میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

چار ممالک کے بیس روزہ دورے سے وطن واپسی پر صدر پرویز مشرف نے اپنی پریس کانفرنس میں تقریباً تمام اہم موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔ عراق میں پاکستانی فوج بھیجنے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ

''میں نے پاکستانی فوج عراق بھیجنے کا کسی سے کوئی وعدہ نہیں کیا۔ ہمیں دو بریگیڈ فوج بھیجنے کے لئے کہا گیا ہے لیکن اس معاملے کے بہت سے حساس پہلو ہیں۔ ہمیں ان سارے پہلوؤں کا جائزہ لینا ہوگا۔ ہمیں مسلم ممالک کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا۔ ہم سے ایک بریگیڈ کی درخواست امریکہ اور ایک کی برطانیہ نے کی ہے۔ تاہم تمام پہلوؤں پر غور کیا جارہا ہے۔ جب تک ہمارے تحفظات دور نہیں ہوجاتے، کوئی پاکستانی فوجی عراق نہیں جائے گا۔''

صدر سے پوچھا گیا: ''کیا حتمی فیصلے سے قبل اس معاملے کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا؟'' صدر نے تھوڑے تذبذب کے بعد کہا: ''جی ہاں! اس سلسلے میں ہر سطح پربحث ہونی چاہئے۔ کابینہ کی سطح پر بھی اور پارلیمنٹ میں بھی؛ اس معاملے کو پارلیمنٹ کے اندر زیر بحث لانے میں کوئی حرج نہیں لیکن پہلے پارلیمنٹ سنجیدگی سے کوئی کام تو شروع کرے۔''

عراق میں پاکستانی فوج بھیجنے کے حوالے سے صدر کے اِن ارشادات میں روشنی کی کرن موجود ہے لیکن گذشتہ ہفتوں کے دوران وہ جو کچھ کہتے رہے ہیں، اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ عراق میں دستے بھیجنے کا اُصولی فیصلہ ہوچکا ہے اور معاملہ صرف اس کی جزئیات طے کرنے، ان دستوں کو معاوضے کی ادائیگی، ان کی تعیناتی اور ان کے سروں پر لہرانے والے جھنڈے کاہے۔ کیمپ ڈیوڈ میں صدر بش سے ملاقات کے بعد اے بی سی ٹیلیویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا:

''پاکستان اُصولی طور پر عراق میں اپنی فوج بھیجنے کے لئے تیار ہے۔ ہم آٹھ ہزار فوجی عراق بھیج سکتے ہیں۔ لیکن اس ضمن میں بعض تفصیلات طے ہونا باقی ہیں۔ ''

پیرس میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنا یہی موقف دہرایا تھا:

''ہم اُصولی فیصلہ کرچکے ہیں لیکن بہتر ہوگا کہ ہماری فوج اقوام متحدہ، اسلامی کانفرنس یا خلیج تعاون کونسل کے پرچم تلے کام کرے۔''

اسی دوران اے ایف پی نے یہ خبر دی کہ پاکستانی دستوں کے ضمن میں شرائط اور جزئیات طے کی جارہی ہیں اور اس بارے میں پاکستان حتمی فیصلہ کرچکا ہے۔ ۶؍جولائی کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کے سرکاری حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اس ماہ کے اَواخر تک آٹھ سے دس ہزار فوجیوں پر مشتمل دو بریگیڈ عراق پہنچ جائیں گے۔

صدر کی پریس کانفرنس میں اس یقین دہانی کے باوجودکہ ''جب تک ہمارے تحفظات دور نہیں ہوجاتے کوئی پاکستانی فوجی عراق نہیں جائے گا۔'' بات پوری طرح واضح نہیں ہوسکی۔ ایک تو یہی عقدہ نہیں کھل رہا کہ ہمارے تحفظات کیا ہیں؟ کیا معاملہ تنخواہ وغیرہ کا ہے؟ کیا صرف یہ اُلجھن ہے کہ ہمیں براہِ راست امریکی یا برطانوی کمان میں نہ رکھا جائے بلکہ ہمارے سروں پر کسی اور تنظیم کی چھتری تان دی جائے؟ کیا ہمیں اپنے ضمیر کی خلش مٹانے کے لئے کسی اور پرفریب جواز کی حاجت ہے؟ وہ تحفظات کون سے ہیں جن کے دور ہونے کے بعد ہماری فوج تلواریں سونتے عراق پہنچ جائے گی۔ شکوک و شبہات کا مکمل ازالہ اس لئے بھی نہیں ہوپایا کہ خود جنابِ صدر کی گفتگو میں کئی پیچ تھے۔ مثلاً انہوں نے اسی پریس کانفرنس میں ایک بار پھر کہا کہ ''ہم یقینا عراق جانا چاہتے ہیں لیکن بغیر کسی کور کے نہیں۔ ہم عراقی بھائیوں کی مدد اور عراق کی تعمیر نو کے لئے جانا چاہتے ہیں۔''اس سے یوں لگتا ہے جیسے صدر کا ذہن پوری طرح یکسو نہیں یا پھر وہ امریکی دباؤ اور قوم کے ردِعمل کا موازانہ کررہے ہیں اور کوئی دوٹوک موقف اختیارکرنے سے گریزاں ہیں۔

امریکہ اور برطانیہ اب تک ۷۰ ممالک سے فوج بھیجنے کی درخواست کرچکے ہیں۔ ابھی تک انہیں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ ترکی سے کہا گیا ہے کہ وہ علامتی طور پر اپنے پندرہ سو سپاہی کسی محفوظ مقام پر تعیناتی کے لئے بھیج دے۔ ترکی ابھی تک فیصلہ نہیں کرپایا۔ اسی ترکی نے امریکی سپاہیوں کوعراق پر حملے کے لئے اپنی سرزمین دینے سے انکار کردیا تھا اور ۲۵؍ ارب ڈالر کی رشوت پائے حقارت سے ٹھکرا دی تھی۔ اپنی اخلاق باختہ جنگ کو جائز بنانے کے لئے امریکہ کو پاکستان جیسے اسلامی ملک کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ عراق کے پاس پڑوس کے ان مسلم ممالک کو بھی آمادہ کرسکتا ہے جن کی سرزمین پہلے ہی اس کی لشکر گاہوں سے آباد ہے۔ لیکن یہ ہمارے لئے سراسر خسارے کا سودا ہوگا۔ امریکیوں کے زیر تربیت سات پولیس کیڈٹس کے قتل کے بعد بی بی سی نے کہا ہے کہ ''اب صرف جارح افواج ہی نہیں، ان سے تعاون کرنے والا ہر فرد نشانہ بنے گا، چاہے وہ عراقی ہی کیوں نہ ہو۔''

امریکہ شدید مشکلات سے دوچار ہوچکا ہے، اندرونِ خانہ صدر بش اور ان کے حواریوں پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے کہ انہوں نے غلط بیانی سے کام لیا۔ عراق پر حملہ کشی کے لئے جعلی دستاویزات کا سہارا لیا۔ ایسے تخیلاتی ہتھیاروں کا واویلا کیا جو صرف پینٹاگان کے نہاں خانہ تصور میں ذخیرہ کئے گئے تھے۔ دوسری طرف عراق کی سرزمین غیر ملکی قابض افواج کے لئے تنگ ہوتی جارہی ہے۔ ا گلے روز فلو جہ میں بڑے بوڑھے عراقی جمع ہوئے، ان میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جس کی آنکھوں میںنورانی چراغ کی طرح روشن رہنے والا کوئی نہ کوئی نوجوان بیٹا امریکی گولیوں کا نشانہ نہ بنا ہو۔ ان بزرگوں نے اپنے بچے کھچے جوانوں اور نو عمر لڑکوں کو جمع کرکے کہا: ''بچو! امن کے لئے عراقی پولیس سے تعاون کرو لیکن اپنی سرزمین پر قبضہ کرلینے والی غاصب غیرملکی فوجوں کی بھرپور مزاحمت کرو۔یہ تم پر فرض بھی ہے اور قرض بھی ۔''

ڈونلڈ رمز فیلڈ کا کہنا ہے کہ ''عراق میں ہم پر ہر روز درجن کے لگ بھگ حملے ہورہے ہیں، تابوتوں کی قطار ٹوٹنے نہیں پارہی، مارچ کے مہینے سے عراق میںتعینات امریکہ کے تھرڈ انفینٹری ڈویژن کے سورما تھک چکے ہیں۔ یہ ڈویژن عراق میں اپنے ۳۷؍ افسروں اور جوانوں سے محروم ہوچکا ہے۔ اس قدر جانی نقصان کسی دوسرے امریکی ڈویژن کا نہیں ہوا۔ دلبرداشتہ اور پست حوصلہ ڈویژن کو نوید دی گئی تھی کہ بہت جلد اس کے دو بریگیڈز کے تقریباً ۹ ہزار لشکریوں کو واپس بلا لیاجائے گا۔ امریکہ چاہتا ہے کہ وہ ڈیڑھ لاکھ فوج کو مرحلہ وار عراق سے نکال لے اور یہ خلا کرائے کے ان سپاہیوں سے پُر کیا جائے جن کے ممالک کی قیادتیں انہیں اس آگ کا ایندھن بنانے پر آمادہ ہوجائیںگی۔ اس ضمن میں بھارت پر بڑا تکیہ کیا جارہا تھا لیکن ان کی طرف سے واضح 'نہ' کے بعد تھرڈ انفینٹری ڈویژن کے پابہ رکاب فوجیوں سے کہا گیا ہے کہ فی الحال وہ وطن واپسی کا خیال دل سے نکال دیں۔

بھارت کا اُصولی فیصلہ

بھارت کو قائل کرنے کے لئے خاصی کوششیں کی گئیں، جون کے اوائل میں جب بھارت کے ڈپٹی وزیراعظم ایل کے ایڈوانی امریکی دورے پر گئے تو انہیں سربراہِ حکومت کا پروٹوکول دیا گیا۔ ایڈوانی بھارت کے متوقع وزیراعظم کے طور پر دیکھے جارہے ہیں۔ جارج بش سے ان کی خصوصی ملاقات ہوئی۔ ۱۱؍ جو ن کو انہوں نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں ان اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کانشانہ بنایا جو عراق میں فوجی دستے بھیجنے کی مخالفت کررہی تھیں۔ انہوں نے کہا: '' ان جماعتوں کواصل حقائق کا علم نہیں اور وہ بے خبری کے باعث ایسا کررہی ہیں۔ '' امریکہ نے ایڈوانی کو اپنے موقف کا قائل کرلیا۔ جارج بش کا خیال تھا کہ اپنی طاقتور سیاسی حیثیت کے باعث ایڈوانی اپنی بات منوانے میں کامیاب ہوجائیں۔ دوسری طرف بھارت سے رخصت ہونے والے امریکی سفیر بلیک وِل کی خدمات کا سہارا لیا گیا۔ بلیک ول نے سفارتی آداب اور تقاضوں سے ہٹ کر بھارتی موقف کی ترجمانی کی اور بالخصوص پاکستان کے بارے میں انتہائی زہر ناک بیانات جاری کئے۔ بلیک ول کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ انہوںنے بھارتی سیاستدانوں بالخصوص کابینہ کے ارکان کے ساتھ انتہائی قریبی دوستانہ تعلقات قائم کرلئے ہیں اور وہ حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی قدرت رکھتے ہیں۔ بلیک ول کا مشن یہ تھا کہ وہ بھارتی لیڈر شپ کو عراق میں فوج بھیجنے پر آمادہ کریں۔ اس کے عوض انہیں امریکہ میںکسی اچھے منصب پر فائز ہونے کی توقع تھی۔

ایڈوانی نے اچھے وکیل کا کردار ادا کیا۔ بلیک ول نے اپنی سفارتی صلاحیتیں بھرپور انداز میں استعمال کیں، لیکن مسئلہ یہ بن گیا کہ بھارت میں جمہوریت تھی اور جمہوریت کتنی ہی خود سر یا بلند پرواز کیوں نہ ہو، بظاہرزمین سے ناطہ نہیں توڑسکتی، عوام کی سوچ اور جذبات اس کے لئے بظاہر زنجیر پا بن جاتے ہیں۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ امریکی دورے پرگئے تو انہیں بھی رام کرنے کی بھرپور کوششیں کی گئی لیکن انہوں نے روکھے انداز میں جواب دے دیا کہ یہ ایک نازک اور حساس معاملہ ہے جس کے بارے میں حتمی فیصلہ سیاسی قیادت کرے گی۔ امریکہ نے اس دوران بھارت کو کئی سبز باغ دکھائے اور عراق میں پُر کشش ٹھیکوں کا لالچ دیا۔

بھارت میں جمہوری مشق جاری رہی، کئی ممالک سے رابطے ہوئے۔ شام اور ایران نے ٹروپس بھیجنے کی مخالفت کی۔ سعودی عرب اور ترکی نے بھی پُرجوش حمایت سے گریز کیا۔ اُردن اور کویت نے کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں،اِدھر بھارتی عوام نے کھل کر امریکہ کی اندھی حمایت کی مخالفت کی۔ واجپائی کے سامنے اگلے سال ہونے والے انتخابات کا منظر بھی تھا۔ بالآخر کابینہ کی کمیٹی برائے سیکورٹی نے وزیراعظم کی سربراہی میںہونے والے طویل اجلاس میں فیصلہ کیا کہ ''بھارت امریکہ کی کمانڈ تلے اپنے دستے عراق نہیں بھیجے گا۔''

ایک سینئر بھارتی عہدیدار نے ٹائمز آف انڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ''ہم نے ایک اُصولی فیصلہ کیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ امریکی درخواست اقوام متحدہ کے فریم میں فٹ نہیںآتی ہم نے اس مسئلے کو کسی بزنس ڈیل کے حوالے سے نہیں 'اُصول کی آنکھ' سے دیکھا۔''

بھارتی سینئر اہلکار کے الفاظ تھے :

"India is not a player in international politics to get some contracts."

''بین الاقوامی سیاست میں بھارت کا کردار محض چند ٹھیکے حاصل کرنا نہیں۔''

چین کے ساتھ کشیدگی میں کمی کرکے اور عراق میں فوج نہ بھیجنے کا جرات مندانہ قدم اٹھا کر بھارت نے بھی ایک 'اصولی فیصلہ' کیا ہے۔ اس اُصولی فیصلے نے اس کے جمہوری قد کاٹھ کو کئی گنا بلند کردیا ہے اور عالمی سیاست میںاس کے کردار کو وقار بخشا ہے۔ لیکن کیااس فیصلے نے واقعی ہمارے لئے کوئی مشکل پیدا کردی ہے؟

بھارت کا کہنا ہے کہ عراق میںفوج نہ بھیجنے کا فیصلہ اس لئے اُصولی ہے کہ

''دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ ہونے کے ناطے وہ کسی سامراجی قوت کے عزائم کامعاون نہیں بن سکتا کیونکہ عراق میں امریکی کارروائی کو اقوامِ متحدہ کی چھتری میسر نہیں آسکی اور نہ ہی ابھی تک اس عالمی ادارے نے باضابطہ طور پر عالمی برادری سے اپنی افواج بھیجنے اور اپنے پرچم تلے کردار ادا کرنے کی اپیل ہے۔''

یہ اس ملک کا ردعمل ہے جس کا بصرہ، بغداد یا نجف و کربلا سے کوئی رشتہ نہیں۔ جس کے عوام کا سرزمین دجلہ و فرات سے کوئی روحانی تعلق نہیں۔ جو اہل عراق سے کوئی مذہبی اور جذباتی ناطہ نہیں رکھتا۔ اگر وہ مالِ غنیمت سے حصہ پانے اورٹھیکے لینے کے لئے کرائے کے سپاہی وہاں بھیج دے تو اس کے دامن پرکوئی دھبہ نہیں لگتا۔

بھارت اگر عراق میں فوج بھیجنے کا فیصلہ کر بھی لیتا تو اسے وہ مشکلات درپیش نہیں تھیں جن کا ہمیں سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اوّل تو بھارت کا بصرہ وکوفہ،نجف و کربلا سے کوئی روحانی، نظریاتی یا تاریخی رشتہ و تعلق نہ تھا۔پھروہ ماضی میں ۳۶ ممالک میںکم وبیش ۶۰ ہزار فوجی ٹروپس بھجوا چکا ہے۔ امریکہ کی خوشنودی اور عراق کی تعمیر نو میں اپنے نمایاں کردار کے لئے وہ اب بھی ایسا کرسکتا تھا لیکن معاملہ اس اُصول کی وجہ سے بگڑ گیا کہ عراق میں مجوزہ امن مشن کو اقوامِ متحدہ کی سرپرستی حاصل نہیں۔ جارج بش کی طرف سے کی جانے والی ذاتی درخواست کومسترد کردینے اور پینٹاگان کی طرف سے بھیجنے جانے والے اعلیٰ سطحی وفد کو ٹکا سا جواب دینے کے لئے بھارت کو جو از ترشانے یا تاویلات کے طوطے مینا اُڑانے کی ضرورت ہی نہیںپڑی۔

پاکستانی تعاون کی بنیاد کیا ہے ؟

ہمیں کیا مشکل درپیش ہے؟ بھارت نے تواس مسلمہ اُصول کی بنیاد پرایک واضح فیصلہ کرلیا کہ اس کی افواج کسی طور امریکی کمانڈ کے تحت کام نہیںکریں گی اور وہ صرف ایسی امن فوج کا حصہ بنیں گی جس کی کمان اقوامِ متحدہ کے ہاتھ میںہوگی۔ ہم نے کس فارمولے، کلئے یا اُصول کی بنیاد پر یہ فیصلہ کرلیا کہ ہمیں امریکہ اور برطانیہ کی درخواست پر دو بریگیڈ فوج بھیجنے میںکوئی تامل نہیں؟ اگر یہ اُصول امریکہ کی ہر خواہش کا احترام اور اس کے ہر فرمان کی بے چوں و چرا اطاعت ہے تو پھر یقینا ہمارا فیصلہ درست ہے۔ اگر اس 'اُصولی فیصلے' کی اساس 'سب سے پہلے پاکستان' کا نعرہ اور اس کا یہ مفہوم ہے کہ کسی فائدے کے لئے ہم اخلاق، نظریے، تاریخ اور اقدار کی ساری زنجیریں توڑ سکتے ہیں تو بھی درست ہے۔ اگر ہمیں سنایاجانے والا یہ حکم تین بلین ڈالر کی تخیلاتی گرانٹ سے وابستہ کسی پردہ پوش شرط سے منسلک ہے تو بھی معاملہ قابل فہم ہے۔ پاکستان کے چودہ کروڑ انسانوں کو معلوم تو ہونا چاہئے کہ اس 'اُصولی فیصلے' کی بنیاد کیا ہے؟ عین ممکن ہے کہ وہ نہ صرف عراق میں فوجی دستے بھیجنے بلکہ خود بھی سروں پر کفن باندھ کر امریکی اور برطانوی لشکروں میں شامل ہوجائیں اور اہل کوفہ و بغداد کے لہو کواپنی اُخروی نجات کا سامان بنالیں لیکن انہیں کچھ پتہ تو چلے!!

کیا ہمیں نظر نہیں آرہا کہ عراق میں الاؤ بھڑک اٹھا ہے اور اس کے شعلے تندوتیز ہوتے جارہے ہیں۔ دو روز قبل صوبہ حدیثیہ کے گورنر کو بیٹے سمیت قتل کردیا گیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ گورنر علی محمد نائل جعفری کی امریکہ نواز پالیسیاں عوام کو پسند نہ تھیں۔ اسی روز ایک امریکی ۱۳۰؍سی جہاز پر میزائل داغا گیا۔ اسی روز دو مختلف حملوں میں دو امریکی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ گزشتہ روز کی دو اخباری رپورٹوںسے معلوم ہواکہ اغوا اور آبروریزی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے ڈر سے نوجوان بچیوں نے سکول اور کالج جانا چھوڑ دیا ہے۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکیوں نے بغداد کی معروف شاہراہوں کے نئے امریکی نام رکھ لئے ہیں۔ یہ بھی قیاس کیا جارہا ہے کہ قابض افواج کے جانی نقصانات کو چھپایا جارہا ہے۔ خبر رساں ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ رپورٹ شدہ ہلاکتوں کی تعداد ۱۴۷ تک پہنچ گئی ہے اور یہ اس مجموعی جانی نقصان کے برابر ہے جو امریکیوں کو ۱۹۹۱ء کی جنگ خلیج میں اٹھانا پڑا تھا۔

چھلنیوں سے چھن چھن کر آنے والی اطلاعات بھی اس امر کی تصدیق کررہی ہیں کہ امریکہ شدید مشکلات سے دوچار ہوچکا ہے اور بھنور کی لہریں بپھرتی جارہی ہیں۔ عراقی عوام مسلک، فرقے اور نسل کی تمیز و تفریق کو ایک طرف رکھتے ہوئے اپنی عزت و بقا کا معرکہ لڑ رہے ہیں۔

۲۵ رکنی کونسل بھی 'بون کانفرنس' میں تشکیل پانے والی افغان حکومت کا عراقی ایڈیشن ہے۔ نہ یہ عراقی عوام کی نمائندہ ہے اور نہ ہی اسے ان کی تائیدو حمایت حاصل ہے۔ یہ ایک 'بندوبست' ہے جس کامقصد اقوامِ متحدہ کے لئے جواز پیداکرنا ہے تاکہ وہ امریکہ کی حسب منشا کوئی ایسی قرار داد منظور کرلے جس کے بعد بھارت سمیت کئی ممالک کا اعتراض دور ہوجائے اور وہ اپنی فوجیں عراق بھیجنے پر آمادہ ہوجائیں۔ کوفی عنان کا دورۂ امریکہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ چند دنوں میں نام نہاد عراقی کونسل کاایک وفد اقوامِ متحدہ پہنچ جائے گااور پھر ناٹک کا نیا سین شرو ع ہوجائے گا۔

لمحۂ فکریہ! پاکستان کو اس معاملے میں کوئی حتمی قدم اُٹھانے سے پہلے یہ ضرور سوچ لینا چاہئے کہ اس کے فوری اور دور رَس اثرات کیا ہوں گے؟ ممکن ہے ہمیں تھوڑے سے ڈالر اور شاباشی کے طور پر کچھ تحسینی بیانات مل جائیں لیکن نقصان اتنا زیادہ ہوگا کہ شاید اس کا تخمینہ لگانا بھی مشکل ہو۔ اہل پاکستان کے دلوں کی بستیاں پہلے ہی کھنڈر ہوچکی ہیں۔ اب اگر عراق میں بھی ہم نے کوئی فدویانہ کردار قبول کرلیا تو فکرو احساس پرنہایت کاری ضرب لگے گی۔ ممکن کہ دفتر خارجہ کے نابغے اور امریکی اہلکار کوئی سنہری جال بن رہے ہوں۔

ہم اس آگ میں کیوں کودنا چاہتے ہیں؟ اپنے آپ اور اپنی قوم کو فریب دینے کے لئے کیوں بہانے تلاش کررہے ہیں؟ کیوں دوسروں سے کہتے ہیں کہ اس گناہ کے لئے ہمیں کوئی چھتری فراہم کرو؟ صدر مشرف کو یقین و ایمان کی پوری قوت کے ساتھ صاف اور دو ٹوک الفاظ میں یہ کہہ دینا چاہئے کہ میری قوم یہ نہیں مانتی۔ ہم کسی بھی جواز، کسی بھی بہانے اور کسی بھی خوبصورت حیلے کی آڑ میں اپنی فوج نہیں بھیجیں گے۔ ہم ایسی تعمیر نو میں حصہ لینے کے لئے تیار نہیں، جس سے خود ہمارے ایمان کی بستیاں کھنڈر ہوجائیں۔ صاف صاف بتا دیجئے کہ اب ہماری قباؤں پر کسی اور داغ کے لئے کوئی جگہ نہیں رہی۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پاکستانی فوج صرف سکولوں، ہسپتالوں اور فلاحی و رفاہی خدمات کے اداروں میں فرائض سرانجام دے گی لیکن یہ محض ایک فریب ہوگا۔ اصل بات صرف یہ ہے کہ کیا پاکستان کو امریکی اہداف و مقاصد کا ساتھ دینا چاہئے یا عراقی عوام کا؟ یہ تو ظاہر ہے کہ ہم الم نصیب قوم کا ساتھ دینے سے معذور ہیں۔ بھارت اُردن کے تعاون سے نجف میں ایک بڑا ہسپتال قائم کررہا ہے۔ ہم سے تو اتنا بھی نہیں ہوپایا، تو پھر کیا ہم یہ بھی نہیںکرسکتے کہ ظالم ومظلوم کی اس جنگ میں غیر جانبدار ہوجائیں؟ کیا بھارت کے اُصولی فیصلے کے بعد بھی ہم اپنے 'اُصولی فیصلے' پرقائم رہتے ہوئے اپنی داغ داغ جبیں پر ایک اور داغ لگا بیٹھیں گے؟

[محترم عرفان صدیقی کے کالموں سے اَخذ و ترتیب ... حسن مدنی]

مولانا عزیز زبیدی ؒ پر محدث کی اشاعت ِخاص

تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔

ادارئہ محدث میں اُن پر مضامین لکھوانے کے علاوہ

معروف اہل قلم سے بھی اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا ہے جن میں سے

بعض کے مضامین ہمیں وصول بھی ہوچکے ہیں۔

وہ حضرات جو مولانا کے بارے میں کچھ لکھنا چاہتے ہوں

اوّلین فرصت میں لکھ کر ادارۂ محدث میں ارسال کریں۔

آئندہ شمارہ مولانا زبیدی پر ہوگا، ان شاء اللہ

مضامین وصولی کی آخری تاریخ ۱۵؍ اگست ہے۔ ادارہ

’حرفِ تمنا‘  از ارشاد احمد حقانی ؛   ۲۳؍جولائی ۲۰۰۳ء

عراق فوج بھیجنے کا فیصلہ

نام عراقی عوام کا لیا جائے یا حکمران کونسل کا یا مقصد عراقی عوام کی خدمت کرنا بتایا جائے، حقیقت یہ ہے کہ یہ صدر مشرف کے اس وعدے کی لاج رکھنے کی تدابیر ہیںجو امریکہ میں اس حوالے سے کیا گیا تھا۔

آئیے دیکھیں کہ کسی بھی عذر یا دلیل کی آڑ میں ہمارا عراق فوجیں بھیجنا ایک درست فیصلہ ہوگا؟ معروضی حقائق کو سامنے رکھا جائے تو تو اس سوال کا جواب قطعی نفی میں ہے۔ عراق کی صورتحال امریکہ کے غیر قانونی، غیراخلاقی اور غیر انسانی اقدامات کی پیدا کردہ ہے۔ وہاں امریکہ کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ انتہائی باخبر برطانوی صحافی رابرٹ فسک کا کہنا ہے کہ امریکہ ان بہت سے حملوں کو چھپا رہا ہے جو اس کی افواج پر عراق میں ہورہے ہیں۔ وہ اِکا دُکا واقعات ہی میڈیا میں آنے کی اجازت دے رہا ہے جس کامطلب یہ ہے کہ عراق کی صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے جتنی ظاہر کی جارہی ہے۔ یہ اندیشہ بھی موجود ہے کہ آنے والے دنوں اور مہینوں میں امریکی فوج کی مزاحمت میں اضافہ ہوگا۔ سنٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ جنرل مائرز نے اگلے ہی روز کہا ہے کہ ہمیں چار سال تک گوریلا جنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اندیشہ بظاہر اس وقت یہ ہے کہ امریکہ داخلی مزاحمت کو کچلنے کے لئے اور زیادہ سخت اقدامات کرے گا جس کا نتیجہ شدید تر داخلی مزاحمت کی شکل میں نکل سکتا ہے۔ کیا اس سیاق و سباق میں پاکستان کو اپنی فوج عراق بھیجنی چاہئے؟ کوئی محب ِوطن پاکستانی اس سوال کا جواب اثبات میں نہیں دے سکتا۔ جیسا کہ مجھ سمیت متعدد لوگوں نے لکھا ہے کہ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ کسی پاکستانی فوجی کی گولی سے کوئی عراقی یا کسی عراقی کی گولی سے کوئی پاکستانی فوجی بلکہ دونوں طرف سے کئی فوجی جاں بحق ہوجائیں۔ ایسی تکلیف دہ صورتحال پیدا ہونے کا نتیجہ پاکستانی عوام کی ناراضگی اور عالم اسلام میں ہماری بدنامی کی صورت ہی میں نکل سکتاہے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوگا کہ ہندوستان کو اپنے اُصولی موقف پر ڈٹے رہنے کا کریڈٹ ملے گا جبکہ ہمیں امریکہ کے اشارۂ ابرو پر چلنے کا مرتکب ٹھہرایا جائے گا۔

اب جنرل مشرف کے فیصلہ کرنے کا وقت ہے۔ وہ کہتے ہیں: ہماری معیشت سنبھل گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ تین بلین ڈالر کے پیکیج کی ہمیں کوئی غیر معمولی احتیاج نہیں ہے۔ اس لئے وہ عمومی طور پرامریکہ عزائم اور مقاصد کا خدمت گزار بن کر، بالخصوص عراق میں فوج بھیج کر آخر امریکہ سے کیا جوابی رعایت یا تعاون مانگ رہے ہیں؟ کیا یہی تو نہیں کہ انہیں باوردی صدر کے طور پر قبول کیاجاتا رہے؟ اگر ڈیل یہی ہے تو اس پر بھی قومے فروختند وچہ ارزاں فروختند کا اطلاق ہوگا۔ ہم جنرل مشرف سے کہیں گے کہ وہ پاکستان کی تمام حیثیتوں (جوہری طاقت رکھنے والا اسلامی ملک، امت مسلمہ کا اہم رکن ، امریکہ سے مختلف بلکہ بڑی حد تک متصادم اور متضاد ورلڈ ویو رکھنے والی طاقت) کے تقاضوں کو صرف اپنے باوردی صدر رہنے کی خواہش پر قربان نہ کریں۔ ہمیں مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور وسطیٰ ایشیا میں امریکہ کا کردار بہت بڑھتا ہوا اور پھیلتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ کیا ہمیں یہ زیب دیتا ہے کہ ہم اس پورے عمل میں ایک تابع مہمل کا کردار اختیار کرلیں،محض اس لئے کہ جنرل مشرف کو باوردی صدر قبول کیاجاتا رہے؟ نہیں نہیں ہمیں ایسی پست ڈیل نہیں کرنی چاہئے۔ ہماری فوج عراق بھیجی گئی تو ہمارے خدشات پرمہر توثیق ثبت ہوجائے گی اور یہ پاکستان کیلئے ایک بہت بُرا دن ہوگا…!!