ہمارے ادارہ کے فاضل رکن محترم ڈاکٹر صھیب حسن جو اسلامک شریعت کونسل، لندن کے سیکرٹری جنرل اور لندن میں قرآن سوسائٹی کے صدربھی ہیں، گذشتہ دنوں پاکستان تشریف لائے۔لاہور میں آپ نے خطبہ جمعہ میں 'سانحۂ سقوطِ بغداد' پر جن خیالات کا اظہار کیا، وقت کی تنگ دامنی کے باوجود اس میں اہم نکات آگئے ہیں۔ آپ کا یہ خطاب ہدیۂ قارئین ہے۔ (محدث )

حمد و ثنا کے بعد، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

﴿وَلا تَهِنوا وَلا تَحزَنوا وَأَنتُمُ الأَعلَونَ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ ١٣٩ إِن يَمسَسكُم قَر‌حٌ فَقَد مَسَّ القَومَ قَر‌حٌ مِثلُهُ ۚ وَتِلكَ الأَيّامُ نُداوِلُها بَينَ النّاسِ وَلِيَعلَمَ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا وَيَتَّخِذَ مِنكُم شُهَداءَ ۗ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ الظّـٰلِمينَ ١٤٠وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا وَيَمحَقَ الكـٰفِر‌ينَ ١٤١ أَم حَسِبتُم أَن تَدخُلُوا الجَنَّةَ وَلَمّا يَعلَمِ اللَّهُ الَّذينَ جـٰهَدوا مِنكُم وَيَعلَمَ الصّـٰبِر‌ينَ ١٤٢ وَلَقَد كُنتُم تَمَنَّونَ المَوتَ مِن قَبلِ أَن تَلقَوهُ فَقَد رَ‌أَيتُموهُ وَأَنتُم تَنظُر‌ونَ ١٤٣﴾... سورة آل عمران

''اور دیکھو! نہ تو ہمتہارو اور نہ غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مؤمن ہو۔ اگر تمہیں چرکا لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی ایسا ہی چرکا لگ چکا ہے اور یہ تو اتفاقاتِ زمانہ ہیں جو ہمارے حکم سے باری باری لوگوں کو پیش آتے رہے ہیں اور (علاوہ بریں تم پر یہ وقت اس لئے لایا گیا) تاکہ اللہ تعالیٰ سچے مؤمنوں کو جان لے اور تم میں سے بعض کو شہادت کا درجہ عطا فرمائے، ورنہ اللہ تعالیٰ تو (کسی طرح بھی) ظالموں کا روا دار نہیں۔

(نیز یہ مصلحت بھی تھی) کہ اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو (تمام کمزوریوں اور لغزشوں سے) پاک کردے اور کافروں کو نیست و نابود کردے۔ (مسلمانو!) کیا تم نے سمجھ رکھا ہے کہ (محض ایمان کا دعویٰ کرکے) جنت میں جا داخل ہوگے، حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے کون ہیںجو جہاد کرنے والے ہیں اورکون ہیں جو (مصیبت میں) صبر کرنے والے ہیں؟ اور تم تو موت کو سامنے آنے سے پہلے (راہِ حق میں) مرنے کی تمنا کررہے تھے ، سو (وہ اب تمہارے سامنے آگئی اور) تم نے اس کو کھلی آنکھوں دیکھ لیا۔''

سقوطِ بغداد کی شکل میں ایک عظیم سانحہ پیش آچکا ہے، ذہنوں میں کئی سوال کلبلا رہے ہیں جن میں دو سوال بار بار کئے جارہے ہیں۔ اوّل تو یہ کہ دنیا کے کروڑوں مسلمانوں نے ہاتھ پھیلا پھیلا کر، عاجزی اور انکساری کے ساتھ دورانِ جنگ دعائیں کی، نمازوں میں قنوتِ نازلہ کا اہتمام کیا لیکن یہ ساری دعائیں بے اثر رہیں؟ ...آخر ایسا کیوں ہوا؟

دوم، یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی نصرت کا وعدہ کیا ہے لیکن اس موقع پر نصرتِ الٰہی کیوں نہیں آئی؟

دعائیں کیوں بے اثر رہیں؟

شروع میں جو آیات تلاوت کی گئی ہیں، ان کا تعلق تو دوسرے موضوع سے ہے، لیکن پہلی بات کے ضمن میں عرض ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی قوم پرمصیبت مقدر کردی جائے تو کیا اسے ٹالا جاسکتا ہے؟ آنحضورﷺنے ارشاد فرمایا کہ'' دعا تقدیر کو ٹال دیتی ہے۔'' یعنی انسان کے مقدر میں کسی مصیبت کا واقع ہونا لکھا ہوتا ہے، انسان خلوصِ دل سے دعا کرتا ہے تو یہ بہ تقدیر ٹل جاتی ہے۔ دراصل اس مصیبت کا نازل ہونا مگر دعا کی وجہ سے ٹل جانا خود تقدیر ہی کا ایک حصہ تھا، جہاں مصیبت لکھی گئی تھی وہاں یہ بھی مقدر تھا کہ انسان دعاکرے گا اور وہ مصیبت ٹل جائے گی۔

لیکن کیا ہر دعا مصیبت کو ٹال سکتی ہے...؟ اس کا جواب بھی الصادق المصدوق ا نے دے دیا کہ آسمان سے مصیبت کا نزول ہوتا ہے اور زمین سے دعا اٹھتی ہے: الدعاء والبلاء يتعالجان٭''دعا اور مصیبت دونوں کا ٹکراؤ ہوتا ہے۔'' اب یہ دعا کی طاقت پر ہے کہ یا تو وہ اتنی طاقتور ہو کہ بلا کو پاش پاش کردے یا اس کی حدت میں کمی کروا دے اور یا پھر اتنی کمزور ہو کہ بلا کے سامنے کسی صورت ٹھہر نہ سکے۔

موجودہ صورتِ حال میں ہمیں نہیں معلوم کہ دعاؤں نے کہاں تک اثر کیا۔ ہوسکتا ہے کہ بلا میں تخفیف کی شکل رہی ہو۔ ۱۲۵۸ء میں جب تاتاریوں کے ہاتھوں سقوطِ بغداد ہوا تھا اور آخری عباسی خلیفہ المستعصم باﷲ کو قالین میں لپیٹ کر اوپر گھوڑے دوڑا دیے گئے تھے، بغداد میں ایسی تباہی آئی تھی کہ جس کا تصور بھی مشکل ہے۔ اس کثرت سے لوگ قتل کئے گئے کہ دریائے دجلہ کا پانی چالیس دن تک سرخ رہا۔ گلی کوچوں میں بے گوروکفن لاشیں پڑی تھیں اور ان کو کوئی دفنانے والا نہیں تھا، یہاں تک کہ ان کے تعفن سے وبا پھیل گئی جس کا اثر سرزمین شام تک پھیل گیا۔ مسلمانوں کا سارا علمی سرمایہ دریا برد کردیا گیا اور یہی وہ نقطہ آغاز تھا کہ مسلمانوں کی علمی ترقی رک گئی۔

دعا کو طاقتور بنانے میں اخلاصِ نیت کا، نیک اعمال کا اوررزقِ حلال کا بڑا دخل ہے۔ اگر ان تین پیمانوں سے بھی مسلمان اپنے آپ کو جانچیں تو اکثر کو خفت اور ندامت کا سامنا کرنا پڑے گااور پھر یہ بھی تو اللہ کے رسولﷺنے ہی بتایا ہے کہ دعا کے ساتھ تین طرح کا سلوک کیا جاتا ہے، یا تو وہ(فوراً یاکچھ تاخیر سے) قبول ہوجاتی ہے (یعنی انسان جو مانگتا ہے اسے پالیتا ہے) یا اللہ تعالیٰ اس کی مانگ کے عوض میں کوئی اور آنے والی مصیبت اس سے ٹال دیتے ہیں کہ( علم الٰہی میں وہی اس کے لئے بہتر تھا) یا اس دنیا میں تو اسے اپنا مطلوب نہیں ملتا لیکن یہ دعا اس کے لئے توشۂ آخرت بن جاتی ہے۔(مسند احمد:ج۳؍ص۱۸)

نصرتِ الٰہی کیوں نہ آئی؟

اب آئیے، دوسرے موضوع کی طرف کہ نصرتِ الٰہی کیوں نہ آئی؟

یاد رہے کہ اللہ کی نصرت حاصل کرنے کے لئے کچھ ایجابی عوامل ہیں جن کا حصول انتہائی ضروری ہے اور کچھ منفی عوامل ہیں جن سے پرہیز کیے بغیر چارہ نہیں...!

ایجابی عوامل میں سرفہرست یہ ہیں :

قوتِ ایمانیہ، قوتِ مرہبہ (ڈرانے والی طاقت) اور دورانِ قتال صبروثبات

جو آیت سب سے پہلے ذکر کی گئی ہے، اس میں سربلندی و سرفرازی کے لئے ایمان کو بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔﴿وَاعتَصِموا بِحَبلِ اللَّهِ جَميعًا﴾کہہ کر اس ایمان کی بنیاد فراہم کردی گئی ہے، اور یہ ایمان بھی ایسا ایمان جو سرد رات میں دہکتی ہوئی انگیٹھی کی طرح سارے ماحول کو گرما دینے والا ہو، ایسا ایمان جو اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لئے انسان کو جگائے رکھے :

﴿إِن تَنصُرُ‌وا اللَّهَ يَنصُر‌كُم وَيُثَبِّت أَقدامَكُم ٧﴾... سورة محمد

''اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا۔''

اللہ کی مدد؛ اس کے دین کو خود اپنی زندگی میں، اپنے خاندان میں، اپنے معاشرہ میں قائم کرنا ہے، اسے تقریر و تحریر سے، سلوک و عمل سے، مسلسل جدوجہد سے پھیلانا اور عام کرنا ہے۔ یہ شروط پوری ہوں گی تو وعدئہ نصرت بھی پورا ہوگا۔ دین کا سب سے بڑا ستون نماز ہے اور اس کا قرین زکوٰۃ ہے۔ خود ہی اندازہ لگالیں کہ ہمارے معاشرہ میں ان دونوں ستونوں کو قائم کرنے والوں کی نسبت کیا ہے۔

 ایمان کے سوتے حبل اللہ (قرآن) سے پھوٹتے ہیں، قرآن کا جزوِ اعظم توحید ِباری تعالیٰ کا اقرار اور تمام عبادات کو خالص اللہ کے لئے قرار دینا ہے :

﴿قُل إِنَّ صَلاتى وَنُسُكى وَمَحياىَ وَمَماتى لِلَّهِ رَ‌بِّ العـٰلَمينَ ١٦٢﴾... سورة الانعام

''کہہ دیجئے کہ میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت صرف اللہ ربّ العالمین کے لئے ہے۔''

قرآن میں کتنے انبیا کی دعاؤں کا ذکر آیا ہے۔ سب نے جب بھی مدد کے لئے پکارا ہے، اللہ کو پکارا ہے۔ خو داللہ کے رسولﷺغزوئہ بدر میں تین سو تیرہ جاں نثاروں کے ساتھ میدانِ بدر میں پہنچ جانے کے بعد اپنے خیمہ میں ساری رات دعاؤں میں گزار دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرکے طالب ِنصرت ہیں۔ زبان پر یہ الفاظ ہیں :

«اللهم إن تهلك هذه العصابة من أهل الإسلام لا تعبد في الأرض»

''اے اللہ! اگرمسلمانوں کی یہ چھوٹی سی جماعت ہلاک ہوگئی تو پھر اس زمین میں تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔'' (مسلم؛۱۷۶۳)

 اور پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی مدد بھی بھیجی اور آپ ؐ کی دعا کو ان قرآنی آیات میں لازوال بنا دیا :

﴿إِذ تَستَغيثونَ رَ‌بَّكُم فَاستَجابَ لَكُم أَنّى مُمِدُّكُم بِأَلفٍ مِنَ المَلـٰئِكَةِ مُر‌دِفينَ ٩﴾... سورة الانفال

''(یاد کرو) جب تم اپنے ربّ سے استغاثہ کررہے تھے تو اس نے تمہاری فریاد سن لی اور (کہا) کہ میں تمہاری ایک ہزار فرشتوں سے مدد کررہا ہوں جو یکے بعد دیگرے آئیں گے۔''

دیکھئے یہاں مدد طلب کرنے کے لئے 'استغاثہ' کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا مطلب ہے غوث سے ایسی مددطلب کرنا جو ماوراے اسباب ہو، جس تک ہماری پہنچ بھی نہ ہو۔ ایسی مدد صرف اللہ کی طرف سے آسکتی ہے۔ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد 'غوث' بلکہ 'غوثِ اعظم' نبی تو درکنار ایک امتی بزرگ کو سمجھتی ہے۔ امداد کن، امداد کن کی صدائیں 'غوثِ اعظم' کو دی جاتی ہیں۔ حالانکہ یہ بزرگ اپنی زندگی میں توحید کو قائم کرنے والے تھے، ان کی تالیف غنیۃ الطالبین کو پڑھ لیں وہ تو اللہ کو پکارنے کی دعوت دیں لیکن ان کے نام لیوا انہی کی مخالفت بھی کریں اور پھر توقع کریں کہ اللہ کی نصرت آئے گی!!

 اللہ کے رسولﷺاپنی تگ ودَو کی حد تک عسکری اسباب فراہم کرنے کے بعد میدانِ بدر میں پہنچتے ہیں۔ یہی وہ قوتِ مرہبہ(ڈرانے والی قوت) ہے جس کا ذکر سورئہ انفال میں ان الفاظ کے ساتھ ہوا :

﴿وَأَعِدّوا لَهُم مَا استَطَعتُم مِن قُوَّةٍ وَمِن رِ‌باطِ الخَيلِ تُر‌هِبونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُم وَءاخَر‌ينَ مِن دونِهِم لا تَعلَمونَهُمُ اللَّهُ يَعلَمُهُم...﴿٦٠﴾... سورة الانفال

''اور (اے مسلمانو) جہاں تک تم سے ہوسکے، قوت کی فراہمی کرو اور (کافروں) کے مقابلہ کے لئے گھوڑے تیار بندھے رکھو تاکہ اس طرح اللہ کے اور اپنے دشمنوں پر دھاک بٹھائے رکھو نیز ان کے سوا ان لوگوں پر بھی جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ انہیں خوب جانتا ہے۔''

یہ نہیں کہا گیا کہ دشمن کے برابر قوت فراہم کرو بلکہ کہا گیا 'جتنی تم سے ہوسکے۔'

پھر آپؐ نے یہ بھی ارشاد فرما دیا:ألا إن القوۃ الرمي(جان لو کہ' رمی' ہی قوت ہے) 'رمی' پھینکنے کو کہتے ہیں۔ اس زمانہ میں تیر پھینکے جاتے تھے، اب یہی لفظ گولوں، بموں اور میزائلوں پربھی صادق آتا ہے۔

جب مسلمانوں نے تمدن کی ترقی کے ساتھ جدید سہولیات اور آسائشوں کے لیے جدید اور ٹیکنالوجی کو اپنایا ہے تو اسی طرح آلاتِ حرب میں بھی جدید ترین ٹیکنالوجی کا حصول مسلمانوں پر لازم ہے، اُمت ِمسلمہ نے مجموعی طور پر اس امر میں کوتاہی کی ہے تو آج یہ روزِ بد دیکھنا پڑ رہا ہے۔

 اور پھر جب دشمن سے مقابلہ ہوجائے تو ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا جائے :

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا لَقيتُم فِئَةً فَاثبُتوا وَاذكُرُ‌وا اللَّهَ كَثيرً‌ا لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ٤٥﴾... سورة الانفال

''اے ایمان والو! جب تم کسی گروہ کے مقابل آؤ تو ثابت قدم رہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرو تاکہ تم فلاح پاسکو۔''

 قرآن میں جابجا صبر اور مصابرت کا ذکر ہے جس میںمصائب پر صبر کے ساتھ ساتھ دشمن کے مقابلہ میں جمے رہنے کا مفہوم داخل ہے۔

 اب آئیے ان منفی عواملکی طرف جن سے بچنا لازم ہے :

 اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینے کے بعد تذکرہ فرمایا: ﴿وَلاَ تَفَرَّقُوْا﴾ اور ''تفرقہ پیدانہ کرو۔'' ایسی جماعتیں جو متحد ہوکر مشترک مقاصد کے لئے کام کریں وہ تو عقاب کے ان پروں کی مانند ہیں جو اسے اونچا اُڑنے میں مدد دیتے ہیں لیکن وہ جماعتیں جو آپس ہی میں دست بگریبان ہوں، باہم برسرپیکار ہوں، ایک دوسرے کے پیچھے نماز تک پڑھنے کی روا دار نہ ہوں، وہ اُمت ِمسلمہ کو دیمک کی طرح چاٹ تو سکتی ہیں، اسے جلا نہیں دے سکتیں۔

باہمی نزاع کا بدانجام بھی ذکر فرمایا:

﴿وَأَطيعُوا اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ وَلا تَنـٰزَعوا فَتَفشَلوا وَتَذهَبَ ر‌يحُكُم ۖ وَاصبِر‌وا ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصّـٰبِر‌ينَ ٤٦﴾... سورة الانفال ''اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اورآ پس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ کم ہمت ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور (لڑائی کی تکلیفوں پر) صبر کرو، بلا شبہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔''

غور فرمائیے کہ جنگ ِاُحد میں خود اللہ کے رسولؐ میدان میں موجود ہیں، آغاز ہی میں مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوجاتا ہے، لیکن پھر ایسا وقت بھی آیا کہ فتح ہزیمت میں بدلتی نظر آنے لگی، بڑے بڑے جری میدان چھوڑ کر بھاگنے لگے اور آنحضورﷺصرف چند جاں نثاروں کے ساتھ تنہا رہ گئے۔ایسا کیوں ہوا؟ اس آیت میںاس کا جواب موجود ہے، اور وہ ہے آنحضورﷺکی حکم عدولی۔ یعنی عدمِ اطاعت ِرسول اور آپس میں اختلاف...!!

آنحضورﷺنے جبل اُحد کی ایک جانب واقع گھاٹی پر پچاس تیر انداز مقرر کئے تھے اور انہیں ہدایت کی تھی کہ وہ ہر صورت گھاٹی پر مورچہ قائم رکھیں، یہاں تک کہا کہ چاہے ہماری لاشیں چیل اور کوے اُچک کر لے جائیں تم اس گھاٹی کو نہ چھوڑنا۔ لیکن جونہی مسلمانوں کو فتح ہوئی، گھاٹی کے اکثر تیر اندازوں نے کہا کہ ہم جاکر کیوں نہ مالِ غنیمت میں حصہ لیں۔ جنگ تو جیت ہی چکے ہیں۔اب ایک طرف ان کے امیر آنحضورﷺکے حکم کی مخالفت بھی ہوئی اور جونہی یہ لوگ گھاٹی چھوڑ کر چلے گئے، خالد بن ولید نے جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، اسی گھاٹی کی طرف سے حملہ کردیا، یہاں چند تیر انداز رہ گئے تھے جو جم کر لڑے لیکن ایک کے بعد ایک گرتے گئے اور یوں مسلمانوں کو ایک غیر متوقع یلغار کا سامنا کرنا پڑا اور پھر وہ کیفیت پیدا ہوئی جس کا تذکرہ سورئہ آل عمران کی ان آیات میں آچکا ہے جو آغاز میں ذکر کی گئیں۔

 منفی عوامل میں باہمی امداد کرنے کا فقدان بھی ہے۔اللہ عزوجل ارشاد فرماتے ہیں:

﴿وَإِنِ استَنصَر‌وكُم فِى الدّينِ فَعَلَيكُمُ النَّصرُ‌ إِلّا عَلىٰ قَومٍ بَينَكُم وَبَينَهُم ميثـٰقٌ ۗ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ‌ ٧٢﴾... سورة الانفال''اور اگر دین کے بارے میں وہ (کمزور مسلمان) تم سے مدد طلب کریں تو ان کی مدد کرنا تم پر لازم ہے مگر اس قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا صلح کا معاہدہ ہو اور جو کچھ بھی تم کرتے ہو، اللہ اسے دیکھتا ہے۔' '

یہاں یہ حال ہے کہ ایک صلیبی حملہ آور کی پشت پر دو دو صلیبی بنفس نفیس موجود ہیں اور انہیں ایک دوسرے کی پشت پناہی سے انکار نہیں اور یہاں ملت ِمسلمہ ایک، دین ایک، رسول اور ربّ بھی ایک، لیکن زبانی کلامی تائید کے علاوہ کسی قسم کی مدد سے سروکار نہیں...!!

اللہ کی مدد آئے تو پھر کیسے آئے...؟

اگر امریکہ کی پچاس ریاستیں مل کر سپر پاور بن سکتی ہیں تو کیا ۵۷؍مسلم ممالک متحد ہوکر اس سے بڑی طاقت نہیں بن سکتے جبکہ نہ صرف عددی اعتبار سے بلکہ تیل، پٹرولیم، یورینیم اور ہر قسم کی معدنیات سے یہ مالا مال ہیں...؟

 منفی عوامل میں بدعملی، فسق و فجور، اللہ سے بغاوت اور ظلم و بربریت سب شامل ہیں۔ عراق کی حکمران پارٹی 'البعث' کے ملحدانہ اور کمیونسٹ عقائد کسی سے ڈھکے چھپے نہیںہیں۔ عراقی صدر، اس کے جرنیلوں اور بعث پارٹی کے ورکروں کے ہاتھوں پچھلے بائیس برس میں جتنا کچھ ظلم ڈھایا گیا ہے شاید اسے عراقی علم پر 'اللہ اکبر' کا اضافہ بھی نہیں دھو سکا۔ یہ منظر تو سب نے دیکھا کہ بغداد کے ایک چوک سے عراقی صدر کے مجسّمے کو گرایا گیا، مسلمان مجاہد بت شکن ہوتے ہیں نہ کہ بت ساز، عراقی صدر کا یہ روپ ان کی اسلامیت کے لبادہ کو مشکوک قرار دیتا ہے۔ انسانی مجسّمے بت پرستی کی طرف لے جاتے ہیں۔ غیراللہ کی عظمت ذہن نشین کرواتے ہیں۔ اسی لئے اسلام میں مجسمہ سازی کی اجازت نہیں بلکہ انہیں گرانے کا حکم دیا گیا ہے!!

خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ بے جوڑ ہونے کے باوجود عراقی فوج اور مجاہدین نے مقابلہ تو خوب کیا لیکن اس کینسر زدہ جسم کی طرح جس کا کینسر سارے جسم میں پھیل چکا ہو، دواؤں نے کوئی کام نہیںکر دکھایا۔ شہید ہونے والے اپنی نیت کے ساتھ اُٹھائے جائیں گے اور ظلم کرنے والے، کچھ تو اپنے انجام کو پہنچ گئے اور کچھ اپنی میعاد پوری کرکے اسی انجام کو پہنچیں گے جو ہر فرعونِ وقت کے لئے مقدر ہوچکا ہے۔ وآخر دعوانا أن الحمد لله ربّ العٰلمين ٭٭