے ۵۷ ہزار روپے ماہوار کردیا گیا۔ مذکورہ بالا ترمیمی قانون کی دفعہ ۲ میں کہا گیا ہے کہ قانون یکم مئی ۲۰۰۱ء سے نافذ تصور ہوگا۔

یاد رہے کہ صدارتی تنخواہ میں اضافے کا آرڈیننس جنرل پرویزمشرف نے ۲۷؍ فروری ۲۰۰۲ء کوجاری کیا۔

اصلی آئین سے ریفرنڈم تک!

آئین اور قوانین میں مذکورہ بالا ترامیم کے بعد جنرل پرویز مشرف نے قومی سطح پر انتخابات کے انعقاد کے لئے آئینی اور قانونی ترامیم کا سلسلہ شروع کیا۔ لیکن اس سے قبل انہوں نے خود کو آئندہ پانچ سال کے لئے پاکستان کا منتخب صدر قرار دلوانا ضروری خیال کیا اور اس مقصد کے لئے اپنی زیر نگرانی قائم ہونے والی پارلیمنٹ کے بجائے براہِ راست عوام سے ووٹ لینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے عوام سے ووٹ لینے کے لئے وہی طریقہ اختیار کیا جو ان سے قبل جنرل محمد ضیاء الحق کامیابی سے استعمال کرچکے تھے یعنی صدارتی انتخاب بذریعہ ریفرنڈم لہٰذا چیف ایگزیکٹو صاحب کی جانب سے ۹؍اپریل ۲۰۰۲ء کو حکم نمبر ۱۲، ریفرنڈم آرڈر ۲۰۰۲ء کو جاری کیا گیا۔ اس آرڈر کی ابتدا میں وضاحت کی گئی ہے کہ وزیراعظم پاکستان کے اقدامات سے افواجِ پاکستان کے اتحاد اور تنظیم میں اور تحفظ ِوطن کے سلسلے میں ٹھوس رخنہ اندازی کی جارہی تھی؟ لہٰذا افواج پاکستان نے جنرل پرویز مشرف کے زیر قیادت ایمرجنسی نافذ کرکے بطورِ چیف ایگزیکٹو ملک کی باگ ڈور سنبھال لی اور عبوری آئینی حکم کے تحت پاکستان کا نظم و نسق چلانا شروع کر دیا تھا۔ اس حکم میں مزید وضاحت یہ کی گئی کہ چونکہ ۱۲؍اکتوبر ۱۹۹۹ء سے قبل کے حالات کی وجہ سے ملک خطرناک حد تک کمزور ہوچکا تھا، حکومت کی اخلاقی اور جمہوری اقدار بُری طرح مجروح ہوچکی تھیں جنہیں بحال کرنے کے لئے چیف ایگزیکٹو نے ۱۷؍اکتوبر ۱۹۹۹ء کو سات نکاتی ایجنڈا جاری کیا جس کا مقصد قومی اعتماد کو بحال کرنا، مورال کو بلند کرنا، وفاق کو مضبوط بنانا، بین الصوبائی آویزش کو کم کرنا، سرمایہ داروں کا اعتبار قائم کرنا، معیشت کو مضبوط بنانا، امن و امان بہتر بنانا، حصولِ انصاف کے عمل تیز تر کرنا، سرکاری اداروں کے اندر سے سیاست کا خاتمہ کرنا، گراس روٹ لیول تک اقتدار کو پہنچانا اور بیرونِ ملک و اندرونِ ملک احتساب کی بہ سرعت تکمیل کو ممکن بنانا ہے۔

حکم میں کہا گیا تھا کہ اس مقصد کے حصول کے لئے گڈگورنینس، غربت کے خاتمے کی طرف پیش قدمی اور سیاسی تعمیر نو کے لئے مناسب اقدامات ضروری ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ تشدد پسندی اور فرقہ واریت کا مقابلہ کرنے اور ایک معتدل معاشرے کے قیام جیسے مقاصد بھی پیش نظر ہیں۔ اس لئے ملک کے اعلیٰ ترین مفاد میں ضروری ہوگیا ہے کہ عوام سے رجوع کیا جائے اور بذریعہ ریفرنڈم ایک عوامی مینڈیٹ حاصل کیا جائے تاکہ جنرل پرویز مشرف بطورِ صدر پاکستان اپنی فرائض دہی کو جاری رکھ سکیں۔ لہٰذا ۳۰؍اپریل ۲۰۰۲ء کو ریفرنڈم منعقد ہوگا۔ اس روز تک ہر وہ پاکستانی شہری جو اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچ چکا ہو اور شناختی کارڈ کا حامل ہو، ریفرنڈم میںووٹ ڈالنے کااہل متصور ہوگا۔

اس حکم کے مزید اہم نکات حسب ِذیل تھے:

1. یہ کہ ریفرنڈم کے لئے پورا پاکستان ایک ہی حلقہ انتخاب تصور کیا جائے گا اور ملک بھر کے کسی بھی حصے میں کوئی بھی پاکستانی ووٹ ڈل سکے گا۔

2. ریفرنڈم کا سوال جو بیلٹ پیپر پرشائع ہوگا وہ اُردو زبان میں ہوگا۔ البتہ صوبہ سندھ میں اگر ووٹر چاہیں تو ووٹ کی پرچی سندھی زبان میں بھی مہیا کی جاسکے گی۔

3. سوال کا جواب صرف ہاں اور ناں میں دیا جاسکے گا۔ ہاں یا ناں کی مہر الیکشن کمیشن کی طرف سے مہیا کی جائے گی جو ووٹ پرچی پربنائی گئی مخصوص جگہ پر ثبت کرنا ہوگی۔

ریفرنڈم آرڈر کی دفعہ ۴ میںکہا گیا تھا کہ اگر ووٹروں کی اکثریت نے ہاں کے خانے میں مہر لگائی تو یہ سمجھا جائے گا کہ پاکستان کے عوام نے جنرل پرویز مشرف کو پانچ سال کے لئے بطورِ صدر مملکت فرائض سرانجام دینے کا مینڈیٹ جاری کردیا ہے۔ پانچ سال کی مدت اس دن سے شروع ہوگی جس دن منتخب شدہ مجلس شوریٰ یعنی پارلیمنٹ (جو کہ اکتوبر ۲۰۰۲ء میں عالم وجود میں آنے والی ہے) اپنا افتتاحی پہلا ا جلاس منعقد کرے گی؛ جیسا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے میں ہدایت کی گئی ہے ۔

ریفرنڈم آرڈر کی دفعہ ۵ میں صراحت کی گئی کہ ریفرنڈم آرڈر کو نہ تو ملک کی کسی عدالت میں چیلنج کیا جاسکے گا اور نہ اس کی قانونی حیثیت پر کوئی سوال اٹھایا جائے گا، نہ ہی کوئی عدالت اس ضمن میں کوئی سٹے آرڈر جاری کرسکے گی۔ اگر ریفرنڈم کے کسی معاملے پر کوئی تنازعہ ہوبھی تو اس کا فیصلہ کوئی عدالت نہیں، الیکشن کمیشن کر ے گا۔ پاکستان کا آئین یا کوئی اور قانون اس حکم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ مزید یہ کہ اگر ریفرنڈم کروانے میں کوئی اور مشکل سامنے آتی ہے تو جنرل پرویز مشرف کو اسے دُور کرنے کے لئے مناسب احکام جاری کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اس آرڈر کے ساتھ ووٹ پرچی کا ڈیزائن بھی تجویز کیا گیا تھا جو حسب ِذیل ہے:

ریفرنڈم ۲۰۰۲ء     فیصلہ آپ کا      بیلٹ پیپر

مقامی حکومت کے نظام کی بقا،جمہوریت کے قیام، فرقہ واریت اور انتہا پسندی کے خاتمے اور قائداعظم کے تصور کے تکمیل کے لئے... کیا آپ صدر جنرل پرویز مشرف کو آئندہ پانچ سال کے لئے صدرِ پاکستان بنانا چاہتے ہیں؟ ہاں ؍ نہیں

۲۵؍اپریل ۲۰۰۲ء کو جنرل پرویز مشرف نے مذکورہ بالا ریفرنڈم آرڈر میں ترمیم کرکے ووٹر پر سے شناختی کارڈ رکھنے کی پابندی ختم کردی۔ اور قرار دیا کہ شناختی کارڈ اگر نہ ہو تواس کے متبادل کے طور پر ملازمت کی صورت میں دفتر کا جاری کردہ کارڈ، کالج کا کارڈ یا تعلیمی ادارے کے سربراہ کا سر ٹیفکیٹ، ڈرائیونگ لائسنس، پاسپورٹ، گریڈ ۱۷ کے کسی افسر کا جاری کردہ سندنامہ یا ناظم یا نائب ناظم بلدیاتی حکومت کا جاری کردہ سر ٹیفکیٹ دکھا کر ووٹ ڈالا جاسکے گا۔ ریفرنڈم آرڈر پر عمل درآمد کے لئے الیکشن کمشنر آف پاکستان، بلدیاتی حکومتیں اور سرکاری و نیم سرکاری ادارے متحرک کردیے گئے اور ریلوے سٹیشنوں، عوامی جگہوں، سکولوں، بڑے بڑے دفاتر، ٹیلی وژن اور ریڈیو سٹیشنوں پر ووٹ ڈالنے کی سہولت مہیا کردی گئی۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کو بذریعہ ڈاک بھی ریفرنڈم میں حصہ لینے کی اجازت دے دی گئی۔ اس طرح مقررہ تاریخ پر چیف ایگزیکٹو جناب جنرل پرویز مشرف صاحب ۹۵ فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرکے پانچ سال کے لئے بطورِ صدرِ پاکستان اپنے عہدے پر متمکن ہوگئے۔

یاد رہے کہ ریفرنڈم آرڈر میں اس بات کا کوئی جواب موجود نہیں تھا کہ اگر قوم کی اکثریت 'ہاں' کی بجائے 'نہیں' پر مہر لگاتی ہے تو پھر کیا ہوگا؟