[عروج وزوال کے بارے میں قانونِ الٰہی اور اس کے تقاضے]

۱۱؍ ستمبر کو نیویارک کے ٹون ٹاورز کی تباہی کو جواز بنا کر امریکہ نے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لئے عالم اسلام پر جارحیت کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، بظاہر ابھی اس کے ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آتے۔ بہت سے ایسے اہداف جن کی تکمیل کے لئے امریکہ کو عرصہ سے بہانہ کی تلاش تھی،اب عالمی ہمدردی کے زیر سایہ بڑے دھڑلے اور ڈھٹائی سے انہیں پورا کرنے کا موقع اُسے میسر آچکا ہے۔ اس دہشت گردی کے بہانے یہود و ہنود اور عیسائیت و لادینیت کو ایک مشترکہ دشمن 'اسلام' کو ہدف بنانے کا بھرپور موقع ملا ہے۔

یوں تو عالم اسلام پر ابتلا کا یہ دوربرسوں کی بجائے چند صدیوں پر محیط ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں مسلم ممالک کو استعماری طاقتوں نے حصے بخرے کرکے بانٹ رکھا تھا اور آزاد اسلامی ریاستیں خال خال ہی موجود تھیں تو اکیسویں صدی کے آغاز میں بظاہر تو مسلم ممالک کی ایک بڑی تعداد نہ صرف آزاد ہے، بلکہ عالمی آبادی اور ممالک کی تعداد کے لحاظ سے بھی مسلمان دنیا بھر کا چوتھائی حصہ ہیں، لیکن اس ظاہری آزادی کے باوجود ذہنوں کی غلامی اور فکری محکومی پچھلی صدی سے کئی گنا بڑھ چکی ہے ۔ پہلے غیرملکی ان ممالک پر بذاتِ خود قابض تھے ، اب ان کی حکومت بالواسطہ ہے۔ استعمار نے ان ممالک کو آزادی ہی اس قیمت پردی ہے کہ وہاں اس کی فکری اولاد اپنا تسلط قائم رکھ سکے۔ ان ممالک پر اپنے تسلط کو باقی رکھنے کے لئے استعمار نہ صرف اپنی فکری اولاد کی مسلسل سرپرستی کرتا ہے بلکہ ان کی اور مسلمانوں کے مقتدر طبقہ کی تعلیم وتربیت کا بارِگراں بھی اسی نے اُٹھا رکھا ہے۔جس ملک میں استعمار کی گرفت ڈھیلی پڑتی نظر آتی ہے، وہاں ہرقیمت پر مداخلت اور جارحیت کے ذریعے اپنے مہروں کو عنانِ اقتدار پر قابض کیا جاتا ہے۔ افغانستان کی مثال لے لیجئے، اس پورے المیہ کا حل صرف اس نتیجے پر موقوف تھا کہ ملا عمر کی بجائے حامد کرزئی کی حکومت وہاں قائم ہوجائے، اسامہ بن لادن کا ہوا یا القاعدہ کی دہشت گردیاں تو فقط اس مقصد تک پہنچنے کے لئے ایک بہانہ تھیں۔ صرف اسی مقصد کے حصول کیلئے افغان عوام پر آتش وآہن برسایا گیااور شہروں، دیہاتوں کو تباہ وبرباد کیا گیاکیونکہ وہاں ایسی حکومت قابل قبول نہیں تھی جو سامراجی پالیسیوں کی راہ میں رکاوٹ بنتی اور ان کا دبائو قبول نہ کرتی۔

جدید دور کی کرشمہ سازیوں میں سے یہ بھی ہے کہ یہ استعماریت سیاست سے بڑھ کر اب آگے کئی نئے روپ دھار چکی ہے۔ نیا دور اقتصادی،ابلاغی اور فکری و تعلیمی استعماریت کا دور ہے۔ نئی صدی کے تقاضوں کی تکمیل اور اس میںباقی رکھنے کی جدوجہد (تنازع للبقا)پچھلی صدی سے اس لحاظ سے زیادہ مشکل ہے کہ اب جارحیت و تسلط کاانداز زیادہ پیچیدہ اور سائنٹفک ہوگیا ہے۔ انسانی حقوق کے نام پر 'اقوام متحدہ ' اگر عالمی قوتوں کی یرغمال ہے تو معیار(ISO سرٹیفیکیشن) کے نام پر دنیا بھر کی تجارت پرمغرب کا انجینئرڈ تسلط ہے۔

پچھلی صدی اور موجودہ صدی کے عالم اسلام میں یہ بھی فرق ہے کہ تب غلامی کی زنجیریں اپنے وجود پر ہمیں محسوس ہوتی اور بوجھل لگتی تھیں اور مسلمان ان سے آزادی حاصل کرنے کے لئے بے چین وسرگرم تھے۔ اب جدید استعمار نے غلامی کا رنگ ڈھنگ بدل دیا ہے اور ہمیں اس محکومیت کی متنوع صورتوں کا نہ احساس باقی رہا ہے اور نہ اس سے پیچھا چھڑانے کی کوئی مستقل اور پُرعزم منصوبہ بندی ہمارے پیش نظر ہے۔

پچھلی صدیوں میں مسلمانوں کا ذہین اور باصلاحیت طبقہ اس جدوجہد آزادی میں اُمت مسلمہ کے شانہ بشانہ کھڑا تھا، اب وہی بااثر اور مقتدر طبقہ اپنے ہی ہم مذہبوں اورہم وطنوں پر حکومت کرکے عیاشی میں مصروف ہے۔ مسلم ممالک میں ترقی پسند اور اسلام پسند کے دو واضح طبقے موجود ہیں جس میں اوّل الذکر ترقی کے نام پر مغرب نوازی اور ان کے ایجنٹ کا کردار ادا کررہا ہے۔ وہ ہر چیز کو اہل مغرب کی عینک سے دیکھتا ہے۔یہی وہ طبقہ ہے جو مسلم ممالک کی اشرافیہ کہلاتا ہے اور اقتدارکے سرچشموں پر قابض ہے۔ دوسری طرف جنہیں رِجعت پسندکا طعنہ دیا جاتا ہے وہ اسلام کا نام لیوا طبقہ ہے، جو اس اسلام کو اپنے ہاں نافذ کرنا چاہتا اور ا س کی برکات سے متمتع ہونا چاہتا ہے جسے محمدعربیﷺ لیکر آئے۔مغربی ذرائع ابلاغ انہیں فنڈامنٹلسٹ کا طعنہ دیتے ہیں جس میں حالیہ برسوں میں دہشت گرد کے' اعزاز' کا بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ گویا راسخ العقیدہ مسلمان اور دہشت گردی اس نئے دور میں لازم وملزوم متصور ہوتے ہیں!!

پچھلی صدیوں کو موجودہ زمانہ سے یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ تب خلافت ِاسلامیہ کے تحت مسلمان تمام مصائب کے لئے اکٹھی آواز بلند کرنے کا کوئی تصور اور پلیٹ فارم رکھتے تھے، اب اقوامِ متحدہ نے مختلف قومیتوں اور رنگ و نسل میں بانٹ کر اور اسے تقدس عطا کرکے ہمیں جسد واحد بننے سے روک رکھا ہے۔ جدید تعلیم اور ذرائع ابلاغ نے اس طرح ہماری ذہن سازی کردی ہے کہ اُمت کے نام پر اتحاد مسلمانوں کو ایک دقیانوسی تصور معلوم ہوتا ہے۔

الغرض شکاری پرانے ہیں اور شکار بھی وہی لیکن جال نیا ہے اور ہتھکنڈے بھی زیادہ پرفریب! دوسری طرف امریکہ تو ۵۰ ریاستیں ہوکر بھی ایک ریاست ہے، یورپ میں بھی ریاست کا تصور انتظامی حد بندی وغیرہ کے لئے ہے جبکہ ویزا، کرنسی اور تجارت بالکل آزاد، لیکن مسلمانوں کے مغرب برانڈ حکمران اپنی اپنی بادشاہت چمکانے کے لئے مختلف ریاستوں میںبٹے ہوئے ہیں، باہمی تجارت بھی یورپ کی تجارتی تنظیموں کے توسط سے کرتے ہیں اور کرنسی کا تبادلہ بھی ڈالرز میں۔ملوکیت کا چسکا بھی چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹے رکھنے کے لئے ان میں برقرار ہے اور یہ ملوکیتیں مغربی استعمار کو بالکل نہیں کھٹکتیں کیونکہ یہاں ان کا مفاد اسی طرح ہی پورا ہوتا ہے کہ وہ انہیں کمزور رکھ کرتحفظ کے نام پر ان سے منہ مانگی قیمت وصول کریں اور جب چاہیں ان کے تحفظ پر آئی افواج سے کسی ایک مسلمان ملک کی گردن دبوچ کر اس پر قابض ہوجائیں۔

ترقی یافتہ دنیا کی تہذیب اور قانون پسندی بھی ایک ڈھونگ ہے۔ انہوں نے اپنے ہم وطنوں کے لئے عزت وتکریم کا جو خوبصورت تصور پیش کیا اور اسے عملاً اپنے ممالک میں قائم کرکے دکھا یا ہے لیکن قوموں کی برادری میں وہ مساوات اور عزت کی پاسداری ایک فریب سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی۔ اپنے ملک میں جو یورپی تہذیب و قانون پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں، دنیا کی برادری میں جب نکلتے ہیں تو نسلی تفاخر اور قومی غرور کے دائرے سے باہر نہیں نکل پاتے۔ ان کے پیمانے اپنوں اور غیروں کے لئے سراسر مختلف ہیں اور وہ دوسروں کو اپنے جانوروں جتنا حق دینے کو بھی تیار نہیں کجا کہ شرفِ آدمیت اور مساوات کا دعویٰ کیا جائے۔ اپنے ایک فرد کے لئے دوسری پوری قوم کو ہراساں کرنا اور زندہ رہنے کا حق بھی چھین لینا کہاں کی انسانیت ہے؟ اپنی عیاشی اور برتری کی تسکین کے لئے دوسرے ممالک کے کروڑوں عوام کو تباہی میں دھکیل دینا آج کے مہذب یورپ کا وطیرہ ہے۔اس اجمال کی تفصیل اور ان تضادات کی نشاندہی ایک طویل موضوع ہے، صاحبانِ فکر ونظر جس سے بخوبی آگاہ ہیں۔

ملت ِاسلامیہ کے خلاف عالم کفر کے اتحاد کے بارے میں نبی کریمﷺ کی پیش گوئی موجود ہے۔ الکفر ملة واحدۃ کا مشہور مقولہ ہردور میں سچا ثابت ہوتا رہا ہے۔ قرآنِ کریم میں یہود اور مشرکین کے بارے میں بھی صراحت موجود ہے :

﴿لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النّاسِ عَد‌ٰوَةً لِلَّذينَ ءامَنُوا اليَهودَ وَالَّذينَ أَشرَ‌كوا...٨٢﴾... سورة المائدة

''یقینا آپ ایمان والوں کا سب سے زیادہ دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے ۔ ''

مسلمانوں پریہ دورِ ابتلا بھی نبی کریم ﷺکے فرامین میں بڑی صراحت سے موجود ہے۔ جس میںاس کا سبب بھی بتا دیا گیاہے :

«یوشك الأمم أن تداعی علیکم کما تداعی الأکلة إلی قصعتها فقال قائل: ومن قلة نحن یومئذ قال بل أنتم یومئذ کثیر ولکنکم غثاء کغثاء السیل ولینزعن اللہ من صدور عدوکم المهابة منکم ولیقذفن اﷲ في قلوبکم الوهن فقال قائل: یا رسول اللہ! وما الوهن؟ قال حب الدنیا وکراهیة الموت»

''قریب ہے کہ تم پر اُمتیں اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جس طرح بھوکے کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں کسی کہنے والے نے کہا: کیا اس وقت ہم تھوڑے ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا بلکہ تمہاری تعداد تواس وقت بہت زیادہ ہو گی لیکن تم سیلاب کی جھاگ کی طرح (بے حیثیت) ہو گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا رعب ودبدبہ نکال دے گا اور تمہارے دلوںمیں وَھن ڈال دے گا۔کسی نے پوچھا اللہ کے رسول وھن کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دنیا سے محبت اور موت سے نفرت۔'' (سنن أبي داود: کتاب الملاحم، باب في تداعی الأمم علی الإسلام؛رقم ۴۲۹۷)

امریکہ کی زیرقیادت اتحادی افواج ...جو دراصل اسلام کے خلاف اتحاد ہے کیونکہ اس مشترکہ دشمن کو نقصان پہنچانے اور انہیں ہر سطح پر کمزور کرنے میں یورپ اور امریکہ سمیت روس وچین کا بھی اتفاق ہے... کی تازہ جارحانہ کاروائیاں اور مسلم ممالک پر استیلاء و قبضہ کا معاملہ ہو یا برسہا برس سے مسلم امہ کے دیگر حل طلب مسائل مثلاً کشمیر، چیچنیا، اراکان اور فلسطین وغیرہ ان مسائل کے حل کے لئے مسلمانوں کی پالیسی کی فکری بنیادیں کیا ہونی چاہئے۔ اس سلسلے میں مسلمانوں کے طرز ِفکر میں ایک بنیادی تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔ زیر ِنظر مضمون اسی طرز ِ فکر کی اصلاح کے موضوع پرہے۔

تازہ ترین ملّی سانحات نے مسلمانوں کے فکرودانش سے وابستہ طبقوں کو انہی مسائل کے حل اور مستقل تدارک کے لئے غوروفکر پر مجبور کردیا ہے۔مسلمانوں کے طویل عرصہ سے چلے آنے والے سانحات کے لئے جہاں ہمیں ملّی سطح پر اپنی کمزوری کے مواقع کی نشاندہی کرنا ضروری ہے، وہاںدوسروں کی برتری کے مظاہر پہچاننے کی بھی ضرورت ہے۔ اور اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کے مقتدر اور باصلاحیت قائدانہ کردار ادا کرنے والے طبقہ کو بھی اس سوچ سے آگاہ کیا جائے اور ان کے فکر و ذہن جو تہذیب ِغیر کی چمک دمک سے مرعوب ہوکر انہی کے خوشہ چین بننے کو افتخار سمجھے بیٹھے ہیں، انہیں ان کی اپنی تاریخ وروایات سے بھی آگاہ کیاجائے۔

مسلمان بعض اوقات دین سے جذباتی لگاؤ اور سطحی نظر سے معاملات کو دیکھنے کی وجہ سے اپنے حالات کو تبدیل کرنے کی الٰہی حکمت اور اُسلوب کو نظر انداز کردیتے ہیں یا عمداً بھول جاتے ہیں۔اکثر مسلمان آزمائشوں اور فتنوں کے اس دور میں بارگاہ ِ الٰہی میں گڑ گڑا کر اور التجائیں کرکے مسلمانوں کی حالت ِزار کی بہتری کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔ بیشترمسلمان ان تکالیف ومصائب کے دوران قنوتِ نازلہ کے ذریعے دشمن کو نیست و نابود کرنے کی دعائیں مانگتے ہیں، عورتیں رنج و الم سے بلکتی اور بچے ربّ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہیں لیکن آزمائش ہے کہ بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ ایسے میں بہت سے مسلمان مایوسی اور بے اعتمادی کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔

ہمیں یہ بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ حالات کی تبدیلی اور مشکلات و مصائب سے نجات کی سنت ِالٰہیہ کیا ہے؟ دنیا میں ہونے والے اُمور کو اللہ تعالیٰ نے عمل اور اعتقاد کے مابین ایک توازن کے ساتھ جاری کیا ہے۔ دنیا کو بظاہر عالم الاسباب بنایا گیا ہے جہاں کوئی بھی شے ظاہری اسباب کے تحت وجود میں آتی ہے، اس سلسلے میں دعاؤں اور اعتقاد و ایمان کا بھی اہم حصہ ہے لیکن اس پر بحث کو ہم قدرے مؤخر کرتے ہیں۔

انبیاء کرام کا اُسلوبِ تغیر

انبیاء کرام اللہ کی برگزیدہ اور منتخب ہستیاں ہوتی ہیں اور ان کی بعثت کا مقصد وحید اللہ کے پیغام کو دنیا میں پھیلانا ہوتا ہے۔ اگر اسباب کے بغیر غیبی ذرائع سے مدد کرنے کی سنت اللہ تعالیٰ نے اپنائی ہوتی تواس کی سب سے زیادہ مستحق انبیا کی ذات ہوتی لیکن انبیا اپنی دعوت اور اقامت ِدین کی تحریک کو ظاہری اسباب سے بھی مسلح کرتے ہیں اور اپنے اور اپنے ساتھیوں کے کردار و عمل کے ذریعے اس تحریک کو کامیابی اورغلبہ کا زمینی جواز بھی فراہم کرتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا اور دعوت کا دارومدار صرف اللہ سے دعا اور ایمان و ایقان پر منحصر ہوتا تو انبیا کی دعوت کے نتائج میں بھی اس قدر فرق نہ ہوتا۔ اسباب اور حالات و واقعات کے پس پردہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ِبالغہ اور مشیت بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔

انبیاء کے اسلوبِ دعوت و غلبہ دین کا ذرا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو اس امر پر انشراحِ صدر ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے مادّی اسباب سے انہیں بھی میدانِ دعوت میں لیس کرکے بھیجا تھا۔ موجودہ دور کے ظاہری اسباب میںجس طرح سیاسی، عسکری اور اقتصادی برتری سرفہرست ہیں، اس طرح سادہ زمانوں میں قبائل اور نسلوں کی بڑی اہمیت ہوتی تھی۔ قرآنِ کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت لوط کو اپنے مخاطبین کے بالمقابل قوت اور شوکت میسر نہ ہوئی تو انہوںنے اللہ تعالیٰ سے یہی شکایت ان الفاظ میں کی ہے :

﴿قالَ لَو أَنَّ لى بِكُم قُوَّةً أَو ءاوى إِلىٰ رُ‌كنٍ شَديدٍ ٨٠﴾... سورة هود

''لوط نے کہا کاش کہ مجھ میں تم سے مقابلہ کرنے کی قوت ہوتی یا میں کسی زبردست کا آسرا پکڑ پاتا''

حضرت لوط علیہ السلام کی اسی شکایت پر نبی کریم ﷺ نے ان الفاظ میں تبصرہ کیا:

«رحم الله لوطا کان یأوي إلی رکن شدید، وما بعث إلیه بعد نبیا إلا وهو في ثروة من قومه» (صحیح جامع الصغیر:۳؍۱۷۶، حدیث حسن)

''اللہ تعالیٰ حضرت لوط﷤پر رحم فرمائے وہ مضبوط سہارے کے نہ ہونے پر افسردہ تھے۔ چنانچہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کسی بھی نبی کو اس کی قوم میں ممتاز حیثیت عطا کئے بغیر مبعوث نہیں کیا''

نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے قبیلہ قریش میں مبعوث کیا جوعرب کا بڑا معزز اور مرکزی قبیلہ تھا۔ قریش میں بھی آپ معزز ترین گھر انے خانوادہ عبدالمطلب میں تشریف لائے۔نبی کریم ﷺ نے بھی اپنی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ سے ظاہری اَسباب میں سے اس امرکی دعا کی:

«اللهم أعز الإسلام بأحب هذین الرجلین إلیك بأبي جهل أو بعمر بن الخطاب»

(ترمذي :کتاب المناقب ، باب في مناقب عمر بن الخطاب ؛ رقم۳۶۸۱)

''اے اللہ ! ابو جہل اور عمر بن خطاب میں سے جو تجھے زیادہ محبوب ہے، اس کے ذریعے اسلام کو غلبہ وتقویت عطا فرما۔''

امام جوینی رقم طراز ہیں :

وما ابتعث اللہ نبیاً في الأمم السابقة حتی أیدہ وعضدہ بسلطان ذي عدة ونجدة ... ومن الرسل علیهم السلام من اجتمعت له النبوة والأید والقوة کداود وسلیمان صلوات اللہ علیهم (غیاث الامم:ص۱۸۲)

''سابقہ اُمتوں میں اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو نہیں مبعوث کیا مگر ہیبت و جبروت والے سلطان سے اُسے تقویت بہم کی۔حتیٰ کہ بعض رسول ایسے بھی آئے جن کی شخصیت میں نبوت کے ساتھ قوت و سلطنت بھی مجتمع ہوگئی تھی مثلاً حضرت داؤد، سلیمان اور موسیٰ علیہم السلام''

انبیاء کو دین حقہ کی تبلیغ و رسالت کے لئے نہ صرف قوم کے معزز لوگوں سے تقویت ملی بلکہ انہیں خرقِ عادت معجزات کا ملنا بھی ظاہری اسباب کے لحاظ سے ان کی قوت و تائید کے لئے تھا۔ ہرنبی ملنے والے معجزات کے ذریعے لوگوں کو اپنی طرف آسانی سے متوجہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے، حضرت عیسیٰ کے غیر معمولی معجزات نے تو آپ کو اپنی اُمت میں ایسی غیر معمولی حیثیت دی کہ وہ آپ کو انسانوں سے ماورا مخلوق سمجھے اور ربّ تعالیٰ کا شریک بنانے پر آمادہ ہو گئے۔ نبی کریم ﷺ کے معجزات میں شق القمر، واقعہ معراج اور قرآنِ کریم جیسے ابدی معجزہ ...جس کی مثل ایک آیت بنا لانے کا چیلنج آج تک موجود ہے ... نے قریش کو آپ کی طرف متوجہ کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ بہت سے صحابہ صرف قرآن کریم کی آیات سن کر آپ کی صداقت پر ایمان لے آئے۔اسی طرح نبی کریم ﷺ کا بنی ہاشم سے ہونا، ابوطالب سے تحفظ ملنا، حضرت خدیجہ جیسی مدبر اورمالدار خاتون کا شریک ِحیات ہونا،حضرت ابوبکر صدیق﷜ جیسے عالی نسب یارِ غار اور حضرت عمر﷜ جیسے جری و غیور ساتھی کا ملنا انہی ظاہری اسباب سے ہے۔

نبی کریم ﷺ کی لائی ہوئی دعوت کے کامیاب ہونے میں جہاں اللہ تعالیٰ کی نصرت اور وحی کی صورت میں رہنمائی کا عمل دخل تھا، وہاں آپ کی اعلیٰ سیاسی بصیرت اور فہم و تدبر کا بھی خاصا حصہ ہے جو بہرحال اللہ تعالیٰ کی ہی عنایت ِخاصہ تھی۔ آپ نے حکمت وبصیرت سے ایسے فیصلے کئے اور متوازن پالیسیاں اپنائیں جنہوں نے چند ہی سالوں میں اسلام کو جزیرۃ العرب میں غالب کردیا۔ مثلاًمکہ میں دعوتی ذرائع محدود ہونے کے بعد اہل طائف اور پھر اہل مدینہ کو دین کا پیغام پہنچانا، مدینہ پہنچ کر انصار سے مؤاخات اور یہود سے معاہدے کرنا، نو مسلموں کی تالیف ِقلبی اور اسلام لانے کے بعد انہیں ویسا ہی ممتاز مقام دینا، اہل مکہ پر دباؤ ڈالنے کے لئے ان کے حلیفوں سے تعلقات کی استواری، صلح حدیبیہ کے ذریعے تجارتی ودعوتی راستوں کو کھولنے میں کامیابی اور فتح مکہ کے بعد عام معافی کے ذریعے غیرمسلموں کی تالیف ِقلبی وغیرہ شامل ہیں۔

مکہ میں صبر وآزمائش کے تیرہ برس گزارنے کے بعد نبی کریم ﷺ نے صرف اللہ سے دعا پر ہی اکتفا نہیں کیا کہ وہ بیت اللہ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ اپنی دعوت کی کامیابی کے لئے ربّ تعالیٰ سے اجتماعی فریاد کرتے رہتے بلکہ آپ نے اپنے صحابہ کو ہجرتِ حبشہ کا حکم دیا، خود کچھ عرصہ کے بعد ہجرتِ مدینہ کی۔ ان ہجرتوں سے قبل مدینہ سے آنے والی شخصیات سے آپ نے ملاقاتیں کیں، بیعت ِعقبہ اولیٰ اور ثانیہ عمل میں آئیں، مدینہ کی طرف آپ نے اپنے داعی بھیجے حضرت مصعب﷜ بن عمیر اور حضرت رافع بن مالک﷜ زرقی اسی دورکے داعی تھے جنہوں نے مدینہ میں آپ ﷺ کی آمد سے قبل اسلام کی اشاعت میں سرگرم کردار ادا کیا۔

نبی کریم ﷺ نے کثرتِ ازدواج سے جس طرح قبائل عرب کی سیاست اسلام کے حق میں ہموار کی، اس کے گہرے مطالعے میں بھی ہمارے لئے بڑے سبق موجود ہیں۔ اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا وحفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا ایک مقصد اپنے دو دیرینہ رفیق ِدعوت ساتھیوںؓ (صـاحبَــیـن) سے قربت کا تعلق استوار کرنا اور ان کے ساتھ مساوی احسانِ سلوک کرنا تھا۔ حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے ذریعہ آپ نے ابوسفیان جیسے عدوّ کو اسلام سے قریب کیا اور حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے آپ ﷺ کا نکاح یہودی قبائل کو حلقہ اسلام میں داخل کرنے کا سبب بنا۔

انبیاء کے طریق دعوت کے مختصر مطالعہ سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو مافوق الطبیعات ذرائع سے غلبہ عطا نہیں کرتا، بلکہ اپنے انبیا کی وحی کے ذریعے اس طرح رہنمائی کرتا ہے کہ وہ اپنی دعوت کو کامیاب بنانے کے لئے زمینی اسباب بھی پیدا کریں۔

مسلمانوں کو اپنی حالت میں تبدیلی کے لئے بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کے علاوہ ایسے ذرائع اور وسائل اپنا نے ہوں گے جن کے ذریعے وہ دوسری قوموں پر برتری حاصل کرسکیں۔ برتری حاصل کرنے کے اس عمل میں پوری ملت کو مل جل کر محنت اور جد وجہد کرنا ہوگی۔ یہی بات قرآنِ کریم میں اس طرح ارشاد فرمائی گئی ہے :

﴿إِنَّ اللَّهَ لا يُغَيِّرُ‌ ما بِقَومٍ حَتّىٰ يُغَيِّر‌وا ما بِأَنفُسِهِم...١١﴾... سورة الرعد

''کسی قوم کی حالت اللہ اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود بدلنے پر آمادہ نہ ہوں۔''

اسلام نے صرف اسباب کے حصول پر زور نہیں دیا بلکہ ایک مکمل نظام پیش کیا ہے جس پر عمل پیرا ہو کرہی برتری کو حاصل کیا اور یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ ایمان واعتقاد اور دعا ومناجات کا اس سلسلے میں کیا عمل دخل ہے اور اسباب ووسائل کی کس قدر اہمیت ہے ، اس کے لئے مزید چند نکات پیش خدمت ہیں:

اصل کارساز ربّ ِتعالیٰ ہے!

دنیا میں کاروبار حیات کو باقاعدگی سے چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بعض اصول وضوابط جاری کئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ خود تو ان ضوابط کا پابند نہیں بلکہ ان تمام اصولوں کا خود خالق ہے لیکن دنیا میں اکثر امور انہی ضوابط کے تحت عمل میں آتے ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿سُنَّةَ اللَّهِ فِى الَّذينَ خَلَوا مِن قَبلُ ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبديلًا ﴿٦٢﴾... سورة الاحزاب

''ان سے پچھلی قوموں میں بھی اللہ کا یہی دستور رہا اور تو اللہ کے دستور میں ہرگز ردّ وبدل نہیں پائے گا۔''

1. دنیا میں حالات کی تبدیلی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سنت کیا ہے، اس کی نشاندہی ان آیات سے ہوتی ہے :

﴿ما أَصابَ مِن مُصيبَةٍ إِلّا بِإِذنِ اللَّهِ ۗ وَمَن يُؤمِن بِاللَّهِ يَهدِ قَلبَهُ...١١﴾... سورة التغابن

'' کوئی مصیبت اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں پہنچتی۔ جو اللہ پر ایمان لائے، اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے۔''

قرآن کریم میں ہی دوسرے مقام پرفرمایا:

﴿وَما أَصـٰبَكُم مِن مُصيبَةٍ فَبِما كَسَبَت أَيديكُم وَيَعفوا عَن كَثيرٍ‌ ٣٠﴾... سورة الشورىٰ

''تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہاری اپنی کوتاہیوں کا صلہ ہے۔اوروہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے تا کہ جو لوگ ہماری نشانیوں میں جھگڑتے ہیں وہ معلوم کر لیں کہ ان کے لیے کوئی چھٹکارا نہیں۔''

دنیا میں آنے والے مصائب کی دو وجوہات ان آیات میں ذکر کی گئی ہیں اور یہی دونوں باتیں ہمیں ہر واقعہ کے پس پردہ ملحوظ رکھنا ضروری ہیں۔ اوّل تو ہرکام اللہ کی مرضی اور منشا سے ہوتا ہے، اس کے ساتھ یہ بات بھی درست ہے کہ اس آزمائش اور مصیبت کے آنے میں ہماری کوتاہی بھی شامل ہوتی ہے۔

مصائب آنے کی پہلی وجہ جس آیت میں بیان کی گئی ہے ، اس کے اسلوبِ کلام میں جو شدت اور حَـصَـر موجود ہے وہ دوسری آیت میں نہیں۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آزمائشیں آنے کی بنیادی و جہ تقدیر کا لکھا ہونا ہے، جبکہ ہمارے عملوں کی کوتاہی بھی اس کا سبب بنتی ہے۔

پہلی آیت میں یہ بھی ہے کہ جس کا اللہ پر ایمان مضبوط ہے، اللہ اس کو سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے جبکہ دوسری آیت میں ہے کہ جو لوگ غور کرنے کی بجائے ہماری آیات کے بارے میں مایوسی اور شک و شبہ کا شکار رہتے ہیں، ان کے لئے وعید ہے۔

2. اس سے نسبتاً زیادہ واضح مثال حضرت یوسف﷤ کے قصے میں موجود ہے ، جب حضرت یوسف کے بھائیوں کو ان کے والد ِگرامی حضرت یعقوب﷤نے مصر جانے کا حکم دیا تو فرمایا:

﴿وَقالَ يـٰبَنِىَّ لا تَدخُلوا مِن بابٍ و‌ٰحِدٍ وَادخُلوا مِن أَبو‌ٰبٍ مُتَفَرِّ‌قَةٍ ۖ وَما أُغنى عَنكُم مِنَ اللَّهِ مِن شَىءٍ ۖ إِنِ الحُكمُ إِلّا لِلَّهِ ۖ عَلَيهِ تَوَكَّلتُ ۖ وَعَلَيهِ فَليَتَوَكَّلِ المُتَوَكِّلونَ ٦٧ وَلَمّا دَخَلوا مِن حَيثُ أَمَرَ‌هُم أَبوهُم ما كانَ يُغنى عَنهُم مِنَ اللَّهِ مِن شَىءٍ إِلّا حاجَةً فى نَفسِ يَعقوبَ قَضىٰها ۚ وَإِنَّهُ لَذو عِلمٍ لِما عَلَّمنـٰهُ وَلـٰكِنَّ أَكثَرَ‌ النّاسِ لا يَعلَمونَ ٦٨﴾... سورة يوسف

'' اور (یعقوب علیہ السلام) نے کہا: اے میرے بیٹو! تم سب ایک دروازے سے نہ جانا بلکہ کئی جدا جدا دروازوں میں سے داخل ہونا۔ میں اللہ کی طرف سے آنے والی کسی چیز کو تم سے ٹال نہیں سکتا۔حکم صرف اللہ ہی کا چلتا ہے ۔میرا کامل بھروسہ اسی پر ہے اور ہر ایک بھروسہ کرنے والے کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ جب وہ انہی راستوں سے گئے جن کاحکم ان کے والد نے انہیں دیا تھا۔اللہ کے فیصلے سے وہ انہیں بچانے کی ذرا بھی قدرت تو نہ رکھتے تھے مگر یعقوب ﷤ کے دل میں ایک خیال (پیدا ہوا) جسے اس نے پورا کر لیا،بلاشبہ وہ ہمارے سکھلائے ہوئے علم کا عالم تھا، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔''

اس واقعہ میں یہ کہا گیا ہے کہ حضرت یعقوب ﷤کی یہ تدبیر صرف ان کے دل کاایک اطمینان تھی جسے انہوں نے پورا کیا، وگرنہ اللہ تعالیٰ کی جو مشیت تھی، ہونا وہی تھا۔ اصل کارساز ربّ تعالیٰ ہی کی ذات ہے، اس پرہی مسلمانوں کو توکل کرنا چاہئے۔اس واقعہ میں بھی حضرت یعقوب اسباب کو بروئے کار تو لائے او ردل کا اطمینان پورا کیا لیکن ساتھ ہی اللہ پر توکل اور اس کے واحد کارساز ہونے کا اعتقاد دہرایا۔

3. ایسا ہی ایک واقعہ احادیث ِنبویہ ﷺ میں بھی موجود ہے۔حضرت زید بن خالد جہنی﷜ فرماتے ہیں کہ حدیبیہ کے مقام پر اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی جب کہ اس رات بارش بھی ہوئی تھی۔ نماز کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے ربّ نے کیا فرمایا ہے؟لوگوں نے کہا کہ اللہ اوراس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے :

''أصبح من عبادي مؤمن بي وکافر فأما من قال مطرنا بفضل الله ورحمته فذلك مؤمن بي کافر بالکوکب وأما من قال مطرنا بنوء کذا وکذا فکذلك کافر بي مؤمن بالکوکب'' (بخاری ومسلم بحوالہ مشکوٰۃ،رقم ۴۵۹۶)

''میرے بندوں میں سے کچھ نے حالت ِایمان میں صبح کی اورکچھ نے حالت ِکفر میں۔ جس نے تو یہ کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی وہ تو مجھ پر ایمان لانے والے ہیں اور ستاروں کی تاثیر کا انکار کرنے والے ہیں اور جس نے یہ کہا کہ ہمیں فلاں فلاں ستاروں کی مہربانی سے سیراب کیا گیا،وہ میرا انکار کرنے والے اورستاروں پر ایمان لانے والے ہیں۔''

اس واقعہ سے بھی سابقہ آیات میں موجود عقیدہ کی وضاحت ہوتی ہے۔ کہ ایک مسلمان اور کافر کے طرزفکر میں بنیادی فرق یہ ہوتا ہے کہ کافر مختلف واقعات کے پیچھے مادّی و ظاہری اسباب کو بنیادی عامل قرار دیتا ہے جبکہ مسلمان اسباب کو ثانوی سمجھتے ہوئے یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہی یہ تھا ، اور یہی اس کی تقدیر تھی۔چنانچہ ایک کافر شخص کسی آدمی کی وفات پر اس کا تمامتر ذمہ دار بیماری کو قرار دیتا ہے جبکہ ایک مسلمان مشیت ِایزدی سمجھ کر اس آزمائش میں پورا اترنے اور صبر اختیار کرنے کی طرف راغب ہوتا ہے اور اسکی زبان سے یہ کلمات ادا ہوتے ہیں:

﴿الَّذينَ إِذا أَصـٰبَتهُم مُصيبَةٌ قالوا إِنّا لِلَّهِ وَإِنّا إِلَيهِ ر‌ٰ‌جِعونَ ﴿١٥٦﴾... سورة البقرة

''ان لوگوں کو جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم توخود اللہ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔''

4. دنیا میں اچھے اور برے تمام کام بنیادی طور پر اللہ کی مشیت سے ہی ہوتے ہیں۔ تاہم اکثر وبیشترمصائب ومشکلات کے آنے میں انسانوں کی کوتاہیوں کا عمل دخل ہوتا ہے۔قرآنِ کریم میں نبی اکرم کے بارے میں منافقین کے الزام کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے :

﴿وَإِن تُصِبهُم حَسَنَةٌ يَقولوا هـٰذِهِ مِن عِندِ اللَّهِ ۖ وَإِن تُصِبهُم سَيِّئَةٌ يَقولوا هـٰذِهِ مِن عِندِكَ ۚ قُل كُلٌّ مِن عِندِ اللَّهِ ۖ فَمالِ هـٰؤُلاءِ القَومِ لا يَكادونَ يَفقَهونَ حَديثًا ﴿٧٨﴾... سورة النساء

''اور اگر انہیں کوئی بھلائی ملتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے او راگر کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہہ اُٹھتے ہیں کہ یہ تیری طرف سے ہے۔ اے نبی ! انہیں کہہ دیجئے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔انہیں کیا ہوگیا کہ کوئی بات سمجھتے نہیں۔''

اسلامی عقائد میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بری چیزوں کو نہ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہ کیا جائے بلکہ اسے اپنی کوتاہی کا نتیجہ او رعملوں کا وبال تصور کیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف خیر کی نسبت ہی ہونی چاہئے۔ چنانچہ احادیث میں یہ دعا آئی ہے :

«والخیر کله في یدیك والشر لیس إلیك» (مسلم؛۷۷۱)

''یا اللہ! خیر ساری کی ساری تیرے ہاتھ میں ہے، جبکہ شر کی نسبت تیری طرف نہیں ہوسکتی۔''

اسی طرح مذکورہ بالا آیت سے اگلی آیت یہ بھی ہے جو اسی حدیث کی تائید کرتی ہے کہ

﴿ما أَصابَكَ مِن حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ۖ وَما أَصابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَفسِكَ...٧٩﴾... سورة النساء

''تجھے جو بھلائی بھی ملتی ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچتی ہے وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے ۔''

5. تقدیر پر ایمان کا زیادہ تعلق ایمان واعتقاد سے ہے جبکہ تدبیر کا معاملہ عمل اور اسبابِ ظاہری سے تعلق رکھتا ہے ۔ ان میں توازن یوں پیدا کیا جا سکتا ہے کہ کسی واقعہ کے واقع ہونے سے قبل رجحان مختلف تدابیر اپنانے اور ہر ممکن کوشش بروئے کار لانے کا تو ہو لیکن اپنی کوششوں کی کامیابی کا انحصار ربّ تعالیٰ کی مدد پر ہونے کا اعتقاد رکھا جائے۔ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ہر واقعہ دنیا میں اللہ کی مرضی اور اس کے علم سے ہوتاہے۔ اس عقیدہ کا سب سے بڑا فائدہ مایوسی سے نجات اور دل کا اطمینان ہے۔ کسی بڑی چیز کے مل جانے پر اِترانا اور فخرومباہات کرنا اور کسی چیز کے کھو جانے پر رنج واَلم کا شکار ہو جانا انسانی رویوں میں بڑے نقائص پیداکرتا ہے۔ اور اس عقیدے کو قبول کرلینے سے جہاں ربّ تعالیٰ کی ذاتِ قادر مطلق پر ایمان وایقان میں اضافہ ہوتا ہے وہاں ان انسانی رویوں کی بھی اصلاح ہوتی ہے ۔ فرمانِ الٰہی ہے :

﴿ما أَصابَ مِن مُصيبَةٍ فِى الأَر‌ضِ وَلا فى أَنفُسِكُم إِلّا فى كِتـٰبٍ مِن قَبلِ أَن نَبرَ‌أَها ۚ إِنَّ ذ‌ٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسيرٌ‌ ﴿٢٢﴾ لِكَيلا تَأسَوا عَلىٰ ما فاتَكُم وَلا تَفرَ‌حوا بِما ءاتىٰكُم ۗ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ كُلَّ مُختالٍ فَخورٍ‌ ﴿٢٣﴾... سورة الحديد

'' نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ (خاص) تمہاری جانوں میں مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔ یہ (کام) اللہ تعالیٰ پر (بالکل)آسان ہے۔ تاکہ تم اپنے سے فوت شدہ کسی چیز پر رنجیدہ نہ ہو جایا کرو اور نہ عطا کردہ چیز پر اِترا جاؤ اور اترانے والے شیخی خوروں کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔''

تقدیرپر ایمان، مسلمان کے بنیادی عقائد میں نہ صرف شامل ہے بلکہ ایمان کے چھ ارکان میں سے آخری رکن بھی ہے چنانچہ نبی کریم فرماتے ہیں:

«لا یؤمن عبد حتی یؤمن بالقدر خیره وشره» (ترمذی؛ ۲۱۴۴)

''کوئی بندہ ا س وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک اچھی او ربری تقدیر پر ایمان نہ لے آئے۔''

اللہ تعالیٰ نے دنیا کو امتحان گاہ بنایا ہے اور دنیا میں تمام کام اللہ کی مشیت اورحکمت ِبالغہ کے تحت ہی ہوتے ہیں: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَفعَلُ ما يَشاءُ ١٨﴾... سورة الحج'' اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔''لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو دنیا میں لانے کا مقصد ہی فوت ہو جائے جب انسان کسی فعل کو اپنی مرضی سے انجام دینے پر قادر نہ ہو کیونکہ انسانوں کی آمد کا مقصد قرآن کریم میں یہ بتایا گیا ہے

﴿الَّذى خَلَقَ المَوتَ وَالحَيو‌ٰةَ لِيَبلُوَكُم أَيُّكُم أَحسَنُ عَمَلًا...﴿٢﴾... سورة الملك

'' جس نے موت اور حیات کو اس لیے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے ۔''

تو اس کا جوا ب یہ ہے کہ اصل حیثیت اگرچہ تقدیر کو حاصل ہے تاہم انسان کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ ﴿إِمّا شاكِرً‌ا وَإِمّا كَفورً‌ا ﴿٣﴾... سورة الانسان ''خواہ وہ شکر گزار رہے یا ناشکرا''

چنانچہ ہر شخص کے لئے اچھے اور برے پہلو کا اختیار کرنا ممکن ہے، کسی کام کے وقوع ہوجانے تک ہرممکن محنت کرنا مسلمان کا فریضہ ہے اور اسی میں کوتاہی نہ کرنے یا کرنے پر وہ ثواب یاعقاب کا مستحق ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ روز قیامت مشرکین کا یہ جواز قبول نہیں کرے گا، جب وہ کہیں گے:

﴿سَيَقولُ الَّذينَ أَشرَ‌كوا لَو شاءَ اللَّهُ ما أَشرَ‌كنا وَلا ءاباؤُنا وَلا حَرَّ‌منا مِن شَىءٍ...١٤٨﴾... سورة الانعام

''کافر کہیں گے: اگر اللہ چاہتا توہم شرک کرتے او رنہ ہمارے آبائو اجداد۔ نہ ہی ہم کسی چیز کو حرام کہتے۔''

تفصیل میں جائے بغیر ایک حاشیہ کی طرف اشارہ کرکے ہم اپنے موضوع کو جاری رکھتے ہیں۔اس آیت کی تفسیر میں حافظ صلاح الدین یوسف اپنی تفسیر 'احسن البیان 'میں لکھتے ہیں:

یہی وہ مغالطہ ہے جومشیت اور رضائے الٰہی کو ہم معنی سمجھنے سے پیدا ہوتا ہے۔حالانکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف چیزیں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس مغالطے کا ازالہ اس طرح فرمایا کہ اگر یہ شرک اللہ کی رضا کا مظہر تھا تو پھر ان پر عذاب کیوں آیا۔ عذابِ الٰہی اس بات کی دلیل ہے کہ مشیت اور چیز ہے او ررضائے الٰہی اور چیز...'' (ص ۳۹۹)

انسان کا کام یہ ہے کہ نیکی کے افعال بجا لائے اور اللہ کی اطاعت کے لیے سر گرم رہے۔ دنیا میں ہونے والے کاموں کے لئے اللہ تعالیٰ اسباب بھی خود پیدا فرماتا ہے۔بغیر اسباب کے صرف غیبی ذرائع سے کسی امر کی انجام دہی ربّ ِکریم کی سنت نہیں۔

اصل سوال پھر بھی باقی ہے کہ علت اورمعلول کے اس سلسلے میں بنیاد؍علت اللہ کی مشیت ہے یا اسبابِ ظاہری۔ بطورِ مسلمان ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ ظاہری اسباب کے ذریعے افعال کاوجود میں آنا ربّ تعالیٰ کی سنت تو ہے لیکن اصل عامل پیچھے ربّ تعالیٰ کی ذاتِ کریم ہے ۔ انسان کو اپنے تئیں تمام تدابیر اختیار تو کرنا چاہئیں لیکن ان کے نتائج اللہ پر موقوف سمجھنے چاہئیں۔ اگر اللہ تعالیٰ انسان کی اطاعت اور فرمانبرداری کو قبول کر لے تو اس سے ایسے ظاہری اسباب بھی پیدا فرما دیتا ہے جو مقاصد کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں۔

قرآنِ کریم میں معاشرے میں فلاح اور خوشحالی حاصل کرنے کا آسان طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ سے تعلق کو مضبوط کیا جائے اور ہرکام اطاعت ِالٰہی کے دائرہ میں رہ کرکیا جائے۔ اس طریقہ سے اللہ تعالیٰ خوشحالی اور اطمینان کی راہیں آسان کردے گا۔ ارشادِ باری ہے :

﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا مِنكُم وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ لَيَستَخلِفَنَّهُم فِى الأَر‌ضِ كَمَا استَخلَفَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُم دينَهُمُ الَّذِى ار‌تَضىٰ لَهُم وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِن بَعدِ خَوفِهِم أَمنًا ۚ يَعبُدونَنى لا يُشرِ‌كونَ بى شَيـًٔا...٥٥﴾... سورة النور

'' تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اَعمال کیے ہیں، اللہ تعالیٰ وعدہ فرما چکا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقینا ان کے لیے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کر کے جما دے گا جسے ان کے لیے وہ پسند فرما چکا ہے اور ان کے خوف وخطر کو امن وامان سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے۔اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں وہ یقینا فاسق ہیں۔''

فلاح اور خوشحالی کایہ توبنیادی تصور ہے جو ایمان وعقیدہ سے متعلق ہے اور جس کی رو سے اللہ کے احکام پر عمل درآمد کرنے سے فلاح کی بنیادی اوراُصولی وجوہات میسر اور اسبا ب حاصل ہو جاتے ہیں۔لیکن اس کے بعد بھی مقاصد از خود حاصل نہیں ہوجاتے بلکہ اس کے لیے کوشش عمل میں لانی پڑتی ہے ۔ اللہ کی جناب سے منظوری کے بعد آسانی اور کامیابی کے راستے کھلتے جاتے ہیں۔

دوسری طرف یہ بھی امرواقعہ ہے کہ تقدیر میں جو لکھا ہوتا ہے وہ بھی اللہ غیبی ذرائع سے پورا نہیں کرتا بلکہ اس کا راستہ انسان پر آسان کردیا جاتا ہے۔ کسی کا کسی امر پر انشراحِ صدر ہوجانا اور اس کے مثبت نتائج اس کو شدت سے نظر آنے لگنا وغیرہ اسی کی صورتیں ہی ہوتی ہیں۔

دنیا میں اسبا ب کے ذریعے اُمور کی انجام دہی کا اصول اس قدر مسلم ہے کہ اگر یہی منطقی اسباب غیر مسلم بھی کسی امر کی انجام دہی کے لیے مہیا کر دیں تو دنیا کی حد تک مقاصد ان کوبھی حاصل ہوجائیں گے جب کہ آخرت میں ان کے لیے کوئی حصہ نہیں ہوگا۔دوسری طرف مسلمان نیک اعمال کے ذریعے ربّ کو راضی کرے،اللہ کی خوشنودی کواصل اہمیت دے اور اس کے ساتھ اسباب کو بھی میسر کرے ، اصل اعتماد ربّ تعالیٰ کی ذات پر رکھے تو اس کے لیے نہ صرف دنیا میں نتائج یقینی ہیں بلکہ آخرت کا اجراور جنت بھی محفوظ ہے ۔

انبیا کو اپنے ساتھی ملنے، معزز قبائل کے فرد ہونے،معجزے میسر ہونے اور دیگر ظاہری اسباب حاصل ہوجانے کے پیچھے بہر حال ربّ تعالیٰ کے رحمت بے کراں ہی ہوتی ہے ، انبیاء کا غیر معمولی توکل اور ربّ پر ایمان وایقان اللہ کی مدد کے پیچھے محرک اور عامل ہوتا ہے ۔

ربّ کی مدد ؛ اسباب کے ذریعے

اللہ تعالیٰ نے دنیا کو دار الاسباب بنایا ہے اور یہاں مختلف چیزوں کو علت اور معلول کے رشتہ میں باندھ رکھا ہے۔ سائنس جوں جوں ترقی کر رہی ہے، علت اور معلول کے یہ راز اس پر منکشف ہوتے جا رہے ہیں۔

1. حضرت ایوب﷤ کو جب شدید بیماری اور مرض نے گھیر لیا اور یہ آزمائش برسوںتک طویل ہو گئی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی۔ اللہ تعالیٰ نے از خود ان کو بھلا چنگا کرنے کی بجائے ایک ظاہری سبب بھی مقرر فرمایا کہ

﴿وَاذكُر‌ عَبدَنا أَيّوبَ إِذ نادىٰ رَ‌بَّهُ أَنّى مَسَّنِىَ الشَّيطـٰنُ بِنُصبٍ وَعَذابٍ ٤١ ار‌كُض بِرِ‌جلِكَ ۖ هـٰذا مُغتَسَلٌ بارِ‌دٌ وَشَر‌ابٌ ٤٢﴾... سورة ص

''اور ہمارے بندے ایوب﷤ کا (بھی) ذکر کر، جب کہ اس نے اپنے ربّ کو پکارا کہ مجھے شیطان نے رنج اور دکھ پہنچایا ہے۔اپنا پاؤں مارو ، یہ نہانے کاٹھنڈا اور پینے کا پانی ہے۔''

2. نبی کریم نے غزوۂ خندق میں جب کفار کے غیر معمولی لشکر اور تیاریوں کے سامنے اپنے آپ کو کمزور وبے بس پایا تواللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے آندھی جیسی آسمانی آفت سے لشکر ِکفار کے پاؤں اُکھیڑ دیئے۔

3. ایسا ہی ایک واقعہ ملک الموت کے حوالے سے اسرائیلیات میں بھی ملتا ہے کہ جس کی رو سے اللہ تعالیٰ نے موت کو ملک الموت کے آجانے اور اجل قریب ہو جانے کی بجائے مختلف اسبابِ ظاہری سے معلق کر دیا۔

ربّ ِدو جہاں کے لیے اس کے باوجود اسباب کی موجودگی کوئی لازمی شرط کی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ اس کی حیثیت اللہ تعالیٰ کی اُمور دنیا میں جاری ایک معروف سنت اور طریقہ کی سی ہے ۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی کا غیر معمولی توکل اوراللہ پر غیر معمولی اعتماد و ایمان کا اظہار اللہ تعالیٰ کواس قدر مسرور کر دیتا ہے کہ وہ اسباب سے بڑھ کر اس کی مدد کرتا ہے۔

1.چنانچہ حضرت ابراہیم کا آگ میں ڈالے جانے کاواقعہ ذہن میں لایئے۔ جب جبریل کی مدد کی پیشکش کو بھی حضرت ابراہیم نے ر دّ کر دیا اورکہا کہ میرا ربّ میری حالت کو بخوبی جانتا ہے اوروہی مجھے کافی ہے۔ حضرت جبریل کی مدد بھی اسباب پر اعتماد کی ہی ایک صورت ہوتی لیکن خلیل اللہ نے جب اللہ پر غیر معمولی توکل کا اظہار کیا تو اللہ نے آگ کے جلانے کے آفاقی اُصول کو بھی تبدیل کر کے مافوق الاسباب ان کی مددکی۔

﴿قالوا حَرِّ‌قوهُ وَانصُر‌وا ءالِهَتَكُم إِن كُنتُم فـٰعِلينَ ٦٨ قُلنا يـٰنارُ‌ كونى بَر‌دًا وَسَلـٰمًا عَلىٰ إِبر‌ٰ‌هيمَ ٦٩﴾... سورة الانبياء

''کہنے لگے: اسے جلا دو او راپنے خدائوں کی مدد کرو اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے۔ تب ہم نے آگ کو حکم دیا : اے آگ! تو ٹھنڈی پڑجا اور ابراہیم ﷤کے لئے سلامتی اور آرام والی بن جا۔''
ہو جو براہیم کا سا ایماں پیدا      آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

2. حضرت ابراہیم کا غیر معمولی اعتماد اور ربّ تعالیٰ کے احکامات بجا لانے کی غیر معمولی خواہش جب اس حد تک پہنچی کہ انہوں نے لخت ِجگرکے گردن پر چھری چلانے سے بھی دریغ نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے بیٹے کی جگہ دنبہ رکھ دیا۔

﴿إِنَّ هـٰذا لَهُوَ البَلـٰؤُا المُبينُ ١٠٦ وَفَدَينـٰهُ بِذِبحٍ عَظيمٍ ﴿١٠٧﴾... سورة الصافات

''یہ توایک کھلا امتحان تھا ، او رہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا۔''

3. نبی کریم نے جنگ ِبدر میں اللہ تعالیٰ سے بڑی کمزوری اور فکرو پریشانی میں فریاد کی :

«اللهم إنك إن تهلك هذه العصابة من أهل الإسلام لا تعبد في الأرض أبدًا» (مسلم؛ رقم ۱۷۶۳)

'' یا اللہ !آج اگر یہ جماعت بھی قائم نہ رہی تو اس سرزمین میں تیرا کوئی نام لیوا نہ رہے گا''

تو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے ما فوق الاسباب فرشتوں کی فوجیں اتار دیں۔ ع
فضائے بدر پیدا کر ، کہ فرشتے تری نصرت کو      اُتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

اور قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿أَنّى مُمِدُّكُم بِأَلفٍ مِنَ المَلـٰئِكَةِ مُر‌دِفينَ ﴿٩﴾... سورة الانفال

''میں آپ کو ایک ہزار پیہم آنے والے فرشتوں سے مدد دوں گا۔''

اس قسم کے واقعات یوں تو انبیاء کے معجزات میں آتے ہیں لیکن اس سے اللہ تعالیٰ کے معروف دستور سے استثنا کی مثالیں بھی ہمارے سامنے آتی ہیں۔

4. اسی طرح نبی کریم کا یہ واقعہ صحیح بخاری میں موجود ہے:

حضرت جابر﷜ فرماتے ہیں کہ ایک غزوہ سے واپسی پر اللہ کے رسول ﷺ کیکر کے درخت کے نیچے آرام فرما رہے تھے جب کہ آپ ﷺ نے اپنی تلوار درخت پر لٹکا رکھی تھی پھر اچانک آپ ﷺ نے ہمیں پکارا، ہم آپ ﷺ کے پاس آگئے۔ دیکھا تو ایک دیہاتی آپ کے پاس بیٹھا ہے آپ ﷺ نے فرمایا: «إن هذا اخترط سیفي وأنا نائم فاستیقظت وهو في یده سلتا فقال لي من یمنعك مني فقلت له: اﷲ! فها هو ذا جالس ثم لم یعاقبه رسول اﷲ»

''جب میں سو رہا تھا تو اس آدمی نے میری تلوار اُتار لی اور جب میں اُٹھا تو یہ تلوار سونتے کھڑا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا مجھ سے تمہیں کون بچائے گا۔میں نے کہا :اللہ تعالیٰ بچائے گا(تو اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی) ۔ اب یہ دیکھو کہ یہ بے بس ہوا بیٹھا ہے پھر آپ ﷺ نے اسے کوئی سزا نہیں دی۔'' (بخاری :۳۵۴۱، ۲۹۱۳)

آپ کے ہیبت وجلال سے کافر کے ہاتھ سے تلوار تک گر جانا اللہ کی خصوصی اور مافوق الاسباب مدد کی واضح مثال ہے۔کیونکہ اس پریشانی کے عالم میں جس اعتماد سے آپ نے ربّ کا نام لیا اور اس سے فریاد کی، تو اللہ نے بھی اس کا جواب اسی طرح غیرمعمولی اندازسے دیا۔

انبیاء کا ایسا ہی غیر معمولی توکل اورربّ کی نصرت پر ایمان وایقان ان کے لیے ربّ تعالیٰ کی مدد کے اسباب بآسانی فراہم کرتا ہے ۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجعَل لَهُ مَخرَ‌جًا ٢﴾... سورة الطلاق

'' اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔''

﴿وَعَلَى اللَّهِ فَليَتَوَكَّلِ المُؤمِنونَ ﴿١٣﴾... سورة التغابن ''اورمؤمنوں کواللہ پر توکل رکھنا چاہیے''

﴿وَكانَ حَقًّا عَلَينا نَصرُ‌ المُؤمِنينَ ﴿٤٧﴾... سورة الروم ''ہم پر مؤمنوںکی مدد کرنا لازم ہے۔''

5. نفوسِ انسانی اپنی اپنی ایمانی حالت کے مطابق اللہ کے ان وعدوں سے مختلف انداز پر متاثر ہوتے ہیں۔ چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق جن کا لقب ہی صدیق اکبر ہے کانصرۃ ِالٰہی پر ایمان اس درجے تک نہ پہنچا تھا جہاں نبی کریم اپنے رب کا رساز پر یقین رکھتے تھے۔ غارِ ثور میں حفاظت کا مشہور واقعہ بھی کتب ِحدیث میں بالتفصیل موجود ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے :

﴿إِلّا تَنصُر‌وهُ فَقَد نَصَرَ‌هُ اللَّهُ إِذ أَخرَ‌جَهُ الَّذينَ كَفَر‌وا ثانِىَ اثنَينِ إِذ هُما فِى الغارِ‌ إِذ يَقولُ لِصـٰحِبِهِ لا تَحزَن إِنَّ اللَّهَ مَعَنا ۖ فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكينَتَهُ عَلَيهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنودٍ لَم تَرَ‌وها...٤٠﴾... سورة التوبة ''اگر تم ان (نبی ﷺ) کی مدد نہ کرو تواللہ ہی نے ان کی مدد کی اس وقت جب کہ انہیں کافروں نے نکال دیا تھا۔دو میں سے دوسرا جب کہ وہ دونوں غار میں تھے۔ جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس جناب باری نے اپنی طرف سے تسکین اس پر نازل فرما کر ان لشکروں سے اس کی مدد کی جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں۔''

کہا جاتا ہے کہ اس غار پر مکڑی نے دم بھر میں جالا بن دیا اور حدیث میں ہے کہ سراغ لگانے والوں کی اپنے قدموں کی طرف نظر نہ پڑی اور اللہ نے ان کی توجہ پھیر دی۔ جبکہ قرآن میں اس امر کی صراحت بھی موجود ہے کہ ﴿وَأَيَّدَهُ بِجُنودٍ لَم تَرَ‌وها﴾

'' نادیدہ لشکروں سے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کی ۔''

مسلمان کے طور پر ہمارا طرزِ فکر یہ ہو کہ ہمیں اسباب ووسائل کی بجائے ربّ کی نصرت پر غیر متزلزل ایمان وایقان ہو۔ مسلمان اللہ سے ہی مدد مانگتا ہے اور اسی پر توکل وبھروسہ رکھتا ہے لیکن اس کے لیے مادی وروحانی اسباب کا حصول بھی مسلمان کا ہی فرض ہے ۔

''عمل کرنا ہمارا کام ہے اور نتائج کا دارومدار ربّ کریم پر ہے۔'' یہ جملہ تو بڑا مستحسن ہے اور اکثرمسلمان دعاۃ اس کا استعمال کرتے رہتے ہیں لیکن بسا اوقات اس کا استعمال نامناسب مقام پر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ معروضی تجزیہ کے بغیر من چاہا عمل کرکے اللہ سے مطلوبہ نتائج کی اُمید رکھنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ بعض لوگ عمل کو صرف خلوص سے مشروط کرکے اپنے نتائج اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں، ایسا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مناسب اسباب حاصل کرنے پربھی ہمیں ترغیب دلائی ہے۔

مسلمان کا اللہ تعالیٰ پر غیر معمولی ایمان اور اعتماد ہی اسے دنیوی واُخروی کامیابی سے ہم کنار کر سکتا ہے۔یہ تو ممکن ہے کہ کوئی غیر مسلم اسباب کے بل بوتے پر دنیوی نتائج حاصل کرے لیکن اسلام کا نام لیوا ہو کر اللہ کی نصرت پر عدم اعتماد اور دین پر عمل کرنے سے فرار اور صرف اسباب پر انحصار کرنا بڑی بد بختی اور شقاوت کا سبب ہے۔

مسلمانوں پر مصائب ومشکلات کے اس ختم نہ ہونے والا سلسلے کے تدارک کے لئے اصل کارساز یعنی ربّ العالمین کی طرف مسلمانوں کا رجوع کرنا بہت ضروری ہے ۔ دین کے احکامات کوبجا لانا اور من حیث المجموع شریعت ِاسلامیہ کی پاسداری کرنا ہمارا انفرادی واجتماعی فرض ہے۔

اگر بعض لوگ یہ جواز پیش کریں کہ اجتماعی طور پر ہمارے حکمران اسلام سے انحراف کیے ہوئے ہیں، ملکی معاملات حکمرانوں کی تائید کے بغیر تبدیل نہیں کیے جا سکتے اور اس صورتحال میں ایک مخلص مسلمان دعا اور مناجات کے ذریعے ربّ تعالیٰ سے فریاد کر کے غیر معمولی اورما فوق الاسباب مدد کی توقع کے سوا اور کر بھی کیا سکتا ہے تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ ہم مسلمان اجتماعی طور پر تو اسلام کی پیروی نہ کرنے کے مجرم تو ہیں ہی لیکن انفرادی طور پر بھی ہماری کارکردگی کسی طور تسلی بخش نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ﴿وَأَعِدّوا لَهُم مَا استَطَعتُم مِن قُوَّةٍ﴾ اورنبی کریم ﷺ نے الا إن القوۃ الرمی کے ذریعے قوت حاصل کرنے کاحکم ہمیں صراحت سے دیا ہے ، من حیث الملت جس میں کوتاہی کے ہم مرتکب ہیں۔

انفرادی طور پر بھی اسلامی احکامات کی بجاآوری ہمارا فرضِ اوّلین ہونا چاہیے لیکن ہم اسلامی احکامات کی کس حد تک تعمیل کرتے ہیں،مساجد میں پنج وقتہ نماز پڑھنے والے نمازیوں کی تعداد اور اپنے اپنے گھروں پر ایک نظر ڈالنے سے اس کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔انفرادی سطح پرزکوٰۃ کی ادائیگی کا تناسب بھی مسلمانوں میں شرمناک حد تک کم ہے!!

علاوہ ازیں اگراجتماعی طور پر ہم کوتاہی کے مرتکب ہیں تو انفرادی نیکیوں اوردعاؤں کے ذریعے اجتماعی طور پر کامیابی کے زینے پر نہیں چڑھ سکتے۔ اجتماعی مقاصد کے لیے اجتماعی نوعیت کی ہی بہتری مطلوب ومقصود ہے۔ مسلمانوں کو اس طوفانِ بلا خیز کے مقابلے کے لیے نہ صرف ربّ تعالیٰ سے گہرا تعلق استوار کرنا چاہیے بلکہ دوسروں پر غلبہ کے لیے بھر پور اجتماعی مساعی کر کے اس کا زمینی جواز بھی مہیا کرنا چاہیے، اللہ کی مدد صرف دعاؤں کے سہارے نہیں آئے گی۔نبی عربی کے اُمتی ہونے کے ناطے ہم اس امید پر جئیں کہ ہمیں قوموں کے اس مقابلے میں خود بخود غلبہ حاصل ہو جائے گا تو یہ محض حالات سے چشم پوشی اور اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ ہمارا انفرادی کردار ہم سے بہت بہتری کا متقاضی ہے اور اجتماعی سطح پر ہمیں غیر معمولی محنت کی ضرورت ہے۔اللہ کی سنت تغیر احوال میں یہی رہی ہے۔اگر ہم ربّ تعالیٰ سے ہی اپنا تعلق مستقل اور قوی بنیادوں پر استوار کر لیں اور یہ رویہ پورے اجتماع میں سرایت کر جائے تب غیبی امداد کی بھی توقع کی جاسکتی ہے وگرنہ ایسے حالات میں ہر قسم کی آزمائش کے لیے ہمیں تیار رہنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں سے وعدہ ہے ﴿وَأَنتُمُ الأَعلَونَ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ ﴿١٣٩﴾... سورة آل عمران

''اگر تم مؤمن ہوئے تو تم ہی سربلند ہوگے۔''

جو لوگ صرف دعائوں کے سہارے ان مصائب کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں انہیں اسی پر اکتفا کرنے کی بجائے اپنے عمل سے بھی اس کی تائید کرنا ضروری ہے۔ ربّ کی رحمت کے سہارے ہاتھوں پر ہاتھ دھر کر بیٹھ رہنا اور کا میابی کی امید رکھنا اسلام کے سوئِ فہم کا نتیجہ ہے۔ اللہ کی یہ سنت پہلے کبھی رہی ہے اور نہ ہی اس کا اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے!!