معراج النبیﷺ کی تاریخ میں دشواری کا سبب یہ ہےکہ ہجرت سے قبل سن اور تاریخ نہیں تھے، قرآن مجید میں لیلاً کا لفظ ہے، گویا رات کو ہونے میں کوئی شک نہیں اور یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ ہجرت سے قبل یہ واقعہ مکہ مکرمہ میں پیش آیا۔ قاضی سلیمان منصورپوری نے آنحضرتؐ کی 23 سالہ سیرت مبارکہ کی جنتری تیارکی ہے جس کے مطابق 52 ولادت نبویؐ 27 رجب المرجب کو شب معراج ہوئی۔ 27 رجب المرجب کےبعد طلوع ہونے والا دن بُدھ تھا۔ اس لحاظ سے بدھ کی شب 27 رجب المرجب 52 ولادت نبویؐ شب معراج ہوئی۔ 1

دراصل اس دور میں لوگ اس قسم کے دنوں کو مناتے نہیں تھے کہ ان کو ذہن میں رکھتے بلکہ اصل تحفہ جو اس رات ملا، اس کو کسی نے نہ چھوڑا ، یعنی نماز۔

ایک اور چیز جس کا ذکر ضروری ہے وہ یہ ہے کہ کسی چیز کے وقوع میں اختلاف سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ سرے سے اس چیزکا ہی انکار کردیا جائے۔ حالانکہ اگر مختلف لوگ مختلف انداز میں کسی چیز کے متعلق بات کریں تو یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ اس کا اصل موجود ہے جس کے متعلق اختلاف ہوا ہے، ورنہ اگر اصل ہی نہ ہوتی تو تاریخ میں اختلاف کیسا؟ اور اگر تاریخ میں اختلاف کی بناء پر اصل کا انکار ہو سکتا ہے تو نہ آنحضرتؐ کی ولادت ثابت ہوگی او رنہ ہجرت، مثلاً ہمارے ملک میں علامہ اقبال کی تاریخ پیدائش کے متعلق کئی سالوں بعد اب یہ تحقیق ہوئی ہے کہ یہ 9 نومبر 1877ء ہے۔ پہلے کوئی اور تاریخ تھی لیکن رضوانی صاحب نے علامہ صاحب کی پیدائش کا انکار نہیں کیا۔ پس معراج کی تاریخ کی بجائے مقاصد پر غور کریں۔


الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا،
غوّاض کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے!

7۔ آنحضرتؐ معراج کے وقت کس جگہ سکون پذیر تھے؟ یہ کوئی ایسی سوچنے کی بات نہیں۔ اصل مقصد تو آپؐ کا تشریف لے جانا ہے۔ بلا شبہ آپؐ تشریف لے گئے ۔ صحیحین کی روایات کے مطابق آپؐ کعبہ میں محو استراحت تھے۔ 2

بخاری و مسلم کی ایک روایت حضرت ابوذر غفاریؓ سے ہے کہ آنحضرتؐ نے فرمایا:
''میں مکہ میں تھا، میرے گھر کی چھت کھولی گئی او رجبرائیل آئے۔'' 3

مولانا سلیمان ندوی اس کے متعلق فرماتے ہیں:
''ہمارے نزدیک اس کی صحیح تعبیر یہ ہے کہ آپؐ خانہ کعبہ میں آرام فرما تھے، لیکن آپؐ کو مشاہدہ یہ کرایا گیا کہ آپؐ اپنے گھر میں ہیں، اس کی چھت کھلی جبرائیل آئے۔'' 4

اگر گھر کو بھی تسلیم کرلیا جائے تو یہ خلاف حدیث نہیں کہ گھر سے جبرائیل آنحضرتؐ کو خانہ کعبہ میں لے گئے، وہاں شق صدر ہوا اور پھر عالم بیداری میں آپؐ نے بیت المقدس او رآسمانوں کو دیکھا۔ اس سے بھی واقعہ معراج کا انکار ثابت نہیں ہوتا۔جزئیات میں اختلاف کی بناء پر اصل چیز کو کالعدم قرار نہیں دیا جاسکتا۔

8۔ صحیحین کی روایات او ردیگر مستند احادیث کے مطابق آنحضرتؐ کا شق صدر دو دفعہ ہوا، ایک دفعہ معراج سے قبل اور ایک دفعہ بچپن میں۔معراج میں بھی اگر شق صدر ہوا تو اس سے پہلے واقعہ کا انکار ثابت نہیں ہوتا۔ چنانچہ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتؐ کے پاس جبرائیل آئے جبکہ آپؐ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، انہوں نے آنحضرتؐ کو پکڑ کر لٹایا، سینہ شق کیا اور دل نکالا۔ اس سے خون کا لوتھڑا نکالا او رکہا: ''ھذا حظ الشیطان منك'' ''یہ آپ سے شیطان کا حصہ ہے'' پھر سونے کے تھال میں رکھ کر اسےزمزم کے پانی سے دھویا اور اسے اس کی جگہ پررکھ کر زخم کو درست کردیا۔ (حضرت انسؓ نے زخم کے سینے کا نشان آنحضرتؐ کے سینہ مبارک میں دیکھا) بچوں نے جاکر یہ واقعہ اپنی ماں (دایہ) کو بتایا۔ وہ آئیں تو آنحضرتؐ کا رنگ تبدیل تھا۔5

دوسری روایت اس طرح سے ہے ، آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا:
''جبرائیل نےمیرے پاس آکر سینے میں شگاف کیا، پھر اس کو زمزم کے پانی سے دھویا، پھر سونے کے ایک تھال کو، جوحکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، میرے سینے میں ڈال دیا۔'' 6

یہ واقعہ دو دفعہ ہوا اس میں کوئی اختلاف نہیں۔آپؐ بچپن میں شیطان کے ہر حملہ سےمحفوظ کردیئے گئے اور آپؐ کا سینہ علم و حکمت س بھر دیا گیا۔ آپؐ کے دل میں غیر اللہ کا خیال پہلے ہی نہ تھا لیکن اب تصور بھی نہ رہا ؎


تاخانہ دل خالی از اغیار نیابی ....... بام و درایں خانہ پُر از یار نیابی

 

9۔ مسجد اقصیٰ کا وجود قرآن مجید سے ثابت ہے جس پر بحث کی کوئی ضرورت نہیں۔ محدثین کی صحیح روایات کے مطابق یہ یروشلم میں واقع ہے۔معراج کے وقت مسجد نبویؐ کا وجود ہی نہیں تھا تو اس کے ذکر کرنےکی ضرورت ہی نہ تھی او ربعد میں کبھی مسجد نبویؐ کو مسجد اقصیٰ نہ کہا گیا بلکہ صحیح روایات میں جن ایسی تین جگہوں کا ذکر ہے جہاں پر ثواب زیادہ ملتا ہے ، ان میں مسجد نبویؐ کے ساتھ مسجد حرام او رمسجد اقصیٰ کا بھی ذکر ہے۔7

جہاں تک اس کےمنہدم ہونے اور معراج النبیؐ کے وقت موجود نہ ہونے کا تعلق ہے، اس کے متعلق مولانا عبدالحق محدث دہلوی نے بڑی تحقیق سے بیت المقدس کی پوری تاریخ لکھی ہے او رحاشیہ پر یہ لکھا ہے:
''مسجد اقصیٰ ، بیت المقدس۔یہ انبیاء سابقین کا قبلہ ہے۔یہ مسجد جس کواہل کتاب ہیکل کہتے ہیں، ملک فلسطین کے شہر یروشلم میں حضرت سلیمان نے حضرت موسیٰ سے تخمیناً پانچ سو برس بعد تعمیر کی تھی، اس پربنی اسرائیل کی شرارت اور بدکاری سے کئی بار صدمے آئے۔گرائی گئی او رپھر بنی۔ آنحضرتؐ کے عہد میں شہزادہ روم طیطس (Titus) کی گرائی ہوئی مسجد کا ایک ڈھیر پڑا تھا۔ مسجد اسی کانام ہے نہ عمارت کا۔ کیونکہ عمارت بدلتی رہتی ہےمسجد نہیں بدلتی، مگر اس کے پاس عیسائیوں نے مذہبی عمارت تعمیر کرا رکھی تھی۔اس زمانہ میں اس کو بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کہتے تھے جس کے نشان آنحضرتﷺ نے قریش کے پوچھنے پر بتائے۔'' 8

پورےمکہ کو بھی مسجد حرام کہا جاتا ہے، جیسا کہ جامع البیان میں ہے:
''ویطلق علیٰ مکة کلھا المسجد الحرام'' 9
''پورے مکہ پر مسجد حرام کا اطلاق ہوتاہے۔''

اگر پورےمکہ کومسجد حرام کہہ سکتے ہیں تو عیسائیوں کی اس دور میں موجود اس مقام پر مذہبی عبارت کو مسجداقصیٰ کہنے میں کوئی قباحت نہ تھی۔ کسی صحیح روایت میں مسجد نبویؐ کو مسجد اقصیٰ نہیں کہا گیا او رنہ ہی مسجد اقصیٰ کا مقام جنت میں بتایا گیا ہے۔ رضوانی صاحب ہر گری پڑی چیز کو اُٹھا کر محدثین کےنام تھونپنے میں مہارت تامہ رکھتے ہیں۔

10۔ رضوانی صاحب نے حدیث کے ترجمہ میں غلطی کی ہے۔ ''سبعون ألف ملك'' کا ترجمہ ''سات ہزار فرشتے'' کیا، جبکہ یہ ستر ہزار ہے۔ کتب احادیث میں الفاظ دیکھے جاسکتے ہیں۔ صحیح مسلم میں ہے۔
''وإذا ھو یدخله کل یوم سبعون ألف ملك لا یعودون إليه '' 10
''اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں، پھر اس کی طرف لوٹتے نہیں ہیں (یعنی ان کی باری پھر نہیں آتی)''

اسی طرح اللہ تعالیٰ سے ستر ہزار باتیں کرنے کا لکھا ہے ، حالانکہ کسی حدیث کی کتاب میں اس کا وجود نہیں بلکہ وصفی جملہ ہے۔ آنحضرتؐ کے نام جھوٹی بات منسوب کرنے پر آنحضرتؐ نے بہت سخت وعید سنائی ہے، فرمایا:
''من کذب علي متعمدا فلیتبوأ مقعده من النار'' 11
''جس آدمی نے مجھ پرجھوٹ باندھا تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے''

پھر اس مقام پر حدیث کا ترجمہ بالکل غلط لکھا ہے۔مضمون میں ''پانچ یا پچاس برابر ہیں۔'' لکھا ہے۔ حالانکہ حدیث کے لفظ یہ ہیں:
''فهي خمس وھي خمسون'' 12
کہ ''وہ پانچ ہیں اور (ثواب میں) پچاس ہیں۔''

دوسری حدیث میں اس کی وضاحت اس طرح سے ہےکہ ایک نیکی دس کے برابر ہے، لہٰذا پانچ نمازیں پچاس کے برابر ثواب میں ہوں گی۔ چنانچہ حضرت انسؓ سے معراج کی پوری روایت ہے۔پھر بعدازاں نمازوں کی تعداد جب تخفیف کرکے پانچ کردی گئی تو اللہ تعالیٰ نےفرمایا:
''یا محمد إنهن خمس صلوات کل یوم ولیلة لکل صلوٰة عشر فذالك خمسون صلوٰة ومن ھم بحسنة فلم یعملها کتبت له حسنة فإن عملهاکتبت عشرا'' 13
''اے محمدﷺ، یہ دن رات میں پانچ نمازیں ہیں، ہر نماز کا ثواب دس کے برابر ہے۔اس طرح سے پچاس تصور ہوں گی او رجو نیکی کا ارادہ کرے لیکن نہ کرسکے تو اُس کو ایک نیکی کا ثواب ملے گا او راگرنیکی کرلی تو دس لکھی جائیں گی۔''

مطلب صاف واضح ہے، پھر فرشتوں کے متعلق وضاحت صحیح مسلم میں ہی آگے ہے چنانچہ حضرت ابوذرغفاریؓ کی حدیث میں ہے؟ آنحضرتؐ نے فرمایا:
''ثم رفع لي البیت المعمور فقلت یاجبرائیل ما ھٰذا؟ قال ھٰذا بیت المعمور یدخله کل یوم سبعون ألف ملك إذ اخرجوا منه لم یعودوا فیه آخر'' 14
پھر '' میرے سامنے بیت المعمور بلند ہوا۔ میں نے کہا ''جبرائیل یہ کیا ہے؟'' جبرائیل نے کہا ''یہ بیت المعمور ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں، جب وہ نکل جاتے ہیں تو پھر آخر تک واپس نہیں آتے۔'' یعنی '' اُن کی باری نہیں آتی۔''

11۔ فہم حدیث کے لیے سیاق و سباق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے لیکن یہاں اسے بالکل نظر انداز کردیاگیا ہے۔ پہلی بخاری شریف کی روایت میں امام بخاری نے جس جگہ اس کود رج کیا، وہاں اس طرح سےباب باندھا گیا ہے:
''باب صلوٰة النسآء مع الرجال في الکسوف'' ''کسوف میں عورتوں کی مردوں کے ساتھ نماز''

پھر حدیث میں ہے، سورج گرہن کی نماز پڑھ کر آنحضرتؐ نے یہ فرمایا:
'' میں نے جنت اوردوزخ کو اس جگہ دیکھا!'' الفاظ یہ ہیں:
''ما من شيء کنت لم أرہ إلا وقد رأیته في مقامي ھٰذا حتی الجنة والنار'' 15
''کوئی چیز نہیں جو میں نے اس جگہ نہ دیکھی ہو، یہاں تک کہ جنت اور دوزخ بھی دیکھے!''

یہ روایت نماز کسوف کی ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرتؐ کو جو منظر دکھایا، اس میں معراج کا کوئی ذکر نہیں، نہ خواب کا ذکر ہے۔ لیکن صاحب مضمون نے معراج النبیؐ کو خواب یا افسانہ ثابت ثابت کرنے کے لیے اس کو بھی درج کردیا، حالانکہ اہل علم جانتے ہیں کہ یہاں یہ استدلال کسی صورت بھی نہیں ہوسکتا۔

جامع ترمذی کی روایت میں صاف طور پر ''في المنام'' (نیند میں۔جامع ترمذی ج2 ص178) کے لفظ ہیں۔ مضمون میں بیان کردہ او ریہ روایت دونوں ہی حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہیں لیکن صاحب مضمون نے حدیث کو سمجھے بغیر یا اپنی مرضی سے تجاہل عرفانہ سے کام لے کردوسری طرف نظر ہی نہیں کی او رپھر دوسری جگہ جامع الترمذی میں ہی حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتؐ نے فرمایا: ''إني نعست'' مجھے اونگھ آئی'' پھر ایک اور روایت میں ہے جو مسند احمد میں حضرت معاذؓ سے بیان کی گئی ہے آنحضرتؐ نے فرمایا:
''فنعست في صلوٰتي حتی استیقظت'' 16
''مجھے نماز میں اونگھ آئی، یہاں تک کہ میں بیدار ہوا۔''

گویا خواب میں اللہ تعالیٰ کی زیارت ہوئی۔

ان تمام روایات کو سیاق و سباق سے ملا کر پڑھنے سےذرہ برابر بھی یہ الجھن باقی نہ رہتی کہ یہ واقعہ خواب کا ہے۔

صاحب مضمون کو آنحضرتؐ کا جاگنا معلوم ہوا ہے لیکن دوبارہ اونگھنا نظر نہیں آیا واقعہ معراج مشاہدہ سے تعلق رکھتا ہے او راس روایت میں خواب کا واقعہ ہے، ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ ان دونوں حدیثوں سے معراج کا خواب کا واقعہ ہونا کسی طرح سے بھی ثابت نہیں ہوتا اور پھر ان دونوں حدیثوں کو کسی محدث نےبھی معراج کے ساتھ بیان نہیں کیا۔ حالانکہ محدثین، رضوانی صاحب سے بہرحال زیافہ فہم حدیث رکھتے ہیں۔

12۔ پچاس نمازوں پر ہاں کرنے سے آنحضرتؐ نے عام آدمی کی کامن سنس سےبھی کام نہ لیا۔ یہ اعتراض بجائے احادیث کو غلط ثابت کرنے کے خدا تعالیٰ کی ذات پر کرنا چاہیے تھا ۔ کیا اللہ تعالیٰ کو علم نہیں تھا کہ ایک دن میں پچاس نمازیں ادا نہ ہوسکیں گی اور پھر بھی حکم دے دیا؟ فما ھو جوابکم فھو جوابنا''


حضرت موسیٰ علیہ السلام سے آنحضرتؐ نے رہنمائی حاصل کی تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ حضرت موسیٰ پہلے ان چیزوں کے تجربات کرچکے تھے چنانچہ حضرت موسیٰؑ کے لفظ یہ ہیں:
''فارجع إلى ربك فاسئله التخفیف فإن أمتك لا یطیقون ذٰلك فإني قدبلوت بني إسرائیل وجربتهم'' 17
''اپنے رب کے پاس لوٹ جائیں اور تخفیف کا سوال کریں، آپؐ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ بلا شبہ میں نے بنی اسرائیل کو آزمایا اور اُن پر تجربہ کیا۔ ''

کسی معاملہ میں کسی اور سے راہنمائی حاصل کرنا عیب نہیں ہوتا اور نہ اس میں انسان کی توہین ہوتی ہے۔ آنحضرتؐ خود صحابہؓ سے مشورہ لیتے جیسا کہ مقدمہ نمبر8 میں گزر چکا ہے، چنانچہ جنگ بدر کے قیدیوں کے متعلق آنحضرتؐ نے مشورہ لیا۔(18) اسی طرح جنگ خندق میں حضرت سلمان فارسیؓ کی رائے مطابق مدینہ کے ارد گرد خندق کھودی گئی (ایضاً ج4 ص95) دیگر کئی معاملات میں بھی آنحضرتؐ نے صحابہؓ سے مشورہ فرمایا۔ علاوہ ازیں قرآن مجيد سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بعض معاملات میں حضرت موسیٰؑ کی راہنمائی ایک صالح شخص نے کی، اس نے کچھ کام ایسے کیے جو موسیٰ ؑ کی سمجھ میں نہ آئے اور آپؑ کے پوچھنے پر آخر اس نے کہا:
﴿ذَ‌ٰلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِع عَّلَيْهِ صَبْرً‌ا ﴿٨٢...سورۃ الکھف
''یہ اس چیز کی اصل حقیقت ہے جس پر آپ صبر نہ کرسکے۔''

اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ صالح شخص موسیٰ پربازی لے گیا۔ اسی طرح بعض جزئی معاملات میں ایک نبی کو دوسرے نبی پر فوقیت حاصل ہوتی ہے لیکن بحیثیت مجموعی حضرت محمدﷺ تمام انبیاؑء سے برتر نظر آتے ہیں۔ اس کی مثال اس طرح سے ہے جیسے طالب علم اقبال نے 1000؍650 نمبر حاصل کیے جبکہ نذیر نے 1000؍580 نمبر حاصل کیے لیکن انگریزی میں نذیر کے نمبر اقبال سے زیادہ ہیں تو فضیلت نذیر کی نہیں بلکہ اقبال کی ہے کیونکہ مجموعی طور پر اقبال کے نمبر زیادہ ہیں۔

حضرت موسیٰ نے اپنی الفت و محبت کی بناء پراپنے تجربہ کو سامنے رکھ کر آنحضرتؐ کونمازوں میں تخفیف کرانےکا مشورہ دیاتو اس سے آنحضرتؐ کی تحقیر کیسے ہوگئی؟ قرآن و حدیث میں کئی واقعات ایسے ہیں، جن میں حضرت محمدﷺ سے سہو کا ہوجانا یا آپؐ کا پریشان ہونا ثابت ہے اور آپؐ کو بعد میں خدا تعالیٰ کے بتانے پر یا کسی او رکے کہنے پر پتہ چلا چنانچہ آنحضرتؐ واقعہ افک کے بارے میں کئی دن پریشان رہے۔ 19

پھر یہ وحی نازل ہوئی:
﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ جَآءُو بِٱلْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنكُمْ...﴿١١﴾...سورۃ النور
''بےشک وہ لوگ جنہون نےطوفان برپا کیا ہے وہ تم میں سے ایک جھوٹا گروہ ہے۔''

تو آنحضرتؐ کو اطمینان ہوا او رپریشان دور ہوئی، اسی طرح نماز میں سہو کے واقعات ہیں، چنانچہ اپؐ نے ایک مرتبہ عصر کی نماز کی دو رکعت پڑھائیں۔ ''ایک صحابی نے پوچھا:
''أقصرت الصلوٰة یا رسول اللہ أم نسیت''
''نماز کم ہوگئی یا آپ بھول گئے، اے اللہ کے رسول؟''

آپؐ نے فرمایا:
''کل ذٰلك لم یکن!'' ''ان دونوں میں سے کوئی بات بھی نہیں ہوئی''

تو انہوں نے کہا کوئی بات ہوئی ہے۔ پھر آنحضرتؐ نے صحابہؓ سے پوچھ کر باقی نماز پڑھائی او رسہو کے دو سجدے کیے۔20

یہ آنحضرتؐ کی انسانی حیثیات ہیں۔ ان سے آپؐ کی عظمت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسی طرح حدیث شفاعت میں یہ ہے کہ جب آنحضرتؐ اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیں گے تو:
''ثم یفتح اللہ علي من محامدہ و حسن الثناء عليه شیئا لم یفتحه علیٰ أحد قبلي''21
''پھر اللہ تعالیٰ اپنے محامد او ربہترین تعریفیں مجھ پر واضح کردیں گے جو مجھ سے پہلے کسی پہ واضح نہ ہوئیں۔'' گویا اس سے پہلے آپؐ کو بھی ان کا علم نہ ہوگا۔ اسی طرح او رکئی باتیں ہیں۔

غور کرنے سے ایک اور بات معلوم ہوتی ہے کہ پانچ نمازوں کےمتعلق آنحضرتؐ نے خود تخفیف کا اس وجہ سے سوال نہ کیا کہ ذات خداوندی کا ادب مانع تھا ، چنانچہ اسی حدیث میں ہے، جب بار بار آنحضرتؐ کو موسیٰ واپس اللہ تعالیٰ کے پاس بھیجتے رہے حتیٰ کہ پانچ نمازوں کے رہ جانے پر آپؐ نے فرمایا:
''استحییت من ربي'' 22
''(اب) مجھے اپنے رب سے حیاء آتی ہے۔''

انبیاؑء ہمیشہ باادب ہوتے ہیں اور اپنی اپنی امتوں کو آداب سکھانے کے لیے مبعوث ہوتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ سے فرمائیں گے۔
﴿ءَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ ٱتَّخِذُونِى وَأُمِّىَ إِلَـٰهَيْنِ مِن دُونِ ٱللَّهِ...﴿١١٦﴾...سورۃ المائدہ
''اے عیسیٰ بن مریم کیا تم نے لوگوں سے یہ کہہ دیا تھا کہ خدا کے علاوہ مجھے او رمیری والدہ کو بھی معبود بنالو۔''

تو حضرت عیسیٰ کا جواب قرآن مجید نے اس طرح سے درج نہیں کیا کہ میں نے ایسا نہیں کہا، بلکہ ادب سے جواب دیا:
﴿سُبْحَـٰنَكَ مَا يَكُونُ لِىٓ أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِى بِحَقٍّ ۚ إِن كُنتُ قُلْتُهُۥ فَقَدْ عَلِمْتَهُۥ ۚ تَعْلَمُ مَا فِى نَفْسِى وَلَآ أَعْلَمُ مَا فِى نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّـٰمُ ٱلْغُيُوبِ ﴿١١٦﴾ مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَآ أَمَرْ‌تَنِى بِهِۦٓ أَنِ ٱعْبُدُواٱللَّهَ رَ‌بِّى وَرَ‌بَّكُمْ...﴿١١٧﴾...سورۃ المائدہ
''تو پاک ہے، میرے لیے یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں تھا کہ میں ایسی بات کہہ دیتا جس کا مجھے کوئی حق ہی نہ تھا، اگر میں نے کہا ہوتا تو یقیناً تجھےاس کا علم ہوتا۔ تو جانتا ہے جو کچھ میرےدل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ تیرے دل مین ہے۔ بے شک تو ہی تو ہے پوشیدہ چیزوں کا خوب جاننے والا۔ میں نے تو ان سے کچھ بھی نہیں کہا تھا بجز اس کے، جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا، یہ کہ میرے اور اپنے پروردگار کی پرستش کیا کرو۔''

یہاں عیسیٰ نے ادب کے ایک ایک پہلو کا خیال رکھا ہے۔ اسی طرح حضرت ایوب کی اٹھارہ سالہ بیماری کے بعد یہ دعاء مذکور ہے:
﴿وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَ‌بَّهُۥٓ أَنِّى مَسَّنِىَ ٱلضُّرُّ‌ وَأَنتَ أَرْ‌حَمُ ٱلرَّ‌ٰ‌حِمِينَ ﴿٨٣...سورۃ الانبیاء
''اور ایوب ، جبکہ انہوں نےاپنے پروردگار کو پکارا ''مجھ کو تکلیف پہنچ رہی ہے اور تو سب مہربانوں سےبڑھ کر مہربان ہے۔''

یہاں یہ نہیں فرمایا کہ مجھ کو فوراً شفا دے، نہ ہی کوئی جزع فزع کیا۔ حضرت یونس جب مچھلی کے پیٹ میں گئے تو ان کی دعاء کےالفاظ یہ ہیں:
﴿لَّآ إِلَـٰهَ إِلَّآ أَنتَ سُبْحَـٰنَكَ إِنِّى كُنتُ مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ ﴿٨٧...سورۃ الانبیاء
''تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے (نقائص سے) بے شک میں ہی قصور وار ہوں۔''

یہاں آپؑ نے اس قید سے رہائی کا سوال نہیں کیا۔ انبیاؑ بارگاہی کے آداب ہم سے بہر لحاظ بہتر جانتے تھے۔ آنحضرتؐ نے ادب کے اس پہلو کو مدنظر رکھ کر خود پہلے سوال نہ کیا ہو تو کیا بعید ہے اور بعدازاں حضرت موسیٰ کی ترغیب سے اس معاملہ میں بارگاہ الٰہی میں سوال کیا ہو؟ ع


ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں


13۔ مقدمہ میں یہ ثابت کیا جاچکا ہے کہ حدیث رسولؐ کے بغیر قرآن مجید کسی صورت میں سمجھ میں نہیں آسکتا، آنحضرتؐ نے اپنی زندگی میں صحابہ کرامؓ کو نماز کی باقاعدہ جماعت کرائی۔ ان کے اوقات کے تعین کا پورا نقشہ احادیث نبویہؐ میں مو جود ہے جن کا انکار کوئی آدمی مسلمان کہلا کر نہیں کرسکتا۔ تاہم چونکہ صاحب مضمون نے یہ لکھا ہے کہ نماز کے تعین اوقات کے بارے میں قرآن مجید میں کچھ نہیں ہے اس لیے بیان کیا جاتا ہے کہ بہت کچھ موجود ہے ، حالانکہ اگر نہ ہوتا تو احادیث ہی اہل ایمان کے لیے کافی تھیں۔ لیکن خدا تعالیٰ نے ان اوقات کا بھی بیان فرمایا ہے:
﴿إِنَّ ٱلصَّلَو‌ٰةَ كَانَتْ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ كِتَـٰبًا مَّوْقُوتًا ﴿١٠٣...سورۃ النساء
''بے شک نماز ایمان والوں پر پابندی وقت کے ساتھ فرض ہے۔''

اگر قرآن مجید میں پورا تعین وقت نہیں تو اس آیت کے لحاظ سے پابندی وقت کیسے ہوگی؟ وہ حدیث رسولؐ ہی ہے جو اس پابندئ وقت کے متعلق آنحضرتؐ کی نمازوں کی صراحت کرتی ہے۔محدثین نے آنحضرتؐ کی ہر نماز کے وقت کےمتعلق بیان کیا ہے ۔نمازوں کے اوقات کا ذکر قرآن مجید میں ہے بلکہ سورہ اسراء میں موجود ہے جو کہ صاحب مضمون کو نظر نہیں آیا، ارشاد ربانی ہے:
﴿أَقِمِ ٱلصَّلَو‌ٰةَ لِدُلُوكِ ٱلشَّمْسِ إِلَىٰ غَسَقِ ٱلَّيْلِ وَقُرْ‌ءَانَ ٱلْفَجْرِ‌ ۖ إِنَّ قُرْ‌ءَانَ ٱلْفَجْرِ‌ كَانَ مَشْهُودًا ﴿٧٨...سورۃ بنی اسرائیل
''نماز ادا کیجئے آفتاب ڈھلنے سے رات کا اندھیرا ہونے تک، اور صبح کی نماز بھی ، بے شک صبح کی نماز حضوری کا وقت ہے۔''

لفظ دلوك کے معنی جھکنے او رمائل ہونےکے ہیں۔23

''دلوك الشمس'' کے معنی وہی درست ہین جو عرب لوگوں نے بیان کیے کیونکہ وہ اہل زبان ہیں، اس لفظ کا اطلاق تین اوقات یا آفتاب کی تین حالتوں پر ہوتا ہے۔ مقابل نکتہ نگاہ سے ہٹ جانے اور غروب آفتاب پر، آیت قرآنی میں یہ ہے کہ ''دلوك'' (جھکاؤ) پر نماز پڑھو تو اس سے تینوں دلوکات پر ایک ایک نماز لازم آتی ہے۔ پہلے ظہر کا وقت ہے، دوسرا عصر کا وقت ہے اور تیسرا مغرب کا وقت ہے۔ سورج کے ہر جھکاؤ (دلوک) پر اس (سورج) کی خدائی کی نفی او راللہ تعالیٰ کے اقرار کے لیے ایک ایک نماز رکھی گئی۔ دلوک میں پہلی تینون نمازوں کے اوقات بتائے گئے ہیں۔ چوتھی نماز ''غسق اللیل'' (رات کی تاریکی) عشاء کی ہے۔ پانچویں نماز ''قرآن الفجر'' صبح کی نماز پڑھنا ہے۔

دلوک کے لفظ کی تشریح لغت عرب سے بیان کرنا مناسب ہے۔ دلکت الشمس تدلك ولوکا، غربت، وقیل اصفرت وما لت للغروب'' 24
''آفتاب کا دلوک یعنی وہ غروب ہوا او رکہا گیا ہے کہ وہ زرد ہوگیا اور غروب کے لیے جھک گیا۔''

''روی ابن ھاني عن الأخفش أنه قال دلوك الشمس من زوالها إلیٰ غروبها!''
''ابن ہانی نے اخفش سے بیان کیا، اس نے کہا ''دلوک الشمس'' زوال سے غروب تک ہے۔''

یہ حوالہ بھی لسان العرب کے اسی صفحہ کا ہے۔ لغت عرب سے معلوم ہوا، آفتاب کے زوال سے غروب تک تین دلوک ہیں۔ زمانہ جاہلیت کا ایک شعر ہے ؎


ھٰذا مقام قدمي رباح ......... ذب حتی دلکت 


''یہ وہ جگہ ہے جہاں لڑائی میں رباح کے دونوں قدم جمے تھے، اس نے دشمنوں سے اپنی عزت کی حفاظت کی، یہاں تک کہ سورج ہتھیلی سے جھک گیا۔''

معلوم ہوا کہ جاہل شعراء نے بھی اس کو جھکنے کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ ایک اور ایت تعین وقت کے متعلق یہ ہے:
﴿وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَ‌بِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ ٱلشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُ‌وبِهَا ۖ وَمِنْ ءَانَآئِ ٱلَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَ‌افَ ٱلنَّهَارِ‌...﴿١٣٠﴾...سورۃ طہ
''او راپنے پروردگار کی تسبیح کرتے رہیے حمد کے ساتھ، آفتاب کے طلوع سے قبل اور اس کے غروب سے قبل اور اوقات شب میں بھی تسبیح کیجئے او ردن کے اوّل و آخر میں۔''

آفتاب نکلنے سے قبل صبح کی نماز، عروب سے قبل عصر کی نماز اور رات کےکچھ حصہ میں عشاء دن کے کناروں میں ظہر اور مغرب مراد ہیں۔ اطراف کا لفط جمع ہے۔ اس بناء پر دن کے کم از کم تین کنارے ہونے چاہیئیں کیونکہ دو کے لیے عربی زبان میں تثنیہ کا صیغہ ہوتا ہے۔ دن کے یا دو کنارے ہیں صبح او رشام یا تین۔ اگر درمیان کا اعتبار کیا جائے تو صبح، دوپہر اور شام۔ پہلی شق لی جائے توصبح کا ذکر دوبارہ ہوگا او رظہر غائب، دوسری لی جائے تو ظہر آجاتی ہے لیکن صبح دوبارہ۔ دن کے دو حصے ممتاز ہوتے ہیں، ایک صبح سے دوپہر تک ، دوسرا دوپہر سے شام تک۔اطراف سے ان ہی دونون حصوں کے آخری کنارے یہاں مراد ہیں۔ پہلے کا آخری حصہ ظہر، دوسرے کا آخری حصہ مغرب ہے۔ گویا اس آیت میں بھی پانچوں نمازوں کا ذکر ہے۔

ان دونوں آیتوں کے علاوہ قرآن مجید کی اور ایات بھی ہیں جن سے نمازوں کا تعین ہوتا ہے اور آنحضرتؐ نے قرآن مجید کی روشنی میں نماز پڑھائی، پھر اس پر صحابہ کرامؓ نے عمل کیا اور آج تک مسلمان اسی انداز سے پڑھتے چلے آرہے ہیں۔ آنحضرتؐ کا ہر فعل قرآن کی روشنی کے مطابق ہے اور آپؐ کا ہر ارشاد قرآن مجید کی وضاحت ہے۔

14۔ صاحب مضمون نے کئی بار اس بات کو دہرایا ہے کہ واقعہ معراج یہود کی اختراع ہے۔ ہم اس بات کو دلائل سے ثابت کرچکے ہیں کہ آپؐ کی معراج ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ جس کا ذکر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کیا اور آنحضرتؐ کی صحیح احادیث میں بھی ہے۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آنحضرتؐ کے معراج کو جسمانی ثابت کرنے سے مذہب یہود کو تقویت کیسے ملتی ہے؟ جبکہ ان کے پیغمبر حضرت موسیٰ کو یہ مقام نصیب نہ ہوا۔محدثین نےپوری چھان بین سے احادیث درج کی ہیں۔ اگر کہیں خامی نظر آئی تو اس کو صاف بیان کردیا۔ احادیث معراج میں ایسی کوئی کمی نہیں تھی کہ وہ اس کا انکار کرتے۔ صحیحین او ردیگر کتب اربعہ میں کون سے راوی یہودی ہیں؟ جن کی طرف مضمون میں بار بار توجہ دلائی گئی ہے؟ واقعہ معراج 25؍30 صحابہ کرامؓ سے صحاح ستہ میں اور دیگر کتب احادیث میں مروی ہے۔ صحابہؓ سے آگے یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا، گویا متواتر ہے۔ پھر ان تمام راویوں کے حالات زندگی اسماء الرجال کی مستند کتابوں میں موجود ہیں۔ جہاں تک ان کتابوں میں یہود کے انبیاؑء کے متعلق ذکر ہے، تو قرآن و حدیث میں کئی ایسی باتین ہیں جن کی تصدیق ان کی کتابوں سے ہوتی ہے۔ کوئی چیز ہمارے مذہب میں (یعنی احادیث نبویؐ میں) ان کی نقل کی وجہ سے نہیں آئی بلکہ براہ راست وحئ الٰہی سے ہمیں ملی ہے۔ اگر کوئی چیز قرآن یا حدیث میں ہو اور اس کی تصدیق یہود و نصاریٰ کی تحریف شدہ کتابوں میں مل جائے تویہ بات مذہب اسلام کی مزید حقانیت ثابت کرتی ہے۔ اہل کتاب میں او رمسلمانوں میں کئی چیزیں مشترک ہیں، یہ الگ بات ہے کہ ان کی اصل کتابوں میں تحریف ہوگئی۔ پھر بھی کئی چیزیں اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں۔ توحید، رسالت اور آخرت کے تصورات ان کتابوں میں موجود ہیں اگرچہ ان کی اصل شکل توراة او رانجیل میں ناپید ہے۔ تاہم اشارے ملتے ہیں۔ اسی طرح آنحضورؐ کی صفات توراة میں موجود ہیں۔ قرآن مجید میں ہے:
﴿يَعْرِ‌فُونَهُۥ كَمَا يَعْرِ‌فُونَ أَبْنَآءَهُمْ...﴿١٤٦﴾...سورۃ البقرۃ
''وہ ان کو پہچانتے ہیں جس طرح کہ اپنے لڑکوں کو پہچانتے ہیں۔''

حضرت کعبؓ سے روایت ہے کہ جب ان سے ابن عباسؓ نے سوال کیا کہ آنحضرتؐ کی صفت توراة میں آپ نے کیسے پائی ہے؟ تو حضرت کعبؓ نے کہا:
''نجدہ محمد بن عبد اللہ یولد بمکة و یهاجر إلیٰ طیبة ویکون ملکه بالشام ولیس بفحاش ولا صخاب في الأسواق'' 25
''ہم پاتے ہیں، محمدؐ بن عبداللہ مکہ میں پیدا ہوئے، طیبہ (مدینہ کا پرانا نام ہے) کو ہجرت کریں گے، ان کی حکومت شام تک ہوگی، نہ فحش کلام کریں گے نہ گلیوں میں شور مچائیں گے۔'' یہ بھی حدیث ہے۔

اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ چونکہ یہ صفتیں پہلی کتابوں میں موجود ہیں، لہٰذا ہم ان کا انکار کردیں۔ بلکہ قرآن مجید نے بعض معاملات کے متعلق آنحضرتؐ کی تصدیق کےلیے مشرکین عرب سے کہا:
﴿فَسْـَٔلُوٓاأَهْلَ ٱلذِّكْرِ‌ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿٤٣...سورۃ النحل

''اگر تم کو علم نہیں تو اہل علم سے پوچھ لو۔''

اہل علم کے متعلق جامع البیان میں ہے:
''أھل الکتاب من الیهود والنصاری'' 26
''یہود و نصاریٰ میں سے اہل کتاب مراد ہیں۔''

جہاں تک آنحضرتؐ کا حضرت موسیٰ کا محتاج ہونا ہے، اس شبہ کا جواب ان ہی احادیث میں موجود ہے۔ آنحضرتؐ نے بیت المقدس میں انبیاؑء کی جماعت کرائی۔ حضرت موسیٰ بھی مقتدیوں میں موجود تھے۔ پھر چھٹے آسمان پر آنحضورؐ کو دیکھ کر حضرت موسیٰ رونے لگے، پوچھنے پر انہوں نے فرمایا:
''لأن غلاما بعث بعدي یدخل الجنة من أمته أکثرمن یدخلها من أمتي''
''یہ لڑکا میرے بعد مبعوث ہوا لیکن اس کی امت میری امت سے زیادہ جنت میں داخل ہوگی۔''

ھم بطور جدل یہ جواب دیتے ہیں کہ ان احادیث سے اگر آنحضرت، حضرت موسیٰ سے کمتر ثابت ہوتے ہیں تو محمدﷺ تو انہیں چھٹے آسمان پر چھوڑ کر اس سے بھی آگے بڑھ گئے، اس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ آنحضرت بلا شبہ تمام انبیاؑء سے بڑھ کر ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے، آنحضرتؐ نے فرمایا: ''مجھے پانچ چیزیں ایسی ملی ہیں جو کسی او رنبی کو نہیں ملیں مجھے ایک ماہ کی مسافت سے رعب کے ساتھ مدد دی گئی، روئے زمین کو ہمارے لیے مسجد او رطہارت کا سبب بنایا گیا کہ جہاں بھی میری امت میں سے کسی آدمی کو نماز کا وقت ہوجائے نماز پڑھ لے۔مال غنیمت میرے لیے حلال کیا گیا۔ہر نبی کو خاص اس کی قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے او رمجھے تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہے او رمجھے شفاعت کرنے کی اجازت عنایت فرمائی جائے گی۔27

دوسری حدیث میں شفاعت کی تشریح ہے جو حضرت ابوسعیدؓ سے مرفوعاً مروی ہے، کہ آدم ، نوح ، ابراہیم ، موسیٰ او ریحییٰ جواب دے دیں گے تو حضرت محمدﷺ شفاعت کریں گے۔ آپؐ سجدہ میں گریں گے، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے:
''ارفع رأسك وسل تعط و اشفع تشفع وقل تسمع لقولك'' 28
''اپنے سر کو اٹھائیں، جو سوال کریں، دیا جائے گا، شفاعت کریں، قبول کی جائے گی، آپ کہیں، آپ کی بات سنی جائے گی۔''

کئی احادیث میں آنحضرتؐ کی دیگر انبیاؑء پر فضیلت کا ذکر ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرامؓ آنحضرت کے انتظار میں بیٹھے دیگر تمام انبیاؑء کے فضائل کا ذکر کررہے تھے۔ آنحضرتؐ تشریف لائے تو آپؐ نے تائید کی اور فرمایا:
''ألا وأنا حبیب اللہ ولا فخر وأنا حامل لواء الحمد یوم القیامة تحته آدم فمن دونه ولا فخر'' 29
''خبردار! میں اللہ کا حبیب ہوں او ریہ کوئی فخر کی بات نہیں، حمد کا جھنڈا یوم حشر کو میرے ہاتھ میں ہوگا۔ آدمؑ او ران کے علاوہ سب اس جھنڈے کے نیچے ہوں گے او ریہ کوئی فخر کی بات نہیں۔''

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے، اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ کو انبیاؑء پر اور اہل آسمان پر فضیلت دی۔ دیگر لوگوں نے پوچھا، ''اےابن عباسؓ! آسمان پر کس چیز سے فضیلت دی؟'' فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اہل آسمان کو فرمایا:
﴿وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّىٓ إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِۦ فَذَ‌ٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَ‌ٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّـٰلِمِينَ ﴿٢٩...سورۃ الانبیاء
''اور جو کوئی ان میں سے یہ کہہ بھی دے کہ میں بھی معبود ہوں اللہ کے سوا ، سو اُسے ہم جہنم کی سزا دیں گے، ہم ظالموں کو ایسے ہی سزا دیا کرتے ہیں۔''

جبکہ محمدﷺ کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا ﴿١﴾ لِّيَغْفِرَ‌ لَكَ ٱللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنۢبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ‌...﴿٢﴾...سورۃ الفتح
''بےشک ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی تاکہ اللہ آپ کی (سب) اگلی پچھلی خطائیں معاف فرما دے۔''

پھر انہوں نے پوچھا، ''انبیاؑء پرکیسے فضیلت ہے؟'' تو حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَمَآ أَرْ‌سَلْنَا مِن رَّ‌سُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِۦ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ...﴿٤﴾...سورۃ ابراھیم
''او رہم نے ہر رسول کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اس کی زبان میں تاکہ وہ ان لوگوں پر (تعلیمات)کھول کر بیان کریں۔''

جبکہ اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ کے لیے فرمایا:
﴿وَمَآ أَرْ‌سَلْنَـٰكَ إِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ...﴿٢٨﴾...سورۃ سبا
''اور ہم نے تو آپؐ کو سارے ہی انسان کے لیے (پیغمبر بنا کر)بھیجا ہے۔''

'' آپؐ کو جنّوں اور انسانوں کی طرف بھیجا گیا۔'' 30

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ توراة سے ایک ورق لے کر آنحضرتؐ کے پاس آئے اور بتا کر اس کو پڑھنے لگے، آنحضرتؐ کا چہرہ متغیر ہوگیا اور آپؐ نے فرمایا:
''والذي نفس محمد بیدہ لو بدا لکم موسیٰ فاتبعتموہ و ترکتموني، لضللتم عن سواء السبیل ولوکان حیا و أدرك نبوتي لا اتبعني'' 31
''اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے، اگر تمہارے پاس موسیٰ آجائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع کرو توسیدھے راستے سے بھٹک جاؤ گے اور وہ زندہ ہوتے اور میری نبوت کو پالیتے تو ضرور میری اتباع کرتے۔''

اگر معراج کی احادیث کےساتھ ان کو بھی ملا کر پڑھ لیا جائے توہر قسم کے شکوک و شبہات دور ہوجائیں گے۔ آخر میں قرآن مجید کی آیت لکھی جاتی ہے جس میں تمام انبیاؑء سے آنحضرتؐ کی نبوت کا عہد عالم ارواح میں لیا گیا، اس لحاظ سے آنحضرتؐ کی عظمت و مقام پر غور کیا جاسکتاہے:
﴿وَإِذْ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَـٰقَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ لَمَآ ءَاتَيْتُكُم مِّن كِتَـٰبٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَ‌سُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِۦ وَلَتَنصُرُ‌نَّهُۥ ۚ قَالَ ءَأَقْرَ‌رْ‌تُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَىٰ ذَ‌ٰلِكُمْ إِصْرِ‌ى ۖ قَالُوٓاأَقْرَ‌رْ‌نَا ۚ قَالَ فَٱشْهَدُواوَأَنَامَعَكُم مِّنَ ٱلشَّـٰهِدِينَ ﴿٨١...سورۃ آل عمران
''اور (وہ وقت یاد کرو) جب اللہ تعالیٰ نے انبیاؑء سے عہد لیا کہ ''جو کچھ میں تمہیں کتاب و حکمت (کی قسم) سے دے دوں پھرتمہارے پاس کوئی رسولؐ اس کی تصدیق کرنے والا آئے، جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی نصرت کرنا۔'' فرمایا: ''کیا تم اقرار کرتے ہو اور اس پر میرا عہد قبول کرتے ہو؟'' انہوں نے کہا: ''ہاں ہم اقرار کرتے ہیں!'' فرمایا: ''تم گواہ رہنا او رمیں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سےہوں۔''


حوالہ جات
1. رحمة للعالمین ج2 ص126
2. بخاری جلداوّل، ص50
3. بخاری جلد اوّل، ص50
4. سیرت النبیؐ ، ج3 ص311
5. صحیح مسلم ، ج1 ص112
6. مسلم، ج1 ص112
7. مشکوٰة، ص72 باب المساجد
8. تفسیر حقانی، ج5 ص45
9. جامع البیان، ج1 ص392
10. ج1 ص111
11. بخاری، ج1 ص113
12. مسلم، ج1 ص113
13. ایضاً صفحہ 111
14. مسلم، ج1 ص111
15. بخاری: ج1 ص144
16. ج5 ص243
17. صحیح مسلم :ج1 ص111
18. ابن کثیر ج2 ص325
19. بخاری ج2 ص298
20. مسلم ج1 ص233
21. بخاری ج2 ص685
22. بخاری: ج1 ص51
23. لسان العرب : ج10 ص428
24. ایضاً ج1 ص427
25. سنن دارمی ج1 ص14
26. ج14 ص109
27. ترمذی ج2 ص224
28. ترمذی:ص165
29. دارمی ج1 ص30، ترمذی ج2 ص224
30. دارمی ج1 ص130
31. دارمی :ج1ص95