وطن عزیز میں شریعت کی عملداری میں جو رکاوٹیں آج درپیش ہیں، ان سے کچھ کا تعلق تو براہ راست حکومت سے ہے۔لیکن اصل رکاوٹ جو ایک بہت بڑے بند کی طرح اس کا راستہ روکے ہوئے ہے وہ مختلف مکاتب فکر کے درمیان پائے جانے والے متنوع فقہی اختلافات ہیں۔ جب کہ چند فرقوں کا اس ضمن میں روّیہ بھی متشددانہ ہے۔ حکومت یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ یہ وہ مسئلہ ہے جس کا حل علم دین کے دعویداروں اور رہنماؤں کے پاس ہے۔ لیکن علماء ہیں کہ ''کل حزب بما لدیہم فرحون'' کے مصداق اپنی ہی فقہ اور فرقہ پر مصر ہیں او راس سے اختلاف رائے کے بارے میں کوئی ایک لفظ بھی سننے کے روا دار نہیں۔ حالانکہ ان سب کا فرض یہ ہے کہ وہ بلا تمیز مسلک باہم مل بیٹھ کراپنے اختلافات کو، جو زیادہ تر فروعی نوعیت کے ہیں، کسی ضابطہ کے تحت لانے کی کوشش کریں اور اختلاف رائے برداشت کرنے کا اسلاف کا سا ظرف او رحوصلہ پیدا کریں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ علماء کرام کے یے ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ وہ اس مسئلہ کا کوئی فوری حل تجویز کریں ورنہ ملک میں شریعت کی عملداری کی راہیں اور زیادہ پُرخار اور دشوار ترین ہوتی چلی جائیں گی۔ لیکن افسوس کہ اسلام اور شریعت کو اپنا اوڑھنا بچھونا اور سب کچھ قرار دینے کے باوجود بھی یہ لوگ اس جانب یکسوئی اور خلوص کے ساتھ توجہ دینے کے لیے تیار نہیں۔ حالانکہ وہ سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ عالم اسلام او رپاکستان تاریخ کے اہم ترین دور سے گزر رہا ہے اور پوری دنیا پاکستان میں شریعت کی عملداری کے تجربہ میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہے۔ یہی وہ وقت ہے جس سے فائدہ اٹھا کر وہ یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ صرف انہی کے پاس وہ کامل نظامموجود ہے جو ساری دنیا کے دکھوں کا مداوا بن سکتا ہے۔ وہ اس حقیقت سے بھی واقف ہیں کہ اس ضمن میں ذرا سی کوتاہی بھی کامیابی او رکامرانی کی بسا الٹ سکتی ہے۔

فقہی اختلافات میں اس متشددانہ روّیہ سے بعض لوگوں میں یہ غلط فہمی پیدا ہوگئی ہے کہ ہمارے موجودہ اختلافات اور تعصبات شریعت کے پیدا کردہ ہیں۔ حالانکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ شریعت نےجہاں ان اختلافات اور تعصبّات سےبچنے کی تاکید کی ہے، وہاں اُن سے محفوظ رہنے کے لیے راستہ بھی متعین کردیا ہے جسے اپنا کر ہم اپنے اسلاف کی دیرینہ روایات کو زندہ و تابندن کر سکتے ہیں۔ دراصل ہمارے موجودہ اختلافات اور تعصبات شریعت کی راہ سے انحراف کرنے اور اختلافات سے بچنے کے واحد ذریعہ کتاب و سنت کی پابندی کی بجائے اپنے اپنے نقطہ نظر اور مسلک کو حرف آخر سمجھ لینے کا نتیجہ ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح طور پرارشاد فرمایا ہے:
﴿وَٱعْتَصِمُوابِحَبْلِ ٱللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّ‌قُوا ۚ...﴿١٠٣﴾...سورۃ آل عمران
یعنی ''اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور آپس میں پھوٹ مت ڈالو۔''

مذکورہ بالا آیت اپنے مطالب و معانی میں بالکل واضح اور کسی تشریح و توضیح کی محتاج نہیں ہے۔ اس میں واضح طور پر مسلمانوں کو اختلافات سے بچنے کی نہ صرف تاکید کی گئی ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کا حکم دے کر اس سلسلہ میں ایک راہ عمل بھی متعین فرما دی گئی ہے۔ یہاں اللہ کی رسی سے مراد وہ دستور حیات یعنی قرآن مجید ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسولؐ پر، ہمارے لیے آخری ہدایت بنا کرنازل فرمایا ہے او رہمیں یہ حکم دیا گیا کہ ہم اپنی انفرادی او راجتماعی زندگی میں جو ہدایات بھی حاصل کریں ، وہ اسی الہٰامی دستور سے حاصل کریں او راس کی موجودگی میں نہ تو کوئی دستور وضع کریں او رنہ ہی کسی دوسرے دستور کو اس سے اعلیٰ و ارفع قرار دیں۔ بلکہ زندگی میں ہمیں جو بھی الجھن اور مشکل پیش آئے، اسے اپنی دستور کی روشنی میں حل کریں۔ ہمارے حق کا معیار وہی ہو جواس دستور نے قرار دیا ہے اور ہم ہر اس چیز کوباطل سمجھیں جو اس دستور کی رُف سے باطل ہے۔

مندرجہ بالا آیت میں ''لا تفرقوا'' کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس دستور حیات یعنی قرآن مجید کو چھوڑ کر الگ الگ مسالک کی عصبیت میں مبتلا نہ ہوجائیں یعنی ایسا نہ ہو کہ جو مسلک کسی امام کی طرف منسوب کردیا جائے اس کو نہ تو قرآن کریم کی کسوٹی پر پرکھنے کی ضرورت محسوس کریں اور نہ ہی یہ تسلیم کریں کہ حق اس کے علاوہ بھی کوئی اور ہوسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اسی الہٰامی دستور یعنی قرآن مجید میں یہود و نصاریٰ کی حالت کا جو نقشہ پیش کیا ہے، وہ ہمارے لیے سامان عبرت ہے ، کہ کس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رسی کو چھوڑ کر اپنے الگ الگ رہبان و احبار او رلیڈروں کی بے جا عصبیت میں گرفتار ہوتے ہوئے اختلافات اور تعصبات کی راہ کو اختیار کرلیا۔ بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر ہر گروہ نے اپنے اپنے علماء اور اماموں کو شریعت ساز سمجھ لیا اور اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ دستور سے انکار پر کمر بستہ ہوگئے۔

چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
﴿ٱتَّخَذُوٓاأَحْبَارَ‌هُمْ وَرُ‌هْبَـٰنَهُمْ أَرْ‌بَابًا مِّن دُونِ ٱللَّهِ...﴿٣١﴾...سورۃ التوبہ
کہ''انہوں نے اپنے اپنے عالموں اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا۔''

اللہ تعالیٰ نے جو روشنی او رہدایت ان کو عطا کی تھی، وہ اس سے منہ موڑ کر اس سے محروم ہوگئے اور وہ ہدایت ، جو کہ ان کےاختلافات کو مٹانے اور جھگڑوں کو چکانے والی تھی، اس سے ہمیشہ کے لیے کنارہ کش ہوگئے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اندر جو بھی اختلاف اور تعصب رونما ہوا، تاقیامت اس کے ختم ہونے کی کوئی صورت باقی نہ رہی اور یوں دنیا میں ذلت اور خواری ان کا مقدر بن کر رہ گئی۔

﴿وَضُرِ‌بَتْ عَلَيْهِمُ ٱلذِّلَّةُ وَٱلْمَسْكَنَةُ وَبَآءُو بِغَضَبٍ مِّنَ ٱللَّهِ...﴿٦١﴾...سورۃالبقرۃ
کہ ''ان پر ذلّت اور محتاجی جما دی گئی او روہ اللہ کے غضب کے مستحق ہوگئے۔''

آج ہم بھی ایسے ہی اختلافات اور تعصبات سے دوچار ہیں۔ حالانکہ ہمیں پورے اخلاص کے ساتھ یہ سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے اندر یہ اختلافات کیونکر پیدا ہوئے؟ کیا اس کی وجہ یہی تو نہیں کہ ہم نے شریعت کی اصل راہ کو چھوڑ کر اپنے لیے الگ الگ راہیں متعین کرلیں ہیں؟

اور پھر یہ کہ یہ اختلافات مبنی برحقیقت ہیں یا یہ محض عمل صالح سے انحراف کی بنا پر پیدا ہوئے ہیں؟ نیز یہ کہ ہمارے دین میں ان اختلافات کو قائم رکھنے کی گنجائش موجود بھی ہے یا نہیں؟ اور اختلافات کو باقی رکھنے میں کیا قباحتیں ہیں؟ جن کی بنا پر اسلام سے بغض رکھنے والوں کو یہ زہر اگلنے کا موقع ملا ہے کہ موجودہ فقہی اختلافات کی موجودگی میں کسی مشترک لائحہ عمل کا اپنانا اسلام کے نام لیواؤں کے لیے سرے سے ممکن ہی نہیں ہے۔ حتیٰ کہ حکومتی سطح پر بعض شرعی قوانین کے نفاذ کے بعد جو حوصلہ افزاء نتائج برآمد نہیں ہوئے، اس کی وجہ بھی انہی اختلافات کو قرار دیا جارہا ہے۔چنانچہ حال ہی میں مرکزی مجلس شوریٰ کے چیئرمین نے بھی اسلامی قوانین کے بارے میں اسی قسم کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

لیکن یہ بات بطور دعویٰ کہی جاسکتی ہے کہ شریعت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰة والسلام) میں پانے جانے والی فقہی اختلافات کی نوعیت اس درجہ ہرگز پیچیدہ نہیں ہے کہ انہیں دور کرکے کوئی لائحہ عمل اختیار نہ کیا جاسکے۔ ان اختلافات کو شریعت کی عملداری کے خلاف دلیل بنانا فقہی برحقیقت نہ ہے۔ بلکہ یہ ایک لحاظ سے اسلامی اصولوں کی وسعت کی دلیل بن سکتے ہیں۔بشرطیکہ ہر مکتب فکر وسعت قلبی اور وسعت نطر سے کام لے اور ساتھ ہی حکومت بھی ان اختلافات کو ان کی جائز حدود کے اندر رکھنے کا انتظام کرکے ان کو مزید بڑھنے کا موقع نہ دے۔ جس کا واحد طریق کار یہ ہے کہ ملک میں صحیح اسلامی حکومت جلد قائم ہو۔

فقہی اختلافات کے اس اجمالی تذکرہ کے بعد ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ امت مسلمہ، خصوصاً پاکستان کے اصحاب فکر و نظر کے ہاں اس سلسلہ کے کتنے نقطہ ہائے نظر مروّج ہیں تاکہ اپنے علم و تحقیق کی حد تک کسی ایسے نتیجہ پر پہنچ سکیں جو ہمیں کسی مشترک لائحہ عمل تک پہنچا سکے۔

پاکستان میں پائے جاے والے فرقوں اور فقہوں کی روشنی میں ہمیں کم از کم سات مختلف نقطہ ہائے سے سابقہ پڑتا ہے۔ اس سلسلہ میں ہم سب سے پہلے علمائے جدید کے نقطہ نظر پر روشنی ڈالیں گے۔

1۔ پہلی نقطہ نظر یہ ہے کہ فقہی اختلافات کو باقی رکھتے ہوئے قانون سازی کی کوئی ایسی صورت نکالی جائے جس میں تمام فرقوں کی پوری رعایت اور ان کا احترام ملحوظ رکھا گیا ہو اس فکر کے حاملین کے نزدیک مسلمانوں کے باہمی اختلافات دراصل فکر و رائے کے اختلافات ہیں، جن کا تعلق فہم انسانی سے ہے اور چونکہ قدرت نے تمام انسانوں کوایک جیسے فہم او رعقل سے نہیں نوازا، اس لئے ہر انسان کا انداز فکر مختلف ہے جو کہ ایک فطری امر ہے۔ لہٰذا اسے مختلف رائے رکھنے کا پورا پورا حق حاصل ہے او رپھر یہی انداز فکر اور فہم کا یہ اختلاف شریعت میں فقہی اختلافات کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔چنانچہ اس نقطہ نظر کےمطابق اگر کوئی ان اختلاف کو ختم کرنا چاہے تو اس کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ تمام انسانوں کو عقل سے محروم کردیا جائے تاکہ ہر معاملہ میں غوروفکر کو چھوڑ کر ہاں میں ہاں ملانے والوں کی ایک بھیڑ اکٹھی کرلی جائے۔

اس نقطہ نظر کے حاملین کے نزدیک اسلامی قانون کی عملداری کی ایک ہی قابل عمل شکل ہے اور وہ یہ کہ اختلافات کو قانوناً تسلیم کرکے اس طرح قانون سازی کی جائے کہ اس میں تمام فرقوں، مسالک او رکتب ہائے فکر کے لیے مکمل رعایت موجود رہے او ریہ کام عملی لحاظ سے بھی کچھ مشکل نہیں، چنانچہ وہ اپنے اس موقف کی حمایت میں کراچی میں منعقد ہونے والے اکتیس علماء کے تاریخ ساز اجتماع کا حوالہ دیتے ہیں۔ جس میں شیعہ، سنی ، دیوبندی، بریلوی ، اہل حدیث، ہر مکتب فکر کے مستند علمائے دین شامل تھے او رانہوں نےمتفقہ دستوری سفارشات مرتب کرکے یہ ثابت کیا کہ ان سب فرقوں کے باہمی اختلافات صرف قانونی جزئیات سے متعلق ہیں۔

اس نقطہ نظر کے سب سے بڑے مؤید مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی مرحوم ہیں۔ ہم ان کی رائے اُن کے اپنے الفاظ میں پیش کرتے ہیں:
''جہاں تک پرسنل لاء کا تعلق ہے۔ ہر فرقے پر وہی احکام نافذ ہوں گے جو اس فرقے کے نزدیک مسلم ہیں اور جہاں تک ملکی قوانین کا تعلق ہے، وہ اکثریت کے مسلک کے مطابق ہوں گے۔'' 1

اس نقطہ نظر کی حمایت میں سپریم شرعی عدالت پاکستان کے جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کی رائے بھی قابل غور ہے:
''ملک کا عام قانون تو اس فرقے کے مسلک کے مطابق بنایا جائے، جس کے افراد یہاں زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں، او ردوسرے فرقوں کے لیے الگ شخصی قوانین بنائے جائیں جو ان کے لیے قابل عمل ہوں۔'' 2

آگے جاکر لکھتے ہیں:
''ملک میں عام قانون تو سُنی حنفی مسلک کے مطابق ہوگا، کیونکہ ملک میں اسی مسلک کی اکثریت ہے، دوسرے فرقوں میں جس فرقہ کے نظریات اس سے مختلف ہوں گے، اس کا شخصی قانون علیٰحدہ بنا دیا جائے۔''

اب جہاں تک اختلافات کے فطری او رانسانی ہونے کا تعلق ہے، اس میں تو کسی کو اختلاف نہیں ہے، لیکن فقہی اختلافات کے نقطہ نظر سے جس دلیل کے تحت ان اختلافات کو ضروری اور فطری قرار دیا جارہا ہے اور سب کو اس کا حق بخشا جارہا ہے، اکثریتی فقہ کو دوسرے فرقوں پربالادستی عطا کرکے، خود یہ دلیل اپنے خلاف استعمال کی جارہی ہے۔ گویا اکثریتی فرقہ کو تو فکرونظر کی مکمل آزادی ہے، لیکن اقلیتی فرقے ملک کے عام دستور و قانون میں کسی طرح سے دخیل ہونے کے مجاز نہیں ہیں اور اس طرح ملک میں سارے اقلیتی فقوں کو اختلاف رائے کے فطری حق سے خود ہی محروم بھی کردیا ہے۔

مزید برآں اکثریتی فرقہ کی فقہ ہمارے ملک میں فقہ حنفی پر مبنی جو دستور و قانون وضع کیا جائے گا وہ اس لیے مزید اختلافات کا باعث بنے گا کہ اس میں پہلے سےبیسیوں ایسے دھڑے موجود ہیں جو بہت سے امور پر ایک دوسرے سے اختلافات رکھتے ہیں۔

چونکہ تغیر احوال زمانہ سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور فطری اور انسانی عقل کے اختلافات بھی فروعی او راجتہادی مسائل میں اختلاف کا سبب بنتے ہیں۔اس لیے کسی بھی متفق علیہ دستور و قانون کی ضمانت نہیں دی جاسکتی او رپھر اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ دنیا بھر کے مختلف علاقوں میں مختلف فرقوں اور فقہوں کی اکثریت ہے۔ اس صورت میں اگر اکثریت کو ہی معیار حق مان لیا جائے تو عالم اسلام میں بیک وقت کئی دساتیر و قوانین کا منظرعام پرآجانا ایک بدیہی بات ہے۔ اندریں حالات مختلف ملکوں میں مختلف فقہوں پر مبنی دساتیر و قوانین کو کتاب و سنت کا بدل کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟ خصوصاً جبکہ اختلافات اصولوں کی حد تک بڑھ گئے ہوں او رہر ایک کا دعویٰ یہ ہو کہ وہی حق پر ہے۔

دراصل حق و صداقت تک پہنچنے کے لیے اکثریت کی رائے کو آخری قانون اور معیار قرار دینا ہمارے دین فطرت کی روح کے ہی خلاف ہے۔

2۔ دوسرے نقطہ نظر میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ملک کا عام قانون تو کتاب و سنت پر مبنی ہو اور اس میں کسی فقہ کی پابندی لازمی نہیں ہونی چاہیے۔ جب کہ شخصی قانون ہر ایک فرقہ کی فقہ پر مبنی ہونا چاہیے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق جہاں تک شخصی قانون اور اس قانون کی فقہی اصطلاحات (جن میں عبادات، مناکحات، طلاق، وراثت وغیرہ شامل ہیں) کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں چونکہ مذہبی ذہن بے حد حساس ہوتا ہے، اس لیے اس معاملہ میں سارے فرقوں کو آزاد چھوڑ دینا چاہیے۔

اس کے مقابلے میں ملک کے عام قانون کو ہر فرقہ اور فقہ سے بالاتر ہونا چاہیے اور وہ صرف کتاب و سنت پر مبنی ہو، او راس میں کسی بھی فقہ کی تخصیص نہ ہو۔ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب اس نقطہ نظر کو یوں بیان کرتے ہیں:

''کسی فقہ کا سرے سے کوئی تعین نہیں ہونا چاہیے۔ کتاب و سنت، یہ ہماری دو بنیادیں ہیں۔ ہمارے کلمہ کے اجزاء دو ہی ہیں۔''
''لا إلٰه إلا اللہ محمد رسول اللہ''
''ایک کا قائم مقام قرآن ہے اور دوسرے کا قائم مقام سنت ہے، جو زندہ و پائندہ ہے۔ ان دو پر ہمارا نظام چلے گا۔''3

اس ضمن میں ڈاکٹر صاحب خصوصی طور پر حضرت عمرؓ کے دور کی مثال پیش کرتے ہیں جب کہ کسی قانون کی بنیاد سوائے کتاب و سنت کے نہ تھی اور اگر اس دور میں کوئی دلیل تھی تو وہ کتاب و سنت ہی تھی جبکہ کوئی فقہ اس کی دلیل نہ تھی۔ بہرحال اس نقطہ نظر کے حاملین کو اصرار ہے کہ ہر فقہ و فرقہ سے بالاتر ہوکر قوانین اسلامیہ کی تشکیل جدید کی جائے، تاکہ ہر مکتب فکر کی تسلی و تشفی ہوسکے۔

یہ نقطہ نظر جن دو بنیادوں پر استوار ہے، وہ ساری امت مسلمہ میں متفقہ ہیں اور مسلمانوں کے تمام مکتب فکر کو ان پر مکمل اتفاق ہے۔ سوائے ان چند لوگون کے جو کہ اس وقت فتنہ انکار حدیث کھڑا کیے ہوئے ہیں۔ لیکن جہاں تک کتاب و سنت پر مبنی ایک متفقہ دستور کی تدوین کا تعلق ہے، اس میں ایک واضح اشکال یہ ہے کہ ہم جو بھی دستور و قانون تیار کریں گے اس کی اصطلاحی حیثیت ایک فقہ ہی کی ہوگی۔جو اگرچہ کتاب و سنت پر مبنی ہوگی (کیونکہ کتاب و سنت کے فہم کا نام ہی فقہ ہے)لہٰذا یہ پہلی فقہوں میں ایک او راضافہ ہوگا تو پھر اس میں فقہ سے بالاتر کیونکر رہا جاسکتا ہے؟

علاوہ ازیں دستور و قانون کی تدوین میں فہم کے اختلاف کا رونما ہونا ایک فطری امر ہے اور فہم کا اختلاف آج کا مسئلہ نہیں بلکہ صحابہ کرام ؓ او ربعد کے ادوار میں بھی اس سے سابقہ درپیش آتار ہا ہے۔ ایسے میں کسی متفقہ دستور کی تدوین کیونکر ممکن ہوگی؟ اس طرح تو زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ اسلاف کے فقہی سرمایہ کے ساتھ ساتھ فقہ جدید کے اختلافات کے اضافہ سے مزید انتشار پیدا ہوگا۔کتاب و سنت کو آخر کیوں دستور حیثیت نہیں دی جاسکتی، اسی طرح فہم کے اختلاف میں تعدّد بھی ایک لازمی امر ہے اور متعدد آراء کے ہونے سے نہ صرف دستوری انتشار پیدا ہوگا بلکہ یہ حقیقت ہے کہ جو دستور اختلاف و انتشار کا شکار ہو، وہ کسی طور بھی ایک پائیدار دستور ثابت نہیں ہوتا۔ مزیدبرآں جو لوگ اس دستور و قانون سے اختلاف کریں گے وہاس چیز کوبطور دلیل پیش کریں گے کہ اگر صحابہ کرام ؓ او رائمہ سلف کے درمیان فہم کے اختلاف کی گنائش ہوسکتی ہے، تو یہ دستور کوئی الٰہامی تو نہیں ہے کہ اس سے کسی قسم کے اختلاف کی گنجائش موجود ہی نہ ہو۔

اور جہاں تک ہر فرقہ کو شخصی قوانین میں آزادی دینے کا تعلق ہے، تو شخصی قوانین میں مکمل آزادی کا مطلب یہ ہوگا کہ فروعی اور فقہی اختلافات کی اجازت دے کر گویا دستوری سطح پر اسلام میں فرقہ بندی کے جواز پر مہر تصدیق ثبت کردی گئی ہے، حالانکہ کسی چیز کی موجودگی بالکل اور چیز ہے لیکن اسے دستوری اور قانونی جواز مہیا کرنا او ربات ! یہ تو کسی شے کے نفع و ضرر سے قطع نظر اُسے قانونی تحفظ مہیا کرنا ہے۔

مزید یہ کہ عبادات اسلام میں پوری زندگی کی بنیاد ہیں، جنہیں انفرادی معاملہ قرار دینا غلط ہے او رپھر عبادات میں انفرادیت کو اجتماعیت سے الگ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ جیسے نماز انفرادی عبادت کے علاوہ پوری معاشرتی زندگی کی بنیاد بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مردوں کی اکیلے نماز کوئی حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ نماز باجماعت ضروری ہے۔ اسی طرح زکوٰة معاشی زندگی کی بنیاد ہے، او راس کو اجتماعی سطح پر اکٹھا کرنا او رتقسیم کرنا مستحسن بھی ہے اور نظام کا تقاضا بھی! یہی حال دیگر عبادات کا ہے۔ گویا اسلام میں جو چیزیں بظاہر انفرادی نظر آتی ہیں، ان میں بھی انفرادیت کواجتماعیت سے علیٰحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ نیز عائلی زندگی معاشرہ کی پہلی وحدت ہے اور عائلی نظام کو انسان کا انفرادی معاملہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ گویا کہ اسلام نے زندگی کو ایک وحدت کی صورت میں لیا ہے اور کتاب و سنت کی صورت میں ایک مکمل نظام دیا ہے۔ لہٰذا زندگی کو مختلف نظاموں کی صورت میں تقسیم کرنا اسلامی تصورات کے منافی ہے۔

پس عام قانون اور شخصی قانون کی یہ تقسیم اس مغربی تصور کی حمایت ہوگی کہ اسلام میں مذہب و سیاست الگ الگ ہیں۔ حالانکہ : ع


جُدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی


3۔ تیسرا نقطہ نظر ملک کے ایک معروف عالم دین جناب امین احسن اصلاحی صاحب کا ہے۔ وہ اپنے نقطہ نظر کو اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کرتے ہیں:
''ایک صحیح اسلامی ریاست کسی متعین امام کی تقلید او رکسی متعین فقہ کی پیروی کے اصول پر قائم نہیں ہوسکتی، بلکہ لازم ہے کہ اس کی بنیاد براہ راست کتاب و سنت او راجتہاد و شوریٰ پر ہو۔ دوسرے الفاظ میں اس کے معنی یہ ہیں کہ پوری فقہ اسلامی بلا کسی استثناء و امتیاز کے اس کا سرمایہ ہے اور تمام اجتہادی امور میں کسی تخصیص و ترجیح کے بغیر مختلف ائمہ کے اجتہادات پرنگاہ ڈال کر اپنے قوانین کے لیے ان اقوال اور رایوں کا انتخاب کرے جو اس کی نظر میں کتاب و سنت اور روح اسلام سے قریب تر نظر آئیں......... عین ممکن ہے ، آج سابق ائمہ میں سےکسی کے کسی قول کو قانون کی حیثیت دے دی جائے ۔لیکن کل دلائل کی قوت واضح ہونے کے بعد اس کی جگہ کسی اور کے قول کو اختیار کرلیا جائے۔''4

تدوین قانون کے بارے میں اظہار خیال فرماتے ہوئے آپ لکھتے ہیں:
'' اجتہادی معاملات میں اسلام نے ہمیں امام ابوحنیفہ او رامام شافعی کی پیروی کی ہدایت نہیں کی ہے بلکہ اُس اجتہاد کی پیروی کی ہدایت کی ہے جو کتاب و سنت سے زیادہ موافقت رکھنے والا نظر آئے۔ اسی چیزکی تاکید ان بزرگ ائمہ نے فرمائی ہے۔ اگرہم تدوین قانون کے معاملہ میں یہ روش اختیار کریں گے تو اس کے کئی فائدے ہوں گے۔''5

کتاب و سنت او راجتہاد رائے کا باہمی تعلق بیان کرتے ہوئے مولانا رقم طراز ہیں:
''جس طرح سنت کتاب الٰہی سے کوئی الگ چیز نہیں اسی طرح اجتہاد رائے بھی کتاب الٰہی اور سنت سے کوئ علیٰحدہ شے نہیں ہے۔ اجتہاد رائے سے مراد یہ ہے کہ پیش آنے والے معاملات کے بارے میں قرآن یا سنت رسول اللہ ؐ کی رہنمائی میں غور کرکے یہ طے کرنا کہ ان میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ؐ سے لگتی ہوئی بات کیا ہوسکتی ہے۔''6

اس نقطہ نظر کے جائزہ سے پہلے ہم اس بنیادی بات کو واضح کردینا ضروری سمجھتے ہیں کہ کتاب و سنت کی عصمت کسی شک و شبہ اور تغیر و تبدل سے بالاتر ہے۔ جبکہ اجتہاد و رائے خود مولانا صاحب کے نزدیک بھی کسی لحاظ سے اٹل اوردائمی حیثیت نہیں رکھتے۔ خود ان کے اپنے الفاظ میں:
''پچھلے ائمہ کے جو اقوال انتخاب کیے جائیں گے، ان میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں بھی ہوسکیں گی۔ یہ عین ممکن ہے کہ سابق ائمہ میں سے کسی کے کسی قول کو آج قانون کی حیثیت دے دی جاوے۔ لیکن کل دلائل کی قوت واضح ہونے کے بعد اس کی جگہ کسی اور کے قول کو اختیار کرلیا جائے۔''

لہٰذا ان کا یہ قول محل نظر ہے کہ اجتہاد رائے بھی کتاب الٰہی اور سنت سے کوئی علیٰحدہ شے نہیں۔ حالانکہ ہر خاص و عام پر یہ بات واضح ہے کہ:
(الف) کتاب و سنت الہٰامی چیزیں ہیں جن کی حفاطت اور عصمت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے، ارشاد ربانی ہے:
﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ‌ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ ﴿٩...سورۃ الحجر
کہ ''بیشک ہم نے ذکر (کتاب و سنت)کو نازل کیا او رہم ہی اس کے محافظ ہیں۔''

لہٰذا شریعت (کتاب و سنت) غیر متبدل ہے، جبکہ اس کے برعکس کسی عالم دین کا اجتہاد اور شوریٰ کی رائے محض انسانی بصیرت پرمنحصر ہے، جواحوال و ظروف زمانہ کے تغیر و تبدل سےمحفوظ نہیں رہ سکتی۔

(ب) سنت کا اطلاق (Application)جس طرح پہلے زمانے کے لوگوں پر تھا اسی طرح موجودہ درآئندہ مسائل پر قطعی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کی حیثیت علی الاطلاق کی ہے اور علی العموم کی بھی۔ جبکہ اجتہاد میں اس طرح کی کسی قطعیت کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔
(ج) نبی معصوم ہوتا ہے او رسنت نبویؐ، معصوم کے عمل سے عبارت ہے، جبکہ اجتہاد ایک غیر معصوم امتی کی کاوش فکر کا نتیجہ ہوتا ہے جو غلط بھی ہوسکتا ہے، صحیح بھی ! دونوں میں بحیثیت کیفیت و کمیت زمین و آسمان کا فرق ہے، اس لیےد ونوں کو ایک دوسرے کا مترادف قرار دینا ایک بہت بڑا فقہی مغالطٰہ ہے۔
(د) اجتہاد کی اثر پذیری زمان و مکان او رافکار و اذھان کے تحت مختلف شکلیں اختیار کرتی رہتی ہے جبکہ سنت رسول اللہ ؐ اس طرح کے کسی تغیر و تبدل سے محفوظ ہے۔اس لیے سنت کی حیثیت تو دستوری ہے او راجتہاد کی حیثیت عبوری! سنت اٹل اور قطعی ہے۔ لیکن اجتہاد کا دائرہ صرف تشریح و تعاون کی حد تک ہے۔
(ہ) اس نقطہ نظر میں اصل مغالطٰہ یہ ہے کہ سنت اور اجتہاد میں وہی تعلق بتایا گیا ہے جو سنت رسول اللہ ؐ اور قرآن کریم میں ہے۔ حالانکہ سنت کی حیثیت قرآن کے بیان کی ہے۔ چونکہ قرآن محفوظ عن التغیر و التبدل ہے، اس لیے اس کا بیان بھی معصوم عن الخطاء نبیؐ سے منسوب ہے۔ گو نبیؐ بھی اجتہاد کرتا ہے لیکن اس کا اجتہاد وحی کے مترادف ہے، الاّ یہ کہ اس اجتہاد کی غلطی خود اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے واضح نہ کردیں۔ گویا نبیؐ کے ارشادات او راجتہادات ایک کامل، اکمل او رقطعی و داغمی شریعت قرار پاتے ہیں۔ جبکہ امت کے علماء حتیٰ کہ صحابہ کرام ؓ کا اجتہاد بھی، شریعت کی حیثیت نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ تکمیل شریعت کے بعد عالم کے فہم کی حیثیت ایسی نہیں کہ اس پرمبنی آراء کو دستور ی و قانونی حیثیت دے دی جائے۔

البتہ ایک اشکال پریشانی کا سبب بنتا ہے او روہ یہ کہ شریعت کی تعلیمات جملہ پیش آمدہ مسائل کا احاطہ نہیں کرتیں۔ اس لیے اجتہاد کی ضرورت ہر دور میں مسلمہ ہے، حالانکہ صحیح فکر یہ ہے کہ شریعت اپنے اندر تاقیامت پیش آنے والے جملہ مسائل کے سلسلے میں کم از کم اصولی حد تک مکمل تعلیمات رکھتی ہے۔7اور دستور کے لیے اس حد تک مکمل ہونا کافی ہے۔ لہٰذا اجتہاد کو دستوری حیثیت دینا ضروری نہ ہے۔ البتہ ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کچھ ایسے مسائل سے سابقہ ان پڑے کہ جن کا حکم بظاہر منصوص نہ لگتا ہو، لیکن غوروفکر سے ان کا تعلق کتاب و سنت کی کسی نہ کسی نص سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔

سنت رسول اللہ ؐ کا کام قرآن مجید کی تعلیمات کی عملی شکل پیش کرنا ہے، جو کہ اس معنی میں حجت ہیں۔جب کہ عالم دین کا کام کتاب و سنت کا سمجھنا او راس کا فہم حاصل کرنا ہے۔ ہم نے کتاب و سنت کا باہمی ربط اور اجتہاد کی ان سے نسبت کوجس طرح بیان کیا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب اس کا اعتراف کرتے ہوئے یوں لکھتے ہیں:
''اجتہاد خواہ کتنے ہی بڑے آدمی کا ہو، غلطی او رصحت دونوں ہی باتوں کا احتمال رکھتا ہے۔اس وجہ سے ایک مجتہد اگرچہ اپنی ذات کی حد تک اپنے اجتہاد کا پابند ہوتا ہے لیکن وہ دوسروں پر نہ تو اس کو واجب کرسکتا ہے او رنہ ہی دوسروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کے اجتہاد کو نصوص کا درجہ دے کر اس کی بناء پر دوسروں سے لڑنا جھگڑنا شروع کردیں۔''8

حرف مدعا یہ ہے کہ کتاب و سنت کی صورت میں شریعت کا نظریہ اور نظام اسلام مکمل طور پر پیش کردیا گیا ہے۔ اجتہاد کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس نظام کی اکملیت کا زیادہ سے زیادہ فہم حاصل کیا جائے اور مختلف حالات میں مختلف مسائل کے لیے کتاب و سنت کی تعلیم کو عملی جامہ پہنایا جائے۔

آخر میں ہم بجا طور پر یہ اعتراف ضرور کرتے ہیں کہ مولانا اصلاحی صاحب نے کتاب و سنت سے اجتہاد کی موافقت اور مطابقت پر جو زور دیا ہے ، وہ قابل صد تحسین ہے۔ ہمارا ان سے اصل اختلاف یہ ہے کہ ہم صرف اور صرف کتاب و سنت کو دستوری و قانونی حیثیت دیتے ہیں لیکن وہ اجتہاد رائے کو بھی اس کی اصل حیثیت سے بڑھا کر کتاب و سنت کا ہم پلہ قرار دیتے ہیں۔9 (جاری ہے)


حوالہ جات
1. تفہیمات حصہ سوم ص3
2. عصر حاضر میں اسلام کیسے نافذ ہو؟ صفحہ نمبر 86
3. رپورٹ تجاویز و تقاریر علماء کنونشن منعقدہ 1980ء صفحہ نمبر 62
4.  فقہی اختلافات کا حل صفحہ نمبر 98
5. اسلامی قانون کی تدوین صفحہ نمبر 81
6. فقہی اختلاف کا حل صفحہ 26
7. امام ابن تیمیہ کا اس موضوع پر مشہور رسالہ ''معارج الوصول إلیٰ معرفة أن أصول الدین و فروعه قد بینها الرسول'' ہے۔اس میں انہوں نے ثابت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دین کے جملہ اصول و فروعات واضح طور پر بیان کردیئے ہیں جو دراصل ترجمہ ہے اس حدیث کا کہ:
''ترکتکم علی الملة البیضاء لیلها کنھارھا'' یعنی ''میں نے تمہیں واضح اور سیدھے راستے پر چھوڑا ہے کہ جس کی رات بھی دن کی مانند ہے''
8. فقہی اختلافات کا حل صفحہ نمبر 93
9. ہم اس چیز کی مزید وضاحت آخر پر اپنے نقطہ نظر میں پیش کریں گے۔