ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • ستمبر
1983
اکرام اللہ ساجد
14۔اگست کے موقع پر حکومت کی جانب سے نئے سیاسی ڈھانچے کا اعلان متوقع ہے او راخبارات میں اس سلسلہ کے ظن و تخمین، قیاس آرائیوں، سیاسی پیشگوئیوں اور تجاویز پر مشتمل خبریں اور بیانات شائع ہورہے ہیں۔ چنانچہ امیر جماعت اسلامی کا خیال ہے کہ:''ذات برادری کی بنیاد پر لوگ اگر منتخب ہوکر اسمبلیوں میں آئے تو انتخابات کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔''اور اس طرح !''حکومت نے نشاندہی کردی ہے کہ وہ اقتدار نہیں چھوڑنا چاہتی۔''
  • ستمبر
1983
سعید مجتبیٰ سعیدی
مجاہد اسلام بن رحمة اللہ کویت سے لکھتے ہیں:محترم مولانا صاحب! السلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ،عورت کے پردہ کے بارے میں تفصیل سے تحریر کریں۔ ہمارے ہاں ایک شیخ ہیں، ان کے نزدیک عورت اپنا چہرہ ننگا رکھ سکتی ہے۔ آپ کی کیا تحقیق ہے؟ عورت کے لیے چہرہ کا ڈھانپنا واجب ہے یا کھلا رکھنے کی اجازت؟جو جواب بھی ہو، مفصل ، مدلل اور باحوالہ تحریر فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائیں۔ آمین! 
  • ستمبر
1983
ناصر الدین البانی
استاذ ناصر الدین البانی علمی دُنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ان کا اسلوب تحریر او رطرز استدلال صرف کتاب اللہ اور سنت ِ رسول اللہ ﷺ پر مبنی ہے او ریہی مسلک اہل حدیث کا طرہ امتیاز ہے۔زیر نظر مقالہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو ہدایت اور ثابت قدمی عطا فرمائے۔ آمین!واجبات مریض :مندرجہ ذیل ہدایت پر عمل کرنا ہرمریض کے لیے انتہائی ضروری ہے:1۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہے
  • ستمبر
1983
غلام نبی
حضرت نواب صاحب کا دور کتاب و سنت کے داعیوں سے یکسر خالی تھا۔بہت سے علمائے سنت اور مجتہدین امت ایسے موجود تھے جوسنت رسول اللہ ﷺ سے عشق کرتے تھے۔ان کی صبحیں اور شامیں توحید کی تبلیغ و اشاعت اور ردّ شرک او رتبلیغ میں گزرتیں۔ ان پاکان امت کے تذکروں سے تاریخ اسلام کے عنوانات بنے۔ سفر میں شرک کی سعادت تو بہت رہردوں کو حاصل ہوئی مگر منزل کا وصال اصحاب عزائم کا حصہ بنا۔
  • ستمبر
1983
عبدالرشید عراقی
شیخ نور الدین احمد آبادی : (م1155ھ)
آپ کا نام محمد صالح ہے۔ 1064ھ میں احمد آباد گجرات میں پیدا ہوئے۔ممتاز علمائے وقت سے تحصیل تعلیم کے بعد حرمین شریفین کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ آپ صاحب تصانیف کثیرہ ہیں۔حدیث کی خدمت اور نشرواشاعت میں آپ کی گرانقدر خدمات ہیں۔نور القاری کے نام سے بخاری شریف کی شرح لکھی ۔11155ھ میں 91 سال کی عمر میں آپ نے وفات پائی۔2
  • ستمبر
1983
عبدالرحمن عاجز
عمل بڑا ہو کہ چھوٹا جو بے ریا نہ ہوا
خدا کے ہاں وہ عمل قابل جزا نہ ہوا

وہ زندہ زندہ نہیں اس جہان فانی میں
جو اپنی زیست کے مقصد سے آشنا نہ ہوا