کیا عورت کو چہرہ ننگا رکھنے کی اجازت ہے؟
مجاہد اسلام بن رحمة اللہ کویت سے لکھتے ہیں:
محترم مولانا صاحب! السلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ،
عورت کے پردہ کے بارے میں تفصیل سے تحریر کریں۔ ہمارے ہاں ایک شیخ ہیں، ان کے نزدیک عورت اپنا چہرہ ننگا رکھ سکتی ہے۔ آپ کی کیا تحقیق ہے؟ عورت کے لیے چہرہ کا ڈھانپنا واجب ہے یا کھلا رکھنے کی اجازت؟

جو جواب بھی ہو، مفصل ، مدلل اور باحوالہ تحریر فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائیں۔ آمین! والسلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ

پردہ کی حکمت اور اہمیت :
سب سے پہلے واضح ہو کہ مرد کے لیے عورت ایک بہت بڑا فتنہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کے مرد و زن کے لیے عورت کے فتنہ کو سب فتنوں سے زیادہ خطرناک بیان فرمایا:
''عن أسامة بن زید عن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال: ما ترکت بعدي فتنة أضر علی الرجال من النساء''1

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے عورت کو پردہ کرنے اور مردون کو نظریں نیچی رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا، چنانچہ ارشاد ہے:
﴿يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزْوَ‌ٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَـٰبِيبِهِنَّ ۚ ذَ‌ٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَن يُعْرَ‌فْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا ﴿٥٩...سورۃ الاحزاب
''اے نبی (ﷺ) اپنی بیویوں، بیٹیوں او رمؤمنوں کی عورتوں سے فرما دیجئے کہ اپنے اوپر اپنی چادریں اوڑ ھ لیا کریں، یہ اچھا طریقہ ہے ان کی پہچان کا، پس نہ ایذا دی جائیں، اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہیں۔''

اسی طرح سورہ نور میں مومن مردوں اور عورتوں کو حکم ہےکہ اپنی نظریں نیچی رکھیں:
﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوامِنْ أَبْصَـٰرِ‌هِمْ وَيَحْفَظُوافُرُ‌وجَهُمْ ۚ ذَ‌ٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرٌ‌ۢ بِمَا يَصْنَعُونَ ﴿٣٠﴾ وَقُل لِّلْمُؤْمِنَـٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَـٰرِ‌هِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُ‌وجَهُنَّ... الخ
''اے نبیؐ، مومنوں سے فرما دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں او راپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے پاکیزہ تر ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ وہ جو کرتے ہیں، اس سے خبردار ہے او رمومن عورتوں سے (بھی) فرما دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں او راپنی شرمگاہون کی حفاظت کریں۔''

ہر شخص جانتا ہے کہ عورت کی زینت او رجمال کا مظہر چہرہ ہی ہے، اگر کوئی عورت مکمل طور پر باپردہ بھی ہو تب بھی بعض اوقات شرارتی لوگ اس کا پیچھا کرتے نظر آتے ہیں اور بعض منچلے چھیڑ چھاڑ سے باز نہیں ہوتے۔
''عن عبداللہ عن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال: المرأة عورة إذ اخرجت استشرفها الشیطان'' 2
''یعنی، عورت مکمل طور پر چھپائے جانے اور ڈھانپے جانے کے قابل ہے، یہ جب نکلتی ہے تو شیطان اس کا پیچھا کرتا ہے۔بےپردگی کی وجہ سے ہمارے معاشرہ میں جو فتنے پھیلے ہیں ان سے کوئی بھی ناواقف نہیں، کوئی شریف عورت کھلے چہرہ سرعام چلنے کو پسند نہیں کرتی۔''

سورہ احزاب کی مندرجہ بالا آیت کریمہ کا عموم دلالت کرتا ہے کہ ہر کلمہ گو مسلمان مومن عورت جو آزاد ہو اور سن بلوغ کو پہنچ چکی ہو اس پر پردہ کرنا اسی طرح واجب اور ضروری ہے جیسے نماز، روزہ اور دیگر فرائض۔

کوئی عورت مسلمان ہوتے ہوئے پردہ کی مشروعیت کا انکار کرے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوگی کیونکہ اس نے اللہ کے حکم کا انکار کیا اور اگر بدعملی اور سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پردہ نہ کرے تو وہ عاصی اور گنہگار۔

پردہ کا حکم اور مفسرین کی آراء :
اللہ تعالیٰ نے سورة احزاب میں ارشاد فرمایا:
﴿يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزْوَ‌ٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَـٰبِيبِهِنَّ.... الخ (59)
''اے نبیؐ، اپنی بیویوں، بیٹیوں او رمؤمنوں کی عورتوں سے فرما دیجئے کہ اپنے اوپر اپنی اوڑھنیاں اوڑھ لیا کریں۔''

تمام مفسرین اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس سے مراد چہرہ کا ڈھانپنا ہے تاکہ آزاد اور لونڈی میں تمیز ہوسکے اور کوئی شخص آوازے کس کر ایذا نہ پہنچا سکے۔

چنانچہ امام ابوجعفر محمد بن جریر الطبری (المتوفی 310ھ) اپنی شہرہ آفاق تفسیر ''جامع البیان'' جلد 10 میں لکھتے ہیں:
''یأیها النبي قل لأزواجك الخ لا تشبهن بالإماء في لباسهن إذا ھن خرجن من بیوتهن لحاجتهن فکشفن شعورھن و وجوھن ولٰکن یدنین عليهن من جلا بیبهن لئسلا یعرض لهن فاسق إذا علم أنهن حرائر بأذی من القول ....... انتهى''
کہ ''اے نبیؐ، اپنی بیویوں سے فرما دیجئے ، اپنے لباس میں لونڈیوں کی مشابہت اختیار نہ کریں، جب وہ کسی ضرورت کے لیے اپنے گھروں سے نکلیں (اس حالت میں کہ) اپنے بالوں اور چہروں کو کھولے ہوں، ہاں لیکن اپنی اوڑھنیاں اپنے اوپر اوڑھ لیں تاکہ کوئی فاسق، انہیں آزاد جان لے او رکوئی تکلیف دہ بات نہ کہہ سکے۔''

نیز تفسیر ابن کثیر ج3 ص518 اور تفسیر جامع البیان للطبری ج10 ص46 میں ہے:
''قال علي بن طلحة عن ابن عباس رضی اللہ عنهما قوله: أمر اللہ نساء المؤمنین إذ اخرجن من بیوتهن في حاجة أن یغطین وجوههن من فوق رءوسهن بالجلا بیب و یبدین عینا واحدة....... انتهى''
''حضرت ابن عباسؓ کا قول : ''اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی عورتوں کو حکم فرمایا ہے کہ جب وہ اپنے گھروں سے کسی ضرورت سے نکلیں تو چادروں سے اپنے سروں کے اوپر سے چہروں کو ڈھانپ لیں اور (صرف) ایک آنکھ کو ظاہر کریں۔''

نیز تفسیر جامع البیان للطبری ص46 ہی میں ہے:
''عن ابن سیرین سألت عبیدة بن الحارث الحضرمي عن قوله تعالیٰ (یدنین عليهن من جلابلیبهن) قال: فقال بثوبه فغطی رأسه ورجہہ و أبرزثوبه عن إحدی عینيه'' انتهى
''ابن سیریں کہتے ہیں، میں نے عبیدہ بن حارث حضرمی سے فرمان الٰہی ''یدنين عليهن من جلا بيهن'' کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے (مجھے سمجھانے کی غرض سے) اپنے کپڑے سے سر اور چہرے کو ڈھانپ لیا او راپنی ایک آنکھ سے کپڑا ہٹا دیا۔''

اسی آیت کی تفسیر میں علامہ بیضاوی رقم طراز ہیں:
''أي یغطین وجوھن و أبدانهن بملا حفهن إذا برزن لحاجة 3
''یعنی جب وہ کسی ضرورت کے لیے باہر نکلیں تو انے چہروں اور بدن کو کپڑے سے ڈھانپ لیں۔''

علامہ ابوبکر جصاص لکھتے ہیں:
''في ھٰذه الآیة دلالة علیٰ أن المرأة الشابة مأمورہ بستروجهها عن الأجنبیین'' الخ
کہ ''اس آیت میں یہ دلیل ہےکہ نوجوان عورت اپنے چہرے کو اجنبی مردوں سے چھپانے کی پابند ہے۔''

امام نیشاپوری لکھتے ہیں:
''کانت النسآء في أوّل الإسلام علیٰ عادتهن في الجاھلیة مبتذلان یبرزن في درع و خمار من غیر فصل بین الحر والأ مة فأمرن بلبس الأردیة و سترالرأس والوجوه''
کہ ''اوائل اسلام میں عورتیں اپنی جاہلی عادات کی بنا پر دوپٹہ اور درع میم بلا امتیاز لونڈی اور آزاد عورت کے باہر نکلتی تھیں، چنانچہ (اب) چادریں اوڑھنے اور اپنے سر اور چہرہ کو ڈھانپنے کا حکم دی گئیں۔''

امام ابن الجوزی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:
''أي یغطین رءوسهن ووجوھهن لیعلم أنهن حرائر'' 4
''یعنی اپنے سروں اور چہروں کو ڈھانپ لیں تاکہ معلوم ہو، وہ آزاد عورتیں ہیں۔''

اسی طرح علامہ ابوحیان لکھتے ہیں:
''وقوله تعالیٰ (يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَـٰبِيبِهِنَّ) شامل لجمیع أجسادھن أوالمراد بقوله عليهن أي علیٰ وجوههن لأن الذي کان یبدو منهن في الجاھلیة ھوالوجه'' 5
کہ '' یہ فرمان الٰہی ''يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ  الخ'' پورے جسم کو شامل ہے۔ یا ''علیہن'' سے مراد ان کے چہرے ہیں، کیونکہ جاہلیت میں یہی چہرے ننگے رہا کرتے تھے''

تفسیر ابن السعود میں ہے:
''ومعنی الآیة أي یغطین بھا وجوھهن و أبدا نهن إذا برزن لداعیة من الدواعي'' 6
''اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اپنے بدن او رچہروں کو ڈھانپ لیں، جب کسی ضرورت کی خاطر (گھروں سے)باہر نکلیں۔''

تفسیر جامع البیان میں شیخ معین الدین محمد بن عبدالرحمٰن لکھتے ہیں:
''یعني یرخینها عليهن و یغطین وجوھهن و أبدانهن وقال أمرت الأحرار بإرخاء الجلباب لتتمیز الأحرار من الإماء7
''یعنی وہ (چادروں کو ) اپنے اوپر ڈال لیں او راپنے بدن او رچہروں کو ڈھانپ لیں اور آزاد عورتیں پردہ لٹکانے کا حکم دی گئیں تاکہ آزاد عورتیں، لونڈیوں سے ممتاز ہوسکیں۔''

معالم التنزیل (علی حاشیة تفسیر الخازن) میں ابومحمد حسین بن مسعود الفراء البغوی نے لکھا ہے:
''قال ابن عباس و أبوعبیدة: أمر نساء المؤمنین أن یغطین رءوسهن وجوههن بالجلا بیب إلاعینا واحدة لیعلم أنهن حرائر''
اور ابن عباسؓ او رابوعبیدہؓ نے فرمایا: ''مومنوں کی عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ چادروں سے اپنے سر اور چہروں کو ڈھانپ رکھیں، ہاں مگر ایک آنکھ کھلی (رکھ سکتی ہیں) تاکہ معلوم ہوسکے وہ آزاد عورتیں ہیں۔''

اسی طرح مدینہ منورہ کے معروف صاحب علم و قلم علامہ محمد امیم تشنقیطی مرحوم اپنی مایہ ناز تفسیر اضواء البیان میں اسی آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
''إن المراد بھا یدخل فيه ستر الوجه وتغطیة عن الرجال وإن ستر المرأة وجهها عمل بالقرآن'' 8
''(مذکورہ آیت سے) مراد یہ ہے کہ اس میں عورت کے چہرے کا ستر اور (غیر) مردوں سے اسے ڈھانپ کر رکھنا ہےح او ربیشک عورت کے چہرے کا ستر قرآن پر عمل کرنا ہے۔''

ان تمام مفسرین کی آراء سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک اس آیت کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ عورت چہرہ کے پردہ کرنے کی مکلّف ہے او ریہی پردہ آزاد اور لونڈی کے درمیان فارق و فاصل ہے۔

اسی طرح صحیح بخاری، باب البناء فی السفر میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مدینہ اور خیبر کے درمیان تین روزہ قیام کے دوران حضرت صفیہؓ سے نکاح کیا۔ صحابہ کرامؓ میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ حضرت صفیہؓ کی حیثیت ام المؤمنین کی ہوگی یا لونڈی کی؟ (کیونکہ وہ دشمن کے مقابلہ میں مسلمانوں کو غنیمت میں ملی تھیں)

یہ سوال اسی لیے پیدا ہوا ، پھرصحابہؓ خود ہی کہنے لگے، اگر پردہ کرایا گیا تو ام المؤمنینؓ ہوں گی ورنہ لونڈی ۔ چنانچہ سفر میں پردہ لٹکا دیا گیا۔

اس سے بھی معلوم ہوا کہ آزاد عورت او رلونڈی میں فرق چہرہ کے پردہ سے ہے۔ اگر آزاد عورت بھی کھلے چہرہ رہے تو دونوں میں کیا فرق؟

حضرت عمرؓ کے متعلق ذکر آتا ہے کہ جب وہ کسی لونڈی کو پردہ کیے ہوئے دیکھتے تو تنبیہ فرماتے کہ آزاد عورتوں سے مشابہت نہ کریں۔9

سورة احزاب میں اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا:
﴿وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَـٰعًا فَسْـَٔلُوهُنَّ مِن وَرَ‌آءِ حِجَابٍ...﴿٥٣﴾...سورۃ الاحزاب
''اے مومنو ! تم جب ازواج النبیؐ سے کوئی چیز طلب کرو تو پردہ کے پیچھے سے طلب کرو۔''

یہ آیت صاف دلالت کرتی ہے کہ چہرہ کا پردہ ضروری ہے۔ اگر چہرہ کا کھلا رکھنا یا اجنبیہ کے چہرہ کو دیکھنا جائز ہوتا تو ''من وراء حجاب'' کی قید نہ لگائی جاتی۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ حکم ازواج مطہراتؓ سے خاص ہے ۔اس کا جواب یہ ہے کہ پردہ کا حکم عام ہے بلکہ اوّلین خطاب ازواج مطہراتؓ اور بنات النبیؐ کو ہے او رمعاً بعد عام مؤمنین کی عورتوں کو بھی یہی حکم دیا گیاہے۔ تدبر وا وتفکروا۔

احادیث ملاحظہ ہوں:
عن ابن عمر أن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال: لا تنقب المرأة ولا تلبس القفازین'' 10
یعنی عورت احرام کی حالت میں نقاب نہ اوڑھے اور نہ دستانے پہنے۔

معلوم ہوا کہ پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد مسلم معاشرہ میں عورتوں نے نقاب اوڑھنا شروع کردیا تھا۔ اسی لیے تو حالت احرام میں نقاب اوڑھنے سے منع کیا گیا۔

(نقاب کیا ہے؟) حضرت عطاء کا قول ہے، نقاب وہ کپڑا ہے جسے عورت چہرہ پر ڈالتی ہے۔ اس میں دو سوراخ ہوتے ہیں جن سے عورت دیکھتی ہے۔ نقاب کے استعمال کو انتقاب کہتے ہیں۔ 11

عن عائشة قالت کان الرکبان یمرون بناو نحن مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محرمات فإذا حاذوا بنا سدلت إحدانا جلبابها من رأسها علیٰ وجهها فإذا جاو زونا کشفناه'' 12
''حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہم نبیﷺ کے ہمراہ حالت احرام میں تھیں۔ جب لوگوں کے قافلے ہمارے قریب سے گزرتے تو ہم اپنی چادر کو چہروں پر ڈال لیتیں۔ جب وہ گزر جاتے تو چہرہ ننگا کرلیتیں''

اس سے صاف معلوم ہوا کہ اجنبی عورت کے چہرہ کو دیکھنا ناجائز ہے اور عورت کے لیے چہرہ ڈھانپنا ضروری ہے حتیٰ کہ احرام کی حالت میں جبکہ چہرہ کھلا رکھنے کی اجازت ہے۔ اس وقت بھی ازواج النبی ؐ چہرہ کے پردہ کا اہتمام کرتی تھیں۔ حالانکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے مومنین کی مائیں قرار دیا ہے جب ان کا یہ حال ہے تو عام عورتوں کا پردہ کرنا بطریق اولیٰ واجب ہے۔

عن ابن عباس کان الفضل بن عباس رضی اللہ عنهما ردیف رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم فجاء ت امرأة من خثعم فجعل الفضل ینظر إلیها و تنظر إلیه وجعل النبي صلی اللہ علیه وآله وسلم وجه الفضل إلی الشق الآخر'' 13
''ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ، فضل بن عباس ؓ نبی ﷺ کے پیچھے سوار تھے کہ خثعم قبیلہ کی ایک عورت آئی تو فضل اس کی طرف اور وہ ان کی طرف دیکھنے لگی، تو رسول اللہ ﷺ نے فضل کا چہرہ دوسری طرف کردیا۔''

اس سے بھی عملوم ہوتا ہے کہ مرد کو اجنبی عورت کے چہرہ کی طرف دیکھنے کی اجازت نہیں۔ لہٰذا عورت چہرہ کا پردہ ضرور کرے، وہ عورت تو احترام کی وجہ سے چہرہ کھلا رکھے ہوئے تھی۔

4۔ آنحضرتﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا:
''یاعلي! لا تتبع النظرة النظرة فإن لك الأولیٰ ولیست لك الآخرة'' 14
کہ ''اے علیؓ، اچانک نظر پڑ جانے کے بعد دوسری مرتبہ نہ دیکھنا، ہاں پہلی نظر معاف ہے۔''

بدیہی امر ہے کہ مرد کی نظر سامنے عورت کے چہرہ پر ہی پڑے گی۔ (اگرچہ چہرہ کےعلاوہ باقی اعضاء کا بھی امکان ہے) او ردوبارہ عمداً دیکھنے سے منع فرمایا۔ صرف پہلی اچانک نظر معاف ہے۔

5۔ ''عن أم سلمة قالت کنت عند رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم وعندہ میمونة فأقبل ابن أم مکتوم و ذٰلك بعد أن أمرنا بالحجاب فقال النبي صلی اللہ علیه وآله وسلم احتجبا منه فقلنا : یارسول اللہ! ألیس أعمیٰ لایبصرنا ولا یعرفنا فقال النبي صلی اللہ علیه وآله وسلم: أفعمیاوان أنتما؟ ألستما تبصرانه'' 15
''حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں، میں او رمیموہؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھیں کہ ابن اُم مکتوم آئے، یہ پردہ کی آیات نازل ہونے کے بعد کی بات ہے، تو آپؐ نے ہمیں ان سے پردہ کے لیے فرمایا ، ہم نے کہا، اے اللہ کے رسولؐ، وہ تونابینا ہیں،فرمایا، تم دونوں تو نابینی نہیں۔''
اس حدیث سے بھی صاف ظاہر ہے کہ عورت کو غیر مرد کے سامنے چہرہ کھلا رکھنےکی کسی صورت میں بھی اجازت نہیں خواہ وہ نابینا ہی کیوں نہ ہو؟ احتجبا (تم دونوں پردہ کرلو) یہ لفظ وجوب پر دلالت کرتا ہے۔

6۔ بہت سی احادیث میں آیا ہے کہ آنحضرت علیہ الصلوٰة والسلام نے ارشاد فرمایا کہ جب تم کسی عورت سے نکاح کرنا چاہو تو پہلے اسے دیکھ لیا کرو، چنانچہ صحیح ابن حبان میں حضرت محمد بن سلمہ ؓ کی روایت ہے کہ میں نے ایک عورت کو شادی کا پیغام بھیجا اور چھپ چھپ کر اسے دیکھنے کی کوشش کرنے لگا، تاآنکہ اسے ان کے باغ میں ایک نظر دیکھ لیا۔ کسی نے اعتراض کیا تو فرمایا کہ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف کسی مومن کے دل میں کسی عور ت سے شادی کا خیال آجائے تو اس کو دیکھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔

یہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے کہ اس وقت مسلمان عورتیں منہ چھپا کر اور پردہ کرکے باہر نکلا کرتی تھیں ورنہ مردوں کو شادی کے لیے عورت کے دیکھنے کی ترغیب نہ دلائی جاتی۔ او رنہ ہی محمد بن سلمہؓ صحابی کو مذکورہ عورت کو دیکھنے کے لیے یوں محنت کرنی پڑتی۔

اور عورتوں کا یہ پردہ کرنا نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں ہی تھا، ورنہ کیسے خود بخود ایک عادت پورے معاشرہ میں رائج ہوجاتی ہیں، جس کا حکم نہ اللہ نے دیا ہو نہ اس کے رسول نے (ﷺ)

صحابیاتؓ کا مسلک :
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
''تسدل المرأة جلبابها من فوق رأسها علیٰ وجهها'' 16
کہ ''عورت اپنی چادر کو اپنے سر کے اوپر سے اپنے چہرے پر لٹکاتی ہے''

حضرت فاطمہ بنت المنذر فرماتی ہیں:
''کنا نخمروجوھنا و نحن محرمات و نحن مع أسماء بنت أبي بکر الصدیق فلا تنکره علینا'' 17
''ہم احرام کی حالت میں اپنے چہروں کو ڈھانپتی تھیں، اسماء ؓ بنت ابی بکرؓ بھی ہمارے ساتھ تھیں، تو ہمیں کسی نے نہ روکا۔''

ان آثار سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہؓ اور حضرت اسماء ؓ کے نزدیک بھی چہرہ پردہ کے حکم میں شامل ہے، کیونکہ جو عورتیں احرام میں چہرہ کا پردہ کرتی ہیں باقی دنوں میں توضرور کرتی تھیں۔

ائمہ اربعہ کا مسلک:
ائمہ ثلاثہ مالک، شافعی اور احمد رحمهم اللہ کے نزدیک عورت پر چہرہ کا ڈھانپنا واجب ہے او رکھلا رکھنا حرام ہے۔ البتہ فقہاء حنفیہ کے نزدیک اگر فتنہ کا خوف اور خطرہ نہ ہو تو چہرہ کھلا رکھنا جائز ہے اور اگر فتنہ کا خوف اور خطرہ ہو تو چہرہ کھلا رکھنا حرام ہے۔ 18

خلاصہ یہ کہ: مذکورہ بالااحادیث مفسرین کی آراء، صحابہ کرامؓ اور صحابیاتؓ کے آثار اور ائمہاربعہ کے اقوال سے یہ بات خوب واضح ہوگئی کہ عورت کے لیے چہرہ ڈھانپنا واجب ہے۔

چہرہ کا پردہ نہ کرنے کی دلیل اور اس کا جواب:
جن لوگوں نے عورت کو چہرہ کھلا رکھنے کی اجازت دی ہے اُن کی دلیل یہ ہے:
''عن خالد بن دریك عن عائشة أن أسماء بنت أبي بکر دخلت علیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم و علیها ثیاب رقاق فأعرض عنها رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم وقال یا أسماء إن المرأة إذا بلغت المحیض لم یصلح أن یریٰ منها إلاھٰذا وھٰذا وأشارإلیٰ وجهه و کفیه'' 19
''حضرت عائشہؓ سے روایت ہے ، اسماء بنت ابی بکرؓ باریک کپڑے پہنے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، تو آپؐ نے فرمایا، جوان عورت کے لیے درست نہیں کہ اس کو دیکھا جائے، مگر یہ اور یہ۔ اور آپؐ نے اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔''

لیکن یہ حدیث سنداً ضعیف ہے۔ اس میں چار علتیں ہیں:
1۔ خالد بن دریک کا سماع حضرت عائشہ سے نہیں لہٰذا یہ منقطع ہے۔
2۔ سند میں سعید بن بشیر ابوعبدالرحمٰن البصری مولیٰ بن النصر ہے وہ ضعیف ہے اور اس کی روایت قابل احتجاج نہیں۔
3۔ سند میں قتادہ ہے جو مدلس ہے او رروایت عن سے کی ہے۔ مدلس کا عنعنہ غیر مقبول ہے۔
4۔ ابواحمد الجرجانی فرماتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق اس حدیث کو قتادہ سے صرف سعید بنبشیر نے روایت کیا ہے۔
لہٰذا مندرجہ بالا اسباب کی وجہ سے یہ حدیث ناقابل استدلال ہوئی۔

ھٰذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب!

حوالہ جات
1. صحیح بخاری، باب ما یتقی من شؤم المرأة، صحیح مسلم کتاب الفتن
2. جامع الترمذی
3. صفحہ 252
4. زاد المسیر ج6 ص422
5. البحر المحیط ج7 ص250
6. ج4 ص433
7. ص594
8. ص597
9. تفسیر قرطبی ج4 ص244 و مثلہ فی الخازن
10. احمد، بخاری، نسائی، ترمذی، ابوداؤد، حاکم، بیہقی
11. نیل الاوطار
12. احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ
13. متفق علیہ
14. ابو داؤد
15. ترمذی، نسائی، ابوداؤد
16. فتح الباری
17. مؤطا مالک، باب تخمیر المحرم وجہہ
18. تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو روح المعانی کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ، ج1 ص192
19. سنن ابی داؤد حدیث 3945