ڈاکٹر مہاتیر محمد اسلامی ملک ملائشیا کے صرف ہردلعزیزحکمران ہی نہیں بلکہ کئی کتب کے مصنف ایسے عظیم عالمی مفکر بھی ہیں جن سے دورِ حاضر کا مالی استعمار اور مغرب شدید خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے قیام اور فعالیت کے بعد 'گلوبلائزیشن' کے نعرے تلے ۱۹۹۶ء میں ملائشیا سمیت متعدد ایشیائی ممالک کو جس معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا، اس میں جناب مہاتیر محمد نے صرف اپنے ملک کی ولولہ انگیز قیادت کی بلکہ مغرب کے استعماری نظریات پر بھی شدید مفکرانہ چوٹ کی۔

زیر نظر انگریزی تحریر آپ کی معروف کتاب A New Deal for Asia کا ایک باب ہے جس میں انہوں نے مغربی اور ایشیائی اقدار کا ایک تقابل پیش کرکے مغرب کو ایشیائی اقدار اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے مغرب سے اپنی مستقل اقدار اپنانے کا حق منوانے کے علاوہ ان کی معاشرتی اقدار پر شدید تنقیدبھی کی ہے۔اس مضمون کے مطالعے کے دوران آپ کو بھی ایشیائی اقدار کی برتری واضح طور پر محسوس ہوگی، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی محسوس ہوگا کہ ہم لوگ ذہنی طور پر اچھی باتوں کو تسلیم کرنے کے باوجود اپنے عمل سے اس کی تائید کرنے پر قدرت نہیں رکھتے۔ فکر وعمل کی ہماری یہ منافقت ہی ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے۔ جبکہ مغرب باوجود کمتر معاشرتی اقدار اور فکر پر عمل پیرا ہونے کے بڑی یکسوئی سے ان کے حصو ل کیلئے یکسو ہے!!

موجودہ دور میں تہذیبیں مضبوط اقتصادیات وتمدن سے ہی پہچانی چاتی ہیں۔ ایشیا کے وہ ممالک جو مضبوط اقتصادی حیثیت رکھتے ہیں مثلاً چین، جاپان، ملائشیا اور کوریا وغیرہ؛ مغربی ممالک میں ایشیا کا تعارف یہی تہذیبیں ہیں۔ملائشیا کے معاشی بحران اور اسی تہذیبی تناظر میں چونکہ یہ کتاب لکھی گئی ہے، اس لئے اسلام کا حوالہ اس مضمون میں نہیں ملتا، اس کے باوجود اہل علم کے لئے اس میں سمجھنے کا بہت ساما ن ہے۔ (ح م)

ایشیائی اَقدار

میں اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہوں کہ مغربی ذرائع ابلاغ اکثر مجھے ایک ایسے لیڈر کے طور پر پیش کرتے ہیں جو کہ متکبر اور ایشیائی اقدار کا علمبردار ہے اور جب میں نے ایشیا میں اُبھرنے والی نئی صنعتی اقوام کے مابین پائی جانے والی چند مشترکہ اَقدار کی طرف اشارہ کیا تو میرے ان خیالات کو ایک نئے انداز کی خطرناک ایشیائی جارحیت اور خودپسندی کا نام دیا گیا۔

مغرب میں بسنے والے بہت سے لوگوں کے خیال میں مغربی اَقدار کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی شرط ہیں۔ مغرب میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ایشیائی اقدار کے چمپئن اپنے استبداد، ڈکٹیٹر شپ اور دیگر غیر جمہوری رویوں کو 'ایشیائی اقدار' کے نام پر درست ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اس تعصب کی بنیادی وجہ شاید یہ ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ اور لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ دنیا میں صرف اَقدار کا ایک ہی مؤثر نظام موجود ہے جوکہ مغربی اقدار کا نظام ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ اور وہاں کے صاحب رائے لیڈر شاید یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ دنیا میں بہت سے مختلف نظام ہائے اَقدار پہلو بہ پہلو باہمی بھائی چارے کی فضا میں زندہ رہ سکتے ہیں۔

آج (ملائشیا کے) معاشی بحران کے بعد ایشیائی ترقی کا خواب چکنا چور ہوچکا ہے، تو ایسی صورتِ حال میں اس انداز میں سوچنے والے لوگوں کے لئے ایک انجانی خوشی کا باعث ہوسکتا ہے کیونکہ ایشیائی اقدار نے ان کے لئے جو ممکنہ خطرات پیدا کررکھے تھے، وہ اس بحران کے ریلے کی نذر ہوچکے ہیں۔ میں اس انجانی خوشی کی بازگشت محسوس کررہا ہوں۔

میں نے کبھی بھی اس خیال کو ہوا نہیں دی کہ دنیا میں صرف ہمارے پاس ہی بہتر اقدار کا نظام ہے اور نہ ہی اس خیال کی ترویج کی ہے کہ ایشیائی اقدار باقی دنیا میں پائی جانے والی تمام اقدار کو زیر کرلیں گی۔ میں جب ایشیائی اقدار کی وکالت کرتا ہوں تو اس سے میری مراد ہر گز یہ نہیں ہوتی کہ مغربی اقدار برائیوں کا منبع ہیں۔ ان کی حیثیت اپنے ماحول میں مسلمہ ہے کیونکہ ہم سب لوگ ایک پیچیدہ دنیا کا حصہ ہیں۔ میں اس حقیقت سے ہرگز گریزاں نہیں ہوں کہ چند ایک انفرادی اَقدار ایسی ضرور ہوتی ہیں جو کہ کسی بھی معاشرے کا بنیادی اور لازمی جزو ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی چند ایک قدرتی تفرقات بھی پائے جاتے ہیں جو دراصل کسی بھی سوسائٹی کی انفرادیت کو برقرار رکھتے ہیں۔ یہ وہ لفظ ہے، جس پر ہمیں تنگ نظری سے نہیں سوچنا چاہئے کیونکہ بہت سی ایسی اقدار اَقوام عالم میں پائی جاتی ہیں جوکہ بے شک مغربی اقدار سے کسی بھی سطح پرکوئی تال میل نہیں رکھتیں مگر پھر بھی اپنے انفرادی معاشروں کے لحاظ سے ان کی ایک خاص اہمیت بنتی ہے۔

سامراجی دور میں ایشیائی لوگوں کو شدت سے یہ احساس دلایا گیا کہ ان کی معاشرتی اقدار اور طریقہ کار مغرب کے مقابلہ میں نہایت پست ہیں مگر اس کے برعکس ایشیائی ترقی نے ہمیں اس احساس کا اِدراک دیا کہ ہماری قدریں مغرب کے مقابلے میں کسی طرح بھی کم نہیں ہیں بلکہ چند ایک مخصوص صورتوں میں تو ہمیں ان پرسبقت بھی حاصل ہے۔ اسی انداز میںسوچتے ہوئے جب سے ایشیائی لوگوں نے ذہنی غلامی کا طوق اُتارا ہے، تب سے ہی وہ قدرتی طور پر مغربی خیالات کے خلاف زیادہ مدافعت کرنے لگے ہیں۔

اب تو یہاں تک صورتحال پہنچ چکی ہے کہ ہم میں سے چند ایک تو مغرب کو منہ توڑ جواب بھی دینے لگے ہیں اور ان کے اس فعل کے پیچھے یہ استدلال ہوتا ہے کہ ایشیائی اقدار مغربی اقدار سے بہتر اور زیادہ مؤثر ہیں۔ شاید ہماری اس ذہنی تبدیلی نے مغرب میں پہلے سے کہیں زیادہ اضطراب پیدا کردیا ہے لیکن میں خیال کرتا ہوں کہ یہ ایک مثبت بحث کا آغاز ہے۔ جس کا ہم سب کو بڑی مدت سے انتظار تھا جو کہ ایشیا میں آنے والے اس عارضی بحران سے نہیں دَب سکتی۔ جبکہ اس کے برعکس آج کے حالات یہ تقاضا کرنے لگے ہیں کہ ہم کل کی نسبت زیادہ بھرپور انداز میں اخلاقی اور انسانی اقدار کا آج کے کیپٹل سسٹم کی خالص معاشی اور مادّی اقدار سے تقابلی جائزہ لیں۔

ایشیائی اقدار کا نظام کس ضابطہ حیات کی حمایت کرتا ہے؟

یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ وہ کون سی ایشیائی اقدار ہیں جو مغرب میں ایک بڑی بحث کے آغاز کا باعث بنیں؟ ایشیا امریکہ اور یورپ کے مقابلے میں کہیں بڑا براعظم ہے اور ہمارے ہاں پائی جانے والے بہت سے عمومی خیالات اپنے اندر ایک خاص طرز کی خصوصیت رکھتے ہیں۔ جس کے ساتھ ہی مختلف ایشیائی اقوام اپنا اپنا خاص اور تاریخی اور مذہبی منظر رکھتی ہیں۔ ملائشیا ایک اسلامی ملک ہے۔ جاپان اور ساؤتھ کوریا میںزیادہ تر لوگ کنفیوشس(Confucian) ہیں یا شنٹو(Shinto) اور بدھ جبکہ تھائی لینڈ میں ہیایانا بدھ (Hiayana Bodh)۔ اس قسم کے واضح فرق کے باوجود ایشیائی لوگوں میں بہت سی مشترکہ خصوصیات پائی جاتی ہیں اور ان مشترکہ خصوصیات کی بنا پر ہی وہ 'ایشیائی' کہلاتے ہیں جس طرح کہ مغرب کے لئے ویسٹرن(Western) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

1. فرد کی بجائے 'اجتماع' کو برتری: سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ایشیائی اقدار میں بنیادی اہمیت بالترتیب خاندان اور کمیونٹی کوحاصل ہے۔ ہم لوگ زیادہ زور کسی خاندان یا کمیونٹی کے حقوق کی پاسداری پر دیتے ہیں۔ کبھی بھی فردِ واحد کے حقوق کو خاندان یا کمیونٹی کے حقوق پر ترجیح نہیں دی جاتی۔ ہم اس بات کو یوں لیتے ہیں کہ فردِ واحد کے ذمہ پہلے وہ فرائض ہوتے ہیںجو کہ اس پر کمیونٹی یا خاندان کی طرف سے واجب الادا ہیں۔ اس کے بعد اس کے حقوق آتے ہیں جو کہ قدرتی طور پر اس وقت اُسے ملنے لگتے ہیں جب وہ اپنے فرائض ادا کرنے لگتا ہے۔ جبکہ مغرب میں فرد کے حقوق کو ہر چیز پر ترجیح دی جاتی ہے۔

2. بااختیار کی اطاعت: اس کے بعد ایشیائی اقدار میں بااختیار کی اطاعت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ بااختیار سے ہماری مراد سوسائٹی کو متوازن رکھنے کی ضمانت سے ہے۔ کیونکہ اختیار کے توازن کی عدم موجودگی میں اختیار کی تعظیم پر یقین نہ رکھا جائے تو چاہے مغربی معاشروں کی طرح فردِ واحد کے حقوق کا جتنا بھی واویلا کیا جاتا رہے، ایسا معاشرہ بدنظمی کا شکار ہوجاتا ہے ۔

اس کے معنی ہرگز یہ نہیں ہیں کہ ہر قسم کے اختیار کو ہمیشہ تسلیم کرلیا جاناچاہئے اور نہ ہی یہاں اس سے میری مراد ڈکٹیٹر شپ سے ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہکرؔ اور پول پوٹ جیسے مطلق العنان حکمرانوں کے پاس بے حد اختیارات تھے جبکہ ایسے اختیارات ہمیشہ عوام الناس کے لئے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ کیونکہ ایسی حکومتیں خوف و ہراس اور اندھی تقلید کی بنیاد پر چلائی جاتی ہیں۔ میں جمہوریت پر پختہ یقین رکھتا ہوں، کیونکہ جمہوریت ہی ایسا طریقہ کار ہے، جس کے ذریعے بغیر کشت و خون کے اقتدار میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔اسی لئے کسی بھی عظیم تر جمہوری معاشرہ کے شہریوں کو ریاست کی حکومت کو عزت کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی فردِ واحد کے حقوق اور سوسائٹی کی جانب واجب الادا فرائض کے درمیان پائے جانے والے صحت مند توازن کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

اختیار کے کردار اور اس کے ناجائز استعمال کو جاننے کے لئے بچے اور والدین کے رشتے کا استعارہ ایک خوبصورت مثال ہے۔ میں یہاں اس بات کا اضافہ کرنا چاہوں گا کہ کسی بھی بچے پر اپنے والدین کی تعظیم فرض ہوتی ہے مگر ایسا ہر صورت میں نہیں کیاجاسکتا۔ جس سے یہ بات واضح طور پر سمجھ آتی ہے کہ طاقت اور اختیارات کا ناجائز استعمال کسی بھی حالت یا صورت میں قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ ایسی بہت سی مثالیں ہمارے مشاہدے میں آتی ہیں کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں یہاں تک کہ ان پر جنسی تشدد بھی کیا جاتا ہے۔

طاقت یا اختیار کا ایسا استعمال کسی بھی انداز سے درست تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ بہتر اختیارات ایک دو طرفہ ٹریفک کا نام ہے۔ جس میں ایک طرف لیڈر اور اس کی ٹیم جبکہ دوسری طرف ریاست کے شہری اس انداز میں چلتے ہیں کہ دونوں اطراف کے حقوق و فرائض میں ایک صحت مند توازن قائم رہے۔

اب یہاں قاری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوگاکہ اچھے اور برے اختیارات میں کس طور تمیز کی جاسکتی ہے۔ میرے خیال میں عام طور پرشہری بڑی آسانی سے یہ اندازہ لگا لیتے ہیں کہ حکمران کس انداز میں اختیارات کااستعمال کررہے ہیں کیونکہ کوئی بھی ایسی حکومت جو اپنے پروگرام کے مطابق کام کرتے ہوئے لوگوں کے لئے خوشحالی کے مواقع پیدا کررہی ہو اور عام طور پر عوام سے بدسلوکی روا نہ رکھے تو یہ بات بڑے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ حکومت اپنے اختیارات اچھے طریقے سے استعمال کررہی ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی حکومت بدعنوان ہوگی تو یقینا اس کا طرزِ حکومت غیر مؤثر ہوگا اور وہ اپنے شہریوں پرناجائز دباؤ ڈالے گی تو وہ جان لیں گے کہ اختیارات ان کے خلاف استعمال کئے جارہے ہیں اور یوں ایسی حکومت کے خلاف عوامی بغاوت کی راہ ہموار ہوتی چلی جائے گی۔ یہ ایک قدرتی امر ہے کہ کوئی بھی اختیارات کی غیر مشروط اطاعت نہیں کیا کرتا۔ اس لئے اختیارات کو مؤثر بنانے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ان میں ایسی خصوصیات پیدا کی جائیں جو لوگوں کے لئے دلکشی کا باعث ہوں۔

تاریخ میں ایسے واقعات جابجا ملتے ہیں جہاں کہیں بھی اختیارات کو عوام الناس کے خلاف استعمال کیا گیا، وہاں ایسے عوامی لیڈر پیدا ہوئے جنہوں نے لوگوں میں سول نافرمانی کے ذریعے ان اختیارات کے خلاف اپنی آواز بلند کرنے کا شعور بیدار کیا۔ گذشتہ ایک صدی میں ایسے دو لیڈر مارٹن لوتھرکنگ جونیئر جو کہ امریکہ میں 'سول رائیٹس موومنٹ' کا بانی تھا اور مہاتما گاندھی کی صورت میں نظر آتی ہیں۔ گاندھی نے قابل ستائش انداز میں عدمِ تشدد کی بنیاد پر سول نافرمانی کے طریقہ کار پرعمل کرتے ہوئے یہ بات ثابت کی کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف کس طرح ایک مؤثر جنگ لڑی جاسکتی ہے۔ اس بات سے مجھے اپنا طالب علمی کا وہ زمانہ یاد آجاتا ہے جب میں اور میرے ساتھی جس انداز میں دوسری جنگ ِعظیم کے دوران برٹش سامراج کے ملائین یونین پلان کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔

3. آزادی:جب کبھی بھی مشرقی اور مغربی اقدار کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو لفظ 'آزادی' کی تشریح اور خاص طور پر آزادیٔ صحافت کے سوال پر ایک بالکل نئی بحث کا آغاز ہوتا ہے ۔ مجھے عام طور پر آزادیٔ صحافت کا مخالف کہا جاتا ہے یا مجھے آزادیٔ صحافت اور آزادیٔ تحریر وتقریر سے منحرف شخص کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ اُصولی طور پر میں آزادیٔ صحافت کا قائل ہوں، لیکن اس وقت کیا کیا جانا چاہئے جب کسی صحافی کی آزادیٔ تحریرسے بہت سے لوگوں کے حقوق مجروح ہورہے ہوں؟ اگر کوئی شخص کوئی ایسی بات چھاپ دے جس کا خمیازہ لاکھوں لوگوں کو بھگتنا پڑے اور اگر یہی آزادی صحافت تفرقہ بازی اور نفرت کو ہوا دینے لگے تو میں سمجھتا ہوں کہ ایسی صورت میں اس انداز کی آزادی صحافت کو ضرور لگام دینی چاہئے۔

میں آزادیٔ صحافت سے اتفاق کرتا ہوں لیکن اس وقت جب تک یہ دوستوں کی آزادی، عزت یا مال کے لئے کوئی خطرہ نہ پیدا کررہی ہو۔ مثال کے طور پرملائشیا ایک ایسا ملک ہے۔جہاں بہت سی نسلوں کے لوگ آباد ہیں تو یہ بڑی آسان بات ہے کہ یہاں نسلی امتیاز کو ہوا دے کر نسلی فسادات شروع کروا دیے جائیں۔ درحقیقت مغربی ذرائع ابلاغ ہمارے خلاف ایسے ہی حربے استعمال کرتے رہے ہیں۔ اگر ایسی رپورٹنگ کی جائے جس کی بنیاد ناقص معلومات پر ہو تو کسی بھی کمیونٹی میں شدید کشیدگی پیدا کی جاسکتی ہے اور پھر اگر ایسی کسی صورت حال میں فسادات شرو ع ہوجائیں تو کوئی بھی خوشحال سوسائٹی دنوں میں بدحال ہوسکتی ہے کیونکہ ایسی صورتِ حال میں کاروبار ٹھپ ہوجاتے ہیں جس سے لوگوں کے روزگار کو شدید دھچکا لگتا ہے تو پھر ایسی آزادیٔ صحافت کو مخصوص حدود میں رکھنا کوئی بے جا بات نہیں لگتی۔

میں یہ بڑی اچھی طرح جانتا ہوں کہ میرے یہ خیالات مغرب میں پائے جانے والی روایات کے منافی ہیں کیونکہ وہاں پبلشر حضرات اکثر یہ کہتے ہیں کہ ان کی خبروں کے نتیجے میں جوکچھ بھی ہوا، اس کے وہ ذمہ دار نہیںہیں۔ یہ سب اس لئے چھاپتے ہیں کہ لوگ یہ سب جاننا چاہتے ہیں۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگ کیا جاننا چاہتے ہیں؟ کیا لوگ کوئی ایسی بات جاننا چاہتے ہیں جس کو جان لینے کے بعد وہ تمام لوگوں سے کشیدہ خاطر ہوجائیں۔ جن کے ساتھ وہ ایک لمبے عرصے سے ایک پُرامن فضا میں رہ رہے ہیں۔ میںتو ایسے علم پر جو ہمیں ایک دوسرے کا دشمن بنادے، جہالت کو ترجیح دوں گا۔

بے شک اوپرجو مثال میں نے دی ہے۔ وہ انتہائی درجے کی ہے لیکن میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ بے لگام صحافت کس حد تک مسائل کو پیچیدہ کرسکتی ہے اور اس سے معاشرہ میں مختلف سطح پر بسنے والے لوگوں کے درمیان پائے جانے والے حقوق و فرائض پر ایک طویل اور لاحاصل بحث کا آغاز ہوتا ہے۔

4. آزاد اور تخلیقی صلاحیت: امریکی خاص طور پر امن و استحکام کے داعی ہیں کہ مکمل آزادی، اِفرادی قوت میں تخلیقی صلاحیت اور ذہانت کو اُبھارنے میں اہم کردار اداکرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ایسے ممالک پر نظر ڈالی جائے جہاں بڑے پیمانے پر آزادی پائی جاتی ہے جیسا کہ امریکہ میں (مائکروسافٹ کمپنی کا مالک) بل گیٹس جیسے افراد دکھائی دیتے ہیں یا بلندپایہ عالم، موسیقار، کمپوزر اور بے شمار ایسے لوگ جنہیں نوبل پرائز سے نوازا گیا ہے جو کہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس طرز کی آزادی میں اس قسم کے لوگوں کا فقدان ہوتا ہے جیساکہ جاپان، چین اور دیگر ایشیائی ممالک میں ایسے باصلاحیت لوگ کم پیدا ہوتے ہیں۔

اس دلیل کو ایک معیار کے طور پر پیش کیا جاتاہے۔ بے شک کہ یہ بات کسی حد تک درست ہے لیکن یہاں ایک اہم تقاضے کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے کہ آزادی کی اصل اَساس کیا ہوتی ہے؟ کسی بھی ملک کی کاروباری فضا کے لئے آزادی ایک بنیادی شرط ہوتی ہے تو پھر کیا یہ ضروری نہیں ہے کہ اس آزادی کی بھی حدود طے کی جانی چاہئیں؟

اس کے علاوہ فرد کی انفرادی آزادی سے کیا ہمیں یہ مراد لینا چاہئے کہ جو اس کے من میں آئے وہ کرسکتا ہے اور ایساکرنے سے باقی سوسائٹی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سے اسے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے؟ میںیقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ایسی کوئی بھی آزادی دنیاکے کسی بھی خطے میں پائی جاتی ہے یہاںتک کہ امریکہ میں بھی ۔ یہ بات بھی کسی سے نہیں چھپی ہوئی کہ بل گیٹس کی کاروباری آزادی پربہت سے اعتراضات کئے گئے ہیں۔ چاہے وہ قانونی طور پر جائز تھے یا نہیں؟ اگر آپ مکمل آزادی کے حامی ہوں تو آپ یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ بل گیٹس نے جو کچھ بھی حاصل کیا ہے ، وہ اس کی تخلیقی صلاحیتوں کا ثمر ہے۔ تو پھر کیا یہ اس کاحق نہیں بنتا کہ وہ کمزور مدمقابل کو نکال کر پوری مارکیٹ پر بلاشرکت غیرے قبضہ جمالے۔ کیا کسی بھی لبرل سوسائٹی میں رہتے ہوئے جو کہ فری مارکیٹ اکانومی کا حصہ ہو، وہاں بل گیٹس جیسے کسی بھی کاروباری کے ایسے حق کو چھیننا جائز قرار دیاجاسکتا ہے۔

کبھی ایسا ہوتاہے کہ کسی فردِ واحد کے بنیادی حقوق بہت سے دوسرے لوگوں کے حقوق کو دبانے کاباعث بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر موسم سرما میں برطانوی کوئلے کے کان کن ہڑتال کردیں جیسا کہ مارگریٹ تھیچر سے پہلے کامعمول ہوا کرتا تھا تو لوگوں کی ایک کثیر تعداد انگلستان میں ایندھن کی کمی کا شکار ہوجائے گی۔ جس سے بیمار، بچے اور عمر رسیدہ لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ بھی ہوسکتا ہے اور اسی طرح جب نرسیں اور ڈاکٹر حضرات ہڑتال پر جاتے ہیں تو اس سے بہت سے مریضوں کو نقصان پہنچتا ہے اور یا جب کاروںکا انجن بنانے والی فیکٹریوں کے ملازم ہڑتال کرتے ہیں تو بہت سی چھوٹی فیکٹریوں کے ملازمین بھی بے روز گار ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ مزدوروں کو یہ حق اپنے حقوق بچانے کے لئے دیا گیا ہے لیکن یہ عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ جب وہ اپنے اس حق کا استعمال کرتے ہیں توبہت سے بے قصور لوگوں کو ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

۱۹۸۰ء میں امریکہ کی ایک شہری آبادی میں جہاں درمیانے طبقے کے لوگ آباد تھے کسی سرمایہ دار نے سینما بنایا جس میں فحش فلمیں دکھائی جانے لگیں تو وہاں کے لوگوں نے اس خیال سے کہ یہ چیز ان کے نوجوان بچوں پر برا اثر ڈالے گی عدالت سے اس سینما ہال کوبند کرنے کی درخواست کی۔ جس کے جواب میں عدالت نے فیصلہ دیا کہ سینما کے مالک کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے سینما میں جس طرح کی چاہے، فلمیں چلا سکتا ہے۔ اس طرح ایک کمیونٹی کو اپنے بچوں کو غیر اخلاقی فلموں کے شر سے محفوظ رکھنے کے حق سے محروم کردیا گیا !!

اس قسم کی مثالوں پر غور کرنے سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ فردِ واحد کی انفرادی آزادی کے حق کو جب اس درجہ جگہ دے دی جائے تووہ کس انداز میں ایک بہت بڑے گروہ کے مشترکہ حقوق کو پامال کرسکتا ہے جو کسی بھی معاشرہ میں ناانصافی اور ناجائز معاشرتی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔ یہاں تک کہ مغرب میں بھی آزادی کی حدود طے کی گئی ہیں۔ کیونکہ کسی بھی مہذب معاشرے کے افراد کو اچھی طرح سے ان حدود کا علم ہونا چاہئے۔

اگر کمپیوٹر کی مثال پر غور کیا جائے جو کہ تخلیقی صلاحیتوں کو اُبھارنے میں اپنا ایک خاص مقام رکھتا ہے، اِسے فحش مواد کی ترسیل کا ذریعہ بنا لیا جائے تو یہ نوجوان نسل کو اخلاقی طور پر تباہ کرسکتا ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ بات کسی بھی صحت مند سوسائٹی کو قابل قبول نہیں ہوگی۔ ملائشیا میں ہمیشہ ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ کاروباری طریقہ کار اور اس میں موجود تخلیقی گنجائشوں کو زبردستی ملائیشین اَقدار سے بھرنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے فرد کی انفرادی آزادی پر گہری چوٹ پڑتی ہے جس سے کمیونٹی کے حقوق غیر ضروری حد تک فرد کی آزادی سے تجاوز کرجاتے ہیں۔ اسکے برعکس میں اس حقیقت سے بہت اچھی طرح آشنا ہوں کہ ہمارے اقدار کے نظام نے ہی ہماری سوسائٹی کی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ایشیائی اور امریکی اَقدار کا تقابلی جائزہ

ڈیوڈ ہچکوک (David Hitchcock) امریکی انفارمیشن ایجنسی کے شعبہ ایسٹ ایشین اینڈ پیسفک افیرز کے ڈائریکٹر ہیں۔ انہوں نے امریکی اور ایشیائی اقدار کے فرق کو جانچنے کے لئے ایک سروے کیا۔ یہ سروے ہچکوک نے ۱۹۹۴ء میں کیا۔ اس سروے کا سوال نامہ کچھ اس طرح سے تھا کہ امریکی اور مشرقی ایشیائی لوگ ایسی پانچ ذاتی اور معاشرتی اقدار کا چناؤ کریں جو ان کی زندگی میںمرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس سروے کے نتائج کو ایک کتاب کی صورت میں مرتب کیا گیا۔ جس کا نام Asian values and the United states: How much conflict? ہے۔ یعنی ایشیائی اور امریکی اقدار میں کس قدر مخالفت پائی جاتی ہے۔ ہچکوک کے سروے کے نتائج کی صورت میں جو ایشیائی اقدار سامنے آئیں، وہ درج ذیل ہیں:

1.ایک منظم معاشرہ کا قیام 2.معاشرتی ہم آہنگی

3.پبلک آفیشلز کے احتساب کی گارنٹی 4.نئے خیالات کی قبولیت

5.آزادئ اظہار 6.صاحب ِاختیار کا احترام

امریکی معاشرتی اقدار

1.آزادئ اظہار 2.فرد کے انفرادی حقوق

3.ذاتی آزادی 4.کھلی بحث

5.ذاتی حقوق کی حفاظت 6.پبلک آفیشلز کا احتساب

یہاں یہ دلچسپ بات ہمارے سامنے آتی ہے کہ ایشیائی لوگ امریکیوں کے مقابلے میں نئے خیالات اور احتساب پر زیادہ زور دیتے ہیں جبکہ جہاں ایشیائی، معاشرتی تنظیم و ہم آہنگی اور صاحب ِاختیار کے احترام پر زور دیتے ہیں، امریکی، انفرادی آزادی اور کھلی بحث پر۔

ذاتی اعتبار سے امریکی اقدار

1.خود انحصاری 2.انفرادی کامیابی

3.سخت محنت 4.زندگی میں کامیابی کا حصول

5.دوسروں کی مدد

ایشیائی اقدار

 دوسروں کے حقوق کی ادائیگی اوراحترام : اس بات سے ۳۹ فیصد ایشیائی افراد نے اتفاق کیا جبکہ ۱۹ فیصد امریکی اس سے متفق تھے جبکہ اس کے مقابلے میں ۵۹ فیصد امریکیوں نے انفرادی کامیابیوں پر زور دیا۔

 اسی طرح ۶۹ فیصد ایشیائی لوگوں نے حصولِ علم سے اتفاق کیا جبکہ ۱۵ فیصد امریکی اس کے حامی تھے۔ اس کے علاوہ ۴۸ فیصد ایشیائی انفرادی تنظیم کے حق میں تھے جبکہ ۲۲ فیصد امریکیوں نے اس سے اتفاق کیا۔

یہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ یہ سروے کس حد تک سچائی کے قریب ہے مگر اس سے ایک بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ مختلف اہم موضوعات کے بارے میں ایشیائی لوگوں کی کیا رائے ہے اور یقینا ان کی رائے اس سے بہت مختلف ہے جو مغربی دنیا نے ان کے بارے میں قائم کررکھی ہے۔ میں اس سے انکار نہیں کرنا چاہتا کہ بہت سی ایشیائی اَقدار وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی چلی جارہی ہیں اور یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ جس میں بہت سی ایسی باتیں، چاہے وہ ہمارے حق میں ہیں یا نہیں، ہمیں ترک کرنا ہوں گی کیونکہ ترقی ہمیشہ یہی تقاضا کیا کرتی ہے !!

ایک اور دلچسپ بات جو اس سروے سے ہمارے سامنے آتی ہے کہ بہت سی ایسی اقدار ہیں جو کچھ عرصہ قبل تک مغربی معاشروں کا حصہ تھیں۔ اس میں سے اکثر اقدار جیسا کہ صاحب اختیار کی عزت، خاندان اور انفرادی تنظیم، وکٹورین اَقدار تھیں۔ یہ وہ خیالات ہیں جو مغرب نے وقت گزرنے کے ساتھ ترک کردیے ہیں۔

ایشیائی اقدار کا مستقبل

میں بھروسے سے کہہ سکتا ہوں کہ ایشیائی اقدار کے بارے میں میری رائے سے مراد ڈکٹیٹر شپ کی وکالت، مطلق العنانیت، غیر جمہوری رویے، انسانی حقوق کی پامالی، تشدد، چائلڈ لیبر، عورتوں کے حقوق کی پامالی یا ماحول کی آلودگی کی حمایت کرنا نہیں ہے بلکہ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ مستقبل میں انسانی حقوق بلکہ انسانیت پر مبنی اَقدار نہ صرف ایشیا بلکہ تمام کرئہ ارض میں پروان چڑھیں گی۔

یہ بھی سچ ہے کہ آج بھی ایشیا کوباقی دنیا سے بہت کچھ سیکھنا ہے تو یہ عین ممکن ہے کہ ایسی صورتِ حال میں بہت سی ایشیائی اَقدار میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوں گی یا وہ سرے سے ختم ہوجائیں گی۔ ماضی میں ہم نے اپنی چند بری اَقدار سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے شدید جدوجہد کی ہے۔ ایشیا میں صورتِ حال یہ ہے کہ ایک طرف توبہت سے ایشیائی ممالک شدید مادّہ پرستی کا شکار ہوچکے ہیں اور دوسری طرف ایسے ممالک ہیں جو مادّہ بیزاری میں گھرے ہوئے ہیں۔ ایسے علاقوں میں روحانیت کو انتہائی درجہ حاصل ہے جبکہ تشدد اور ناانصافی روز مرہ کا معمول ہے۔ چند ایشیائی معاشرے فیٹلزم(Fatalism) کی اخلاقیات کے آگے بے بس دکھائی دیتے ہیں جبکہ دوسرے بیرونی غلبے اور قناعت پسندی کی اَقدار کے سامنے۔ ایشیا میں آج بھی بہت سی جگہوں پر عورتوں اور بچوں سے سخت جسمانی مشقت لی جاتی ہے۔ ایسے معاشرے مخلوقِ خدا کی محبت کے جذبے سے عاری ہیں۔ ایشیا کو ابھی ترقی کی راہ پر چلنے کے لئے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت پڑے گی۔ بہت سی ایسی اچھی مغربی اقدار ہیں جوکہ ہمیں مستقبل میں اپنانا ہوں گی۔

اہم نکتہ جو ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایشیائی اقدار پیدائشی طور پر نہ تو اچھی ہیں اورنہ ہی بری جبکہ ہمارے موجودہ بحران سے اچانک اس خیال کو ہوا ملی ہے کہ ضرور ایشیائی اقدار میں کوئی مسئلہ رہا ہوگا جس کے اصل ولن 'کرونی ازم' اور بدعنوانی ہیں۔ اس سلسلے میں مغربی پنڈتوں اور حکومتوں نے بحران کے پہلے سال میںیہ کہنا شروع کیا کہ اگر ایشیائی اپنی ان بری اَقدار سے پیچھا چھڑا لیں اور وہ خود کوباقی دنیا کے لئے کھول دیں اور اپنے ہاں وسیع تر آزادی کی اجازت دیں تو وہ اپنے ان مسائل کو دنوں میں حل کرسکتے ہیں۔

ایشیائی بحران سے مغرب کے مقدس اَقدار کے نظام میں باہم متضاد خیالات کا پردہ بھی چاک ہوا ہے جو خود کو فری مارکیٹ کیپٹلزم کے ذریعے بیان کرتا ہے۔ ان باہم متضاد خیالات ونظریات پر اب پہلے سے کہیں زیادہ سنجیدگی سے بحث ہونی چاہئے چونکہ وہ تمام نسخے جو ہمارے بحران کی طرز کے مسائل کے حل کے لئے پیش کئے جاتے ہیں، ان کی زبردست ناکامی کے بعد یہ ضروری ہوگیا ہے کہ ان پر از سر نو غوروفکر کیا جائے۔ اس کا اندازہ جاپان سے لے کر یورپ تک کے لیڈروں کے ان بیانات سے لگایا جاسکتا ہے جو انہوں نے ۱۹۹۸ء کے موسم خزاں میں دیئے۔ برطانوی پرائم منسٹر ٹونی بلیر، جرمنی کے چانسلر شروڈر، جاپانی وزیر اقتصادیات اور ایسے ہی بہت سے لوگوں نے کرنسی اورسرمائے کی آزاد حرکت پرپابندیاںعائد کرنے کی تجاویز پیش کیں۔ بے شک ایسے اقدامات آج کی ضرورت ہیں صرف اتنا ہی کافی نہ ہوگا بلکہ ہمیں ایسی اقدار کو فروغ دینا ہوگا جس سے سرمایہ داروں کی قلیل جماعت اپنے انفرادی مفاد کے لئے کروڑوں لوگوں کی تقدیر سے نہ کھیل سکے۔

بنیادی ایشیائی اقدار جن کا ذکر اوپر کی سطور میں کیا گیا ہے۔ ان کاتعلق ہمارے موجودہ اقتصادی بحران کی اصل وجوہات سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ لہٰذا یہ ایک بے بنیاد بات ہے کہ ایشیائی بحران درحقیقت ان کی اَقداری خرابیوں کا شاخسانہ ہے۔ اگر کہیں خرابی پائی جاتی ہے تو وہ خالص منافع کی بنیاد پر استوار ان شدید مادّہ پرست اقدار میں ہے جوگلوبل فنانشل سسٹم کی اساس ہیں، جنہیںمغرب نے مرتب کیا ہے۔

خاندان اور کمیونٹی کی جانب ایشیائی لوگوں کا جھکاؤ، اربابِ اختیار کی تعظیم، سخت محنت اور معاشرتی بھلائی کے لئے انفرادی قربانی جیسے اوصاف ہی یقینا آج کے برے حالات میں ہمیں حوصلہ اور ہمت فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ اس لئے آج ایشیا کو بہت پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ خاندان اور کمیونٹی کی امداد پر زور دینا چاہئے کیونکہ اگر ہم ان مشکلات سے جلد باہر آنا چاہتے ہیں تو ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ سخت محنت کرنا ہوگی جس کے ساتھ ساتھ انفرادی مفادات کو کمیونٹی یا گروہ کے مفادات پر قربان کرنا پڑے گا تاکہ وہ تمام فرائض جو کسی بھی فرد پر اس کی کمیونٹی کے حوالے سے فرض ہیں بہتر انداز میں سرانجام پائیں۔

مستقبل کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے یہ بھی واضح دکھائی دے رہا ہے کہ چند ایشیائی اقدار کی یا تو ہمیں اصلاح کرنا ہوگی اور یا انہیں مکمل طور پر ترک کرنا ہوگا مگر اس کے ساتھ چند ایک ایسی باتیں بھی ہیں جن سے جڑے رہنے ہی میں ہماری بقا ہے۔ ہمیں ان معاشرتی اداروں کو بھی بکھرنے سے بچانا ہوگاجن کا انحطاط مغرب میں معاشرتی تعاون کا باعث بنا۔ اگرچہ زیادہ تر مغربی اَقوام عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہیں لیکن گذشتہ چند دہائیوں کے اندر عوامی زندگی میں مذہب کا عمل دخل محدود ہو کر رہ گیا ہے کیونکہ انہوں نے سیکولر زندگی کے نام پر مذہب کی بلی چڑھا دی ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ لوگ اپنی خواہشات کے اندھے غلام بنتے چلے جارہے ہیں۔ مادّہ پرستی، خود غرضی اورانفرادیت کابھوت مغربی معاشروں کا قومی نشان بن چکا ہے جس سے کمیونٹی کی جگہ انفرادی خواہشات نے لے لی ہے۔

مغربی اقدار میں آنے والی ان تبدیلیوں نے واضح طور پر قائم شدہ معاشرتی اداروں کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں جس سے شادی بیاہ، خاندان، بزرگوں کی عزت اوراہم رسم و رواج تخت و تاراج ہوکر رہ گئے ہیں۔ ان نئی اقدار نے ان تمام باتوں کی نفی کر ڈالی ہے جن کا تعلق روحانی یقین اور معاشرتی زندگی سے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج مغربی معاشرہ سنگل پیرنٹ فیملی، ہم جنس پرستی، بغیر شادی کے اکٹھے رہنے اور بزرگوں کی عزت نہ کرنے جیسی علتوں کا شکار ہوچکا ہے۔ چند ایک معاشروں کا تو یہ عالم ہے کہ وہاں جائز بچوں کی نسبت ناجائز بچے زیادہ ہیں اور بہت سے ممالک میں ۳۰ سے ۴۰ سال کی عمر کے لوگوں کی ایسی کثیر تعداد موجود ہے جنہوں نے اپنی ساری زندگی میں کوئی باقاعدہ نوکری نہیں کی ہے اورنہ ہی انہیں ایسی کسی نوکری کی خواہش ہے کیونکہ ایک بے روز گار شخص خود کو صاحب ِروزگار سے بہتر محسوس کرتا ہے۔ ایسے حالات میں رہنے والے لوگ روحانی پستی کا شکار ہیں اور انہیں کوئی ایسی صورت نہیں دکھائی دیتی کہ جہاں سے وہ رہنمائی پاسکیں۔ ان کی مثال کسی اُکھڑے ہوئے درخت یا بھٹکے ہوئے راہی کی ہے یا ایسے تنکے کی ہے جو کہ تند سمندر کی بے رحم لہروں کے رحم و کرم پر ہو۔

اس معاشی نظام کے اہم ستون شاید سٹاک مارکیٹ، اقتصادی ترقی کا تسلسل اور مادّی خوشحالی ہیں۔ اگر کبھی ایسا ہوا کہ سٹاک مارکیٹ میں کوئی بڑا مندا پڑا جس سے کسی اقتصادی بحران کا آغاز ہوا تو مغربی معاشرتی نظام میں کوئی ایسی گنجائش نہ ہوگی کہ وہ بگڑتے ہوئے حالات پرقابو پاسکیں۔ ایشیائی، کبھی بھی مغرب کی ایسی پیروی نہ کرنا چاہیں گے، بے شک مغرب کسی ایسے بحران کا شکار ہو یا نہ ہو۔ ہم ایشیائی روایات کو کبھی بھی مغربی ہیڈونزم (Headonism) پر قربان نہ ہونے دیں گے۔

جب ہم مستقبل کے کسی نظامِ اقدارکے بارے میں سوچتے ہیں تو ہم اس کی بنیادیں باہمی تعلقات کی مضبوطی اورعزت پر رکھنے کے خواہش مند ہیں۔ ہم اس سے نئے خیالات کی گنجائش بھی رکھنا چاہیں گے کیونکہ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ایسے خیالات ہمیشہ ہی گمراہ کن یا باطل ہی ہوں۔مغرب کو پوراپورا حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی راہ چلیں مگر انہیں یہ حق ہر گز نہیں دیا جاسکتا کہ وہ فوجی یا اقتصادی قوت کے بل پرباقی دنیا کو اپنا مطیع کرنے کی کوشش کریں۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اہل مشرق نے مغرب سے بہت کچھ سیکھا ہے اور شاید اقتصادیات کے میدان میں ہم ان کی کچھ زیادہ ہی پیروی کرنے لگے ہیں۔ اس لئے اب ضروری ہے کہ اگر ہم اپنی مشکلات کو کم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان میں سے بہت سی باتوں کو ترک کرنا ہوگا۔ ملائشیا میں بسنے والوں نے اپنے ہمسائے جاپان کے تجربات سے فائدہ اٹھایا ہے۔ ہم اہل مشرق و مغرب سے وہ سب کچھ سیکھنے کی سعی کرتے ہیں جو ہم میں مثبت تبدیلیاں لانے کا باعث بن سکتا ہے۔

اب یہ بہترین موقع ہے کہ مغرب اپنے اقتصادی اور معاشرتی اداروں کی مضبوطی کے لئے اہل مشرق کی چند باتیں اپنائیں۔ جو توجہ ہم خاندان اور کمیونٹی کی بھلائی پر دیتے ہیں، اس کی آج کے مغرب میں درحقیقت شدید ضرورت ہے کیونکہ وہاں منشیات کے استعمال اور لوٹ مار جیسی اور بہت سی معاشرتی برائیوں نے اپنی جڑیں مضبوط کرلی ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ آج جبکہ ہم لوگ چاروں طرف سے اقتصادی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ امریکی اور مغربی اقوام ہماری اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن اس امکان کو خارج نہیں کیاجاسکتا کہ ہمارا یہ بحران عالمی سطح پر پھیل سکتا ہے۔ اس لئے یہ بہترین وقت ہے کہ ہم سب اپنی تنگ نظری اور بڑے بڑے مالی منافعوں کے خواب سے باہر نکل کر باہمی تعاون کی بابت کچھ کریں۔ جس سے ہم میں ایک دوسرے سے سیکھنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی عزت کرنے کا حوصلہ بھی پیدا ہوگا۔

اس میں کوئی برائی نہیں ہے کہ ایشیائی اقدار، ایشیائی اقدار ہیں جبکہ مغربی اقدار مغربی اقدار ہیں۔ لیکن پھر بھی کپلنگ کے خیالات کے برعکس دونوں یکجا ہوسکتی ہیں اور ان کے ملاپ سے ایک نیا باہمی اعتماد پیدا ہوگا۔ جس میں ایک دوسرے کی شعوری بلندی کی قدر کی جائے گی اور جو کہ ایک ایسی اُمید کو جنم دے گی جس میں برائی کو ترک کرکے اچھائی کو اپناکر ہی حوصلہ پیدا ہوگا !!

بشکریہ [جمہوری پبلی کیشنز ، لاہور]