حضرت نواب صاحب کا دور کتاب و سنت کے داعیوں سے یکسر خالی تھا۔بہت سے علمائے سنت اور مجتہدین امت ایسے موجود تھے جوسنت رسول اللہ ﷺ سے عشق کرتے تھے۔ان کی صبحیں اور شامیں توحید کی تبلیغ و اشاعت اور ردّ شرک او رتبلیغ میں گزرتیں۔ ان پاکان امت کے تذکروں سے تاریخ اسلام کے عنوانات بنے۔ سفر میں شرک کی سعادت تو بہت رہردوں کو حاصل ہوئی مگر منزل کا وصال اصحاب عزائم کا حصہ بنا۔ آپ کا زندہ جاوید کارنامہ یہ ہےکہ آپ نے خالص احکام قرآنی او رعلوم سنت کو نہایت سلیقے اور ترتیب سے (عبادات سے لے کر معاملات تک) تحریر کے سانچوں میں ڈھال کر ہمیشہ کے لیے انہیں محفوظ و مصئون کردیا اور طرہ یہ کہ آپ نے اپنی مؤلفات میں شریعت مطہرہ کو اقوال الناس و آراء الرجال کی ملاوٹ سےمنقٰی و مصفٰی کرکے پیش کیا ہے۔ آپ کی شہرہ آفاق عربی کتب کی تفصیل ذیل میں پیش کی جاتی ہے۔

1۔ فتح البیان فی مقاصد القرآن:
یہ کتاب دس ضخیم جلدوں میں قرآن حکیم کی تفسیر ہے جوبھوپال و مصر سے طبع ہوئی۔ اور تمام عالم اسلامی میں بڑی تیزی کے ساتھ اس کی اشاعت ہوئی۔ اب بیروت میں بھی اعلیٰ قسم کے کاغذ پر چھپ چکی ہے جو قاری اس تفسیر کا بنظر تعمق مطالعہ کرے گا اس کے سامنے اس کی یہ خوبیاں نمایاں ہوجائیں گی کہ یہ تفسیر روایت و درایت کی جملہ اعلیٰ صفات پر مشتمل ہے۔ اس میں صحیح روایات کا ذخیرہ بھی موجود ہے اور آیات قرآنی کے رموز و اسرار کو بڑے حکیمانہ آسان پیرایہ بیان میں پیش کیا گیا ہے۔نواب صاحب نے خود اس تفسیر کی خصوصیات ابتدائے کتاب میں درج کی ہیں:

''تفسیر میں جن امور کی ضرورت و حاجت ہوتی ہے۔ یہ کتاب ان تمام پر مشتمل ہے۔ یہ تفسیر دراصل کئی تفاسیر کا خلاصہ ہے۔ بایں معنیٰ کہ جوعلمی نکات و فوائد متعدد تفاسیر میں منتشر تھے۔ ان تمام کو اس کتاب میں یکجا کردیاگیا ہے، اس میں روایت کی صحت اوردرایت کی باریکیوں اور نزاکتوں کو مکمل طور پر پیش نظر رکھا گیا ہے۔اگر اس دعوے کی صداقت کا تجربہ کرنا ہے تو تمام کتب تفاسیر کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوگی کہ بعض مفسر صرف روایات کا سہارا لیتے ہیں اوربعض صرف درایت پر اعتماد و اکتفا کرتے ہیں۔ ان دونوں قسم کی تفاسیر کے تقابلی مطالعہ کے بعد میری اس تفسیر کا مطالعہ کیا جائے تو آنکھوں والے کے سامنے صبح صادق کی طرح یہ حقیقت ظاہر ہوجائے گی کہ یہ کتاب سب کا لب لباب ہے۔یہ طلبہ کے لیے ذخیرہ معلومات، عقلمندوں اور دانشوروں کے لیے سرمایہ تحقیق اور ماہرین کے لیے قابل تقلید ہے۔''1

اس تفسیر کا خوب صورت اعلیٰ کاغذ پر ایک نیا ایڈیشن 1965ء میں قاہرہ مصر سے دس جلدوں میں طبع ہوکر اصحاب علم کے ہاتھوں پہنچا۔ برصغیر میں تمام تفاسیر میں اس کو ایک امتیازی حیثیت حاصل ہے۔نواب صاحب نے ابتدائے کتاب میں فن تفسیر کے اصول و قواعد اور تاریخ تفسیر کے مختلف ادوار کے بارے میں مفید معلومات کا ذخیرہ ضبط تحریر کیا ہے۔ یہ انداز تفسیر دوسرے مفسرین کے ہاں نظر نہیں آتا۔ آپ اس فن تفسیر کی تعریف کرتے ہوئےرقم طراز ہیں:
''ھو علم باعث عن نظم نصوص القرآن و آیات سور الفرقان بحسب الطاقة البشریة و بوفق ما تقتضیه القواعد العربیة''
''یہ وہ علم ہے جس میں بقدر انسانی استعداد عربی قواعد و ضوابط کے موافق نصوص قرآن کا باہم ربط و تعلق اور آیات کی توضیح و تشریح کی جاتی ہے۔''2

نواب صاحب قرآن مجید کے بارے میں صوفیاء کے کلام کو تفسفیر کا درجہ نہیں دیتے۔ ممکن ہے کہ ان کے پیش نظر ہندی علماف کی لکھی ہوئی چند تفاسیر ہوں، ان کا کہنا ہے:
''وأما کلام الصوفیة في القرآن فلیس بتفسیر'' کہ '' قرآن میں صوفیاء کے کلام کو تفسیر کا مقام حاصل نہیں ہے۔''3

آپ نے قدیم تفاسیر سے زیادہ استفادہ کیا ہے۔ خصوصاً امام شوکانی کی تفسیر فتح القدیر سے۔ الفاظ قرآن کی لغوی تشریح، جملوں کی نحوی ترکیب او رکلام اللہ کے اعجاز اور فصاحت و بلاغت کے پہلو کو خوب نمایاں کرتے ہیں نیز اسمائے سور کی تشریح، وجوہ تسمیہ، اسباب نزول، مضامین اور فضائل سور کو پوری شرح و بسط سے تحریر فرماتے ہیں۔

جب یہ تفسیر علماء و فضلاء کے علم و مطالعہ میں آئی تو انہوں نے اس کو بنظر استحسان دیکھا اور اس کی خوب مدح کی۔ ان مادحین میں سے فن تفسیر کے عظیم امام مفتی حدیدہ شیخ یحییٰ بن محمد کے تاثرات بیان کردینا کافی ہوگا۔ ان سے نواب صاحب کی منزلت او راعلیٰ مقام کا پتہ چلتا ہے۔

''میں نے تفسیر کے ربع اوّل کو نہایت غوروخوض سے پڑھا ہے، میں نے اس کو اعلیٰ درجہ کی تفسیر پایاہے۔ ترکیب و ترتیب میں محکم، تمام مباحث علوم پر حاوی او رارباب نظر و بصیرت کے لیے سہل التاویل، مصنف نے اس میں عجیب او ربڑا معنی خیز انداز اختیار کیاہے۔ مقصد کو واضح اور آسان طریق سے پیش کیا گیا ہے۔قاری پہلی ہی نظر میں معنی و مراد تک پہنچ جاتا ہے او راسے زیادہ زحمت غوروفکر نہیں اٹھانا پڑتی جیسا کہ قدماء کی تفاسیر کا حال ہے۔ اس کے تمام مباحث آسان پیرایہ بیان میں پیش کیے گئے ہیں جن کے سمجھنے میں کوئی صعوبت اور دشواری پیش نہیں آتی۔ انہوں (نواب صاحب) نے اپنے حسن تحریر سے اللہ کی کتاب کے بھیدوں کو آشکارا کردیا او رسلک تحریر میں موتیوں کو پرو کر عجائبات قرآن کو ظاہر کردیا۔''4

میں اس تقریظ دلپذیر پر اکتفاء کرتا ہوں ورنہ کتنے ایسے اہل قلم ہیں جنہوں نے اس تفسیر کے محاسن و محامد بیان کیے ہیں۔

ابجد العلوم :
یہ نواب صاحب کی ایک مفید کتاب ہے جس کا نام ابجد العلوم ہے۔ میں نے اس کتاب کا مطالعہ دوران تحصیل علم دارالعلوم اوڈانوالہ میں بالاستیعاب کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی میں نے مقدمہ ابن خلدون کا مطالعہ بھی کیا۔ جس سے مجھ نامراد پر علم کی گئی راہیں کھلیں۔ ابجد العلوم بڑی تختی کے 982 صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کتاب کا سن تحریر 1873ء (1290ہجری) ہے۔ او رمطبع شاہجہانی میں 1878ء (1295ھ) کو ریاست بھوپال کی طرف سے پہلی بار طبع ہوئی۔ اس کتاب کے تین حصے ہیں۔ پہلے حصے کا نام ''احوال العلوم المسمیٰ بالوشی المرقوم'' ہے جس میں مختلف علوم کی تاریخ، تدوین او ران کے فضائل کا بیان ہے۔ دوسرے حصے کا نام ''السحاب المرکوم الممطر بانواع الفنون واصناف العلوم'' ہے۔ اس میں علوم کے نام، تاریخ او ران کے محاسن و فوائد اور قدرومنزلت کا بیان ہے اور تیسرے حصے کا نام ''الرحیق المختوم من تراجم ائمة العلوم'' ہے۔اس آخری حصے میں کئی اصحاب علم و فن اور ان کی خدمات کا تذکرہ ہے۔ اس حصے کے اختتام پر نواب شاہ جہاں بیگم کے سوانح حیات او ران کی علمی دوستی کا ذکر بہت خوبصورت الفاظ میں مرقوم ہے۔

التاج المکلل:
یہ کتاب 543 علمائے اعلام کے تراجم پر مشتمل ہے او ران علمائے حدیث کے ذکر خیر سے مزین ، جن کو علوم نبوت سے بے پناہ تعلق خاطر تھا۔ مؤلف محترم خود اس کتاب کے مقدمہ میں بایں طور اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں:
''یہ کتاب اس مبارک گروہ کا تذکرہ ہے جو احادیث نبویہ کا علم رکھتے ہیں او رفرمان مصطفیٰ ؐ پر عمل کرتے ہیں ۔اس میں ان کے فضائل و مناقب کو پیش کیا گیاہے جن کی طلبہ علم کو ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس امت کے اسلاف کی سیرت و عمل کے واقعات سے آگاہ ہوں کہ وہ کس طرح دلیل (کتاب و سنت) پر عامل اور تقلید کے تارک اور رجال کی قیل و قال سے بے نیاز تھے۔''

اس کتاب کے مطالعہ سے قاری کے دل میں حدیث رسول اللہ ﷺ سے والہانہ تعلق و محبت پیدا ہوتی ہے۔

4۔ لقطة العجلان مماتمس الی معرفة حاجة الانسان:
یہ بھی نواب صاحب مرحوم کی ، تاریخ کے بارے میں، بہت اہم اور مفید کتاب ہے۔ شیخ ابراہیم آفندی نے اس کی تلخیص کی ہے اور مطبعة الجوائب قسطنطنیہ سے طبع کرایا ہے۔ شیخ آفندی نواب صاحب کے مداحوں میں سے ہیں۔ انہوں نے اس کتاب کے مضامین و مباحث کا ذکر درج ذیل انداز میں کیا ہے۔

''انہوں نےاس میں راتوں ، دنوں، مہینوں اور سالوں کو بیان کیا ہے او رکئی درجہ بلند پرواز فکر کرتے ہوئے گھنٹوں کی دقائق میں تقسیم کی ہے۔ اس میدان تحقیق میں مسہل ممتنع اسلوب بیان اختیار کیا ہے۔ انہوں نے قوموں، ملکوں اور سلطنتوں کے آغاز سے بحث کی ہے۔متعدد قوموں او رنسلوں کا ذکر او ران کے انساب و اصول کی تاریخ کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ ان حقائق کی تحریر میں ان کا قلم حیرت کی حد تک کامیاب رہا۔''

عون الباری لحلّ ادلة البخاری:
علامہ ابوالعباس احمد شرجی نے صحیح بخاری کی تلخیص کی تھی او راس کا نام (التجرید الصریح الاحادیث الجامع الصحیح) رکھا تھا۔ حضرت نواب صاحب نے اس تلخیص کی شرح کی اور ''عون الباری لحل ادلة البخاری'' کے نام سے اسے مطبع صدیقی بھوپال 1299ھ میں طبع کرا کر شائع کیا، دوسری دفعہ یہ شرح قاہرہ میں شائع ہوئی او راس کے حاشیہ پر نیل الاوطار کا پورا متن تھا۔ اب حال ہی میں شیخ عبداللہ بن ابراہیم انصاری کی زیر نگرانی حکومت قطر نے اس شرح کو شائع کیا ہے۔ مؤلف محترم نے گروہی او رمسلکی تعصب سےبالاتر ہوکر یہ کتاب لکھی ہے تاکہ سنت رسولؐ کی ترجمان کی صحیح حق ادا کیا جاسکے۔

السراج الوہاج من کشف مطالب صحیح ابن الحجاج (طبع صدیقی بھوپال 1302ھ)
یہ کتاب حافظ عبدالعظیم المنذری کی تلخیص (الصحیح مسلم) کی شرح ہے جس طرح حضرت نواب صاحب نے علامہ شرجی کی تجرید البخاری کی شرح کی تھی۔ اسی طرح انہوں نے علامہ منذری کی تلخیص کی شرح لکھی ہے۔ نواب صاحب اس شرح کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ یہ تلخیص مجھے مولانا محمد بن عبدالعزیز جعفری کی عنایت سے ملی جو بھوپال مچھلی شہر کے قاضی تھے۔ یہ شرح امام نووی کی شرح صحیح مسلم اور دوسری شروح احادیث کو مدنظر رکھ کر لکھی گئی ہے۔ یہ شرح منذری کو شیخ الاسلام علامہ محمد ناصرالدین البانی کی تحقیق کے ساتھ شائع کیا ہے، انہوں نے بھی اسی اختصار کو اختیار کیاہے جو حضرت نواب صاحب نے اپنی کتاب ''السراج الوہاج'' میں کیا ہے۔ علامہ البانی نے اس نسخے کی بہت تعریف کی ہے او راس کو اختیار کرنے کی وجوہ بھی لکھی ہیں۔5

نیل المرام من تفسیر آیات الاحکام :
حضرت نواب صاحب نے سورتوں کی ترتیب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے آیات قرآن سے فقہی اندا زمیں احکام کا استخراج کیا ہے او رپھر ان مسائل و احکام کے بارے میں محدثین کے فتاویٰ اور فیصلوں کو بڑی اہمیت دی ہے۔ کتب صحاح ستہ کے علاوہ دوسری کتب روایت کی احادیث کو بھی پیش کرتے ہیں۔ اس کتاب کے مطالعہ سے نواب صاحب کی فقیہانہ بصیرت کا پتہ چلتا ہے کہ ایک بلند پایہ مجتہد کی تمام شروط ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں او ران کو براہ راست کتاب اللہ سے مسائل و احکام کے استرکاج پر بڑی قدرت حاصل ہے۔ یہ پوری کتاب، جو 354 صفحات پر مشتلج ہے، فقہ القرآن پر ایک عظیم اور نادر تحقیق ہے۔ آپ نے 348 آیات قرآنی سے فقہی مسائل و احکام کا استخراج کیاہے۔ آپ نے آیات احکام کی تعداد کے بارے میں علماء کا اختلاف بھی نقل کیا ہے۔ اس کتاب کے بعد آپ نے تفسیر ''مقاصد القرآن'' لکھی ۔ جس میں ان احکام کی مزید وضاحت جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن (فیصل آباد) کی طرف سے شائع کیا گیا ہے۔

ظفر اللّاضی بما یجب فی القضاء علی القاضی : (طبع مکتبہ سلفیہ 1402ھ 1981ء)
اسلامی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی تنفیذ حدود و تعزیرات اور تصفیہ خصومات کا مرحلہ پیش آجاتا ہے۔ اسلام کی تو بنیاد ہی عدل و انصاف کو دنیا میں قائم کرنے پر ہے۔ اسلام نے تمام مسائل و مشکلات کا حل پیش کیاہے۔ دیوانی مقدمات ہوں یا فوجداری۔

حضرت نواب صاحب کی یہ کتاب قانون دان حضرات کے لیے وسیع معلومات کا ذخیرہ ہے۔ اس میں قضاء و فیصلہ کی اہمیت کتاب و سنت کی روشنی میں واضح کی گئیہے۔ قاضی کے آداب و شروط کی تفصیل دی گئی ہے۔ حاکم دشود کی صفات سے بھی بحث کی گئی ہے۔ پاکستان میں قانون کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے سلسلے میں اس کتاب کی اشاعت کی اشد ضرورت تھی جو مکتبہ سلفیہ ن ےپوری کردی۔ بہت عمدہ سفید کاغذ پر اعلیٰ طباعت میں پیش کی گئی ہے۔ یہ کتاب 220 صفحات پر مشتمل ہے۔

مدعی۔مدعیٰ علیہ اور دعویٰ۔ قسم و شہادت کے بارے میں بہت عمدہ معلومات درج ہیں۔ آخر کتاب میں امام ابن تیمیہ  کا اکل حلال کے بارے میں فتویٰ بھی نقل کیا گیا ہے۔

اکلیل الکرامة فی تبیان مفاصد الامامة : (مطبع صدیقی بھوپال صفحات 248)
اس کتاب میں جن مباحث و مسائل کو پیش کیا گیا ہے، وہ حسب ذیل ہیں:
امامت و خلافت کا معنیٰ و مفہوم، خلافت ملوکیت میں کب تبدیل ہوئی؟ بیعت کا معنیٰ اور ولایت عہد، آئمہ و خلفاء کا نصب و تقرر، امام کے لیے شروط و آداب ، خلافت ابوبکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ کی بحث، صدقات او راموال غنیمت و فئ کا حصول او ران کی شرعی تقسیم، حدود و حقوق کا قیام، چور، زانی اور شرابی کو حد لگانا، شرعی احکام و فرامین کی خلاف ورزی کرنے والوں سے نپٹنے کے طریقے، اسلامی شہروں کی حد بندی او رشہریوں کے حقوق و فرائض، نئی تعمیرات کے بارے میں شرعی احکام، ظلم و جور کی مختلف اقسام اور شکلیں او ران کو روکنے کے ذرائع، تاجروں سے تجارتی ٹیکس او رزمین کے مالیہ پر بحوث۔ غیر مسلموں کے ساتھ اور دوسری عالمی حکومتوں کے ساتھ تعلقات کا باب۔

کتاب اپنی فنی خوبیوں کی وجہ سے اس قابل ہےکہ اسے حرز جان بنا لیا جائے۔ کتاب کے آخر میں مؤلف محترم کے صاحبزادے علامہ سید علی حسن کے چندتعارفی کلمات ہیں او راسی طرح آخر میں ایک عقیدے مند شاعر محمد خاں کے وجد انگیز 26۔ اشعار رقم ہیں، ان کا قلم محبت کی روشنائی میں ڈوبا ہواہے۔ پڑھنے والے پر بھی شاعر کے جذبات طاری ہوجاتے ہیں۔ ان فارسی اشاعر کا سلیس اردو ترجمہ میں کسی وقت شائع کردوں گا۔

الجنة فی الاسوة الحسنة بالسنّة :(مطبع سکندری صفحات 108)
اس کا موضوع فتویٰ اور مفتی ہے، اس میں فقہائے صحابہؓ، تابعین، تبع تابعین، مفتیان مکہ، مدینہ، کوفہ، بصرہ، یمن، شام، مصر کا بیان ہے۔ فتویٰ میں کتاب و سنت کی اہمیت و مقام، مذموم قیاس و رائے کی تشریح، مجتہد کی تعریف او راس کے لیے شروط، ائمہ اربعہ کا اجتہاد، تقلید کا رد، مفتیوں کی اقسام وغیرہ مباحث کا ذکر ہے۔

قصد السبیل الیٰ ذم الکلام و التاویل:
اس مختصر رسالے میں علم کلام اور تاویل کی مذمت کی گئی ہے او رکتاب و سنت پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ نیز اہل فلسفہ سے الگ رہنے کو کہا گیا ہے۔ اس کے 21 صفحات ہیں۔مطبع کا ذکر نہیں ہے۔

حسن الاسوة (بما ثبت من اللہ و رسولہ فی السنوة)
مطبعة الجوائب، قسطنطنیہ ،1301ھ 418 صفحات
یہ مسائل نسواں پر ایک مفصل کتاب ہے۔ ان مسائل و احکام کی فہرست 30 صفحات پر پھیلی ہوئی ہے یہ اپنے موضوع پر ایک انوکھی اور مفصل کتاب ہے۔

حوالہ جات
1. فتح البیان فی مقاصد القرآن ج1 ص12، 13
2. ایضاً مقدمہ تفسیر 1:7
3. فتح البیان1، 12
4. قرۃ الاعیان و مسّرۃ الاذہان فی مآثر النواب ص60 مطبعۃ الجوائب قسطنطنیہ۔
5. مقدمۃ المحقق ص 5 (مختصر منذری)