Mohaddis-273-Oct2003

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

سب سے پہلے تاریخ ِپاکستان پر ایک سرسری نظر ڈالنا ضروری ہے۔ تاریخی جھلکیاں پیش کرنے سے پہلے ایک بات کی پیشگی وضاحت مناسب ہوگی۔ اگرچہ سیاسی نظام کے متعلق علماء و زعما ئے ملت کا اُصولی موقف یہ رہاہے کہ اسلامی مملکت میں مغربی سرمایہ دارانہ جمہوریت جائز نہیں، تاہم انہوں نے ماضی میں اضطراراً و مجبوراً نافذ شدہ نظام کو عارضی طور پر جاری بھی رکھا، صرف اس لئے کہ کہیں ملک ِعزیز اغیار کے کسی بڑے شر کا شکار نہ ہوجائے۔ اس ضروری وضاحت کے بعد اب وہ تاریخی فرمودات اور واقعات مختصراً پیش کئے جاتے ہیں جو قومی سنگ ہائے میل ہونے کے باوجود فراموش کئے جارہے ہیں۔

(الف) اقبالؒ سے لے کر قراردادِ پاکستان ۱۹۴۰ء تک

تاریخ پاکستان میں سرفہرست جس شخص کا نام ثبت ہے، وہ علامہ اقبال ہیں جن کے تخیل نے قوم کوتصورِ پاکستان دیا ۔ انہوں نے مسلم قوم کو صرف تصورِ پاکستان ہی نہیں دیا تھا بلکہ تعمیر پاکستان کا ایک واضح نقشہ بھی فراہم کردیا تھا۔ پھر یہ کہ انہوں نے مغرب کے غیر اسلامی نظریات اور نظاموں سے بھی ملت کو متنبہ اور خبردار کردیا تھا۔ بے دین نظامِ سیاست ہو یا مغربی سرمایہ دارانہ جمہوریت اور لادینی طرزِ حکومت ہو یا مغربی طریق انتخابات، شاعر مشرق نے ان سب کا مکمل ابطال بروقت کردیاتھا۔ملاحظہ کیجئے شاعر ملت کے مندرجہ ذیل اشعار

1.مغرب کے جمہوری نظام کے ردّ میں اقبال ؒکا خوبصورت اندازِ بیان حقیقت ِحال پر مبنی ہے:
ہے وہی سازِ کہن مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصری
دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری
اس سراب رنگ و بو کو گلستان سمجھا ہے تو
آہ اے ناداں! قفس کو آشیاں سمجھا ہے تو

2. ذرا آگے بڑھئے اور دیکھئے کہ حکیم الامت نے مغربی طرزِ جمہوریت اور مغربی طریق انتخابات کی کتنی صحیح عکاسی کی ہے:
جمہوریت ایک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے

3. اقبال کے نزدیک مغرب کا سیاسی کھیل شاطروں کی بساطِ شطرنج ہے جہاں دو فریق ایک دوسرے کو اردب میں لینے کے لئے اپنے اپنے مہرے استعمال کرتے ہیں:
اس کھیل میں تعینِ مراتب ہے ضروری
شاطر کی عنایت سے تو فرزیں میں پیادہ
بیچارہ پیادہ تو ہے ایک مہرۂ ناچیز
فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ

4. اس فلسفی شاعر نے وطن کے حوالے سے لادینی سیاست کو دینی سیاست سے نہ صرف مختلف بلکہ متضاد قرار دیا ہے :
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے 'وطن' ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے!
گفتارِ سیاست میں وطن اور ہی کچھ ہے
ارشادِ نبوت میں وطن اور ہی کچھ ہے!

5. مفکر ِاسلام کی فکرونظر میں مادرپدر آزادی، خواہ سیاست میں ہو یا افکار میں، وہ ایک آلہ ابلیس ہے:
اس قوم میں ہے شوخی اندیشہ خطرناک
جس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد
گو فکر الٰہی سے روشن ہے زمانہ
آزادیٔ افکار ہے ابلیس کی ایجاد

6. مغربی سیاست و جمہوریت اور مغربی شریعت و معاشرت کی اصل حقیقت شاعر مشرق ابلیس کی زبان سے یوں کہلواتے ہیں :
ناپاک جسے کہتی تھی مشرق کی شریعت
مغرب کے فقیہوں کا یہ فتویٰ ہے کہ ہے پاک
جمہور کے ابلیس ہیں اربابِ سیاست
باقی نہیں اب میری ضرورت تہہِ افلاک

7. اقبال نے ہم وطنوں کومتنبہ کردیا تھا کہ سیاست سے دین کی بے دخلی کا انجام تباہی و بربادی ہوگا اور یہ انجام پاکستان میں دیکھا گیا :
جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشہ ہو
جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

8. حکیم الامت نے بے دین سیاست اور مغربی جمہوریت کے امراض کی تشخیص کے ساتھ اپنی ملت کے لئے نسخہ شفایابی بھی تجویز کردیا تھا :
ربط وضبط ملت بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر
پھر سیاست چھوڑ کر داخل حصارِ دین میں ہو
ملک و ملت ہے فقط حفظ حرم کا ایک ثمر
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
تاخلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر سے استوار
لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر

9. اس مصلح ِملت نے مغربی سیاست سے بچنے اور دینی خلافت استوار کرنے کی تلقین بھی کی اور ایک منفرد و محکم اُصولِ ملی کی نشاندہی بھی کردی:
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

10. اور قومِ رسولِ ہاشمی کو وہ مردِ مجاہد پیغامِ جہاد یہ دیتا ہے کہ اپنے گھر اور دہر کو اسم محمد1 اور عشق محمد1 سے منور کیاجائے تاکہ ہم نشین پست بھی بالا نشین ہوجائے:
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسم محمدؐ سے اُجالا کردے

11. اور اگر ملت ِمحمدیہ نظامِ باطل کو ٹھکرا کر صرف محمد1 کی وفادار بن جائے تو ملت کے لئے میراث دو جہاں کا وعدئہ ومژدہ ٔالٰہی اقبال اس طرح یاد دلاتا ہے :
کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں!

کلامِ اقبال کی پیش کردہ ایک جھلک سے ہی تاریخ پاکستان کا اوّلین سنگ ِمیل اور نقش اوّل صاف نظر آجاتا ہے، یعنی یہ کہ تصورِ پاکستان (۱۹۳۰ئ) پیش کرنے والے کے افکار میں تعمیر پاکستان کے لئے مغربی سرمایہ دارانہ سیاست و جمہوریت کی بالکلیہ نفی اور محمدی شریعت وشورائیت کی تجویز تھی۔فکر ونظر کا یہ تھا وہ تاریخی پس منظر جس نے انتقالِ اقبال (۱۹۳۸ئ) کے کچھ ہی عرصے بعد مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے قیامِ پاکستان کے لئے قرار داد پاکستان (۱۹۴۰ئ) کو تاریخی وجود بخشا۔

(ب) قرار دادِ پاکستان ۱۹۴۰ء کے بعد سے قیامِ پاکستان ۱۹۴۷ء تک

1. ۱۹۴۰ء میں قراردادِ پاکستان کے اعلان کے بعد اِسی سال ایک اعلیٰ کمیٹی مسلم لیگ نے قائم کی تاکہ مجوزہ پاکستان کے لئے ایک سیاسی نظام مدوّن کیا جاسکے۔ مسلم لیگ(یوپی) کے زیراہتمام تشکیل پانے والی اس کمیٹی میں علامہ سلیمان ندوی، مولانا آزاد سبحانی، مولانا عبدالماجد دریاآبادی اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی رحمہم اللہ جیسے بلند پایہ محققین اور مدبرین شریعت بھی شامل تھے۔ علومِ قدیم و جدید کے ان مشاہیر وماہرین نے پاکستان کے لئے اسلامی نظام حکومت و سیاست کا تفصیلی مسودہ ۱۹۴۲ء میں مکمل کردیا تھا جسے بعد میں دارالمصنّفین اعظم گڑھ (انڈیا) نے کتابی شکل میں شائع کیا۔یہ ضخیم اور قابل قدر کتاب بعنوان 'اسلام کا سیاسی نظام'مرتبہ مولانا اسحاق سندیلوی نہایت اہم تاریخی دستاویز ہے ،جس میں مغربی طرزِ سیاست و جمہوریت کو بدلائل مسترد کیا گیا ہے اور اسلامی نظامِ حکومت اور شورائیت کا ایک عملی خاکہ اس طرح مرتب کیا گیا ہے کہ وہ عصر جدید کے تقاضوں کو پورا کرسکے۔ اسی تاریخی دستاویز میں مغربی نظام جمہوریت کو جن وجوہات کی بنا پر ردّ کیا گیا ہے، ان میں سے چند یہ ہیں کہ اس لادینی نظام سے گروہ بندی پیدا ہوتی ہے اور جماعتی تعصب قائم ہوجاتا ہے۔حزبِ اختلاف اور حزبِ اقتدار کی مستقل تقسیم سے تفریق و تفرقہ اور خانہ جنگی کی نوبت آجاتی ہے۔ اقتدار وہ پارٹی حاصل کرلیتی ہے، جو دولت و سرمایہ سے مالا مال ہو اور اہل اقتدار کے لئے انتخاب بلا شرط اور بغیر معیار کے ہوتا ہے، یعنی یہ کہ وہاں نہ صلاحیت کی شرط ہوتی ہے اور نہ صالحیت کا معیار۔ غرضیکہ ۱۹۴۲ء میں صف ِاوّل کے اربابِ دین و دانش نے متفقہ طور پر مغربی طرزِ جمہوریت کو انتہائی مضر اور ناجائز قرار دے دیا تھا۔

2. علاوہ ازیں سات سالہ تحریک ِپاکستان ۱۹۴۰ء تا ۱۹۴۷ء کے دوران معمارِ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناحؒ باربار اپنے اس عزم کا اعادہ کرتے رہے کہ پاکستان میں صرف اسلامی قوانین کے مطابق حکومت قائم کی جائے گی۔اس ضمن میں یہاں ان کے صرف دو ارشادات کا حوالہ کافی ہوگا:

مارچ ۱۹۴۲ء میں انہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ''پاکستان کے لئے مغربی جمہوریت اور سیاسی پارٹی سسٹم نقصان دِہ ہوگا۔''

پھر دسمبر ۱۹۴۴ء میں یومِ اقبال کی ایک تقریب میں معمارِ پاکستان قائداعظمؒ نے مصورِ پاکستان اقبال کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ ''میں دعا کرتا ہوں کہ ہم اپنے قومی شاعر کے پیش کردہ تصورات کے مطابق زندگی بسر کرسکیں تاکہ جب ہماری کامل الاقتدار مملکت قائم ہوجائے تو اس میں ہم ان مقاصد کو حاصل کرسکیں اور ان تصورات کو عملی جامہ پہنا سکیں۔''

یہ دو تاریخی ارشادات ِقائد اس بات پر شاہد ہیں کہ وہ بھی قیام پاکستان سے بہت قبل اقبال اور اکابر علما کی اس پختہ رائے سے متفق تھے کہ اسلامی مملکت پاکستان میں مغربی جمہوریت رائج نہیں ہونی چاہئے۔

(ج) قیامِ پاکستان اگست ۱۹۴۷ء کے بعد سے اب (۲۰۰۲ء) تک

1. پاکستان بننے کے بعد بھی قائداعظمؒ مذکورہ موقف پر قائم رہے اور اسلامی سیاست اور شورائیت کا اعلان کرتے رہے۔ انہوں نے جنوری ۱۹۴۸ء میں برملا کہا کہ:'' اسلام صرف رسوم و روایات اور روحانیت کا مجموعہ نہیں، بلکہ مسلمان کی پوری زندگی پر محیط ہے، جس میں سیاست و معیشت اور دیگر تمام شعبہ حیات شامل ہیں۔'' فروری ۱۹۴۸ء میں ان کا تاریخی بیان یہ تھا کہ:'' میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اس میں مضمر ہے کہ ہم ان بیش بہا اُصولوں کی پیروی کریں جو ہمارے قانون دہندہ پیغمبر اسلامﷺ نے ہمارے لئے وضع کئے ہیں۔ آئیے ہم اپنی ریاست کی اساس سچے اسلامی تصورات اور اصولوں پر قائم کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اپنے اُمورِ حکومت باہمی مشوروں سے طے کریں۔'' افسوس کہ قائداعظمؒ کو موت نے مہلت نہ دی کہ وہ اسلامی نظام حکومت اور شورائیت قائم کردیتے۔ جلد ہی وہ ستمبر ۱۹۴۸ء میں چل بسے۔

2. ۱۹۴۹ء کے آغاز میں علامہ شبیر احمد عثمانی (رکن اسمبلی) کی کوششوں سے اسمبلی میں پیش کرنے کے لئے قراردادِ مقاصد مرتب ہوئی۔ یہ قراردادِ مقاصد پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے ۱۲؍ مارچ ۱۹۴۹ء کو منظور کرلی، جس میں اقرار کیا گیاکہ حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے،لہٰذا دستورِ مملکت اسلام کے مطابق ہوگا اور اس میں حریت، جمہوریت، مساوات، رواداری اور عدلِ عمرانی کی صرف وہ تشریح اختیار کی جائے گی جو اسلام نے پیش کی ہے۔اس تاریخی دستاویز میں بھی مغربی سرمایہ دارانہ جمہوریت کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی تھی۔

3. قراردادِ مقاصد ۱۹۴۹ء کے فوراً بعد حکومت نے صحیح سمت کی جانب پیش قدمی کے لئے 'تعلیماتِ اسلامیہ بورڈ' تشکیل دیا، جس میں علامہ سلیمان ندوی، مولانا مفتی محمد شفیع اور مولانا ظفراحمد انصاری جیسے مشاہیر اور ماہرین قرآن و سنت شامل تھے۔ اس بورڈ نے مختلف تجاویز پر مبنی ایک رپورٹ ۱۹۵۰ء ہی میںحکومت کو پیش کردی جس میں مغربی جمہوریت سے بچنے کے لئے ابتدائی طور پر ایک نہایت مؤثرتدبیر بتائی گئی تھی۔ بورڈ کی تجویز یہ تھی کہ اسمبلی کے منتخب ممبروں سے یہ حلف لیا جائے کہ وہ اپنی رکنیت کے دوران اسمبلی میں صرف اسلام، مفادِ پاکستان اور اپنے ضمیر کے مطابق اظہارِ رائے کریں گے اور وہاں وہ کسی سیاسی پارٹی یا سیاسی گروپ کے فیصلے اور مینڈیٹ کے تابع نہ ہوں گے۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو انٹرویو مولاناظفراحمدانصاری: ہفت روزہ 'تکبیر' ۲۷ ؍اپریل تا ۳؍ مئی ۱۹۸۴ء)

4. اگلے سال یعنی ۱۹۵۱ء میں تاریخ ِپاکستان کا اہم ترین واقعہ رونما ہوا اور وہ یہ کہ تمام اسلامی مکاتب فکر کے ۳۱ ؍اکابر علماء نے متفقہ طور پر آئین سازی کے لئے ایک ۲۲ نکاتی دستاویز حکومت کو پیش کردی۔ اس تاریخی اتفاقِ علماء میں بھی مغربی جمہوری نظام کی بجائے اسلام کا شورائی نظام تجویز کیا گیا تھا۔ وقت کی اس اعلیٰ ترین مجلس علماء میں چوٹی کے تمام علماء شامل تھے مثلاً علامہ سلیمان ندوی، مولانامودودی، مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا ظفراحمدانصاری، مولانا عبدالحامد بدایونی، علامہ سید داؤد غزنوی، علامہ راغب احسن، مولانا احمدعلی، مفتی محمد حسن، مولانا اطہر علی اور مولانا ادریس کاندھلوی وغیرہ۔

5. اس سے اگلے سال یعنی ۱۹۵۲ء میں مجوزہ بالا اسلامی شورائیت کی راہ ہموار کرنے اور مغربی جمہوریت کی راہ مسدود کرنے کے لئے مولانا مودودیؒ نے قوم کے سامنے یہ حکمت ِعملی پیش کی کہ ملک میں سیاسی پارٹی سسٹم سرے سے ختم کردیا جائے۔ (ملاحظہ کیجئے ان کی یہ دو کتابیں: 'اسلامی دستور کی تدوین' اور 'اسلامی ریاست') واضح رہے کہ مولانا مودودیؒ وہ صاحب ِعلم دانشور تھے جو بیک وقت برصغیر پاک و ہند کی تحریک اسلامی کے بانی بھی تھے اور اوپر بیان کردہ معزز اداروں کے رکن بھی تھے۔ یعنی ۱۹۴۰ء والی مسلم لیگ کی دستوری کمیٹی کے رکن بھی تھے اور ۱۹۵۱ء والی مجلس علماء کے رکن بھی۔

6. ٹھیک اسی زمانے میں عالم اسلام کی دوسری بڑی تحریک ِاسلامی یعنی مشرقِ وسطیٰ کی تنظیم 'اخوان المسلمون' کے سربراہ استاذ حسن البناء نے عالم اسلام کو یہ مشورہ دیا کہ غیر اسلامی مغربی جمہوریت اور سیاسی پارٹی بازی کو ترک کردیا جائے۔

اب مغربی سرمایہ دارانہ سیاست و جمہوریت کے خلاف اگلے تاریخی مراحل کی اہمیت سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے پاکستان میںرائج کردہ نظامِ حکومت و سیاست ۱۹۴۷ء تا ۱۹۷۷ء پرایک طائرانہ نظر ڈالی جائے :... شروع کے ان تین عشروں میں اربابِ اقتدار و سیاست نے مذکورہ بالا اربابِ دین و دانش کی بات نہ مانی اور اپنی من مانی کرکے مغرب کے مختلف نظام سیاست و انتخابات کی یکے بعد دیگرے نقالی کی۔ لہٰذا ان تین عشروں میں تین قسم کے دساتیر (دستور ۱۹۵۶ئ،۱۹۶۲ء اور ۱۹۷۳ئ) بنائے گئے۔ تین طرح کے نظامِ حکومت (پارلیمانی ، صدارتی اور آمرانہ پارلیمانی) قائم کیے گئے۔ تین مرتبہ انتخابات ۱۹۶۴ئ، ۱۹۷۰ء اور ۱۹۷۷ء ) ہوئے اور تین ہی بار مارشل لاء (۱۹۵۸ء، ۱۹۶۹ء اور ۱۹۷۷ئ) لگے۔ ان سب کارروائیوں کا مجموعی نتیجہ یہ نکلا کہ ملک بحران میں گرفتار رہا اور اسی دوران ٹوٹ کر آدھا رہ گیا۔ اسلامی روایات واحکامات پر عمل نہ کرنے کا یہ تھا بھیانک اور ہولناک انجام۔ مختصر یہ کہ تیس سالہ (۱۹۴۷ء سے ۱۹۷۷ئ) دردناک داستان۱۹۷۷ء کے مارشل لاء پر اختتام پذیر ہوئی۔ اس تیسرے مارشل لاء کی حکومت نے ماضی سے سبق حاصل کرلیا اور اچھی طرح سمجھ لیا کہ ملک کی بقا اور سلامتی کی ضمانت صرف نظامِ اسلام ہی میں مضمر ہے۔ لہٰذا اس نے نفاذ اسلام کے محض اعلان پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس طرف پیش قدمی بھی شروع کردی۔ اس سلسلے میں اس وقت کی حکومت نے ایک اہم کام یہ کیا کہ ملکی نظام و قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل نو کی اور اس میں نامور علماء جج صاحبان، قانون دان اور دانشور حضرات شامل کئے۔ اس کے بعد پیش آیا اگلا تاریخی مرحلہ :

7. ۱۹۷۹ء میں صدر ضیا ء الحق نے اسلامی نظریاتی کونسل سے کہا کہ وہ عصر حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامی نظام حکومت و سیاست کا خاکہ بنا کر پیش کرے۔ کونسل نے اپنی دو رپورٹیں حکومت کو پیش کیں۔ اور حکومت نے کونسل کی سفارشات کی آخری رپورٹ ملتے ہی اسے جون ۱۹۸۳ء میں شائع کردیا۔ جس میں مغربی جمہوریت کے سیاسی پارٹی سسٹم اور جماعتی انتخابات کو ناجائز قرار دیا گیا اور اسلام کا شورائی نظام اور شرائط ِاہلیت و تقویٰ کے ساتھ انتخابات تجویز کئے گئے۔

8. ۱۹۸۳ء میں اسلامی نظریاتی کونسل کی یہ سفارش ملنے کے بعد کہ مروّجہ جماعتی انتخابات کے بجائے معیارِ کردار کی بنیاد پر غیرجماعتی انتخابات کا اہتمام کیا جائے، صدرِ پاکستان نے ایک دستوری کمیشن تشکیل دیا۔ مولانا ظفراحمد انصاری جیسے کہنہ مشق ماہر دستوریات کی سربراہی میں بیس رکنی دستوری کمیشن میں اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان، قانون دان حضرات اور عہد ِجدید کے جید علما شامل کئے گئے۔ اس انصاری کمیشن۱۹۸۳ء کے سپرد یہ کام کیاگیا کہ وہ اس وقت تک کی تمام رپورٹوں کا جائزہ لے کر نظم مملکت کا ایک اسلامی آئینی ماڈل پیش کرے۔ یہ اہم کام کمیشن نے ۱۸ روز کی قلیل مدت میں انجام دے دیا۔ اور صدرِ مملکت کو اپنی رپورٹ پیش کردی جو حکومت نے اگست ۱۹۸۳ء میں شائع بھی کردی۔ اس رپورٹ میں نہ صرف یہ کہ قراردادِ مقاصد ۱۹۴۹ء اور مشہورو معروف علماء کے ۲۲ نکات ۱۹۵۱ء شامل ہیں، بلکہ ان ہی تاریخی دستاویزات کی بنیاد پر اسلامی نظم مملکت کا آئینی و عملی ماڈل پیش کیا گیا ہے۔ انصاری کمیشن نے مغرب کے تینوں قسم کے سیاسی نظام یعنی پارلیمانی، صدارتی اور پارلیمانی صدارتی ملے جلے نظام میں سے ہر ایک کو ٹھوس حقائق و دلائل کے ساتھ ناقابل قبول اور ناقابل تقلید قرار دیا اور پاکستان کے لئے'شورائی امارت' کا اسلامی نظام نہ صرف یہ کہ تجویز کیا بلکہ اس کا ایک قابل عمل ماڈل بنا کر پیش بھی کردیا۔

علاوہ ازیں انصاری کمیشن ۱۹۸۳ء نے ایک اور کام ایسا انجام دیا، جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اور وہ یہ کہ مجوزہ نظام شورائی امارت کو کامیابی کے ساتھ قائم کرنے کے لئے رائج الوقت مغربی طرزِ انتخابات کاایک متبادل، مکمل اور تفصیلی طریق کار بھی وضع کر دیا۔ اس وضع کردہ طرز و طریق انتخابات میں انفرادی اور جماعتی 'امیداواری' نظام کو یکسر ختم کرکے 'تجویزی' نظام اس طرح تشکیل دیا ہے کہ انتخابات میں مال و دولت اور سرمایہ کی ریل پیل بند ہوجائے اور انتخابات کامرکز و محور صرف معیارِ نمائندگان یعنی معیار صلاحیت و صالحیت بن جائے۔ بلاشبہ کمیشن کا یہ ایک نیا اور نادر کارنامہ تھا کہ اس نے انتخابی سرمایہ کاری پر مضبوط بند باندھنے اور انتخابات بغیر اخراجات کرانے کا مکمل و مجرب نسخہ پیش کردیا۔ مختصراً یہ کہ انصاری کمیشن رپورٹ ۱۹۸۳ئ، وہ آخری تاریخی دستاویز ہے ،جو مغربی سرمایہ دارانہ جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیتی ہے۔ آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ ماضی کی ان تاریخی دستاویزات کو ہی مشعل راہ بنایا جائے۔

9. ۱۹۸۳ء کے اواخر میں عالم اسلام کی عالمگیر تنظیم رابطہ عالم اسلامی کے سربراہ استاذ عبداللہ عمر النصیف پاکستان کے دورے پر آئے تو 'ورلڈ اسلامک ٹائمز' اسلام آباد نے ان سے ایک انٹرویو لیا۔ اپنے انٹرویو میں دنیا کی اس بین الاسلامی تنظیم کے قائداعلیٰ نے مفصل و مدلل طور سے بتایا کہ ازروئے قرآن وسنت کسی اسلامی ریاست میں مغرب کی سیاسی پارٹی بندی اور جنگ ِاقتدار کے لئے لام بندی انتہائی مہلک ہے اور اسی لئے قرآن مجید نے صرف 'حزب اللہ' کا تصور دیا ہے، احزاب اللہ کا نہیں۔

10. ۱۹۸۵ء میں صدر محمد ضیاء الحق نے انصاری کمیشن ۱۹۸۳ء کی دو اہم ترین سفارشات کو آئین پاکستان ۱۹۷۳ء میں شامل کردیا۔ اولاً یہ کہ قرار دادِ مقاصد ۱۹۴۹ء کو آئین کے دیباچے کے ساتھ آئین کے متن میں درج کردیا (دفعہ ۲؍الف) ثانیاً: یہ کہ عوام کے منتخب نمائندوں کے لئے اسلامی معیار صلاحیت وصالحیت مقرر کردیا۔ (دفعات ۶۲ اور ۶۳)

11. ۱۹۸۸ء سے ۱۹۹۹ء تک چار مرتبہ انتخابات ہوئے اور چار حکومتیں قائم ہوئیں مگر ۱۹۸۵ء کی آئینی ترمیماتِ اسلامی پر عمل نہیں کیا گیا۔ لہٰذا اس 'جمہوریت'کا نتیجہ بھی ماضی کی طرح نکلا اور ملک میں سیاسی افراتفری اور مالی لوٹ کھسوٹ مقتدر سیاست کاروں نے مچائی۔ بالآخر اکتوبر ۱۹۹۹ء میں پھر فوج کو ماضی کی طرح مداخلت کرکے حکومت سنبھالنی پڑی تاکہ اصلاحِ احوال کیا جاسکے۔ اب اس وقت یعنی ۲۰۰۲ء میں اصلاحِ احوال کا سلسلہ پھر سے جاری و ساری ہے اور اکتوبر ۲۰۰۲ء کے انتخابات نئے اور اصلاحی اصولوں پر کرائے جانے کا دعویٰ کیا گیاہے، تاکہ پاکستانی سیاست و حکومت صاف و شفاف اور گندگی سے پاک ہوجائے۔

ماضی، حال اور مستقبل ؛ تاریخ پاکستان کے آئینے میں

مندرجہ بالا تاریخی جائزہ واضح کردیتا ہے کہ مصورِ پاکستان اقبالؒ اور معمارِ پاکستان قائد اعظم سے لے کر انصاری کمیشن ۱۹۸۳ء تک تمام اہل دین و دانش کا اتفاق رہا ہے کہ اسلامی ریاست میںصرف اسلامی طرزِ حکومت و سیاست ہی کارآمد ا ور کامیاب ہوسکتا ہے، اور مغربی سرمایہ دارانہ جمہوریت چونکہ اسلامی روایات سے مطابقت نہیںرکھتی اس لئے اس کی نقالی مفید نہیں، مضر ہے۔ اس تاریخی اجماع پر پاکستان کے باون سالہ (۱۹۴۷ء تا ۱۹۹۹ئ) تجربات نے مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ مغربی طرز کے تین نظام حکومت اور آئین بنے اور ٹوٹے،یہاں تک کہ ملک بھی ٹوٹ کر آدھا رہ گیا۔ ۱۹۸۵ء کے بعد آئینی اور دستوری اصلاحات کا دوسرا موقع اب پھر آیا ہے اور وہ اس طرح کہ اکتوبر ۱۹۹۹ء میں قائم ہونے والی فوجی حکومت نے آئین ۱۹۷۳ء منسوخ نہیں، معطل کیا ہوا ہے۔ پھر سپریم کورٹ نے آئینی کیس میں سربراہِ حکومت کو آئین ۱۹۷۳ء میں اصلاح و ترمیم کا اختیار بھی دے دیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کی روشنی میں موجودہ حکومت پربڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے کہ وہ ملک کو مغربی سرمایہ دارانہ جمہوریت کی تباہ کاریوں سے نجات دلائے۔اس کے لئے دو اقدامات ضروری ہیں۔ اولاً یہ کہ انصاری کمیشن ۱۹۸۳ء کی جو تجاویز ۱۹۸۵ء میں آئین کا حصہ بن چکی ہیں، ان (دفعات ۲؍الف، ۶۲،۶۳) کو سختی کے ساتھ نافذ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ کمیشن کی باقی ماندہ سفارشات پر بھی عمل درآمد شروع کیا جائے۔ مثلاً کمیشن کا پیش کردہ بالکل نیا اور نادر انتخابی طریق کار جوں کا توں اختیار کیا جائے، جس سے انتخابات دھن، دولت اور اخراجات کے شیطانی چکر کے بغیر ہوجائیں گے۔ ان شاء اللہ!

لہٰذا پاکستان میں مغربی جمہوریت کی لوٹ کھسوٹ کی بجائے مجوزہ صاف و شفاف اسلامی شورائیت قائم کرنا انتہائی ضروری ہے اور وہی اسلام کی برکتوں کے حصول کا نکتہ آغاز ثابت ہوگا۔ اسلام کی فلاحی تصورِ ریاست کا جو خوشنما خواب ہم عرصہ سے دیکھ رہے ہیں اور جس کے لئے پاکستان کا خطہ حاصل کیا گیا، اس کی حقیقی تعبیر اسلام کے شورائی نظام سیاست (خلافت وامارت)کے نفاذ کے بعد ہی ہمیں حاصل ہوگی !!