گذشتہ دو ماہ سے پاکستانی اخبارات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے متعلق بحث ایک دفعہ پھر جاری ہے۔ چند روز پہلے 'نوائے وقت' میں 'مکتوبِ امریکہ' کے کالم میں ایک صاحب نے امریکہ میں مقیم چند پاکستانیوں کے خیالات کو شامل کیا ہے جو چاہتے ہیں کہ حکومت ِپاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے کااعلان کرے۔ ان افراد کی جانب سے جو دلائل دیئے گئے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں نہ صرف سیاسی بصیرت اور اسلامی حمیت کی کمی ہے بلکہ اُنہیں مظلوم و مجبور کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کا بھی ہرگز خیال نہیں ہے۔

اصل حقائق سے بے بہرہ یہ گروہ اپنے تئیں یہ سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان نے اسرائیل کو اب تک تسلیم نہیں کیا، تویہ سب مولویوں کی مخالفت کی وجہ سے ہے جو لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ ان بزعم خویش روشن خیال مسلمانوں کی خدمت میں چندگذارشات اس توقع سے پیش کی جاتی ہیں کہ شاید وہ ان پر غور کرنے کی زحمت کریں :

1. یہ تاثر درست نہیں ہے کہ پاکستان، اسرائیل کو قرآن مجید کی اس آیت کی پیروی میں تسلیم نہیںکرتا جس میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہوسکتے۔ پاکستان ہی پر موقوف کیا، اسلامی دنیا کا کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جو اسرائیل کو محض اس وجہ سے تسلیم نہ کرنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہو۔ درحقیقت قرآنِ مجید کی مذکورہ آیت کا یہ منشا بھی نہیں ہے کہ غیر مسلم ممالک سے رسمی خارجہ تعلقات بھی نہ رکھے جائیں۔ ہر شخص جانتا ہے کہ دوستانہ تعلقات اور خارجہ تعلقات میں فرق ہوتا ہے!!

2. ۱۹۴۸ء میں جب تمام مسلم دنیا نے اسرائیل کوتسلیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تو اس کی فوری وجہ یہ تھی کہ فلسطین کے بے گناہ مسلمانوں کو ان کی صدیوں سے ملکیتی زمین سے محروم کرکے اسے یہودیوں کو دے دیا گیا جس کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی مسلمان آج تک مہاجرین کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ جدید تاریخ اسرائیل کے علاوہ کوئی اور مثال پیش کرنے سے قاصر ہے کہ جہاں ایک مقامی قوم کو بے دخل کرکے ان کے علاقے پر مختلف ملکوں سے آنے والے دوسری قوم کے افراد کو نہ صرف بسا دیا جائے بلکہ ان کی ریاست بھی قائم کردی جائے۔ یہ سراسر ظلم اور ناانصافی تھی جسے اس وقت کی استعماری طاقتوں نے فلسطین کے بے چارے مسلمانوں سے روا رکھا۔ ان لوگوں کے عالمی تصورِ انصاف کا ماتم نہ کیا جائے توکیا کیا جائے جنہوں نے بزعم خویش یہودی قوم سے کی جانے والی 'ناانصافی' کی تلافی فلسطینی مسلمانوں سے اس سے بڑھ کر 'ناانصافی' کی صورت میں کی!!

یہود کو فلسطین کو چھوڑے ہوئے ہزاروں سال ہوگئے تھے۔ وہ اپنی مرضی سے یہ خطہ چھوڑ کر امریکہ، یورپ اور روس کے علاقوں میں آباد ہوگئے تھے، مسلمانوں نے انہیں زبردستی نہیں نکالا تھا۔ اب ایک ہزار سال کے بعد ان کے چند لیڈروں میں یہ اُمنگ بیدار ہوئی کہ ان کی یہودی ریاست ہونی چاہئے تو اس کا یہ طریقہ ہرگز نہیں تھا جو اپنایا گیا۔ استعماری طاقتوں نے جب اسرائیل کو قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تب بھی ان کاضمیر مردہ تھا اور آج بھی ان کی سوچ میں تبدیلی نہیں آئی۔

3. کہا جاتا ہے کہ جب بھارت اور دیگر عیسائی ممالک سے پاکستان کے تعلقات ہیں، تو اسرائیل کو آخر تسلیم کیوں نہ کیا جائے؟ یہ انتہائی لغو استدلال ہے۔ اسرائیل کا بھارت اور دیگر عیسائی ممالک سے موازنہ کرنا اپنے فکری بانجھ پن کا اشتہار دینے کے مترادف ہے۔ کیا کوئی ایک بھی عیسائی ملک ایسا ہے جو مسلمانوں کی زمین پر قبضہ کرکے قائم کیا گیا ہو۔ بھارت کا معاملہ بھی اسرائیل سے قابل موازنہ نہیں ہے، بھارت نے جس وقت کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا، اس وقت کشمیر کا پاکستان سے الحاق عملاً ہونا باقی تھا اور ۱۹۵۴ء تک بھارت نے کشمیر پر استصوابِ رائے کرانے پر اتفاق کیا، بعد میں اس کی نیت بدل گئی۔ اب بھی بھارت مقبوضہ کشمیر کو اپنا 'اٹوٹ انگ' کہتا ہے، مگر ساری دنیا اسے متنازعہ فیہ علاقہ سمجھتی ہے۔

پھریہ بھی دیکھیں کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے مسلمانوں کو بے دخل نہیں کیا۔ کشمیر کا مسئلہ ابھی زندہ ہے۔ کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی اُمید اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ مگر اسرائیل کا قبضہ ہی نہیں، مستقل وجود بھی قائم ہوگیا ہے۔ اب اسکے ختم ہونے کا مستقبل قریب میں کوئی امکان نہیں ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان تین جنگیں لڑی جاچکی ہیں، مگر ان جنگوں کے نتیجہ میں ایک دوسرے کے زیر قبضہ آنیوالے علاقے واپس دے دیے گئے تھے۔

اسرائیل کا معاملہ مختلف ہے۔ تاریخی حقائق کے مطابق

''یہود تقریباً تین ہزار سال پہلے فلسطین میں آباد ہوئے اور کچھ عرصہ کے لئے حکمران رہے تھے۔ شمالی فلسطین پر ان کا قبضہ زیادہ سے زیادہ چار پانچ سو سال رہا تھا اور جنوبی فلسطین میں یہ آٹھ نو سو سال آباد رہے تھے جبکہ عرب قبائل دو اڑھائی ہزار سال پہلے فلسطین میں آباد چلے آرہے تھے۔ مگر یہود و نصاریٰ کی بناکردہ 'اقوامِ متحدہ' نے یہود کا حق فائق گردانا اور انہیں فلسطین میں اپنی مملکت قائم کرنے کی اجازت دیتے ہوئے ارضِ فلسطین کو یہودیوں اور عربوں میں تقسیم کردیا۔ پھر اس تقسیم میں صریحاً ناانصافی کی گئی۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد تقسیم منظور کرتے ہوئے ساڑھے بارہ لاکھ فلسطینی عربوں کے لئے تو فلسطین کا ۴۵ فیصد رقبہ مخصوص کردیا مگر چھ لاکھ یہودیوں کو ۵۵ فیصد علاقہ بخش دیا۔ جارح یہودی ریاست نے عرب اسرائیل کے جنگ ۱۹۶۷ء کے دوران فلسطین کا ۷۸ فیصد تک رقبہ ہتھیا لیا اور پھر اُنیس برس بعد تیسری عرب اسرائیل جنگ ۱۹۷۳ء میں پورا فلسطین اور بیت المقدس یہودیوں کے تسلط میں چلا گیا۔''

آج کا اسرائیل ۱۹۴۸ء کے اسرائیل سے تین گنا بڑا ہے۔ ۱۹۶۷ء اور ۱۹۷۳ء کی عرب اسرائیل جنگوں میں اسرائیل نے صحراے سینا، مغربی کنارہ، گولان کی پہاڑیاں اور یروشلم کے جس علاقے پر قبضہ کیا تھا، وہ آج تک قائم رکھے ہوئے ہے۔

4.یہ بھی دلیل دی جاتی ہے کہ جب مصر اور اُردن جیسے عرب ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کررکھا ہے تو پاکستان اس میں مزید تاخیر کیوں روا رکھے ، مگر یہ لوگ یہ بات فراموش کردیتے ہیں کہ مصر اور اُردن نے کن حالات میں اسرائیل کو تسلیم کیا؟ کیا انورسادات خوشی سے اسرائیل کے پاؤں میں جاگرے تھے؟ کیا مصری قوم نے ایک آمر حکمران کے اس فیصلے کو خوشی سے قبول کرلیا تھا؟ کیا بعد میں مصری قیادت اپنے اس فیصلے پر پچھتائی نہیں ہے؟

اگر اُردن کے شاہ حسین نے اپنے ذاتی اقتدار کو تحفظ دینے کے لئے اسرائیل کو تسلیم کرلینے کی کڑوی گولی کھالی تھی تو ان کا اضطراری حالت میں کیا جانے والا یہ فیصلہ پاکستان یا دیگر مسلمان ممالک کے لئے قابل پیروی کیسے ہوسکتا ہے؟ پھر پاکستان محض مصر اور اُردن کے حکمرانوں کو ہی پیش نظر کیوں رکھے، دیگر ۵۰ ممالک کا ساتھ کیوں نہ دے؟ آج بھی اگر مصر اور اُردن کے عوام کی رائے لی جائے تو وہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے حق میں ووٹ دیں گے۔ پھر پاکستانی عوام کیااتنے بے حمیت ہیںکہ وہ اسرائیل کو اس وقت تسلیم کرلیں جب اس کے ظلم و ستم کا سلسلہ پہلے سے بھی زیادہ خوفناک ہوتا جارہا ہے...!!

5.. ہمارے نام نہاد روشن خیال دانشوروں نے ہر معاملے میں مولویوں پر تنقید کو اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے، ورنہ کون نہیں جانتاکہ اسرائیل کوتسلیم کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ محض پاکستان کے مولویوں کا معاملہ نہیں ہے، یہ اُمت ِمسلمہ کے ہرفرد کے ضمیر کا معاملہ ہے۔ اُمت ِمسلمہ ہی کیا، ہر اس انسان کے ضمیر کامسئلہ ہے جسے انصاف پسند ہونے کا دعویٰ ہے۔ نادانوں کو اتنا بھی علم نہیں ہے کہ بانی ٔ پاکستان محمدعلی جناح نے ۱۹۴۸ء میں جب اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ فرمایا تھا، تو یہ مولویوں کے دباؤ کا نتیجہ نہیںتھا، بعد کے سیکولر حکمرانوں نے بھی اگر اس پالیسی کو جاری رکھا، تو اس کی وجوہات امت ِ مسلمہ سے یکجہتی، مظلوم فلسطینیوں کی حمایت اور ظلم و عدوان کے خلاف احتجاج تھیں نہ کہ مولویوں کا دباؤ۔

یہاں ہم اپنے ان روشن خیال افراد کی معلومات کے لئے یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ آج سے چھ سات برس پہلے عرب ممالک کے علما میں یہودیوں کے ساتھ خارجہ تعلقات رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں بحث چلی تھی جس میں مصر، سعودی عرب، یمن، قطر اور دیگر عرب ممالک کے علما نے حصہ لیا تھا۔ یہ بات شاید ہمارے ان روشن خیالوں کے لئے بھی تعجب کا باعث ہوگی کہ اس وقت کے سعودی عرب کے عالمی شہرت یافتہ مفتی اعظم شیخ عبداللہ بن عبدالعزیز بن باز نے یہ رائے دی تھی کہ یہودیوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں فی نفسہٖ کوئی شرعی رکاوٹ نہیں ہے، مسلمان ممالک دیگر غیرمسلم ممالک کی طرح ایک یہودی ریاست سے تعلقات رکھ سکتے ہیں بشرطیکہ وہ اس طرح غاصب اور ظالم نہ ہو جس طرح کہ اسرائیل ہے۔ شیخ علی طنطاوی اور دیگر عرب علما کی آرا بھی ریکارڈ پر ہیں جن میں انہوں نے فرمایا کہ اگر اسرائیل فلسطین کے مسلمانوں کے حقوق انہیں واپس کرتا ہے، تو اس سے تعلقات رکھے جاسکتے ہیں۔

پاکستان کے نامور عالم مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ نے بھی قرآنِ مجید کی مذکورہ آیت کی تفسیر میں تحریر فرمایا ہے :

''اس آیت ِمقدسہ میں اس وقت کی جماعت کا حال بیان کیا گیا ہے اور قیامت تک کے لئے کوئی خبر نہیں دی گئی کہ ہمیشہ عیسائیوں اور یہود و مشرکین وغیرہ کے تعلقات کی نوعیت اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ یہی رہے گی۔ بہرحال جو اوصاف عہد ِنبویؐ کے عیسائیوں اور یہود و مشرکین کے بیان ہوئے وہ جب کبھی اور جہاں کہیں جس مقدار میں موجود ہوں گے اس نسبت سے اسلام اور مسلمانوں کی دوستی و عداوت کوخیال کرلیا جائے گا۔''

گویا مسلمان علما کے نزدیک اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ اس کا محض یہودی ریاست ہونا نہیں ہے جیسا کہ عام طور پر بعض حضرات سمجھتے ہیں۔ اس ریاست کاناپاک وجود، اس کی طرف سے فلسطینی مسلمانوں پر عدیم النظیر ظلم و ستم اور عرب علاقوں پر ناجائز قبضہ ایسی وجوہات ہیں کہ جنہیں نظرانداز کرکے اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے!!

ان 'روشن خیالوں' سے ہماری گذارش یہ ہے کہ اگر انہیں مولویوں سے اس قدر بغض ہے کہ وہ ان کی جائز بات بھی نہیں سننا چاہتے، تو انہیں چاہئے کہ مسئلہ فلسطین پر حال ہی میں انتقال کرنے والے عالمی سطح کے دانشور ایڈورڈ سعید کے مضامین ہی دیکھ لیں۔ اسی طرح پاکستان کے فیض احمد فیض پی ایل او کے سرکاری رسالہ کے ایڈیٹر رہے ہیں، ان کے بیانات بھی ریکارڈ پر ہیں، ان کا مطالعہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

6. بعض افراد کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ اگر پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرلیتا ہے تو یہ اس کے 'مفاد' میں ہوگا، اس طرح اسرائیل پاکستان کی مالی امداد کرسکتا ہے۔

کسی قوم کے افراد کا جب تک ضمیر مردہ نہ ہو جائے، ان کی زبانوں سے ایسے کلمات نہیںنکل سکتے۔ پوری انسانیت اور اُمت ِمسلمہ سے محض اس بنا پر غداری کی جائے کہ اسرائیل سے کچھ مالی مفادات مل سکیں گے، یہ سوچ اتنی گھناؤنی، مکروہ اور گھٹیا ہے کہ ایک باضمیر انسان اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔اگر پاکستانی قوم کا اجتماعی ضمیر پستی کی اس انتہا کو پہنچ چکا ہے، جہاں مالی مفادات سے مزید محرومی کا متحمل ہونا اس کے بس کی بات نہیں رہی، تو اسرائیل کے ہاتھوں اپنے ضمیر کو فروخت کرنے کے علاوہ بھی کئی 'آبرومندانہ' صورتیں ہوسکتی ہیں۔اگر پاکستان اس قدر مالی اضطراری کی کیفیت کے تابع ہے، تو شاید ہیروئن بیچ کر پیسے کمانا اسرائیل کو تسلیم کرکے رقم حاصل کرنے سے کہیں بہتر ہوگا۔

یہ مشورہ دینے والے نادانوں کو علم نہیں ہے کہ پاکستان عالم اسلام کے موقف کا ساتھ دے کر اخلاقی فوائد کے ساتھ ساتھ کس قدر مالی فوائد پہلے ہی حاصل کرچکا ہے۔ سعودی عرب، ایران، کویت اور دیگر عرب ممالک سے پاکستان کو گذشتہ ۵۰ سالوں میں جو مالی امداد ملی ہے، اس کا تخمینہ کھربوں روپے میں ہے۔ خلیج کی پہلی جنگ کے بعد سعودی عرب پاکستان کو تیل جس طرح رعایتی نرخوں پردے رہا ہے، اس کا سالانہ مالی فائدہ اَربوں روپے میں ہے۔ پاکستان مسلمان ممالک سے اس وقت جو مالی فوائد حاصل کررہا ہے، اسرائیل کوتسلیم کرنے کی صورت میں ملنے والے مالی فوائد اس کا عشرعشیر بھی نہیں ہوسکتے۔ مادّہ پرستوں میںاسلامی حمیت تو نہیں ہے، مگر معلوم ہوتا ہے عقل بھی زیادہ نہیں ہے۔ وہ اس قابل بھی نہیں ہیں کہ پاکستان کو ملنے والے مالی فائدہ کا صحیح شمار کرسکیں...!!

7. روزنامہ 'جنگ' نے اس موضوع پر ایک فورم منعقد کیا جس کی روداد اس کی ۲۲؍جولائی ۲۰۰۳ء کی اشاعت میں چھپی۔ شرکا کی اکثریت نے رائے دی کہ پاکستان کو اسرائیلی پالیسی پر نظر ثانی نہیںکرنی چاہئے۔ ایم کیو ایم کے فاروق ستار شاید واحد مقرر تھے جنہوں نے کہا کہ اسرائیلی پالیسی پر نظرثانی کی جائے۔ فورم میں شریک ایک صاحب جو سابق سفیر تھے، نے اگرچہ کھل کر تو اسرائیل کو تسلیم کرنے کی حمایت نہ کی لیکن بین السطور موجودہ پالیسی پر عدمِ اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے نہایت جذباتی انداز میں یہ کہا: ''ہم نے ہمیشہ عربوں اور فلسطینیوں کی مدد کی ہے، عراق پر حملہ ہوا، لوگوں کے جذبات قابل دید تھے۔ مگر ہر روز کشمیر میں نوجوان اور مسلمان مارے جاتے ہیں،کبھی فلسطینی سڑکوں پر آئے؟ کبھی یاسرعرفات کے منہ سے ہندوستان کی مذمت سنی؟ پھر یہ کیسا یک طرفہ سلسلہ ہے؟''

ایک سابق سفیر صاحب کی طرف سے اس طرح کا جذباتی اظہار یقینا تعجب انگیز ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ ایسے انسان بھی معاملات کو ایسے محدود تناظر میں دیکھتے ہیں۔ موصوف نے عجیب منطق پیش کیا؛ کیا ہمیں وحشی اسرائیلی ریاست کو اس لئے تسلیم کرلینا چاہئے کہ فلسطینی مسلمان کشمیر کے بارے میں مظاہرے نہیں کرتے؟کیا ہمیںفلسطینی مسلمانوں پر ڈھانے جانے والے ناقابل بیان ظلم و ستم پر محض اس لئے زبانیں بند رکھنی چاہئیں کہ جناب یاسر عرفات (بقول ان کے) نے کبھی ہندوستان کی مذمت نہیں کی؟ یہ کتنا بودا استدلال ہے۔

کیا ہم محض اس وجہ سے مسلمان ہیں کہ عرب مسلمان ہیں۔ سفیر موصوف نے فلسطینی عوام کے جذبات کے متعلق بھی اپنی لاعلمی کو ظاہر کیا ہے۔ جناب یاسر عرفات بعض سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے اگر ایسا نہیں کرپائے تو کیا ہوا، حماس جو ۸۰ فیصد فلسطینیوں کی نمائندہ تنظیم ہے، نے ہمیشہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ ہمارا موقف تو یہ ہے کہ اگر حماس بھی یاسر عرفات کی پالیسی پر گامزن ہوجائے، تب بھی ہماری پالیسی وہ ہونی چاہئے جس کااظہار حکیم الامت علامہ اقبالؒ نے اس شعر میں کیا ہے ؎
اُخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں
ہندوستان کا ہر پیرو جواں بے تاب ہوجائے!

8. ۱۹۱۸ء میں فلسطین کی یہودی آبادی کی حیفا کے علاوہ کہیں اکثریت نہ تھی۔ ان کی زبان فلسطینیوں کی طرح عربی ہی تھی، بظاہر ان کا شامی عربوں سے کوئی جھگڑا بھی نہ تھا۔ صیہونی ریاست کی تحریک امریکہ (بالخصوص نیویارک)، برطانیہ، روس اور یورپ کے دیگر ممالک میں رہائش پذیر یہودیوں کی برپا کردہ تھی۔ یہ سلسلہ ابتدا میں مذہبی نہیں تھا بعد میں مذہبی ہوگیا، جب صہیونی انتہا پسندوں نے موعودہ ریاست کے تصور پرایک مذہبی یہودی ریاست قائم کرنا چاہی۔ یہاں یہ پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ جب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے استعماری طاقتوں کے زیراثر فلسطین کو تقسیم کردیا تو اسرائیل نے جو علاقہ فلسطین کی عرب ریاست کو دیا تھا اس کے ۲۱ فیصد علاقہ پربین الاقوامی قانون کے خلاف قبضہ کرلیا، کسی بھی استعماری قوت نے اسرائیل کی اس غنڈہ گردی پر اُسے نہ روکا، اصل میں یہ سب کچھ وہ ان کی شہ پرہی کررہا تھا۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق کوئی ملک کسی ملک کی زمین کو طاقت کی بنیاد پر قبضے بھی نہیں لے سکتا، مگر اسرائیل اس کی شرم ناک حد تک خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔ ۱۴؍ مئی ۱۹۴۸ء کو جو اسرائیلی ریاست وجود میں آئی، وہ اقوامِ متحدہ کی قرارداداروں کے مطابق نہیں تھی۔ اقوامِ متحدہ کی قرار داد کے تحت تو فلسطین میں دو ریاستیں وجود میں آنی تھیں، ایک عرب فلسطینی ریاست اور ایک یہودیوں کی فلسطینی ریاست،مگر جو صیہونی ریاست وجود میں آئے، اس نے عرب فلسطینی ریاست کے ۲۱ فیصد علاقے کو اپنے اندر ضم کرلیا۔ بعد میں ۱۹۶۷ء اور ۱۹۷۳ء کی عرب اسرائیل جنگوں میں دیگر علاقوں پر قبضہ کرلیا جن کا ذکر ہم کرچکے ہیں، جو لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بے ہودہ مہم چلائے ہوئے ہیں، انہیں اپنے ان نعروں کے مضمرات کا علم نہیں ہے۔ موجودہ صورتحال میں اگر اسرائیل کو تسلیم کرلیا جاتا ہے، تو اس کا مطلب سوائے ایک ایسی مثال قائم کرنے کے کچھ نہ ہوگا کہ دنیا کا کوئی بھی زور آور ملک کمزور ملک پرچڑھائی کرکے اس کے علاقے کو ہتھیا سکتا ہے۔ مزید برآں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد ہم اخلاقی اور سیاسی طور پر انڈیا سے کشمیر کو آزاد کرانے کی بات نہیں کرسکیں گے۔

9. اسلامی تاریخ سے واقفیت کی ان ملت فروشوں سے کیونکر توقع کی جائے، انہیں تو دورِ حاضر کی تاریخ سے بھی مَس نہیںہے۔ ان کی طبیعتوں میں یہودیت نوازی کا جوش جب زور مارتا ہے تو کہتے ہیں کہ پاکستان کی اسرائیل سے کیا لڑائی ہے؟ مگر وہ یہ نہیں سوچتے کہ آخر کچھ تو بات ہے کہ اسرائیلی قیادت پاکستان کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے ناپاک منصوبے بناتی رہی ہے، آخر اسرائیل بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے ایٹمی مرکز کہوٹہ کو تباہ کرنے کی مکروہ منصوبہ بندی کیوں کرتا رہا ہے، کشمیر میں اسرائیل بھارتی افواج کے ساتھ مل کر حریت پسندوں پر ظلم و ستم کیوں ڈھا رہا ہے؟ اگر کوئی 'لڑائی' نہیں ہے تو اسرائیل پاکستان کے خلاف ان ریشہ دوانیوں اورسازشوں میں ملوث کیوں ہے؟ کاش یہ لوگ مولویوں پر غصہ برسانے کی بجائے کبھی اسرائیلی قیادت سے بھی پوچھ لیتے کہ اسے پاکستان سے کیا تکلیف ہے؟

10. جو عاقبت نااندیش اسرائیل کو تسلیم کرنے کی 'بینڈویگن' پر سوار ہوگئے ہیں، ان کے ذہن میں نجانے اسرائیل کی کون سی جغرافیائی سرحدیں اور حدود اربعہ ہے۔ اسرائیل محض فلسطینی علاقوں پر غاصبانہ اور ناجائز قبضہ کرنے پر قانع نہیںہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں صیہونی عزائم پرمشتمل 'عظیم تر اسرائیل' کا نقشہ آویزاں ہے، اس میں اُردن، مصر، شام اور حجاز کے بعض علاقے بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کی عمارت کی پیشانی پر یہ الفاظ کندہ ہیں:

''اے اسرائیل! تیری حد یں نیل سے فرات تک ہیں...''

جو لوگ موجودہ غاصب اسرائیلی ریاست کو 'معروضی حقیقت' مان کر اسے تسلیم کرلینے کی بات کرتے ہیں، کیا وہ (خاکم بدہن) 'عظیم تر اسرائیل' کے وجود میں آنے کے بعد اسے ایک 'معروضی حقیقت' کے طور پر تسلیم کرلینے کے لئے ابھی سے ذہنی طور پر تیار ہیں؟ اگر نہیں، تو اس قدر بے اصولی بات کرتے ہوئے انہیںضمیر کی معمولی سی خلش بھی کیوں محسوس نہیںہوتی؟ مردہ ضمیر لوگوں کو ملت ِاسلامیہ کے اہم مسائل پررائے زنی کا کوئی حق نہیں ہے۔

11.اس وقت جب کہ اسرائیل اپنی ریاستی دہشت گردی کی انتہا کو چھو چکا ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں دس ہزار سے زائد فلسطینی مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ چکا ہے۔ آئے دن مسلمانوں کی آبادیاں ٹینکوں اور بلڈوزروں سے مسمار کی جارہی ہیں، جناب یاسر عرفات کے ہیڈ کوارٹر پروحشیانہ بمباری آئے روز کا معمول ہے اور اب تو ظلم و بربریت یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ کھلم کھلا اسرائیل اعلان کرچکا ہے کہ وہ جناب یاسر عرفات کو جان سے مار دے گا یا فلسطین بدر کردے گا۔

ان حالات میں فلسطینی مسلمانوں کی اخلاقی حمایت کی بجائے اُلٹا وحشی اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے کی بات کرنا کس قدر شقاوتِ قلبی ہے، کتنی انسانیت دشمنی ہے اور اخلاقی اصولوں سے کس قدر سنگین روگردانی ہے۔ اے کاش! یہ افراد اگر مصیبت کے وقت میں مسلمانوں کی مدد نہیں کرسکتے، کم از کم ان کی دل آزاری تو نہ کریں، ان کے زخموں پر نمک پاشی کا مکروہ فریضہ تو ادا نہ کریں...!!