قرآنِ پاک نوعِ انسانی کے لئے مکمل ضابطہ حیات ہے اس کی وسعت اور ہمہ گیری کا یہ عالم ہے کہ ہر دور میں زندگی کے ہر شعبے میں انسانی عقل و فکر کے لئے رہنما بن سکتا ہے۔ قرآنی مضامین میں اس قدر جامعیت موجود ہے کہ ہر مکتب ِفکر کا آدمی اپنی تسکین کے لئے اس سے مواد حاصل کرسکتا ہے۔

قرآن کے وسیع مفاہیم کی تعبیر عربی زبان کے ذریعے ہی ممکن ہے!

اس کے مضامین کی وسعت اور ہمہ گیری کا تقاضا یہ تھا کہ اسے ایسی زبان میں نازل کیا جائے جو اس وسعت کی متحمل ہوسکے اور اعجازِ بیان کو اپنے اندر سما سکے۔

یہ محض اِدّعا ہی نہیں،بلکہ حقیقت ہے کہ اس قسم کی وسعت صرف عربی زبان میں پائی جاتی ہے۔ فصاحت و بلاغت کے جو زاویے اس میں ہیں، دیگر سامی اور ایریائی زبانوں کا دامن ان سے یکسر خالی ہے۔ اشتقاقات اور مترادفات کی جو فراوانی عربی زبان میں پائی جاتی ہے، کسی دوسری زبان میں نہیں ملتی۔ لفظی اور معنوی خوبیوں کے لحاظ سے عربی زبان ہی متجمّع محاسن ہے۔ حتیٰ کہ اگریہ کہا جائے تو مبالغہ نہیں کہ ع

آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

یہی وجہ ہے کہ عربی زبان میںجس قدر ضخیم قوامیس اور معجمات لکھے گئے ہیں، دوسری زبانوں میں ان کاعشر عشیر بھی نہیں ملتا۔ ان معجمات کو دیکھنے سے عربی زبان کی فراخ دامانی اور جامعیت بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے۔

'صحاحِ جوہر' کو لیجئے وہ چالیس ہزار مواد (Roots) پر مشتمل ہے۔

'قاموس فیروزآبادی' (متوفی ۸۱۶ھ) میں ساٹھ ہزار مواد مذکور ہیں ... اسی طرح

'لسان العرب' میں منظور افریقی (متوفی ۷۱۱ھ) نے اَسّی ہزار مواد سے بحث کی ہے۔

آخر میں 'تاج العروس' کو ملاحظہ فرمائیے جس میں سید محمد مرتضیٰ زبیدی (متوفی ۱۲۰۵ھ) نے اپنے تتبع سے ایک لاکھ بیس ہزار مواد جمع کردیے ہیں۔

ان تصریحات کے پیش نظر ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ قرآن پاک ایسی جامع اور ہمہ گیر کتاب کو، جواَبدی اور ناقابل انکارِ حقائق پر مشتمل ہے، عربی زبان میں ہی نازل ہونا چاہئے تھا اور یہی زبان اس کے لئے موزوںaتھی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم اپنے متعلق بار بار بزبانِ عربی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن کا اُسلوبِ بیان نہایت درجہ 'سہل ممتنع' ہے، اس کے مضامین و مطالب اس قدر صاف اور واضح ہیں کہ اس میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں۔

چنانچہ آیات نمبر: ۱؍۸،۱۳؍۳۷،۱۲؍۲،۴۲؍۳،۲۶؍۹۵ وغیرہ میں قرآن نے خود عربی ہونے کادعویٰ کیا جس کے معنی ہیں واضح اور صاف کیونکہ لفظع ربمیں اظہار اوروضاحت کے معنی پائے جاتے ہیں۔

تفسیر قرآن کے لئے عربی زبان جاننا ہی کافی نہیں!

بلاشبہ قرآنِ پاک عربی زبان میں نازل ہوا اور عرب اہل ِزبان ہونے کی و جہ سے عام طورپر اس کے مطالب و معانی کا ادراک بآسانی کرلیا کرتے تھے۔ بلکہ قرآن کے اُسلوبِ بیان سے محظوظ ہوتے اور الفاظ کی بندش اور ان کے محتویات ہی سے متاثر ہوکر اس کی صداقت کے قائل ہوجاتے، مگر عربوں کی مادری زبان میں نازل ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہر آیت کے مفہوم کا کماحقہ' اِدراک کرلیتے تھے اور ان کے سامنے قرآن کی تشریحات کی ضرورت نہ تھی بلکہ واقعہ یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت باقاعدہ طور پر آں حضرت1 یا اپنے ہم طبقہ علما سے قرآن کی تعلیم حاصل کرتی رہی۔ ان کامعمول تھا کہ دس آیات پڑھنے کے بعد جب تک ان کے مطالب پوری طرح ذہن نشین نہ کرپاتے اور عملی طور پر انہیں اپنا نہ لیتے، اس سے آگے نہیں بڑھتے تھے۔(تفسیر ابن کثیر : ۱ ؍۳)۔ چنانچہ حضرت عمر فاروق ؓ نے پورے دس سال کے عرصہ میں سورۃ البقرۃ پڑھی اور ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہؓ نے ۸ سال میں یہ سورۃ ختم کی۔ ظاہر ہے کہ یہ محض نظم قرآن کی قراء ت یا تجویدنہ تھی، بلکہ اس کے مطالب کا ادراک اور اس پرعمل بھی اس میں شامل تھا۔ (المسویٰ شرح مؤطا :۲ ؍۳۱۳)

اسی طرح آنحضرت 1 کی زندگی میں ہی صحابہ کرام ؓ کی ایک ایسی جماعت تیار ہوگئی جنہوں نے درسِ قرآن کا سلسلہ جاری رکھا، ان میں سے عبداللہ بن مسعودؓ (متوفی ۳۲ھ)، عبداللہ بن عباسؓ (متوفی ۶۸ھ)، اُبی بن کعبؓ (متوفی ۳۰ھ) اور زید بن ثابتؓ (متوفی ۴۱ھ) خاص طور پر قابل ذکر ہیں اور تفسیری سلسلۂ سند بھی زیادہ تر اِنہی پرمنتہی ہوتا ہے۔ ان صحابہ ؓ سے تابعین کی ایک جماعت نے تفسیر قرآن کا علم حاصل کیا۔ حتیٰ کہ دورِ تدوین تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح تفسیر قرآن کا معتدبہ حصہ ہم تک بذریعہ روایت پہنچا۔

تفسیر قرآن کے لئے ۴ بنیادی اُمور

اس بنا پر علماے قرآن نے غوروفکر اور استقراے تامّ کے بعد قرآن فہمی کے لئے چار اُمور ضروری قرار دیئے۔ جن سے بے نیاز ہوکر قرآن کی تفسیر کی جائے تو وہ تفسیر بالرائے ہوگی جس کی حدیث میں مذمت آئی ہے، وہ چار اُمور حسب ِذیل ہیں :

A قرآنِ کریم کی تفسیر، قرآن ہی سے تلاش کی جائے، کیونکہ قرآن نے اگر ایک مقام پر اِجمال سے کام لیا ہے تو دوسرے مقام پر خود ہی اس کی تفصیل فرما دی ہے۔ چنانچہ حافظ ابن کثیرؒ اپنے 'مقدمتہ التفسیر' میں رقم طراز ہیں:

''اگر ہم سے پوچھا جائے کہ قرآن فہمی کا سب سے بہتر طریق کیا ہے؟ تو ہمارا جواب یہ ہوگا کہ قرآن کو قرآن ہی سے سمجھا جائے۔ '' (ابن کثیرؒ :۱ ؍۳)

اسی لئے علما نے کہا ہے: القرآن یُفسّر بعضه بعضا یعنی ''قرآن اپنی تفسیر خود کرتا ہے۔''

چنانچہ اس قسم کی تکرار کو جو مطالب کی وضاحت کے پیش نظر کی گئی ہے۔ قرآن نے 'تفصیل و تصریف ِآیات' سے تعبیر فرمایا ہے۔

B اس کے بعد دوسرا درجہ سنت کا ہے۔ علمانے سنت کو قرآن کا شارح قرار دیاہے۔ حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں:

''اگر قرآن کی تفسیر قرآن سے نہ ملے تو سنت کی طرف رجوع کرناضروری ہے، کیونکہ سنت قرآن کی شارح ہے، بلکہ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ آنحضرت 1 نے جو فیصلہ بھی صادر فرمایا ہے وہ قرآن ہی سے سمجھ کر صادر فرمایا ہے۔''

اس سلسلہ میں امام شافعیؒ اور دوسرے ائمہ نے جو تفصیلات درج کی ہیں یہاں پر ان کے بیان کی ضرورت نہیں۔b اس اصل کے تحت آیاتِ احکام کا پورا حصہ آجاتا ہے اور جو اصطلاحی الفاظ احکامِ فقہیہ پر مشتمل ہیں، ان کی تشریح کے لئے تو سنت سے بے نیاز ہونا ناممکن ہے۔ چنانچہ علامہ طبری ؒ اپنی تفسیر 'جامع البیان' میں لکھتے ہیں:

''جہاں تک قرآن کے احکام کا تعلق ہے وہ سنت کی روشنی میں ہی سمجھے جاسکتے ہیں، لہٰذا قرآن کے لئے سنت کی طرف رجوع ناگزیر ہے۔'' (تفسیر طبری: ۱؍۳۳)

ïموجودہ دور کے بعض نام نہاد مفسرین ِقرآن، جو سنت کی حجیت سے منکر ہیں اس اصل کو یہ کہہ کر ردّ کردیتے ہیں کہ تفسیری روایات عموماً ضعیف یا موضوع ہیں اور اس سلسلہ میں امام احمد بن حنبلؒ کا قول پیش کیا جاتا ہے : ثلاثة لیس لھا أصل: التفسیر والملاحم والمغازي (الاتقان: ۳؍۲۱۰)

''تین قسم کی روایات بے اصل ہیں: تفسیر، ملاحم اور مغازی...''

یہ ایک مغالطہ ہے جو عوام کو کتب ِتفسیر اور حدیث سے بدظن کرنے کے لئے پیش کیا جاتا ہے۔ ورنہ اس کا مفہوم وہ نہیں ہے جو ان لوگوں نے بیان کیا ہے،بلکہ تفسیری روایات یا احادیث کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

ایک حصہ وہ ہے جسے علما نے احکام فقہیہ کا منبع قرار دیا ہے اور اس پر اَحکام قرآن کے نام سے تفسیریں بھی مدوّن کی ہیں۔ ان روایات کی صحت اور صداقت کے نہ تو امام احمد بن حنبلؒ منکر ہیں اورنہ کوئی دوسرا امام ان کو بے اصل کہتا ہے، بلکہ محدثین ِکرامؒ نے پوری چھان بین اور اطمینان کے بعد ایسی روایات کو مستقل تصنیفات میں جمع کردیا ہے۔ پھر اُمت ِمسلمہ کے تعامل نے ان پر مہرتصدیق ثبت کردی ہے اور علما نے سنت کے اس حصہ کو قرآن کا شارح تسلیم کیا ہے۔

دوسرا حصہ تفسیری روایات کا وہ ہے جو اَحکام سے متعلق نہیں، بلکہ اس میں اسرائیلیات اور ضعیف روایات بھی شامل ہیں، اس قسم کی تفسیری روایات بے شک کتب ِتفسیرمیں جمع کردی گئی ہیں، مگر محققین نے کبھی بھی ان پر اعتمادنہیں کیا اور نہ ہی فہم قرآن کے لئے انہیں اصل قرار دیا ہے۔ مفسرین نے ان روایات کو اصل تفسیر کی حیثیت سے پیش نہیں کیا، بلکہ کسی آیت کے معنی سے ادنیٰ مناسبت کی بنا پرانہیں جمع کردیاہے۔ (ملاحظہ ہو 'الفوز الکبیر': ص۴۴)

لہٰذا یہ بات قابل اعتراض نہیں۔ یہی حال سبب ِنزول یا شانِ نزول کا ہے۔ کتب ِتفسیر میں جن آیات کے تحت ان کا شانِ نزول مذکور ہے گو شانِ نزول کے علم سے آیات کے پس منظر پرروشنی پڑتی ہے، تاہم علماے تفسیر نے صرف شانِ نزول کی بنا پر کسی آیت کا قطعی مفہوم متعین نہیں کیا اور نہ ہی کبھی اس کے قائل ہوئے ہیں۔ چنانچہ علمائے اُصول لکھتے ہیں کہ

''تفسیر قرآن میں مفہوم کو پیش نظر رکھا جائے گا، اس کے اسبابِ نزول کا اعتبار نہیں ہوگا۔'' چنانچہ صحابہ کرام ؓ نے پیش آمدہ مسائل کے لئے ہمیشہ آیات کے عموم سے استدلال کیا، خواہ ان آیات کے اسبابِ نزول کچھ بھی ہوں۔ '' (ملاحظہ ہو الاتقان : ۱؍ ص۲۸، ۳۵)

اسی طرح علامہ زرکشیؒ 'البرہان فی علوم القرآن' میں لکھتے ہیں:

''صحابہ ؓ اور تابعین ؒ میں سے جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اس آیت کا شان نزول یہ ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ آیت سے اس نوع حکم پربھی استدلال ہوسکتا ہے۔ '' (۱؍۱۲۶)

ان تصریحات سے واضح ہے کہ مفسرین نے اسرائیلیات یا اسبابِ نزول کی روشنی میں آیات کے مطالب و معانی متعین نہیں کئے، بلکہ کسی حد تک آیات کے ساتھ مناسبت کے پیش نظر ان کاذکر کردیا ہے۔ اور محققین علما نے ان احادیث اور اسبابِ نزول کو کبھی بھی وہ حیثیت نہیں دی جس پر انہیںمورد ِالزام قرار دیا جارہا ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ تفاسیر کو منقّح کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تفسیر قرآن میں جو جمود سا پیدا ہوچکا ہے وہ ختم ہوجائے اور اعلیٰ علمی سطح پر کتاب ِالٰہی کے تقاضوں کے مطابق قرآن فہمی کا رجحان پیدا ہو۔

C کتاب وسنت کے بعد اقوال ِصحابہؓ کا درجہ ہے۔ صحابہ کرامؓ نزولِ قرآن کے زمانہ میں موجود تھے جس ماحول میں قرآن نازل ہورہا تھا، اس کے اندرونی اور بیرونی اثرات ان کے سامنے تھے، چنانچہ حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں:

''جب کتاب و سنت سے کسی آیت کی صحیح تفسیر معلوم نہ ہوسکے تو اقوالِ صحابہ ؓ کی طرف رجوع کیاجائے، کیونکہ صحابہ کرامؓ قرائن و احوال کے مشاہدہ کی بنا پر ہم سے زیادہ قرآن سمجھتے تھے، انہیں اللہ تعالیٰ نے عقل و فہم صحیح اور عمل صالح سے حصہ وافر عطا فرمایا تھا۔'' (تفسیر ابن کثیر: ۱؍۳،۱۲)

D اگر کسی آیت کے مفہوم پر اقوال صحابہؓ سے بھی روشنی نہ پڑتی ہو، یا ان کے اقوال باہم مختلف ہوں تو اوّلا ً قرآن و سنت کی زبان اور پھر عام لغت ِعرب کے محاورات کی طرف رجوع ہوگا اور مفرادت ِقرآن کو سمجھنے کے لئے کتب ِلغت سے مدد لی جائے گی۔ چنانچہ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں: الشعر دیوان العرب فإذا تعاجم علینا شيء من القرآن رجعنا إلیه

'' شعر کو دیوانِ عرب کی حیثیت حاصل ہے جب قرآن کا کوئی مقام سمجھنے میں دقت پیش آئے گی تو ہم اس کی طرف رجوع کریں گے۔''

تفسیر قرآن میں لغت ِعرب سے استفادہ پر لکھی گئی کتب

مگر غریب القرآن کا کتب ِلغت سے حل تلاش کرتے وقت مندرجہ ذیل امور کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے:

¬ علماء لغت نے اپنی کتابوں میں جوکچھ بیان کیا ہے وہ بہرحال تتبع اور استقرا کے بعد کیا ہے، بایں و جہ ان کے مابین الفاظ کے مفاہیم بیان کرنے اور محاورات کے نقل کرنے میںاختلاف پیدا ہوگیا ہے۔

­ ان علما نے عام عربی زبان کو سامنے رکھ کرکتب ِلغات ترتیب دی ہیں، خصوصیت کے ساتھ قرآنی الفاظ ان کے پیش نظر نہیں تھے اور یہ ضروری نہیںکہ عام زبان میں کسی لفظ کا جو معنی مراد لیا جاتا ہے، قرآن میں بھی وہی مراد ہو۔

® جن علما نے غریب القرآن کو پیش نظررکھ کر الفاظ کی لغوی تشریحات لکھی ہیں وہ مختلف مسلک اور ذوق رکھتے ہیں اور انہوں نے مفردات کی تشریح کے وقت اپنے مسلک کو پیش نظر رکھا ہے، ایسے لوگ متکلمین میں بھی ہوگذرے ہیں اور فقہا میں بھی، لہٰذا ان تفاسیر یا کتب ِلغت کا مطالعہ کرتے وقت مؤلف کے ذہن اور مسلک کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔ اس بنا پر شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ 'الفوز الکبیر' میں لکھتے ہیں :

''انصاف پسند مفسر کا فرض ہے کہ شرح الغریب کی دو مرتبہ جانچ پڑتال کرے اور موارد استعمال پر نظر ڈالے اور پھر یہ دیکھے کہ آیت کے سیاق و سباق اور اس جملہ کے باقی اجزاء کی مناسبت سے کون سا معنی اقوی اور ادنیٰ ہے پھر سیاق و سباق کے لحاظ سے جو معنی انسب نظر آئے، اسے اختیار کرلینا چاہئے۔(الفوز الکبیر: ص۶،۴)

¯ تتبع ِلغت سے مفرداتِ قرآن کا جو مفہوم بھی متعین کیا جائے گا وہ مفہوم بہرحال اجتہادی ہوگا جس میں اختلاف کی گنجائش ہوسکتی ہے، اس لئے شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں: فھٰھنا أیضا مدخل للعقل وسعة للاختلاف لأن الکلمة الواحدة تجيء في لغة العرب لمعان شتی

''لہٰذا شرحِ غریب میں عقل دخیل ہوتی ہے اور اختلاف کی گنجائش پائی جاتی ہے، کیونکہ عربی زبان میں ایک ہی لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔''

° کتب ِلغت کے تتبع سے مفرداتِ قرآن کا صرف لغوی حل تو مل سکتا ہے ،مگر ان سے یہ رہنمائی نہیں مل سکتی کہ اس لفظ سے قرآن کون سا تصور پیش کرنا چاہتا ہے اور اس کے محتویات کیا ہیں، چنانچہ علامہ طبریؒ اپنی تفسیر 'جامع البیان' میں لکھتے ہیں :

''الفاظِ قرآنی کے معانی معلوم کرنے کے لئے تو کتب ِلغت کی طرف رجوع کیا جائے گا، مگر آیات کے مفہوم کا پتہ چلانے کے لئے کتب ِلغت کی بجائے وحی الٰہی اور سنت ِنبویؐ سے راہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے جس کی طرف قرآن کریم نے {لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا أنْزِلَ إلَیْھِمْ} کہہ کر اشارہ فرمایا ہے۔ مثلاً کسی اہل زبان (عرب) کے سامنے جب یہ آیۂ کریمہ {وَإذَا قِیْلَ لَھُمْ لاَ تُفْسِدُوْا فِیْ الاَرْضِ قَالُوْا إنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ}تلاوت کی جائے تو جس حد تک لفظ 'فساد' اور 'اصلاح' کے لغوی معانی کا تعلق ہے، اسے وہ خوب سمجھ سکتا ہے مگر وہ یہ نہیں بتا سکتا کہ کون سے اُمور موجب ِاصلاح ہیں، اور کون سے موجب ِفساد؟ یہ بات تو وہی بتاسکتا ہے جس پر قرآن نازل ہوا ہے۔''(ماخوذ از تفسیر طبری:ج۱؍ ص۳۳،۳۴ )

مندرجہ بالا تصریحات سے واضح ہے کہ کتب ِلغت سے الفاظ کے مواردِ استعمال کے تتبع سے کسی حد تک مفردات کے حل میں تو مدد مل سکتی ہے، مگر یہ ایسا ذریعہ نہیں ہے کہ تفسیر کے دوسرے سرچشموں سے صرفِ نظر کرکے محض اسی کو مدار قرا ردیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ مفسرین نے اپنی تفسیروں میں اس عنصر سے فی الجملہ استفادہ کیاہے۔ صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا۔چنانچہ تفسیر طبری،الکشاف للزمخشری اور 'بحر محیط' لابی سفیان، جو اسی سلسلہ کی بہترین تفاسیر شمار ہوتی ہیں اور ان میں لغوی تشریحات اور شواہد کا خاصا مواد موجود ہے، انہوں نے بھی تفسیر کرتے وقت کتاب و سنت اور اقوالِ صحابہ ؓ کو مدنظر رکھا ہے تاہم بعض علما نے شرح الغریب کا خصوصی اعتنا بھی کیاہے اور 'مفرداتِ راغب' بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، لہٰذا تفاسیر کے اس سلسلہ کے متعلق ہم بھی کچھ عرض کریں گے۔

a غریب القرآن پر جن علما نے توجہ دی ہے، ان میں سب سے پہلے حبرالأمۃ حضرت ابن عباسؓ ہیں۔چنانچہ' غریب القرآن' کے نام سے ایک تفسیربھی ان کی طرف منسوب eہے۔ اسی طرح 'التفسیر الاکبر' ہے جو ابن عباسؓ کی طرف منسوب ہے، اس میںعلی بن ابی طلحہؓ اور ابن کلبی کی روایت سے مفرداتِ قرآن کی تشریحات منقول ہے۔f چنانچہ علی بن ابی لیث کی روایت سے یہ نسخہ ابو صالح کاتب اللیث مصری کے پاس محفوظ تھا جسے وہ معاویہ بن ابی صالح کے واسطہ سے روایت کرتے تھے، امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں اسی نسخہ پر اعتماد کیا ہے اور امام احمد بن حنبلؒ نے اس کی تحسین کی ہے۔g

ان تفسیروں کی نسبت حضرت ابن عباسؓ کی طرف صحیح ہو یا نہ ہو، مگر اس سے یہ اشارہ ہوتا ہے کہ وہ مفرداتِ قرآن کی تشریحات کے سلسلہ میں شعر اور کلامِ عرب سے استشہاد کرتے تھے۔

b غریب القرآن کے سلسلے میں حضرت ابن عباسؓ کے بعد ابان بن ثعلب بن رباح جریری، ابو سعید اکبری مولیٰ بنی جریر بن عباد ابوامامہ (۱۴۱ھ) کا نام لیا جاتا ہے جن سے امام مسلم اور اصحابِ سنن روایت کرتے ہیں، انہوں نے بروایت ِابوجعفر اور ابو عبداللہ' غریب القرآن' میں ایک تفسیر مرتب کی جس میں شعراے عرب کے کلام سے شواہد پیش کئے۔ h

ان کے بعد بہت سے علما نے 'معانی القرآن'، 'اعجاز القرآن 'اور' غریب القرآن' کے نام سے تفاسیر لکھیں جو کہ الفہرست ازابن ندیم، کشف الظنون از حاجی خلیفہ اور مفتاح السعادۃ میں مذکور ہے۔

جن علما نے اس موضوع پر کتابیں لکھیں، ان میں سے ابوزکریا یحییٰ بن زیاد الفراء (۲۰۷ھ)، ان کے تلمیذ ابوعبدالرحمن عبداللہ بن یحییٰ نیریدی (۲۶۰ھ)، ابوعبیدہ معمر بن مثنیٰ تمیمی(۲۱۰ھ)، ابواسحق ابراہیم بن محمد سری زجاج (۳۱۰ھ) اور امام راغب اصفہانی۵۰۲ھ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ جنہوں نے مجاز القرآن، معانی القرآن اور غریب القرآن تین ناموں سے کتابیں تصنیف کیں جن میں سے 'مجاز القرآن' از ابوعبیدہ طبع ہوچکی ہے۔ یہ کتاب ترتیب ِمصحف پر ہے، مگر فراء کی 'معانی القرآن' اس سے زیادہ اہم ہے، اس لئے کہ فراء علم وعقیدہ کے اعتبار سے ابوعبیدہ سے زیادہ راسخ تھے اور انہوں نے یہ کتاب اپنے تلمیذ عمر بن بکر کی درخواست پر اِملا کروائی تھی۔ چنانچہ ابن ندیم الفہرسۃ ص۱۰۶ پر لکھتے ہیں:

وله من الکتب کتاب معاني القرآن ألفه لعمر بن بکیر أربعة أجزاء

''فرا ء نے 'معانی القرآن' عمر بن بکر کے لئے تصنیف کی تھی جو چار اجزا پر مشتمل ہے''

ابن قتیبہ دنیوری، اسحق بن راہویہ اور ابوحاتم سجستانی کے شاگرد ہیں، موصوف نے اس موضوع پر' غریب القرآن' اور' مشعل القرآن' دو کتابیں تصنیف کیں اور یہ دونوں 'القرطین' کے نام سے طبع ہوکر مصر سے شائع ہوچکی ہیں۔

امیر قنوجی (۱۳۰ھ) نے 'الاکسیر' میں ابن قتیبہ کو تیسرے طبقے کا ذکر کیا ہے۔ ابوعبیدالقاسم بن سلام کی 'غریب القرآن' کاتذکرہ الفہرسۃ ابن ندیم میں بھی ملتا ہے۔ نیز ابن ندیم نے لکھا ہے کہ ''موصوف نے 'معانی القرآن' کے نام سے بھی ایک تفسیر لکھی ہے۔(الفہرست ص۱۱۲)

ابوعبدالرحمن یزیدی نے بھی 'غریب القرآن' کے نام سے اس موضوع پر کتاب لکھی ہے۔ ( الفہرست : ص۸۸)

سمعانی 'کتاب الانساب 'میں لکھتے ہیں کہ

''یزیدی کی یہ کتاب نہایت جامع ہے، علامہ قنطی نے 'الانباہ' میں اسکا تذکرہ کیا ہے۔'' (الانباہ للقنطی: ص۱۵۱ ج۲)

امام راغبؒ کی تصنیف 'مفردات القرآن 'جس کے ترجمہ کی سعادت راقم الحروف نے حاصل کی ہے، تقریباً پندرہ سو اُناسی مواد پر مشتمل ہے۔ گویا قرآن کے کل مواد ۱۶۵۵ میںسے صرف ۶۶ متروک ہیں۔ مصنف نے اپنی کتاب کو حروفِ تہجی کے مطابق ترتیب دیا ہے اور ہر کلمہ کے حروفِ اصلیہ میں سے پہلے حرف کی رعایت رکھی ہے۔ طریق بیان فلسفیانہ ہے۔ یعنی اوّلا ً ہر مادہ (Root) کے اصل معنی متعین کرتے ہیں۔پھر اس اعتبار سے وہ لفظ قرآن میں جتنے مقامات پراستعمال ہوا ہے، اسے اصل معنی کی طرف لوٹاتے ہیں، تشریح ِلغت میں یہ طریق اُصولی حیثیت رکھتا ہے اور اسے اختلاف کی صورت میں کسوٹی قرار دیا جاسکتا ہے۔ پھرمصنف ہر کلمہ کی تشریحات کے سلسلہ میں ان تمام آیات کے اِحصا کی کوشش کرتے ہیں جن میں وہ کلمہ استعمال ہوا ہے تاکہ آیات کے سیاق و سباق سے صحیح مفہوم سامنے آجائے اور اس میں کسی قسم کااشتباہ باقی نہ رہے۔

امام راغب کے بعد متاخرین نے بھی غریب القرآن پر مستقل تصانیف لکھی ہیں جن میں سے 'تحفة الأریب بما في القرآن من الغریب' لأبي حیان محمد بن یوسف أندلسي ( ۷۴۵ھ)، 'تراجم الاعاجم' تالیف زین المشائخ محمد بن ابوالقاسم خوارزمی (۵۶۲ھ) اور' مفردات القرآن ' از شہاب الدین احمد بن یوسف المعروف بسمین حلبی (۷۶۵ھ) خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔ مگر ان سب کتابوں میں'مفردات امام راغب' کو جو شہرت اور امتیاز حاصل ہے، وہ کسی دوسری کتاب کو نہیں،بلکہ یوں کہئے کہ باقی سب کتابیں مردہ ہوچکی ہیں اور صرف مفرداتِ راغب ہی زندہ ہے۔

(۱) ملاحظہ ہو، فیض الخبیرعلی نہج التیسیر، بحث ترجمۃ القرآن : ص ۳۲، ۳۳

(۲) تفسیر ابن کثیر: ج۱؍ص۳ ۔ نیز تفصیل کے لئے ملاحظہ ہوالموافقات للشاطبی (بحث: السنۃ)

(۳) چنانچہ حضرت امام ولی اللہ 'الفوز الکبیر' کے صفحہ ۴۴ پر لکھتے ہیں : وقد ذکر قدماء المفسرین تلك الحاثمة بقصد الإحاطة بالآثار المناسبة للآیة أو بقصد بیان ما صدق علیه العموم ولیس ذکر ھذا القسم من الضروریات۔اور صفحہ ۲۵ پر فائدہ میں ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: والآخری أن یعلم أن أکثر أسباب النزول لا مدخل لھا في فھم معاني الآیات۔

(۴) تفسیر طبری: ص۱۷،۲۹... مذاہب التفسیر الاسلامی از مستشرق گولڈزیہر

(۵) بروکل مین اپنی 'تاریخ' میں لکھتے ہیں کہ دوسری عالمگیر جنگ سے قبل برلن لائبریری میں اسکا نسخہ تھا۔ ۱؍۷۲۱

(۶)شیخ الاسلام طارق حکمت اللہ حسینی کے مکتبہ مدینہ منورہ میں اس کا ایک نسخہ موجود تھا۔ ملاحظہ ہو مقدمہ الصحاح للجوہری ، نیز ملاحظہ ہو: الفوز الکبیر ص۱۱

(۷)تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو :الاتقان للسیوطی ص۱۸۸،۱۸۹، ج۲ ص۲۱فتح الباری ج۱، الاکسیر المذاہب الصحاح ص۱۱۰ و مفتاح السعادۃ لطاش بری زادہ ص۴۰۱؍ ج ،۱ و لحادی ص۴۶ ؍ج۲

(۸)ملاحظہ ہو المعجم الوقت ص۱۰۰۸ ج۱، السنہ ص۱۷۶۔۱۷۷، کشف الظنون ص۱۰۷ ج۷۔ فہرست کتب ِ شیعہ للطوسی: ص۴ ج۱

ï قاری محمد اسلم صاحب، گوجرانوالہ پاکستان کے مایہ نازقرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ملک بھر میں آپ کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔کافی عرصہ سے قاری صاحب بیمار ہیں، ان دنوں مختلف عوارض کی بنا پر آپ شیخ زید ہسپتال کے میڈیکل وارڈ میں زیر علاج ہیں۔ قارئین سے محترم قاری صاحب کی صحت وعافیت کے لیے خصوصی دعا کی درخواست ہے۔ (ابو الاحتشام امیر حمزہ : ناظم مدرسہ نصر الاسلام، گوجرانوالہ)

(بشکریہ تنظیم اہل حدیث : ج ۱۶؍عدد ۳۰: بابت ۲۴ جنوری ۱۹۶۴ء)