تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ سرزمین ہند پر بہت سے ایسے عربی زبان کے علماء، شعراء اور ماہرین لغت و ادب پیدا ہوئے۔ جنہوں نے علوم دین اور لغت وادب کی ترقی و ترویج کے لیے شاندار خدمات سرانجام دیں ہیں۔ علماء او رمحققین نے ان کی علمی اور ادبی تخلیقات سے خوب استفادہ کیا۔ ان کا یہ فیض عام صرف ملک ہند تک محدود و مسدود نہیں رہا، بلکہ پورے عالم اسلام نے ان کےچشمہ علم وفضل سے اپنی تشنہ لبی دور کی۔ تاریخ، عربی ادب و لغت کی کوئی بھی کتاب اٹھاکر دیکھئے تو اس میں یقیناً اس حقیقت کا اعتراف و اقرار ملے گا۔ ہندی علماء کے احوال و آثار پر مستقل تذکرے بھی لکھے گئے ہیں۔ عربی ادب کے صاحب طرز ادیب مولانا ابوالحسن علی ندوی نے اپنی ایک عربی تصنیف میں ہندی علماء، ادباء او رماہرین لغت کا بایں طور تذکرہ کیاہے۔

''عربی ادب میں ہند کا ماضی بہت روشن و درخشاں ہے۔یہاں پراسے بہت ترقی و عروج حاصل ہوا۔ عربی زبان میں لکھنے والے عظیم مصنفین، ادباء اور شعراء کی ایک معتدبہ تعداد موجود ہے۔مثلاً علامہ صنعانی لاہوری (متوفی 650ہجری) جو العباب الزاخر، مجمع البحرین، کتاب الأضداد في اللغة، مشارق الانوار کے مصنف ہیں۔ قاضی عبدالمقتدر دہلوی (متوفی 791ہجری) صاحب القصیدة اللامیة، مولانا احمد تھانیسری متوی 820 ہجری صاحب قصیدہ دالیة، علامہ محمود جونپوری (متوفی 1062 ہجری) مصنف الفرائد في علوم البلاغة، شیخ الاسلام امام ولی اللہ بن عبدالرحیم دہلوی (متوفی1176ہجری) مصنف حجة اللہ البالغة، عظیم شاعر و مؤرخ سید غلام علی ازا دبلگرامی (متوفی 1194ہجری) مصنف السبع السیارة و سبحة المرجان۔مشہور لغوی سید مرتضیٰ بلگرامی زبیدی (متوفی 1205ہجری) مصنف تاج العروس و تکمللة القاموس، شیخ محسن بن یحییٰ ترھتی مصنف الیانع الجنی۔ علامہ نواب صدیق حسن خاں امیر ریاست بھوپال (متوفی 1307ہجری) مصنف مؤلفات کثیرہ۔1

میں مولانا ابوالحسن علی ندوی کی فہرست میں مزید عربی علم و ادب کے اہل قلم کا اضافہ کرتا ہو۔مثلاً علامہ ابوالعلیٰ عبدالرحمٰن مبارکپوری مصنف تحفة الاحوذی، شرح جامع ترمذی، علامہ شمس الحق عظیم آبادی مصنف عون المعبود، شرح سنن ابی داؤد او رعلامہ عبدالعزیز سلفی میمنی راجکوٹی مصنف ابوالعلاء و ماإليه و محقق سمط اللآلي شرح کتاب الأمالي لأبي علي القالي ۔2

یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ نواب صدیق حسن خان علماء کے اس ہراول دستے میں شامل ہیں، جنہوں نے دنیائے اسلام میں اسلام کی خدمت او رکلمة حق کی سربلندی کے لیے اپنا سب کچھ لٹا دیا۔ اب میں ان خدمات اور کوششوں کا ذکر کرتا ہوں۔ جو انہوں نے دین و علم کے میدان میں انجام دیں تاآنکہ آپ کا نام جریدة عالم پر ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔ ع


ثبت است بر جریدة عالم دوام ما

نواب سید صدیق حسن خان کی ولادت 1832عیسوی کو شہر قنوج میں ہوئی جو ہندوستان کے قدیم او رمشہور شہروں میں سے تھا۔ اسی شہر میں آپ نےنشوونما پائی او رابتدائی تعلیم حاصل کی۔ آپکے والد ماجد حضرت علامہ ابواحمد حسن قنوجی ایک زبردست عالم دین اور ماہر شریعت تھے۔براہ راست کتاب و سنت کی اقتداء و استدلال کے قائل اور تقلید شخص کے تاریک تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ نہایت پاکیزہ سیرت خداترسی مؤمنہ قانتہ خاتون تھیں۔

ابھی آپ کی عمر پانچ سال کی تھی کہ آپ کے والد ماجد نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ انہوں نے سوائے ایک دینی کتب خانہ کے کوئی اور جائیداد نہ چھوڑی۔ آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کی تعلیم و تربیت کے فرائض بحسن و خوبی انجام دیئے۔ ان کے حسن تربیت نے نواب صاحب کی ذات و شخصیت میں بہت گہرا اثر چھوڑا۔ آپ نے ابتدائی عربی و فارسی کی تعلیم اپنے شہر میں ہی حاصل کی۔پھر مزید تحصیل علم کی خاطر دہلی تشریف لائے۔ جوملک ہند کا دارالحکومت اور اسلامی علوم کی تدریس و تحصیل کا عظیم الشان مرکز تھا۔ یہاں آپ نے دو سال کا عرصہ تحصیل علم میں گزرا۔ مفتی محمد صدر الدین خان کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا۔ آپ نے ان سے تمام فنون عقلیہ و نقلیہ او رادب کے درس لیا۔ مزید برآں ان کا اس دوران کئی اور علماء و مشائخ سے بھی تعارف ہوا او ران سے وسیع استفادے کا آپ کو موقع ملا۔ انہوں نے آپ کو زبانی اور تحریری طور پر اپنے علوم و معارف کے روایت کرنے کی عام اجازت دے دی۔3 جس کی مکمل تفصیل ''سلسلة العسجد'' میں ملتی ہے۔ ان عظی المرتبت علماء و فضلاء میں شیخ محمد یعقوب دہلوی، شیخ محمد اسحاق دہلوی، شیخ عبدالحق بن فضل اللہ او رقاضی حسین بن محسن انصاری یمانی شامل ہیں۔4

تحصیل علوم سے فراغت کے بعد آپ دہلی سے واپس اپنے شہر قنوج آگئے۔ پھر آپ نے مزید طلب علم او رطلب معیشت کی خاطر ریاست بھوپال کی طرف سفر اختیار کیا۔ بھوپال اسلامی تہذیب و ثقافت کا ایک قدیم العہد مرکز چلا آرہا تھا۔ اس کی تاریخ بزرگ شخصیتوں اور مردان کار کے کارہائے نمایاں سے خاصی روشن ہے۔ مبدأ فیوض نے صدیق حسن خاں کو اعلیٰ ذہنی صلاحیتیں ودیعت کی تھیں۔ بہت جلد آپ کی شہرت ریاست بھوپال کے رؤسا، امراء اور حکام تک پہنچ گئی۔ وہ آپ کی خاندانی وجاہت، علمی شخصیت او رذہنی قابلیت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ جب نواب شاہجہان بیگم والیہ بھوپال کے پہلے خاوند نواب باقی محمد خان فوت ہوگئے تو انہوں نے سید صدیق حسن خان کی شہرت اور علوم اسلامیہ میں اعلیٰ قابلیت کے پیش نظر ان سے نکاح ثانی کرلیا۔ آپ کو اس بناء پر ریاست بھوپال کے تمام اعزازات، خطابات، مراتب و مدارج، جاگیریں اور مملکت کا انتظام و انصرام، عساکر و جیوش کی قیادت اور رؤسا ء وامراء ریاست کی نظارت و سیادت وغیرہ امور حاصل ہوگئے۔5

باوجود اس حقیقت کے کہ نواب صدیق حسن خان بھوپال کی اسلامی ریاست کے سربراہ بن چکے تھے مگر ان کی حاکمانہ مصروفیات اسلام کی خدمات کی راہ میں کبھی حائل نہ ہوئی تھیں بلکہ ریاست میں دین محمدﷺ کو عملی طور پر ایک بالاتر حیثیت اور سیاسی مقام حاصل ہوگیا۔ قلم و قرطاس کی سرسراہٹوں کے ساتھ ساتھ سیف و سنان کی جھنکار بھی شامل ہوگئی۔ آپ نے خزانہ عامرہ کے بڑے حصے کو بلاد عربیہ سے علمی کتابوں کے جمع کرنے اور نئے نئے موضوعات پر کتابیں تالیف کرنے پر صرف کیا۔ تاکہ عالم اسلام میں دینی علوم و حقائق کی بہتر اور موثر طور پر ترویج و اشاعت ہوسکے۔نواب صاحب مرحوم زندگی کا ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر تصنیف و تالیف اور نشرواشاعت علوم دینیہ میں ہم تن مصروف رہے حتیٰ کہ اس جہاد فی سبیل اللہ میں اپنی جان 1307ھ کو اپنے خالق حقیقی کے سپرد کردی۔جعل اللہ مثواہ نورا و ضیاء!

نواب صاحب کا دور دین میں بدعات و خرافات اور اوہام پرستی کا دور تھا۔انگریز کے ہاتھوں سلطنت مغلیہ کے زوال کے بد تو دینی معاملات میں جہالت عام ہوگئی تھی ۔ قرآن حکیم کی نصوص اور تعلیمات نبویہ کو یکسر فراموش ، بے کار اور معطل کردیا گیا تھا۔ حالانکہ نبی آخر الزمانﷺ نے اپنے آخری خطاب میں کتاب و سنت پر کاربند رہنے کی پرزور الفاظ میں امت کو تاکید فرمائی تھی اور خبردار کیا تھا کہ ان دو کے ترک کرنےسے مسلمان قعر ضلالت میں جاگریں گے، آپؐ نے فرمایاتھا:
''ترکت فیکم أمرین لن تضلوا ما تمسکتم بھما کتاب اللہ و سنتي''
''میں اپنے پیچھے تم میں دو اصول چھوڑ چلا ہوں، ایک اللہ کی کتاب اور دوسرا میری سنت ۔ جب تک اے مسلمانو! تم ان دو اصل الاصول پر قائم رہو گے، کبھی گمراہی کا شکار نہ ہوگے۔''

مگر افسوس کہ مسلمانوں نے اپنے دور غلامی میں سب سے زیادہ انحراف اگر کسی شے سے کیا ہے تو اللہ کی کتاب قرآن مجید ہے:
﴿فَنَبَذُوهُ وَرَ‌آءَ ظُهُورِ‌هِمْ.. 187﴾آل عمران:تو انہوں نے اسے پیٹھ پیچھے پھینک دیا''

اور سنت محبوب رب العالمین سے، جس کے بارے میں فرمان نبویؐ ہے:
''من أحدث في أمرنا ھٰذا مالیس منه فهورد'' 6
کہ ''جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی چیز پید کی جو پہلے اس میں نہیں ہے وہ ناقابل قبول ہے۔''

کتاب و سنت کی غربت او راس سے محرومی کا یہ عالم کہ ان کا مطالعہ و درس متروک و مہجور ٹھہرا۔ بایں طور کہ نصوص قرآن اور متون احادیث کی جگہ عجمی فقہاء او رعلماء کے مجموعہ ہائے اقوال و آراء او ران کی مصطلحات مخترعہ کی تدریس و تلقین ہوئی تھی۔ جب مبتدی کے ذہن میں کنز، قدوری، ہدایہ او رشامی کی عبارات راسخ اور جامد ہوجاتیں تو پھر بے چارے قرآن اور حدیث کی باری آتی او رایک سال میں ہی کتب صحاح کی تدریس مکمل کردی جاتی تاکہ طالب علم پوری توجہ و فرصت کے ساتھ کتاب و سنت کی روح کو نہ سمجھ سکے۔ گویا کہ اللہ کی کتاب اور رسول اللہﷺ کی حدیث فقہ و منطق و فلسفہ کی کتابوں کا ضمیمہ ٹھہریں۔ نیز علمائے امت نے یونانی فلسفہ کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیاتھا حالانکہ اہل یونان نے اسے بےکار سمجھ کر صدیاں گزریں چھوڑ دیا تھا۔ یہ فلسفہ و منطق یونانیوں کا چپایا ہوا نوالہ تھا، جس کی جگالی اس وقت مسلم دانشور کررہے تھے، دین اسلام کے بارے میں ان کی معلومات بےاصل اور ناقص ہوگئی تھیں، جس کے نتیجہ میں ان کا اخلاقی و اجتماعی معیار پستی میں گر گیا تھا۔نواب صاحب کے قلم نے مسلمانوں کی جہالت اور کتاب و سنت سے غفلت و اعراض کا نقشہ بڑے درد بھرے انداز میں کھینچا ہے:
''ایسا دور آچکا تھا کہ غیب پر او ریوم آخرت پر ایمان لانے والے کسی مومن کے لیے کوئی جائے قرار نہ تھی جہاں وہ قرار پاسکے، نہ جائے پناہ تھی جہاں بھاگ کر پناہ لے سکے، نہ جائے امن تھی جہاں امان حاصل کرسکے اور نہ کوئی جائے نجات تھی جہاں بچ کر جاسکے حتیٰ کہ مکہ و مدینہ کے حرم بھی جائے امن و سکون نہ رہ سکے وہاں بھی دلائل کتاب و سنت پر عمل کرنے والوں اور تقلید ضال و مضل کے ترک کرنے والوں پر محن و آلام اور مصائب و ابتلاء کے دروازے کھول دیئے جاتے تھے، حالانکہ ملک ہند میں بھی کتاب و سنت کے حاملین و عاملین کے ساتھ اس قدر ناروا اور غیر مہذب سلوک نہیں ہوتا تھا بلکہ میں (نواب صاحب) ن بلا مغرب شام و روم کے بارے میں سنا ہے کہ وہاں تو معاملہ اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ جو مسلمان متبع سنن نبویہ، عامل بالدلیل، پابند حدیث رسولؐ، ممسک بالکتاب اور تاریخ تقلید شخصی ہوتا، اس کے لیے دوسرے ہم وطنوں کے درمیان زندگی گزارنا دشوار ہوجاتا۔ نہ وہ آزادی سے اپنے خیالات کا اظہار کرسکتا او رنہ وہ فریضہ امر و نہی ادا کرسکتا۔''7

دینی اصلاح:
نواب صاحب اپنے دور کے مسلمانون کی اس تباہ حالی او رامور دین میں ان کی گمراہی سےبہت غمزدہ ہوئے۔ آپ نے ان کو صراط مستقیم دکھانا اپنے اوپر فرض قرار دیا۔ اس بات کا عزم صمیم کرلیا کہ وہ مسلمانوں کو اسلام کی سچی اور حقیقی روح سے آشنا کرائیں گے تاکہ وہ عمل او رعقیدہ کی گمراہی سے محفوظ رہیں جو انہوں نے السام کے نام پر اپنا رکھی تھی۔ اس عظیم او رمہتم بالشان مقصد کے حصول کے لیے وہی کچھ کیا جو ایک پرعزم دینی مصلح اور باہمت مجدد کرتا ہے تاکہ وہ اسلامی تعلیمات و احکام کو از سر نو زندگی بخشے۔ ایسے ہی مجدد و محی دین کے بارے میں بشارت نبویؐ ہے:
''من أحيا سنتي عند فساد أمتي فله أجر مائة شهید''
''جو کوئی میری ایک سنت کو اس وقت زندہ کرے گا جب میری امت عقیدہ و عمل کے فساد میں مبتلا ہوگی اسکو سو شہیدوں کے برابر اجر و ثواب ملے گا۔''

آپ نے اپنی زندگی کے شب و روز دینی کتب کے جمع کرنے، ان کی تالیف و تصنیف او رنشرواشاعت کے لیے وقف کردیئے۔ آپ نے فکروعمل اور تخلیقی کاموں سے بھرپور اور مصروف زندگی گزاری۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ نواب صاحب کو عربی ، فارسی اور اردو تینوں زبانوں پر ماہرانہ قدرت کاملہ حاصل تھی۔ آپ نے تینوں زبانوں میں کثیر تعداد میں کتابیں تالیف فرمائیں جن کی تعداد تین سو سے زیادہ ہے جن میں 54 کتابیں عربی میں، 42 فارسی میں اور 107 کتابیں اُردو میں لکھیں۔ آپ کی زیادہ تصانیف علوم دین اور لغت عرب کے موضوع پر ہیں۔ آپ نے اپنی تحریروں میں اتباع کتاب و سنت کی طرف خصوصی دعوت دی ہے تاکہ لوگوں کو بدعات، خرافات او راوہام پرستی سے آزاد کرایا جائے جو کہ ایک طویل عرصہ سے اس میں گرفتار چلے آرہے تھے۔ ان تقلیدی رسومات و عادات اور رواج نے ان کے ولوں سے شرعی احکام و اوامر کا احترام ختم کردیا تھا۔ وہ مدفون بزرگوں کے ادب و احترام میں غلو کرتے تھے حتیٰ کہ ان سے مدد و اعانت کے طلبگار ہوتے، قبروں پر اپنی حاجات لے جاتے اور صاحب قبر سے ان کوپورا کرنے کی درخواستیں کرتے تھے۔ ان کو بزعم خویش خوش کرنے کے لیے نذرانے اور جانوروں کی قربانیاں پیش کرتے، اس طرح شعائر اسلام اور قرآن و حدیث کے احکام اور تعلیمات یک قلم فراموش کردیئے گئے۔ ان تمام غیر اسلامی امور پر عمل کرنے کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان اور جنت کے حقدار سمجھتے تھے۔

نواب صاحب کی عظمت اور رفعت شان اس میں مضمر ہے کہ انہوں نے تمام عمر کو رانہ تقلید کے سدباب اور اجتہاد شرعی کی بند راہوں کو کھولنے او رمسلماناں ہند کو احکام کتاب و سنت سکھانے میں صرف کردی۔ ............(جاری ہے)

فجزاہ اللہ عن الإسلام والمسلمین


حوالہ جات
1. مختارات من ادب العرب ج1 ص4
2. عربی علم و ادب کی خدمات کے سلسلے میں دیکھئے تاریخ ادبیات مسلمانان پاکستان و ہند (1712۔1972ء) جلد دوم مطبوعہ پنجاب یونیورسٹی لاہور۔
3. ابجد العلوم (939۔940)
4. نزہة الخواطر 8:187۔ تذکرہ علمائے ہند۔
5. التاج المکلل ص538
6. بخاری و مسلم
7. التاج المکلل: ص549