چند روز قبل ایک جامع مسجدمیں قاری صاحب مغرب کے بعد درسِ حدیث دے رہے تھے کہ انہوں نے بلوغ المرام سے مندرجہ ذیل حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:

«عن أبي برزة الأسلمي... وکان يستحب أن يؤخر من العشاء، وکان يکره النوم قبلها والحديث بعدها» (متفق علیہ)

یعنی ''نبی اکرم ﷺ عشاء کی نماز کو تاخیر سے پڑھنا پسند کرتے تھے، (کبھی آدھی رات تک کبھی ایک تہائی رات تک اس کو مؤخر کرتے تھے) اور عشاء سے پہلے سونے اور بعد از عشاء (غیر ضروری) باتیں کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ ''

حاضرین میں سے ایک نمازی کے ذہن میں یہ بات آئی کہ ہم تو نماز سات بجے ادا کرتے ہیں جبکہ راتگیارہ بجے کے قریب سوتے ہیں اور پھر جاکر باتیں وغیرہ بھی کرتے رہتے ہیں۔ کیوں نہ ہم نماز تاخیر سے ادا کریں اور سیدھے جاکر سو جایا کریں۔ اس طرح بیک وقت دو سنتوں پر عمل ہوجائے گا۔

اس نمازی نے دوسرے سے بات کی، اس نے مسجد کے مہتمم سے بات کی۔ اُنہوں نے جواب دیا کہ فوری طور پر دو ڈھائی گھنٹے لیٹ کرنا مناسب نہیں۔ ہاں ہم چار پانچ دنوں کی تاخیر سے پندرہ پندرہ منٹ کا وقفہ کرتے ہوئے تقریباً ایک گھنٹہ کی تاخیر کرلیں گے۔ مگر یہ بالاقساط تاخیر شاید اس نمازی صاحب کو مناسب معلوم نہ ہوئی اور دوسرے دن چند نمازی اصل نماز باجماعت میں بالارادہ شامل نہ ہوئے اور رات ساڑھے نو بجے الگ نماز باجماعت ادا کی۔ اب اس فتنے پر کس طرح قابو پایا گیا، یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ نمازِ عشاء کامستحب و افضل وقت کون سا ہے یا کس وقت یہ نماز پڑھنا مناسب ہے؟

دین اسلام ہمیں اجتماعیت کا درس دیتا ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج سب ارکان اسلام مسلمانوں کو اتحاد، اتفاق اور اجتماعیت کی تعلیم دیتے ہیں۔ سب کا ایک ہی وقت مل کر نماز باجماعت پڑھنا، سب کا ایک ہی وقت روزہ رکھنا، حاجیوں کا ایک ہی وقت میں حج کے مناسک ادا کرنا اور ایک ہی جیسا لباس پہننا، حتیٰ کہ عید کے اجتماع میں ایسی عورتوں کو بھی آنے کی ترغیب دینا ، جنہیں اُن دنوں نماز معاف ہے کہ وہ عورتیں بھی آئیں اور مسلمانوں کے اجتماع میں شریک ہوں، دعا میں شامل ہوں، البتہ نماز سے الگ رہیں۔ یہ سب احکام اجتماعیت ہی کا تو درس دیتے ہیں۔ جبکہ مسجد محلے کی سطح پر ان مسلمانوں کے اجتماع کی جگہ ہے۔ ہر روز پانچ مرتبہ مسجد میں آئیں۔ نماز باجماعت اداکریں۔ آپس میں ایک دوسرے سے تعارف، ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت، دکھ سکھ میں شرکت وغیرہ مسجد کے بڑے بڑے فائدوں میںسے ایک فائدہ ہے۔جبرئیل علیہ السلام نے رسول اکرم ﷺ کواول وقت میں بھی پانچوں نمازیں پڑھائیں اور آخر وقت میں بھی اور ساتھ ہی یہ کہا۔ یہ وقت پہلے انبیاء علیہم السلام کی نماز کا ہے اور آپؐ کی نماز ان وقتوں کے درمیان ہے۔ اس حدیث کے مطابق عشاء کی نماز جبرئیل علیہ السلام نے اول وقت اس وقت پڑھائی جب آسمان سے سرخی ختم ہوگئی اور آخر وقت تہائی رات گزرنے پر پڑھائی اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ عشا ء کی نماز کے بارے میں کون سی احادیث وارد ہوئی ہیں۔

اوقاتِ نماز اور صلوٰۃ عشاء

سب سے پہلی تو یہ بات ہے کہ نمازوں کے بارے میں نبی اکرمﷺ کواوّل وقت کی نماز ہی یقینا محبوب تھی۔ابوداؤد اور حاکم میں صحیح روایت ہے: حضرت اُمّ فروۃ رسول اکرمﷺسے روایت کرتی ہیں: «أفضل الأعمال الصلاة في أوّل وقتها»

''بہترین عمل نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کرنا ہے۔ ''

احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عشاء کی نماز کا معاملہ قدرے مختلف ہے۔ عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنا رسول اکرمﷺکو محبوب تھا۔جیساکہ درج ذیل احادیث سے پتہ چلتا ہے

1. «عن عائشة رضي الله عنها قالت: اعتم النبي ﷺ ذات ليلة حتیٰ ذهب عامّة الليل وحتی نام أهل المسجد ثم خرج فصلی وقال: إنه لوقتها، لولا أن أشق علی أمتي» (مسلم: کتاب المساجد، رقم ۲۱۹)

''حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک رات نبی اکرم ﷺنے عشاء کی نماز میں اتنی تاخیر کی کہ رات کا بیشتر حصہ گزر گیا اور مسجد میں موجود لوگ سونے لگے۔ پھر آپﷺنکلے نماز پڑھائی اور فرمایا اگر مجھے اُمت کی تکلیف کا احساس نہ ہوتا تو نمازِ عشاء کا یہی وقت مقرر کرتا''

2. صحیح بخاری میں ایک روایت حضرت عبداللہ بن عمر ؓسے ہے۔ فرماتے ہیں:

«إن رسول الله ﷺ شغل عنها ليلة فأخّرها حتی رقدنا في المسجد ثم استيقظنا ثم رقدنا ثم استيقظنا ثم خرج علينا النبيﷺ ثم قال ليس أحد من أهل الأرض ينتظر الصلوة غيرکم وکان ابن عمر لا يبالي أقدمها أو أخرها إذا کان لا يخشیٰ أن يغلبه النوم عن وقتها وقد کان يرقد قبلها»

''عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آنحضرتﷺ کو ایک رات کچھ مصروفیت تھی۔ آپؐ نے عشاء کی نماز میں تاخیر کی یہاں تک کہ ہم لوگ مسجد میں سوگئے۔ پھر آنکھ کھلی۔ پھر سوگئے، پھر جاگے۔ اس کے بعد نبی اکرمﷺحجرے سے برآمد ہوئے اور فرمایا: اس وقت تمہارے سوا دنیا میں کوئی نماز کا منتظر نہیں ہے۔

اور عبداللہ بن عمر (راویٔ حدیث) کچھ پرواہ نہیں کرتے تھے کہ عشاء کی نماز جلدی پڑھیں یا دیر سے۔ جب ان کو یہ ڈر نہ ہوتا کہ سوجانے سے وقت جاتا رہے گا اور کبھی وہ عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے بھی سوجاتے تھے۔''

3. حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ

''ان دنوں مدینہ کے سوا ساری دنیا میں اور کہیں نماز نہ ہوتی تھی۔ اور اگر انسان کو تھکاوٹ کا احساس ہورہا ہو تو عشاء کی نماز سے قبل سوجانے کی بھی رخصت ہے۔ بشرطیکہ نماز باجماعت فوت نہ ہوجائے۔'' (بخاری: رقم ۸۶۴)

ان احادیث سے تو یہی معلوم ہو رہا ہے کہ نبی اکرمﷺعشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنا مستحب و افضل قرار دے رہے ہیں۔

اوّل وقت پر نمازِ عشاء

مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ملحوظ رکھا جائے کہ یہ انتہائی دیر سے پڑھنا صرف ایک دفعہ کا واقعہ ہے۔ یہ آپؐ کا معمول نہیں تھا اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین تو نبی اکرمﷺکے اشارہ و حکم کے منتظر رہتے تھے اور اپنے آرام یا مرضی کا کوئی خیال نہیں رکھتے تھے، البتہ نبی اکرم ﷺنے ان کی آسانی اور آرام کو ضرور ملحوظ رکھا۔ جب دوسری احادیث کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ عشاء کی نماز لو گوں کو ان کے سہولت کے وقت پڑھاتے۔ جب بھی ان کا اکٹھا ہوجانا ممکن تھا۔ عشاء کی نماز میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ اس میں لوگوں کی سہولت کا لحاظ رکھتے ہوئے وقت کا تعین کیا جائے۔ درج ذیل احادیث اس بات کا واضح ثبوت ہیں...

2. حضرت جابر راوی ہیں:

«والعشاء أحيانا يقدمها وأحيانا يؤخرها إذا راٰهم اجتمعوا عجل وإذا راٖهم أبطؤوا أخّر» (مسلم :کتاب المساجد، رقم ۲۳۳)

''نبی اکرمﷺعشاء کی نماز کو کبھی جلدی پڑھ لیتے اور کبھی تاخیر سے ادا فرماتے۔ جب دیکھتے کہ لوگ جمع ہوگئے ہیں، تو جلدی پڑھ لیتے اور جب دیکھتے کہ لوگوں نے دیر کردی ہے تو تاخیر سے ادا فرماتے۔''

3. ایک متفق علیہ حدیث میں ہے کہ «عن عائشة قالت: کانوا يصلون العتمة فيما بين أن يغيب الشفق إلیٰ ثلث الليل الأول»(بخاری: رقم ۵۶۹) ''حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ عشاء کی نماز سرخی غائب ہونے سے لے کر پہلی رات کی تہائی کے درمیان تک پڑھا کرتے تھے۔''

اس حدیث میں عشاء کی نماز کا اوّل وقت اور آخری وقت بتا دیا گیا۔ جبکہ دوسری احادیث میں آدھی رات تک کی بھی روایات ملتی ہیں۔ مگر آپؐ کی سنت اور معمول یہی تھا کہ آپؐ لوگوں کی سہولت کے تحت اس کو مقدم و مؤخر کرتے تھے۔

4. ابوداود، دارمی، ترمذی اور نسائی میں مروی ایک حدیث میں ہے کہ

«عن النعمان بن بشير قال أنا أعلم بوقت هذه الصلاة، صلاة العشاء الاٰخرة کان رسول اللهﷺيصليها لسقوط القمر الثالثة»

''نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ میں نمازِ عشاء کا وقت تم سب سے بہتر جانتا ہوں۔ نبی اکرمﷺچاند کی تیسری رات کو غروبِ قمر والے وقت پڑھا کرتے تھے۔''

اور یہ سب کو معلوم ہے کہ تیسری رات کا چاند سورج غروب ہونے کے دو گھنٹے بعد عام طور پر غروب ہوتا ہے، یہی آنحضرتﷺکا معمول تھا۔ کبھی اس میں تاخیر ہوجاتی اور کبھی اس سے پہلے بھی ادا فرمالیتے تھے۔

خلاصۂ بحث: آج کل تمام مساجد میں بھی یہی وقت معروف ہے کہ غروبِ آفتاب کے تقریباً دو گھنٹے بعد یہ نماز ادا کی جاتی ہے۔ ہاں اگر کسی ادارے یا مدرسے کی خصوصی مسجد ہے جس میں باہر سے نمازی نہیں آتے تو وہ اپنی سہولت کے مطابق جب ملازمین کو چھٹی ہو یا طالب علم اپنے سبق سے فارغ ہوں، دس گیارہ بجے بھی نماز کا وقت مقرر کرسکتے ہیں۔ اگر عام جامع مسجد میں رات دس گیارہ بجے کا وقت مقرر کردیا جائے تو اکثر لوگ نماز کے انتظار میں ہی سوجائیں، کئی لوگ اپنی الگ نماز پڑھ کر سوجائیں گے اور جنہیں نماز باجماعت کا خاص خیال ہو، وہ دور کی مسجد میں جاکر نماز ادا کریں گے جس میں انہیں خاصی مشکل کاسامنا کرنا پڑے گا۔ جبکہ معروف وقت سے ہٹ کر افضل وقت کو حاصل کرنے کی کوشش میں مسجد میں نمازیوں کی تعداد آدھی بھی نہ رہ جائے گی جو کہ تاخیر سے ادا کرنے کا سب سے بڑا نقصان ہوگا۔ ہاں اگر کسی کی نماز کسی مجبوری یا غفلت کی و جہ سے رہ جائے تو وہ اس کو آدھی رات تک مؤخر کرکے پڑھ لے تو یہ اس کیلئے زیادہ بہتر ہے۔

اس کی مثال تو ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے سفر میں نمازقصر کرنے کی اجازت دی ہے۔ اب جو لوگ نماز قصر نہیں کرتے۔ یقینا وہ اللہ تعالیٰ کی اس مہربانی اور فضل و کرم کو ٹھکراتے ہیں جو کہ کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔ اسی طرح نبی اکرمﷺنے ایک دفعہ رات گئے یہ نماز پڑھائی اور ساتھ ہی فرمایا کہ« لولا أن أشق علی أمتي» یعنی اگر مجھے اُمت کی مشقت کا خیال نہ ہوتا تو یہ ہی اس کا مناسب وقت ہے۔ اس وقت پر نماز عشاء پڑھنا آپؐ کا معمول نہیں تھا۔ معمول وہی تھا یعنی تیسری رات کے چاند کے غروب ہونے کے وقت۔ نبی اکرمﷺتو ہماری مشقت کا خیال رکھتے ہوئے اس وقت کو ہم سے ٹال رہے ہیں۔ اور ہم کہیں کہ ہم اسی وقت ادا کریں گے، چاہے ہم سب مصیبت میں ہی پڑے رہیں؛ یہ بات نبی اکرمﷺکے فضل و کرم اور مہربانی کو ٹھکرانے اور احسان ناشناسی کے مترادف ہے!!

اللہ تعالیٰ ہمیں منکرات سے منع فرماتے ہیں اور معروف کا حکم دیتے ہیں اور غروبِ آفتاب کے دو گھنٹے بعد عشاء کی نماز ادا کرنا ہمارے ہاں معروف ہے۔ اگر اس معروف طریقہ میں کوئی مخصوص مسجد والے تبدیلی کرنا چاہیں تو عام حالات میں مسجد کی اجتماعیت کو نقصان پہنچنا لازمی امرہے۔ جبکہ نئے نئے فرقے بھی اسی طرح معرضِ وجود میں آتے ہیں۔ البتہ اگر کسی خاص مسجد ومدرسہ میں تاخیر سے نماز ادا کرنے میں کوئی امرمانع نہ ہویا بستیوں میں موجود مساجد میں نماز پڑھنے والے عوام اور نماز پڑھانے والے علماے کرام اس کو تاخیر سے ادا کرنے پر اتفاق کرلیں تو پھر اس میں ہر طرح کی خیروبرکت شامل حال ہوگی۔ بہرحال مسلمانوں کے کاموں میں اجتماعیت کا رنگ غالب رہنا چاہئے بالخصوص ایسی صورت میں جہاں سنت ِنبوی میں اسکی رعایت پائی جاتی ہو اور موجودہ فرقہ وارانہ رجحانات کے پس منظر میں ہمیں اتفاق کے مظاہر کو ہی نمایاں کرنا چاہئے۔