۶؍اکتوبر ۲۰۰۳ء کو پاکستان کے پُرفضا دارالحکومت اسلام آباد پر اُترنے والی خنک سہ پہر، وطن عزیز میں دہشت گردوں کے حوالے سے ایک اہم باب کے طور پر یاد رکھی جائے گی، یہ پیر کا دن تھا۔ سیاسی اور دینی جماعت ملت ِ اسلامیہ کے سربراہ اور قومی اسمبلی کے رکن مولانا اعظم طارق اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ جھنگ سے روانہ ہوئے اور اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے جب اسلام آباد میں داخل ہوئے تو گولڑہ موڑ کے قریب ٹول پلازا پر ایک پجارو جیپ سے ان کی سرکاری کار پر دہشت گردوں نے گولیاں برسائیں۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق مولانا اعظم طارق اور ان کے ساتھیوں پر کلاشنکوف کی ۱۰۰ سے زائد گولیاں چلائی گئیں۔ ان میں سے ۴۰ گولیاں مولانا کے بدن میں پیوست ہوئیں جبکہ باقی گولیوں نے ان کے چاروں ساتھیوں کی زندگیوں کے چراغ گل کردیے۔

مولانا اعظم طارق ناموسِ صحابہ کرامؓ کے نام پر عالم وجود میں آنے والی کالعدم تنظیم سپاہ صحابہؓ کے سرگرم رہنما تھے۔ اور اپنے موقف میں شدت پسند خیال کئے جاتے تھے۔ اس حوالے سے ان کی زندگی ہمیشہ خطرات سے دوچار رہی۔ ان کے قریبی ذرائع کے مطابق ان پر ۲۰ مرتبہ قاتلانہ حملے کئے گئے۔ مولانا پر سب سے شدید حملہ ۱۹۹۷ء میں سیشن کورٹ لاہور میں ہوا۔ اس میں ۲۷؍افراد جاں بحق ہوگئے لیکن مولانا اعظم طارق زخمی ہونے کے باوجود زندہ بچ رہنے میں کامیاب ہوئے۔ سپاہ صحابہؓ پر پابندی لگنے کے بعد مولانا اعظم طارق نے ۱۸؍اپریل ۲۰۰۲ء کو نئی سیاسی جماعت ملت ِاسلامیہ، پاکستان کی بنیاد رکھی اور اس کے سربراہ منتخب ہوئے۔ وہ ایک بار ممبر صوبائی اسمبلی اور تین مرتبہ رکن قومی اسمبلی کے طور پر ایوان میں پہنچے۔ مولانا اعظم طارق جنرل پرویز مشرف کے زیر صدارت قائم مسلم لیگ (ق) کی موجودہ حکومت کے اتحادی تھے اور برسراقتدار پارلیمانی پارٹی کا حصہ تھے۔

مولانا اعظم طارق پر دہشت گردوں کے حملے کے خلاف عوام میں جو فوری ردِعمل سامنے آیا؛ وہ یہی تھاکہ مولانا اعظم طارق کے قتل میں اگرچہ پاکستان میں سرگرم تشدد پسند عناصر کا ہاتھ ہے لیکن دراصل اس اقدام کی جڑیں ایک عظیم بین الاقوامی سازش تک پھیلی ہوئی ہیں۔ جو ایران اور پاکستان کی لازوال دوستی کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں۔ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمن نے ایک بیان میں کہا کہ مولانا اعظم طارق کا قتل فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تباہ کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے مولانا کے قتل کو ایک گھناؤنی سازش قرار دیا۔جبکہ مولانا اجمل قادری نے کہا کہ یہ ملکی امن کو برباد کرنے کی بیرونی کوشش ہے۔ قاری زوار بہادر، مولانا جاوید اکبر ساقی، پیر اعجاز ہاشمی، جنرل(ر) کے ایم اظہر خان، انجینئر سلیم اللہ خان، صاحبزادہ سید مصطفی اشرف رضوی، مولانا امجد خان، مولانا امیر حسین گیلانی، مولانا رشید لدھیانوی اور مولانا عبدالرء وف فاروقی نے اپنے اپنے بیانات میں مولانا اعظم طارق کے قتل کو ایک گہری سازش قرار دیا۔ مسلم لیگ علماء ونگ پنجاب کے صدر مولانا وجیع اللہ خان نے کہا کہ اسلام دشمن عناصر ملک میں مذہبی دہشت گردی پھیلا کر ملک کا امن و امان تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

مولانا اعظم طارق کی نمازِ جنازہ کے بعد صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے سپیکر چوہدری امیر حسین نے کہا کہ اس واردات کے پس منظر میں کئی ممکنات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ کسی ہمسایہ ملک کے ملوث ہونے کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ۷؍اکتوبر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد پاس کی گئی۔ جس میں مولانا اعظم طارق کے دن دیہاڑے قتل کو قومی المیہ قرار دیا گیا ار اس امر کا اظہار کیا گیا کہ اس واقعہ میں ملوث دہشت گرد ایک فرد کے قاتل نہیں بلکہ اسلام ، ملک اور قوم کے دشمن ہیں جنہیں بے نقاب کرنا بہت ضروری ہے۔ وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ وزیراعظم جمالی نے مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ دہشت گردی کی اس واردات کو بہت جلد بے نقاب کر لیا جائیگا۔

عوامی سطح پر مولانا اعظم طارق کے قتل سے زبردست ردِعمل پیدا ہوا۔ اسلام آباد میں نمازِ جنازہ کے بعد شدید ہنگامے رونما ہوئے۔ متعدد گاڑیاں تباہ کردی گئیں۔ ایک سینما گھر جلا دیا گیا۔ دکانوں اور پلازوں پر پتھراؤ ہوا۔ اس کے علاوہ پشاور، کوئٹہ، گوجرانوالہ، ساہیوال، کراچی، چیچہ وطنی، سکھر، لاڑکانہ، حافظ آباد، سرگودھا اور جھنگ میں مظاہرے ہوئے۔ جھنگ میں وزیرداخلہ فیصل صالح حیات کے گھر پر حملہ میں توڑ پھوڑ ہوئی۔ ایک عبادت گاہ کو آگ لگا دی گئی اور فائرنگ کے واقعات دیکھنے میں آئے۔ اپوزیشن جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ وزیرداخلہ کے خلاف کارروائی کی جائے کیونکہ اس سانحے کی ذمہ داری وزارتِ داخلہ پر عائد ہوتی ہے۔ جبکہ وزیرداخلہ نے جواباً کہا کہ اپوزیشن کی طرف سے ان کے استعفیٰ کا مطالبہ لاشوں پر سیاست چمکانے کے مترادف ہے۔ پاکستان کی فضا میں اس واقعہ کے بعد جو جذباتی اشتعال پیدا ہوا ہے، اس سے نپٹنے کے لئے ۸؍اکتوبر کو پنجاب بھر میں جلوسوں پر پابندی عائد کردی گئی اور اسلحہ کی تلاش کے لئے خصوصی مہم چلانے اور متعلقہ لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کے فیصلے کئے گئے۔

حالات و واقعات کے مذکورہ بالا بہاؤ کے پیش نظر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مولانا اعظم طارق پرحملہ کے پس منظر میں کیا مقاصد کارفرما تھے۔ دہشت گردی کی اس کارروائی کے لئے صرف مولانا اعظم طارق ہی کو کیوں منتخب کیا گیا اور انہیں بے رحمانہ طریقے سے قتل کرنے کے لئے اس وقت کا انتخاب کیوں کیا گیا۔ اس قت عالمی سیاست میں مسلمان ممالک جس دباؤ، پریشانی اور قیادت کے خلا سے گزر رہے ہیں؛ وہ ہر اہل نظر پر عیاں ہے۔ ایک طرف امریکہ ایک عالمی غنڈے کی حیثیت سے اپنی اندھی طاقت کے زعم میں مسلمان ممالک کے عقیدے اور موجودہ سیٹ اَپ کو زیر و زبر کرنے کے لئے سرگرم ہے۔ تو دوسری طرف اسرائیل اور بھارت پاکستان کی نظریاتی اساس کو فرقہ واریت کی تیز دھار تلوار سے ذبح کرنے کے لئے زیر زمین سازشوں میں مصروف ہیں۔ پاکستان کے قرب و جوار میں اہم لیکن پاکستان کے لئے تشویش ناک واقعات تسلسل سے رونما ہو رہے ہیں۔

افغانستان میں بھارت کا اثرورسوخ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ وہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ ایک اطلاع کے مطابق کم از کم ۲۸ سفارتی اڈّے قائم کرچکا ہے۔ جہاں شمالی اتحاد کے پاکستان مخالف عناصر کو پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کے لئے ذہنی طور پر تیار کیا جارہا ہے۔ ایک اور اطلاع کے مطابق بھارتی حکومت کی زیر نگرانی اربوں روپے کے مالیتی پاکستانی نوٹ جعلی طور پر چھاپ کر افغانستان سرحد کے راستے وطن عزیز میں پھیلائے جارہے ہیں۔ تاکہ پاکستان کی سنبھلتی ہوئی معیشت کو ایک مرتبہ پھر زوال آمادہ کیا جاسکے۔

پاکستان کا ایک دوسرا پڑوسی اور قابل اعتماد دوست ایران ان دنوں امریکی دباؤ کاشکار ہے۔ امریکہ اور مغربی دنیا زوروشور سے یہ مہم چلا رہی ہے کہ ایران بہت جلد ایٹمی قوت بننے والا ہے۔ بھارتی اور اسرائیلی لابیوں کی طرف سے یہ افواہ بھی عالمی سطح پر پھیلائی جارہی ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں پاکستان کی خفیہ امداد شامل ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایک قرارداد کے نتیجے میں ان دنوں بین الاقوامی ایٹمی کھوج رساں ایران کا دورہ کررہے ہیں۔ جبکہ ایران یہ اعلان کرچکا ہے کہ وہ اعلیٰ درجے کی افزودہ یورنیم تیار کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ امریکی خفیہ ایجنسیاں اس امر کے اشارے بھی دے رہی ہیں کہ اگر ایران نے ایٹمی پروگرام کوترک نہ کیا تو یہ امر امریکی حملے کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔

مولانا اعظم طارق کے قتل کو اگر مذکورہ بالا تناظر میں دیکھا جائے تو اس قتل کے پیچھے کسی گہری بین الاقوامی سازش کے امکان کو ردّ نہیں کیا جاسکتا۔ ایران پر امریکی حملے کی صورت میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جو اس برادر اسلامی ملک کی اخلاقی اور عملی مدد کرسکتا ہے۔ پاکستان کو اس ا صلاحیت اور کردار سے محروم رکھنے کے لئے بین الاقوامی سطح پر جو کوششیں ہورہی ہیں، ان میں ایران اور پاکستان کے تعلقات کو اس حد تک کشیدہ بنانا بھی شامل ہے کہ کسی مشکل گھڑی میں پاکستان اپنی ناراضگی کے سبب ایران کی مدد کرنے سے انکار کردے۔ اس امر کا مظاہرہ افغان جنگ کے دوران بھی کامیابی سے کیا جاچکا ہے جب فرقہ وارانہ بنیادوں پر ایران اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو اس انتہا تک پہنچا دیا گیا تھا کہ دونوں مسلم ممالک بہترین تعلقات کی درخشاں تاریخ کے حامل ہونے کے باوجود متحارب قوتوں کے طور پر پہچانے جانے لگے تھے۔ مسلم ہمسایہ ملک سے پاکستان کے تعلق کو خراب کرکے جہاں امریکہ اور مغربی طاقتیں ایران اور افغانستان پر اپنے استعماری پنجے گاڑنے میں آسانی محسوس کریں گی۔ وہاںخود پاکستان کو اسلامی ہمسایوں سے الگ کرکے اسے تنہا کردینے کے بھارتی اور اسرائیلی خواب شرمندہ تعبیر ہوسکیں گے۔

یہ قرین قیاس ہے کہ مولانااعظم طارق اور ان کے ساتھیوں کے قاتل پاکستانی ہوں۔ کیونکہ خلافِ اسلام عالمی سازش کا طریق کار یہی ہوتاہے کہ وہ بین الاقوامی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے درمیان اختلافی مسائل میں تناؤ سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ان حلقوں کے جذباتی عناصر کی نشاندہی کرتی ہیں اور پھر ان کے نظریات و عقائد کی پرجوش حمایت کرکے انہیں 'مخالف قوتوں' کو نیست ونابود کردینے کا نفسیاتی درس دیتی ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہیں جدید ترین سہولتیں، معلومات اور تربیت مہیا کرتی ہیں اور مالی مفادات کے رنگین خواب دکھاتی ہیں۔ ان کے آلہ کار بننے والے لوگوں کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتا کہ وہ ملک وملت کے دشمن کسی ایجنڈے کی تکمیل کا اہم کردار بن رہے ہیں لیکن ان میں مخصوص جذبات اُبھار کر انتشار پسند عناصر اور ملکی وغیر ملکی ایجنسیاں اپنے تخریبی پروگراموں کی تکمیل کرتی ہیں۔پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے پس پردہ یہی طریقہ کار فرما ہے۔ کسی مکتب ِفکر کے نمایاں رہنما کو قتل کرکے ایجنسیاں اسے یہ رنگ دیتی ہیں گویا یہ متحارب گروہ کی کارفرمائی ہے ، متاثرہ گروہ کے افراد کے جذبات کو خوب بھڑکایا جاتا اور قتل کے واقعہ کو من مانے رنگ میں پیش کیا جاتا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اطمینان سے بیٹھے دو مختلف الخیال گروہوں میں مخاصمت اور قتل وغارت سر اُٹھالیتی ہے۔

اسلام کسی طور پر بھی شدت پسندی اور اس قتل وغارت گری کی اجازت نہیں دیتا۔یہ ہمارے مخصوص ذہنی تعصبات اور فرقہ وارانہ رجحانات ہیں جنہیں اسلام کے لبادے میں پیش کیا جاتا ہے ۔ نبی کریم ﷺکا ایک واضح فرمان اس سلسلے میں اسلام کا موقف بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابوبکرہ ؓسے مروی ہے:

«إذا التقی المسلمان بسیفیهما فالقاتل والمقتول کلاهما في النار فقلت یا رسول اﷲ هذا القاتل فما بال المقتول قال إنه کان حریصا علی قتل صاحبه»

''جب دو مسلمان ایک دوسرے کے مقابل تلواریں سونتتے ہیں تو (اس لڑائی میں) قتل کرنے والا اور قتل ہونے والا دونوں ہی جہنمی ہیں۔ میں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! قاتل کا جہنمی ہونا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن مقتول کے جہنمی ہونے کی کیا وجہ؟ آپ نے فرمایا : وہ بھی تو اپنے مدمقابل کو قتل کرنے کے لئے کوشاں تھا۔''

اس فرمانِ نبویؐ سے دو مسلم گروہوں میں قتل ومخاصمت پر جہنم کی وعید کے بعد اس غارت گری کا اسلام سے جواز نکالنا بڑی زیادتی ہے۔ خدانخواستہ اس حدیث کی رو سے مولانا اعظم طارق کی شہادت پر ہم کوئی حکم نہیں لگانا چاہتے کیونکہ اس قتل وغارت گری میں ان کا شریک ہونا یا اسے پسند کرنا ایک عالم دین ہونے کے ناطے ناممکن ہے تاہم اس حدیث ِنبوی ؐسے یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ اسلام فرقہ وارانہ قتل وغارت کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔

ہماری نظر میں مولانا اعظم طارق کے قتل کا یہ واقعہ خالص فرقہ وارانہ عصبیت کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ مولانا اعظم طارق نے جھنگ میں قومی اسمبلی کا حالیہ الیکشن معروف شیعہ رہنما سیدہ عابدہ حسین کی حمایت میں جیتا تھا۔ اسی طرح مولانا اعظم طارق متحدہ مجلس عمل کی بجائے مسلم لیگ (ق ) کے ساتھ تھے۔کسی فرقہ وارانہ اشتعال سے بڑھ کر اس سانحہ کے پس پردہ عالمی سیاست اور پاکستان میں اس کے مخصوص مفادات کارفرما ہیں۔تازہ سانحہ سے متاثر ہو کر اگر پاکستان میں موجود سنی اکثریت شیعہ حضرات اور ایران سے بددل ہوجائیں اور ملکی سطح پر ایران مخالف جذبات پروان چڑھیں تو اس سے عالمی سیاست کے تناظر میں امت ِمسلمہ کو کس قدر نقصان پہنچ سکتا ہے، اس کا اندازہ اہل نظربخوبی کرسکتے ہیں...!!

اُمت ِمسلمہ کو درپیش ان مشکل حالات میں ہماری حکومت، سیاسی جماعتوں، دینی اور مذہبی حلقوں، علمائِ دین اور دانشوروں کا مولانااعظم طارق کے قتل کے پردے میں مُستور عالمی خطرات و خدشات کو بے نقاب کرنا اور اسلام دشمن قوتوں کی سازش کا اِدراک کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ایسے نازک وقت میں ملت دشمن عناصر کو پہچاننا اور آپس میں اتفاق ویکجہتی کو فروغ دینا ہی وقت کا اوّلین تقاضا ہے...!!