اہل حدیث و سنت کا نہج فکر:
دور حاضر کا ایک بہت بڑا فتنہ مغربی سیاست کے تسلط کے باعث ذہنی مرعوبیت بلکہ ذہنی غلامی کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی معروف اسلامی فکر کا ٹکراؤ مغرب کے فریب خوردہ ذہن سے ہوتا ہے تو کوشش یہ کی جاتی ہے کہ کسی طرح اسلامی نقطہ نظر کی ہم آہنگی مغربی نظریات سے تلاش کی جائے جس کے بعث نہ صرف تاویل و الحاد کا دروازہ کھل جاتا ہے بلکہ اصل اسلامی فکر پس پردہ چلا جاتا ہے اور ایک بالکل غلط نظریہ اسلام سے منسوب ہوکراس کی جگہ لے لیتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس خطرناک صورت حال سے بچنے کا واحد ذریعہ سنت رسول اللہ ﷺ سے تمسک اور آپؐ کے اقوال و فرامین کو مشعل راہ بنانا ہے، چنانچہ حضرت علیؓ نے جب حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو خوارج سے گفتگو کرنےکے لیے بھیجا تو انہیں یہ نصیحت فرمائی کہ دلائل میں سنت و حدیث سے زیادہ کام لینا کیونکہ قرآن مجید مجمل ہونے کی بناء پر زیادہ آسانی سے تاویل کا نشانہ بن جاتا ہے۔ 1

اسی طرح عباسی دور میں جب فلسفہ و تصور نے عقل و معرفت کے نام پر عجمی افکار کو اسلام میں داخل کرنے کی کوشش کی تو فقہائے محدثین نے سنت رسول اللہ (ﷺ) کا سہارا لے کر ہی تعبیر دین میں تاویل و انحراف کے دروازوں سے آمدہ باد سموم کا منہ موڑا۔ اگرچہ ان نظریات کے حاملین نے خود کو پُرفریب ناموں سے موسوم کیا، لیکن محدثین نے سنت رسولﷺ کو کتاب اللہ کی واحد اور دائمی تعبیر قرار دے کر ان کے فریبوں کا پردہ چاک کردیا۔ امام شافعی کا مشہور قول ہے کہ رسول اکرمﷺ نے جو کچھ فرمایا، اسے آپؐ نے (وحی و الہام کی مدد سے) قرآن مجید ہی سے سمجھ کر بیان فرمایا ہے، جبکہ امام ابوعبید قاسم بن سلام اپنی مشہور کتاب ''الاموال'' میں فرماتے ہیں:
''وَكَذَلِكَ شَرَائِعُ الْقُرْآنِ كُلُّهَا إِنَّمَا نَزَلَتْ جُمَلًا، حَتَّى فَسَّرَتْهَا السُّنَّةُ.''2
کہ'' قرآن مجید کے سارے کے سارے مسائل کا نزول اجمالاً ہوا ہے حتیٰ کہ اس کی تفصیل و تعبیر کا فریصہ سنت رسول اللہ ﷺ نے انجام دیا ہے۔''

حاصل یہ ہے کہ مسائل کے لیے صحیح نہج کتاب و سنت دونوں کو ملا کر اخذواستنباط ہے نہ کہ دونون سے علیحدہ علیحدہ استخراج۔ کیونکہ اس طرح سے بسا اوقات باہمی تخالف و تضاد سامنے آتا ہے جو اللہ اور اس کے رسولؐ کے درمیان تفریق کا موہم ہوتا ہے۔ جبکہ تشریع میں صحیح فکر یہ ہے کہ:
﴿مَّن يُطِعِ ٱلرَّ‌سُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ...﴿٨٠﴾...سورۃ النساء'' ''جس نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی''

چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ گمراہ فرقوں کے مقابلہ میں دین و شریعت کو تاویل و تحریف سے بچانے والے وہی لوگ تھے جنہون نے دین کی تشریح و تعبیر میں سنت رسولؐ اللہ کو آخری اتھارٹی قرار دیا اور اسی بناء پرانہیں اہل سنت کے نام سے یاد کیا گیا ، کہ ان لوگوں نے دین میں نہ تو عقل و معروف کے نام سے کسی پیوند کاری کو قبول کیا او رنہ ہی تقدس و تبحر کے پردوں میں کسی متعین شخصیت یا گروہ کی تعبیر و ہدایت کا قلاوہ اپنے گلے میں ڈالا۔ گویا کتاب و سنت وہ عروة وثقیٰ ہیں جن کا باہمی انفصام نہیں او ران دونوں کو تھام کر چلنے ہی میں تمام فتنوں سےمحفوظ رہنے کا راس پوشیدہ ہے۔ جبکہ اس کے برعکس بڑے بڑے تجدّد و اصلاح کے دعویدار وقت کی عبقری شخصیتیں ہونےکے باوجود حدیث و سنت کے حق میں معمولی سے تساہل کی بناء پر بڑے بڑے علمی اور فکری فتنوں کا شکار بن کر ہمیں ضلالت و گمراہی کی اتھاہ گہراہیوں میں اوندھے منہ گرے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿فَلْيَحْذَرِ‌ ٱلَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِ‌هِۦٓ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٦٣...سورۃ النور
کہ ''جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے ارشادت سے انحراف کرتے ہیں انہیں اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ اس بناء پر وہ کسی (خطرناک) فتنہ کا شکار نہ ہوجائیں، یا وہ (اللہ رب العزت کی طرف سے کسی) درد ناک عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائیں!'' أعاذنا اللہ منه و إیاکم و سائر المسلمین۔ آمین

عورت کی شہادت کے بارے میں صحیح مؤقف؟
آمدم برسر مطلب! پاکستان میں مردوزن کی فریبانہ مساوات کے زعم سے جن لوگوں نے مسئلہ شہادت میں عورت کو مرد کے برابر حق دینے کے لیے یہ شوشہ چھوڑا ہے کہ قرآن مجید کی رُو سے ج دو عورتوں کوایک مرد کے قائم مقام بنایا گیاہے تو:
''صحیح صورت وہی ہے..... کہ دونوں میں سے شہادت تو ایک عورت دے گی، دوری مذکرہ یا دلانے والی ہوگی!'' 3

ہماری نظر میں وہ سنت کو نظر انداز کرکے صریحاً فتنے کا شکار ہوئے ہیں۔ اس سلسلہ میں جن لوگوں کو دین و علم سے وابستگی نہیں ہے یا جن کا علمی حدود اربعہ لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کے پروردہ ہونے کی بناء پر مستشرقین کی تعبیرات تک محدود ہے، ان کا قرآن مجید کی ایسی بے سروپا تفاسیر میں ٹامک ٹوئیاں مارنا تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن کسی عالم دین کا قرآن مجید کے نام پر حدیث رسول اللہ ﷺ کے خلاف تفسیر کرنا حد درجہ افسوسناک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جائزہ کی حد تک ہم زیر بحث آیت قرآنی ﴿وَٱسْتَشْهِدُواشَهِيدَيْنِ مِن رِّ‌جَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَ‌جُلَيْنِ فَرَ‌جُلٌ وَٱمْرَ‌أَتَانِ مِمَّن تَرْ‌ضَوْنَ مِنَ ٱلشُّهَدَآءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَىٰهُمَا فَتُذَكِّرَ‌ إِحْدَىٰهُمَا ٱلْأُخْرَ‌ىٰ...﴿٢٨٢﴾...سورۃ البقرۃ'' کے تحت مندرجہ ذیل تین تفسیریں ذکر کرکے ان میں سے صحیح اور غلط کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں:
1۔ ''گواہی دینے والی تو ایک عورت ہوگی، دوسری مذکرّہ ہوگی جو (اس کو بغور سنے گی یا) شہادت کے کسی حصہ کو بھولنے پر اطلاع دے گی!''
اس تفسیر سے مقصود یہ ہے کہ حقوق نسواں کے نام پر لاہور او رکراچی کی سڑکوں پر طوفان کھڑا کرنے والی باغی عورتوں کی اس غلط فہمی کا ازالہ کیا جاسکے کہ اسلام نے شہادت میں ان کو مردوں کے برابر حق نہیں دیا۔ 4
2۔ ''دونوں مل کر ایک شہادت کو مکمل کریں گی!''
یعنی پہلی عورت کے شاہدہ ہونے کے باوجود اس کی شہادت ناقص ہے، جسے دوسری پورا کرے گی ایک عورت کی شہادت، شہادت ہی نہیں ہے بلکہ دونوں عورتیں مل کر ایک شہادت کو مکمل کریں گی۔

یہ مؤقف اس وقت اختیار کیا گیا، جب ''محدث'' نے مذکورہ مضمون پر تبصرہ کیا او را س کے جواب میں صفائی پیش کرنے کی کوشش کی گئی (ملاحظہ ہو مضمون ''مسئلہ شہادت اور مدیر محدث'' ہفت روزہ الاسلام گوجرانوالہ، مورخہ 10 جون 1983ء، ہفت روزہ ''تنظیم اہلحدیث'' لاہور، مورخہ 27 مئی 1983ء، ہفت روزہ ''اہلحدیث'' جون 1983ء ماہنامہ محدث، جون1983ء)

گویا یہ پہلے نقطہ نظر کے بعد دوسری انتہاء ہے کیونکہ پہلی تفسیر کا مقصود یہ ہے کہ گواہی میں اصل (مرد کی طرح) ایک عورت ہے، دوسری کی حیثیت (اگر ضرورت پڑے تو) یاد دلانے والی کی ہے ورنہ پہلی عورت اگر شہادت نہ بھولے تو اس کی شہادت کافی ہے۔ جبکہ دوسری تفسیر کا مقصود یہ ہ ےکہ ایک شہادت کی تکمیل دونوں عورتوں سے مل کر ہوگی، اکیلی کی شہادت ناقص رہے گی جو تنہا شہادت نہیں ہے بلکہ دونوں کی مل کر ایک شہادت ہے۔

مزید وضاحت ملاحظہ ہو، آپ لکھتے ہیں:
''مذکرّہ، جب تک شاہدہ کے ساتھ نہ ہو تو ایسی شاہدہ کی شہادت قابل قبول نہیں۔ شاہدہ ہو یا مذکرّہ، ان کا واقعہ سے پوری طرح باخبر ہونا لازمی امر ہے۔ دونوں مل کر شہادت کو مکمل کریں گی!'' 5

لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ پہلے مضمون میں آپ کو یہ اصرار بھی ہے کہ:
''ساتویں بات یہ ہے کہ اگر شہادت دہندہ عورت شہادت کے کسی اہم حصہ کو بھُولے یا غلطی کرے، جس سے حق ثابت ہوتا ہو، نسیان یا خطاء کے بعد پہلی کی شہادت متاثر نہ ہوگی!''

ملاحظہ فرمایا آپ نے ، جوش تعاقب میں کس طرح تضادات کا شکار ہورہے ہیں۔

3۔ دونوں عورتیں گواہ ہیں۔ دونوں شاہدہ ہیں۔ دونوں کی شہادت اپنی اپنی جگہ شہادت ہے تاہم دونوں کی شہادت مل کر ایک مرد کی شہادت کے برابر ہوگی!
چونکہ مذکورہ بالا تینوں تفسیریں مسئلہ شہادت میں عورت مرد کی برابری یا عدم مساوات کی بحث میں وارد ہوئی ہیں، اس لیے ان تینوں میں زیر بحث نصاب شہادت، اور نصاب شہادت میں عورت کی حیثیت ہے، نہ کہ شہادت کی کیفیت، لہٰذا زیر بحث موضوع کی مناسبت سے صحیح موقف تیسری تفسیر ہے جسے ہم نے ''محدث'' کے شمارہ اپریل 1983ء کے ایک آرٹیکل میں اختیار کیا ہے اور جو اس کے عنوان سے ہی ظاہر و باہر ہے۔
''قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیه وآله وسلم، فشهادة امرأتین تعدل شهادة رجل'' 6
'' پس دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کی شہادت کے برابر ہے!''

یعنی دونوں عورتیں شاہدہ بھی ہیں اور دونوں کی شہادت مل کر ایک مرد کی شہادت کے برابر بھی ہے۔ یا یوں کہئے کہ دونوں میں سے ہر عورت کی شہادت شہادت تو ہے، لیکن مرد کی نصف شہادت جیسی جو اس فرمان رسول اللہ ﷺ کا ترجمہ ہے:
''ألیس شهادة المرأة مثل نصف شهادة الرجل ''
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کیا ایک عورت کی شہادت ایک مرد کی نصف شہادت جیسی نہیں''

صحابیات ؓ نے اعتراف کیا:
''بلیٰ!''
''کیوں نہیں(اے اللہ کے رسولؐ!)''

ہمارا مؤقف واضح ہےکہ ہم مساوات مرد وزن کے مغربی نطریہ کی حمایت پر تعاقب کرتے ہوئے نصاب شہادت میں عورت کی حیثیت پر بحث کر رہے ہیں۔ ہماری بحث شہادت کی کیفیت سے نہیں اور نہ وہ موضوع بحث ہے۔قرآن مجید کی متذکرہ بالا آیت نصاب شہادت کے بارے میں نص ہے کیونکہ آیت میں معاملہ قرض کی کتابت کی بات ہورہی ہے ، جس پر گواہ بناتے وقت دومردوں کو گواہ بنانے کا بیان ہے اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عوتوں کی متبادل صورت کا ذکر ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ موقع گواہی دینے کا نہیں، گواہ قرار دینے کا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ملاحظہ ہو:
﴿وَٱسْتَشْهِدُواشَهِيدَيْنِ مِن رِّ‌جَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَ‌جُلَيْنِ فَرَ‌جُلٌ وَٱمْرَ‌أَتَانِ...﴿٢٨٢﴾...سورۃ البقرۃ
کہ ''دو مردوں کو گواہ قرار دو، پس اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دوعورتوں کو، ان میں سے کہ تمہارے پسندیدہ گواہ ہیں ''

جب آیت بالا کا تعلق ہی کتابت اور گواہ مقرر کرنے سے ہے تو مسئلہ یہی زیر بحث ہے کہ دو مردوں کی عدم موجودگی میں، جو اصل نصاب شہادت میں، اب ایک مرد اور دو عورتیں نصاب شہادت ہوں گی۔ اور قرآن مجید کے الفاظ ''ممن ترضون من الشہدآء'' سے ظاہر ہے کہ دونوں عورتیں شاہدہ ہوں گی، خواہ ایک کی شہادت کا معیار مرد کی نصف شہادت ہو۔ پھر ''أَن تَضِلَّ إِحْدَىٰهُمَا فَتُذَكِّرَ‌ إِحْدَىٰهُمَا ٱلْأُخْرَ‌ىٰ'' کے الفاظ سے دو عورتوں کو ایک مرد کے قائم مقام رکھنے کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ ان میں سے ایک بھٹکنے پر دوسری تذکار کا کام کرے گی۔ واضح رہے کہ یہ ایک مرد کی بجائے دو عورتوں کو گواہ قرار دینے کی علت ہے، نہ کہ کسی ایک کے شاہدہ اور دوسری کے مذکرّہ بتانے کی تعیین یہاں مقصود ہے! اپنے تعاقب میں صاحب مضمون عورتوں کی تعداد (نصاب شہادت )کی واحد علت ''أَن تَضِلَّ إِحْدَىٰهُمَا فَتُذَكِّرَ‌ إِحْدَىٰهُمَا ٱلْأُخْرَ‌ىٰ'' کو قرار بھی دے چکے ہیں، گویا وہ خود تسلیم کرچکے ہیں کہ یہاں بحث نصاب کی ہے کیفیت شہادت کی نہیں۔ 7

بعض مفسرین نے اگرچہ یہاں فقہی بحث کرتے ہوئے دونوں کو شاہدہ اور دونوں کو مذکرّہ قرار دیا ہے۔ لیکن یہ بحث نص (سیاق آیت) سے اضافی چیز ہے جبکہ اصل نص (نصاب شہادت) میں ضلال و تذکار ، دو عورتوں کو ایک مرد کے قائم مقام کرنے کی علت ہے۔ ملاحظہ ہو8

او رہماری اس بات کی تائید خود بزرگ موصوف نے احادیث سے بھی بطور نص کی ہے۔ 9

خلاصہ یہ کہ آیت مذکورہ بالا دونوں حدیثوں سے نصاب شہادت میں صحیح مؤقف حسب ذیل ہے:
1۔ دو مرد نہ ہونے کی صورت میں ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنایا جاسکتا ہے۔
2۔ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہوگی۔
3۔ ایک عورت کی گواہی مرد کی نصف گواہی جیسی ہوگی۔
4۔ ایسی صورت میں ہر عورت شاہدہ ہے یعنی مکمل نصاب میں اس کی گواہی ایک شہادت شمار ہوگی۔ ایسا نہیں کہ جب تک دوسری عورت کی شہادت ساتھ شامل نہ ہو تو پہلی گواہی شہادت ہی شمار نہ ہو۔

اگرچہ علماء نے شہادت کی جو (اضافی) کیفیت واضح فرمائی ہے، اس کی رُو سے دونوں ایک وقت میں اکٹھی شہادت دیں گے، دونوں کے شاہدہ ہونے کے باوجود صورت شہادت ایسی ہوگی کہ باہمی یاددہانی ہوتی رہے۔ بالفرض اگر دو مردوں کو اکٹھے کرکے اس طرح بیان لیا جائے تو وہ دونوں اکٹھے بیٹھ کر اپنے بیان سے ایک دوسرے کو یاددہانی کا کام بھی کریں گے لیکن یہ نہیں ہوگا کہ اس طرح سے دونوں کی شہادت علیحدہ شہادت شمار نہ ہو۔ گویا دو عورتوں کے اکٹھے مل کر شہادت دینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر عورت کی علیحدہ شہادت نہ ہو اور دونوں کا بیان مل کر شہادت مکمل نہ ۔فافهم و تدبر!

الغرض، آپ نے دیکھا کہ عورت کو مرد کے برابر مقام دینے کی ناکام کوشش میں عورت اپنے مقام سے بھی گر گئی، یوں کہ اس کی شہادت اکیلے شہادت ہی نہ رہی بلکہ ''دونوں مل کر شہادت کو مکمل کریں گی'' یا یوں کہیے کہ عورت کی محبت میں عقلمند مرد کی عقل یوں جاتی رہی کہ عورت کو، مرد کے برابر کرنےکے شوق میں، اس کے اپنے مقام سے بھی محروم کردیا۔اس سے اکیلے شاہدہ ہونے کا حق بھی چھین لیا۔ سچ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے:
''مارأیت من ناقصات عقل و دین أذھب للب الرجل الحازم من إحداکن!''
کہ ''میں نے نہیں دیکھا کہ باوجود عقل و دین کے نقصان کے عقلمند مردوں کی مت مارنے والی تم (عورتوں) سے بڑھ کر کوئی ہو!''10

شہادت کی تعریف اور تکمیل:
چونکہ تعاقب کرنے والے بزرگ قرآن مجید میں دو عورتوں کے نصاب شہادت کے بیان میں ''من الشہدآء'' کے لفظ سے پریشان ہیں کہ اس لفظ سے ہر عورت کی شہادت (نہ دونوں کے مل کر ایک شہادت) ثابت ہوتی ہے اس لیے انہوں نے مذکرّہ کو بھی من وجہ شاہدہ(i) کا نام دینے کے لیے شہادت کی ایک نئی تعریف گھڑی ہے کہ ''مشاہدہ سے جو علم حاصل ہوتا ہے، اس کو بیان کرنے کا نام شہادت ہے۔'' حالانکہ یہ تعریف غلط ہے۔ مثلاً ہم اللہ تعالیٰ کے واحد الٰہ ہونے کی شہادت دیتے ہیں جو مشاہدہ سے نہیں، وحی سے ہے۔ گویا ان کے نزدیک ہمارا کلمہ شہادت ''لا إلٰه إلا اللہ محمد رسول اللہ'' کلمہ شہادت نہیں ہے۔

پھر کسی کے شاہدہ ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ واقعہ کو مکمل طور پر بیان کرے، بلکہ واقعہ کا کوئی ایک جزء بیان کرنا بھی شہادت ہے، اس لیے یہ تصّور کہ دونوں مل کر ایک شہادت کو مکمل کریں گی غلط ہے ۔(ii) بلکہ اگر دونوں شہادت کا ایک جزوی حصہ بیان کرتی ہیں تو پھر بھی ہر ایک شاہدہ ہے۔ جو لوگ شہادت کے عملی انداز سے واقف ہیں، ان کے ہاں یہ بات معروف ہے۔ دراصل تعاقب کرنے والے بزرگ بحث کو انداز شہادت کی طرف لے جانا تو اس لیے چاہتے ہیں کہ ایک کو شاہدہ ، دوسری کو مذکرّہ ثابت کرسکیں حالانکہ اس سے دونون کا شاہدہ ہونا ثابت ہورہا ہے جو ہمارے مؤقف کی تائید ہے۔ واضح رہے کہ صاحب موصوف نے اپنے تعاقب کے آخر میں احادیث کے عنوان سے جب احادیث کو نصاب شہادت پر نص قرار دیا ہے تو ہمارا مؤقف نہ صرف خود تسلیم کیا ہے بلکہ اسے سب کے نزدیک متفقہ مسئلہ قرار دیا ہے۔ گویا نصاب شہادت کی بحث میں موصوف اب ہم سے متفق ہوگئے ہیں اور یہی موضوع بحث تھا۔ شہادت کی کیفیت کی بحث ہم نے شروع ہی نہ کی ہے۔ ہمیں اس بحث میں خواہ مخواہ الجھایا جارہا ہے او رہمارا موقف وہ قرار دیا جارہا ہے جس کے ہم قائل نہیں۔

ہمارا مؤقف او راس کی غلط تعبیر :
''محدث'' اپریل 1983ء میں ہم اپنا مؤقف ان الفاظ میں بیان کرچکے ہیں:
''سوال یہ ہےکہ...... حکمت و مصلحت خواہ کچھ بھی ہو، شہادت کا انداز خواہ کوئی ہو، اس مذکورہ نصاب میں کچھ کمی بیشی ممکن ہے؟'' 11

گوییا ہمارا موضوع بحث نصاب شہادت کی بجائے انداز شہادت قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ اس بہانہ سےبحث کو الجھایا جاسکے۔

علاوہ ازیں، انداز شہادت میں ہمیں اس مؤقف کا قائل قرار دینے کی کوشش بھی کی گئی ہے کہ:
''ہر دو عورتیں الگ الگ شہادت دیں گی؟''

حالانکہ یہ دونوں چیزیں علیٰ رؤس الاشہاد ہمارے مؤقف کی غلط تعبیر ہیں۔ ہم انداز شہادت کی بحث نہیں کررہے او رنہ عورتوں ہی نے کسی انداز شہادت سے پریشان ہوکر جلوس نکالے تھے بلکہ وہ مرد و زن کے مغربی فتنہ پرور اور بے باکانہ مساوات کے تصور کی حمایت میں مظاہرہ کرنے اٹھی تھیں، جن کو دلاسہ دینے کے لیے وہ مضمون لکھا گیا جس پر تبصرہ کرنے کی سعادت ہمیں نصیب ہوئی!

اور نصاب شہادت پر بحث کرتے ہوئے بعض جگہ اپنے اسی مضمون میں ہم نے واضح طو رپر یہ اظہار کیا ہے کہ دو عورتیں اکٹھی گواہی دیں گی۔ 12
''ہاں اگر دو مرد نہ ملیں تو پھر بغرض سہولت ایک مرد اور دو عورتیں (مل کر گواہی دیں گی!'')

قارئین کرام! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ہمارے مضمون میں صراحتاً یہ بات موجود ہے کہ دونوں عورتوں کی گواہی مل کر ہوگی جبکہ ہمارے تعاقب میں ساری بنیاد ہی ہمارا یہ موقف قرار دے کر رکھی جارہی ہے کہ:
''مدیر محدث کا مؤقف یہ ہے کہ ہر دو عورتیں الگ الگ شہادت دیں گی!'' ع

ناقطہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہئے


جب بنیاد ہی درست نہیں تو اس بنیاد پر ہمارا تعاقب کیا معنی رکھتا ہے؟ کیا ا س سے یہ مفہوم نہیں ہوتا کہ صاحب مضمون کو ہم پر محض یہ غصہ ہے کہ ہم نے ان کے مضمون پر تبصرہ کیوں کیا ہے؟ پس اس موقع پر ہم ان کی توجہ اس فرمان الٰہی کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ:
﴿وَلَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شَنَـَٔانُ قَوْمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعْدِلُوا ٱعْدِلُواهُوَ أَقْرَ‌بُ لِلتَّقْوَىٰ...﴿٨﴾...سورۃ المائدہ
''کسی قوم سے دشمنی تمہیں اس بات پر مجبور نہ کردے کہ تم انصاف سے ہاتھ دھو بیٹھو، (نہیں بلکہ) عدل کرو، یہی بات تقویٰ کے بہت زیادہ قریب ہے۔''

ائمہ تفاسیر اور عورت کی شہادت:
ہم نے سطور بالا میں جومؤقف آیت شہادت کی تفسیر کے بارے میں اختیار کیا ہے، تقریباً جملہ مشہور ثقہ تفاسیر میں یہی مؤقف اختیار کیا گیاہے اور جو ہم متذکرہ بالا تین تفسیریں درج کرکے تیسری تفسیر کو راجح قرار دے چکے ہیں کہ دونوں عورتوں میں سے ہر عورت شاہدہ ہے اور دونوں کی شہادت ایک مرد کی شہادت کے برابر ہے۔ لیکن چونکہ اس کے برعکس ہمارا تعاقب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قریباً تمام ائمہ تفسیر نے اس موقف کی تردید کی ہے، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ائمہ تفسیر کا مؤقف واضح کردیا جائے، تاکہ معلوم ہوسکے کہ وہ کیا موقف رکھتے ہیں اور وہ کس تفسیر کی تردید فرما رہے ہیں۔

ہم پہلے بھی یہ نشاندہی کرچکے ہیں کہ تفسیر ابن کثیر کی ایک عبارت سے تعاقب کرنے والے کو شدید مغالطٰہ ہوا ہے لیکن جوش تعاقب میں ہمارا نقطہ ان کی سمجھ سے بالا رہا ہے، اس لیے چاہتے ہیں کہ موصوف کو ان کی غلطی کی وجہ کھول کر بتا دیں۔ حافظ ابن کثیر کی مکمل عبارت ہم اپنے تبصرہ میں نقل کرچکے ہیں اب اس کے متعلقہ حصوں کا اعادہ کریں گے۔

''وإنما أقیمت المرأتان مقام الرجل لنقصان عقل المرأة........ ومن قال إن شهادتها معها تجعلها کشهادة ذکر فقد أبعد والصحیح الأوّل۔ واللہ أعلم!''

''اور دو عورتیں ایک مرد کے قائم مقام صرف عورت کی عقل کے نقصان کی وجہ سے بنائی گئی ہیں '' (پھر حافظ ابن کثیر نے صحیح مسلم کی ایک حدیث، جس میں عورت کی عقل کے نقصان کی دلیل یہ دی گئی ہے کہ ''دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کی شہادت کے برابر ہے'' او ریہی ہمارے تبصرہ کا عنوان بھی ہے۔ لکھ کر کتابت و ثیقہ او راندراج گواہان کی بحث مکمل کی ہے، جس کے بعد ایک تفسیر، جو امام سفیان بن عینیہ اور ابوعمرو بن علاء سے منقول ہے، ذکر کی ہے ۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ، ''اور جس نے کہا کہ دوسری عورت کی شہادت پہلی عورت کی شہادت کے ساتھ مل کر اسے مذکرّ کی شہادت کی طرح بنا دے گی، اس نے دور کی بات کہی ہے جبکہ صحیح پہلی تفسیر ہے۔ واللہ أعلم!''

یعنی ابن کثیر کے ہاں وہی تفسیر صحیح ہے جو پہلے مذکور صحیح حدیث (مسلم) سے ثابت ہوچکی ہے کہ شہادت میں دو عورتیں ایک مرد کے قائم مقام ہیں۔ قارئین ملاحظہ فرمائیں کہ ابن کثیر نے کس وضاحت کے ساتھ ہماری بیان کردہ تفسیر کی تائید فرمائی ہے، لیکن صاحب موصوف مرجوح تفسیر کو سرسری نظر سے دیکھنے کی وجہ سے اس کی اصلیت سمجھنے میں غلطی کھا گئے ہیں۔

گہری توجہ نہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ انہوں نے ''کشهادة ذکر'' کی بجائے ''کشهادة رجل'' کےالفاظ نقل فرمائے ہیں اور اس حد تک اپنی غلطی وہ تسلیم بھی کرتے ہیں۔ لیکن اس سے مفہوم میں جس بڑی تبدیلی کا وہ شکار ہوئے ہیں اس کا استدراک وہ ابھی تک نہ کرسکے ہیں، جبکہ جذباتیت اور واویلا کا طعنہ ہمیں دے رہے ہیں۔ اب ہم موصوف کے لیے، اس لفظ کی تبدیلی سے جو بڑا تغیر اور شدید غلط فہمی پیدا ہوئی ہے، اس کو تفصیلاً بیان کرتے ہیں:
سفیان بن عینیہ او رابوعمرو بن علاء وغیرہ کی جس تفسیر کا ردّ ابن کثیر وغیرہ کررہے ہیں، اس میں اصل اہمیت ''ذکر'' مادہ سے لغوی مراد کی ہے، جو ''رجل'' سے متعلق نہیں ہے کیونکہ جن لوگوں نے ''ذکر'' جس سے ''تذکر'' ماخوذ ہے، مراد مذکرّ بنانا لیا ہے، انہوں نے تفسیر یوں کی ہے کہ شہادت میں دو عورتوں کو اس لیے جمع کیاگیا ہے کہ دوسری عورت پہلی عورت کو مذکرّ بنا دے گی، یعنی دونوں کی مجموعی شہادت مذکرّ کی شہادت جیسی یا اس کے بمنزلہ ہوگی۔ گویا ہر ایک کی گواہی شہادت ہونے کی بجائے دونوں کی مجموعی گواہی شہادت ہوگی جو بمنزلہ ایک مرد کی شہادت کے ہے۔ غور فرمائیے، کیا یہ وہی تفسیر نہیں ہے جس کو موصوف نے اب دوسری انتہاء کے طور پر اختیار کرلیا ہے او رجسے امام شوکانی نے اپنی تفیسیر میں واضح کرکے اس کی تردید بھی بایں الفاظ فرمائی ہے:iii

''وقال سفیان بن عینیة: معنی قوله (فَتُذَكِّرَ‌ إِحْدَىٰهُمَا ٱلْأُخْرَ‌ىٰ) تصیرھا ذکرا، یعني أن مجموع شهادة المرأتین مثل شهادة رجل واحد۔ وروي نحوہ عن عمرو بن العلاء۔ ولا شك أن ھٰذا باطل لا یدل علیه شرع ولا لغة ولا عقل!''
''سفیان بن عینیہ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ''فَتُذَكِّرَ‌ إِحْدَىٰهُمَا ٱلْأُخْرَ‌ىٰ'' کا معنی یہ ہےکہ دوسری عورت پہلی عورت کو مذکر میں تبدیل کردے گی، یعنی دونوں عورتوں کی مجموعی شہادت ایک مرد کی شہادت جیسی ہے۔ اسی کی مانند تفسیرابو عمرو بن علاء سےبھی منقول ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تفسیر از روئے شرع اور لغت و عقل باطل ہے!''

ملاحظہ فرمایا آپ نے، کیا امام شوکانی  واضح طور پر اس تفسیر کا ردّ نہیں کررہے جو صاحب موصوف نے اپنا موقف تبدیل کرکے اب اختیار کرلی ہے او رجسے وہ بزعم خود ہماری تردید میں نقل کررہے ہیں؟ حالانکہ اس قبل امام شوکانی واضح طور پر وہی تفسیر خود کررہے ہیں جو ہم نے بیان کی ہے، وہ لکھت ہیں :
''وھٰذا الآیة تعلیل لاعتبار العدد في النسآء أي فلیشهد رجل و تشهد امرأتان عوضا عن الرجل الآخر لأ جل تذکیر إحداھما للأخریٰ إذا ضلت..... وأبهم الفاعل في تضل و تذکر لأن کلا منهما یجوز علیه الوصفان: فالمعنیٰ إن ضلت ھٰذه ذکرتها ھٰذه وإن ضلت ھٰذاه ذکرتھا ھٰذہ لا علی التعيین'' 13
کہ '' یہ آیت عورتوں کے نصاب شہادت میں گنتی کی علت ہے۔ یعنی (مردوں کی عدم موجودگی میں) ایک مرد اور دو عورتیں، دوسرے مرد کے عوض گواہ بننی چاہیئیں تاکہ دونوں میں سے ایک ، دوسری کے بھٹکنے پر تذکار کا کام کرے..... پس مراد یہ ہے کہ اگر یہ بھٹکے تو اسے وہ یاد کرائے، اور اگر وہ بھٹکے تو اسے یہ یاد کرائے۔ (شاہدہ اور مذکرہ) کی تعیین کے بغیر!'' او ریہی بات ہم نے بھی کہی تھی۔14

امام شوکانی کی مذکورہ بالا عبارت سے تین باتوں کی طرف ہم توجہ دلانا مناسب سمجھتے ہیں:
1۔آیت شہادت نصاب شہادت کے بارے میں نص ہے نہ کہ شہادت کی کیفیت میں۔ واضح رہے کہ یہی موضوع بحث ہے او ریہی ہمارا موقف ہے۔
2۔ تضل اور تذکر میں مذکرہ اور شاہدہ کی تعیین نہیں ہے۔ اس ابہام کی بناء پر دونوں شاہدہ ہیں اور دونوں مذکرہ! دیکھیے کہ کس طرح ہماری تفسیر کی تعبیر ہورہی ہے او رایک کے شاہدہ اور دوسری کے مذکرہ ہونے (جس کو باربار صاحب مضمون نے دوہرایا ہے) کی تردید!

3۔ ''أَن تَضِلَّ إِحْدَىٰهُمَا فَتُذَكِّرَ‌ إِحْدَىٰهُمَا ٱلْأُخْرَ‌ىٰ'' شہادت کی کیفیت کا بیان نہیں بلکہ نصاب شہادت میں ایک مرد کے قائم مقام دو عورتوں کے گواہ بننے کی وجہ بیان ہوئی ہے کہ ایک عورت کے بھٹکنے کا امکان زیادہ ہے اس لیے اس کے تذکار کے لیے دوسری کی ضرورت ہے۔ چونکہ بھٹکنے کا امکان دونوں میں عورتوں ہونےکی وجہج سے ہے، اس لیے دونوں ہی مذکرہ ہیں۔ امام شوکانی نے اس کی مزید وضاحت اسی صفحہ پر بعد میں ''يَقَعُ بَيْنَهُمَا مُتَنَاوِبًا'' (کہ یہ ''ضلال اور تذکار دونوں کے درمیان باری باری ہوگا) کے الفاظ سے بھی کی ہے۔ اسی نکتہ کی وضاحت ابوبکر بن العربی نے ''أَن تَضِلَّ إِحْدَىٰهُمَا فَتُذَكِّرَ‌ إِحْدَىٰهُمَا ٱلْأُخْرَ‌ىٰ'' کے تحت یوں کی ہے:
''فلما کرر إحداھما أفادتذکرة الذاکرة للغافلة و تذکرة الغافلة للذاکرة أیضا لو انقلبت الحال فیھما بأن تذکر الغافلة و تغفل الذاکرة وذٰلك غایة في البیان'' 15
''پس جب اللہ تعالیٰ نے ''إحداھما'' کا تکرار فرمایا ہے تو اس نے غفلت کرنے والی کو یاد رکھنے والی کے تذکار او ریاد رکھنے والی کو غفلت کرنے والی کے تذکار کا فائدہ دیا۔ اگر ان دونوں میں حالت برعکس ہو کہ غفلت کرنے والی یاد رکھتی ہو، او ریاد رکھنے والی غافل ہوجائے۔ او ریہ انتہائی بیان ہے!''

ابن العربی نے یہ بات ایک بلاغی نکتے کے طورپر بیان کی ہے۔ امام شوکانی نے یہی بات دوسرے رنگ میں پیش کردی ہے۔

مذکورہ بالا دونوں تفاسیر میں بظاہر دونوں عورتوں کا شاہدہ اور مذکرہ ہونا بیان ہوا ہے جو ہمارا پیش کردہ تفسیر کی واضح تائید ہے، لیکن دونوں مفسروں نے اسے بلاغی اور اضافی نکتہ کے طور پر بیان کیاہے۔ اگر شہادت کی کیفیت مقصود ہوتی تو وہ شہادت کی تفصیلی کیفیت بھی بیان کرتے۔ بہرصورت یہ موضوع بحث نہیں ہے، تاہم یہ ذکر ہم اس بناء پر کررہے ہیں کہ صاحب موصوف نے خواہ مخواہ یہاں کیفیت شہادت کا موضوع چھیڑ دیا ہے۔

یہاں ہم قارئین کو اس بات کی طرف متوجہ کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ ابن کثیر وغیرہ جس تفسیر کا ردّ کررہے ہیں او رپھر اس تفسیر (إن شهادتها معها تجعلها کشهادة ذکر) کا جو مفہوم پیش کررہے ہیں، اس کے سامنے اگر احادیث رسول اللہ ﷺ (''فشهادة امرأتین تعدل شهادة رجل'' اور ''ألیس شهادة المرأة مثل نصف شهادة الرجل'') رکھ لیں تو واضح ہوگا کہ خود حدیث رسولؐ پیش کرکے اور آیت کو نصاب شہادت میں نص بتا کر یہ مفسرین کبھی بھی احادیث کے مطابق تفسیر کا ردّ نہیں کرسکتے بلکہ صاحب موصوف کو دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کی شہادت کے برابر ہونے اور دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کی شہادت جیسی ہونے یا ا س کی شہادت کے بمنزلہ ہونے کے فرق کا احساس نہیں ہوا۔ اس لیے دونوں کو ایک ہی مفہوم دے کر دونوں کا ردّ فرما رہے ہیں جس کی زدّ حدیث رسول اللہ ﷺ پر پڑتی ہے کیونکہ حدیث رسول اللہ (ﷺ) سے ہر عورت کی گواہی کا شہادت ہونا ظاہر ہوتا ہے، جبکہ مذکورہ بالا مرجوح تفسیر سے دونوں کا مل کر مرد کی ایک شہادت جیسا ہونا لازم اتا ہے، جو درست نہیں ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جس کی بناء پر ''محرم سے مجرم کردینے '' کی توجیہ صاحب موصوف کے ذہن میں نہ آسکی اور فرما رہے ہیں کہ:
''کشهادة ذکر'' کی بجائے ''کشهادة رجل'' کے الفاظ سے کوئی اہم تغیر واقع نہیں ہوا۔''

حالانکہ اگر ''رجل'' کی بجائے ''ذکر'' کے مدار تفسیر ہونے کا پاس رکھتے تو اس بڑے مغالطٰے کا شکار نہ ہوتے او رنہ ہی اس شکوہ کی نوبت آتی کہ:
''مسلک کے ٹھیکیدار یہ بتا سکتے ہیں کہ ہم سے کون سا جرم ہوا ہے جس کے انسداد کے لیے جماعت اہلحدیث کے علماء کے دروازوں پر الحذر او رالمدد کی دستک دی گئی ہے؟ ''

جبکہ اس میں فرمان رسول اللہﷺ کو نظر اندا زکرنے کا جرم بھی شامل ہے۔

''فتذکر'' کی دو تفسیریں اور دو قراء تیں:
''فتذکر'' کی دو قراء توں کا مسئلہ اگرچہ موضوع بحث سےبراہ راست متعلق نہیں تاہم صاحب موصوف نے علمی برتری کے حصول کے لیے اسے خصوصی اہمیت او ربے سُود طوالت دی ہے۔ حالانکہ بحث کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ اسے اصل موضوع تک محدود رکھا جائے۔ اس سے ہٹ کر دوسرے موضوعات کو اہمیت دینا دراصل قارئین کو ذہنی طور پر الجھانے کا باعث ہوتا ہے، جو ظاہر ہے کہ اپنے مؤقف کی کمزوری کے احساس سے ہی اختیار کیا جاتا ہے۔ تاہم اگر انہوں نے یہ بحث چھیڑ ہی دی ہے تو ہم اسے بھی واضح کرکے اس ذہنی الجھاؤ کو دو رکرنا چاہتے ہیں۔

ائمہ تفسیر اس بات کو بری اہمیت دیتے ہیں کہ اگر کسی جگہ تلاوت آیات میں زیادہ قراءتیں ہوں تو ہر قراء ت کو علیحدہ علیحدہ معافی پر محمول کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ تفسیر نے ''فتذکر'' کی (ابوعمرو بن العلاء کی وہ ) تفسیر ، جو ''ذکر'' سے ماخوذ کرکے ''فتذکر'' پڑھنے سے کی گئی ہے، اس کسی تردید کی ہے۔ چونکہ یہ تفسیر ''فتذکر'' پڑھ کر کی گئی تھی، اس لیے بظاہر یہ اس قراءت کا ردّ نظر آتا ہے، کیونکہ ابوعمرو بن العلاء کا شمار قراء سبعہ میں ہے اور اس انداز سے بعض قاریوں اور ان کی قراءتوں کا ردّ جلیل القدر ائمہ سے بھی ملتا ہے، اس لیے اس سلسلہ میں صاحب موصوف کا ذاتی حملوں پر اتر آنا مستحسن قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اگرچہ ہم ایسے ایک طالب علم کا شیوہ یہی ہونا چاہیے کہ وہ درست توجیہ بننے کے باوجود اس بارہ میں اپنی عبارت کے اجمال کی بناء پر اپنی بات پراصرار نہ کرے کہ ''فتذکر'' پڑھنا غلط ہے!'' حالانکہ ''فتذکر'' پڑھنا صرف اس صورت میں غلط ہے جبکہ اس کی متذکرہ بالا تفسیر کی جائے مطلقاً غلط نہیں ہے۔ او ریہی بات صاحب موصوف بھی اپنے مضمون میں ان ائمہ کی طرف سے بیان فرما رہے ہیں جنہوں نے ''فتذکر'' قرأت کی تردید کی ہے۔ موصوف کے اپنے الفاظ ملاحظہ فرمائیے:
''اس بناء پر ائمہ تفسیر نے اس قراءت کی تردید کی ہے کہ اس قراءت کی رو سے معنی یہ ہے کہ ہر دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کی شہادت جیسی ہے۔ ائمہ تفسیر میں سے کسی امام نے ''فتذکر'' تخفیف کے ساتھ قراءت کی مطلق تردید نہیں کی ہے!'' فافهم ولا تعجل! واللہ أعلم۔

آخر میں ، اگر جان کی امان پائیں تو اس جرأت کی معافی چاہتے ہیں کہ کاش صاحب موصوف حدیث رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں اپنی اس ذاتی رائے کی غلطی تسلیم فرمائیں جس کی کوئی توجیہ ممکن نہیں۔اس لیے کہ غلطی کو غلطی ماننے سے سربلندی ملا کرتی ہے۔ غلط پر اڑنا علماء کا کام نہیں۔ بالخصوص فرمان رسول اللہ ﷺ کو بلاحیل و حجت تسلیم کرنا ہی دینی او راخروی سعادتوں کا ضامن ہے۔ ویسے بھی عصمت صرف رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہے، علماء کو نہیں۔ یہ بات ، جتنی جلدی وہ سمجھ جائیں گے اسی قدر فائدے میں رہیں گے۔ وآخرد عوانا أن الحمدللہ رب العلٰمین!


حوالہ جات
1. الکامل للمبرد کتاب الخوارج
2. ص725
3. ''الاعتصام'' 18 مارچ1982ء زیر عنوان ''عورت کی شہادت کا مسئلہ''
4. ابتدائیہ مذکورہ مضمون ملخصاً۔ الاعتصامiv 18 مارچ 1983ء
5. مسئلہ شہادت اور مدیر محدث، حوالہ مذکور
6. صحیح مسلم
7. محدث جون 1983ء ص10
8. ملاحظہ ہو فتح القدیر ج1 ص302، احکام القرآن ابن العربی ج1 ص256
9. ملاحظہ ہو مضمون '''مسئلہ شہادت اور مدیر محدث''۔محدث ص13
10. محدث اپریل 1983ء ص7 بحوالہ تفسیر ابن کثیر
11. ص3
12. ملاحظہ ہو ، ''محدث'' اپریل 1983ء ص69
13. فتح القدیر، ج1 ص302
14. دیکھئے محدث اپریل 1983ء ص5 سطر 10
15. احکام القرآن ج1 ص256

i. پہلے یہ صرف مذکرّہ تھی۔فافهم!
ii. صاحب موصوف نے تکمیل شہادت کے سلسلے میں ماضی قریب کے دو بزرگوں کی عبارت سے بھی دھوکا کھایا ہے، حالانکہ تکمیل شہادت اور عورت کی مستقل شہادت میں مضافات نہیں ہے اس لیےکہ عورت کی مستقل شہادت کے معنی یہ ہیں کہ ہر عورت کا شمار شاہدہ کے طور پر ہوگا اگرچہ مقدمہ میں اسے شہادت کی تکمیل نہیں قرار دیا جاسکتا کیونکہ شہادت کی تکمیل کے معنے یہ ہیں کہ مزید شہادت کی ضرورت نہیں، حالانکہ صرف ایک مرد یا متبادل دو عورتوں کی شہادت کو مقدمہ میں شہادت کی تکمیل نہیں کہا جاسکتا، بلکہ شہادت اس وقت مکمل سمجھی جائے گی جب گواہ نصاب شہادت کو پہنچ جائیں۔استاذ احمد مصطفی المراغی او رمولانا اشرف علی تھانوی کی عبارتوں میں شہادت کا مضمون مکمل ہوجانے کے یہی معنی ہیں۔ فتدبّر ولا تعجل!
iii. تفسیر کشاف میں امام لغت زمخشری نے اس تفسیر کا مفہوم اور ردّ یوں کیا ہے: ''ومن بدع التفاسیر فتذکر فتجعل إحداھما الأخری ذکرا یعني أنھما إذ اجتمعتا کانتا بمنزلة ذکر!'' ''اور بدعی تفاسیر سے یہ ہے کہ فتذکر إحداھما الأخری'' کا معنی ''تجعل إحداھما الأخری ذکرا'' ہو یعنی وہ دونوں عورتیں جب جمع ہوجائیں گی تو بمنزلہ ''مذکر'' ہوں گی۔
یہ بھی اس بات کا ردّ ہےکہ دونوں کی شہادت مل کر ایک شہادت نہیں ہوگی کہ بمنزلۃ شہادت مذکر ہو بلکہ ہر ایک کی گواہی مستقل شہادت شمار ہوگی خواہ کیفیت کے اعتبار سے دونوں مذکرہ بھی ہو۔
iv. یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ خود مدیر ''الاعتصام'' حضرت مولانا محمد عطاء اللہ حنیف حفظہ اللہ تعالیٰ ''الاعتصام'' میں شائع ہونے والے اس آرٹیکل کے شائع ہونے سے ایک ماہ قبل اخبارات کو اپنا بیان جاری کرچکے تھے (جو ''الاعتصام'' ہی کی 25 فروری 1983ء کی اشاعت میں بھی شامل ہوا) کہ خواتین کا یہ مظاہرہ نص قرآنی کے خلاف اور قرآن مجید سے بغاوت و انحراف ہے۔ مولانا نے واشگاف الفاظ میں یہ اعلان فرمایاکہ ''دوعورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہے۔'' او ریہ نص قرآنی ہے۔ لہٰذا ''الاعتصام'' میں اس مضمون کی بعد ازاں اشاعت سے یہ دھوکا نہ ہونا چاہیے کہ خدانخواستہ ''الاعتصام'' کا اپنا مؤقف بھی صاحب مضمون کی تائید میں ہے۔