مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام ۲۶؍ جنوری ۲۰۰۳ء کے علمی مذاکرے میں رسول اکرم ﷺکی پیش گوئیوں کے حوالے سے تعبیر و توجیہ کے جواُصول طے پائے تھے (محدث:مئی۲۰۰۳ء) ان کے مطابق پیش گوئیوں کی تعبیر و توجیہ زبان رسالت ﷺسے واردما بعد الطّبعیاتی (غیبی) اُمور کی تشریح وتفصیل کے اُصولوں سے یکسر مختلف ہے کیونکہ پیش گوئیاں عموماً ان زمینی حقائق کے بارے میں ہوتی ہیں جن کی تعبیر میں تاویلاتِ فاسدہ سے احتراز کی صورت اختیار کرتے ہوئے اِستعاراتی اُسلوب نہ صرف جائز ہے بلکہ قیاساتِ بعیدہ سے اِحتیاط ملحوظ رکھتے ہوئے ان میں اجتہاد کا وسیع عمل دخل بھی ہے۔ البتہ پیش گوئیوں کے بارے میں زبانِ رسالتﷺ سے ذکر کردہ علامات کے تحت جو اُلجھن عموماً علما کو پیش آتی ہے وہ ان کے زمانہ کے احوال و ظروف کے دائرے میںایسے اُمور سے قریبی مشابہت ہوتی ہے جس سے یہ انہیں گمان ہوتا ہے کہ یہی حالات کسی متعین پیش گوئی کے وقوع پذیر ہونے کے ہیں جبکہ گزرا ہوا وقت ہلکا نظر آتا ہے یا مستقبل کا اُفق زیادہ وسیع ہوتا ہے، اسی لئے اگر الفاظ و قرائن زیادہ واضح نہ ہوں تو پیش گوئی کے بارے میں امکانی توجیہ ہی مناسب ہوتی ہے۔

پیش گوئی کا مقصد چونکہ انسانی رویوں کی اصلاح بھی ہوتا ہے، ا س لئے بھرپور کوشش ہونی چاہئے کہ پیش آمدہ حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اصل حقائق کا تعین کیا جائے۔ پیش گوئیاں عموماً یا تو ایسے حالات یا علامتوں پر مشتمل ہوتی ہیں جو عموما پیش آتے رہتے ہیں یا ایسے حقائق پرمشتمل ہوتی ہیں جو صرف ایک ہی دفعہ معرضِ وجود میں آئے ہیں یا آئیں گے۔ ان کی فضیلت اور مذمت بھی اس خاص موقعے کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ غزوۂ ہند جس کی اتنی بڑی فضیلت زبانِ رسالت سے بیان ہوئی کہ بعض جلیل القدر صحابہ خلافت ِراشدہ کے دیگر عظیم غزوات کے بالمقابل اس میں شرکت کی خواہش کرتے رہے، وہ ایک لازمامتعین غزوہ ہے جس کے لئے احادیث میں وارد الفاظ بعث، جیش، عصابۃ وغیرہ واضح دلیل ہیں۔ ان کو نظر انداز کرکے عہد ِنبوت سے لے کر تاقیامت برصغیر (ہندوستان) میں پیش آنے والی مسلمانوں اور کافروں کی تمام لڑائیوں کو 'غزوئہ ہند' قرار دے دینا درست نہیں ہے جیسا کہ مقالہ نگار نے کیا ہے۔ بالخصوص برصغیر کے اندر کی مسلمانوں اور کافروں کی باہمی لڑائیاں تو بالکل غزوئہ ہند نہیں ہیں۔غزوہ ہند کے بارے میں احادیث کا اُسلوب بالکل واضح ہے کہ یہ ایک لشکر بیرونِ ہند سے برصغیر موجودہ پاک و ہند پر حملہ آور ہوگا۔ قرین قیاس یہی ہے کہ یہ برصغیر ہند پرمسلمانوں کا وہ پہلا تاریخی حملہ تھا جب سندھ بھی پاکستان کی بجائے ہندوستان کا حصہ تھا۔ اسی لئے ہمارے خیال میں یہ غزوہ بنو اُمیہ(ولید بن عبدالملک) جن کا دارالخلافہ شام (بیت المقدس) تھا، کے زمانے میںمحمد بن قاسم کا وہ حملہ ہی ہے جو ہند کے باسیوں پر اس وقت ہوا جب وہ کافر تھے۔ یہ حملہ برصغیر میںوسیع طور پر اسلام کے پھیلاؤ کا باعث بھی ہوا اور اس حملہ میں کافروں کاراجاداہر تو مارا گیا لیکن بہت سے ماتحت حکام مسلمانوں کے قیدی بھی بنے۔ اس لحاظ سے یہ غزوہ امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نزولِ ثانی کے وقت دجال سے لڑی جانے والی اس جنگ سے بہت قبل پیش آنے والی وہ لڑائی ہے جو حتمی طور پر ابھی مسلمانوں کو پیش نہیں آئی۔

ہم نے زیر نظر مقالہ کے آخر میں جو سوالات ادارۂ محدث کی طرف سے اُٹھائے ہیں، وہ بحث کی اسی تنقیح کی غرض سے ہیں کیونکہ مقالہ نگار کی جمع کردہ احادیث سے فقہ الحدیث کی صورت میں مقالہ نگار نے جو نتائج اخذ کئے ہیں، ان کا رخ ان دنوں برصغیر کی اندرونی چپقلش کی طرف جارہا ہے یعنی برصغیر کے دونوں حصے پاکستان اور ہندوستان کے مابین مسئلہ کشمیر پرکوئی جنگ مراد لی جا رہی ہے ۔ قضیہ کشمیرا س وقت پاک وہند کی کشمکش میں اہم عنصر ہونے کے باوجود اسے مجوزہ غزوئہ ہند قرار دینا 'تحکم' دکھائی دیتا ہے۔ گویا مقالہ نگار نے عہد ِنبوت کے بعد تاقیامت پیش آنیوالی برصغیر کی تمام لڑائیوں کو غزواتِ ہند کا جو تسلسل قرار دیاہے اسکا حاصل یہ ہے کہ غزوئہ ہند کوئی متعین غزوہ نہیں ہے بلکہ وہ متعدد قوموں کے درمیان پیش آنے والے مختلف واقعات ہیں۔ اگر کوئی لڑائی برصغیر پر کسی قوم کے پے درپے حملوں کا ایک تسلسل ہی ہوتی، پھر بھی شائد اسے 'ایک غزوہ' قرار دینے کی گنجائش نکل سکتی تھی لیکن واقعتا ایسا بھی نہیں ہے۔ ہمارے انہی ملاحظات کے پیش نظر زیر اشاعت بحث کا قارئین مطالعہ فرمائیں۔ (محدث)

غزوئہ سندھ و ہند ؛ ایک مبارک الہامی پیش گوئی

غزوہائے ہندو سندھ اسلامی تاریخ کاایک درخشاں باب ہے، اس کا آغاز خلفائِ راشدین کے عہد سے ہوا، جو مختلف مراحل سے گذرتا ہوا آج ۲۰۰۳ء میں بھی جاری ہے اور مستقبل میں اللہ بہتر جانتا ہے کب تک جاری رہے گا۔ اس کی دینی بنیادوں پر غور کریں تو حقیقت یہ ہے کہ ایک لحاظ سے (یہ سلسلہ )غزوئہ ہند، نبوی غزوات و سرایا میں شامل ہے۔

ہماری نظر میں نبوی غزوات کی... بلحاظِ زمانہ وقوع... دو بڑی قسمیں ہیں:

1. غزواتِ ثابتہ یا واقعہ

یعنی وہ جنگیں جو رسول اکرمﷺ کی زندگی میں وقوع پذیر ہوچکیں۔ سیرت نگاروں اور محدثین کی اصطلاح میں ان غزوات کی دو قسمیں ہیں:

ا۔ غزوہ: وہ معرکہ جس میں آپ ﷺنے بذاتِ خود شرکت فرمائی اور جنگ میں مجاہدین صحابہ کی کمان اور قیادت کی۔ تعداد کے اعتبار سے یہ تقریباً ۲۷ جنگیں ہیں جن میں نبیﷺ نے بذاتِ خود شرکت فرمائی۔(۱)

ب۔ سریہ: محدثین اور سیرت نگاروں کی اصطلاح میں وہ جہادی مہمات جن میں آپ نے بذاتِ خود شرکت نہیں فرمائی بلکہ کسی صحابی کو قیادت کے لئے متعین فرمایا 'سریہ' کہلاتی ہیں اور کتب ِحدیث و سیرت میں ان غزوات و سرایا نبویہ کے تفصیلی حالات کا تذکرہ موجود ہے۔

زمانی تقسیم کے لحاظ سے یہ دونوں قسمیں 'غزواتِ واقعہ' کے ذیل میں آتی ہیں۔

2. غزواتِ موعودہ

اس کی (ایک) مثال نبی اکرم ﷺکی وہ پیشین گوئی ہے جسے ترکوں سے جنگ کے سلسلہ میں حضرت ابوہریرہؓ نے روایت کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:

''قیامت سے قبل تم چھوٹی آنکھوں ، سرخ چہروں، اور ہموار ناک والے ترکوں سے جنگ کرو گے، ان کے چہرے گویا چپٹی ڈھالیں ہیں۔'' (۲)

غزواتِ موعودہ کی ایک اور مثال فتح قسطنطنیہ کی نبوی پیشین گوئی ہے۔ سیدنا ابوہریرہؓ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

''قیامت سے قبل یہ واقعہ ضرور پیش آئے گا کہ اہل روم اَعماق یا دابق (۳) کے قریب اُتریں گے تو ان سے جہاد کے لئے، روئے زمین پر اس وقت کے بہترین لوگوں پرمشتمل ایک لشکر مدینہ منورہ سے نکلے گا۔ جنگ کے لئے صف بندی کے بعد رومی کہیں گے: ہمارے مقابلے کے لئے ان لوگوں کوذرا آگے آنے دیجئے جو ہماری صفوں سے آپ کے ہاتھوں قیدی بنے (اورمسلمان ہو کر آپ سے جاملے ہیں)، ہم ان سے خوب نمٹ لیں گے۔ مسلمان جواباً ان سے کہیں گے:بخدا ہم اپنے بھائیوں کو آپ کے ساتھ اس لڑائی میں اکیلے نہیں چھوڑ سکتے۔ اس کے بعد جنگ ہوگی جس میں ایک تہائی مسلمان شکست خوردہ ہوکر پیچھے ہٹ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی توبہ ہرگز قبول نہیں فرمائے گا۔ ایک تہائی لڑ کر شہادت کا درجہ حاصل کریں گے، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں افضل ترین شہداء کا مقام پائیں گے۔ باقی ایک تہائی مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ فتح سے ہمکنار فرمائیں گے، ان کو آئندہ کسی آزمائش سے دوچار نہیں کیاجائے گا، یہی لوگ قسطنطنیہ کو فتح کریں گے۔'' (۴)

کفار کے خلاف نبوی غزوات میں سرکارِ دو عالم ﷺکی قیادت میں شرکت کے لئے صحابہ کرام بے پناہ شوق اور جذبہ رکھتے تھے۔ ایسا شوق، سچے ایمان کا تقاضا اور حقیقی حب رسول ﷺکی علامت تھی۔ لیکن نبی اکرم﷤کے مبارک عہدکے بعد، جب آپ کی قیادت میں جہاد کی سعادت حاصل کرنے کا موقع باقی نہ رہا تو سلف صالحین ایسے مواقع کی تلاش میںرہتے تھے کہ کم از کم آپ کی پیش گوئی والے معرکہ میں شرکت کی سعادت ضرور حاصل کرسکیں۔

اس ضمن میں ایک دلچسپ واقعہ حضرت عمر ؒبن عبدالعزیز کے عم زاد، برادر نسبتی اور مشہور تابعی کمانڈر حضرت مسلمہ بن عبد الملک بن مروان کے بارے میں کتب ِحدیث و تاریخ میں نقل ہوا ہے۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ حضرت عبداللہ بن بشیر بن سحیم خثعمی غنوی ؓ اپنے والد حضرت بشیرؓ سے ایک حدیث بیان کرتے تھے کہ انہوں نے رسول اللہ﷤کو ارشاد فرماتے سنا :

''قسطنطنیہ کا شہر ضرور فتح ہوگا، اس فاتحانہ مہم کا امیر ِلشکر بہترین امین اور لشکر ِمجاہدین بہترین لشکر ہوگا۔''

(مسند احمد :۴؍۲۳۵ بحوالہ السلسلۃ الضعیفۃ ؛۸۷۸)

یہ حدیث حضرت مسلمہ بن عبدالملک کے علم میں آئی تو انہوں نے اس کے راوی حضرت عبداللہ بن بشیر کوبلوا بھیجا۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب میں ان سے ملا تو انہوں نے مجھ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو میں نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے ان کو یہ حدیث سنائی، چنانچہ انہوں نے مجھ سے یہ حدیث سننے کے بعد قسطنطنیہ پرچڑھائی کا فیصلہ کیا۔

احادیث ِغزوئہ ہند میں امام بیہقی ؒنے حضرت ابوہریرہؓ کی جو روایت نقل کی ہے(دیکھئے السنن الکبریٰ: ۹؍۱۷۶)، اس میں حضرت امام ابواسحق فزاری کا قول ذکر کیا ہے کہ جب انہوں نے یہ حدیث سنی تو ابن داود سے اپنی اس خواہش کا اظہارکیا :

''کاش کہ مجھے رومیوں کے ساتھ جنگ و جہاد میں گذری ساری عمر کے بدلہ میں ہندوستان کے خلاف، نبوی پیشین گوئی کے مطابق، جہادی مہم میں حصہ لینے کا موقع مل جاتا۔''

امام ابو اسحق فزاری ؒکی اس تمنا (کے پیش نظران )کی عظمت کا اندازہ ان کے مناقب میں، حضرت فضیل بن عیاض ؒکے اس خواب سے لگایا جاسکتا ہے جو امام ذہبی نے سیر أعلام النبلاء میں نقل کیا ہے۔ انہوں نے خواب میں دیکھا :

''نبیﷺکی مجلس لگی ہوئی ہے اور آپ کے پہلو میں ایک نشست خالی ہے تو میں نے ایسے موقع کو نادر اور غنیمت سمجھتے ہوئے اس پربیٹھنے کی کوشش کی تو نبی ﷺ نے یہ کہتے ہوئے منع فرمایا کہ یہ نشست خالی نہیں بلکہ ابواسحق فزاری کے لئے مخصوص ہے۔''(۵)

غزوئہ سندھ و ہند کے متعلق نبوی پیشین گوئی

غزوئہ ہند و سندھ نبیﷺکی پیش گوئیوں میں ان غزواتِ موعودہ کی ذیل میں آتا ہے جن کی فضیلت کے متعلق نبی کریمﷺ سے متعدد احادیث مروی ہیں۔ اہل علم و فضل ان احادیث کا تذکرہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں ضرور کرتے رہتے ہیں لیکن عام طور پر کسی حوالہ کے بغیر۔ ہم نے مقدور بھر محنت کرکے بے شمار کتب مصادر حدیث کو کھنگالا، ان احادیث کو جمع کیا، ترتیب دے کر ان کا درجہ بلحاظِ صحت و ضعف معلوم کیاپھر ان ارشادات نبوی کے معانی و مفاہیم پر غوروفکر کیا اور ان سے ملنے والے اشارات و حقائق اور پیشین گوئیوں کو قرطاس پرمنتقل کیا۔ اب ہم اپنی اس محنت کے نتائج سب مسلمان بھائیوں کی خدمت میں بالعموم اور برصغیر بالخصوص کشمیر کے مسلمانوں کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے یک گونہ خوشی اور مسرت محسوس کرتے ہیں۔

ہماری معلومات کے مطابق ایسی احادیث ِنبوی کی تعداد پانچ ہے جن کے راوی جلیل القدر صحابہ کرام: حضرت ابوہریرہ (جن سے دو حدیثیں مروی ہیں)، حضرت ثوبان ، اور حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہم اجمعین اور تبع تابعین میں سے حضرت صفوان بن عمرو ؒہیں۔ ذیل میں ہم ان سب احادیث کو ذکر کریں گے پھر ان کی علمی تخریج (ان کتب ِحدیث اور محدثین کے حوالہ سے کریں گے جنہوں نے ان کا تذکرہ کیا ہے) اس کے بعد ان سے مستنبط شدہ شرعی احکام، فوائد اور دروس کو بیان کریں گے۔ ان شاء اللہ

1. حدیث ِابوہریرہؓ

سب سے پہلی حدیث حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں :

«حدثني خلیلي الصادق رسول اﷲﷺ أنه قال: ''یکون في ھذه الأمة بعث إلی السند والھند'' فإن أنا أدرکته فاستشھدت فذلك وإن أنا رجعت وأنا أبوھریرة المحرر قد أعتقني من النار»

''میرے جگری دوست رسول اللہﷺ نے مجھ سے بیان کیا کہ: اس اُمت میں سندھ وہند کی طرف لشکر وں کی روانگی ہوگی۔ اگر مجھے ایسی کسی مہم میںشرکت کا موقع ملا اور میں (اس میں شریک ہوکر) شہید ہوگیا توٹھیک، اگر (غازی بن کر) واپس لوٹ آیا تو میں ایک آزاد ابوہریرہ ہوں گا۔ جسے اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ سے آزاد کردیا ہوگا۔''

ان الفاظ کے ساتھ اس حدیث کو صرف امام احمد بن حنبلؒ نے مسند میں روایت کیا ہے اور ابن کثیر نے انہی کے حوالہ سے البدایۃ والنھایۃ میں نقل کیا ہے ۔(۶)

قاضی احمد شاکرؒ نے مسنداحمد کی شرح و تحقیق میں اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔(۷)

امام نسائی ؒنے اسی حدیث کو اپنی کتاب السنن المجتبٰی اور السنن الکبرٰی دونوں میں مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے :

«وعدنا رسول اللہﷺ غزوة الھند فإن أدرکتھا أنفق فیھا نفسي ومالي فإن أقتل کنت من أفضل الشھداء وإن أرجع فأنا أبوهریرة المحرر»(۸)

''نبی کریم ﷺنے ہم سے غزوئہ ہند کا وعدہ فرمایا۔(آگے ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں:) اگر مجھے اس میں شرکت کاموقع مل گیا تو میں اپنی جان و مال اس میں خرچ کردوں گا، اگر قتل ہوگیا تو میں افضل ترین شہدا میں شمار ہوں گا اور اگر واپس لوٹ آیا تو ایک آزاد ابوہریرہ ہوں گا۔''

امام بیہقی ؒنے بھی 'السنن الکبریٰ' میں یہی الفاظ نقل کئے ہیں۔ انہی کی ایک دوسری روایت میں یہ اضافہ بھی ہے۔ مسدد نے ابن داود کے حوالہ سے ابواسحق فزاری (ابراہیم بن محمد، محدثِ شام اور مجاہد عالم، وفات ۱۸۶ ہجری) کے متعلق بتایا کہ وہ کہا کرتے تھے: «ودِدت أني شھدت ماربد بکل غزوة غزوتھا في بلاد الروم » (میری خواہش ہے کہ کاش ہر اس غزوہ کے بدلے میں جو میںنے بلادِ روم میں کیاہے، ماربد (عرب سے ہندوستان کی سمت مشرق میںکوئی علاقہ) میں ہونے والے غزوات میں شریک ہوتا''(۹)

امام بیہقی ؒ نے یہی روایت دلائل النبوۃ میں بھی ذکر کی ہے۔(۱۰) اور انہی کے حوالہ سے اس روایت کو امام سیوطی نے الخصائص الکبریٰ میں نقل کیا ہے۔ (۱۱)

مزید برآں اس حدیث کو مندرجہ ذیل محدثین نے تھوڑے سے لفظی فرق کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام احمدؒ نے، مسند میں بایں الفاظ «فإن استشھدت کنت من خیر الشھداء،» شیخ احمد شاکرؒ نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔(۱۲) امام احمد کی سند سے ابن کثیرؒ نے اسے البدایۃ والنھایۃ میں نقل کیا ہے۔(۱۳)

ابو نعیم اصفہانی ؒنے حلیۃ الأولیاء میں(۱۵)امام حاکم ؒ نے المستدرک علی الصحیحین میں روایت کرکے درجہ حدیث کے متعلق سکوت اختیار کیا جب کہ امام ذہبی نے اس کو اپنی تلخیص مستدرک سے حذف کردیا۔ (۱۵)

سعید بن منصورؒ نے اپنی کتاب السنن میں (۱۶)خطیب بغدادیؒ نے تاریخ بغداد میں، بایں الفاظ : ''أتعبت فیھا نفسي'' میں اس میں اپنے آپ کو تھکا دوں گا۔(۱۷) امام بخاری ؒ کے استاذ نعیم بن حمادؒ نے الفتن میں۔(۱۸) ابن ابی عاصم ؒنے اپنی کتاب الجہاد میں، بایں الفاظ «وعدنا اﷲ ورسوله ... وکنت کأفضل الشھداء» اور اس کی سند حسن ہے۔(۱۹)

ابن ابی حاتم ؒ نے اپنی کتاب العلل میں بایں الفاظ «فإن أقتل أکون حیا مرزوقا وإن أرجع فأنا المحرر» ''اگر میں قتل ہوگیا تو رزق پانے والا(شہید کی حیثیت سے) زندہ رہوں گا اور واپس لوٹ آیا تو آزاد''(۲۰)

ان کے علاوہ ائمہ جرح و تعدیل میں سے امام بخاریؒ نے التاریخ الکبیر(۲۱) میں امام مزی نے تہذیب الکمال میں(۲۲) اور ابن حجر عسقلانی ؒ نے تہذیب التہذیب میں اس حدیث کو روایت کیاہے۔(۲۳) درجہ کے لحاظ سے یہ حدیث مقبول(یعنی صحیح یا حسن) ہے جیساکہ ہم ذکرکرچکے ہیں۔

2. حضور ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان ؓکی حدیث

حضرت ثوبان ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

''میری اُمت میں دو گروہ٭ ایسے ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے آگ سے محفوظ کر دیا ہے ایک گروہ ہندوستان پر چڑھائی کرے گا اور دوسرا گروہ جو عیسیٰ ابن مریم کے ساتھ ہوگا۔''

انہی الفاظ کے ساتھ یہ حدیث درج ذیل محدثین نے روایت کی ہے:

امام احمد ؒنے مسند میں،(۲۴) امام نسائی ؒنے السنن المجتبیٰ میں، شیخ ناصر الدین البانی ؒنے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔(۲۵) اسی طرح السنن الکبریٰ میں بھی۔(۲۶) ابن ابی عاصم ؒنے کتاب الجہاد میں سند ِحسن کے ساتھ،(۲۷) ابن عدی ؒنے الکامل فی ضعفاء الرجال میں،(۲۸) طبرانی ؒ نے المعجم الاوسط میں،(۲۹) بیہقی ؒنے السنن الکبریٰ میں،(۳۰) ابن کثیر ؒنے البدایہ والنھایہ میں،(۳۱) امام دیلمیؒ نے مسند الفردوس میں،(۳۲) امام سیوطی ؒنے الجامع الکبیر میں اور امام مناوی ؒنے الجامع الکبیر کی شرح فیض القدیرمیں،(۳۳) امام بخاری ؒنے التاریخ الکبیرمیں،(۳۴) امام مزیؒ نے تہذیب الکمال میں،(۳۵) اور ابن عساکر ؒنے تاریخ دمشق میں (۳۶)

3. حضرت ابوہریرہ ؓکی دوسری حدیث

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے ہندوستان کا تذکرہ کیا اور ارشاد فرمایا:

''ضرور تمہارا ایک لشکر ہندوستان سے جنگ کرے گا، اللہ ان مجاہدین کو فتح عطا فرمائے گا حتیٰ کہ وہ (مجاہدین) ان (ہندوؤں) کے بادشاہوں(حاکموں) کوبیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے اور اللہ (اس جہادِ عظیم کی برکت سے) ان(مجاہدین) کی مغفرت فرما دے گا۔ پھرجب وہ مسلمان واپس پلٹیں گے تو عیسیٰ ابن مریم کو شام میں پائیں گے۔'' حضرت ابوہریرۃ نے فرمایا:

''اگر میں نے وہ غزوہ پایا تو اپنا نیا اور پرانا سب مال بیچ دوں گا اور اس میں شرکت کروں گا جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطاکردی اور ہم واپس پلٹ آئے تو میں ایک آزاد ابوہریرہ ہوں گا جو ملک شام میں (اس شان سے)آئے گا کہ وہاں عیسیٰ ابن مریم کو پائے گا۔ یارسول اللہ! اس وقت میری شدید خواہش ہوگی کہ میں ان کے پاس پہنچ کر انہیں بتاؤں کہ میں

آپ ﷺکا صحابی ہوں۔ (راوی کا بیان ہے) کہ حضور ﷺمسکرا پڑے اور ہنس کرفرمایا:بہت مشکل، بہت مشکل۔''

اس حدیث کو نعیم بن حمادؒ نے اپنی کتاب الفتن میں روایت کیا ہے۔(۳۷)

اسحق بن راہویہؒ نے بھی اس حدیث کو اپنی مسند میں ذکر کیا ہے، اس میں کچھ اہم اضافے ہیں، اس لئے ہم اس روایت کو بھی ذیل میں پیش کررہے ہیں :

''حضرت ابوہریرۃ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺنے ہندوستان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:'یقینا' تمہارا ایک لشکر ہندوستان سے جنگ کرے گا اور اللہ ان مجاہدین کوفتح دے گا حتیٰ کہ وہ سندھ کے حکمرانوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے، اللہ ان کی مغفرت فرما دے گا۔ پھر جب وہ واپس پلٹیں گے تو عیسیٰ ابن مریم کو شام میں پائیں گے۔ ابو ہریرۃؓ بولے:

اگر میں نے وہ غزوہ پایا تو اپنا نیا اور پرانا سب مال بیچ کراس میں شرکت کروں گا، جب ہمیں اللہ تعالیٰ فتح دے دے گا تو ہم واپس آئیں گے اور میں ایک آزاد ابوہریرہ ہوں گا جو شام میں آئے گا تو وہاں عیسیٰ ابن مریم سے ملاقات کرے گا۔ یارسول اللہﷺ! اس وقت میری شدیدخواہش ہوگی کہ میں ان کے قریب پہنچ کو انہیں بتاؤں کہ مجھے آپ کی صحبت کا شرف حاصل ہے۔ (راوی کہتاہے کہ) رسول اللہﷺ یہ سن کر مسکرائے۔'' ٭(۳۸)

4. حدیث حضرت کعبؓ

یہ حضرت کعب ؓ کی ایک حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں کہ

''بیت المقدس کا ایک بادشاہ ہندوستان کی جانب ایک لشکر روانہ کرے گا۔ مجاہدین سرزمین ہندکو پامال کر ڈالیں گے، اس کے خزانوں پرقبضہ کرلیں گے، پھر وہ بادشاہ ان خزانوں کوبیت المقدس کی تزئین و آرائش کے لئے استعمال کرے گا۔ وہ لشکر ہندوستان کے بادشاہوں(حاکموں) کو بیڑیوں میں جکڑ کر اس بادشاہ کے روبرو پیش کرے گا۔ اس کے مجاہدین، بادشاہ کے حکم سے مشرق و مغرب کے درمیان کا سارا علاقہ فتح کرلیں گے اور دجال کے خروج تک ہندوستان میں قیام کریں گے۔''

اس روایت کو نعیم بن حمادؒ، استاذ امام بخاریؒ نے اپنی کتاب الفتن میں نقل کیاہے۔ اس میں حضرت کعبؓ سے روایت کرنے والے راوی کا نام نہیں ہے بلکہ المحکم بن نافع عمن حدثہ عن کعب'' کے الفاظ آئے ہیں، اس لئے یہ حدیث منقطع شمار ہوگی۔(۳۹)

5. حضرت صفوان بن عمرو ؒکی حدیث

پانچویں حدیث حضرت صفوان بن عمرو ؒسے مروی ہے اور حکم کے لحاظ سے مرفوع کے درجہ میں ہے٭۔ کہتے ہیں کہ انہیں کچھ لوگوں نے بتایا کہ نبیﷺ نے فرمایا:

''میری اُمت کے کچھ لوگ ہندوستان سے جنگ کریں گے، اللہ تعالیٰ انکو فتح عطا فرمائے گا حتیٰ کہ وہ ہندوستان کے بادشاہوں(حاکموں) کوبیڑیوں میں جکڑے ہوئے پائیں گے، اللہ ان مجاہدین کی مغفرت فرمائے گا جب وہ شام کی طرف پلٹیں گے تو عیسیٰ ابن مریم ؑکو وہاںموجود پائیں گے۔''

اس حدیث کو امام نعیم بن حماد ؒنے 'الفتن' میں روایت کیا ہے۔(۴۰)

الحمدللہ ہم نے اللہ کریم کی توفیق و عنایت سے غزوئہ سندھ و ہند سے متعلق جملہ احدیث کو آپ کے سامنے پیش کردیا ہے، اب ہم ان احادیث ِمبارکہ کے معنی و مفہوم، اشارات ودروس پر نظر ڈالیں گے۔

احادیث ِغزوئہ سندھ و ہند سے مستنبط ہدایات و اشارات

یہ پانچوں احادیث جن کے مآخذسمیت ہم صحت وضعف کے اعتبار سے علم حدیث میں ان کامرتبہ و مقام پہلے بیان کرچکے ہیں، ان میں سچی پیش گوئیاں، بلند علمی نکات اور بہت سے اہم، ماضی ومستقبل کے حوالے سے واضح اشارات موجود ہیں جن میں عام مسلمانوں کے لئے بالعموم اور برصغیر کے مسلمانوں کے لئے بالخصوص خوشخبریاں اور بشارتیں پائی جاتی ہیں۔ لیکن ان بشارتوں اور خوشخبریوں کی حلاوت و لذت کو وہی لوگ پوری طرح محسوس کرسکتے ہیں جنہیں اللہ نے کسی نہ کسی انداز سے اس مبارک غزوہ میں شریک ہونے کی سعادت بخشی ہے۔ ذیل میں ہم ان تمام اشارات و نکات کا بالترتیب ذکر کریں گے جو ان احادیث سے مستنبط کئے گئے ہیں:

(۱)نبی کریمﷺ کی محبت ؛ ایمان کی شرطِ اوّل:ان احادیث میں نبی کریمﷺکی محبت کابیان ہے جو حضرت ابوہریرۃ کے الفاظ حدثنی خلیلي سے مترشح ہوتا ہے۔ نبی کریمﷺ کی محبت ایمان کا اوّلین تقاضا ، اس کی دلیل، اس کی علامت اور اس کا ثمرہ ہے، محض محبت بھی کافی نہیں بلکہ ایسی والہانہ محبت چاہئے کہ ایک مؤمن کی نظر میں نبی اکرمﷺ کی ذاتِ گرامی کا ئنات کی ہر چیز سے بلکہ اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ اسے محبوب ہوجائے۔

یہی مضمون حضرت انس کی حدیث میں وارد ہوا ہے جس میں آپ نے فرمایا:

''تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ میں اسے ، اس کے ماں باپ اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب اور پیارا نہ ہوجاؤں۔'' (بخاری ومسلم)

عبداللہ بن ہشام ؓسے روایت ہے کہ

''ہم ایک موقع پر حضورﷺکے ساتھ تھے، آپؐ نے حضرت عمر ؓ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا کہ حضرت عمرؓ بولے: یارسول اللہﷺ! آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں سوائے اپنی جان کے۔ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں عمرؓ، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب تک میں تمہیںتمہاری اپنی جان سے بھی بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں (تمہارا ایمان مکمل نہ ہوگا) اس پر حضرت عمرؓ نے کہا: اب آپ، خدا کی قسم مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ یہ سن کر حضورﷺ نے فرمایا: اب بات بنی ہے عمرؓ...!!'' (فتح الباری: ۱؍۵۹)

(۲)نبی اکرمﷺ کے ساتھ صحابہ کرامؓ کی والہانہ محبت: ان احادیث میں آنحضرتﷺکے ساتھ صحابہ کرامؓ کی اُلفت و محبت کاحال بھی بیان ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ کو آپؐ کے ساتھ والہانہ عقیدت اور بے پناہ محبت تھی اور وہ اس محبت اور تعلق پر فخر کیاکرتے تھے اور اپنی گفتگو میں اور خصوصاً احادیث روایت کرتے وقت اس قلبی تعلق کا مختلف انداز سے اظہار کرکے خوشی محسوس کرتے تھے اور یہ محض ایک زبانی دعویٰ ہی نہیں تھا بلکہ ان کی ساری زندگی میں عملا اس محبت اور چاہت کے واضح اور نمایاں اثرات نظر آتے تھے۔ حتیٰ کہ عروۃ بن مسعود ثقفی نے صلح حدیبیہ کے موقع پر جب اس والہانہ محبت کا مظاہرہ دیکھا تو وہ بھی اس حقیقت کااعتراف کئے بغیر نہ رہ سکا کہ

'' محمدؐ کے ساتھی ان سے جس طرح محبت کرتے ہیں، وہ ہمیں دنیا کے کسی شاہی دربار میں نظر نہیں آتی۔'' (الرحیق المختوم)

(۳)صحابہ کرام کو نبی کریم ﷺکی سچائی پر پختہ یقین تھا:ان احادیث ِمبارکہ میں یہ چیز بھی نظر آتی ہے کہ صحابہ کرامؓ کو آنحضرتﷺ کی ہر بات اور ہر خبرکے سچا ہونے کا اَٹل یقین تھا خواہ وہ ماضی کے متعلق ہو یا مستقبل کے حوالے سے، خواہ اس کا ذریعہ وحی الٰہی ہو یا کچھ اور، یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام نے اس قسم کی خبریں اور پیشین گوئیاں صرف نقل کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہیں ایک ہونی شدنی حقیقت جان کر اپنے دلوں میںایسی آرزوئیں پالتے رہے، اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہے کہ وہ اُنہیں غزوئہ ہند ؍ غزوئہ سندھ میں شریک ہونے کی سعادت عطا فرمائے۔

(۴)سندھ کا وجود:حدیث ِابوہریرہؓ اس بات کی دلیل ہے کہ حضورﷺکے زمانے میں ایک ایسا خطہ ارضی دنیا میں موجود تھا جسے سندھ (تقریباً موجودہ پاکستان) کے نام سے جانا جاتا تھا۔

(۵) ہندوستان کا وجود:اسی طرح اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عہد ِرسالت میںروئے زمین پر ایک ایسا ملک بھی موجود تھا جسے 'ہند' کہا جاتاتھا۔

(۶) سندھ عرب کے پڑوس میں اور اس پرچڑھائی غزوئہ ہند سے پہلے :یہ حدیث جس میںغزوئہ سندھ و ہندکا ذکر آیاہے، اس میں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ سندھ کا علاقہ عرب کے پڑوس میں واقع ہے نیز یہ کہ غزوہ سندھ غزوہ ہند سے پہلے ہوگا۔

(۷) سندھ اور ہند پر کفار کا قبضہ:مزیدیہ کہ عہد ِرسالت مآب میں سندھ اور ہند دو ایسے خطوں کے طور پر معروف تھے جن پرکفار کا قبضہ اور تسلط تھا اور زمانۂ نبوت کے بعد بھی ایک عرصہ تک باقی رہا، جبکہ ہندوستان پر مزید ، غیر معلوم مدت تک ان کا قبضہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

(۸) نبی کریمﷺ ان حقائق سے آگاہ تھے: ان احادیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضورﷺان تمام حقائق سے آگاہ اور واقف تھے خواہ اس کا ذریعہ وحی الٰہی ہو یا تجارتی تعلقات یا دونوں ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اپنے جاسوسوں اور خفیہ انٹیلی جنس کے ذریعے آپ نے یہ معلومات حاصل کی ہوں کیونکہ غزوات میں آپ یہ طریقہ کار اختیار کیا کرتے تھے۔اگرچہ پہلے دو احتمال زیادہ قرین قیاس ہیں لیکن تیسرا احتمال بھی محال نہیں ہے لیکن اس کے لئے ہمارے پاس کوئی نقلی دلیل نہیں ہے۔

(۹) دونوں ملکوں کی تاریخ:ان احادیث میں ان دونوں ممالک (سندھ اور ہند)میں مستقبل میں پیش آنے والے بعض تاریخی واقعات کا حوالہ ہے، اسکے ساتھ یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ نبیؐ کے بعد کے زمانے میں مسلمان ان ممالک (سندھ وہند)سے جنگ کریں گے۔

(۱۰) غیب کی خبر، پیشین گوئیاں:سندھ اور ہند کی طرف ایک اسلامی لشکر کی روانگی اور جہاد اور پھر کامل فتح کی بشارت کی شکل میں ان احادیث میں مستقبل بعید کی خبر اور پیش گوئی بھی موجود ہے۔

(۱۱) رسالت ِمحمدیؐ کی حقانیت کا ثبوت :مخبر صادقؐ کی پیش گوئی آج ایک حقیقت بن چکی ہے۔ خلافت ِراشدہ اور پھر خلافت اُمویہ اور عباسیہ کے ادوار میںغزوئہ ہند کی شروعات ہوئیں اور پھر ہندوستان پر انگریزی راج کے دوران بھی یہ جہاد جاری رہا اور آج تقسیم ہند کے بعد بھی جاری ہے اور ان شاء اللہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ مجاہدین سرزمین ہند سے کفار کا قبضہ و تسلط ختم کرکے، ان کے بادشاہوں(حاکموں)کو بیڑیوں میں جکڑ کرخلیفۃ المسلمین کے سامنے نہ لے آئیں۔ان میں سے بعض واقعات کا حدیث ِنبوی کے مطابق پیش آجانا حضرت محمدﷺکی نبوت کی صداقت کی دلیل ہے۔

(۱۲) بیت المقدس کی بازیابی اور مسجد اقصیٰ کی آزادی کی بشارت:ان احادیث میں غزوئہ ہند اورفتح بیت المقدس دونوں واقعات کامربوط انداز میں ذکرکیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ بیت المقدس کا مسلمان حاکم ایک لشکر روانہ کرے گا جسے اللہ تعالیٰ ہندوستان پر فتح عطا فرمائے گا۔ اس میں پوری اُمت ِمسلمہ کیلئے بیت المقدس کی آزادی اور مسجد اقصیٰ کی بازیابی کی بشارتِ عظمیٰ ہے اور یہ پیش گوئی بھی موجود ہے کہ اس غزوہ کے دوران مجاہدین ِہند اور مجاہدین فلسطین کے مابین زبردست رابطہ اور باہمی تعاون موجود ہوگا۔ اس سے یہ حقیقت از خود واضح ہو جاتی ہے کہ ہندوستان کے بت پرست اور سرزمین ِمعراج پر قابض یہودی عالم ِ اسلام کے مشترک ، بدترین دشمن ہیں، انہیں ہندوستان اور فلسطین کے مسلم علاقوں سے بے دخل کرنا واجب ہے۔

(۱۳) جہاد تاقیامت جاری رہے گا: ان احادیث میں غزوہ اور جہاد کو کسی خاص زمانے اور خاص وقت کے ساتھ مقید نہیںکیا گیا جو اس بات دلیل ہے کہ جہاد آخر زمانے تک جاری رہے گا۔ حتی کہ سیدنا عیسیٰ ابن مریم ؑ آسمانوں سے اُتر کو دجال کو قتل کردیں اور یہ بات صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ دجالِ اعظم کے اکثر پیروکار یہودی ہوں گے۔

(۱۴) جہاد دفاعی بھی ہے اور اقدامی بھی: یہ پانچوں احادیث اس بات پر واضح طور پردلالت کر رہی ہیں کہ غزوئہ ہندوستان میں جہاد صرف دفاع تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس میں حملہ آوری اور پیش قدمی ہوگی اور دارالکفر کے اندر گھس کر کفار سے جنگ کی جائے گی۔ غزوہ اور بعث کے دنوں الفاظ اس باب میں صریح ہیں۔ غزوہ کا لغوی مفہوم 'اقدامی جنگ' ہے۔ جنگ دو طرح کی ہوتی ہے: اوّل دعوتی و تہذیبی جنگ(غزوِ فکری)؛ دوم: عسکری و فوجی جنگ اور اسلام کی نظر میں دونوں طرح کی جنگ مطلوب ہے۔ یہ دونوں قسم کا جہاد پہلے بھی ہوا ہے اور اب بھی ہورہا ہے اور ہوتا رہے گا، البتہ مذکورہ احادیث میں جس غزوہ اور جنگ کی پیش گوئی کی گئی ہے اس سے مراد عسکری اور فوجی جہاد ہے۔ واللہ أعلم!

(۱۵) دشمنوں کی پہچان:ان احادیث میں اسلام اور مسلمانوں کے دو بدترین دشمنوں کی پہچان کرائی گئی ہے: ایک بت پرست ہندو اور دوسرے کینہ پرور یہودی۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ حضورﷺ نے غزوئہ ہند اور سندھ کا ذکر فرمایا اور ظاہر ہے کہ ایسا غزوہ صرف کفار کے خلاف ہی ہوسکتا ہے اور آج ہندوستان میں آباد کفار، بت پرست ہندو ہیں اور حدیث ثوبانؒ میں یہ بیان ہوا ہے کہ سیدنا عیسیٰ ابن مریم اور ان کے ساتھی دجال اور اس کے یہودی رفقا کے خلاف لڑیں گے۔ اس طرح گویاایک طرف حدیث میں کفر اور اسلام دشمنی کی قدر مشترک کی بنا پر یہود و ہنود کو ایک قرار دے دیا گیا اور دوسری طرف مسلم اور مجاہد فی سبیل اللہ کی قدرِ مشترک کی وجہ سے مجاہدین ِہند اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے اصحاب کو ایک ثابت کردیا گیا۔

(۱۶) نبوی اور صحابہ کرامؓ کی مجالس میں ہندوستان کا تذکرہ:ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺاور صحابہ کرامؓ اپنی مجلسوں میں ہندوستان کا تذکرہ فرمایا کرتے تھے اور یہ تذکرہ اکثر ہوا کرتا تھا اور ظاہر ہے کہ یہ تذکرہ صرف قتال اور غزوہ کے ضمن میں ہی ہوتا ہوگا، نہ کہ سفر تجارت یا سیروسیاحت کی غرض سے۔

(۱۷) غزوہ ہندوستان کے بارے میں حضورﷺ کی نیت و آرزو:نبی کریمﷺ اور ان کے صحابہ کرامؓ چونکہ اکثر اوقات غزوئہ ہند کا تذکرہ کیا کرتے تھے لہٰذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرتﷺ اور آپ کے صحابہ اس غزوہ میں شرکت کے آرزو مند تھے اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں غوروفکر کرکے اس کے لئے کوئی ابتدائی منصوبہ بندی بھی کی ہو اور اپنے صحابہ کو اس کی رغبت بھی دلائی ہو۔

(۱۸) غزوئہ ہندوستان، نبی ﷺ کا وعدہ ہے:حدیث میں دو الفاظ آئے ہیں: (۱) وعدني''مجھ سے وعدہ کیا۔''(۲) وعدنا ''ہم سے وعدہ کیا۔'' اور وعدہ سے مراد کسی عمل خیر کا وعدہ ہے اور وعدے میں نیت اور ارادہ لازماً پائے جاتے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺ کے دل میں غزوئہ ہند کی نیت اور قصد موجود تھا اور آپ ہندوستان پر چڑھائی کا ارادہ رکھتے تھے۔ آپؐ نے اپنا یہ ارادہ کبھی فردِ واحد کے سامنے اور کبھی پوری مجلس کے سامنے ظاہر فرمایا تاکہ تمام صحابہ کرامؓ بلکہ قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے علم میں آجائے۔

(۱۹) یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ بھی ہے:ابو عاصم کی روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں، وعدنا اﷲ ورسولہ...الخ یہ الفاظ دلیل ہیں کہ یہ صرف حضورؐ کا وعدہ ہی نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ بھی ہے اور اللہ اپنے وعدے کی کبھی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ ﴿وَعدَ اللَّهِ ۖ لا يُخلِفُ اللَّهُ وَعدَهُ وَلـٰكِنَّ أَكثَرَ‌ النّاسِ لا يَعلَمونَ ﴿٦﴾... سورة الروم

(۲۰) جنگ وجہاد کی ترغیب:ان احادیث ِمبارکہ میں نبی اکرمﷺ نے مسلمانوں کو جنگ اور جہاد کی رغبت دلائی ہے جیساکہ ارشادِ ربانی ہے:﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَفْقَهُونَ﴿٦٥﴾... سورة الانفال'' اے نبی! ایمان والوں کو لڑائی کی ترغیب دو، اگر تم میں سے بیس آدمی ثابت قدم ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے سو آدمی ہوں گے تو وہ ایک ہزار کافروں پر غالب آئیں گے کیونکہ وہ کفار سمجھ نہیں رکھتے۔''جنگ و جہاد کی یہ ترغیب صحابہ کرام، تابعین اور قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے۔

(۲۱) سامراجی قوتوں کا علاج:اس میں اُمت کے لئے یہ رہنمائی بھی ہے کہ دنیا میںکفار و مشرکین کے غلبہ و سامراجی، استعماری طاقتوں اور استبدادی کارروائیوں کا علاج بھی جنگ و جہاد میں مضمر ہے۔اس کے سوا اس مسئلے کاکوئی حل نہیں ہے، مذاکرات، عالمی اداروں میںمقدمہ بازی اور کسی دوست یا غیر جانبدار ثالث کی کوئی کوشش یا مداخلت ضیاعِ وقت کے سوا کچھ نہیں۔

(۲۲) غزوئہ ہند میں مال خرچ کرنے کی فضیلت:ان احادیث میں غزوئہ ہند میں مال خرچ کرنے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ اگرچہ راہِ جہاد میں مال خرچ کرنا اعلیٰ درجے کا اِنفاق ہے لیکن غزوئہ ہند میں خرچ کرنے کی فضیلت عمومی انفاق فی سبیل اللہ سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی فضیلت کی بنا پر سیدنا ابوہریرہؓ بار بار یہ خواہش کرتے تھے کہ اگر میں نے وہ غزوہ پایا اپنی جان اور اپنا نیا یا پرانا سب مال اس میں خرچ کردوں گا۔

(۲۳) غزوئہ ہند کے شہدا کی فضیلت:مذکورہ احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس غزوہ میں شریک ہونے والے شہدا کی بھی بہت بڑی فضیلت ہے کیونکہ ان کے بارے میں آنحضرتﷺ نے 'أفضل الشهداء' اور 'خیر الشهداء' کے الفاظ بیان فرمائے ہیں۔

(۲۴) مجاہدین ِہند کے لئے جہنم سے نجات کی بشارت:ان احادیث میں ان مجاہدین کی جہنم سے آزادی کی بشارت آئی ہے جو اس غزوہ میں شریک ہوں گے اور غازی بن کر لوٹیں گے۔ آپ نے دو جماعتوں کاذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں آگ سے محفوظ کر دیا ہے اور پہلی جماعت کے متعلق یہ صراحت فرمائی کہ''وہ ہندوستان سے جنگ کرے گی'' اور حضرت ابوہریرۃ ؓ کے الفاظ بھی اس پر دلالت کرتے ہیں کہ ''اگر میں ا س غزوہ میں غازی بن کرلوٹا تو میں ایک آزاد ابوہریرہ ہوں گا جسے اللہ نے جہنم سے آزاد کردیا ہوگا۔''

(۲۵) آخری جنگ میں فتح کی بشارت:ان میں یہ بشارت بھی موجود ہے کہ آخر زمانے میں حضرت مہدی اور سیدنا عیسیٰ ابن مریم ؑبھی دنیا میں موجود ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ مجاہدین ہند کو عظیم الشان فتح عطا فرمائے گا اور وہ کفار کے سرداروں اور بادشاہوں کو گرفتار کرکے قیدی بنائیں گے۔

(۲۶)مالِ غنیمت کی خوشخبری:اللہ تعالیٰ ان مجاہدین کو بیش بہا مال غنیمت سے بھی نوازے گا۔

(۲۷) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کی بشارت:ایک بشارت ان احادیث میں یہ ملتی ہے کہ جو مجاہدین اس مبارک غزوہ کے آخری مرحلے میں برسرپیکار ہوں گے وہ سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی زیارتِ باسعادت اور ملاقاتِ بابرکات سے مشرف ہوں گے۔

(۲۸) ہندوستان کے ٹکڑے ہوں گے:آخری اور سب سے بڑی بشارت ان احادیث میں یہ ہے کہ اس غزوہ کے نتیجے میں ہندوستان ٹکڑے ٹکڑے ہوکر متعدد چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم ہوجائے گا۔ جن پر ایک متفقہ بادشاہ کی بجائے کئی بادشاہ بیک وقت حکمرانی کررہے ہوں گے۔

اس کے علاوہ اہل علم نے اور بھی کئی بشارتیں ان احادیث سے مستنبط کی ہیں، البتہ ہم نے ان احادیث کی تخریج اور ان کے دروس و اشارات اور نبوی ہدایات اجمالاً اہل علم کی خدمت میں پیش کردی ہیں۔ واﷲ اعلم

موعودہ غزوہ ہند اور پاک و ہند کی حالیہ محاذ آرائی

ڈاکٹر عصمت اللہ(مقالہ نگار) کی کاوش ہماری فکری تحریک (قربِ قیامت کی پیش گوئیاں) کا ہراول حصہ ہے۔اسی لیے ہم نے اسے محدث کے تبصروں کے ساتھ شائع کیا ہے ۔درج ذیل سوالات پر بھی غور کر لیا جائے تا کہ غزوۂ ہند سے قضیہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کی مجوزہ جنگ مراد لینے کا اشتباہ دور ہو سکے۔ اس وقت بحث پاک وہند کے موقف کی تائید یا تردید کی غرض سے نہیں ہو رہی بلکہ رسول ؐ کی پیش گوئی کے حوالہ سے مراد رسولؐ کے تعین کے بارے میں ہے کہ کیا اس سے واقعتا 'جنگ کشمیر' ہی مراد ہے یا محمد بن قاسم ثقفی کا برصغیر پر بیرونِ ہند سے حملہ؟ (محدث)

٭ غزوۂ ہند وسندھ میں شرکت کی فضیلت کا انحصار در اصل کسی ایک لڑائی کے تعین پر ہے۔ (جیساکہ سیمینار کی اُصولی بحث میں یہی رائے راجح قرار دی گئی تھی۔)

٭ کیا غزوہ ہند کوئی ایک غزوہ ہے یا کئی غزوات کا تسلسل کیونکہ فعل میںاصل تعدد نہیں ہوتا جب تک کوئی کلمہ استمرار پر دلالت نہ کرے(اصول فقہ)

٭ تعبیر خبر میں 'راوی حدیث' کا دجال اور غزوہ سندھ؍ہند کو مربوط کردینا(کیا ارشاد رسول ؐ ہے یا فہم راوی۔ابو ہریرہ ؓ کے اس فہم پر تبصرہ حواشی میں گزر چکا ہے)

٭ کیا موعودہ غزواتِ ہند؍سندھ غزوہ محمد بن قاسم (عہد بنی اُمیہ ...شام و حجاز) سے لے کر محمود غزنویؒ، محمد غوریؒ، احمدشاہ ابدالیؒ کو شامل ہیں؟ اگر افغانی حملوں کو ہند سے باہر کے حملے شمار کیا جائے تو وہ ضرور غزواتِ ہند کا تسلسل بن سکتے تھے۔ لیکن رسول ﷺ کی پیش گوئی کے وقت افغانستان کو حتمی طورالگ قرار دینا بھی محل نظر ہے۔ کجا یہ کہ پاکستان کو سندھ قرار دے کر ہند(موجودہ بھارت) پر حملہ کرنے والا بنایا جائے، یہ بظاہر تحکم معلوم ہوتا ہے۔تاویل بعید کی مخالفت کرنے والوںکو خود تاویلاتِ بعیدہ سے احتراز کرنا چاہئے۔

٭ اگر غزوہ ہند کا تسلسل اتنا عام کر دیاجائے کہ ماضی قریب وبعید کے تمام افغانی حملے بھی اسی میں شامل ہوجائیں تو غزوہ ہند کا وہ تقدس اور فضیلت کہاں باقی رہے گی جس کی بنا پر صحابہ کرام عہد خلفاء راشدین کی غزوات پر اسے ترجیح دیتے رہے؟ گویا محمود غزنویؒ وغیرہ کے حملے عہد خلفاء راشدین کی غزوات سے بہتر تھے۔(اللہ ہمیں ہدایت دے)

٭ احادیث کے اسالیب میں حقیقت سے قریب تر صورت محمد بن قاسم ثقفیؒ کا حملہ سندھ؍ہند ہے جو پیش گوئی کے وقت ضرور مستقبل تھا لیکن اب ماضی کا واقعہ ہے۔ واللہ اعلم!

٭ فقہ الحدیث میں فہم راوی کا جائزہ لیتے ہوئے عقل و بصیرت کااستعمال تو مستحسن امر ہے جیسا کہ ابن عباس ؓ اور حضرت عائشہ ؓ سے عموما وارد ہوا ہے لیکن اسے استخفافِ حدیث سے الگ کرنا ضروری ہے،کیونکہ انکار واستخفاف حدیث میں افراط و تفریط کے بالمقابل اعتدال کا رویہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔کہیں نام نہاد ایسی بصیرت ایمان بالوحی (احادیث) کا حصہ ہونے کی بجائے ایمان بالوحی کے معارض ومخالف نہ بنا دے

٭ فقہائِ محدثین اہل ظاہر کے تقشف اور اہل اعتزال کے تفلسف کے درمیان 'وسطی راہِ اعتدال' اختیار کرتے ہیں۔

حواشی و حوالہ جات

(۱) غزواتِ نبوی کی تعداد مختلف کتب حدیث و سیر میں بیان ہوئی ہے ہم نے یہ تعداد مشہور مالکی فقیہ امام ابن الجزی الغرناطی سے لی ہے، ملاحظہ ہو ان کی کتاب: القوانین الفقہیۃ ۲؍۲۷۲،۲۷۳

(۲) ملاحظہ ہو: صحیح بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب قتال الترک:۲۷۱۱، اور صحیح مسلم، کتاب الفتن، باب لاتقوم الساعۃ حتی یمر الرجل بقبر الرجل فَیَتَمَنّٰی:۵۱۸۷

(۳) یہ حدیث محدثین کے ہاں (حدیث الاعماق) کے نام سے معروف ہے، کیونکہ اس میں اعماق اور دابق۔ موجودہ ملک شام کے شہر حلب کے قریب واقع( دو ایسی جگہوں کا تذکرہ آیا ہے جہاں (ملحمۃ الأعماق) قرب قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہوگا جس میں صلیبی عیسائیوں اور مجاہدین اسلام کے درمیان خونریز معرکہ ہوگا، حضرت حذیفہؓ کی ایک حدیث کے مطابق اس معرکہ میں کام آنیوالے (افضل ترین شہداءِ) امت ِمحمدیہ ہوں گے، ملاحظہ ہو: السنن الواردۃ فی الفتن وغوائلھا والساعۃ و أشراطھا ۸؍۱۰۹۶، لأبی عمروعثمان بن سعید المقری الدانی (۳۷۱۔۴۴۴) تحقیق: رضاء اللہ مبارکپویؒ، معجم البلدان للحموی ۲؍۲۲۲، وسیر اعلام النبلاء ۶؍۳۵۷

(۴) ملاحظہ ہو: صحیح مسلم، کتاب الفتن ، باب فتح القسطنطنیۃ:۵۶۵۷

(۵) ملاحظہ ہو: مسند احمد؍مسند بشیر بن سحیم حثعمیؓ :۱۸۱۸۹، المستدرک علی الصحیحین ۴؍۴۶۸ حدیث:۱۴۸۲ حاکم نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، فضیل بن عیاض کا خواب ذہبی نے سیر أعلام النبلاء ۸؍۵۴۲۔۵۴۳ میں نقل کیا ہے۔

(۶) ملاحظہ ہو: مسند احمد۲؍۳۶۹ مسند ابوہریرہؓ:۸۴۶۷، البدایۃ والنھایۃ لابن کثیر، الأخبارعن غزوۃ الہند ۶؍۲۲۳ بقول ابن کثیر یہ الفاظ صرف امام احمد نے نقل کئے ہیں۔

(۷) ملاحظہ ہو: مسنداحمد، تحقیق و شرح: احمد شاکر ۱۷؍۱۷ حدیث : ۸۸۰۹

(۸) ملاحظہ ہو: السنن المجتبیٰ ۶؍۴۲، کتاب الجہاد باب غزوۃ الہند: ۳۱۷۳،۳۱۷۴، السنن الکبریٰ للنسائی ۳؍۲۸ باب غزوۃ الہند:۴۳۸۲۔۴۳۸۳

(۹) ملاحظہ ہو: السنن الکبریٰ للبیہقی ۹؍۱۷۶، کتاب السیر، باب ماجاء فی قتال الہند:۱۸۵۹۹

(۱۰) ملاحظہ ہو:دلائل النبوۃ و معرفۃ أحوال صاحب الشریعۃ، باب قول اﷲ: وعد اﷲ الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنہم:۶؍۳۳۶

(۱۱) ملاحظہ ہو: الخصائص الکبریٰ للسیوطی:۲؍۱۹۰

(۱۲) ملاحظہ ہو: مسنداحمد تحقیق و شرح احمد شاکر ۱۲؍۹۷، حدیث نمبر:۷۱۲۸

(۱۳) مسنداحمد۲؍۲۲۹، مسندابوہریرہؓ حدیث:۶۸۳۱، البدایۃ والنھایۃ،الأخبار عن غزوۃ الہند ۶؍۲۲۳

(۱۴) ملاحظہ ہو: حلیۃ الاولیاء ۸؍۳۱۶۔۳۱۷

(۱۵) ملاحظہ ہو: المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفۃ الصحابۃ، ذکر ابی ھریرۃ الدوسی ۳؍۵۱۴ حدیث :۶۱۷۷

(۱۶) ملاحظہ ہو: السنن لسعید بن منصور ۲؍۱۷۸، حدیث نمبر:۲۳۷۴

(۱۷) ملاحظہ ہو: تاریخ بغداد ۱۰؍۱۴۵ تذکرہ ابوبکر بن رزقویہ نمبر :۵۲۹۱

(۱۸) ملاحظہ ہو: الفتن: غزوۃ الہند ۱؍۴۰۹ حدیث :۱۲۳۷

(۱۹) ملاحظہ ہو: الجہاد ، فضل غزوۃ البحر ۲؍۶۶۸ حدیث :۲۹۱

(۲۰) ملاحظہ ہو: العلل ۱؍۳۳۴ ترجمہ:۹۹۳

(۲۱) ملاحظہ ہو:التاریخ الکبیر ۲؍۲۴۳ تذکرہ جبر بن عبیدۃ نمبر :۲۳۳۳

(۲۲) ملاحظہ ہو: تہذیب الکمال ۴؍۴۹۴ تذکرہ جبر بن عبیدۃ:۸۹۳

(۲۳) ملاحظہ ہو: تہذیب التہذیب ۲؍۵۲، تذکرہ جبربن عبیدۃ الشاعر:۹۰، ابن حجر کہتے ہیں: میں نے امام ذہبی کے ہاتھ کی تحریر دیکھی، لکھا تھا: پتہ نہیں یہ کون ہے؟ اس کی روایت کردہ خبر منکر ہے' ابن حبان نے ان کا ذکر ثقات میں کیا ہے۔

(۲۴) ملاحظہ ہو: مسنداحمد ۵؍۲۷۸ حدیث ثوبانؓ :۲۱۳۶۲

(۲۵) دیکھئے:السنن المجتبیٰ للنسائی ۶؍۴۳، کتاب الجہاد، باب غزوہ الہند:۳۱۷۵ نیز ملاحظہ ہو : صحیح سنن النسائی ۲؍۶۶۸، حدیث :۲۵۷۵

(۲۶) ملاحظہ ہو: السنن الکبریٰ للنسائی ۳؍۲۸، باب غزوۃ الہند:۴۳۸۴

(۲۷) ملاحظہ ہو: الجہاد ۲؍۶۶۵ فضل غزوۃ البحر حدیث :۲۲۸، محقق کتاب نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔

(۲۸) ملاحظہ ہو: الکامل فی ضعفاء الرجال ۲؍۱۶۱ تذکرہ جراح بن ملیح البہرانی:۲۵۱

(۲۹) ملاحظہ ہو: المعجم الاوسط ۷؍۲۳۔۲۴ حدیث :۶۷۴۱، امام طبرانی کہتے ہیں: اس حدیث کو حضرت ثوبانؓ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا گیا ہے، اس کے ایک راوی الزبیدی اس کی روایت میں اکیلے ہیں۔

(۳۰) ملاحظہ ہو: السنن الکبریٰ للبیہقی ۹؍۷۶، کتاب السیر، باب ماجاء فی قتال الہند:۱۸۶۰۰

(۳۱) ملاحظہ ہو: البدایۃ والنھایۃ، الاخبار عن غزوۃ الہند:۶؍۲۲۳

(۳۲) ملاحظہ ہو: الفردوس بمأثور الخطاب ۳؍۴۸ حدیث :۴۱۲۴

(۳۳) ملاحظہ ہو: الجامع الکبیر مع شرحہ فیض القدیر ۴؍۳۱۷، امام مناوی نے ذہبی کی الضعفاء کے حوالہ سے امام دارقطنی کا یہ قول نقل کیا ہے: الجراح راوی کی حدیث کچھ بھی نہیں ہے۔

(۳۴) ملاحظہ ہو: التاریخ الکبیر ۶؍۷۲ تذکرہ عبدالأعلی بن عدی البہرانی الحمصی:۱۷۴۷

(۳۵) ملاحظہ ہو: تہذیب الکمال ۳۳؍۱۵۱ تذکرہ ابوبکر بن الولید بن عامر الزبیدی الشامی:۷۲۶۱

(۳۶) ملاحظہ ہو: تاریخ دمشق ۵۲؍۲۴۸

(۳۷) ملاحظہ ہو: الفتن ، غزوۃ الہند: ۱؍۴۰۹۔۴۱۰ حدیث :۱۲۳۶۔۱۲۳۸

(۳۸) ملاحظہ ہو: مسنداسحاق بن راھویہ، قسم اول۔ سوم ج۱؍۴۶۲ حدیث:۵۳۷

(۳۹) ملاحظہ ہو: الفتن، غزوۃ الہند: ۱؍۴۰۹حدیث:۱۲۳۵

(۴۰) ملاحظہ ہو: الفتن ۱؍۳۹۹،۴۱۰ حدیث :۱۲۰۱،۱۲۳۹