تخلیق کائنات کے مقاصد کی حقیقت کے بارے میں اللہ جل جلالہ کا وعدہ ہے ﴿سَنُر‌يهِم ءايـٰتِنا فِى الءافاقِ وَفى أَنفُسِهِم حَتّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُم أَنَّهُ الحَقُّ...٥٣﴾... سورة فصلت''ہم انسانوں کو انفس وآفاق میں ایسی نشانیاں برابر دکھاتے رہیں گے، جو اللہ کے حق ہونے کو ثابت کریں گی۔'' جدید سائنس مشاہدے اور تجربے کے استعمال کا نام ہے، اس لئے اس کا دائرہ کار محدود ہے، تاہم حواس وعقل چونکہ انسانی صلاحیتیں ہیں اس لئے ان کے استعمال سے ایسی حقیقتیں واضح ہوتی رہتی ہیںـــ۔ زیر نظر مقالہ میں قرآنِ کریم سے بعض ایسے حقائق پیش کئے گئے ہیں، جو سائنسی علم سے قرآن کی صداقت کے لئے گواہی دیتے ہیں البتہ یہ واضح رہے کہ سائنس کا دائرہ محدود ہے او روہ بہر صورت انسانی کدوکاوش کی مرہونِ منت ہے، اس لئے جن چیزوں کو وہ حقائق کے طور پر سامنے لاتی ہے، ان کے بعض نمایاں پہلو قرآن کی تصدیق کے باوصف کئی اعتبار سے ناقص ہوتے ہیں یا کمزور، تاہم یہ جزوی تصدیق بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اہل علم کی شہادت کو انصاف کے قیام سے مشروط کیا ہے، ارشادہے ﴿شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلـٰهَ إِلّا هُوَ وَالمَلـٰئِكَةُ وَأُولُوا العِلمِ قائِمًا بِالقِسطِ...١٨﴾... سورة آل عمران''اہل علم در آں حالیکہ وہ انصاف کے ساتھ قائم ہوں۔'' سائنسی حقائق کے قرآن کی تصدیق کرنے کے اعتبار سے کوئی شک وشبہ نہیں ہونا چاہئے۔ اگر سائنسی علم صحیح ہو تو وہ لازماً وحی کی تصدیق ہی کرے گا، تاہم سائنسی علم کی صحت پر بھی قرآن مُہیمن(محافظ) ہے۔اس لئے اگر سائنسی تحقیقات جزوی یا کلی طور پر مستقبل میں بدل جائیں تو یہ سائنس کے ارتقا کی خوبی ہے،لیکن قرآنِ مجید میں یہی ارتقا قرآن کی تکذیب کا شبہ پیدا کرسکتا ہے۔ اس لئے قرآن کا مفہوم ازل سے ابد تک متعین ہے۔ اخبار وعقائد سے متعلقہ تعلیمات میں نام نہاد ارتقا کی یہاں کوئی گنجائش نہیں۔ پیش کردہ سائنسی حقائق کے بارے میں یہ اُصولی نکتہ پیش نظر رہے تاکہ عقیدہ میں استحکام رہے۔ بسااوقات مرعوب کن سائنسی انکشافات عقائد ِصحیحہ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ وہاں عقیدہ غیر متزلزل رہنا چاہئے اور سائنسی ارتقا کی تصدیق کا انتظار کرنا چاہئے۔اسی نکتہ کی روشنی میں زیر نظر مقالہ ہدیۂ قارئین ہے۔ (محدث)

اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء و رسل ؑ کو ان کے زمانی حالات اور ضرورت کے مطابق مختلف معجزات عطا فرمائے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے دور میں اگر جادوگروں کا زور تھا تو اللہ تعالیٰ نے آپ ؑ کو اسی مناسبت سے معجزات عطا فرمائے تاکہ آپ ؑ جادوگروں کو زیر کرسکیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے دور میں اگر علم طب عروج پر تھا تو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کو بھی ایسے معجزات عطا فرمائے کہ آپ ؑ اس و قت کے تمام حکیموں اور طبیبوں پر سکہ جما سکیں۔ چنانچہ آپ ؑ مادر زاد اندھوں اور کوڑھ کے مریضوں کو بحکم الٰہی تندرست فرما دیتے جب کہ کوئی اور حکیم یا طبیب اس کی قدرت نہیں رکھتا ہے۔ علیٰ ہذا القیاس دیگر انبیا کا بھی یہی معاملہ رہا ہے۔

البتہ نبی اکرم ﷺ چونکہ خاتم النّبیین ؐ(اللہ کے آخری نبی) ہونے کے ناطے قیامت تک کے لئے نبی و رسول ؐ بنا کر بھیجے گئے، اس لئے ضروری تھا کہ آپ کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعدبھی آپؐ کے معجزات قیامت تک کے لئے سامنے آتے رہتے۔ ویسے تو آپؐ کو اپنی زندگی ہی میں بہت سے معجزات (مثلاً شق قمر، اسراء و معراج وغیرہ) سے نوازا گیا تاہم اس کے علاوہ قرآنِ مجید اور احادیث میں بہت سے ایسے دعوے اور حقائق بھی پیش کئے گئے جنہیں اس دور میں محدود آلات اور معلومات کی بنا پر جاننا کسی کے لئے ممکن نہ تھا، آج کی محیر العقول ترقی میں جب بہت سے انکشافات ہوئے تو ان سے قرآن وحدیث کی حقانیت کا اٹل ثبوت میسر آیا کہ قرآن کریم نے انہیں کس طرح مکمل صورت میں آج سے صدیاں قبل پیش کیا تھا۔سردست انہی میں سے چند ایک ایسے حقائق کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے جنہیں سائنسی تحقیقات کے بعد دورِ حاضر میں مسلمہ طور پر تسلیم کرلیا گیا ہے جبکہ ۱۴۰۰ سال پہلے ہی قرآن و سنت میں ان کی نشاندہی کردی گئی تھی۔

1.علم جنین (الأجنۃ) اور تخلیقی مراحل و اطوار

انسانی بچے کی پیدائش اور اس کے مختلف مراحل کے حوالہ سے سائنس دانوں نے بیسویں صدی میں بہت سے حقائق دریافت کئے جن میں مزید پیش رفت تاحال جاری ہے۔ خلیہ (Cell)، جینز(Genes) اور ان سے متعلقہ معلومات کی فراہمی نے نہ صرف علم الاجنہ (Embryology) میں ایک بہت بڑا انقلاب برپا کیا بلکہ اس کے ساتھ تخلیقی مراحل کی بہت سی پیچیدگیوں اور مشکلات کو دور کرنے اور بانجھ پن کی مختلف صورتوں پر قابو پانے میں بھی مدد حاصل ہوئی۔ علم الاجنہ اور علم الطب سے متعلقہ کسی صورت کو زیر بحث لانا یہاں مقصود نہیں، تاہم علم الاجنہ کے حوالہ سے بیسویں صدی کی ان دریافتوں کی مناسبت سے ہم عرض کرنا چاہیں گے کہ قرآن و سنت نے چودہ سو سال پہلے ہی ان چیزوں کی نشاندہی کردی تھی۔ مثلاً :

1. قرآن مجید میں ہے کہ

﴿وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوجَينِ الذَّكَرَ‌ وَالأُنثىٰ ٤٥ مِن نُطفَةٍ إِذا تُمنىٰ ....٤٦﴾... سورة النجم

''اور بلا شبہ اللہ نے جوڑا یعنی نرومادّہ پیدا کیا ایک بوند سے جب کہ وہ ٹپکائی جاتی ہے۔''

اس آیت میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ نر یا مادّہ کی پیدائش کا انحصار نطفہ پر ہے۔ جدید سائنس بھی قرآن مجید کی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ انسانی پیدائش کا عمل نطفے سے شروع ہوتا ہے۔

2. اسی طرح قرآن مجید میں ہے کہ

﴿يَخلُقُكُم فى بُطونِ أُمَّهـٰتِكُم خَلقًا مِن بَعدِ خَلقٍ فى ظُلُمـٰتٍ ثَلـٰثٍ...٦﴾... سورة الزمر

''وہ (اللہ تعالیٰ) تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین تین تاریک پردوں کے اندر تمہیں ایک کے بعد ایک شکل پر تخلیق کرتا ہے۔''

یعنی اللہ تعالیٰ انسانی تخلیق کو رحم مادر میں مختلف مراحل و اطوار سے گزارتا ہے۔ یہ مراحل کتنے اور کون کون سے ہیں، اس کی تفصیل قرآن مجید نے اس طرح بیان فرمائی:

﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ إِن كُنتُم فى رَ‌يبٍ مِنَ البَعثِ فَإِنّا خَلَقنـٰكُم مِن تُر‌ابٍ ثُمَّ مِن نُطفَةٍ ثُمَّ مِن عَلَقَةٍ ثُمَّ مِن مُضغَةٍ مُخَلَّقَةٍ وَغَيرِ‌ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَيِّنَ لَكُم ۚ وَنُقِرُّ‌ فِى الأَر‌حامِ ما نَشاءُ إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ثُمَّ نُخرِ‌جُكُم طِفلًا ثُمَّ لِتَبلُغوا أَشُدَّكُم...٥﴾... سورة الحج

''اے لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اُٹھنے میں شک ہے تو سوچو کہ ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خونِ بستہ سے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو صورت دیا گیا تھا اور بے نقشہ تھا۔یہ تم پر ظاہر کردیتے ہیں اور ہم جسے چاہیں ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں۔ پھر تمہیں بچپن کی حالت میں دنیا میں لاتے ہیں تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو۔''

تخلیقی مراحل کو قرآنِ مجید ہی کے ایک اور مقام پر اس طرح بیان کیا گیا ہے :

﴿ثُمَّ جَعَلنـٰهُ نُطفَةً فى قَر‌ارٍ‌ مَكينٍ ١٣ ثُمَّ خَلَقنَا النُّطفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقنَا العَلَقَةَ مُضغَةً فَخَلَقنَا المُضغَةَ عِظـٰمًا فَكَسَونَا العِظـٰمَ لَحمًا ثُمَّ أَنشَأنـٰهُ خَلقًا ءاخَرَ‌ ۚ فَتَبارَ‌كَ اللَّهُ أَحسَنُ الخـٰلِقينَ ١٤﴾... سورة المؤمنون

''پھر ہم نے اسے نطفہ بنا کر محفوظ جگہ میں قرار دے دیا، پھر نطفہ کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا پھر اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا بنا دیا پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیوں میں بدل دیا پھر (ان) ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیا پھر ایک اور بناوٹ میںاسے پیدا کردیا۔ برکتوں والا ہے وہ اللہ جو سب سے بہترین پیداکرنے والا ہے۔''

یہی مراحل صحیح احادیث میں اس طرح بیان کئے گئے ہیں کہ نطفہ چالیس دن کے بعد عَلَقَۃ (یعنی گاڑھا خون) بن جاتا ہے پھر چالیس دن کے بعد یہ مُضْغَۃ (یعنی لوتھڑا یا گوشت کی بوٹی) کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ آتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے۔ یعنی چار مہینے کے بعد نفخ روح ہوتا ہے اور بچہ ایک واضح شکل میں ڈھل جاتا ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے:بخاری: کتاب الانبیااور مسلم: کتاب القدر، وغیرہ)

دورِ حاضر میں تخلیق کے مذکورہ مراحل سائنسی تحقیقات کے بعد متفقہ طور پر تسلیم کئے جاچکے ہیں۔ جبکہ ۱۴۰۰ سال پہلے جب اسلام نے ان مخفی اُمور کی نشاندہی کی تھی، اس وقت یہ معلومات کسی کے حاشیہ خیال میں بھی نہ تھیں۔

یہاں راقم بڑے عجز سے عرض کرنا چاہے گا کہ ۱۹۸۷ء میں جب رابطہ عالم اسلامی کی طرف سے اسلامی یونیورسٹی آف اسلام آباد میں الإعجاز العلمي في القرآن والسنة کے نام سے ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں 'علم الاجنہ' سے متعلقہ ایک کتاب "The Developing Human" خصوصی طور پر مندوبین میں تقسیم کی گئی اور اس کانفرنس میں علم الاجنہ اور دیگر سائنسی تحقیقات میں قرآن و سنت کے کردار سے متعلقہ مقالہ جات پیش کئے گئے تو راقم الحروف کے اس موضوع پر دو مقالے منظور ہوئے جبکہ پنجاب بھر سے کسی اور سائنسدان یا عالم دین کا کوئی ایسا مقالہ منظور نہ ہوا۔

2. پہاڑوں کو میخیں قرار دینا

قرآنِ مجید میں کئی ایک مقامات پر یہ بات بیان ہوئی کہ پہاڑ میخوں کی حیثیت سے زمین میں گاڑے گئے ہیں۔ بطورِ مثال چند آیات درج کی جاتی ہیں:

1. ﴿وَجَعَلنا فِى الأَر‌ضِ رَ‌و‌ٰسِىَ أَن تَميدَ بِهِم...٣١﴾... سورة الانبياء

''اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنا دیے تاکہ وہ (زمین) انہیں (مخلوق کو) لے کر ڈھلک نہ جائیں۔''

2. ﴿وَأَلقىٰ فِى الأَر‌ضِ رَ‌و‌ٰسِىَ أَن تَميدَ بِكُم...١٠﴾... سورة لقمان

''اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے تاکہ زمین تمہیں ہلا نہ سکے۔''

3. ﴿أَلَم نَجعَلِ الأَر‌ضَ مِهـٰدًا ٦ وَالجِبالَ أَوتادًا ٧﴾... سورة النباء

''کیا ایسا نہیں کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح (اس میں) گاڑ دیا ؟ ''

مذکورہ بالا آیات سے معلوم ہوا کہ زمین پر پہاڑوں کو نصب کرنے کا مقصد یہ تھا کہ زمین ڈھلکنے اور جھٹکے لگنے سے محفوظ رہے۔ اگرچہ نزولِ قرآن سے پہلے دنیا اس حقیقت سے ناواقف تھی، تاہم اب جدید سائنسی تحقیقات نے بھی قرآن مجید کی اس بات کی تائید کردی ہے۔

جدید علم طبقات الارض کے مطابق ''پہاڑ قشر زمین (Earth's Crust) بنانے والی عظیم پلیٹوں کی حرکت اور ان کی باہمی رگڑ اور مسلسل ٹکراؤ کے نتیجے میں تشکیل پاتے ہیں۔ جب دو پلیٹیں آپس میں متصادم ہوتی ہیں تو ان میں سے جو مضبوط تر ہوتی ہے، وہ دوسری کے نیچے گھس جاتی ہے اور اوپر والی خم کھا کر بلندی اختیار کرلیتی ہے، اسی طرح پہاڑ وجود میں آجاتا ہے ۔ جبکہ نیچے والی تہہ زمین کے نشیب میں زیریں جانب بڑھتی چلی جاتی ہے اس طرح ایک گہرائی عمل میں آنے لگتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہاڑوں کا ایک حصہ نیچے کی جانب بھی ہوتا ہے جو سطح زمین سے نظر آنے والے حصہ کے تقریباً مساوی ہوتا ہے۔ بالفاظِ دیگر پہاڑ سطح زمین کے نیچے اور اوپر سے آگے کی طرف بڑھتے ہوئے قشر ارض کی پلیٹوں کو آپس میں بھینچ دیتے ہیں جس سے زمین کی مضبوطی بڑھتی ہے۔ مختصر طور پر ہم پہاڑوں کو میخوں سے تشبیہ دے سکتے ہیں جو زمین کے مختلف حصوں کو اسی طرح جوڑتے ہیں جیسے میخیں لکڑی کے ٹکڑوں کو آپس میں جوڑتی ہیں۔'' (قرآن رہنمائے سائنس از ہارون یحییٰ، ص۱۲۲)

۱۹۸۷ء میں رابطہ عالم اسلامی کی طرف سے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی مذکورہ بالا بین الاقوامی کانفرنس میں ایک امریکی سائنسدان نے قرآن مجید کی ان چند (مذکورہ) آیات (جن میں پہاڑوں کو میخیں کہا گیا) کا ترجمہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ۱۰۰ سال پہلے تک سائنس دانوں کا یہی خیال تھا کہ پہاڑ ایسے ہی ٹیلے ہیں جیسے ریت کے ٹیلے بن جاتے ہیں یا قدرتی طور پر مسلسل آندھی و طوفان کے نتیجے میں کسی جگہ مٹی، ریت اور پتھروں کا ڈھیر لگ جاتا ہے مگر اب جدید تحقیقات سے معلوم ہوا کہ پہاڑ اگر ایک میل اونچا ہو تو اس کی جڑ کئی میل تک گہری ہوتی ہے۔ جس طرح میخ کا کچھ حصہ اوپر نظر آتا ہے جبکہ اس کا بڑا حصہ زمین میں ہوتا ہے۔

المختصر یہ کہ اس امریکی سائنس دان نے قرآن مجید کی ان آیات کو معجزاتی آیات قرار دیا کیونکہ ان آیات میں جن حقائق کو ۱۴۰۰ سال پہلے بیان کیا گیا ہے، سائنس دان ان حقائق تک پہنچنے میں اب کامیاب ہوئے ہیں۔

3.تخلیق کائنات کے سائنسی مشاہدے

تخلیق کائنات کے سلسلہ میں قرآن مجید ہمیں جن حقائق سے آگاہ کرتا ہے، ان کا تذکرہ مندرجہ آیات میں موجود ہے:

1. ﴿أَوَلَم يَرَ‌ الَّذينَ كَفَر‌وا أَنَّ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَر‌ضَ كانَتا رَ‌تقًا فَفَتَقنـٰهُما ۖ وَجَعَلنا مِنَ الماءِ كُلَّ شَىءٍ حَىٍّ ۖ أَفَلا يُؤمِنونَ ٣٠﴾... سورة الانبياء

''کیا کافر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان و زمین باہم ملے ہوئے تھے پھر ہم نے انہیں جدا کیا اور ہم نے پانی کے ساتھ ہر زندہ چیز کو پیدا کیا۔ کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے۔''

2. ﴿ثُمَّ استَوىٰ إِلَى السَّماءِ وَهِىَ دُخانٌ فَقالَ لَها وَلِلأَر‌ضِ ائتِيا طَوعًا أَو كَر‌هًا قالَتا أَتَينا طائِعينَ ١١﴾... سورة حم السجدة

''پھر (اللہ تعالیٰ) آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ (آسمان) دھواں سا تھا۔ پس اسے اور زمین سے (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا کہ تم دونوں خواہ خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے۔ ان دونوں نے کہا کہ ہم بخوشی حاضر ہیں۔''

3. ﴿وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ ٤٧﴾... سورة الذاريات

''آسمان کو ہم نے قوت سے بنایا اور یقینا ہم اس میں کشادگی کرنے والے ہیں۔''

مندرجہ بالا آیات میں سے پہلی آیت سے معلوم ہوا کہ آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے اور ایک دوسرے کے ساتھ پیوست تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو جدا جدا کردیا۔ اب یہی بات جدید سائنس بھی تسلیم کرچکی ہے کہ کرئہ ارض ایک خوفناک حادثے کے ساتھ وجود میں آئی اور اسی حادثہ عظیمہ کو بگ بینگ (Big Bang) یا 'انفجارِعظیم' بھی کہا جاتا ہے۔

دوسری آیت میں جس چیز کی نشاندہی کی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ شروع میں آسمان مکمل طور پر دھوئیں یا گیس کی شکل میں تھا جیسا کہ مشہور ایٹمی سائنسدان جارج گیمو لکھتا ہے کہ

''کائناتی مکان(فضا) کثیر توانائی والی گاما شعاعوں(High Enrgy Gama Radiation) سے پرتھا... لیکن اس میں موجود مادّہ کا وزن مخصوص زمین سے بالا تر فضا کی ہوا کے برابر ہماری کائنات کی تخلیقی تاریخ کے پہلے گھنٹے کے بعد کائنات میں ۳۰ ملین سال تک کوئی خاص واقعہ نہیں ہوا۔ (اسی زمانے کے متعلق قرآن نے کہا کہ تمام آسمان دھوئیں یا گیس کی شکل میں تھا)

یہی مصنف مزید لکھتا ہے کہ ''بنیادی چیز جس سے کائنات بنی، وہ ہائیڈروجن گیس تھی۔'' (The Creation of the Universe, p.135)

تیسری آیت میں یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ کائنات میں مسلسل توسیع کا عمل جاری ہے اور اکثر سائنس دان بھی اس کی تائید کرتے ہوئے اس بات کوتسلیم کرچکے ہیں کہ ہرآن یہ کائنات پھیلتی اور وسیع ہوتی جارہی ہے۔ ہارون یحییٰ اپنی تصنیف 'قرآن رہنماے سائنس' میں لکھتے ہیں کہ

''۲۰ ویں صدی کی آمد تک دنیاے سائنس میں ایک ہی نظریہ مروّج تھا کہ کائنات بالکل غیر متغیراورمستقل نوعیت رکھتی ہے اور لامتناہی عرصہ سے ایسی ہی چلی آرہی ہے۔ تاہم تحقیق ومشاہدہ اور ریاضیاتی جانچ پڑتال جو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جاری تھی، اس سے انکشاف ہواکہ اس کائنات کا ایک نکتہ آغاز بھی تھا اور اس وقت سے یہ مسلسل پھیل رہی ہے۔ ۲۰ صدی کے شروع میں روسی ماہر طبیعیات الیگزنڈرفرائیڈمین اور بلجیم کے ماہر علم تکوین عالم (Cosmologist) جارجز لیمیٹر کے جمع کردہ نظری حساب کتاب سے یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ کائنات مسلسل حرکت کررہی ہے اور وسیع سے وسیع تر ہورہی ہے۔ اس انکشاف کی ۱۹۲۹ء کے مشاہدات سے تصدیق ہوگئی۔ امریکی ماہر فلکیات ایڈوین ہبل نے اپنی دوربین سے آسمان کا مشاہدہ کرنے کے بعد انکشاف کیا کہ ستارے اور کہکشائیں ایک دوسری سے مسلسل دور ہٹ رہی ہیں۔ ایک ایسی کائنات جس میں ہرچیز، دوسری چیز سے پرے ہٹتی جارہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلسل پھیل رہی ہے۔ بعد کے برسوں کی تحقیق بھی اس مشاہدے کی تصدیق کرتی رہی ہے۔ قرآنِ مجید نے یہ حقیقت اس وقت بیان کردی تھی کہ جب کسی کو اس کا وہم و گمان تک نہ تھا۔ یہ اس لئے کہ قرآن اس خدا کا کلام ہے جو پوری کائنات کا خالق ومالک اور حکمرانِ حقیقی ہے۔'' (ص۱۱۰،۱۱۱)

4. بشرطِ صحت آسمان اور زمین کے گول ہونے کا ثبوت

اگرچہ جدید سائنس نے تحقیقی و سائنسی مشاہدات کے بعد یہ بات تسلیم کی ہے کہ آسمان اور زمین گول ہے جبکہ قرآنِ مجید نے ۱۴۰۰ سال پہلے ہی اس حقیقت کا انکشاف کردیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ مسلم سائنسدانوں کا شروع سے یہ موقف رہا کہ زمین گول ہے ۔ اس سلسلہ میں دین اسلام نے ۱۴۰۰ سال پہلے کیا نشاندہی کی تھی، اس کا تذکرہ ہم آٹھویں صدی ہجری کے عظیم مجتہد یعنی شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے فتاویٰ کی روشنی میںکریں گے۔ شیخ الاسلام نے اس موضوع پر اپنے فتاویٰ میں جابجا بحث کی ہے۔ چنانچہ مجموع الفتاویٰ کی چھٹی جلدمیں ایسے ہی ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شیخ رقم طراز ہیں کہ

''السموٰات مستدیرة عند علماء المسلمین وقد حکي إجماع المسلمین علی ذلك غیر واحد من العلماء أئمة الإسلام: مثل أبی الحسین أحمد بن جعفر بن المناوي أحد الأعیان الکبار من الطبقة الثانیة من أصحاب الإمام أحمد وله نحو أربع مائة مصنف وحکی الإجماع علی ذلك الإمام أبو محمد بن حزم وأبوالفرج بن الجوزي وروی العلماء ذلك بالأسانید المعروفة عن الصحابة والتابعین وذکروا ذلك من کتاب اﷲ وسنة رسوله وبسطوا القول في ذلك بالدلائل السمعیة وإن کان قد أقیم علی ذلك أیضا دلائل حسابیة... '' (مجموع الفتاویٰ، ج۶؍ص:۵۸۶)

''مسلمان اہل علم کا موقف یہ ہے کہ آسمان گول ہیں اور بہت سے کبار علماے مسلمین نے اس بات پرمسلمانوں کا اجماع و اتفاق نقل کیا ہے۔ مثلاً احمد بن جعفر بن المناوی جو امام احمد کے اصحاب میں سے طبقہ ثانیہ کے کبیرعالم خیال کئے جاتے ہیں اور وہ تقریبا ۴۰۰ کتب کے مصنف بھی ہیں، نے اسی طرح ابن حزم اور ابن جوزی نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ اہل علم نے اس سلسلہ میں اپنی معروف اسناد کے ساتھ یہ بات صحابہ کرام اور تابعین عظام سے بھی ثابت کی ہے اور کتاب و سنت سے بھی اس کے دلائل فراہم کئے ہیں۔ اس مسئلے پر اہل علم نے نہ صرف دلائل نقلیہ سے استشہاد کیاہے بلکہ دلائل عقلیہ سے بھی اسے ثابت کیاہے۔''

اس کے بعد شیخ الاسلام قرآن و سنت کے چند نصوص سے استشہاد کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ

﴿وَهُوَ الَّذى خَلَقَ الَّيلَ وَالنَّهارَ‌ وَالشَّمسَ وَالقَمَرَ‌ ۖ كُلٌّ فى فَلَكٍ يَسبَحونَ ﴿٣٣﴾... سورة الانبياء

''اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند کوپیدا کیا اور یہ سب اپنے اپنے فلک (مدار) میں محو ِگردش ہیں۔''

سلف صالحین میں سے حضرت ابن عباسؓ وغیرہ فرماتے ہیں کہ

''فلک چرخ کے کتلہ کے محور کی طرح گول ہوتاہے اور یہ (آسمان و زمین کے) گول ہونے کی صریح دلیل ہے اور ویسے بھی لغت میں ہر گول چیز کے لئے لفظ فلک استعمال کیا جاتاہے۔'' (مجموع فتاویٰ،ج۶، ص۵۸۷)

شیخ الاسلام ایک اور مقام پر رقم طراز ہیں کہ

اعلم أن الأرض قد اتفقوا علی أنھا کرویة الشکل وھي في الماء المحیط بأکثرھا'' (ایضاً، ص۵؍۱۵۰) ''واضح رہے کہ اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زمین کی شکل گولائی نما ہے اور زمین کا اکثر حصہ پانی پرمشتمل ہے۔''

ا س پر مزید بحث شیخ الاسلام نے مجموع الفتاویٰ کی ۲۵ ویں جلد (ص۱۹۵) میں بھی کی ہے۔ مزید تفصیل کے لئے مجموعہ فتاویٰ کے مذکورہ اجزا ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ [تہذیب واضافہ: حافظ مبشر حسین لاہوری]