قرآنِ کریم اور فن محدثین کے معیار کے مطابق مستند روایاتِ حدیث میں صادق ومصدوق حضرت محمد مصطفی ﷺ کی قیامت سے قبل پیش آنے والے واقعات کے بارے میں وارد شدہ وہ خبریں جنہیں 'پیش گوئیاں' کہا جاتا ہے، کی تعبیر و تشریح کے حوالہ سے اُمت ِمسلمہ میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ مجلس التحقیق الاسلامی نے بھانت بھانت کی انفرادی آرا کے بالمقابل اکابر علما کے رُوبرُو موضوع سے متعلقہ سوالات پیش کرکے اس کا صحیح رخ متعین کرنے کے لئے مؤرخہ ۲۶؍ جنوری ۲۰۰۳ء کو دفتر ماہنامہ محدث میں ایک مذاکرے کا اہتمام کیا جس میں اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق رکن اور ادارئہ علوم اثریہ فیصل آباد کے روح رواں مولانا ارشاد الحق اثری، جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث حافظ عبدالعزیز علوی، نائب شیخ الحدیث حافظ مسعود عالم، مرکز التربیۃ الاسلامیہ کے مہتمم حافظ محمد شریف، ہفت روزہ 'الاعتصام' اور ماہنامہ 'محدث' لاہور کے سابق ایڈیٹر حافظ صلاح الدین یوسف اور کلیۃ القرآن الکریم، جامعہ لاہور الاسلامیہ کے رئیس قاری محمد ابراہیم میرمحمدی شامل تھے۔ مجلس التحقیق الاسلامی کے ناظم شیخ التفسیر مولانا حافظ عبدالسلام فتح پوری اور دیگر ارکانِ مجلس میں سے مولانا حافظ عبدالوحید، جناب محمدعطاء اللہ صدیقی، مولانا محمد آصف اریب، مدیر 'محدث' حافظ حسن مدنی، جناب محمد اسلم صدیق و دیگران شریک ِمجلس ہوئے۔ ماہنامہ 'الشریعہ' گوجرانوالہ کے مدیر شہیر مولانا زاہد الراشدی کو بھی دعوت دی گئی تھی لیکن وہ پیشگی طے شدہ پروگرام کی بنا پر خود تو شریک نہ ہوسکے البتہ ان کی نمائندگی ان کے معاون و صاحبزادہ جناب عمارناصر نے کی۔ جبکہ راشدی صاحب نے اس بحث میں اپنے ایک علمی مراسلہ کے ذریعے بھی حصہ لیا۔

مابعد الطبیعاتی (غیبی) اُمور کے بارے میں بذریعہ وحی (قرآن و حدیث) حاصل ہونے والی خبروں کے بارے میں صحابہ کرام اور ائمہ سلف کا موقف معروف ہے کہ

وہ نہ تو فوضویہ کی طرح ایسی خبروں کی عام تفہیم و تشریح سے گریز کرتے ہیں اور نہ ہی ایسی تفسیر و تاویل گوارا کرتے ہیں جس سے ان کی حقیقت کا تعطل لازم آئے۔ برزخی اُمور کے علاوہ جنت و دوزخ اور اسماء و صفاتِ الٰہی (غیبی اُمور) میں ان کا موقف یہی ہے جیسا کہ امام مالکؒ سے ایک سوال پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے مگر اس استوا کی کیفیت کیا ہے؟ توامام مالکؒ نے جواب دیا کہ

''الکيف غير معقول والاستواء غير مجهول والإيمان به واجب والسؤال عنه بدعة''

(فتح الباری :۱۳؍۴۰۶ / کتاب الاسماء والصفات : ص۴۰۸)

''اللہ کا استواء علی العرش تو ثابت ہے مگر استوا کی کیفیت نامعلوم ہے۔ چنانچہ استواء علی العرش پر ایمان لانا ضروری ہے جب کہ اس (کی کیفیت) کے بارے میں سوال کرنا بھی بدعت ہے۔''

مابعد الطبیعاتی اُمور میں سے ایک خاص صورت 'خواب' کی بھی ہے۔ جو سچا ہونے کی بنا پر وحی الٰہی کے مشابہ تو ہوتا ہے لیکن اس کی تعبیر و توجیہ کا میدان زیادہ تر اشاراتی ہے ۔ جیسے قرآن مجید میں حضرت یوسف ؑ کے حوالہ سے مذکور ہے کہ انہوں نے اپنے قیدی ساتھیوں کے خوابوں کی تعبیر فرمائی اور آنحضرتﷺبھی پانی اور دودھ سے متعلقہ خوابوں کی اشاراتی تعبیر فرمایاکرتے تھے۔ اسی طرح آپؐ نے حضرت عمرؓ کی لمبی قمیص کی تعبیر 'دین' سے فرمائی۔

جو پیش گوئیاں دنیا میں پیش آنے والے واقعات سے متعلق ہیں وہ صادق مصدوق حضرت رسولِ کریمﷺکی طرف سے عام خبروں کی قبیل سے ہی ہوتی ہیں، اگرچہ وہ بہت بعد ظاہر کیوں نہ ہوں۔ وہ اسی طرح کی خبریں ہیں جس طرح بہت پہلے گذرنے والے آدمؑ، نوحؑ اور عاد وثمود کو پیش آنے والے ماضی کے واقعات کی خبریں قرآن و حدیث میں دی گئی ہیں لہٰذا وہ کائناتِارضی کے ہی واقعات ہیں اور اس میں سائنسی معمولات کے پیش نظر توجیہ و تعبیر بھی ممکن ہے لہٰذا اس کی توجیہات میں ما بعد الطبیعاتی امور (اسماء و صفات الٰہی) کی طرح کیفیت و تفصیل سے نہ اجتناب ضروری ہے اور نہ ہی خوابوں کی تعبیر کی طرح اشاراتی انداز مناسب ہے۔ البتہ بہت پہلے ماضی کے واقعات کے جس طرح اندازے غلط ہوسکتے ہیں، قربِ قیامت پیش آنے والے مستقبل کے واقعات و اشخاص کے تعین میں بھی ایسی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خود رسول اکرمﷺنے بسا اوقات استعاراتی زبان اختیار فرمائی مثلاً حضرت عمرؓ کی موت کو فتنوں کا دروازہ کھلنے سے تشبیہ دی اور حضرت حذیفہ بن الیمانؓ نے بھی اس دروازہ کے ٹوٹنے سے شہادتِ عمرؓ کا استعارہ مراد لیا۔ اسی طرح مشابہت کی ایک قسم تمثیل ہوتی ہے جسے 'تشبیہ ِمرکب' بھی کہتے ہیں یعنی پورے واقعہ کی واقعہ سے مثال پیش کرنا۔ یہی وجہ ہے کہ ضرب الامثال کا ترجمہ دوسری زبان میں کرتے ہوئے واقعات کے اجزاء بسا اوقات بالکل بدل جاتے ہیں جیسے 'جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں' کا انگریزی ترجمہ Barking dogs seldom bite بالکل درست ہے۔

البتہ پیش گوئیوں کا معاملہ بسا اوقات معجزات اور کرامات سے خلط ملط ہوجاتا ہے، واقعتا ماضی اور مستقبل میں پیش آنے والے واقعات اگر معجزات کی نوعیت کے ہوں تو وہ بھی مابعد الطبیعاتی اُمور کا حصہ ہیں۔ لیکن تمام پیش گوئیوں کے بارے میں یہ فرض کرلینا کہ وہ معجزات وکرامات کی قبیل ہی سے ہیں، درست رویہ نہیں ہے۔

چونکہ دورِ فتن میں عام لوگوں کاایمان متزلزل ہوجاتا ہے، اس لئے پیش گوئیوں کے بارے میں اہل علم بھی اِفراط و تفریط کا شکار ہوجاتے ہیں۔ فتنۂ انکار حدیث کے فروغ کی وجہ سے بعض منکرین جہاں خروجِ دجال ، ظہورِمہدی اور نزولِ مسیح وغیرہ سے متعلقہ صحیح احادیث کو محض افسانہ قرار دیتے رہے ہیں، وہاں بعض حضرات قرآن و حدیث کی ان صحیح اخبار و روایات مثلاً سد ِسکندری، یاجوج وماجوج اور دابۃ الارض وغیرہ کے بارے میں اشاراتی تفسیر کا انداز اپنائے ہوئے ہیں۔ چنانچہ وہ ہر اس طاقت کو بھی دجال قرار دینے سے نہیں چونکتے جو فتنہ وفساد کا منبع اور مسلمانوں کے لئے تباہی و بربادی کا سبب بنے۔ لہٰذا کسی نے امریکہ کو دجال قرار دیا تو دوسرے نے اسرائیل کودجال کہہ دیا۔ بلکہ بعض حضرات نے اسرائیل کے مخصوص طیارے KFRکو ثبوت کے طور پرپیش کردیا کہ بعض روایاتِ حدیث میں دجال کے ماتھے پر 'ک ف ر' مکتوب ہوگا، لہٰذا اس سے مراد یہی طیارہ اور دجال سے مراد یہی اسرائیل ہے۔

سطورِ بالا میں مابعد الطبیعاتی اُمور اور پیش گوئیوں میں امتیاز واضح کرنے کے بعد ایک مسئلہ استعاراتی اُسلوب کا باقی رہ جاتا ہے کہ آیا پیش گوئیوںمیں مجازِ استعارہ ممکن ہے یا نہیں؟ حالیہ مذاکرے کا بنیادی نکتہ یہی تھا۔ علاوہ ازیں معجزات کے حوالے سے دوسرا مسئلہ یہ بھی زیر بحث آیا کہ معتزلہ تو انکارِ معجزات کے لئے ان کی مادّی توجیہ کا رجحان رکھتے تھے جو سراسر غلط ہے مگر ان کے برعکس دورِ حاضر میں سائنسی ترقی کی و جہ سے پیش آنے والے مواصلاتی معاملات جو اب معمول کا حصہ بن چکے ہیں مگر ان سے ملتے جلتے واقعات جو ماضی میں مادّی اسباب کے بغیر انبیا کے ہاتھوں رونما ہوئے اور خرقِ عادت ہونے کی وجہ سے معجزہ قرار پائے تھے، تو کیا دورِ حاضر میں ان کے مشابہ اور معمول کا حصہ بننے والے واقعات سے ان گذشتہ معجزات کی حیثیت پر تو فرق نہیں پڑتا؟ مثلاً معراج کی رات آنحضرتﷺ کا مادّی اسباب کے بغیر پل بھر میں آسمانوں کا سفر کر آنا اس دور میں بلا شبہ معجزہ ہی تھا مگر اب سائنسی پیش رفت کی بدولت مصنوعی سیاروں اور راکٹوں کے ذریعے دور فضاؤں میں پہنچنے اور وہاں کی خبریں پل بھر میں حاصل کر لانے نے جب 'سفر آسمان' کو خرقِ عادت رہنے ہی نہیں دیا تو کیا موجودہ دور کیلئے بھی انہیں معجزہ ہی سمجھا جائے گا؟ یا اس کی کوئی سائنسی توجیہ کی جائے گی...؟

مذاکرے کے میزبان مجلس التحقیق الاسلامی کے ڈائریکٹر حافظ عبدالرحمن مدنی (مدیراعلیٰ ماہنامہ 'محدث' لاہور) تھے۔ انہوں نے شرکاے مذاکرہ کے سامنے انہی دو سوالات کو پیش کرکے اہل علم کو اظہارِ خیال کی دعوت دی اور شرکائے مذاکرہ کو مندرجہ بالا موضوع پر مرتکز رکھنے کے لئے یہ بھی واضح کردیا کہ درایت ِحدیث کے حوالے سے آج کل جو بحثیں استخفافِ حدیث کی صورت میں پیش آرہی ہیں، اس پر ان شاء اللہ ایک باقاعدہ علمی مذاکرے کا اہتمام مستقبل قریب میں کیا جائے گا۔ تاہم اس سلسلے میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ قرآنِ مجید کے الفاظ تو اللہ تعالیٰ کے ہیں، اس لئے وہ وحی کی 'لفظی خبر' کی قبیل سے ہیں جبکہ حدیث ِرسول صحابہ کرام کی طرف سے خبر ہونے کے ناطے بسا اوقات روایت بالمعنی کی شکل میں آگے منتقل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی دفعہ راویان حدیث اس مفہوم کو مختلف الفاظ سے بیان کرتے ہیں۔ اس لئے پیش گوئیوں کے حوالے سے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ صحابہ کرام نے بہت عرصہ بعد پیش آنے والے واقعات کی خبر میں ممکن ہے کہ خبر کا معجزاتی انداز اپنے فہم کی بنا پر اپنایا ہو لیکن حالات کی بڑی تبدیلی کی بنا پر اب وہی معمول کے واقعات نظر آرہے ہیں۔نیز حالات کی تبدیلی کے بغیر بعض دفعہ مبہم ؍ مشکل تجزیوں میں صحابہ کا فہم مختلف ہوتا رہا ہے جیسا کہ آنحضرتﷺکے واقعہ معراج کے حوالہ سے صحابہ کرام میں یہ اختلاف ہوا کہ معراج کی رات آنحضرتﷺنے اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا یا جبریل ؑ کو ؟ یا جس طرح قلیب ِبدر کے واقعہ میں صنادید ِکفار کی لاشوں سے نبی اکرم ﷺ کا خطاب صحابہ کرام کے درمیان سماعِ موتی کے حوالہ سے باعث ِاختلاف ہوا۔ (۱)

اس تمہیدی گفتگو کے بعد مدنی صاحب نے بحیثیت ِمیزبان علماے کرام کو یکے بعد دیگرے اظہارِ خیال کی دعوت دی۔ موضوع چونکہ انتہائی حساس اور اہم تھا اور وقت بھی محدود تھا، اس لئے بعض علما موضوع سے متعلقہ کسی ایک پہلو ہی کی وضاحت کرپائے تاہم دیگر علما کی موجودگی سے، پیدا ہونے والی یہ تشنگی بھی ساتھ ساتھ رفع ہوتی رہی۔

حافظ عبدالعزیز علوی

سب سے پہلے جامعہ سلفیہ کے شیخ الحدیث حافظ عبدالعزیز علوی صاحب نے اظہارِ خیال فرمایا اور نبی اکرمﷺکی سچی پیش گوئیوں کے بارے میں ایمان و یقین مستحکم کرنے کے لئے سورۃ الروم کی ابتدائی آیات ﴿الم ١ غُلِبَتِ الرّ‌ومُ ٢ فى أَدنَى الأَر‌ضِ وَهُم مِن بَعدِ غَلَبِهِم سَيَغلِبونَ ٣﴾ فى بِضعِ سِنينَ...﴿٤﴾.. سورة الروم ''الم! رومی مغلوب ہوگئے ہیں۔ نزدیک کی زمین پر اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب چند سال میں ہی غالب آجائیں گے۔'' تلاوت فرمائیں اور کہا کہ جس طرح یہ پیش گوئی یوں پوری ہوئی کہ روم کی عیسائی حکومت چند سالوں کے بعد دوبارہ فارس کی حکومت پر غالب آگئی، اسی طرح آنحضرتﷺکی تمام پیش گوئیاں ضرور پوری ہوں گی۔ انہوں نے فرمایا کہ ظاہری اسباب اور سائنسی اُصولوں سے اس حد تک مرعوب نہیں ہونا چاہئے کہ ہم وحی سے حاصل ہونے والی پیش گوئیوں کے بارے میں کسی شک و شبہ کا شکار ہوجائیں۔ سائنسی نظریات تو بدلتے رہتے ہیں مثلاً پہلے ڈارون نے نظریہ پیش کیا کہ علت و معلول کا تخلّف نہیں ہوسکتا جبکہ بعد ازاں اس تھیوری کو آئن سٹائن نے غلط ثابت کردیا کہ نیچرل اور سپر نیچرل کی کوئی حقیقت نہیں...!!

حافظ صلاح الدین یوسف

حافظ صلاح الدین یوسف صاحب نے بھی پیش گوئیوں کے مبنی برحق ہونے اور ان پرپختہ ایمان و یقین رکھنے کے سلسلے میں علوی صاحب کی تائید فرمائی اور اس بات پر بھی زور دیا کہ رسول اللہ ﷺکی پیش گوئیوں کی تعبیر و توجیہ میں حد درجہ احتیاط ملحوظِ خاطر رکھی جائے تاوقتیکہ وہ حتمی طور پر سامنے آجائیں۔ پیش گوئیوں میںمعجزات کے بارے میں مابعد الطبیعاتی اُمور کے پیش نظر ان کا تبصرہ امام مالک کے اندازِ فکر کی طرف تھا جس کے مطابق صفاتِ الٰہی کی کیفیت پیش کرنے سے احتراز کا پہلو پایا جاتا ہے۔ کیونکہ امام مالک سے جب مابعد الطبیعاتی امور مثلاً اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کی کیفیت و حالت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اس پر اظہارِ ناراضگی کرتے ہوئے فرمایا کہ ''لفظ استواء سے اللہ تعالیٰ کا عرش پر قرار یا بلند ہونے کا معنی تو واضح ہے مگر اللہ تعالیٰ کے مستوی علی العرش ہونے کی حالت و کیفیت کیسی ہے، اس کے بارے میں (شارع کی طرف سے) ہمیں کچھ نہیں بتایا گیا۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے مستوی علی العرش ہونے پر ایمان لانا تو واجب ہے مگر اس استواء کی حالت و کیفیت اور کنہ و حقیقت کا سوال کرنا بدعت ہے۔''

انہوں نے فرمایا کہ بعض سورتوں کے آغاز میں حروفِ مقطعات بھی متشابہات کی اقسام سے ہیں، موصوف کے بقول پیش گوئیوں کوبھی ایسے ہی خیال کرنا چاہئے۔

مولانا زاہد الراشدی

مولانازاہد الراشدی صاحب مصروفیت کی بنا پر خود تو تشریف نہ لاسکے تاہم انہوں نے مندرجہ ذیل تحریر بھیج کر اپنا نکتہ نظر پیش کیا :

''جس مسئلہ پر مذاکرہ کا انعقاد ہورہا ہے، اس کے تمام پہلوؤں پرکچھ عرض کرنا تو سردست مشکل ہے البتہ ایک دو اُصولی باتوں کے حوالے سے مختصراً گزارش کررہا ہوں کہ قرآن کریم یا جناب نبی کریم ؐ کی پیش گوئیوں کا اپنے دور کے واقعات پر اطلاق یا انہیں مستقبل کے حوالہ کرکے ان کے وقوع کا انتظار خود حضرات صحابہ کرام کے دور میں بھی مختلف فیہ رہا ہے۔ سورۃ الدخان میں 'دخان' اور البطشۃ الکبرٰی کی پیش گوئیوں کا حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اپنے دور کے حالات پر اطلاق کرتے ہیں اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ انہیں قیامت کی نشانیوں میں شمار کرکے اپنے دورمیں ان کے وقوع کی بات قبول نہیں کرتے۔ اس سے اصولاً یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ پیش گوئیوں کے بارے میں تعبیر و تاویل کا دامن اس قدر تنگ نہیں ہے اور اہل علم کے لئے اس کی گنجائش بہرحال موجود ہے۔

اصل اُلجھن ہمارے ہاں یہ رہی ہے کہ ہر دور میں اس نوعیت کی پیش گوئیوں کو اپنے دور کے اَحوال و ظروف کے دائرے میں رہ کر سمجھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ وہی بات اب بھی ہورہی ہے جبکہ مستقبل کا اُفق بہت وسیع ہے مثلاً امام مہدی کے ظہور کی روایات کا اطلاق بعض اہل علم نے حضرت عمرؒبن عبدالعزیز پر بھی کرنے کی کوشش کی تھی اور یہ اس لئے ہوا تھا کہ ایسے کرنے والوں کے سامنے صرف اس دور کا تناظر تھا جبکہ مستقبل کے قیامت تک کے تناظر اور امکانات کو بھی سامنے رکھا جائے تو تاویل وتعبیر میں اس قدر آگے جانے کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ احادیث ِنبویہ علی صاحبھا التحیۃ والسلام کا ظاہری مفہوم سرے سے اس میں تحلیل ہوکر رہ جائے ۔

ایک مسئلہ یہ بھی ذہنوں کے لئے پریشانی کا باعث بن جاتاہے کہ پیش گوئیوں کا ظاہری حالات میںپورا ہونا ممکن نظر نہیں آتا تو اسے عقلی طور پر قابل قبول بنانے کے لئے تاویل کا سہارا لینا مناسب سمجھا جاتا ہے جو ایک غیر ضروری محنت ہے کیونکہ مستقبل کے اِمکانات کا دائرہ حال کے امکانات سے کہیں زیادہ وسیع اور مختلف ہوتا ہے۔ مثلاً یہودیوں کے ساتھ مسلمانوں کی جنگ اور اس میں یہود کی ابتدائی کامیابیوں کا جن روایات میں تذکرہ ملتا ہے، آج سے ایک صدی قبل کے احوال و ظروف میں اس کا کوئی اِمکان نظر نہیں آتا تھا لیکن آج اس کا وقوع بھی ہوچکا ہے۔ اس لئے میرا اپنا ذوق تو یہی ہے کہ پیش گوئیوں کو ان کے اصل مفہوم ہی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے اور اپنے دور کے حالات پر اس کا ہر حال میں اطلاق کرنے یا ان کے بظاہر ممکن نہ ہونے کو حتمی سمجھنے کی بجائے مستقبل کے پردۂ غیب میں مستور امکانات کے حوالے کردیا جائے۔ البتہ اس باب میں اہل علم کے بحث و مباحثہ اور تاویل و تعبیر کے حق سے انکار نہ کیا جائے۔ بحث و مباحثہ اور تعبیر و تاویل کا یہ عمل گذشتہ چودہ صدیوں سے جاری ہے اور اب اس پر قدغن لگانے کا نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔''

مولانا ارشاد الحق اثری

مولانا ارشاد الحق اثری نے مولانا زاہد الراشدی کی تحریر کی تائید کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو فہم و بصیرت عطا کی ہے، اس پر پابندی عائد نہیں ہونی چاہئے تاہم اہل علم کو یہ احتیاط ضرور ملحوظ رکھنی چاہئے کہ وہ وہی موقف اختیار کریں جو سلف کے ہاں پسندیدہ تھا۔

موصوف نے فرمایا کہ نبی اکرمﷺسے زمینی حقائق کے متعلق بہت سی روایات مروی ہیں لیکن صحابہ کرام ، تابعین اور بعد کے ادوار میں کسی نے بھی ان میں رائے زنی کی جسارت نہیں کی بلکہ وہ ان کے وقوع کا انتظار کرتے رہے۔ مثلاً نبی اکرمﷺکی یہ پیش گوئی کہ مدینہ کے مشرق میں بصرہ کے شہر سے آگ نکلے گی جو (ساڑھے تین سو میل کی)لمبی مسافت سے دیکھی جائے گی اور وہاں کے چرواہے اس آگ کی روشنی میں اپنے اونٹوں کو پہچان سکیں گے۔ اس وقت ساڑھے تین سو میل سے آگ کا نظر آنا، بادی النظر میں اس کا تصور بھی محال تھا۔ لیکن یہ ایک زمینی حقیقت تھی جو زبانِ رسالتؐ سے صادر ہوئی اور پھریہ واقعہ رونما ہوا، کائنات نے اس کا مشاہدہ کیا۔ لہٰذا ہمیں بھی سلف کی طرح اس بارے میں محتاط رویہ اختیار کرنا چاہئے اور توجیہات و تاویلات کرنے سے حتیٰ الامکان گریز کرنا چاہئے۔

اس موقع پر اللہ کے رسولﷺکی غزوئہ ہند سے متعلقہ مشہور حدیث بھی زیر بحث آئی۔ تو مولانا نے فرمایا کہ جہادی تنظیمیں کشمیر کے حوالے سے پاک بھارت جنگ کو غزوئہ ہند کا مصداق قرار دینے میں مغالطے کا شکار ہیں۔ اس لئے کہ مسنداحمد میں حضرت خالد بن ولیدؓ کے اپنے الفاظ ہیں کہ ''ہم ارضِ بصرہ کو ارضِ ہند سمجھتے تھے۔'' مولانا نے فرمایا کہ اس روایت کو امام ذہبیؒ نے 'سیراعلام النبلائ' اور امام یعقوب بن سفیان نے اپنی 'تاریخ' میں بھی نقل کیا ہے اور اس روایت کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ علاقہ دراصل 'ارضِ بصرہ' ہی کا تھا جسے صحابہ کرام ارضِ ہند سمجھتے تھے۔

اس پر تعلیق چڑھاتے ہوئے حافظ عبدالرحمن مدنی نے وضاحت فرمائی کہ کشمیر کا مسئلہ برصغیر کا داخلی مسئلہ ہے یعنی جب رسولؐ نے ہندوستان سے لڑنے کی پیش گوئی فرمائی تھی اس وقت پاکستان مع کشمیر 'ہند' کا ہی حصہ تھے، اس لئے غزوئہ ہند سے مراد پاک و ہند کی باہمی لڑائی نہیں ہوسکتی بلکہ زیادہ امکان ہندوستان کے باہر سے آنے والے جرنیل محمد بن قاسم ثقفی کا واقعہ ہے جو گذر چکا ہے۔

محمدعطاء اللہ صدیقی

پیش گوئیوں کے بارے میں الہامی خبروں کی صداقت اور سائنسی توجیہات کے رویہ پر گفتگو کرتے ہوئے جناب صدیقی صاحب نے سائنس اور اسلام کے تصادم کے بارے میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تصور غلط ہے کہ سائنس اور اسلام کے درمیان تصادم ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ 'سائنس اور مذہب 'کے تصادم کا معرکہ عیسائیت کے بگڑے ہوئے مذہبی تصور کے حوالہ سے برپا ہوا۔ کیونکہ بائبل میں یہ موقف موجود ہے کہ زمین ساکن ہے چنانچہ اس معرکہ میں جس نے بھی اس کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کیا، اسے ناقابل تلافی جرم قرار دیا گیا اور اس کی پاداش میں سینکڑوں عیسائی مفکرین کو سزائے موت دی گئی۔ پیش گوئیوں کے حوالے سے صدیقی صاحب نے کہا کہ ان کی تعیین کے بارے میں صحابہ کرام کا بھی اختلاف رہا ہے مثلاً بعض صحابہؓ ابن صیاد کو دجال سمجھتے تھے جبکہ بعض اس کے خلاف رائے رکھتے تھے۔

علاوہ ازیں موصوف نے علماے مذاکرہ کو توجہ دلائی کہ آج مسلمانانِ عالم جن حالات کا شکار ہیں، اس کے پیش نظر ان پیش گوئیوں کی تعبیرو تفحص میں اپنی توانائیاں زیادہ صرف کرنے کی بجائے مسلمانوں کو درپیش چیلنجز کا حل سوچنا چاہئے۔

مولانا مسعود عالم شرقپوری

اس کے بعد مولانا مسعود عالم صاحب کو اظہارِخیال کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے پہلے اس مجلس ِمذاکرہ کے انعقاد پر مدنی صاحب کا شکریہ ادا کیا اور اس طرح علماء کو ایک فورم پر جمع کرکے اہم موضوعات پر اظہارِ خیال کو ایک مفید طریقہ کار اور قابل قدر اقدام قرار دیا۔اس کے بعد انہوں نے دو پہلوؤں سے گفتگو کی: انہوں نے جناب صدیقی کے اس موقف کہ ایسے موضوعات پر وقت صرف نہیں کرنا چاہئے، سے عدمِ اتفاق کرتے ہوئے فرمایا کہ نبیؐ نے بعض مجالس میں اتنی وضاحت اور اہمیت سے فتن اور اشراط الساعہ کا تذکرہ کیا ہے کہ صحابہؓ فرماتے ہیں کہ''جب آپ بیان فرما رہے ہوتے توہمیں یوں محسوس ہوتا کہ جیسے ہم یہ چیزیں اپنے سامنے دیکھ رہے ہیں یا ایسی ہی کوئی شخصیت ابھی کہیں اوٹ سے نمودار ہوجائے گی۔'' اور رسول اللہﷺ کا تفصیل سے ان کا تذکرہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ چیزیں ایمانیات کا حصہ ہیں، اس لئے ان میں نکھار ہونا چاہئے کہ کون سی چیزیں اس حوالہ سے رسول اللہﷺسے ثابت ہیں کہ ان پر ایمان لایا جائے اور کون سی چیزیں ثابت نہیں کہ ان پر یقین نہ کیا جائے۔

اس کے بعد انہوں نے حالات پر ان پیش گوئیوں کے انطباق کے پہلوسے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ نبی کریمﷺسے مستند خبروں کی روایات کو جمع کرکے ان کی رعایت کرتے ہیں اور بعض لوگ ان پیش گوئیوں کو تمثیل اور استعارہ کے رنگ میں سمجھتے ہیں۔ لیکن ایمانیات کے بارے میں سلف کا نقطہ نظر ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ انہوں نے ظاہری الفاظ کا اعتبار کیا اور ایمانیات کے اندر تمثیل اور استعارہ کو برداشت نہیں کیا، لہٰذا ہمیں بھی وہی طریقہ اختیار کرنا چاہئے جو صحابہ اور سلف تابعین نے اختیار کیا،کیونکہ اسی دور کا فہم حجت ہے ، وہ لوگ نبیؐ کے الفاظ کو بہترسمجھتے تھے اور یہ کہناکہ صحابہ ؓ کے فہم میں غلطی ہوسکتی ہے، درست نہیں اور پھریہ چیزیں رسول اللہﷺنے عام لوگوں کے ایمان اور یقین کے لئے بتائی ہیں اور عام لوگوں کے لئے شارع کا طریقہ تمثیل اور استعارہ کا نہیں ہے۔ لہٰذا اُنہیں ظاہری الفاظ میں ہی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

بعض لوگوں نے تاویل کے ذریعے کھینچ تان کر مفہوم متعین کرنے کی کوشش کی، لیکن بعد کے واقعات نے اسے غلط ثابت کردیا۔ مثلاً رسول اللہﷺکی یہ حدیث کہ ''دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نکلے گا...'' اب اس کے بارے میں لوگوں نے تاویلات کے سہارے پر عجیب و غریب تعبیرات پیش کی ہیں جبکہ زمینی حقائق نے ابھی تک ان کا ساتھ نہیں دیا۔

نیز انہوں نے پیش گوئیوں کو متشابہات قرا ر دینے کے نظریہ کو غلط قرا ردیا۔ اور کہا کہ ہمیں بہرحال ان پیش گوئیوں کو رسول اللہ ﷺکے الفاظ سے سمجھنے کی کوشش کرنا چاہئے، البتہ ان کا مصداق متعین کرنے میں اختلاف ہوسکتا ہے اور سلف میں بھی ہوا۔ مثلاً رسول اللہﷺکی یہ حدیث يوشك أن يضرب الناس أکباد الإبل فلا يجدون أعلم من عالم المدينة کا مصداق بعض نے عمرؒ بن عبد العزیز کو قرار دیا اور بعض نے سعید بن مسیبؒ کو اور بعض کے بارے میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ ''پہلے ہم فلاں کو اس حدیث کا مصداق سمجھتے تھے ،لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اس سے مراد امام مالکؒ ہیں۔'' اس سلسلہ میں ہمارے کرنے کا کام یہ ہے کہ تحقیق کے ذریعے صحیح روایات کو جمع کرکے الفاظ کا مفہوم اُجاگر کیا جائے اور تمثیلی اور تاویلی موقف کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

حافظ محمد شریف

مرکز التربیۃ الاسلامیہ، فیصل آباد کے مدیر حافظ محمد شریف صاحب نے قرآنِ مجید کی آیت ﴿وَلا تَقفُ ما لَيسَ لَكَ بِهِ عِلمٌ...٣٦﴾... سورة الاسراء"سے اپنی بات کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے رسولؐ نے جن چیزوں کو مجمل چھوڑ دیا اور خاص وقت کے ساتھ ان کا تعین نہیں کیا تو مخصوص حالات اور اوقات کے ساتھ ان کے تعین کی کوششیں اس آیت کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یاجوج ماجوج کے بارے میں مولانا آزاد، مولانا مودودی اور مولانا اصلاحی رحمہم اللہ وغیرہ نے جوکچھ کہا ہے، مفتی محمد شفیع صاحب نے اپنی تفسیر میں ان کی بہتر انداز میں تردید وتوضیح کی ہے۔

انہوں نے مزید فرمایا کہ اللہ کے رسولؐ کی پیش گوئیاں سچی ہیں، اس لئے ان پر صدقِ دل سے ایمان لانا چاہئے۔ البتہ ان کی کیفیت و ماہیت کیا ہے، یا جوج ماجوج اور دجال وغیرہ کہاں ہیں یا ان کا ظہور کب ہوگا؟ اس بارے میں حتمی فیصلہ دینا بسا اوقات نقصان کا باعث بھی ہوتا ہے۔ مثلاً خلیج کی جنگ (۱۹۹۱ئ) کے حوالہ سے بعض لوگوں نے اللہ کے رسولؐ کی پیش گوئیوں کی روشنی میں صدام حسین کو زندیق اور اس کے بالمقابل اتحادی افواج کو مسلمان اور اہل کتاب قرار دیا اور کہا: یہ پہلے صدام پر فتح یاب ہوں گے، پھر دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نمودار ہونے پر باہم لڑیں گے اور اس کے بعد امام مہدی کا ظہور ہوگا لیکن بعد کے واقعات نے اس کو غلط ثابت کردیا۔ اب جنہیں ہم نے یہ احادیث سنا کر تاویلیں اور تعبیریں کیں، وہ ہمارے بارے میں کیا تاثر قائم کریں گے؟ صاف ظاہر ہے کہ یا تو وہ ہمیں جھوٹا کہیں گے یا پھر اللہ کے رسولؐ کی پیش گوئیوں کو ناقابل اعتبار قرار دیں گے...!

مدنی صاحب کی توضیح

چونکہ مذاکرے کا ارتکاز زیادہ تر پیش گوئیوں کے تعبیر کے جواز یا ان کے بارے میں توقف کی صورت اختیار کئے جارہا تھا ،اس لئے حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب نے اس صورتحال کو معمول پر لانے کے لئے وضاحت فرمائی کہ جب اکابر صحابہؓ پیش گوئیوں کی تعیین کے حوالہ سے ایسی احتیاط ضروری نہ سمجھتے تھے تو آخر ہمیں احتیاط کی اتنی کیا ضرورت ہے؟ پھر اگر پیش گوئیوں سے صورتحال کا تعین کرنا ہی غلط قرار پائے تو ان کا فائدہ ہی کیا ہے؟ اس سلسلے میں انہوں نے قرآن میں مذکور یاجوج ماجوج اور صحیح احادیث میں مذکور امام مہدی اور دجال وغیرہ کے حوالہ سے بتایا کہ نبی اکرمﷺنے ان سب کے بہت سے اوصاف بیان فرمائے ہیں جن کامقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ ان کا تعین کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ ان پیش گوئیوں کا غیر یقینی اور غیر حتمی انداز سے تعین کرنے میںکوئی حرج نہیں بلکہ قرائن وآثار اگر واضح ہوں تو صحابہ کرامؓ نے بھی ان کا تعین کیا ہے اور اس تعین میں ان کا اختلاف بھی ہوتا رہا ہے۔مثلاً جب ازواجِ مطہراتؓ نے آنحضرتﷺسے دریافت کیا کہ ہم میں سے سب سے پہلے (آخرت میں) آپؐ سے کون ملاقات کرے گی؟ تو آپؐ نے جواب دیا کہ أطولکن يدًا ''وہ جس کے ہاتھ تم میں سے سب سے زیادہ لمبے ہیں۔'' اس پر ازواجِ مطہرات نے لکڑی سے اپنے اپنے ہاتھ ماپنا شروع کردیئے۔ چنانچہ حضرت سودہؓ ان میں سب سے لمبے ہاتھوں والی نکلیں۔مگر آنحضرت ﷺکے بعد حضرت سودہؓ کی بجائے حضرت زینبؓ سب سے پہلے فوت ہوئیں تو اس پر حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ آنحضرتؓ کی پیش گوئی کے بارے میں ہمیں معلوم ہوا کہ لمبے ہاتھوں والی سے آپؐ کی مراد یہ تھی کہ جو زیادہ صدقہ کرنے والی ہوگی اور حضرت زینبؓ کو صدقہ کرنا بڑا محبوب تھا۔ (بخاری ؛۱۴۲۰)

اسی طرح دجال والی پیش گوئی کے حوالہ سے بھی صحابہ کرامؓ میں اختلاف رونما ہوا، بعض صحابہ ابن صیاد ہی کو دجال قرار دیتے تھے جبکہ بعض کاموقف اس کے برعکس تھا۔ اسی طرح الأئمۃ من قریشوالی روایت کے بارے میں حضرت عمرؓ کا موقف یہ تھا کہ اس سے خاص قریشی نسل مراد نہیں بلکہ اس دور کے ایسے ممتاز لوگ مراد ہیں جنہیں معاشرے میں قریش جیسا دینی ؍ سماجی مقام حاصل ہو۔اور یہی وجہ ہے کہ اس حدیث کو تسلیم کرنے کے باوجود وہ اپنے بعد خلیفہ نامزد کرنے کے موقع پرحسرت سے فرماتے تھے کہ آج اگر سالم مولیٰ ابی حذیفہؓ زندہ ہوتا تو میں اس کو خلیفہ بناتا۔ اسی طرح معاذ بن جبلؓ کے بارے میں بھی آپؓ کی اس خواہش کا ذکر ملتا ہے حالانکہ سالم غلام تھے اور معاذ بن جبلؓ انصاری ہیں، نسلاً قریشی نہیں ہیں!

مولانا حافظ عبدالوحید

مولانا حافظ عبدالوحید صاحب نے بھی پیش گوئیوں کے تعین کے موقف پر زور دیا اور کہا کہ دورِحاضر میں مسلمانوں کی اندوہناک صورتحال کے پیش نظر اس قسم کے مسائل میں مسلمانوں کی رہنمائی کرنا ضروری ہے ۔

ایمانیات کے بارے میں ضروری نہیں کہ صرف مابعدالطبیعاتی (غیبی) اُمور پر ہی ایمان لایا جاتا ہے بلکہ ماضی اور مستقبل کے زمینی حقائق کے بارے میں رسول کریمﷺکی ایسی خبروں کو سچا تسلیم کرنا بھی ایمانیات میں داخل ہے۔ غیبی امور کی بلاوجہ تاویل ضرور ﴿وَلا تَقفُ ما لَيسَ لَكَ بِهِ عِلمٌ...٣٦﴾... سورة الاسراء"کی ممانعت کے تحت آتی ہے لیکن ارضی واقعات کے اوصاف اگر زبانِ رسالت سے پیش ہوچکے ہوں تو ان اوصاف کی مدد سے اشخاص و اقوام کا تعین غیبی اُمور کی غلط تاویل کا رویہ قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ ان کی توجیہ مناسب ہے اور مطلوب بھی۔

نیز تشبیہ کی دو قسمیں ہیں: تشبیہ مفرد جسے استعارہ کہتے ہیں دوسری تشبیہ مرکب جسے تمثیل کہا جاتا ہے۔ماضی یا مستقبل میںپیش آنے والے واقعات میں بہت دفعہ تشبیہ مرکب (تمثیل) کی شکل ہوتی ہے جس میں اجزاے واقعہ کے بجائے صورت واقعہ کی مشابہت مطلوب ہوتی ہے۔ بلا شبہ پیش گوئیوں میں وارد کئی واقعات میں صورت حال مراد لینے کی گنجائش بھی موجود ہے۔

جناب عمار ناصرکے سوالات

اسی موقف کو نکھارنے کے لئے جناب عمار ناصر نے تعبیر و توجیہ کے بارے میں توقف اختیا رکرنے والے اہل علم کے سامنے دو سوالات پیش کئے اور کہا کہ مذاکرہ میں جو جذباتی انداز سامنے آیا ہے، وہ یہ ہے کہ پیش گوئیوں کے حوالہ سے اللہ کے رسولؐ نے جو کچھ بیان کیاہے، اس کو روایت تو کردینا چاہئے لیکن قرائن و احوال کی مدد سے کسی خاص صورتحال کو اس پر منطبق کرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے۔ اس سلسلے میں انہوں نے پہلا سوال یہ کیا کہ اللہ کے رسولؐ نے مستقبل کے متعلق جو پیش گوئیاں کی تھیں، ان کا مقصد کیا تھا؟

انہوں نے کہا کہ اس بارے میں میری رائے یہ ہے کہ مستقبل کے حوالے سے آپ نے جو کچھ بیان فرمایا ہے، ان مین سے اکثر چیزوں کا تعلق غیبی امور سے نہیں۔ غیبی امور میں سے جنت و جہنم، صفاتِ الٰہی وغیرہ سے متعلقہ کیفیتیں اگر ہمیں نہ بھی بتائی جائیں توہمارے ایمان بالغیب پر کوئی زد نہیں پڑتی لیکن پیش گوئیوں کامقصد دراصل انسان میں مستقبل کو جاننے کی جستجوکے فطری جذبہ کی تسکین ہے اور پیش آمدہ واقعات کے بارے میں خوشخبری یا احتیاط کے پہلو اختیار کرنے کا رویہ بھی مطلوب ہے، لہٰذا اس فطری جذبہ جستجو کی بنا پر مستقبل کی پیش گوئیوں کے بارے میں کسی واضح تعبیر و تعیین کی گنجائش ہونی چاہئے۔

دوسرا سوال انہوں نے یہ کیا کہ اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ قرائن و آثار کی روشنی میں ہم پیش گوئیوں کو کسی خاص صورتحال پر منطبق نہیں کرسکتے تو جب متعین اشخاص و اقوام یا کوئی واقعہ حقیقت میں رونما ہوگا مثلاً امام مہدی کا ظہور وغیرہ تو اس کا تعین کیسے ہوگا؟ کیا اس وقت ہاتف ِغیبی کی طرف سے کوئی باقاعدہ اعلان ہوگا کہ فلاں شخص امام مہدی ہے؟ آخر اس کا تعین بھی تو قرائن و احوال کی روشنی ہی میں ہوگا...!

مولانا مسعود عالم کا جواب

مولانا مسعود عالم نے ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ جہاں تک یہ خیال ہے کہ مستقبل کو جاننے کے لئے انسان میں جستجو کا فطری جذبہ موجود ہے جس کی بنیاد پر انسان اپنے علم کو دنیاوی اُمور کے اندر ترقی دینے کی جستجو کرتا ہے تو اس کی ضرور حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔ لیکن وحی پر مبنی اُمور کے بارے میں اس مفروضہ کی بنیاد پر کہ اللہ کے رسولؐ نے کچھ کڑیاں تو بتا دی ہیں اور باقی خالی جگہ کو انسان اپنے جذبہ جستجو سے پر کرکے ان کڑیوں کو باہم ملا سکتا ہے لہٰذا ان غیبی امور کے بارے میں رائے زنی شروع کردی جائے، یہ بات غلط ہے اور قرآن مجید کی اس آیت ﴿وَلا تَقفُ ما لَيسَ لَكَ بِهِ عِلمٌ...٣٦﴾... سورة الاسراء"کے منافی ہے۔ علم میں توسع کے جذبہ کی تسکین کے لئے دنیاوی اُمور میں تجربات کا میدان کھلا ہے لیکن وحی الٰہی کو اس جذبہ کی تسکین کے لئے تجربات کا تختۂ مشق نہیں بنایا جاسکتا۔

دوسرے سوال یہ کہ اس واقعہ کے حقیقت میں رونما ہونے کی صورت میں اس کی تعیین کیسے ہوگی، کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ چونکہ امت بحیثیت ِمجموعی معصوم ہے، یعنی پوری اُمت رسول اللہﷺکے فرمان ''لا تجتمع أمتي علی الضلالة'' (میری اُمت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی) کے بموجب گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا جب کسی پیش گوئی سے متعلقہ واقعہ حقیقت میں ظہور پذیر ہوگا تو اس وقت مسلمانوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دینے والے علما اور اہل حل و عقد اس کی حقیقت و تعین پر مجتمع ہوجائیں گے۔ اب اگر اتفاق نہیں ہوتا تو اس کی وجہ یہی ہے کہ اللہ نے اُمت کو معصوم بنایا ہے اور تمام اُمت ایک غلط چیز پر جمع نہیں ہوسکتی۔

وضاحت طلبی

اس پر جناب عمار ناصر نے پھر نکتہ اٹھایا کہ اُمت کا آخر ِکار ایک واقعہ کی حقیقت پر جمع ہوجانا ان کے ابتدائی اختلاف کو مانع نہیں۔ لازمی طور پر پہلے اس پر بحث و مباحثہ ہوگا یا رائے زنی ہوگی۔ جس پر اختلاف بھی ہوگا پھر آخر کار اس پر اتفاق ہوجائے گا اور غالباً اثری صاحب کی سابقہ گفتگو کا بھی یہی حاصل ہے۔

حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب

پیش گوئیوں کے بارے میں مذکورہ بالا مکالمے کے بعد حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب نے اراکین مجلس کی مذاکرے کے مرکزی سوال (استعارے کی حدود) کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے فرمایا کہ جہاں تک پیش گوئیوں کے بارے میں ظاہری الفاظ کا تعلق ہے تواس میں ہمیں صحابہ کرام کے اندا ز سے یہی روشنی ملتی ہے کہ صحابہ کرام عربی زبان کے اُسلوب استعارہ کے مطابق کسی چیز کے تعین سے گریز نہیں کرتے تھے بلکہ گفتگومیں اسلوبِ استعارہ کو بھی مدنظر رکھا کرتے تھے مثلاً صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے فتنوں کے بارے میں رسولؐ کی پیش گوئیوں کے متعلق سوال کیا تو حضرت حذیفہؓ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ''ليس عليك منها بأس يا أميرالمؤمنين، إن بينك وبينها بابا مغلقا'' امیر المومنین! آپ کو ان فتنوں سے پریشان ہونے کی کیا ضرورت؟ آپ کے اور ان فتنوں کے درمیان تو بند دروازے کی رکاوٹ ہے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے پوچھا: ''أيکسر الباب أم يفتح؟'' وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ حضرت حذیفہؓ نے فرمایا کہ اسے توڑا جائے گا۔ بعد میں مسروق تابعی نے حضرت حذیفہؓ سے پوچھا کہ دروازے سے آپ کی کیا مراد تھی؟ تو حضرت حذیفہؓ نے فرمایا: عمر فاروق ؓ۔ (بخاری؛۷۰۹۶)

گویا اس روایت میں حضرت حذیفہؓ نے دروازے سے حضرت عمرؓ کو اور دروازے کے ٹوٹنے سے ان کی شہادت کا استعارۃً مراد لیا ہے۔ اسی طرح اس حدیث ''لا تقوم الساعة حتی تضطرب أليات نساء دوس علی ذي الخلصة'' (بخاری) میں تضطرب إلیات نساء بھی ذي الخلصۃ بت کی زیارت اور طواف سے استعارہ ہے ۔

ان تمام احادیث اور ان سے ملتی جلتی دیگر احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسولؐ کو جو جوامع الکلم کی نعمت عطا ہوئی تھی، اس میں جوامع الکلم کی ایک شکل استعاراتی اسلوب بھی تھا اور عربی ادب میںاس کا استعمال بہرحال موجود ہے جس سے مجال انکار نہیں مگر اصل مسئلہ استعارہ کی حدود و شرائط کا ہے مثلاً دجال کے بارے میں جب ایسی صریح و صحیح احادیث موجود ہیں جو دجال کی شخصیت کو متعین کردیتی ہیں تو پھر اس سے استعاراتی طور پر کوئی قوم مراد لینا سراسر غلط ہے مثلاً دجال کے بارے میں آنحضرتؐ کا ارشاد گرامی ہے :

''رجل جسيم أحمر جعد الرأس أعور العين کأن عينه عنبة طافية ... أقرب الناس به شبها ابن قطن'' (بخاری؛۷۱۲۸)

''(مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ دجال) سرخ رنگ کا موٹا شخص ہے، اس کے بال گھنگریالے، اسکی آنکھ کانی اور ایسے تھی جیسے پھولا ہوا انگور ہوتا ہے۔ اسکی شکل و صورت عبدالعزیٰ بن قطن (دورِ جاہلیت میں فوت ہونے والا ایک شخص) سے بہت ملتی تھی۔''

اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ : ''وإن بين عينيه مکتوب کافر(ک ف ر)'' (بخاری؛۷۱۳۱) ''اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا'' اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ ''جب وہ مدینے کے قریب آنے کی کوشش کرے گا تو اس کی طرف ایک آدمی جو تمام لوگوں سے بہتر ہوگا، نکلے گا اور اسے کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے بارے میں اللہ کے رسولؐ نے اپنی حدیث بیان فرمائی ہے۔'' (بخاری:۷۱۳۲)

ان تمام روایات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک شخص ہوگا نہ کہ مجازی طور پر کوئی قوم یا ملک۔ صحابہ کرام بھی اسے شخص ہی سمجھتے تھے، البتہ ان کا اختلاف اس بات پر ہوا کہ وہ شخص ابن صیاد ہے یا کوئی اور ۔ اگر اس سے مراد امریکہ یا اسرائیل یا کوئی اور ملک و قوم ہوتی تو اللہ کے رسولؐ ان کے اختلاف پر ضرور یہ کہہ دیتے کہ ساتھیو! دجال کوئی شخص نہیں کہ تم اسے متعین کرتے پھرو بلکہ وہ تو کوئی جابر استبدادی قوت ہوگی !

مگر آنحضرتﷺکا بوقت ِضرورت کوئی ایسی بات نہ کرنا اسی بات کی قطعی دلیل ہے کہ دجال سے مراد شخصیت ہے ، کوئی استعاراتی امر (یعنی دجالی قوتیں وغیرہ) نہیں۔

مدنی صاحب نے مزید فرمایا کہ میری رائے میں ہم استعارہ کی حدود میں افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ اس بارے میں ہمارا رویہ متوازن ہونا چاہئے۔ جہاں کہیں (تشبیہ ِمفردکی صورت میں) اشخاص مراد ہوں وہاں استعارہ کی صورت میں بھی اشخاص ہی مراد لینے چاہئیں نہ کہ قوتیں۔ مثلاً ملائکہ و جنات اللہ تعالیٰ کی مخصوص مخلوق ہیں، نہ کہ نیچریوں کے بقول صرف روحانی قوتیں یا اُجڈ لوگ۔ اسی طرح دجال، امام مہدی اور حضرت مسیحؑ وغیرہ سے مراد مخصوص اشخاص ہیں۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جو اپنے لئے مثل مسیح کا نظریہ پیش کیا ہے، یہ سراسر تحریف ِدین ہے،اسے استعارہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ البتہ دریائے فرات سے سونے کے پہاڑ کے نمودار ہونے پر الملحمۃ العظمٰی کی جو پیش گوئیاں احادیث میں موجود ہیں، اس کے بارے میں میرا ذہن اگرچہ اس طرف جاتا ہے کہ چودہ سو سالہ پہلے والی خبر کے الفاظ سے اگر استعارہ کی صورت میں سیال سونا (پٹرول) مراد لے لیا جائے تو اس کی گنجائش نکل سکتی ہے لیکن میں اسے حتمی تعبیر نہیں کہہ سکتا بلکہ اس کی نوعیت اسی طرح کی ہے جس طرح درج ذیل قرآنی پیش گوئی کی ہے کہ ﴿فَار‌تَقِب يَومَ تَأتِى السَّماءُ بِدُخانٍ مُبينٍ ﴿١٠﴾... سورة الدخان

''آپ اس دن کے منتظر رہیں جب کہ آسمان واضح دھواں لائے گا۔''

اب اس سے بعض اہل علم مثلاً حضرت ابن مسعودؓ، مجاہدؒ، ابوالعالیہؒ، ضحاکؒ وغیرہ نے تو یہ مراد لیا کہ یہ کوئی حقیقی دھواں نہیں ہے بلکہ اہل مکہ جب قحط سالی کا شکار ہوئے وہ جب آسمان کی طرف دیکھتے تو بھوک اور کمزوری کی شدت کی وجہ سے انہیں دھواں سا محسوس ہوتا تھا۔ یعنی ان کے نزدیک اس قرآنی پیش گوئی سے انسانوں کی ایسی نفسیاتی کیفیت کا استعارہ مراد ہے۔ جبکہ ابن عباسؓ، ابن عمرؓ، ابوسعیدؓ، حضرت حذیفہؓ اور کئی تابعین کے بقول اس سے مراد حقیقی طور پر وہ دھواں ہے جو قربِ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہوگا اور اس کا ظہور تاحال نہیں ہوا۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: تفسیر طبری :۱۵؍۱۱۱تا ۱۱۴، تفسیرقرطبی :۱۶؍۱۳۱،ابن کثیر: ۷؍ ۲۳۷، شرح مسلم للنووی:۱۸؍۱۲، التذکرۃ للقرطبی:۶۵۵)

بہرصورت میری رائے میں استعاراتی توجیہات کے جواز کے باوجود یہ احتیاط ضرور ملحوظ رکھنی چاہئے کہ کسی بھی ایسے موقع و محل کی تعیین کے وقت پہلے ایسی تمام صحیح روایات کو جمع کرلیا جائے اور بغور یہ بھی دیکھ لیا جائے کہ دیگر روایات و احادیث میںکوئی ایسے الفاظ تو موجودنہیں جو استعارے کی وسعتوں کو محدود کررہے ہوں ۔تشبیہ مفرد کی صورت میں دریائے فرات کے مذکورہ بالا سونے کے پہاڑ کے حوالہ سے بعض روایات کا اسلوب اس سے سیال سونا (Black Gold) مراد لینے سے مانع نظر آتا ہے لیکن بعض روایات نے پہاڑ کی بجائے کنز (خزانہ) کا لفظ استعمال کیا ہے گویا روایت ِحدیث میں ہی مفہوم کے اختلاف کی کچھ گنجائش نکل رہی ہے اس بنا پر تعبیر کی وسعت کا رویہ اختیار کرنے والے پر گمراہی کا فتویٰ عائد نہیںکیا جاسکتا۔

تشبیہ مرکب : البتہ اگر (تمثیل واقعہ) کے طور پرمسلمانوں کی دولت پر کفار سے لڑائیوں اور تباہی کی صورت حال سامنے رکھی جائے تو واقعات کی موجودہ حالات سے کافی حد تک مماثلت موجود ہے۔ خلیج کی موجودہ جنگ کو 'اُمّ المحارب' بھی قرار دیا جارہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آغازِ جنگ ہے پتہ نہیں انجام کیا ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ مسلمانوں پررحم فرمائے۔ آمین! ٭

زیر نظر مذاکرہ او رکلوننگ پر ہونیوالے ایک لیکچر کی آڈیو ریکارڈنگ سی ڈی میں دستیاب ہے۔ قیمت ۵۰ روپے