جناب علیم ناصری صاحب ِطرز ادیب اور کہنہ مشق شاعر ہیں۔ آپ کے کئی شعری مجموعے شائع ہوکر اہل ذوق سے داد وتحسین وصول کرچکے ہیں۔ طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا نامی نعتیہ مجموعہ تو صدارتی ایوارڈ یافتہ ہے۔'شاہنامہ بالا کوٹ' اور'بدرنامہ'میں واقعات کو اشعار میں پیش کرنے کے علاوہ ان دنوں 'جنگ ِاُحد' پر آپ یہی کام کررہے ہیں۔ ان دنوں آپ ضعف اور پیرانہ سالی کی وجہ سے صاحب ِفراش ہیں۔ قارئین سے ان کی صحت ِکاملہ وعاجلہ کے لئے دعا کی خصوصی درخواست ہے۔ (حسن مدنی)

عربی میں شہر آشوب

مولانا فضل حق ؒ خیر آبادی (م۱۸۶۱ء) ہندوستان کی جنگ ِآزادی (۱۸۵۷ء) کے معتوب علما میں نمایاں حیثیترکھتے ہیں۔ وہ دیگر علماء ِحق کی طرح انگریزی استبداد کے ہاتھوں سزا یاب ہوکر انڈیمان میں اسیر ہوئے اور وہیں داعی ٔاجل کو لبیک کہا۔ وہاں کے مصائب وآلام کا تذکرہ انہوں نے عربی نثر میں 'الثورۃ الہندیہ' کے نام سے لکھا اور اس کے علاوہ دو قصائد عذریہ (قصائد فتنہ الہند) عربی میں لکھے۔ یہ قصائد جہاں شعر وادب کابیش بہا نمونہ ہیں، وہاں اس دور کے حالات کی عمدہ تاریخ بھی ہیں۔

مولانا نے ان قصائد میں اپنے رنج و غم کو بھی بیان کیا ہے اور انگریزوں کی ہجو میںبھی نہایت مؤثر اور شاعرانہ تصویر کشی کی ہے۔ چند اشعار کا ترجمہ ملاحظہ ہو ؎

''سوزِ دل سے میرے پہلو کی ہڈیوں میں آگ بھڑک رہی ہے۔ آنسو خشک اور اندرونی اعضا پگھل گئے ہیں...''

''مجھ پرنازل شدہ مصیبتوں اور میری اہل وطن سے دوری پر دوست روتے اور دشمن خوش ہوتے ہیں۔''

ملکہ وکٹوریہ کے متعلق کہتے ہیں ؎

''مجھے ایک عو رت کے مکر نے مبتلائِ مصائب کردیا۔ عورتوں کا مکر بڑا ہی زبردست مکر ہے۔''

جزائر انڈیمان کے متعلق لکھتے ہیں ؎

''مجھے وحشیوں میں بسا دیا گیا۔ اس قیدخانے میں دو قسم کے وحشیوں: ڈاکوؤں اور اجنبیوں کے سوا کوئی نظر نہیں آتا۔''

''یہاں کی آب و ہوا ناموافق اوروبائی ہے۔ نہ تو اس کے کھانے میں شکم سیری ہے، نہ پانی میں سیرابی۔''

مولانا نے وہاں کے انگریز حاکموں کی جو تصویر کھینچی ہے، اس سے ان کی حق گوئی وبیباکی کا اندازہ ہوتا ہے :

''بہت سے سفید، رنگ شراب خور مونچھوں والے دشمن مجھ پر بیداد کرتے ہیں۔ وہ سیاہ جگر، سیاہ رو، نرم جلد اور سخت قلب واقع ہوئے ہیں۔ وہ بدبخت و بے شرم ہیں، انہیں نہ ننگ و عار ہے نہ غیرت و حلم۔ سارے عیوب ان میں موجود ہیں، مردوں میں سرکشی اور عورتوں میں حرام کاری پائی جاتی ہے۔''

اسی طرح وہاں کے دیگر حالات بیان کرتے ہوئے وہ نعت کی طرف گریز کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی مدح و توصیف میں عشق و محبت، سوز و گداز اور علم و معرفت کے موتی بکھیرتے چلے جاتے ہیں اور جب وہ نعت کی ارتقائی منازل طے کررہے ہوتے ہیں تو پکار اُٹھتے ہیں ؎

''اے رحمت ِعالم! اس شخص پررحم کیجئے ٭جس کے لئے زمانے میں کہیں رحم نہیں۔''

''میں آپ پر قربان، اس قیدی پر احسان فرمائیے کیونکہ زمین اور اس کے وسیع و عریض اطراف و اکناف اس کے لئے تنگ ہوچکے ہیں۔''

''اے شاکی اونٹ کے فریاد رَس! مجھ پر بھی ویسی ہی مہربانی فرمائیے، مجھے بھی بیماری اور مہجوری کی شکایت ہے۔''

''مصائب کی رسی زمانہ دراز سے دراز تر ہے، اسے دور فرمائیے تاکہ اس اذیت سے نجات ملے''

''سخاوت و عطا کے سوا، اب رحیم و مصطفی کے سامنے مجھے کوئی امید نہیں۔''

''مجھے نفع پہنچائیے اور خدا کی بارگاہ میں سفارش فرمائیے، میری مصیبتوں پر رحم فرمائیے کیونکہ آپ مستجاب الدعوات ہیں۔''

اس کے ساتھ ہی وہ بارگاہِ ربّ العزت میں بھی استغاثہ کرتے ہیں ؎

'' خدایا! میری امیدوں کو ثابت کر دکھا اور دشمنوں سے مجھے نجا ت دلانے میں تاخیر نہ فرما۔''

مولانا کا دوسرا قصیدہ بھی اسی نہج پر ہے جس میں اپنے مصائب و آلام اور حکام کے جبر وجور کا تذکرہ ہے۔ جزائر انڈیمان کی ناموافق آب و ہوا کی شکایت ہے اور پھر بارگاہِ ربّ العزت کی طرف رجوع کرتے ہوئے کہتے ہیں ؎

''میں نے خدا کے سوا سب سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور اس کے سوا کسی دوسرے سے بخشش و امداد کی امید نہیں ہے۔

اسی بادشاہ عادل کی رحمت کا ہی امیدوار ہوں جس کا ذکر میرا حرزِجاں اور میرا درد ہے۔ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا، حیا رکھنے والا، اور پکارنے والوں کے ساتھ مہربانی سے پیش آنے والا ہے۔ ہلاکت زدہ اور مظلوم و مضطر کی دعا رد نہیںکرتا۔''

اور پھر ہادیٔ مکرم ﷺ کی نعت کی طرف قلم کی باگ یوں موڑ دیتے ہیں ؎

''اے پروردگار! اس عاجز و خستہ کو ستودہ صفات احمد و حماد (ﷺ) کے طفیل کافر دشمنوں کے چنگل سے نجات دلا۔''

''تو نے انہیں تمام مخلوق کی طرف رہبری و ہدایت اور عطاء واعانت کے لئے رحمت عالم بناکربھیجا ہے۔''

اس طرح وہ حضور ﷺ کی ایک طویل نعت کے بعد وہی گزارش کرتے ہیں جیسے پہلے قصیدے میں کی گئی تھی ؎

''میں آپ پر قربان! مجھ پر رحم فرمائیے اور مجھے بخشش سے نوازیئے، اپنی عطا سے میری مشقتوں اور غموں کی تلافی کیجئے۔ اے جود و سخا کے مالک! مجھ پر کرم کرتے ہوئے خدا سے میری سفارش کیجئے کہ مجھے جلاوطنی اور قید تنہائی کی مصیبت اور آزمائش سے نجات دے۔''

اُردو میں شہر آشوب

اُردو شاعری نے فارسی شاعری کی آغوش میں آنکھ کھولی اور شاعری کے اُصول و ضوابط کے ساتھ فکرو خیال بھی اسی سے متاثر ہوئے۔ البتہ اس میں مقامی رنگ نے تھوڑی بہت انفرادیت پیدا کی اور ہندوستانی مسلمان یہاں کے ہندو مذہب سے بھی خاصے متاثر ہوئے یہاں تک کہ ان کے عقائد و افکار میں ہندوانہ رنگ و آہنگ نے جگہ پائی۔دیوی دیوتاؤں کی اس سرزمین پر مسلمانوں نے بھی ہندوؤں کی دیکھا دیکھی اپنے اکابر اور پیروں کو مافوق الفطرت ہستیاں ثابت کرنے میں بے سروپا حکایات و روایات کا سہارا لیا اور انہی کی طرح اپنے اولیا اوربزرگوں کواپنا حاجت روا اور مشکل کشا بنا کر پیش کیا۔ اس طرح بزرگوں سے برتر ہستی رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی تو اور بھی زیادہ حاجت روائی کا منبع تصور کی گئی۔ لہٰذا نعت گوؤں نے رسول اللہ ﷺ کی نعت منقبت اسی طرح کہنی شروع کردی جیسے ہندو کرشن جی کے بھجن کہتے تھے۔ البتہ ان کے ہاں نعتیہ شہر آشوب کہیں دکھائی نہیں دیتا محض آشوبِ ذات کی ذیل میں آنے والی نعتیں ملتی ہیں۔

اُردو شاعری ہندوستان میں اسلامی سلطنتوں کے زوال آمادہ دور میں پروان چڑھی ہے۔ جب مغلوں کا آفتاب غروب کی طرف بڑھ رہا تھا۔انگریز اور مرہٹے اپنی طالع آزمائی کے لئے ہرطرف فساد برپا کئے ہوئے تھے اور ریاستیں زیر و زبر ہورہی تھیں، اس لئے اردو شاعری میں قنوطیت کا عنصر آغاز ہی سے کارفرما نظر آتا ہے ۔ قدما میں میرؔ و دردؔ کی غزلیں اور سوداؔ کے شہر آشوب اس پر دلالت کرتے ہیں۔

1. میرؔ اپنی غزل میں ہی اس آشوب پرنالاں ہے اور اس لوٹ کھسوٹ میں اس کو اپنے افلاس و فقر کے بھی لٹ جانے کا اندیشہ ہے ؎
چور اُچکے سکھ مرہٹے میر و گدا سب خواہاں ہیں
چین میں ہیں جو کچھ نہیں رکھتے، فقر بھی اک دولت ہے یہاں

سودا کے شہر آشوب معاشرتی بدحالی کا نوحہ ہیں، مگر وہ نعتیہ نہیں ہیں۔

2. اسی طرح مرہٹوں اور روہیلوں کی لوٹ کھسوٹ اور قتل و غارت پر شاہ عالم ثانی اپنی بربادی پر یوں نوحہ کناں ہے ؎
صرصر حادثہ برخاست پئے خواری ما
داد برباد سرو برگ جہانداری ما
آفتاب فلک رفعت شاہی بودیم
برددر شام زوال آہ سیہ کاری ما
چشم ما کندہ شد از جورِ فلک بہترشد
تا نہ بینم کہ کند غیر جہانداری ما

3. یہ قصیدہ اس کے ذاتی اور سلطنت کے غم و اندوہ کی تصویر ہے مگر اس کو بھی نعتیہ شہر آشوب میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔۱۸۵۷ء کے انقلاب نے دہلی اور اس کے گردونواح بلکہ ہندوستان کے وسیع علاقے کو متاثر کیا جس پر بہت سے شعرا نے شہرآشوب لکھے مگر ان میں بھی کوئی نعتیہ شہر آشوب نظر نہیں آتا۔ غالباً اس قسم کا انداز پہلی بار حالیؔ کے ہاں نظر آتا ہے جس میں وہ اُمت کی بدحالی پر رسول اللہ ﷺ کے حضور دست بدعا ہوتے ہیں ؎
اے خاصۂ خاصانِ رسل وقت دعا ہے
اُمت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے
جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے

اس میں وہ مسلمانانِ ہند کی زبوں حالی کا رونا روتے ہیں۔ ایک ایک خرابی کا ذکر کرتے ہیں۔ ملت کی اخلاقی کمزوریوں اور معاشی اور معاشرتی پستی کی نشاندہی کرتے ہیں ؎
چھوٹوں میں اِطاعت ہے نہ شفقت ہے بڑوں میں
پیاروں میں محبت ہے نہ یاروں میں وفا ہے
دولت ہے نہ عزت نہ فضیلت نہ ہنر ہے
اک دین ہے باقی سو وہ بے برگ و نوا ہے

اور پھر آخر میں یہ گزارش کرتے ہیں ؎
فریاد ہے اے کشتی اُمت کے نگہباں
بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے
تدبیر سنبھلنے کی ہمارے نہیں کوئی
ہاں ایک دعا تیری کہ مقبول خدا ہے

حالی یہ جانتے ہیں کہ بگڑی کو سنوارنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے، اس لئے وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے عرض کرتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کیونکہ آپ ﷺ کی دعا مقبولِ خدا ہے۔

4. اسی طرح آگے چل کر ایک عظیم نعت گو مولانا ظفر علی خان روایتی نعت میں تنوع پیدا کرتے ہیں اور نہایت بلند پایہ نعت کے نمونے سامنے لاتے ہیں۔ ان کے ہاںبھی مولانا حالی کی طرح نعتیہ شہرآشوب ملتے ہیں مگر ان میں بھی وہی عقیدہ کارفرما ہے یعنی وہ بھی آنحضور ﷺ سے تخاطب تو کرتے ہیں مگر دعا ہی کے لئے عرض کرتے ہیں ؎
اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب
صبح ازل ہے تیری تجلی سے فیض یاب
خیر البشر ہے تو تو ہے خیر الامم وہ قوم
جن کو ہے تیری ذاتِ گرامی سے انتساب
مغرب کی دستبرد سے مشرق ہوا تباہ
ایماں کا خانہ، کفر کے ہاتھوں ہوا خراب
صدہا ترے غلام نصاریٰ کی قید میں
دن زندگی کے کاٹ رہے ہیں بصد عذاب
اے قبلہ دو عالم والے کعبہ دو کون
تیری دعا ہے حضرت باری میں مستجاب
یثرب کے سبز پردے سے باہر نکال کر
دونوں دعا کے ہاتھ بصد کرب و اضطراب
حق سے یہ عرض کر کہ تیرے ناسزا غلام
عقبیٰ میں سرخرو ہوں تو دنیا میں کامیاب

وہ اپنے اس انداز میں اُمت کے حال تباہ کی داستان آنحضور ﷺ کے گوش گزار کرتے ہیں ؎
گرتے ہوؤں کو تھام لیا جس کے ہاتھ نے
اے تاجدارِ یثرب و بطحا تمہی تو ہو
بپتا سنائیں جا کے تمہارے سوا کسے
ہم بیکسانِ ہند کا ملجا تمہی تو ہو

مولانا حالی اور مولانا ظفر علی خان آنحضور ﷺ سے تخاطب تو کرتے ہیں مگر ان سے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرنے کی ہی استدعا کرتے ہیں، براہِ راست استمداد نہیں کرتے۔

مولانا ظفر علی خان کی ایک اور نظم 'عرضداشت اُمت بحضورِ سرورِ کون و مکان' ہے۔ جس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے ؎
اے نشانِ حجت حق مظہر شانِ جلیل
تو نے کی تکمیل آئین مسیحا ؑ و خلیل ؑ

یہ ایک نعت ہے جس میں حضور ﷺ کی تعلیمات کے سبب ملت ِاسلامیہ کے عروج کا ذکر ہے اور آگے چل کر وہ لکھتے ہیں کہ ؎
ہم ترے احکام پر جب تک عمل کرتے رہے
ہم کو ڈھونڈے سے نہ ملتا تھا کوئی اپنا مثیل
پرچم اسلام اِک عالم پہ لہراتا رہا
مشوروں میں ہم رہے اقوامِ عالم کے دخیل

لیکن جب ہم نے آپ کی تعلیمات سے اغماض برتا تو پستی اور ذلت ہمارا مقدر بن گئی۔ ہم پر دور آسماں یونہی یورش کررہا ہے جیسے کعبے پر اصحابِ فیل چڑھ آئے تھے لیکن ہم آخر آپ کی امت ہونے کے ناطے سے دوسروں کے دست نگر کیوں ہوں ؎
ہم ابابیلوں سے لیکن کس لئے مانگیں مدد
جب کہ تو خود ہے ہماری فتح و نصرت کی دلیل
تکیہ جس طاقت پہ ہم کو ہے وہ ہے تیری دعا
جو کہ ہے مقبول درگاہِ خداوند جلیل
اے شفیع المذنبین! ... اے رحمۃ للعالمین ﷺ!
أنت کھفی أنت ھادي أنت لی نعم الدلیل

ایک اور نظم کا عنوان ہے ''اسلامیانِ ہند کی فریاد ؛ بارگاہِ سرور کائنات میں'' جس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے ؎
اے کہ تری نمود ہے غازہ روئے کائنات
جلوہ فشاں ہیں ہر طرف تیری ہی سب تجلیات

اس میں بھی وہ حسب ِسابق حضور کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ کے نور نے شب ِحیات کی تیرگی دور کردی۔ بت گروں نے خدا پرستی سیکھی، مگر اب ہم میں پھر وہی دور جہالت جاری ہوگیا ہے اور ہم شرعِ مبیں سے دور ہوگئے ہیں ؎
مرکز ثقل سے ستوں شرعِ مبیں کا ہٹ گیا
خطرہ میں آکے پڑ گیا دین قویم کا ثبات
ایک طرف ہیں ذات کی زہر بھری عداوتیں
ایک طرف ہیں نسل کے قہر بھرے تعصبات
حکمت وعلم کا مطب دینے لگا مریض کو
بے خبری و جہل کے بو قلموں مرکبات
عالم دیں فروش نے صوفی مکر کوش نے
دام ریا بچھا دیا اوڑھ لی دلق سیئات
سب سے زیادہ مستحق تیری توجہات کے
ہم ہیں کہ ہم پر آپڑیں سارے جہاں کی مشکلات
تیری نگاہِ مہرباں ہم کو ذریعہ فلاح
تیری دعاے مستجاب ہم کو وسیلہ نجات
دور فتادہ ہی سہی تیرے مگر غلام ہیں
ہم سے بھرا ہوا ہے کیوں گوشۂ چشم التفات

5. جناب جوش ملیح آبادی کا بھی ایک نعتیہ شہرآشوب ہے، جس کے چند اشعار ہیں ؎
تیرے گدائے بے نوا تیرے حضور آئے ہیں
چہروں پہ رنگ خستگی سینوں میں درد بے پری
آج ہوائے دہر سے ان کے سروں پہ خاک ہے
رکھی تھی جن کے فرق پر تو نے کلاہِ سروری
تیرے فقیر اور دیں کوچہ کفر میں صدا
تیرے غلام اور کریں اہل جفا کی چاکری
طرفِ کلہ میں جن کے تھے لعل و گہر ٹکے ہوئے
حیف اب ان سروں میں ہے دردِ شکستہ خاطری
جتنی بلندیاں تھیں سب ہم سے فلک نے چھین لیں
اب نہ وہ تیغ غزنوی، اب نہ وہ تاجِ اکبری
اُٹھ کہ تیرے دیار میں پرچم کفر کھل گیا
دیر نہ کر کہ پڑ گئی صحن حرم میں ابتری
خیز و دل شکستہ را دولت سوز و ساز دہ
مسلم خستہ حال را رخصت ترکتاز دہ

6. ایک شہرآشوب بصورتِ استغاثہ جناب سیماب اکبر آبادی کا ہے۔ یہ ایک مسدس ہے جو اقبالؒ کے 'شکوہ و جوابِ شکوہ' ہی کی طرح ہے۔ اس میں سلطنت ِترکی کے زوال پر نوحہ و ماتم کیا گیا ہے اورعالم اسلام کی مجموعی پست حالی پر اشک باری کی گئی ہے ؎
آپ کے جاتے ہی دنیا پہ مصیبت آئی
ایک آفت جو گئی دوسری آفت آئی
آہ بربادیٔ اسلام کی نوبت آئی
جس کی اُمید نہ تھی ہم کو وہ ساعت آئی
قصر ملت کے در و بام پہ بجلی ٹوٹی
چمن تازہ اسلام پہ بجلی ٹوٹی
ہائے رخصت جو ہوا جاہ و جلال اسلام
رہ گیا بے ثمر و برگ نہال اسلام
جو مسلمان ہیں ان کو ہے ملال اسلام
کسے معلوم ہے کیا ہوگا مآل اسلام
کیا ہے منظور تمہیں یا شہ ﷺ دیں کیا معلوم
خامشی کی ہے یہ حالت تو نتیجہ معلوم
وہ ہی ٹرکی جو کبھی روم بھی کہلاتا تھا
نام سے جن کے ، دل اغیار کا تھراتا تھا
مدتوں سے جسے بیمار کہا جاتا تھا
اشک بھر آتے تھے جب ذکر کبھی آتا تھا
آہ اب ماتم رخصت اسی بیمار کا ہے
حال صدمے سے برا قوم دل افگار کا ہے
میں نے فریاد میں رو رو کے گزارش کی تھی
کہ بری طرح برائی پہ ہے مائل اٹلی
داد فریاد کی لیکن مجھے اب تک نہ ملی
داد تو داد توجہ بھی نہ سرکار نے کی
جاں بلب آمد و امید قرار آخر شد
وقت بگذشت و مریض آخر کار آخر شد

7. دورِ حاضر کے سربرآوردہ ہمہ جہت شاعر عبدالعزیز خالد نے نعت گوئی میں ایک خاص آہنگ پیدا کیا ہے۔ انہوں نے نعت کے کینوس کو اتنی وسعت دی کہ فارقلیط، منحمنا اور عبدہ جیسی ایک ایک نعت کی مستقل کتابیں لکھی ہیں جو نعتیہ شاعری میں واحد مثال ہے۔ ان کے علاوہ نعتیہ مجموعے حمطایا، ماذ ماذ اور طاب طاب پیش کئے ہیں جن میں خوبصورت اور خیال انگیز نعتیں ہیں۔ جہاں تک نعتیہ شہرآشوب کا تعلق ہے، خالد کے ہاں بھی اس کی کثیر اور مؤثر مثالیں پائی جاتی ہیں۔

منحمنا ان کی ایک مسلسل نعت کا مجموعہ ہے جو کم و بیش ساڑھے پانچ سو اشعار پر مشتمل ہے۔ اس میں نعت گوئی کا ایک بحر بے کراں موجزن ہے ؎
محمد ﷺ انجمن کن فکاں کا صدر نشیں
محمد ﷺ افسر آفاق و سرورِ عالم
وہ عبدہ وہ رسولہ وہ اسمہ احمد
کتاب و حکم و نبوت کا خاتم و خاتم

آگے چل کر وہ مدیح سرورِ کون و مکان کے عجیب و غریب نکات بیان کرتے ہوئے فتوحاتِ محمدی کے ذکر کے ساتھ دنیا کی حالت کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچتے ہیں ؎

فتور و مفسدہ برپا ہے ربع مسکوں میں

مچا ہے کارگہ شیشہ گر میں اِک اودھم

شرابِ ناب سے ارزاں ہے خونِ انسانی

لہو ترنگ سے سرخوش ہے مادرِ قشعم

نہ اہل مدرسہ میں استقامت حنبل ؒ

نہ اہل میکدہ میں ہمت ابو الہیثم

حمطایا مختلف نعتوں کامجموعہ ہے اور ا س کی بیشتر نعتوں میں شہرآشوب کے مضامین ملتے ہیں ؎

عزیز خاطر آشفتہ حالاں کون دنیا میں

ترے دیوانے پکڑیںکس کا داماں یارسول اللہؐ

بھرے گا زخم ذلت کب تری درماندہ اُمت کا

ڈھلے گی کب سحر میں شامِ حرماں یارسول اللہؐ

ہوا ہے تنگ اس پر ہر طرف سے عرصۂ ہستی

سیہ بختی نے پکڑا ہے گریباں یارسول اللہ!ؐ

ایک اورنعت میں اُمت ِمرحومہ کی زبوں حالی اس طرح بیان کرتے ہیں ؎

یہ اُمت مرحومہ کہ ہے بارِ زمیں

کاش اس سے جہنم کہے بدا بدا

کیوں اندلس و ہند ہیں خوننا بہ فشاں

ماتم کریں صیون کی راہیں کس کا

لے ڈوبی انہیں ہوس زر و منصب کی

ہر شے ہے مسلمانوں میں ایماں کے سوا

ہے مردِ مسلماں کی ہلاکت کا سبب

آسائش و زینت حیاتِ دنیا

خالدکی اکثر نعتوں میں ملت کی ابتری، مسلمانوں کی بے عملی بلکہ بدعملی، فکرو کردار کی بے راہ روی اور معاشی اور معاشرتی زبوں حالی پر حزن و ملال کی جھلکیاں پائی جاتی ہیں۔ حمطایا کی ایک اور نعت میں وہ اس طرح نوحہ گر ہیں ؎

اعشیٰ پکارے تجھ کو اے ناموسِ ربّ

یا سید الناس و دیان العرب

اے شارعِ منہاج ناموس و شرف

اے شارحِ متن مقاماتِ ادب

اس نعت میں وہ رسول اللہ ﷺ کی نعت اپنے مخصوص انداز میں کہتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور اُمت کے حالِ زار پر نوحہ گر ہوتے ہیں ؎

مفقود ہے آزادیٔ فکر و نظر

اے وائے بہ انجامِ ارث جد و اب

اسلام جو تسلیم جاں کا دین ہے

آلہ ہو استحصال کا یا للعجب

معنی خلافت کے ہوئے ذہنوں سے محو

بھولے مسلمان تیری بعثت کا سبب

وہ ملت بیضا کہ ہے خیر الامم

قاروں بنی یکدم جو بے رنج و تعب

تاریخ کے اوراق خوں آلود ہیں

قیمت کوئی انسان کی جب تھی نہ اب

ہم مہدی موعود کے ہیں منتظر

طالع ہوجانے ساعت دیدار کب

گردوں سے ہوگا کب مسیحا کا نزول

دجال کے غلبے کے ہیں آثار سب

پھر ہو کسی فاروقِ اعظم کا ظہور

دیتا ہے لو پھر سے شرارِ بولہب

میں نوحہ خواں ہوں اُمت مرحومہ کا

میری المناکی نہیں ہے بے سبب

'ماذ ماذ' کی ایک طویل نعت کا آغاز اس طرح ہوتا ہے ؎

باعث بہجت دنیا رخِ زیبا تیرا

کسی ماں نے نہ جنا تجھ سے حسین تر بیٹا

تجھ سا پایا نہ کوئی انجمن آرا ہم نے

تجھ سا دیکھا نہ کوئی چشم فلک نے تنہا

اس نعت میں وہ مقاماتِ محمدیؐ کی پہنائیوں اور رفعتوں کا ذکر کرتے کرتے سوالِ حیرت بن جاتے ہیں اور اُمت کی فکری اُلجھنوں اور عملی بے راہ رویوں پر سراپا استفہام کا پیکر بن کر پکار اُٹھتے ہیں ؎

خیر و شر کا وہی عالم وہی بحرانِ یقین

ارتقا ایک فسوں ایک سراب ایک خلا

وہی اوہام پرستی وہی عذر مستی

وہی بیماری شک ہے وہی ہنگامہ لا

بس کہ دشوار ہے پہچان کھرے کھوٹے کی

دم نہ لینے دے اسے کشمکش بیم و رجا

کیسے تعمیر کریں عالم اسلام جدید

نت نیا فتنہ ہے شش طاق کہن میں برپا

کیا یہ ممکن ہے کہ اس گردش ایام کے بعد

زندہ ہو از سر نو عہد قرونِ اولیٰ

ان کے ذہن رسا میں سوالات موج در موج اُبھرتے چلے آتے ہیں۔ کیا قرآن وحدیث عہد و ماحول کے محکوم ہیں کیا قرآن فرد سے مخاطب ہے یا جماعت سے؟ کیا دین و دنیا کے مفادات جدا جدا ہیں؟ کیا سفرشوق میں جبر و تشدد جائز ہے؟ اب افلاک سے نالوں کا جواب کیوں نہیں آتا؟ کیا آسمان کے دروازے بند ہوگئے...؟

ان سوالوں میں گھری رہتی ہے اُمت تیری

کیسے بدلے ہوئے حالات سے ہو عہدہ برآ

متصل بحث و جدل میں اسے رکھیں مصروف

ہوسِ لذت امروز و خیالِ فردا

عہد پارینہ کا سرمایۂ فکر و تاویل

عہد حاضر کی نظر میں ہے حذنگ جستہ

کون تشکیک کی دلدل سے نکالے اس کو

کون جنگل میں دکھائے اسے سیدھا رستہ

مانگے خیراتِ نظر چشم زمانہ تجھ سے

سامنے قعر ہلاکت ہے پکڑ ہاتھ اس کا

کون دارین میں ہے تجھ سے اعز و اقرب

کون کونین میں ہے تجھ سے اَجل و اعلیٰ

'طاب طاب' میں گو اکثر نعتوں میں شہرآشوب کی ذیل میں آنے والے اشعار ملتے ہیں مگر ایک نظم پر خصوصی طور پر خالد صاحب نے خود یہ نوٹ دیا ہے ''نعت کے پردے میں یہ نظم ایک 'شہر آشوب' ہے۔'' ... اس نظم کا آغاز اس طرح ہوتا ہے ؎

اے امین و ایمن و مامون و ایمان و اماں

اے کہ تواز روئے قولِ فصل: مہر مرسلاں!

امن بھی آمین بھی مؤمن بھی کہتے ہیں تجھے

نو بہ نو تازہ بہ تازہ ہے تو ہر دم ہر زماں

پہلے شعر میں جو 'مہرمرسلاں'کہا گیا ہے، وہ از روئے قولِ فصل ہے۔ اس سے یہ تصور نہیں کیا جانا چاہئے کہ خدانخواستہ رسول اللہ ﷺ مہر مرسلاں (خاتم النّبیین) اس طرح ہیں جیسے گمراہ قادیانی ملت نے عقیدہ بنا لیاہے۔ یہاں انبیاء ِسابق پر آپؐ کی فضیلت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس نعتیہ شہرآشوب میں وہ حضور ﷺ سے مخاطب ہوکر عرض کرتے ہیںکہ تو صادق و مصدوق ہے اور میری تصدیق کی اس میں کوئی حیثیت نہیں، مگر میں ترا صدیق وصادق ہوں اور تیرے ساتھ میری اس نسبت کو اللہ نے پسند فرما کر مجھے توفیق اظہارِ بیان عنایت کی ہے۔ اس کے بعد شہرآشوب کا اس طرح آغاز ہوتا ہے :

شعر کے قالب میں ڈھلنے کے لئے بیتاب ہے

میرے سینے میں جو مخفی ہے وہ سوزِ بیکراں

کونسی شے دستبردِ وقت سے محفوظ ہے

ہرکہ ومہ ہے الم نشرح، عیاں راچہ بیاں

خالد کے ہاں ملت ِاسلامیہ پر خارجی حملہ و یلغار سے زیادہ ملت کے داخلی انتشار کی اہمیت ہے۔ اور یہ حقیقت بھی ہے کہ اگر اُمت واقعی رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر پوری طرح کاربند رہتی تو اس کی عظمت و شوکت کو کبھی زوال نہ آتا اور کسی بیرونی طاقت کو اس پر غلبہ حاصل نہ ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ خالد کا قلم اُمت کی بے اعتدالیوں اور بے عملیوں پر نوحہ گری کرتا ہے ؎

تجھ کو خود معلوم ہے احوال سارا کیا کہوں

تیری اُمت میں امانت کا مٹا نام و نشاں

دور دورہ اس میں ہے حرص و فریب و فند کا

ضعف ایمانی سے ڈھیلی پڑ گئی اس کی کماں

دل کی نامختون تھی اولاد اسرائیل کی

غالباً اب بھی ہے لیکن ملت اسلامیاں

اب نہیں خصلت کوئی اس میں دیانت نام کی

رزقِ طیب کے تصور ہی سے ہو یہ سرگراں

بغض انصاف و دیانت سے ہے اس کو للہّی

ان کے ذکر خیر میں رہتی ہے گو رطب اللساں

وہ ملت کی ایک ایک خامی پر دل گرفتہ ہیں اور پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اس ملت کو عدل سے رغبت نہیں رہی۔ أوفوا بالعقود (وعدے پورے کرو) کو انہوں نے کالعدم قرار دے دیا۔ ہر طرف فکری انتشار برپا ہے۔ عقل و علم و دانش سے انہیں نفرت ہے۔ خدا کے بندے زر و مال کے بندے بن گئے ہیں۔ احترامِ آدمیت ان کے ہاں سے اُٹھ گیا ہے۔ یہ امت ملوکیت کی حامی اور وکیل بن کر رہ گئی ہے۔ اہل نظر اور اہل فکر و دانش کو یہ دشمن سمجھتی ہے۔ ایک عرصے سے یہ اہل علم کا کشت و خون روا سمجھتی آرہی ہے۔ واعظ کی خطابت نے اس اُمت کوبے عمل بنا دیا ہے۔ اہل منبر جہالت کے پتلے ہیں اور ابوجہلانِ وقت کتاب و سنت کے شارح بنے بیٹھے ہیں۔ یہ کتابوں کے دشمن ہیں مگر اُمّ الکتاب کے وارث بنے ہوئے ہیں ؎

عصر حاضر کے تقاضوں کا کہاں ان کو شعور

کیا خبر ان کو ہے کیا شے حکمت ایمانیاں

کیا کریں گے یہ غلیظ القلب تالیف قلوب

انکے منہ میں جانے رکھ دی کس نے گز بھرکی زباں

ملت بیضا ولایاتِ فقیہاں میں بٹی

اب ہیں سر خلق خدا کے اور تیغ بے اماں

ہے توقع ان سے رحم و عفو و احسان کی عبث

فرقہ زہاد ہے ہم مشرب چنگیزیاں

ان کی بربریت قرونِ مظلمہ کے قصے نہیں عصر رواں اس کا چشم دید گواہ ہے۔ تفکر و تدبر ان سے کوسوں دور ہے ؎

ہے ترا ارشاد مؤمن کی فراست سے ڈرو

ذکر جس مؤمن کا ہے جانے وہ مؤمن ہے کہاں

اور پھر آخر میں اس طرح استدعا کرتے ہیں ؎

اک نگاہِ مجرمانہ ایک حرفِ مہربان

اے قرارِ جان خالدؔ اے عزیز دو جہاں

| خالد صاحب کے بعد جس عظیم نعت گو کا نام آتا ہے، وہ حفیظ تائب ہیں۔ تائب کی نعتیہ شاعری حرف و بیان کی محتاج نہیں۔ان کی نعتوں میں شہرآشوب کے اشعار اکثر ملتے ہیں مگر بعض نعتیں انہوں نے خاص طور پر اس نہج پر لکھی ہیں۔

جناب حفیظ تائب ایک نعتیہ شہرآشوب میں مولانا حالی اور ظفر علی خاں کی طرح رسولِ اکرم ﷺ سے دعا کرنے کی درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے مصائب دور ہوں ؎

محفل دہر کا پھر عجب رنگ ہے

زندگی کا چلن سخت بے ڈھنگ ہے

امن کا لفظ پابند معنی نہیں

سارے عالم پہ اُمڈی ہوئی جنگ ہے

سحرِ زر سے ہے پتھر ضمیر جہاں

عرصۂ زیست نادار پر تنگ ہے

اتباعِ شریعت کے دعوے تو ہیں

روح شیدائے تقلید افرنگ ہے

اور پھر عرض کرتے ہیں ؎

پھر اُٹھا ہاتھ بہر دعا یا نبیؐ

شاد ہو جائے خلق خدا یا نبیؐ

پھر سرافراز ہو اُمت آخریں

ختم ہو یورش ابتلا یا نبیؐ

یہ وطن جو بنا ہے ترے نام پر

اس کے سر سے ٹلے ہر بلا یا نبیؐ

اسی طرح ایک اور نظم 'شب ِاسریٰ' میں بھی وہ رسول اللہ ﷺ کی معراج کی عظمت کے مقابلے میں اُمت کی پستی پر افسردہ ہوتے ہیں اور پکار اُٹھتے ہیں ؎

جس خاک سے آقا مرے پہنچے سر قوسین

طے کرتے ہوئے عرصہ گہ عرش معلی

دل کو مرے تڑپانے لگی پستی اُمت

جوں جوں مجھے یاد آنے لگی رفعت مولیٰ

اس شاہ کی اُمت ہوئی محتاجِ زمانہ

ہر نعمت کونین ہے جس شاہ کا صدقہ

اور پھر اللہ تعالیٰ سے یوں دعاگستر ہوتے ہیں ؎

یہ حال زبوں اُمت مرحوم کا یا ربّ

اب شاعر سرکار سے دیکھا نہیں جاتا

پھر ملت بیضا کو سرافرازِ جہاں کر

اب پھیر دے ماضی کی طرف چہرئہ فردا

۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ میں حفیظ تائب کا قلم یوں دعاگستر ہوا ؎

اے حبیبؐ خدا اے شہ انبیاء

اپنے شیداؤں کی لاج رکھ لیجئے!

آج ہے پھر ہمیں سامنا کفر کا

نام لیواؤں کی لاج رکھ لیجئے!

اس نظم میں وہ وطن کی خوبیاں بیان کرکے جنگ کرنے والے مجاہدوں کی ماؤں، بہنوں اور بیویوں کی لاج رکھنے کی دعا کرتے ہیں اور آخر میں یہاں اسلام کا بول بالا ہونے کی دعا کرتے ہیں ؎

آرزو ہے کہ سکہ یہاں پر چلے

صرف اور صرف اللہ کے نام کا

بول بالا رہے خطہ پاک میں

تیرے پیغام کا دین اسلام کا

یہ تمنائیں جو قوم کے دل میں ہیں

ان تمناؤں کی لاج رکھ لیجئے

حفیظ تائب کی بیشتر نعتوں میں آشوبِ دہر اور آشوبِ ملت کے نوحے ہیں۔ ان کے دل میں مسلمانوں اور اسلام کا درد ہے۔ ان کی اکثر نعتیں اسی درد کی بازگشت ہیں ؎

پُر کرے گا کون روحوں کے خلا یا مصطفیؐ

تیری چشم لطف و رحمت کے سوا یا مصطفیؐ

کٹ کے ہم رستے سے تیرے جس قدر آگے بڑھے

جسم و جاں کا راستہ بڑھتا گیا یا مصطفی

مال و منصب، مکروفن ٹھہرے ہیں معیارِ شرف

مٹ رہا ہے جذبہ مہر و وفا یامصطفی

زیر دستوں پر مظالم حق پرستوں کا مذاق

کیا نہیں دیکھا بنامِ ارتقا یامصطفیؐ

میں نے شہر آشوب لکھا ہے بہ اُمید کرم

اب تو شہر افروز دیکھوں مصطفی یا مصطفیؐ

یہ 'شہرآشوب' کے مقابلے میں 'شہرافروز' دیکھنے کی تمنا حفیظ تائب ہی کے ہاں پہلی بار دیکھنے میں آئی ہے۔ غالباً (میرے علم کی حد تک) شہر آشو ب میں یہ پہلی مثال ہے اور ہمارے شعروادب میں ایک اضافہ ہے۔ ان کے شہر آشوب کے ٹکڑے جابجا نظر آتے ہیں ؎

اسیر حادثات نو بہ نو ہے اُمت آخر

کہ اس پر یورشِ اعدا ہے پیہم سیدؐ عالم

مداوا سب دکھوں کا ہے دعا تیری شہ والا

نظر تیری سبھی زخموں کا مرہم سیدؐ عالم

دنیائے دل ہے زیر و زبر سیدؐ البشر

لیجئے گا کب ہماری خبر سیدؐ البشر

کب تک رہے گی ملت بیضا رہین یاس

اے چارہ ساز درد بشر سیدؐ البشر

ایک اور نعتیہ شہرآشوب میں حفیظ تائب قوم کی بدحالیوں کا تذکرہ کرتے ہیں اور آنحضورؐ کے اکرام کے طلب گارہوتے ہیں ؎

اے نوید مسیحا تری قوم کا حال

عیسیٰ کی بھیڑوں سے ابتر ہوا

اس کے کمزور اور بے ہنر ہاتھ سے

چھین لی چرخ نے برتری یا نبیؐ

روح ویران ہے آنکھ حیران ہے

ایک بحران تھا ایک بحران ہے

گمشنوں شہروں قریوں پہ ہے

پر فشاں ایک گھمبیر افسردگی یانبیؐ

سچ مرے دور میں جرم ہے عیب ہے

جھوٹ فن عظیم آج لاریب ہے

ایک اعزاز ہے جہل و بے رہروی

ایک آزار ہے آگہی یانبیؐ

زیست کے تپتے صحرا پہ شاہ عربؐ

تیرے اکرام کا ابر برسے گا کب؟

کب ہری ہوگی شاخ تمنا مری

کب مٹے گی مری تشنگی یا نبیؐ

ایسا ہی ایک اور استغاثہ آمیز شہرآشوب ہے جس میں افغانستان پر روسی یلغار اور مسلمانوں پر جبر وجور کا نوحہ ہے۔نیز فلسطین پر صہیونی تسلط اور فلسطینی مجاہدین پر اسرائیلی ظلم و تشدد پر فریاد کی گئی ہے۔ یہ ایک نالہ غم ہے جس میں حفیظ تائب کی فغاں یوں ابھرتی ہے ؎

آمادہ شر پھر ہیں ستمگر مرے آقا

اُمت کی خبر لے مرے سرور مرے آقا

افغانیوں پر کوہِ الم ٹوٹ پڑا ہے

خوں ریز ہیں کہسار کے منظر مرے آقا

مسموم و شررِ بار ہیں کابل کی فضائیں

مغموم ہیں سب سرو و صنوبر مرے آقا

ہے سطوتِ محمود مسلماں سے گلہ بند

غزنی کا ہر اک ذرّہ ہے مضطر مرے آقا

پھر بھیک ہمیں قوتِ حیدر کی عطا ہو

اک حشر بپا ہے پس خیبر مرے آقا

اس شہرآشوب میں وہ آگے فلسطین کے حال زار پر یوں اشک فشانی کرتے ہیں ؎

فریاد کناں ہیں در و دیوار فلسطین

ہیں نوحہ بلب مسجد و منبر مرے آقا

نبیوں کی زمیں منتظر حرفِ اذاں ہے

پہنچے کوئی اسلام کا لشکر مرے آقا

سازش سے یہود اور نصاریٰ کی جہاں میں

توحید کے فرزند ہیں بے گھر مرے آقا

وہ اس کرب کا اظہار کرتے ہیں کہ دنیا میں تمام غیر مسلم اقوام اسلام کی دشمن ہیں اور (مقولہ) الکفر ملۃ واحدۃ کے مصداق وہ سب مسلمانوں کی تخریب و تذلیل کے لئے باہم متحد ہیں۔ مگر مسلمانوں کو صرف آپ کا سہارا ہے ؎

صہیونیت افرنگ کے بل پر ہے تنو مند

مسلم ترے دم سے ہے تونگر مرے آقا

ہر دور پرُ آشوب میں اِک تیری دعا ہے

وہ جس سے بدلتا ہے مقدر مرے آقا

توفیق جہاد اُمت آخر کو بھی مل جائے

طاغوت صف آرا ہے جو کھل کر مرے آقا

پھر غلبہ اسلام ہو آفاق میں ہر سو

تائب کو یہ حسرت ہے برابر مرے آقا

حالی اور ظفر علی خاں کی طرح تائب کا بھی شہرآشوب کا نقطہارتقا حضورؐ سے دعا کرنے کی استدعا پر ہی منتج ہوتا ہے۔ یہاں یہ گذارش کردینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ قرونِ اولیٰ کی عربی نعتیہ شاعری میں حضورؐ سے دعا کرنے کی استدعا کرنا بھی ثابت نہیں ہوتا۔ یہ بھی عجمی شعرا کا ہی خاصہ ہے۔ اس سلسلے میں حضرت عمرؓ کا وہ واقعہ یاد آتا ہے جب وہ نمازِ استسقاء کے لئے حضورؐ کی وفات کے بعد آپؐ کے چچا حضرت عباسؓ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بارش کی دعا کرنے کے لئے ساتھ لے جاتے ہیں۔ اگر وہ آنحضورؐ سے دعا کرنے کی التجا کرنے کا عقیدہ رکھتے تو ضرور ایسا کرتے مگر وہ حضورؐ کی تعلیم ہی کے باعث جانتے تھے کہ وفات کے بعد انبیا سے بھی کوئی التجا نہیںکی جاسکتی۔آج نبی کریم سے استمداد کا نظریہ شرعی لحاظ سے درست نہیں۔

} ہمارے ایک اور بزرگ شاعر جناب قمر میرٹھی مرحوم نہایت عمدہ نعت گو تھے۔ وہ بھی ایک مخمس نعتیہ شہرآشوب بعنوان 'بحضورِ رحمت ِتمام علیہ الصلوٰۃ والسلام' میں اپنا دردِ دل اور امت کی بدحالی کا نوحہ اس طرح کرتے ہیں ؎

آپ کے در پہ یہ فقیر لایا ہے شاہِ کائنات

آنکھوں میں اشک غم کی رو دل میں ہجومِ واردات

عرصہ گزر گیا حضور تنگ ہے عرصۂ حیات

آپ کے لطف کے سواکوئی نہیں رہِ نجات

میرے حضور التفات میرے حضور التفات

سو گئی روح غزنوی جاگ اٹھا ہے سومنات

اہل حرم پہ خندہ زن آج ہیں لات اورمنات

آپ ظہور حسن ذات آپ مظاہر صفات

ایک نگاہ التفات ایک نگاہ التفات

میرے حضور التفات میرے حضور التفات

حال بیاں ہو کیا حضور اُمت خستہ حال کا

اب نہ خوشی کی ہے خوشی اب نہ الم ملال کا

دل سے نکل گیا خیال اوج کا اور زوال کا

مسخ توہمات نے کردیے سب تصورات

میرے حضور التفات میرے حضور التفات

نو بندوں کی یہ نظم اُمت مسلمہ کے حال تباہ کا نوحہ ہے جس میں ہربند کے ٹیپ کے مصرعے میں رسول اللہ ﷺ سے التفات کی استدعا کی گئی ہے۔ آخری بند میں اعترافِ گناہ اور امید ِعفو و رحمت کے ساتھ نگاہِ التفات کی طلب کی گئی ہے ؎

قلب صمیم سے ہوں میں معترف گنہ حضورؐ

فردِ عمل میں ہیں مری صرف قصور ہی قصور

اس کے بوصف امید عفو رکھتا ہے بہ قمر ضرور

طالب التفات پر ایک نگاہِ التفات

میرے حضور التفات میرے حضور التفات

اسی طرح ایک اور نظم بعنوان 'صدقہ معراج کا' مخمس کی صورت میں لکھی گئی ہے جس میں وہ پاکستان کے دو نیم ہونے کے حادثے پرنالہ زن ہیںجو پاک بھارت جنگ ۱۹۷۱ء میں رونما ہوا ؎

دو برس پہلے گزرا تھا جو حادثہ

اک ورق روح فرسا ہے تاریخ کا

بھائی سے بھائی ایسا ہوا ہے جدا

اب خدا ہی ملائے تو ہوں ایک جا

یا حبیبؐ خدا یا حبیبؐ خدا

ہند میں قید ہیں اب تک اپنے جواں

جھیلتے ہیں جو ہر طرح کی سختیاں

آہ سویا ہے کیسا ضمیر جہاں

ہے زباں اور کوئی نہیں بولتا

یا حبیبؐ خدا یا حبیبؐ خدا

آپ کی ملت اے رحمت کل اُمم

ہر طرح ہے خراب ستم صید غم

آپ ہی ہیں مداوائے درد و الم

دہر میں آپ کا در ہے باب الشفا

یا حبیبؐ خدا یا حبیبؐ خدا

قمرؔ بھی آخری بند میں حضورؐ کی بارگاہ میں اُمت کے حق میں دعا کرنے کی ہی درخواست کرتے ہیں اور اسلام کی عظمت رفتہ کے لوٹ آنے کے آرزومند ہیں ؎

پھر ہو صبح سکوں کا طلوع آفتاب

عظمت رفتہ پھر لوٹ آئے شتاب

پھر مسلماں ہوں دنیا میں سطوتِ مآب

کیجئے اپنی اُمت کے حق میں دعا

یا حبیبؐ خدا یا حبیبؐ خدا

دورِ حاضر کے بیشتر نعت گو شعرا نعت میں آشوبِ ذات کے ساتھ ساتھ آشوبِ ملت کو بھی اپنا موضوعِ سخن بنا رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ حالات کی بو قلمونی حساس دل شاعر کو متاثر کئے بغیر نہیں رہتی اور شاعر اپنے جذبات کو شعری جامہ پہنانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ پاکستان کی گذشتہ دو جنگیں،افغانستان پر روسی تسلط، فلسطین اور عالم اسلام کے دیگر ممالک میں مسلمانوں کی ابتری کسی نہ کسی صورت میں ہمارے شاعر کے نوکِ قلم پر آتی رہتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ نعت میں بھی شہرآشوب کے مضامین اکثر نعت گوؤں کے ہاں پائے جاتے ہیں۔ خواہ وہ باقاعدہ نعتیہ شہرآشوب کی صورت میں ہوں خواہ نعتیہ مضامین کے ساتھ تذکرہ، اس قسم کے کچھ اشعار داخل ہوں۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس سے ایک مسلمان شاعر مستثنیٰ نہیں ہوسکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کا انداز کیا ہے اور اس کے فکر و تخیل کی رسائی کہاں تک ہے؟

(10) جناب یزدانی جالندھری کا ایک قصیدہ ہے جس میں شہر آشوب کی صورت میں حضورؐ سے دعا کی درخواست بھی کی گئی ہے اور بگڑے ہوئے حالات پرچشم عنایت کی تمنا بھی ہے ؎

ہوگئی خوار و زبوں آپ کی اُمت آقا

اس کے حالات ہیں آئینۂ عبرت آقا

جس کے اقبال پہ حیران تھے اہل عالم

اب اک ادبار ہے اس قوم کی قسمت آقا

وہ جو اسلاف کی میراث گراں مایہ تھی

اب نہ باقی وہ حمیت نہ وہ غیرت آقا

تخت ِکی، خسرو و جم جس نے الٹ ڈالے تھے

قابل رحم ہے اس قوم کی حالت آقا

اس قصیدے میں مسلمانوں کی علمی پستی، اخلاقی بے رہروی، باہمی نفاق و انتشار اوراغیار کی دریوزہ گری پر رنج و غم کا اظہار کیا گیا ہے اور پھر یہ استدعا کی گئی ہے ؎

اس کے بگڑے ہوئے حالات سنور سکتے ہیں

ہو اگر آپؐ کی اک چشم عنایت آقا

کیجئے عرض بہ درگاہ خداوند جہاں

پھر عطا ملت بیضا کو ہو عظمت آقا

(11) ایسا ہی ایک قصیدہ ریاض حسین چودھری کا ہے جس میں ان کا یہ دعویٰ بھی ہے ؎

آبگینوں کی سوغات لایا ہوں میں

طرز میری ہے سب سے جدا یا نبیؐ

حالانکہ یا نبی(ﷺ) کے تخاطب کا نمونہ سابقہ صفحات میں حفیظ تائب کے ذکر میں دیا جاچکا ہے۔ ریاض صاحب کے اس قصیدے میں وہی نوحہ گری ہے اور فریاد کی وہی لے ہے جو دوسروں کے ہاںپائی جاتی ہے۔ کوئی خاص طور پر 'جدا طرز' نہیں ہے ؎

جبر کی قوتیں دندناتی پھریں

ظلم کی ہوگئی انتہا یا نبیؐ

صحن اقصیٰ سے کابل کی دہلیز تک

ایک کہرام سا ہے بپا یا نبیؐ

حالانکہ یہ کہرام کابل کی دہلیز تک ہی نہیں اندر کے درودیوار تک زلزلہ انگیز ہے۔ آگے پھر وہی اندازِ استمداد ہے جو دو سروں کے ہاں ملتا ہے ؎

کس کے در پر کروں میں صدا یا نبیؐ

کون اپنا ہے تیرے سوا یا نبیؐ

اب جب مسلمان کو بھی نبی ﷺ کے سوا کوئی ہستی دعا سننے والی یا مصائب و مشکلات دور کرنے والی نظر نہ آئے تو پھر اللہ تعالیٰ کی اہمیت و عظمت اور کس کے ہاں ملے گی؟

اللہ کا ثانی ہے ، نہ کوئی ہمسر

پیغام یہ لائے ہیں سب پیغمبر

مت اس کے سوا کسی کو مشکل میں پکار

{ لاَ تَدْعُ مَعَ اﷲِ اِلٰہًا اٰخَر }

(علیم ناصری)

ہمارے اس دور میں تو نعت میں استمداد ایک لازمی عنصر اختیار کرگیا ہے اور نوجوان شعرا تو سیرت کی کتابوں کا مطالعہ کئے بغیر دھڑا دھڑا نعتیں ہی کیا نعتوں کے مجموعے شائع کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کی کوئی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا بلکہ رسول اللہ ﷺ کو 'مختارِ کل' کا لقب دے رکھا ہے۔ اور کائنات کی ہر چیز آپ کے زیر و نان ٹھہرا دی گئی ہے۔ حالانکہ یہ سب کچھ قرآن اور احادیث ِرسول ﷺ کی تعلیمات کے بھی سراسر خلاف ہے۔اللہ تعالیٰ ان سخنورانِ اسلام کو سیدھی راہ دکھائے اور ان 'پیروانِ حسانؓ بن ثابت' کو انہی کے اندازِ فکرونظر سے بہرہ ور ی عطا فرمائے...!! اللھم إنی اسئلک علما نافعا و عملا متقبلاً