حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں پوری جرح و تعدیل کے ساتھ ان تمام روایات کو نقل کیاہے۔ پھر پچیس صحابہ کرامؓ کے اسمائے گرامی نقل کیے ہیں جن سے یہ روایات منقول ہیں۔ان کےاسماء یہ ہیں:
حضرت عمر ؓبن خطاب، حضرت علیؓ، حضرت ابن مسعودؓ، حضرت ابوذرغفاریؓ، حضرت مالک بن صعصعہؓ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت شدادؓ بن اوس، حضرت ابی بن کعبؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن قرصؓ، حضرت ابوحیہؓ، حضرت ابویعلیٰؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت جابر بن عبداللہؓ، حضرت حذیفہ بن یمانؓ، حضرت بریدہؓ، حضرت ابوایوب انصاریؓ، حضرت ابوامامہ باہلیؓ، حضرت سمرة بن جندبؓ، حضرت ابوالحمراء ؓ، حضرت صہیب رومیؓ، حضرت اُم ہانیؓ، حضرت عائشہ صدیقہؓ، حضرت اسماء ؓ بنت ابی بکرؓ۔

اس کے بعد ابن کثیر نے لکھا ہے:
''فحدیث الإسراء أجمع عليه المسلمون واعترض فيه الزنادقة والملحدون'' 1
''اسراء کی حدیث پرمسلمانوں کا اجماع ہے۔ لیکن زندیق او ربے دین ان کو تسلیم نہیں کرتے۔''

بعدازاں یہ آیت لکھی ہے:
﴿يُرِ‌يدُونَ لِيُطْفِـُٔوانُورَ‌ ٱللَّهِ بِأَفْوَ‌ٰهِهِمْ وَٱللَّهُ مُتِمُّ نُورِ‌هِۦ وَلَوْ كَرِ‌هَ ٱلْكَـٰفِرُ‌ونَ ﴿٨...سورۃ الصف
''یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں حالانکہ اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے والا ہے۔ خواہ کافر اس کو کتنا ہی گراں سمجھیں۔''

گویا ان کا مقصد یہ ہےکہ مسلمان ہوکرمعراج کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں اپنے غیر مسلم ہونےکا اعلان کرے، پھر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔شتر بےمہار خواہ احدایث چھوڑ، قرآن کا بھی انکار کردے، تو مضائقہ نہیں ہوگا۔ (فافهم و تدبر)

8۔ دیگر انبیاؑء کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے عجائبات دکھائے۔ حضرت ابراہیم کے سامنے مُردوں کو زندہ کیا اور فرمایا:
﴿أَعْلَمُ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ‌﴿٢٥٩...سورۃ البقرۃ
''یقین رکھیے کہ اللہ بڑا زبردست بڑا حکمت والاہے!''

دوسری جگہ فرمایا:
﴿وَكَذَ‌ٰلِكَ نُرِ‌ىٓ إِبْرَ‌ٰ‌هِيمَ مَلَكُوتَ ٱلسَّمَـٰوَ‌ٰتِ وَٱلْأَرْ‌ضِ...﴿٧٥﴾...سورۃ الانعام
''او راسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی حکومت دکھائی۔''

حضرت موسیٰ علیہ السلام کوبھی انوار الٰہی کی تجلیات کوہ طور پر دکھائی گئیں جو اُن سے برداشت نہ ہوسکیں تو:
﴿وَخَرَّ‌ مُوسَىٰ صَعِقًا'' (الاعراف:143) ''موسیٰؑ بے ہوش ہوکر گر پڑے۔''

اسی طرح حضرت یعقوب کے متعلق تورات میں ذکر ہے :(2)او ردیگرانبیاؑء سے بڑھ کر آنحضرتؐ کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کی سیر کرائی او رپھر شرف ہمکلامی عطا فرما کر نماز، خوایتم سورة البقرہ اور شرک نہ کرنے پر مغفرت کا تحفہ امت محمدیہ کے لیے عنایت فرمایا (3)تو یہ اس کی عنایت ہے اور فضل ہے کیونکہ آپؐ افضل الرسل اور سید ولد آدم ہیں۔

4۔ آسمانی سفر کا ذکر آنحضرتؐ کی وفات کے 100 سال بعد سیرت ابن اسحاق میں درج نہیں ہوا بلکہ اس کی تفصیل آنحضرتؐ کے دور میں سورة النجم میں نازل ہوئی، پھر صحابہ کرام ؓ نے آنحضرتؐ سے سن کر اسے اپنے مصاحف میں درج کیا، جیساکہ پہلے مقدمہ کے نمبر 3 میں بیان ہوچکا ہے ۔ کوئی بات اس سلسلہ میں ہمارے پاس بے سند نہیں پہنچی بلکہ پوری جانچ پڑتال سے احادیث ملی ہیں۔ جہاں تک اسلام کے قبیلہ قریش اور دیگر قبائل میں پھیلنے کا تعلق ہے، اس روایت میں قبول اسلام کا ذکر نہیں بلکہ پھیلنے کا ہے، اس کے لفظ یہ ہیں:
'' ثم أسري برسول اللہ من المسجد الحرام إلیٰ المسجد الأقصٰی ھو بیت المقدس من إیلیاء وقد فشا الإسلام بمکة في قریش وفي القبائل کلها'' 4
''پھر آنحضرتؐ کو مسجد حرام سے بیت المقدس تک رات کے وقت لے جایا گیا۔ اس وقت اسلام مکہ میں قبیلہ قریش او رتمام قبائل میں پھیل چکا تھا۔''

اس روایت کو واقعہ معراج کے غلط ثابت کرنےکے لیے دلیل کے طور پر دو جگہ صاحب مضمون نے بیان کیاہے۔ حالانکہ اس میں کیا قباحت ہے کہ قریش کے اہم آدمی اسلام قبول کرچکے تھے اور تمام قبائل کو آنحضرتؐ کی دعوت کا علم تھا۔ شعب ابی طالب میں محصور ہونےکا تین سالہ دور گزر چکا تھا او رمسلمانوں کو کفار اذیتیں پہنچاتے رہے تو اسلام کب لوگوں سے چھپا ہوا تھا؟ سمجھ میں آتا ، صاحب مضمون نے اس روایت کو معراج کے جورٹا ہونے کے دلیل کے طور پر کیسے پیش کردیا؟

5۔ آنحضرتؐ کو ٹھوکر مار کر جگانا نہایت ہتک آمیز ہے لیکن یہ حدیث صحاح ستہ میں کسی جگہ نہیں ہے۔مشکوٰة شریف میں بھی نہیں ہے۔ سیرت ابن ہشام جلد اوّل صفحہ 244 پر یہ روایت ہے لیکن اس جگہ یہ لکھا ہےکہ :
''یہ روایت منقطع ہے، اس کو حسن بصری آنحضرتؐ سے بیان کرتے ہیں جبکہ ان کی ملاقات آنحضرتؐ سے ثابت نہیں ہے۔''

محدثین خود ہی جب اس روایت کو صحیح نہیں مانتے تو اس کو دلیل کے طور پر پیش کرنے کا کوئی مطلب ہی نہیں۔ مضمون نگار کی عقل پر حیرت ہے کہ حدیث کی حیثیت کو ویسے ہی تسلیم نہیں کرتے لیکن اپنا مطلب نکالنے کو ان روایات کو پیش کرتے ہیں جن پر محدثین خود تنقید کرچکے او ران کی کوئی حیثیت تسلیم نہیں کرتے۔

صحیح روایات کے مطابق انہی اسراء کی احادیث میں موجود ہے کہ جبرائیل براق کے حرکت کرنے سے اسے بتاتے ہیں:
''أفبمحمد تفعل ھٰذا فما رکبك أحد أکرم علی اللہ منه'' 5
''کیا محمدؐ سے ایسے کرتے ہو، اللہ کے نزدیک محمدؐ سے مکرم و معزز تم پر پہلے سوار نہیں ہوا۔''

گویا جبرائیل ہر مقام پر مؤدب نظر آتے ہیں۔صاحب مضمون نے اس کے متعلق بھی اپنی ذاتی رائے کا اظہار کیا ہے۔ سچ ہے:
''کل إناء یترشح بما فيه''


6۔ تاریخ اور تعدد معراج :
صحیح اور مستند روایات کے مطابق اور جمہور علماء کی رائے کے موافق معراج کا واقعہ ایک مرتبہ ہی پیش آیا جب آنحضرتؐ بیت المقدس او رپھر آسمانوں تک گئے روایات کی جزئیات میں اختلاف کو رفع کرنے کے لیے بعض لوگوں نے متعدد دفعہ معراج کا ذکر کیا حالانکہ مستند روایات میں اس کا اشارہ بھی نہیں ہے۔ 6

اسراء او رمعراج کے الگ ہونے کے متعلق شاذ اقوال ہیں لیکن صحابہ کرامؓ و محدثین علماء امت اور متکلمین کی عظیم اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ بیت المقدس او رپھر آسمانون تک آپؐ ایک ہی رات میں تشریف لے گئے۔کسی بھی واقعہ کےمتعلق جزئیات میں معمولی اختلاف ہو یا کسی واقعہ کو مختلف راویوں سے لیں یا مختلف مواقع پر خود بیان کریں توترتیب واقعات اور دیگر جزئی امور میں کئی قسم کے اختلافات عام مشاہدے کی بابت ہے لیکن اس کے باوجود اس کے اہم اجزاء کے وقوع میں شک نہیں ہوسکتا۔

یہی چیز واقعہ معراج کے متعلق ہے۔ واقعہ معراج کے متعلق حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے:
''ھٰذا بعید جدا ولم ینقل ھٰذا عن أحد من السلف ولو تعدد ھٰذا التعدد لا .......النبي أمةالخ'' 7
''یہ بہت بعید از قیاس بات ہے سلف میں سے کسی نے یہ نقل نہیں کیا اگر واقعہ معراج کئی دفعہ پیش آتا تو آنحضرتؐ اپنی امت کو بتاتے ، لوگ بھی اس کو کئی بار نقل کرتے۔'' ........................... (جاری)


حوالہ جات
1. ابن کثیر، ج3 ص29
2. سیرت النبیؐ ج3 ص394
3. مسلم ج1 ص117، باب فی المعراج
4. سیرة ابن هشام مع روض الأنف للسهیلي صفحہ 242
5. ترمذی ، ج2 ص163
6. شرح مواهب اللدنیة جلد اوّل صفحہ 255 بحوالہ سیرت النبیؐ، جلد سوم صفحہ 297
7. تفسیر ابن کثیر جلد 3 ص22 سہیل اکیڈمی لاہور