خارج از نماز کا امام کو لقمہ دینا؟
جناب محمد دین صاحب چک نمبر 421۔ای بی ضلع وہاڑی سے لکھتے ہیں:
کیاغیرمصلّی (خارج از نماز) امام جماعت کولقمہ دےسکتا ہے یا نہیں؟۔کتاب و سنت کی روشنی میں جواب تحریر فرما کر شکریہ کا موقع دیں!

الجواب :
کوئی کہیں ہو، امام کولقمہ دے سکتا ہے۔بلکہ ہرنمازی لقمہ دے سکتا ہے۔نماز میں غلط پڑھ ہوجانا یارک جانا او ربھول جانا، ایک ایساامر ہے جو اس امر کا متقاضی ہے کہ اس کو درست کیاجائے۔ اگر کوئی اس جذبہ سے لقمہ دیتا یا لیتا ہے تو اس میں کیاحرج ہے؟ یہ بات ''تَعَاوَنُواعَلَى ٱلْبِرِّ‌ وَٱلتَّقْوَىٰ'' کی نوعیت رکھتی ہے۔

صبح کا وقت ہے، صحابہ کرامؓ مسجد قباء میں نماز پڑھر ہے ہیں، ایک صحابی ؓ نے آکر ان کو اطلاع دی کہ قبلہ بدل گیا ہے، چنانچہ وہیں انہوں نے نماز کی حالت میں بیت اللہ کی طرف رخ کرلیا۔
''عن عبداللہ بن عمر قال بین الناس بقباء في صلوٰة الصبح إذجاء ھم اٰت فقال إن رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم قد أنزل علیه اللیلة قرآن و قد أمر أن یستقبل الکعبة فاستقبلوھا وکانت وجوھهم إلی الشام فاستداروا إلی الکعبة'' 1

امام ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ اس سے اس امر کاجواز نکلتا ہے کہ غیر نماز ی، نمازی کو بتائے او روہ اس کی سنے:
''وفیه جواز تعلیم من لیس في الصلوٰة من ھو فیھا وإن استماع المصلي لکلام من لیس في الصلوٰة لایفسد صلوٰته'' 2

امام شوکانی لکھتے ہیں کہ امام کولقمہ دینامطلقاً جائز ہے:
''والأدلة قد دلت علیٰ مشروعیة الفتح مطلقاً'' 3

فرمایا کہ اگر اس کے لیے اور کوئی دلیل نہ ہوتی تو بھی ﴿وَتَعاوَنوا عَلَى البِرِّ‌ وَالتَّقوىٰ...٢﴾...المائدة کافی ہوتا۔

''فلو قدرنا عدم ورود دلیل یدل علیٰ مشروعیته لکان من التعاون علی البر والتقویٰ'' 4

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(2)
تشہدّ میں شامل ہونے والے کی نماز جمعہ؟

دائرہ دین پناہ (ضلع مظفر گڑھ) سے ایک صاحب لکھتے ہیں:
ایک مسلمان نماز جمعہ میں حالت تشہد میں جماعت کےساتھ مل جاتا ہے، کیا اس کی نماز ادا ہوجائے گی؟

الجواب:
ایک قول یہ ہے کہ نماز جمعہ شمار نہیں ہوگی، اب اس کو ظہر کی چار رکعتیں ادا کرنا ہوں گی، اس سلسلے میں مرفوع روایات تو تسلی بخش نہیں ہیں، البتہ موقوف آثار اس کے بارے میں بالکل واضح ہیں کہ ایک رکعت پالی تو جمعہ ہوگی، ورنہ ظہر ادا کی جائے۔
''قال عبداللہ من أدرک رکعة من الجمعة فلیصل إلیها أخریٰ ومن لم یدرك الرکوع فلیصل أربعا'' 5
''وکذا قال الأسود والشعبي ''6''وھٰذا قول سعید بن المسیب وأنس والحسن '' 7

اہل حدیث علماء کا بھی یہی نظریہ ہے:
دوسرا قول یہ ہے :کہ جو شخص تشہد میں مل جاتا ہے وہ دو ہی رکعتیں پڑھے، یعنی اس کا جمعہ ہوگیا۔
''عن أبي وائل قال قال عبداللہ من أدرك التشهد فقد أدرک الصلوٰة'' 8
یعنی عبداللہ(ابن مسعودؓ) کاارشاد ہے کہ : ''جو شخص تشہد پالیتا ہے اس کی نماز ہوگئی۔''

حکم او رحماد سے امام شعبہ نے پوچھا کہ ایک شخص اگرامام کے سلام پھیرنے سے پہلے نماز میں شریک ہوجاتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے، فرمایا وہ دو ہی رکعتیں پڑھے، یعنی جمعہ ہوگیا:
''عن شعبة قال سألت الحکم وحماد عن الرجل یجيء یوم الجمعة قبل أن یسلم الإمام قالا یصلي رکعتین''9

یہی بات حضرت ضحاک او رحضرت امام نخعی نے بھی کہی ہے۔ 10

راقم الحروف کے نزدیک بھی یہی قول اقرب الی الصواب ہے۔ نماز کوئی ہو، جب اس میں ایک نمازی کسی بھی مقام میں شریک جماعت ہوجاتاہے ،تو اسکی وہ نماز وہی شمار کی جاتی ہے جس میں وہ شریک ہوتاہے۔ وہ ظہر ہو، عصر یا اور کوئی نماز۔ پھر جمعہ کی نماز اس سےکیوں مستثنیٰ کی جائے؟

وجہ مغالطٰہ:
اصل میں ماہلطٰہ کا بنیادی سبب روایات کے یہ الفاظ بن جاتے ہیں کہ ''جس نے رکوع پالیا، رکعت ہوگئی ورنہ نہیں۔ مثلاً ''من أدرك من صلوٰة رکعة فقد أدرکها!''

اس سلسلے میں اس حد تک ہم بھی اتفاق کرتے ہیں کہ : رکوع میں شرکت کے بغیر رکعت نہیں بنتی لیکن کیا، جو نماز سمجھ کر اس میں نمازی نے شرکت کی ہے وہ نماز اسے مل گئی ہے یا نہیں؟ جن حضرات نے یہ فیصلہ فرمایا کہ : اسے وہ نماز نہ مل سکی، ہمارے نزدیک یہ استنباط صحیح نہیں ہے، کیونکہ آخری تشہد بھی نمازکا حصہ ہے۔ جب اس میں شرکت نصیب ہوگئی تو جیسا کہ دوسری نمازوں کی بات ہے، اسے بھی انہی نمازوں کے ساتھ رکھنا چاہیے جو ایسی صورت میں شمار کی جاتی ہے۔ اگر آپ کہیں کہ نماز کا زیادہ حصہ نہیں پاسکے تو اس کے لیے یہی کہا جائے گا کہ وہ ان کو نہیں ملی، کہ ''حکم الأکثر حکم الکل'' لیکن سوال یہ ہے کہ : ظہر کی رکعتوں میں سے اخیری رکعت کے صرف رکوع کے پالینے سے وہ مدرک نماز کیسے بن گئے؟ حالانکہ اکثر حصہ میں وہ شریک نہیں ہوسکے۔

نماز کا دائرہ ، سلام پھیرنے تک محتلہ ہے۔ تکبیر تحریمہ سے نماز شروع ہوئی او رسلام پھیرنے پر ختم ہوتی ہے۔

''تحریمها التکبیر و تحلیلها التسلیم''11مجموعی لحاظ سے یہ روایت قابل احتجاج ہے۔ 12 جب یہ صورت حال ہے تو پھر یہ کیوں کہا جائے کہ نمازی اس نماز کونہیں پاسکے؟

بہرحال راقم الحروف کے نزدیک صحیح یہ ہے کہ :التحیات (تشہد) میں بھی اگر کوئی شریک ہوجاتا ہے تو اس کا جمعہ ہوگیا، ہاں جتنا حصہ امام کے ساتھ ادا نہیں کرسکا تو اس کو اُٹھ کر پورا کرلے۔ ہاں اگر اس سلسلے میں کوئی صحیح اور مرفوع متصل حدیث موجو دہے تو پھر ہم اپنے اس نظریہ پر اصرار نہیں کریں گے، امام ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ ، امام ابن حبان کا ارشاد ہے، اس سلسلے کی ساری وایات معلول ہیں: امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں: اس حدیث کا کوئی وجود نہیں، یعنی جمعہ کی نماز کی رکعت نہ پاسکے تو چار رکعت ظہر والی روایت:
''قال ابن حبان في صحیحه إنها کلها معلولة وقال ابن أبي حاتم لا أصل لهذا الحدیث إنما المعنیٰ من أدرك في الصلوٰة رکعة فقد أدرکها''13 واللہ أعلم !


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


علاوہ ازیں محدث کی وساطت سے مندرجہ ذیل سوالات کیے گئے ہیں:
1۔ عورت کے سر کے بال ستر میں شامل ہیں یا نہیں؟ (ازگوجرانوالہ۔ ڈار)
2۔ جنت میں مردوں کے لیے تو حوریں ہوں گی عورتوں کے لیے کیا ہوگا؟
3۔ نماز جمعہ کے تشہد کے مدرک کا جمعہ ہوگیا یا اب وہ ظہر ادا کرے؟ (فاروقی)
4۔ ذبح کے وقت ذبح کرنے والے کے جذبات کیسے ہونے چاہیئیں؟
5۔ نماز کے بعد اجتماعی دعا جائز ہے یا نہ؟
6۔ کسی تبلیغی جلسہ میں عورتیں مبلغ کو دیکھ سکتی ہیں یا نہ؟
7۔ بیت الخلاء میں کپڑوں پر جو مکھیاں بیٹھتی ہیں ان سے کپڑا پلید ہوجاتا ہے یا نہیں؟
8۔ رشوت مجبوری بن گئی ہے، کیا ایسی صورت میں بھی راشی او رمرتشی لعنتی ہیں؟
9۔ حضور علیہ الصلوٰة والسلام نے اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ کیا اب بھی لائسنس لینا ضروری ہے؟
10۔ حضرت سلیمان علیہ السلام او ربلیس کا نکاح ہوا تھا یا نہ؟
11۔ زلیخا کو اس کے جرم پر مطعون کیا جاسکتا ہے؟

الجواب:
1۔ عوت کے سر کے بال:
ستر میں داخل ہیں، حضور علیہ الصلوٰة والسلام کا ارشاد ہے کہ جب لڑکی بالغ ہوجائے تو اس کے چہرہ اور دونوں ہتھیلیوں کے سوا اس کا کچھ اور حصہ نظر نہ آئے:
''یا أسماء إن المرأة إذا بلغت المحیض لم یصلح أن یریٰ منها إلاھٰذا وھٰذا و أشار إلیٰ وجهه وکفه'' 14

نیز فرمایا:
''الجاریة إذا حاضت لم یصلح أن یریٰ منها إلاوجهها ویداھا'' 15

2۔ نیک عورتوں کے لیے نیک مرد:
نیک عورتوں کے لیے نیک مرد ہوں گے۔
''الصالحات للصالحین'' 16

3۔ مدرک تشہد مدرک جمعہ ہوگا؟
کیونکہ تکبیر سے سلام پھیرنے تک جو نماز ہے وہی نماز جمعہ بھی ہے، جتنی باقی رہ گئی وہ ادا کرے:
''عن أبی وائل قال قال عبداللہ من أدرك التشهد فقد أدرك الصلوٰة'' 17

4۔ ذبح کے وقت جذبات:
ذبح کے وقت اگر ترس آتا ہے تو رحم دلی کی بات ہے، مبارک ہے، تاہم حضور علیہ الصلوٰة والسلام نے اپنے ہاتھ مبارک سے کئی ایک اونٹ ذبح کیے تھے۔ 18اس لیے اسے گناہ نہ تصو رکیا جائے۔

5۔ بعد از نماز اجتماعی دُعا:
کسی ایک پہلو پراصرار نہ کیا جائے، کبھی مانگ لی جائے او رکبھی چھوڑ دی جائے، کیونکہ نماز باجماعت ہو یا انفرادی نماز ہو، سلام سے پہلے جو دعا کی جاتی ہے وہ کافی ہوتی ہے۔جس طرح دعا بعد از جنازہ پراصرار۔ بُرا ہے اسی طرح یہاں بھی بُرا ہے کیونکہ نماز کے اندر دعا ہوجاتی ہے۔ اگربعد میں نہ کی جائے تو گناہ نہیں ہے بلکہ بہتر ہے کہ اس پر قناعت کی جائے جیسا کہ نماز جنازہ کی بات ہے۔

6۔ مبلّغ پر عورت کی نگاہ:
کسی جلسہ میں مبلّغ پرکسی عورت کی اچٹتی نگاہ کو پڑ جانا کوئی گناہ نہیں ہے، کیونکہ پڑ ہی جاتی ہے، ہاں ٹکٹکی باندھے دیکھے جانا شرعاً ممنوع ہے۔
''يغضضن من أبصارهن'' (القرآن) کوملحوظ خاطر رکھا جائے۔

7۔ بیت الخلاء کی مکھیاں اور کپڑے:
یہ بلائے بےدرماں ہے، اس کا علاج عوامی سطح پر ممکن ہی نہیں ہے، اس لیے اگر اس سے بچنا ضروری ہوتا تو یہ حرج کی بات ہوتی جو اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہے:
مَا يُرِ‌يدُ ٱللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَ‌جٍ...﴿٦﴾...سورۃ المائدہ
آپ تسلی رکھیں کہ اس کے بیٹھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، نہ کپڑے پلید ہوتے ہیں نہ جسم۔

8۔ رشوت مجبوری بن گئی ہے:
رشوت کوئی شرعی مجبوری نہیں ہے، بلکہ ''أُشْرِ‌بُوافِى قُلُوبِهِمُ ٱلْعِجْلَ'' والی بات بن گئی ہے، جو رشوت نہیں لیتے وہ بھی تو جی ہی رہے ہیں او رجو رشوت نہیں دیتے، وہ بھی مر نہیں گئے، ہمارے نزدیک دونون لعنتی ہیں۔ ہاں اگرکوئی شخص اپنے حق کے حصول کے لیےآخری چارہ کار کےطور پر اس کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ اللہ کے ہاں اس کے خلاف مقدمہ نہ چلایا جائے، لیکن یہ معیار او رپیمانہ بھی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ کس حد تک کسی کو وہ شرعی معذور تصور فرماتا ہے۔ ہم صرف احتمال کی حدتک کہہ سکتے ہیں کہ فلاں صورت اس کے لیے وجہ معذرت بن سکتی ہے۔ حتمی فیصلہ نہیں دے سکتے، اس لیے شرعاً مناسب یہی ہے کہ اس سے پرہیز ہی کیا جائے۔

9۔ ہتھیار او رلائسنس:
لائسنس لیناضروری ہے ورنہ انتظامیہ کی راہ میں خاصی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔جیساکہ دوسرے مقدمات گھر بیٹھے انسان خود نپٹانے کامجاز نہیں ہے۔ اس میں بھی وہ آزاد نہیں ہے ورنہ تحفظ نفس کے بہانہ سے خدا جانے دنیا کہاں سے کہاں پہنچ کر دم لے۔

10۔ حضرت سلیمان اوربلقیس کا نکاح:
صحیح احادیث میں نفیاً یا اثباتاً اس کے بارے میں کچھ نہیں آیا۔باقی رہیں اسرائیلیات؟ ان کے کیا ہی کہنے، ان کے سلسلے میں کوئی بھی شخص ضمانت نہیں دےسکتا۔

11۔ زلیخا کا جُرم :
اتنی بہرحال گنجائش مل سکتی ہےکہ یہ کہا جائے کہ: یہ فعل اچھا نہیں تھا، قرآن نے تو بہرحال بعد میں اس کاذکر فرما ہی دیا ہے۔


حوالہ جات
1. بخاری، باب ماجاء فی القبلة
2. فتح الباری، ص2؍252
3. نیل الاوطار:ص2؍276
4. السید الجرار ص1؍245
5. ابن ابی شیبة: صفحہ 2؍128، 129
6. ایضاً ص 2؍129
7. ایضاً: ص 2؍130
8. مصنف ابن ابی شیبہ:ص2؍131
9. مصنف ابن ابی شیبة ص2؍131
10. ایضاً ص2؍131
11. ترمذی وغیرہ
12. نیل ، ص2؍145
13. تلخیص الجبیر صفحہ 127 طبع ہند
14. ابوداؤد
15. ابوداؤد
16. طبرانی عن لقیط بن عامر ۔ حاوی الانام الیٰ دارالسلام ،ص89
17. ابن ابی شیبہ:ص2؍131
18. بخاری