قطف الثمر فی بیان عقیدة اہل الاثر: (مطبع کانپور 30 صفحات)
یہ رسالہ عقائد کےموضوع پر ہے۔ اس میں توحید باری تعالیٰ ، صفات الٰہی ، محبت اہل بیت ، ازواج النبیؐ از روئے نص قرآنی، امہات المؤمنین ہیں۔ حوض کوثر، حشر و نشراو راسی طرح کے کئی او رمباحث ہیں جن کا تعلق عقائد سے ہے، رسالے کے آخر میں ایک فصل کتابت و سنت پرقائم رہنے کے بارے میں ہے۔

الدین الخالص : (2 جلد، مطبع انصاری دہلی)
اس کتاب کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ بڑی تختی کے 480 صفحات پر مشتمل ہے اور دوسرا حصہ 726 صفحات پر۔

اس کتاب کا موضوع عقائد ہیں۔ پہلے حصے میں شرک اور اس کی اقسام سے بحث ہے۔ مختلف ابواب کے تحت کئی کئی فصول ہیں جن میں شرک کی مختلف صورتوں او راعمال پر روشنی ڈالی گئی ہے، مثلاً شرک فی الذات ، شرک فی العلم، شرک فی التصرف اور شرک فی العبادات۔

بلاؤں او رمصیبتوں کو رفع کرنے کے لیے دھاگے، منکے اور تعویذات باندھنا، درختوں اور پتھروں کو متبرک سمجھنا، غیر اللہ سے استغاثہ و استعانت، جادو، کہانت، جنتر منتر، تصویر کشی، اصنام پرستی، ملائکہ پرستی، نور و ظلمت کی ثنویت، دہریہ اور فلاسفہ کی بے راہروی ، یہود کا مغضوب علیہم ٹھہرنا وغیرہ!

کتاب کے حصہ دوم کے ابتداء میں اتباع کتاب وسنت کی تلقین اور بدعات سے اجتناب پر زور دیا گیاہے۔ علاوہ ازیں دوسرے عنوانات یہ ہیں:
ایمان کی حقیقت، تقدیر، علم او راس کی اقسام و انواع، اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا واجب ہونا، صحابہؓ او راہل بیتؓ کا ذکر خیر، خلفاء اربعہؓ ، عشرہ مبشرہ بالجنة کے فضائل و مناقب، انصار او راہل بدر کی تفصیل ، ان کی اسلامی خدمات، حسن ؓ و حسین ؓ سے آنحضرت ﷺ کی محبت و الفت، آپؐ کے محبوب غلاموں زید بن حارثہؓ او ران کے بیٹے اسامہؓ کے احوال ، اہل حدیث اور فقہائے کرام کی مدح و توصیف۔

توسل بالاموات، ردّ بدعات و رسوم اور ردّ تقلید پر مفصل بحث ہے۔ یہ حصہ کتاب بھی انتہائی دلچسپ ہے۔

الادراک لتخریج احادیث ردّ الاشراک: (مطبع نظامیہ کانپور 1290ھ)
حضرت شاہ اسماعیل شہید (سالار اعلیٰ تحریک جہاد) نے شرک کے ردّ میں ایک کتاب ''رد الاشراک'' لکھی تھی جس کا بعد میں نام ''تقویة الإیمان'' رکھا گیا۔ اس کتاب میں صحاح ستہ اور دوسری کتب سنن سے جو احادیث نقل کی گئی تھیں، ان میں متعلقہ کتابوں کا حوالہ نہ تھا۔ حضرت نواب صاحب  نے تمام کتب حوالہ کو تلاش کیا او رہر حدیث و قول کے آخر میں کتاب او رمصنف کا ذکر کیا۔ نیز حدیث کی صحت و عدم صحت پر بحث کی۔ اس طرح سے کتاب کی افادیت میں اضافہ ہوا۔ یہ بڑی تختی کے 65 صفحات کا رسالہ ہے۔

الانتقاد الرجیح فی شرح الاعتقاد الصحیح:
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا ایک رسالة ''الاعتقاد الصحیح'' کے نام سے تھا۔ نواب صاحب  کو یہ رسالہ بہت پسند آیا ، آپ نے اس کی شرح ''الانتقاد الرجیح'' کے نام سے لکھا، یہ رسالہ مطبع علوی کا طبع شدہ ہے جو 76 صفحات پر مشتمل ہے۔

العبرة مما جاء فی الغزو والشہادة والہجرة : (طبع شاہجہانی 1394ھ)
اس کتاب کی تصنیف کا باعث سلطنت عثمانی میں اندرونی خلفشار او ربدنظمی تھا۔ حکومت وقت (سلطان عبدالعزیز خان) کے خلاف ملک میں باغی عناصر مصروف فساد تھے۔ ان کی وفات کےبعد سلطان عبدالحمید کے دور میں بھی باغیوں نے تباہی اور بربادی کا یہ طرز عمل قائم رکھا، مگر عثمانی حکومت نے ان پر غلبہ پالیا۔علاوہ ازیں رومیوں کی یلغار بھی سلطنت کے لیے خطرہ بن گئی۔ حضرت نواب صاحب کو ترکان عثمانی سے بے پناہ محبت تھی۔ وہ اپنے اسلامی رشتے کو کس طرح فراموش کرسکتے تھے؟ انہوں نے خلافت عثمانیہ کی تائید میں یہ کتاب لکھی او راس میں جہاد کے فضائل، شہادت فی سبیل اللہ کا اجروثواب او راحکام ہجرت پر سیر حاصل مباحث کتاب و سنت کی روشنی میں سپرد قلم کیے۔ 160 صفحات کی یہ کتاب اسلامیاب عالم کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔ حضرت نواب صاحب کے محب صادق حضرت مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی نے پوری کتاب کو فوٹو سٹیٹ کراکر محفوظ کردیا ہے۔

الحطّة فی ذکر الصّحاح الستّة : (مطبع کانپور 1283ھ صفحات 146)
یہ کتاب ایک مقدمہ او رچھ ابواب پر مشتمل ہے۔ مقدمہ کتاب میں علم او رعلماء کی فضیلت ، علم حدیث او رمحدثین کرام کے شرف و منزلت کا بیان ہے۔ ابواب کتاب میں روایت و درایت او رجرح و تعدیل کے اصول و ضوابط سے بحث کی گئی ہے۔حدیث میں ناسخ و منسوخ کا معیار، روات حدیث کی صفات، طبقات کتب حدیث، سرزمین ہند میں علم حدیث کی قلت کا درد بھرا شکوہ، مصنفین صحاح ستہ کے سوانح حیات او ران کی کتابوں کی خصوصیات وغیرہ مضامین ہیں۔

آخر کتاب میں متقدمین کے طریق پر چلتے ہوئے حضرت نواب صاحب نے اپنی اسانید حدیث اور اساتذہ کا تذکرہ کیا ہے۔

رحلة الصدّیق الی البیت العتیق: (مطبع علوی صفحات65)
یہ کتاب بلد الحرام کی فضیلت او رمسائل حج و عمرہ پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کو مصنف علیہ الرحمة نے سفر حج سے واپسی پر تحریر کیا ہے۔ اس رسالے کے آخر میں اپنا سفر نامہ حج بھی لکھا ہے۔

حضرات التجلی من نفحات التحلی و التخلی: (مطبع بھوپال 1298ھ صفحات بڑی تختی 112)
اس کتاب کی فہرست تیار نہیں کی گئی ۔ کتاب کے عنوان سے مباحث کے متعلق کچھ پتہ نہیں چلتا۔ جب تک کہ کتاب کا مطالعہ نہ کیا جائے۔ میں نے کتاب کو اوّل سے آخر تک پڑھا ہے۔ تب مجھے ان مختلف مباحث و مسائل کا علم ہوا جن سے مصنف نے بحث کی ہے۔ جو درج ذیل ہیں:

معرفت الٰہ، حدوث عالم پراستدلال، اس کائنات کا خالق و مدبّر ایک الٰہ ہے جس کا کوئی شریک و شبیہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کا ذکر۔

یہ کتاب دراصل امام احمد بن حسین بیہقی کی کتاب ''الاعتقاد'' کا خلاصہ ہے۔ علاوہ ازیں حضرت نواب صاحب نے اس کتاب پر بہت سے اضافات و زیادات بھی کیے ہیں جس سےکتاب میں جامعیت کی شان پیدا ہوگئی ہے۔اس میں ان آیات و احادیث کا ذکر ہے جن میں اللہ کے لیے چہرے، ہاتھ، آنکھ وغیرہ کا بیان ہے۔ قیامت کے دن دیدار الٰہی، ایمان بالقدر، ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاتھ میں ہے، نابالغ اولاد کے باب میں فیصلہ، رزق و عمر کے متعلق تقدیر، کبائر کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے شفاعت، اہل ایمان جنہوں نےکبائر کا ارتکاب کیا ہے، کیا وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے یا کہ نہیں؟ ملائکہ، کتب سماویہ، رسالت، بعث بعد الموت، میزان، جنت و دوزخ، حوض کوثر، علامات قیامت اتباع سنت اور اجتناب بدعت، راعی اور رعیت کے تعلقات، معروف و منکر میں اطاعت و معصیت، کرامات اولیاء ، اصحاب رسولؐ اللہ، اہل بیتؓ، خلفائے راشدینؓ کا بیان خصوصاً خلافت ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ و علیؓ کا ذکر ہے۔

یہ وہ عنوانات ہیں جن پرنواب صاحب سیر حاصل تفصیل سپرد قلم کی ہے۔ اس کتاب کے آخر میں آپ نے اپنی عربی، فارسی اور اردو تصانیف کی ایک فہرست دی ہے اس فہرست کے صرف چار صفحات ہیں، حالانکہ یہ فہرست کئی صفحات پر مشتمل تھی۔ البتہ اس کتاب کے علاوہ مؤلف کی دوسری کتب سے مزیدمعلومات فراہم ہوئی ہیں۔ ان میں سے عربی مؤلفات کی فہرست مضمون کے آخر میں لکھوں گا۔

الموعظة الحسنة بما یخطب فی شہور السنة:
یہ اسلامی خطبات کا مجموعہ ہے۔ حضرت نواب صاحب نے حافظ ابن جوزی او رمحمد بن احمد اہذل کی ان کتابوں سے ان کا انتکاب کیاہے، جن میں بہت سے خطبات جمع ہیں۔ گو حافظ ابن حجر عسقلانی ، ابن نباتہ مصری، شیخ ملوانی اور جاد المولیٰ نے اس موضوع پر کتابیں لکھیں مگر حضرت نواب صاحب نے اوّل الذکر دو مصنّفین کے خطبوں کو زیادہ پسند کیا۔ اس کتاب کے حاشیہ پر آپ کے فرزند ارجمند سیّد نور الحسن کے بہت عمدہ حواشی ہیں یہ کتاب مطبع بولاق (مصر) میں 1300ھ میں طبع ہوئی۔

نشوة السکران من صهباء تذکار الغزلان: (مطبع شاہجہانی 1294ھ)
یہ کتاب واردات عشق و محبت کے موضوع پر ہے۔ حضرت نواب صاحب صرف خشک زاہد ہی نہ تھے بلکہ لطافت طبع کے باعث ہر صنف سخن سے مناسبت رکھتے تھے۔ یہ کتاب انتہائی دلچسپ ہے۔ نظم و نثر دونوں کا مجموعہ ہے۔ اسی طرز پر قبل ازیں امام ابن قیم نےایک کتاب''روضة المحبین'' لکھی تھی جسے لازوال شہرت حاصل ہوئی۔

الاذاعة لما کان و یکون بین یدی الساعة : ( طبع مدنی۔ قاہرہ مصر)
اس کتاب میں قیامت کے آثار و علامات سےبحث کی گئی ہے۔ ظہور مہدی، دجال، نزول مسیح، خروج یاجوج و ماجوج اور دابة الارض جیسی اہم علامات کا ذکر ہے۔ یہ کتاب 196 صفحات پر مشتمل ہے۔

نزل الابرار :
یہ کتاب دعاؤں اور اذکار ماثورہ کا مجموعہ ہے۔ بڑی تختی کے 404 صفحات پر مشتمل ہے۔ 1301ھ میں مطبعة الجوائب قسطنطنیہ سے شائع ہوئی۔

کلمة العنبریہ فی مدح خیر البریة:
یہ پانچ عربی قصائد کا مجموعہ ہے جن میں حضرت نواب صاحب نے پیغمبر ؐاسلام سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ یہ قصائد ایک کتاب ''نفخ الطیب من ذکر المنزل والحبیب'' کے آخر میں مرقوم ہیں۔ مطبع کا نام درج نہیں۔

یقظة اولی الاعتبار مماوردنی ذکر النار و اصحاب النار :
یہ کتاب جہنم اور اس کی ہولناکیوں، عذاب او راس کی اقسام کے بارے میں ہے۔ جسے پڑھ کر دل پر خوف طاری ہوجاتا ہے۔ یہ کتاب بڑی تختی کے 142 صفحات پر حاوی ہے۔

مثیر ساکن الغرام الیٰ روضات دارالسلام :(مطبع نظامی کانپور 1289ھ صفحات 86)
امام ابن قیم جوزی نے ایک کتاب (حادي الأرواح إلیٰ بلاد الأفراح) لکھی تھی، جو ستر ابواب پر مشتمل تھی۔ اس میں جنت کی نعمتوں او رلطف اندوزیوں کا حسین ذکر تھا۔ کتاب کے مطالعہ سے ہی جنت کا اشتیاق پیدا ہوجاتا ہے۔ لیکن اس کتاب میں اسانید اور روایات کا تکرار تھا۔ حضرت نواب صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے ''کشف الظنون'' میں پڑھا تھا کہ امام ابن قیم  کے کسی شاگرد نے ان تمام مکررات کو حذف کردیا تھا او راز سر نو اس کو تین ابواب میں مرتب کیا تھا، اس کا نام ''الداعي إلیٰ أشرف المساعي'' رکھا تھا۔ حضرت نواب صاحب نےاس تلخیص کی بہت تلاش کی مگر وہ نہ مل سکی او رنہ ہی مرتب کے نام کا علم ہوسکا۔ آپ نے بہت کتب خانے اور علمی ذخائر چھان مارے مگر کتاب حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ تب نواب صاحب نے اس کتاب کے مکررات کو حذف کرکے نئی تلخیص تیار کی جو ''مثیر ساکن الغرام إلیٰ روضات دارالسلام'' کے نام سے شائع کی۔ اس میں جنت کے حسین و جمیل مناظر اور اس کی لذّتوں کا جو نقشہ پیش کیا گیا ہے اس کے مطالعہ سے قاری میں حسن عمل کا زبردست داعیہ پیدا ہوتاہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ کتاب کو سلیس اُردو قالب میں ڈھال دیا جائے۔

الدرّ المنثور فی ژکر البعث والنشور: (مطبع صدیقی بھوپال 1298ھ)
یہ 119 ۔اشعار کا ایک طویل عربی قصیدہ ہے جس میں بعث و نشو رکاذکر ہے، جو نواب صاحب کی ایک کتاب ''موائد العوائد من عیون الأخبار والفوائد'' کے اختتامیہ پر چھپا ہے۔

البلغة فی اصول اللغة: (مطبع شاہجہانی 1294ھ صفحات 150)
مقدّمہ کتاب میں لغت کی تعریف او راس کے اصول و مبادی سے بحث کی گئی ہے۔ پھر ان تمام کتب کا ذکر کیا ہے جو عربی و فارسی میں لغت عرب پر لکھی گئی ہیں۔ او ران کے ذکر میں حروف تہجی کی ترتیب کو ملحوط خاکر رکھا گیا ہے۔