اِدارہ کو محدث کے بارے میں اکثر وبیشتر تعریفی خطوط اور بیش قیمت مشورے موصول ہوتے رہتے ہیں۔ فتنۂ انکار حدیث کی اشاعت کے موقع پر ہمیں بڑی تعداد میں یہ خطوط موصول ہوئے۔ بعض اہم شخصیات کے خطوط کیعلاوہ معاصر دینی جرائد میں بھی محدث اور اس کے خاص شمارے کے بارے میں تبصرے کئے گئے۔قارئین کی آرا اور معاصر جرائد کے نیک جذبات آپ کے پیش خدمت ہیں۔ (ادارہ)

...............(۱) ...............

وزیر مذہبی اُمور، صوبہ سرحد کا مراسلہ

۲۰؍اکتوبر ۲۰۰۲ء

برادرِ محترم و مکرم حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب السلام علیکم ورحمة اللہ برکاته

آج شام 'محدث' کا اشاعت ِخاص بعنوان 'فتنۂ انکارِ حدیث' ملا۔ ایک ادنیٰ مسلمان اور کلیۃ الحدیث الشریف مدینہ یونیورسٹی کے سابق طالب علم کی حیثیت سے مجھے اس موقع پرجو قلبی اطمینان محسوس ہوا، وہ شاید اس قلبی اطمینان سے کم نہ ہو جو اس اشاعت ِخاص کی ترتیب و تدوین پر خود آپ محسوس فرما رہے ہیں۔

فہرست مضامین، اشاریے اور بعض مضامین کا مطالعہ میں نے فوری طور پر کیا۔ چند گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ شاید میرے جیسے لوگوں کو مزید علمی و روحانی فوائد حاصل ہوں :

1. 'پرویز کے بارے میں علمائِ امت کے فتاویٰ' کے عنوان سے صفحہ ۱۰۹ تا ۱۱۶ پر چند فتاویٰ مذکور ہیں۔ میرے خیال میں یہ بجائے خود ایک اہم موضوع ہے۔ اس موضوع پر جتنے فتاویٰ اب تک عالم اسلام میں صادر ہوئے ہیں، اگر انہیں جمع کرکے ضروری حوالہ جات، تفاصیل، حواشی اور اشاریوں کے ساتھ کتابی صورت میں شائع کردیا جائے تو علما اور محققین کے لئے انتہائی مفیدکام ہوگا۔

2. صفحہ ۲۲۱ تا ۲۳۷ پر ڈاکٹر خالد رندھاوا صاحب کا مضمون بعنوان 'برصغیر میں انکارِ حدیث کا لٹریچر' شائع ہوا ہے۔ یہ بھی بہت اچھی کوشش ہے۔ اگر اس میں وہ لٹریچر بھی شامل کر دیاجائے جو برصغیر سے باہر لکھا یا چھاپا گیا ہے تو مزید جامعیت پیدا ہوگی۔

3. انکارِ سنت کے علمبرداروں کے پاس وسائل کی بہتات ہے۔ ان کا لٹریچر بڑی تعداد میں چھپتا ہے اور ہر جگہ دستیاب ہے۔ عوام ناواقفیت سے اسے دینی لٹریچر سمجھ کر خرید لیتے ہیں اور پھر منکرین سنت کے دام میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک کتابچہ شائع کیا جائے جس میں انکارِ سنت پرمبنی لٹریچر کی مکمل تفاصیل موجود ہوں اور ساتھ ہی انکارِ سنت کی حمایت میں لکھنے والے مصنّفین، مؤلفین، مقالہ نگار، کالم نویس اور مقرر حضرات کے نام ایک فہرست کی صورت میں الف بائی ترتیب کے ساتھ شائع کئے جائیں ،کیونکہ بہت سے متبعین سنت کو اس بات کا علم نہیںہوتا کہ کون منکر سنت ہے؟

4. جن جن احادیث ِمبارکہ کو منکرین سنت نے خصوصی طور پر نشانہ بنایا ہے، ان کی ایک فہرست تیا رکی جائے اورپھرمتبعین سنت میں سے جس کا جواب زیادہ مدلل اور مسکت ہو، ہر حدیث کے ساتھ شائع کیا جائے۔

5. ملکی اور سطحی طور پر ایک ایسا ادارہ موجود ہونا چاہئے، جہاں انکارِ سنت کے ردّ میں کم ازکم دو سالہ کورس ہو اور خصوصی طور پر دینی مدارس کے فارغ التحصیل علما کرام کو تخصص کرایا جائے۔

6. انکارِ حدیث کے ردّ میں تقریباً ہردینی رسالے اور مجلے میں کچھ نہ کچھ شائع ہوتا رہتا ہے، ان رسائل اور مجلات کے مدیران صاحبان سے گزارش کی جائے کہ وہ بھی فتنہ انکارِ سنت کے ردّ میں خصوصی نمبر شائع کریں اور اس میں وہ تمام مواد یکجا کردیا جائے جو وہ ماضی میں مختلف اوقات میں خود شائع کرچکے ہیں۔

7. صفحہ ۸۱ پر اکبر الہ آبادی کے دو اشعار تحریر ہیں، آخری شعر یوں تحریر ہے :
شیطان کو 'رحیم' کہہ دیا تھا اک دن
اک شور اٹھا خلافِ تہذیب ہے یہ!

شعر و شاعری سے مجھے کچھ زیادہ شغف نہیں، لیکن جس سیاق و سباق میں یہ شعر تحریرکیا گیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں لفظ 'رحیم' کی بجائے 'رجیم' (جیم کے ساتھ) ہونا چاہئے تھا۔

8. صفحہ ۲۵۰ پر دینی مجلات کی فہرست ہے۔ سالوں کے کالم میں 'ترجمان القرآن' کے سامنے ۱۲۹ درج ہے جو شاید صحیح نہیں ہے۔

9. اسی صفحہ پر ماہنامہ 'معارف' کے سامنے ۱۵۰ درج ہے،اس کی تحقیق بھی ضروری ہے۔

10. میں ایک بار پھر اس عظیم کاوش پر آپ کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں اور بارگاہِ الٰہی میں دست بدعا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں متبعین سنت میںشامل فرما دے۔آمین ! تلک عشرۃ کاملۃ

﴿رَ‌بَّنا ءامَنّا بِما أَنزَلتَ وَاتَّبَعنَا الرَّ‌سولَ فَاكتُبنا مَعَ الشّـٰهِدينَ ٥٣﴾... سورة آل عمران

خیر اندیش قاری روح اللہ محمد عمر مدنی (وزیر مذہبی اُمور،صوبہ سرحد، پاکستان)

جواب: چند باتوں کی وضاحت یہاں ضروری ہے :

پہلے نکتہ میں پرویزیت پرتمام فتاویٰ کوجمع کرنے کی ضرورت کی طرف جو اشارہ کیا گیا ہے، اس سلسلے میں اسی خاص نمبر میں ایک اہم کتاب کا تعارف بطورِ خاص کرایا گیا ہے۔ جامعہ بنوریہ کراچی سے یہ کتاب مولانا منظوراحمد نعمانی نے ۴۰ برس قبل شائع کی تھی، جس میں دنیا بھر کے ایک ہزار سے زائد علما کے فتاویٰ جات کے متن عربی واردو میں شائع کئے گئے ہیں۔ـ (دیکھئے صفحہ نمبر ۲۴۷،۲۴۸) اس کے بعد سے پرویزیت کے بارے میں دیے گئے فتاویٰ محدث کی اس خصوصی اشاعت میں جمع کر دیے گئے ہیں۔ فتاویٰ کی جمع وتدوین کی اس ضرورت کو محدث کا یہ شمارہ اور مذکورہ بالا کتاب بخوبی پورا کرتی ہے۔

اسی موضوع پر ایک اور کتاب بھی العین ٹرسٹ ، کراچی نے ۱۹۸۴ء میں شائع کی ہے۔ جناب ولی حسن کی ترتیب شدہ اس کتاب کا نام 'فتنہ انکار حدیث یعنی پرویز اور دیگرمنکرین حدیث کے بارے میں علماء امت کا متفقہ فتویٰ' ہے۔

نکتہ نمبر ۸ اور ۹ کے تحت ماہنامہ ترجمان القرآن اور ماہنامہ معارف کی جلدوں کی کثرت پر توجہ دلائی گئی ہے۔واضح رہے کہ یہ دونوں ماہنامے دیگر جرائد کے برعکس سال میں دوبار جلد تبدیل کرتے ہیں اور ہرجلد ۶ شماروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ترجمان القرآن نے اپنی اس قدیم روایت کو چندسالوں سے اب تبدیل کرلیا ہے۔ (ح م)

...............(۲) ...............

ڈائریکٹر ابو الکلام آزاد ریسرچ سنٹر، کراچی کا مراسلہ

۳۰؍اکتوبر ۲۰۰۲ء

حضرت محترمی و مکرمی حضرت علامہ حافظ عبدالرحمن مدنی مدظلہ

السلام علیکم!

محدث کے لئے شکرگزار ہوں۔ فتنۂ انکارِ حدیث کی اشاعت ایک اہم دینی و علمی خدمت ہے۔ نہایت اہم مطالب مدوّن ہوگئے۔ ترتیب و تالیف اور تزئین میں حسن انتخاب اور ذوقِ علم و فن کی کار فرمائی ہے۔ دیکھ کر طبیعت خوش ہوگئی۔ نہ صرف معناً بلکہ صوراً بھی نہایت خوب ہے، تبریک پیش کرتا ہوں۔والسلام علیکم ورحمة اللہ و برکاته

خاکسار ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہان پوری

...............(۳) ...............

مدیر ہفت روزہ اہل حدیث لاہور کا مراسلہ

محترم حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب السلام علیکم!

خیریت موجود، کیفیت مطلوب

محدث کا نیا شمارہ 'حجیت ِحدیث نمبر' ماشاء اللہ قابل قدر کاوش ہے۔ میں نے اس موضوع پر کافی لکھا ہے۔ محدث میں بھی ایک مقالہ شائع ہوچکا ہے۔ اگرمجھے علم ہوتا تو میں بھی شامل ہوجاتا۔ بہرحال اس نمبرسمیت محدث پابندی سے مطالعہ کرنے کی خواہش ہے۔

خاکسار حافظ محمد عبدالاعلیٰ درّانی

...............(۴) ...............

سرپرست اعلیٰ کریم بخش اسلامک لائبریری

محترم المقام جناب حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب مدیراعلیٰ 'محدث' لاہور

السلام علیکم! ۴؍نومبر ۲۰۰۲ء

امید ِکامل ہے کہ آپ خیرت سے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے علم و عمل میں عروج وترقی عطا فرمائے ۔ ایک مدت سے آپ کا مایہ ناز جریدہ 'محدث' کریم بخش اسلامک لائبریری شرقپور شریف میںوصول ہورہا ہے۔ جس سے بیسیوں اہل علم اور طلبہ اپنی علمی تشنگی بجھاتے ہیں۔ میں اس پر تہہ دل سے مشکور ہوں۔

حقیقت یہ ہے کہ میں بریلوی مکتبہ فکر کا طالب علم ہوں مگر اس کے باوجود آپ کا جریدہ محدث بڑے شوق سے پڑھتا ہوں۔ ویسے تو لائبریری میں تقریباً تمام مکاتب فکر کے رسائل وکتب وصول ہوتے ہیں مگر آپ کا علمی و اصلاحی مجلہ محدث بطورِ خاص ہمارے پیش نظررہتا ہے۔آپ کی شائع شدہ تحریروں کو میں ہی نہیں بلکہ میرے دوست بھی پسند کرتے ہیں، کیونکہ ان تحریروں میںفرقہ وارانہ تعصب کی بو نہیں ہوتی۔ اگر حقیقت بیان کی جائے تو آپ کا یہ رسالہ اہلحدیث مسلک ہونے کے ناطے، حضور ﷺ کی حدیثوں کے احیا اور ان کی بقا کے لئے جو جہاد کررہا ہے، انہیں ہدیۂ تبریک پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔

میرے ذہن میں آج بھی آپ کے رسالہ میںشائع ہونے والے اس مضمون کے نقوش باقی ہیں جس میں مولانا امین احسن اصلاحی کی شخصیت اور ان کے اسلامی نظریات کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا۔ اب خصوصی نمبر 'فتنہ انکار حدیث' میں انتہائی علمی اور تحقیقی تحریروں کے مطالعہ کا موقع ملا جو واقعی حدیث ِنبوی ﷺ سے بہت بڑی عقیدت اور حضورِ نبی کریم ﷺ سے والہانہ محبت کا اظہار ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو حضور سرورِ دو عالم ﷺ سے اور زیادہ محبت اور اس کارِ خیر میں استقامت عطا فرمائے۔ آمین!

مخلص عبدالرؤف شاداب (سرپرست ِاعلیٰ )

سٹوڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن شرقپور،کریم بخش اسلامک لائبریری، شرقپور

...............(۵) ...............

محترم برادرم حافظ حسن مدنی صاحب حفظہ اللہ

السلام علیکم! ۷؍نومبر ۲۰۰۲ء

مزاج بخیر، ماہنامہ 'محدث' باقاعدگی سے موصول ہورہا ہے۔ برسہا برس سے جماعتی جرائد و رسائل میں جس تشنگی کا اس عاجز کو احساس تھا، محدث کے ساتھ چند ماہ کے تعلق نے بہت حد تک اسے تسکین فراہم کی ہے۔ اس کے علاوہ اسلامک ویلفیئر ٹرسٹ اور اس کے ذیلی ادارہ جات یقینا آپ کی محنت، خلوص اورعلم دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

'محدث' کا خصوصی شمارہ 'فتنہ انکار حدیث' موصول ہوا۔ اس میں مضامین کی جامعیت مسلمہ ،لیکن مضامین کیلئے آپ کا حسن انتخاب نہایت قابل ستائش ہے۔ یقینا آپ نے تاریخ کا ایک بڑا حصہ کوزے میں بند کردیا ہے۔ نیز اپنے اسلاف کی طرح، علمی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے ختم نبوت ﷺ کی چاکری کا حق ادا کردیا ہے۔ جزاکم اللہ أحسن الجزاء

میں آپ کی توجہ اس طرف مبذول کرنا چاہتا ہوں کہ اسماعیلی، آغاخانی، امین احسن اصلاحی، جاوید احمد غامدی وغیرہ کے متعلق بھی عوام کو آگاہ کریں تاکہ ان کا اور مستشرقین کا مشترکہ کردار، سوچ اور فکر سے عوام کو آگاہی حاصل ہو۔ جزاکم اللہ

حضرت حافظ عبدالرحمن مدنی دامت برکاتہ کی خدمت ِاقدس میں میرا سلام عرض کردیں۔شکریہ

نیک دعاؤں کے ساتھ ... تاجدارِ ختم نبوت کی دھول

پروفیسر حکیم میاں عبدالرحمن عثمانی، گوجرانوالہ

...............(۶) ...............

مکرم حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب مدیراعلیٰ ماہنامہ 'محدث' لاہور

السلام علیکم! ۲۲؍نومبر

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مجھے ماہنامہ 'محدث' ملتے ہوئے ایک سال مکمل ہوگیا۔ محدث کے ایک سالہ اشتراک اور باقاعدہ مطالعہ سے مجھے اپنے محدود دینی علم میں اضافے کا بھرپور احساس ہوا۔

آپ تبلیغ دین مبین کابے حد مفید اور بامقصد فرض انجام دے کر اللہ تعالیٰ کی رضا اور حضرت ختمی ٔ مرتبت ﷺ کی خوشنودی حاصل کررہے ہیں۔

میں سنجیدگی سے محسوس کررہا ہوں کہ آپ کے اس مقدس جہاد بالقلم میں شرکت ضروری ہے۔ میں آپ کوچند اہم دوستوں اور احباب کی فہرست روانہ کررہا ہوں، ان سب کے نام ایک سال کے لئے محدث جاری کرنے کا اہتمام فرما دیا جائے۔ جزاکم اللہ خیرا

دعاگو ڈاکٹر یاسین رضوی، اسلام آباد

...............(۷) ...............

محترم شیخ مولانا حافظ عبدالرحمن صاحب مدنی حفظہ اللہ تعالیٰ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۲۵؍نومبر ۲۰۰۲ء

اللہ ربّ ِکائنات کی بے شمار رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں آپ پر اور ان تمام احباب پر جو ماہنامہ محدث کے 'فتنہ انکار حدیث نمبر' شائع کرنے میں شامل ہیں۔ کیونکہ آپ نے محدث کا فتنہ انکار حدیث نمبر شائع فرما کر امامِ کائنات فخر موجودات حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذاتِ مبارکہ پر اور آپ ﷺ کے مقام پرگروہ منکرین حدیث کی طرف سے ڈالی گئی گرد کو صاف کر کے وکالت رسالت کا حق ادا کیا ہے اور ماہنامہ محدث کی یہ کوشش بھی بالکل اسی طرح قابل تحسین ہے جس طرح کہ' رنگیلا رسول 'کا جواب 'مقدس رسول'۔

آج منکرین حدیث سب سے بڑھ کر شاتم رسول اور نہ صرف منکر حدیث ،بلکہ درحقیقت منکر ِعظمت ِانبیا علیہم السلام ہیں۔یہ گروہ قادیانیوں سے بڑھ کر گمراہ ہے ،کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی تو فردِ واحد تھا ، جس نے دعویٰ نبوت کی جسارت کی تھی جبکہ منکرین حدیث کا ہر شخص گویا دعویٰ رسالت کرتا ہے۔

اس لیے کہ یہ لوگ خود صاحب ِقرآن محمد مصطفی ﷺ کی بیان کردہ قرآن مجید کی تفسیر وتعبیر کے منکر اور اپنی خود ساختہ تفسیر کے قابل عمل ہونے کے مدعی ہیں اوران کا یہ طرزِ عمل دعویٰ رسالت کے مترادف ہے۔

محترم! محدث کا یہ خصوصی شمارہ عین وقت پر شائع کیا گیا ہے کیونکہ آج کل منکرین حدیث اپنے بلوں سے نکل آئے ہیں اور احادیث کا انکار شدت کے ساتھ شروع کیا ہوا ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بیرونی آقاؤں نے جو اسرائیل اور یورپ میں بیٹھے ہوئے ہیں، نے اس کام کے لئے انہیںخصوصی اَحکامات اور فنڈز مہیا کئے ہیں۔

محترم مولانا عبدالرحمن مدنی صاحب! ماہنامہ محدث کے اس خصوصی شمارہ میں فکر ِپرویز پر سے پردہ اُٹھایا گیا ہے۔ ضرورت ہے کہ انکارِ حدیث کے جدید گروہوں کے عقائد و نظریات کے رد میں بھی خصوصی شمارے شائع کئے جائیں تاکہ بھولے بھالے لوگ ان کے جال میںپھنسنے سے بچ سکیں۔ اور محترم! آپ نے فتنہ انکار حدیث کے رد میں لکھی جانے والی کتب کی فہرست بھی شائع کی ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان کتب کے شائع کرنے والے اداروں کا پتہ بھی شائع کر دیا جاتا تاکہ شائقین تحقیق کے لئے ان کتب کا حصول آسان ہوجاتا۔ والسلام

رانا عبدالعلیم خان صدر اہلحدیث یوتھ فورس، کراچی

...............(۸) ...............

جناب محترمی و مکرمی مدیر محدث حافظ حسن مدنی صاحب السلام علیکم!

خیر یت کا طالب بخیریت ۲۸؍اکتوبر ۲۰۰۲ء

کل ہی آپ کی طرف سے جریدہ محدث کی اشاعت ِخاص 'فتنہ انکار حدیث' ملا۔ نصف صدی کے بعد اس موضوع پر آپ کی یہ کاوش واقعی قابل ستائش ہے،خصوصاًمختلف دینی رسائل میں حجیت ِحدیث پر شائع ہونے والے مضامین کااشاریہ ۔

مولانا رمضان سلفی صاحب نے 'پرویز کے کفریہ عقائد'پر سطحی گرفت کی ہے اور چند ایک مضامین کا مطالعہ کیا ہے۔ میں نے اپنے مقالہ 'پرویز کے تصورِالٰہ کا تحقیقی مطالعہ، قرآن حکیم کی روشنی میں' میںپرویز کے تصور الٰہ کوبہت نکھارا ہے۔ پرویز نے ذات باری کو قوانین کا پابند، مجبور اور مسلوب الاختیار قرار دیاہے۔ اس نے صفت ِقدرت کو قانون کا نام دیا ہے اور قانون کے بارے میں وہ کہتا ہے کہ یہ قوانین خداوندی صفات ِخداوندی کے مظاہر ہوتے ہیں۔ یہ اصل نقطہ ہے۔ جبکہ صفت اپنے موصوف سے جدا نہیں ہوسکتی۔(۲) پرویز دہریت کے برعکس، نظامِ کائنات میں اللہ تعالیٰ کو متصرف فی الکائنات نہیں مانتا ۔ (۳) پرویز نے ویدانتی تصوف کی تردید کی ہے، لیکن اس نے جو فلسفہ وحدۃ الوجودپیش کیا ہے، جس سے کائنات اور اللہ تعالیٰ کی عینیت ثابت ہوتی ہے، کائنات قدیم ثابت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ علت ِمادیہ کا محتاج ثابت ہوتا ہے، تیسرا انسان صفاتِ الٰہیہ کا مظہر ثابت ہوتا ہے۔ پرویز کا دعویٰ بھی یہی ہے کہ انسانی ذات صفاتِ خداوندی کا مظہر ہے۔ مظہریت کا یہ عقیدہ ہندوازم سے ماخوذ ہے۔ پرویز نے دراصل اسلام کا ایک نیا دین پیش کیا ہے۔ اور اسے پیش کرنے کے لئے مرکز ِملت کا تصور قائم کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ آپ کو اس عظیم کام پر ضرور اجر دے گا۔ والسلام

ظفر اقبال خان (مدیراعلیٰ )

اسلامائزیشن انسٹیٹیوٹ، جھنگ

...............(۹) ...............

محترم مدیراعلیٰ صاحب سلام مسنون ۲۲؍اکتوبر۲۰۰۲ء

حجیت ِحدیث کے موضوع پر جس سلیقے سے قابل قدر مواد ترتیب دیا گیا ہے، وہ یقینا لائق تحسین ہے۔ خاص طور سے رسائل میں انکارِ حدیث کا موضوع پر شائع شدہ مواد کا اشاریہ؛ اس عاجز کی جانب سے اس کامیاب اشاعت پرمبارکباد قبول فرمائیں۔

شاہ انجم بخاری پروفیسرشعبہ اُردو، گورنمنٹ کالج، حیدرآباد

ماہنامہ محدث کی اشاعت ِخاص پر دینی رسائل کے تبصرے

1. ماہنامہ 'حکمت ِقرآن' لاہور، جنوری ۲۰۰۳ء ص ۵۶

'محدث' صحیح عقائد اور اسلام کی ٹھوس تعلیمات کی تبلیغ واشاعت کا ایک باوقار مجلہ ہے، جس میں بلند پایہ علمی اور تحقیقی مضامین شائع ہوتے ہیں۔ محدث کا زیر تبصرہ شمارہ فتنۂ انکار حدیث پر خصوصی اشاعت ہے۔ اس شمارے میں بلند پایہ علماے حق کے وقیع مضامین کو حسن ترتیب سے آراستہ کرکے پیش کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے فتنہ انکار حدیث کے اسباب بیان کئے گئے ہیں، جن میں سب سے بڑا سبب مغرب کی علمی مرعوبیت اور عقل پسندی کا رجحان ہے۔ اس کے بعد اس فتنہ کا تاریخی پس منظر بیان کیا گیا ہے۔ پرویز کے کفریہ عقائد کو بیان کرکے حجیت ِحدیث کی مضبوط بنیادیں واضح کی گئی ہیں۔ تدوین حدیث کے ضمن میں کی جانے والی کوششوں اور حفاظت ِحدیث کے مختلف ذرائع کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس فتنہ کی نمایاں ترین شخصیت غلام احمد پرویز ہے، جس کے گمراہ کن افکار اور عجیب و غریب قرآنی تعبیرات کی بنا پر امت ِاسلامیہ کی صاحب ِعلم و فضل شخصیات نے اسے خارج از اسلام قرار دیا ہے۔ ان علما میںپاکستان کے علاوہ عالم عرب کے ممتاز اہل علم بشمول امام کعبہ، مفتی اعظم سعودی عرب اور شیخ عبدالعزیز بن باز ؒ وغیرہ شامل ہیں۔

اس اشاعت ِخاص میں شامل مختلف اشاریہ جات جو اس موضوع پر شائع ہونے والی کتب اور مضامین کا احاطہ کئے ہوئے ہیں، نہایت گراں قدر علمی سرمایہ ہیں۔ مختصراً یوں کہنا چاہئے کہ 'محدث' کا یہ شمارہ فتنۂ انکارِ حدیث پر انسا ئیکلو پیڈیا کا درجہ رکھتا ہے۔

مبصر:محمد یونس جنجوعہ

2.ماہنامہ'بیدار ڈائجسٹ' مارچ ۲۰۰۳ ص۳۶

رسالہ محدث ایک بلند پایہ علمی، دینی اور اصلاحی ماہنامہ ہے جو گذشتہ ۳۴سال سے معروف عالم دین مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب کی زیر ادارت شائع ہورہا ہے۔ اس رسالے کو ہم بلامبالغہ پاکستان کے صف ِاوّل کے دینی اور علمی رسائل میں شمار کرسکتے ہیں۔ مختلف علمی اور دینی موضوعات پراس کے تحقیقی مضامین بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ان پر مناظرانہ کے بجائے خیرخواہانہ اور مصلحانہ رنگ غالب ہوتا ہے۔ زیر نظر شمارہ 'فتنۂ انکار حدیث' کے موضوع پر اس کی اشاعت ِخاص ہے جسے نہایت سلیقے سے مرتب کیا گیا ہے۔

انکارِ حدیث کا گمراہ کن فتنہ بہت پرانا ہے اور ہر دور میں علماء حق اس پر محکم اورناقابل تردید دلائل کی ضربیں لگا کر عامۃ الناس (مسلمانوں) کو اس میں مبتلا ہونے سے بچا چکے ہیں۔ اس شمارے میں اس موضوع پربہت سے علمائِ حق کے نہایت جامع اور ایمان افروز مضامین شامل ہیں۔ ان کو ذیل کے عنوانات کے تحت تقسیم کردیا گیا ہے: (۱) پرویزیت (۲) تاریخ و تدوین حدیث(۳) حجیت ِحدیث (۴) اشاریہ جات: برصغیر میںانکار حدیث کا لٹریچر، دفاعِ حدیث اور اہل حدیث، دینی رسائل میں حجیت حدیث پر چھپنے والے مضامین۔

مقالہ نگاروں میںپروفیسر منظور احسن عباسی، مولانا رمضان سلفی، مولانامحمد دین قاسمی، ڈاکٹر عبداللہ عابد، حافظ عبدالرحمن مدنی، مولاناصفی الرحمن مبارکپوری، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے اسماء گرامی خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ دوسرے اصحاب کے مضامین بھی بڑے وقیع ہیں۔ چوتھے حصے کے اشارئیے نہایت محنت سے مرتب کئے گئے ہیں۔ یہ اشارئیے فتنہ انکار حدیث کے موضوع پر تحقیق کرنے والوں کے لئے نعمت ِغیر مترقبہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی ترتیب و تدوین پر جو عرق ریزی کی گئی ہے، اس کے لئے ڈاکٹر خالد رندھاوا صاحب، جناب عبدالرشید عراقی صاحب اور ادارئہ محدث داد و ستائش کے مستحق بھی ہیں اور اہل علم کے شکریہ کے بھی۔ اس خوبصورت اشاعت خاص کا مطالعہ نہ صرف معلومات میں اضافہ کرتا ہے بلکہ ذہنوں سے حدیث کے بارے میں ہرقسم کے کانٹے بھی نکال دیتا ہے۔ کوئی پڑھا لکھا مسلمان گھرانا اور کتب خانہ اس سے خالی نہیں رہنا چاہئے۔

ہمارا مشاہدہ ہے کہ منکرین حدیث میں سے اکثر اسماء الرجال اور جرح و تعدیل کے فن یا علم کے معانی اور مفہوم سے یکسر بیگانہ ہیں۔ کاش یہ برخود غلط لوگ ان جانگسل کاوشوں سے آگاہ ہوتے جو محدثین کرامؒ نے روایات کی جانچ پڑتال اور چھان بین کے لئے کیں۔ ایسے افراد سے ہماری دردمندانہ استدعا ہے کہ وہ اس خصوصی اشاعت کا مطالعہ ضرور کریں۔ یہ مطالعہ ان کے لئے نفع بخش ثابت ہوگا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ (مبصر:طالب الہاشمی)

3. ماہنامہ 'الشریعہ' جنوری ۲۰۰۳ء ص۴۶

ماہنامہ 'محدث' لاہور ایک علمی و دینی جریدہ ہے جو ہمارے محترم اور بزرگ دوست مولاناحافظ عبدالرحمن مدنی کی زیرادارت ایک عرصہ سے علمی محاذ پر مصروف کار ہے اور علمی وفکری فتنوں سے اُمت کو خبردار کرتے رہنا اس کا خصوصی مشن ہے۔ فتنۂ انکارِ حدیث پر 'محدث'کی خصوصی اشاعت اس وقت ہمارے سامنے ہے جس میں دورِ حاضر میں انکارِ حدیث کے پس منظر اور اس کے دینی و ملی مضرات و نقصانات پرمختلف علمی مقالات کی صورت میںروشنی ڈالی گئی ہے اور اس کے ساتھ ملک کے دیگر دینی جرائد میں اس حوالے سے شائع ہونے والے مقالات و مضامین کا ایک جامع اشاریہ بھی شامل کیا گیا ہے جو تحقیقی کام کرنے والوں کے لئے بہت فائدہ کی چیز ہے۔ (مبصر: مولانا زاہد الراشدی)

4. ہفت روزہ 'اہلحدیث' لاہور، ۶ دسمبر ۲۰۰۲ء ص۳۰

'محدث' ایک فکری، علمی اور تحقیقی رسالہ ہے۔ اس میں شائع ہونے والے مضامین مفید اور فکر انگیز ہوتے ہیں۔ نئے جنم لینے والے نظریات اور دیگر نو پیش آمد مسائل پر بھی اظہارِ خیال ہوتا ہے اور ٹھوس علمی مسائل بھی دنیاے مجلہ کا حسن ہوتے ہیں۔ 'محدث' کا زیر تبصرہ شمارہ 'فتنہ انکارِ حدیث' کے عنوان پر مشتمل ہے۔

یہ ایک وقیع علمی نمبر ہے جس میں فتنۂ انکار حدیث پر ایک عمدہ اداریہ اور پھر تدوین حدیث پر درج ذیل مضامین ہیں: عہد ِنبویﷺ میںکتابت ِحدیث، حفاظت ِحدیث میں حفظ کی اہمیت اور حفاظت ِحدیث کے مختلف ذرائع۔ گویا ان مضامین میں حدیث کی تاریخ، تدوین اور اس کی حقیقت و اہمیت کو شرح و بسط سے پیش کیا گیاہے اور اس بارے میں منکرین حدیث کی طرف سے وارد ہونے والے اعتراضات اور شبہات کاجواب دیا گیا ہے۔حجیت ِحدیث کے حوالے سے درج ذیل مضامین شامل اشاعت ہیں: حجیت ِحدیث پربعض شبہات کاجائزہ، حجیت ِحدیث اور فتنۂ انکارِ حدیث، مقامِ حدیث اور بزمِ طلوعِ اسلام اور اسی طرح انکارِ حدیث؛ حق یا باطل؟ ان مضامین میں حدیث ِرسول ﷺ کی حجیت کا بیان ہے اور حدیث کا انکار کرنے والوں کا علمی محاسبہ کیا گیا ہے۔

پرویزیت عنوان کے تحت حدیث کا انکار یا استخفاف کرنے والوں کو بھی طشت ازبام کیا گیا ہے کہ انہوں نے کس قدر دیدہ دلیری سے پیغمبر اسلام ﷺکی احادیث پر اپنی کج فکری کے مسموم نشتر چلائے اور اسلام کا حلیہ بگاڑنے کی ناکام اورنامراد کوششیں کیں۔ مجلہ کے اس حصہ میںمسٹر غلام احمد پرویز کی کتابوں اور منکرین حدیث کے دوسرے لٹریچر کے اقتباسات ،ان کے اصل نظریات و افکار کو زیربحث لاکر ان کی کجی واضح کی گئی ہے کہ حدیث کا انکار کرکے یہ لوگ کس طرح قرآن سے بھی من مانے انداز میںکھیلتے رہے۔ قرآنی آیات کی من پسند تاویلات کرتے رہے اور دین کا مذاق اڑاتے رہے۔ مسٹر غلام احمد پرویز کے متعلق وہ فتاویٰ بھی مجلہ کازیور ہیں جن میں سعودی، کویتی، پاکستانی اور دوسرے علماء نے پرویزیوں کو خارج از ملت قرار دیا ہے۔

مجلہ کے آخر میں برصغیر میں انکار حدیث کا لٹریچر، دفاعِ حدیث میں اہلحدیث کا کردار اور حجیت ِحدیث پر دینی رسائل و جرائد کے مضامین کا اشاریہ بھی شامل اشاعت ہے جوکہ بڑا مفید اور محنت طلب کام ہے۔ مجلہ 'محدث' کی یہ اشاعت ِخاص دین حنیف کی واقعی بہت بڑی خدمت ہے جو محدث کے حصہ میں آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اصحابِ 'محدث'کی اس کوشش کو بارآور فرمائے اور حدیث کا انکار یااستخفاف کرنے والوں کو ہدایت عطا فرمائے۔ آمین!

(تبصرہ نگار: حافظ محمد بلال حماد)

5. ماہنامہ 'الاسلام' کراچی، جلد۱ شمارہ۷، رمضان ۱۴۲۳ھ، ص۶۲

فتنۂ انکار حدیث کے بارے میں الحمدللہ اُردو میں بہت اچھی اور نہایت مدلل کتابیں موجود ہیں، لیکن یہ کتابیں ان دنوں آسانی سے دستیاب نہیں، اسی لئے ماہنامہ 'محدث' کا یہ خصوصی شمارہ وقت کی ایک ضرورت کو پورا کرتا ہے۔

اس شمارے کو چار حصوں میں منقسم کیا گیا ہے: ''پرویزیت، تاریخ تدوین حدیث، حجیت حدیث اور اشاریہ جات'' ہماری ناچیز رائے میں پرویز صاحب کو غیر ضروری اہمیت دی گئی ہے۔ دوسرے اور تیسرے حصوں کو اوّلیت دی جاتی تو بہتر تھا۔ اس کے بعد 'پرویزیت' کا حصہ ہوتا۔ 'اشاریہ جات ' کے حصے سے اس شمارے کی قدروقیمت میں اضافہ ہوا ہے اور آج کے قاری کو اس موضوع پر موجود مواد سے آگاہی ہوجاتی ہے۔ خاص طور پر دینی رسائل میں حجیت ِحدیث پر مضامین کا اشاریہ، ایک اہم کاوش ہے۔ کتابوں اور رسالوں میں 'مدفون' مضامین کی تلاش سے فکر اور مطالعے کی راہیں وسیع تر ہوتی ہیں۔ اگر مستقبل قریب میں محدث کے مدیرانِ کرام، رسالوں کے منتخب مضامین کو ترتیب دے کر ایک خصوصی شمارہ شائع کردیں تو وہ زیرنظر شمارے کی ایک تکمیلی صورت ہوگی۔ مبصر: ادارہ 'الاسلام'

6. ماہنامہ 'صدائے ہوش' ماہ جنوری ۲۰۰۳،ص۲۶

حضرت مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب کے زیرادارت شائع ہونے والا ماہنامہ 'محدث' علمی، تحقیقی اورفکری مضامین کے اعتبار سے بہت جاندار اور شاندار رسالہ ہے، جو اپنی وسعت ِفکر اور تحقیقی مسائل کی وجہ سے علمی دنیا میں بلند مقام رکھتا ہے۔ ماہنامہ محدث نے عمر دراز پائی اور وہ گذشتہ ۳۴ سال سے دعوتِ دین کا فریضہ ادا کرنے میں سرگرم عمل ہے۔ ماہنامہ محدث کے مضامین معیاری اور تحقیقی ہوتے ہیں اور اس میں قرآن اور حدیث سے مسائل کو نکھار کر پیش کیا جاتا ہے۔ ماہنامہ محدث نے ہر اس فتنے کی سرکوبی بھی کی ہے جو اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف لب کشائی کرتا ہے۔

محدث کا زیر تبصرہ شمارہ 'فتنۂ انکار حدیث' کے عنوان پر مشتمل ہے۔ اس میں فتنہ انکار حدیث سے متعلق مختلف اہل قلم کے مضامین شامل ہیں۔ موضوع سے متعلق اہل قلم حضرات نے خوب دادِ تحقیق دی ہے اور انکارِ حدیث کے فتنہ کا کھل کر ٹھوس دلائل سے استیصال کیا ہے۔ شروع میں فتنۂ انکار حدیث پر زبردست اداریہ ہے، جس میں مختلف پہلوؤں سے انکارِ حدیث کے فتنہ کا جائزہ لیا گیا ہے...

اس دورِ فسطائیت میں جبکہ اسلام، پیغمبر اسلام اور حدیث پر بعض کج فہم اور کوتاہ بین قسم کے لوگ اعتراض کررہے ہیں ، محدث کی یہ کاوش قابل قدر ہے۔ اس میں پرویزیت کا ردّ ہے، فتنہ انکار حدیث کا استیصال ہے اور خوبصورت پیرائے میں حدیث ِنبویﷺ کا دفاع ہے۔ ویسے تو اس اشاعت ِخاص کے تمام ہی مضامین بے مثال ہیں لیکن خاص طور سے مولانا محمد رمضان سلفی، پروفیسر محمد دین قاسمی، حافظ حسن مدنی، حافظ عبدالرحمن مدنی، مولانا صفی الرحمن مبارکپوری اور ڈاکٹر خالد رندھاوا صاحب کے مضامین پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ فتنۂ پرویزیت اورانکارِ حدیث سے متعلق یہ ایک اہم دستاویز ہے۔ اس کی تدوین و ترتیب پر ہم حضرت حافظ عبدالرحمن مدنی اور ادارئہ محدث کے اراکین کی خدمت میں ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہیں۔

(تبصرہ نگار: محمد رمضان یوسف سلفی)

7. ماہنامہ 'آبِ حیات' لاہور،نومبر ۲۰۰۲ء ،ص ۲۶

پیش نظر کتاب ماہنامہ 'محدث' لاہور کا فتنہ انکا رحدیث نمبر ہے۔ 'محدث' انتہائی وقیع اور معلومات افزا رسالہ ہے۔ 'محدث' کے مدیراعلیٰ مولاناعبدالرحمن مدنی ہیں، جواہلحدیث مسلک کے بڑے علما میں شمار ہوتے ہیں، انکے عمومی لٹریچر اور تحریروں میں بڑا ٹھوس اور مضبوط مواد شامل ہوتا ہے۔ حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں 'محدث' نے ہمیشہ ایک عالمانہ کردار ادا کیا ہے۔

موجودہ زمانہ میں جدیدیت کے گمراہ کن نظریات نے جنم لیا ہے، جنہوں نے نوجوان نسل کو حدیث ِرسول اللہﷺسے برگشتہ کرنے کی شرارت شروع کررکھی ہے، ایسے سنگین حالات میں 'محدث' کا یہ خاص نمبر انتہائی اہم اور مفید کاوش ہے، اس شمارے میں قافلہ تحریر کے بڑے بڑے دانشوروں کی نگارشات شامل ہیں۔

اس شمارے کے چند اہم عنوانات یہ ہیں: (۱) پرویزیت (۲) تاریخ تدوین حدیث (۳) حجیت ِحدیث (۴)اشاریہ جات ... ان چار مرکزی عنوانات کے ذیل میں سینکڑوں علمی مضامین پوشیدہ ہیں۔ برصغیر میں فتنہ انکار حدیث کے آغاز سے لے کر اس فتنہ کے گمراہ کن افکار تک ہر عنوان پرسیر حاصل بحث کی گئی ہے، اور منکرین حدیث کو شافی جواب دیا گیا ہے۔ اور اس فتنہ کے مردود بانیوں کی قبروں پر علم وعرفان کے کوڑے برسائے گئے ہیں۔ ماہنامہ 'آبِ حیات' اپنے جلیل القدر معاصر 'محدث' کو اس عظیم علمی و تحقیقی کاوش پر ہدیہ تبریک پیش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حافظ عبدالرحمن مدنی اور حافظ حسن مدنی (مدیر) کو مزید آگے بڑھنے کی توفیق بخشے۔ (مبصر : محمود الرشید حدوٹی)

8. ماہنامہ 'الرشید' لاہور، فروری ۲۰۰۳ ص۱۰۸

حدیث و سنت کی حجیت و شرعی حیثیت کے متعلق شروع ہی سے فتنۂ انکار حدیث پیدا ہوا جو صرف درایت اور عقل سے حدیث کو پرکھتا اور دیکھتا ہے۔ عقول انسانی متفاوت اور متضاد ہیں، اس لئے ہر ایک نے اپنی اپنی عقل کے ترازو سے حدیث کوتولا،انکارحجیت حدیث کے علاوہ ان میں کوئی قدرِ مشترک نہیں کہ ہر کوئی اپنی عقل استعمال کرتا ہے۔ تیرہویں، چودہویں صدی میں اس کو خاصا عروج ہوا اورکئی ایک ضال مضل افراد پیداہوئے لیکن حدیث کے عشاق نے ان کے دانت کھٹے کردیئے۔

مختلف اوقات میں مختلف جرائد نے حجیت ِحدیث پر عمدہ نمبر نکالے۔ ماہنامہ 'محدث' کا نمبر اس میں تازہ اور مفید اضافہ ہے جس میں قابل قدر حضرات کے قیمتی مضامین ہیں...

سرسید احمد خاں، غلام احمد پرویز، عبداللہ چکڑالوی وغیرہ ہر کوئی اپنے عقل کے گھوڑے دوڑاتا ہے اور کاغذی گھوڑے بہت دوڑتے ہیں۔ بہرحال ماہنامہ 'محدث' نے حافظ حسن مدنی حفظہ اللہ کی ادارت میں بیش قیمت مضامین جمع کئے ہیں۔ کاغذ وطباعت عمدہ ہے۔ آخر میں آج تک منکرین حدیث کے رد میں شائع ہونے والی کتب اور رسائل کا ذکر ہے جو ۳۲ صفحات پر پھیل گیاہے۔ (مبصر: عبد الرشید ارشد)

9. روزنامہ 'نوائے وقت' لاہور: سنڈے میگزین۲۷؍اپریل ۲۰۰۳ء

انکارِ حدیث کا گمراہ کن فتنہ بہت پرانا ہے او رہردور میںعلمائِ حق اس پر محکم اور ناقابل تردید دلائل کی ضربیں لگا کر عامۃ الناس (مسلمانوں) کو اس میں مبتلا ہونے سے بچاتے چلے آرہے ہیں۔علامہ حافظ عبد الرحمن مدنی کی زیر ادارت مجلس التحقیق الاسلامی ،جے بلاک،ماڈل ٹاؤن،لاہور کے ماہنامہ محدث کا فتنۂ انکار حدیث نمبر اسی سلسلۃ الذہب کی ایک کڑی ہے ۔ ۲۸۰ صفحات پر مشتمل مجلے کے اس خصوصی شمارے میں اس موضوع پر بہت سے علماے حق کے نہایت جامع اور ایمان ا فروز مضامین شامل ہیں۔ ان کو ذیل کے عنوانات کے تحت تقسیم کر دیا گیا ہے : (۱) پرویزیت(۲) تاریخ وتدوین حدیث (۳) حجیت ِحدیث(۴) اشاریہ جات

برصغیر میں انکارِ حدیث کا لٹریچر ،دفاعِ حدیث اور اہل حدیث دینی رسائل میں حجیت حدیث پر چھپنے والے مضامین کی تفصیل ہے۔علمی،دینی اور اصلاحی ماہنامہ رسالہ محدث گزشتہ ۳۴؍سال سے علامہ حافظ عبد الرحمن مدنی کی زیر ادارت شائع ہو رہا ہے۔خصوصی شمارے کی قیمت محض سو روپیہ رکھی گئی ہے۔ (مبصر: ڈاکٹر انور سدید)

10. ماہنامہ 'طلوع اسلام' لاہور اپریل ۲۰۰۳ء

ماہنامہ 'طلوعِ اسلام'کے اپریل ۲۰۰۳ء کے شمارے میں بھی محدث کے اس شمارے پر نظر کرم فرمائی گئی ہے۔مضمون نگار خوا جہ ازہر عباس نے محدث کے علمی اُسلوب اور مقالات کے متین طرزِ تحریر کی تعریف کرتے ہوئے دو نکات پر اپنا نکتہ نظر تفصیلاً پیش کیا ہے۔ لکھتے ہیں

''ماہنامہ محدث علمی اور اصلاحی مجلہ ہے، جو دینی حلقوں میں معروف اور پسندیدہ مجلہ ہے۔اس کے مدیر اعلیٰ حافظ عبد الرحمن مدنی مشہور عالم دین ہیں۔ اور اپنی علمی اور دینی وجاہت کے باعث اپنا خاص مقام رکھتے ہیں... اس ماہنامہ کا اگست وستمبر کا شمارہ فتنہ انکارِ حدیث پر خاص نمبر ہے، جس میں انکار حدیث کے اسباب، اس کی تاریخ، اس کے نظریات اور انکار کرنے والوں کے باہمی اختلافات کو پیش کیا گیا ہے۔ سارا مواد بہت محنت اور کاوش سے دستیاب کیا گیا ہے۔'' (صفحہ ۱۸ )

۱۶ صفحات پر مشتمل اس مضمون کی مکمل اشاعت تو یہاں ممکن نہیں ۔ لیکن مضمون نگار کو محدث کے اس خاص نمبر سے یہ شکایت ہے کہ

'' حدیث شریف کے سلسلے میں اصل مسئلہ اس کو وحی الٰہی قرار دینے کا ہے۔ ۲۸۰ صفحات کے اس رسالہ میں اس مسئلہ کو صرف ایک جگہ بیان کیا گیا ہے، حالانکہ مرکزی نکتہ یہی ہے۔ اُمت ِمسلمہ کو سب سے زیادہ نقصان اسی غلط نظریہ سے پہنچا...!!''

اس سے اگلے ۵ صفحات میں انہوں نے اپنا موقف اس بارے میں تفصیل سے پیش کیا ہے ، جس کا خلاصہ یہی ہے کہ وہ سنت ِرسول کو وحی ماننے کے لئے تیار نہیں۔ انہوں نے یہ شکوہ بھی کیا کہ سنت کے وحی نہ ہونے پر اہل ِقرآن (منکرین سنت) نے تو دلائل کے انبار لگا دیے ہیں، لیکن سنت ِرسول کو وحی ماننے والوں نے اپنے موقف کو کبھی دلائل کے ساتھ پیش نہیں کیا۔

آگے صفحہ ۲۴ پر لکھتے ہیں:

''یوں تو اس موقر رسالہ کے سارے مضامین سنجیدہ ہیں، اور زبان بھی متین ہے اور مضامین تحقیق پر مبنی ہیں لیکن 'اطاعت ِرسول اور پرویز ' کے عنوان سے مقالہ تحریر کرنے والے پروفیسر منظور احسن عباسی کا انداز اور زبان متانت سے گری ہوئی ہے ...

اس جریدہ میں تمام علماء نے عموماً شریفانہ لہجہ اختیار کیا ہے لیکن پروفیسر صاحب کے پیرایۂ بیان سے انہیں شکایت ہے۔''

صفحہ ۲۵ سے صفحہ ۳۳ تک مضمون نگار نے اپنے تصورِ مرکز ِملت پر تفصیلاً روشنی ڈالی ہے، اور محدث میں مولانا رمضان سلفی اور پروفیسر منظور احسن عباسی کے مرکز ِملت کے اعتراض پر اپنا موقف پیش کیا ہے۔ ٭٭

اطلاع:فتنہ انکارِ حدیث نمبر میں اس موضوع پر شائع ہونے والی کتب ومضامین کی فہرستیں شائع کی گئی تھیں۔ بعض قارئین نے مزید کتب کی نشاندہی بھی کی ہے، جسے عنقریب مستقل طور پر شائع کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ