واقعہ ۱۱ ستمبر کے بعد مصائب کے بالمقابل دنیا بھر بالخصوص امریکہ میں پیدا شدہ دعوتی مواقع

اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کی طرف سے بالعموم یہ کہا جارہا ہے کہ آج کل وہ عالمی سطح پر جن آزمائشوں سے گذر رہے ہیں، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی، لیکن ان کا یہ خیال حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ اس لئے کہ ایک سچا مؤمن و مسلم آنے والے مسائل و مصائب کو ہمیشہ دینی و اسلامی نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔ دعوتی نظر سے دیکھا جائے تو ان حالات نے ان میں پہلے سے زیادہ خود اعتمادی اور دینی جوش و ولولہ پیدا کردیا ہے۔ مسلمانوں کے لئے معاشی وسیاسی نقصان کوئی حیثیت نہیں رکھتا، دین کے لئے مالی قربانی پر ان کے لئے آخرت میں اس سے دوگنے اور بہتر کا وعدہ ہے۔ اسی طرح عددی اعتبار سے مسلمانوں کا جانی نقصان ان کو شہادت کے درجہ پر فائز کردیتا ہے، جس سے زیادہ قابل رشک موت کا اس دنیا میں تصور نہیں کیا جاسکتا، البتہ ان کا دینی و دعوتی نقصان و خسارہ ان کے لئے ہمیشہ لمحہ فکریہ بنا رہا ہے۔

اگر کوئی سیاسی و معاشی اعتبار سے اس وقت مسلمانوں کو ان کی تاریخ کے بدترین مسائل سے دوچار کہتا ہے، تو یہ بات ماضی کی روشنی میں غلط ہے۔ اس لئے کہ اس سے دس گنا زیادہ مسائل کا ان کو اس سے پہلے سابقہ پڑ چکا ہے، مثلاً۱۸۵۷ء سے پہلے مسلمان پوری دنیا کے ایک کروڑ ۶۵ لاکھ مربع میل رقبہ پر حکومت کررہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے بیسویں صدی کے اوائل تک یہ رقبہ صرف ۴۵ لاکھ مربع میل ہوگیا، یعنی ایک تہائی سے بھی کم۔ ایشیا اور افریقہ کے اکثر ممالک مسلمانوں کے ہاتھوں سے چلے گئے۔ برطانیہ نے سترہ اور فرانس نے سولہ اسلامی ممالک پر قبضہ کرلیا۔ وسط ِایشیا کی ۲۰ مسلم ریاستیں روس کے قبضہ میں چلی گئیں۔ چین میں چھ مسلم ریاستوں پر کمیونسٹوں کا قبضہ ہوگیا۔ کیا اس طرح کے سیاسی زوال کا مسلمانوں کو اب تک کبھی سامنا کرنا پڑا ہے؟ جواب نفی میں ہے۔یہ الگ بات ہے کہ جنگ ِعظیم دوم کے بعد اس میں سے اکثر ریاستیں مسلمانوں کو واپس مل گئیں، سوائے چین کی چھ ریاستوں کے جہاں اس وقت بھی ۹ کروڑ مسلمان ہیں اور روس کے زیرقبضہ تیرہ ریاستوں کے جہاں کی مسلم آبادی تین کروڑ سے بھی زائد ہے۔

اسی طرح عددی اعتبار سے مسلمانوں کا بدترین نقصان ۶۵۶ھ میں ہوا جب دنیا کے سب سے پررونق و حسین شہر، عالم اسلام کے دارالخلافہ بغداد میں تاتاریوں نے حملہ کیا اور چالیس دن تک ایسی تباہی مچائی کہ صرف بغداد میں ۱۸؍ لاکھ مسلمان مارے گئے اور ان کی لاشوں کے ڈھیر کی بدبو بغداد سے دمشق تک پھیل گئی۔ (یہ فاصلہ اندازاً کراچی سے بمبئی تک ہے) کیا اس صدی کے کسی بھی عشرہ میں شہید ہونے والے دس بیس ہزار مسلمانوں کا اس سے موازنہ کیا جاسکتا ہے۔

ظاہری و مادّی اعتبار سے مسلمان اس وقت ترقی کی جس منزل پر ہیں، اس کی مثال ماضی کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اقوام متحدہ میں شعبہ آبادیات کی رپورٹ کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ بڑھ رہی ہے اور وہ بھی بڑی تیزی سے اسلام قبول کرنے والے لوگوں کی و جہ سے نہ کہ تعددِ ازدواج اور افزائش نسل سے، جس کا پروپیگنڈا ہمارے ملک کی فرقہ پرست تنظیمیں بڑے زورو شور سے کررہی ہیں۔ عالمی ماہرین آبادیات کے مطابق ہر چھ سال میں عالمی آبادی میں مسلم آبادی ایک فیصد بڑھ رہی ہے۔ گذشتہ اٹھارہ سال میں دنیا کی مسلم آبادی میں ۳۵ کروڑ کا اضافہ ہوچکا ہے۔ آبادی میں ان کے اضافہ کی یہی رفتار رہی تو ۲۰۲۵ء تک مسلمانوں کا تناسب ۲۵ فیصد سے بڑھ کر ۳۰ فیصد ہوجائے گا اور عیسائیت کے بجائے دنیا کی سب سے بڑی اکثریت ہوں گے...!!

مسلمان اس وقت الحمدللہ سیاسی اور معاشی اعتبار سے بھی سب سے آگے ہیں۔ ۲۲۴ ممالک میں ۶۰ ممالک ان کے قبضہ میں ہیں۔ ۳ کروڑ عالمی افواج میں ۸۵ لاکھ سے زائد افواج ان کے پاس ہیں۔ چھ ارب کی عالمی آبادی میں وہ ڈیڑھ ارب سے زیادہ ہیں۔ اسی طرح روئے زمین کے دو کروڑ مربع میل پر ان کی حکمرانی ہے۔ اقتصادی میدان میں اس وقت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے ۸۴ فیصد پٹرول پر مسلمانوں کا قبضہ ہے، یہ الگ بات ہے کہ خود ہمارے مسلم حکمرانوں کو اس وقت اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہے، بلکہ ہمارے دشمنوں کو ہماری اس طاقت کا ہم سے زیادہ احساس ہے۔ چنانچہ عالم اسلام کے ایک صاحب ِبصیرت قائد و الی ٔ حجاز شاہ فیصل مرحوم نے اسرائیل کی مدد کرنے پر مغرب کے خلاف پٹرول کی سپلائی صرف بند کرنے کی جب دھمکی دی تو ان کو خود ان کے بھتیجے کے ذریعے شہید کرایا گیا۔ اگر عالمی مارکیٹ میں مسلم ممالک کی طرف سے روزانہ سپلائی کئے جانے والے تیل میں ۲۵ فیصد بھی کمی کردی جائے تو دنیا کا یہ صنعتی نظام درہم برہم ہوسکتا ہے اور امریکہ اور اسرائیل ہی میں نہیں، بلکہ پورے مغرب میں ایک اقتصادی زلزلہ آسکتا ہے اور پوری فوجی و صنعتی ٹیکنالوجی دھری کی دھری رہ سکتی ہے۔ خود یورپی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالم عرب کے پاس اس وقت جو پٹرول کے ذخائر ہیں، وہ اگلے سو سال کے لئے کافی ہیں اور غیر مسلم ممالک کے پاس جو ۱۶ فیصد ذخیرہ ہے، وہ اگلے پچیس سال تک بھی بمشکل نکل سکتا ہے۔

اب سوال بنیادی طور پر عالمی سطح پر مسلمانوں کی اس وقت دینی و دعوتی حیثیت کا ہے، آیا ان ناگفتہ بہ حالات نے ان کو ملی و دینی اعتبار سے کوئی نقصان پہنچایا ہے ... اس وقت عالم اسلام کے حالات کے تجزیہ کے نتیجہ میں جو بات سامنے آتی ہے، وہ بڑی خوش کن اور ہمت افزا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر سیاسی اعتبار سے ہمت شکن حالات و واقعات نے ان میں نہ صرف سیاسی سوجھ بوجھ پیدا کردی ہے، بلکہ ان کو ان کے دین سے بھی قریب کردیا ہے اور ان کے لئے غیر شعوری طور پر دعوتی مواقع فراہم کردیئے ہیں۔ برسوں کی محنت اور کوششوں سے بھی ان میں موجود دینی و اخلاقی اعتبار سے جوجمود ختم نہیں ہورہا تھا، اس کو عالمی سطح پران کے خلاف ہونے والے ان سیاسی و فوجی واقعات نے توڑ دیا ہے۔ عالم اسلام بالعموم عالم عرب کے نوجوانوں میںان کے حکمرانوںکی طرف سے ان کی زباں بندی اور اظہارِ رائے پر لگی روک ایک بڑے آنے والے دینی انقلاب کا پتہ دے رہی ہے۔ امریکہ کی اسرائیل نوازی پر ان کے حکمرانوں کی خاموشی نے ان کو بے چین کردیا ہے اور اس کو خود عرب قائدین اب محسوس کرنے لگے ہیں اور دبے الفاظ میں ہی سہی، ان کی طرف سے احتجاج شروع ہوچکا ہے۔ مجموعی طورسے یہ سب حالات مغرب کے خلاف آنے والے ایک سیاسی طوفان کا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں۔

مذکورہ بالا باتوں کی روشنی میں آپ صرف ہندوستان کے حالات کا تجزیہ کیجئے۔ ہندوستانی تاریخ میں سب سے تباہ کن فسادات ملکی سطح پر بابری مسجد کی شہادت کے بعد ۱۹۹۲ء میں رونما ہوئے جس میں ہزاروں مسلمانوں کو جانی اور اربوں کا مالی نقصان ہوا، لیکن حکومت کی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ بتاتی ہے کہ مسلمانوں میں مجموعی طور پر اس کے بعد دینی، تعلیمی اور تنظیمی طور پر جو ترقی دیکھنے میں آئی ہے، وہ پچھلے پچاس سال میں نہیں آئی ہے۔ صرف پچھلے دس سال میں مسلمانوں کے تعلیمی تناسب میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ۱۹۹۲ء میں مسلمانوں کا یہ تناسب صرف ۳۳ فیصد تھا جو اب بڑھ کر ۳۸ فیصد ہوگیا ہے۔ ریاستی اور مرکزی عہدوں میں مسلمانوں کا تناسب۲ سے ۳ فیصد ہوگیا ہے، ملک گیر سطح پر مسلمانوں کی مختلف تنظیموں میں اپنے مسلکی اختلافات کے باوجود ملت کے مشترکہ مسائل پرغیر معمولی اتحاد دیکھنے میں آرہا ہے۔ مسلمانوں میں تعلیمی و اقتصادی منصوبہ بندی پہلے سے کہیں زیادہ ہوگئی ہے۔ دینی مدارس کے قدیم نصاب و نظام میں زمانہ کے تقاضوں کے تحت بڑی تبدیلی آئی ہے۔ ان کے درجنوں انجینئرنگ اور ٹیکنیکل کالجز صرف دس سال کے عرصہ میں قائم ہوگئے ہیں۔ عراق کویت جنگ کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے خود ملک میں سرمایہ کاری اور اپنے معاشی استحکام پر توجہ دینی شروع کردی ہے۔

یہ تو ہندوستان کا حال ہے ،اگر عالمی سطح پر جائزہ لیا جائے تو حالات و واقعات اس سے زیادہ ہمت افزا ہیں۔ ۱ ۱؍ ستمبر کے واقعہ نے عالمی سطح پر مسلمانوں کے لئے پوری دنیا میں حیرت انگیز اور غیر معمولی دعوتی میدان فراہم کردیا ہے۔ کل آبادی میں ان کے چار فیصد تناسب اور پچاسی لاکھ کی مسلم آبادی میں بڑی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کے بعد صرف ایک امریکی شہر (اوکلاہاما) میں چار سو پچاس لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ ایک اور امریکی ملک سوری نام میں پہلے سے موجود ۲۵ فیصد مسلمان بڑی خاموشی سے دعوت کا کام کررہے ہیں، جس سے ان کے تناسب میں برابر اضافہ ہورہا ہے۔گیانا کے ۱۲ فیصد اور ٹرینی ڈاڈا ٹوباگو کے ۱۱فیصد امریکی مسلمانوں کا بھی کچھ یہی حال ہے۔ امریکہ میں مسلم تنظیمیں جن کی منصوبہ بند کوششوں سے ۱۹۹۰ء تک ملک کی مختلف جیلوں میں قید پچاس ہزار سے زائد لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوچکے ہیںاور حکومت کی طرف سے گذشتہ ایک سال سے مسلسل ہراسانی کے باوجودوہ اپنے دعوتی مشن میں پہلے سے زیادہ سرگرم عمل نظر آتی ہیں۔

امریکی خفیہ ایجنسی ایف بی آئی کے ایک جائزہ کے مطابق جو مسلمان ۱۱ستمبر کے واقعہ سے پہلے آوارگی اور تعیش کی زندگی گزار رہے تھے، ان میں غیر معمولی تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے، دین سے ان کی وابستگی اور رغبت میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہوگیا ہے، ایک ہزار سے زائد امریکی مسجدیں پنج وقتہ نمازیوں میں پہلے سے زیادہ بھری رہتی ہیں۔ ۱۱؍ستمبر۲۰۰۱ء سے ۱۲؍ستمبر۲۰۰۲ء تک ایک سال کے دوران جتنی اسلامی کتابیں بالخصوص قرآنِ مجید کے تراجم فروخت ہوئے ہیں، اتنے پچھلے۶،۷ سال کے دوران نہیں ہوئے۔ امریکی عوام میں اسلام کے متعلق صحیح معلومات حاصل کرنے کی دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔ انٹرنیٹ پر مختلف اسلامی سائٹس میں جانے والے غیر مسلموں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور وہ متعلقہ اداروں کو ای میل کے ذریعے اسلام کے متعلق اپنی معلومات میں اضافہ کے لئے مختلف سوالات بھیج کر جوابات طلب کررہے ہیں۔ خود امریکہ کو اس بات کا احساس ہے کہ اس کے اسلام کے متعلق غلط پروپیگنڈہ سے خود ان کی معیشت پر ناقابل یقین اثر پڑ رہا ہے، چنانچہ امریکی وزارتِ خارجہ کے تعاون و اشتراک سے کام کرنے والے شہری سفارت کاروں کے نوبل انعام یافتہ بین الاقوامی ادارہ نیشنل کونسل آف انٹرنیشنل وزیٹرس (NCIV) نے گذشتہ ماہ اس بات کا اعلان کیا ہے کہ عالمی سطح پر بالعموم اور امریکہ میں بالخصوص اسلام کے متعلق کئے جارہے غلط پروپیگنڈوں کی روک تھام کیلئے، وہ اپنے ادارہ کے ۸۰ ہزار رضا کاروں کو حرکت میں لارہے ہیں۔ اس کیلئے انہوں نے حضور ا کی تعلیمات کا انسانی زندگی پر اثر دکھانے کیلئے ایک دستاویزی فلم تیار کی ہے جو ۱۸؍ستمبر۲۰۰۲ء کو پبلک براڈ کاسٹنگ سسٹم پر ریلیز کی جا چکی ہے۔

یہ تو ۱۱؍ستمبر کے بعد مسلمانوں کو دعوتی نقطہ نظر سے حاصل ہونے والے مواقع تھے۔ دوسری طرف اس واقعہ کا خود حکومت امریکہ پر جو منفی اثر پڑا ہے، وہ بھی سننے سے تعلق رکھتا ہے۔ تجارتی مرکز پر حملہ نے عالمی سطح پر سیاسی و اقتصادی میدان میں امریکہ کے زوال کی گھنٹی بجا دی ہے۔ خود امریکہ میں اس بات کا چرچا ہے کہ ۱۱؍ ستمبر سے پہلے امریکہ کے زوال کے متعلق مسلمانوں میں جو خوش فہمی تھی، وہ اب حقیقت میں بدلتی نظر آرہی ہے۔ گذشتہ صرف ایک سال میں سینکڑوں تجارتی کمپنیاں اپنے دیوالیہ ہونے کا اعلان کرچکی ہیں۔ متعدد امریکی فضائی کمپنیوں نے اپنے ملازمین میں ۲۵ فیصد سے زائد تخفیف کردی ہے۔ انشورنس کمپنیاں اپنے خسارے سے تنگ آکر حکومت سے مدد کے لئے درخواست کر رہی ہیں۔ کویت پرعراق کے حملہ کے بعد امریکہ کو سعودیہ اور کویت نے جملہ ۵۶ ارب ڈالر کے اخراجات میں سے ۴۸ ارب ڈالر ادا کردیئے تھے، لیکن اب عراق پر خود امریکہ کی طرف سے کئے جانے والے حملوں کے بارے میں ماہرین اقتصادیات کا اندازہ ہے کہ کم از کم ۲۰۰ ارب ڈالر، یعنی تقریباً ایک سو کھرب روپے کا بوجھ خود امریکہ کو برداشت کرنا پڑے گا۔ اس جنگ کا نتیجہ ظاہر ہے کہ اگلے سال امریکہ کا سالانہ بجٹ خسارہ کا پیش ہونے والا ہے۔ ۱۱؍ستمبر کے بعد یوں بھی امریکہ سیاحت سے حاصل ہونے والی اپنی ایک تہائی آمدنی سے محروم ہوچکا ہے، اس نے مسلم ممالک سے آنے والوں کے لئے جو سخت سفری شرائط عائد کی ہیں، اس سے اس نے گویا خود اپنے پیر پر کلہاڑی مار دی ہے۔ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ میں ۲۰فیصد سے زائد تناسب مسلمانوں کا تھا، جس پر نہ صرف اس نے اب پابندی لگا دی ہے،بلکہ پہلے سے موجود مصر، یمن، اُردن، فلسطین، پاکستان اور سعودی عرب کے طلبہ کی ایک بڑی تعداد کومسلسل ہراساں کیا جانے لگا ہے، جس سے انہوں نے امریکہ کو خیرباد کہنے ہی میں عافیت سمجھی ہے۔ اسی طرح جب القاعدہ اور طالبان سے تعلقات کے شبہ میں بعض عرب سرمایہ کاروں اور مسلم تاجروں سے پوچھ گچھ کی جانے لگی اور ان میں سے متعدد لوگوں کے سرمائے امریکی بینکوں میںمنجمد کردیئے گئے تو اس خوف سے سینکڑوں مسلم تاجروں اور عرب حکومتوں کے شاہی افراد نے امریکہ سے پیشگی اپنے سرمایہ کو منتقل کرنے ہی میں عافیت سمجھی ہے، اس کا اثر ان کے بینکنگ نظام پر ایسا سخت پڑا ہے کہ ماضی میںاس کی مثال نہیں ملتی، خود امریکی حکومت بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکی ہے۔

اس کے علاوہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پرحملہ کے بعد عالم اسلام میں امریکی مصنوعات کے خلاف بائیکاٹ کی جو خاموش تحریک چلی ہے، اس نے بھی اپنا غیرمعمولی اثر دکھایا ہے، مشروبات میں کوکاکولا جیسی عالمی کمپنیوں نے اپنے اسٹاف میں کمی کردی ہے اور اس نے اچانک اپنے گاہکوں کے لئے مختلف انعامی اسکیموں کے اعلان کے ذریعے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ۱۱؍ ستمبر کے حملہ کے بعد ان کی تجارت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

ان سب کا مجموعی اثر امریکہ کی اقتصادی حالت پر جو پڑا ہے، اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے جملہ اخراجات کا ۲۵ فیصد حصہ خود امریکہ ادا کرتا آرہا ہے، لیکن گذشتہ سال اپنے واجب اخراجات کا یہ حصہ اس نے اب تک ادا نہیں کیا ہے اور UN میں اپنے مستقل نمائندوں کے ذریعے یہ آواز اٹھانی شروع کردی ہے کہ اس کے اسٹاف میں تخفیف کی جائے، دوسرے الفاظ میں آئندہ سے اس مالی بوجھ کو برداشت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

غرض یہ ہے کہ عالمی سطح پر مسلمانوں میں اسرائیل کے تئیں امریکہ کی ناز برداری کے تناظر میں اس کے خلاف عمومی رائے عامہ کو ہموار کرنے کی جو کوششیں مختلف تحریکوں اور تنظیموں کی طرف سے کی جارہی تھیں، اس نے دس سال میں وہ کام نہیں کیا اور اپنا اثر نہیں دکھایا جتنا ۱۱؍ستمبر کے واقعات کے بعد مسلمانوں کے ساتھ اس کے سلوک نے کیا ہے۔ اس طرح دعوتی نقطہ نظر سے اس ناگہانی حادثہ نے مسلمانانِ عالم کو مثبت دعوتی فائدہ ہی پہنچایا ہے، اب یہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ خدا کی طرف سے ان کے لئے فراہم کئے جانے والے اس دعوتی موقع سے فائدہ اٹھانے میں وہ کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں۔ ٭٭