صنم پرست مشرکین بھی فاعل حقیقی اللہ ہی کو مانتے ہیں:
یہ کہنا کہ ''اللہ تعالیٰ کو فاعل حقیقی مانتے ہوئے کسی کو مدد کے لیے پکارا جائے، تو یہ شرک نہیں۔'' تو عرض ہے کہ اس صورت میں ماننا پڑے گا کہ دنیا میں شرک کا وجود کبھی رہا ہی نہیں ہے۔ اور قرآن کریم میں (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے خوامخواہ لوگوں کومشرک قرار دیا ہے۔

قرآن مجید میں بڑی وضاحت کے ساتھ بار بار یہ بات بیان کی گئی ہے کہ عرب کے مشرکین جو دعوت توحید کے مخاطب اوّل تھے ، وہ یہ مانتے تھے کہ زمین و آسمان او رساری کائنات کا خالق و مالک اور پروردگار صرف اللہ ہے اور وہی واحد ہستی ہے جس کے ہاتھ میں کائنات کی تدبیراور تصرف ہے۔ لیکن اس کے باوجود قرآن نےان عربوں کومشرک کہا۔ سوال یہ ہےکہ اللہ تعالیٰ کو ماننے کے باوجود مشرک کیوں قرار پائے؟

یہی وہ نکتہ ہے جس پر غور کرنے سے شرک کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مشرکین عرب نے خدا کے سوا جن ہستیوں کو معبود اور دیوتا مان رکھا تھا وہ ان کو خدا تعالیٰ کی مخلوق، اس کا محلوک او ربندہ ہی مانتے تھے لیکن اس کے ساتھ ان کا دعویٰ یہ تھا کہ چونکہ یہ لوگ اپنے اپنے وقتوں میں اللہ کے نیک بندے اور اسکے چہیتے تھے، اللہ تعالیٰ کے ہاں انہیں خاص مقام حاصل ہے، اس بنا پر وہ بھی کچھ اختیارات اپنے پاس رکھتے ہیں۔ ہم ان کی عبادت پوجا اس لئے نہیں کرتے کہ یہ خدائی اختیارات کے حامل ہیں، ہم تو ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرتے ہیں او ربطور وسیلہ اور سفارش ان کو پکارتے ہیں او ران سے استغاثہ کرتے ہیں۔ خود قرآن کریم میں مشرکین کے یہ اقوال نقل کیے گئے ہیں۔ سورہ یونس میں فرمایا گیا:
﴿وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّ‌هُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَـٰٓؤُلَآءِ شُفَعَـٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِ...﴿١٨﴾...سورۃ یونس
''اور (وہ مشرکین عرب) اللہ کے سوا ایسی چیز کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو نقصان پہنچا سکے او رنہ نفع۔ او رکہتے (یہ) ہیں کہ یہ تو ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے پاس۔''

دوسرے مقام پر فرمایا:
﴿وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوامِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّ‌بُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلْفَىٰٓ...﴿٣﴾...سورۃ الزمر
''جن لوگوں نے اللہ کے سوا اپنے حمایتی پکڑ رکھے ہیں (ان کا کہنا ہے) کہ ہم تو ان کی صرف اس واسطے عبادت کرتے ہیں کہ ہم کو یہ اللہ کے قریب پہنچا دیں۔''

اور صحیح احادیث میں آتا ہے کہ مشرکین عرب حج میں یہ تلبیہ پڑھا کرتے تھے:
''لبیك لا شریك لك إلا شریکا ھو لك تملکه وما ملك'' 1
''خداوند! ہم تیرے حضور حاضر ہیں، تیرا کوئی شریک نہیں ، سوائے اس شریک کے جو تیرا ہی ہے، تو اس کا مالک ہے۔ جن پر اس کی ملکیت اور حکومت ہے، ان کا مالک بھی تو ہی ہے۔''

اور صحیح بخاری میں حضرت ابن عباسؓ کی صراحت موجود ہے کہ قوم نوح کے وہ پانچ بت جن کا ذکر قرآن مجید (سورہ جن) میں کیا گیاہے، جن کی وہ عبادت و پرستش کرتے تھے۔ اللہ کے نیک بندون کے بت تھے:
''أسماء رجال صالحین من قوم نوح فلما ھلکوا أوحی الشیطان إلیٰ قومهم أن أنصبوا إلیٰ مجالسهم التي کانوا یجلسون أنصابا وسموھا بأسمائھم ففعلوا فلم تعبدو حتیٰ إذا ھلك اولٰئك و تنسخ العلم عبدت'' 2
''یعنی قوم نوح کے پانچ بت ، دراصل قوم نوح کے نیک آدمیوں کے نام تھے، جب وہ مرگئے تو شیطان نے ان کے ارادت مندوں کو کہا کہ (ان کی یاد تازہ رکھنے کے لیے) ان کے مجسمے بنا کر اپنی بیٹھکوں میں رکھ لو ۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا لیکن جب یہ مجسمے بنانے والے ) فوت ہوگئے تو ان کی بعد کی نسل نے ان تصویروں اور مجسموں کی عبادت شروع کردی۔''

بہرحال قرآن و حدیث اور صحابہؓ کی تصریحات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مشرکین عرب کا شرک بھی یہی تھا کہ انہوں نے اللہ کے نیک بندوں کو ان کی وفات کے بعد اپنا حاجت روا او رمشکل کشا سمجھا، ان کےنام کی نذر و نیازیں دیں او ران کے آستانوں پر سالانہ میلوں ٹھیلوں کا اہتمام کیا ورنہ فاعل حقیقی وہ بھی اللہ ہی کو مانتے تھے اور جب زیادہ مشکلات میں گھبراتے تو پھر وہ ان بتون کو چھوڑ کر فاعل حقیقی (اللہ تعالیٰ) ہی کی طرف رجوع کرتے تھے، جس کی شہادت خود قرآن مجید نے دی ہے مثلاً سمندر میں، جہاں کوئی ظاہری مادی سہارا انہیں نظر نہ آتا، تو وہاں صرف اللہ رب العالمین کو پکارتے اور اپنے خود ساختہ بزرگون اور معبودوں کو چھوڑ دیتے۔
﴿فَإِذَا رَ‌كِبُوافِى ٱلْفُلْكِ دَعَوُاٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ...﴿٦٥﴾...سورۃ العنکبوت
''جب یہ مشرکین (دریائی سفر میں) کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو (خطرے کے وقت) خالص اعتماد کرتے ہوئے اللہ ہی کو پکارتے ہیں۔''

دوسری جگہ فرمایا:
﴿وَإِذَا مَسَّكُمُ ٱلضُّرُّ‌ فِى ٱلْبَحْرِ‌ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّآ إِيَّاهُ...﴿٦٧﴾...سورۃ بنی اسرائیل
''(اے مشرکو!) جب تم دریان میں (طوفان وغیرہ کی) نصیبت میں گھیر لیے جاتے ہو تو ہمارے وہ دیوتا جن کو تم پکارتے ہو، غائب او رگم ہوجاتے ہیں۔ اس وقت تم بس اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہو۔''

قبر پرست مسلمانوں کا شرک:
بالکل یہی شرک ان مسلمانوں میں پایا جاتا ہے جو قبر پرست ہیں او رجن کی وکالت مدیر ''رضوان'' نے فرمائی ہے۔ ذرا بتلایا جائے کہ مشرکین عرب او رموجودہ قبر پرست مسلمانون کے شرک میں کیا فرق ہے؟ اگر اب بھی مدیر ''رضوان'' کو شک ہو تو ان اکابر علماء کی تصریحات ملاحظہ فرما لیں جن کو وہ بھی قابل اعتماد گردانتے ہیں، ان حنفی علماء او ربزرگوں نے بھی وضاحت کی ہے کہ مسلمان جاہل عوام قبروں کے ساتھ جو کچھ کرتے ہیں وہ صریحاً مشرکانہ اعمال و اعتقاد ہیں۔

چنانچہ حضرت مجدد الف ثانی لکھتے ہیں:
''وحیوانات راکہ نذر مشائخ می کنندد برسر قبر پائے ایشاں رفتہ آں حیوانات ذبح می نماینددر روایات فقہیہ ایں عمل رانیز داخل شرک ساختہ اندودریں مبالغہ نمودہ ایں ذبح را از جنس ذبائح جن انگاشتہ از کہ ممنوع شرعی است و داخل دائرہ شرک'' 3
''اور یہ لوگو بزرگوں کے لیے جو حیوانات (مرغوں، بکروں وغیرہ) کی نذر مانتے ہیں او رپھر ان کی قبروں پر لے جاکر ان کو ذبح کرتے ہیں تو فقہی روایات میں اس فعل کو بھی شرک میں داخل کیا گیا ہے اور فقہاء نے اس باب میں پوری سختی سے کام لیا ہے او ران قربانیوں کو جنوں (دیوتاؤں اور دیویوں) کی قربانی کے قبیل سے ٹھہرایا ہے جو شرعاً ممنوع اور داخل شرک ہیں۔''

اسی مکتوب میں آگے چل کر وہ اُن جاہل مسلمان عورتوں کے بارے میں لکھتے ہیں جو پیروں اور بیبیوں کو راضی کرنے کی نیت سے ان کے نام کے روزے رکھتی ہیں او ران روزوں کے توسل سے ان پیروں اور بیبیوں سے اپنی حاجتیں طلب کرتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ وہ ہماری حاجتیں پوری کریں گے۔ ان کے بارے میں حضرت مجدد فرماتے ہیں:
''ایں شرکت در عبادت است۔''
کہ ''ان جاہل عورتوں کا یہ عمل شرک فی العبادت ہے۔''

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں:
''اگر درتصویر حال مشرکین و اعمال ایشاں توقف داری احوال محترمان اہل زمانہ خصوصاً اناں کہ بہ اطراف دارالاسلام سکونت دارند ملاحظہ کن کہ ..... بہ قبور و آستانہامی روند و انواع شرک بہ عمل می آرند۔'' 4
''اگر عرب کے مشرکین کے احوال و اعمال کا صحیح تصور تمہارے لیے مشکل ہو او راس میں کچھ توقف ہو تو اپنے زمانے کے پیشہ ور عوام ، خصوصاً وہ جو دارالاسلام کے اطراف میں رہتے ہیں، ان کا حال دیکھ لو۔ وہ قبروں، آستانوں اور ......... درگاہوں پر جاتے ہیں او رطرح طرح کے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔''

اور ''حجة اللہ البالغة'' میں شرک کی مختلف شکلیں بیان کرکے لکھتے ہیں:
''وھٰذا مرض جمهور الیهود والنصاریٰ والمشرکین وبعض الغلاة من منافقي دین محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یومنا ھٰذا'' 5
''اور شرک کی یہ وہ بیماری ہے جس میں یہود، عیسائی اور مشرکین بالعموم اور ہمارے اس زمانے میں مسلمانوں میں سے بعض غالی منافقین مبتلا ہیں۔''

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سورہ مزمل کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ یہ شان صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے کہ جو اس کو جب او رجہاں سے یاد کرے، اللہ تعالیٰ کو اسکا علم ہوجائے۔ اور یہ بھی اسی کی شان ہے کہ وہ اس ذاکر بندے کی قوت مدرکہ میں آجائے جس کو شریعت کی خاص زبان میں دنو، تدلیٰ او رقرب و نزول کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد فرماتے ہیں:
''ایں ہر دو صفت خاصہ ذات پاک او تعالیٰ است۔ ہیچ مخلوق را حاصل نیست۔ ارے بعضے کفرہ درحق بعضے از معبودان خود و بعضے پیر پرستان از زمرہ مسلمین در حق پیران خود امر اول راثابت می کنندو دروقت احتیاج بہ ہمیں اعتقاد بآنہا استعانت می نمایند۔'' 6
''او ریہ دونوں صفتیں اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کا خاصہ ہیں، یہ کسی مخلوق کو حاصل نہیں ہیں۔ ہاں بعضے کفار اپنے بعض معبودوں اور دیوتاؤں کے بارے میں اور مسلمانوں میں سے بعض پیر پرست اپنے پیروں کے بارے میں ان میں سے پہلی چیز ثابت کرتے ہیں او رپنی حاجتوں کے وقت اسی اعتقاد کی بنا پر ان سے مدد چاہتے ہیں اور مدد کے لیے ان کو پکارتے ہیں۔''

اپنے فتاویٰ میں ایک سوال کے جواب میں ہندوستان کے ہندؤوں کے شرک کا حال بیان کرکے آخر میں فرماتے ہیں:
'' و ہمیں است حال فرقہ ہائے بسیار از مسلمیں مثل تعزیہ سازان و مجاوران قبور و جلالیان و مداریان'' 7
''یہی حال ہے بہت سے مسلمان فرقوں کا مثلاً تعزیہ بنانے والوں، قبروں کے مجاوروں اور جلالیوں مداریوں کا۔''

اور اسی فتاویٰ میں ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
''درباب استعانت بہ ارواح طیبہ دریں امت افراط بسیار بہ وقوع آمدہ آنچہ جہال و عوام ایں ہامی کنندو ایشاں رادر ہر عمل مستعل دانستہ اند بلا شبہ شرک جلی است'' 8
''ارواح طیبہ (نیک لوگوں کی روحوں) سے استعانت (مدد طلب کرنے) کے معاملے میں اس امت کے جہاں و عوام جوکچھ کرتے ہیں اور ہر کام میں برزگان دین کو مستقل مختار سمجھتے ہیں۔ یہ بلا شبہ شرک جلی ہے۔ (خلاصہ)''

اسی طرح اور بھی کئی بزرگوں نے اس انداز کی صراحتیں کی ہیں کہ قبر پرست مسلمانوں کے اعمال وعقائد صریحاً مشرکانہ ہیں۔

فقہ حنفی کی صراحت :
یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ تمام قبر پرست اپنے آپ کو فقہ حنفی کا پیرو کہتے ہیں حالانکہ فقہ حنفی میں بھی ان امور کو، جن کا ارتکاب قبر پرست کرتے ہیں، حرام و باطل او رکفر و شرک بتلایا گیاہے۔چنانچہ فقہ حنفی کی مشہور کتاب ''درمختار'' میں ہے:
''واعلم أن النذر الذي یقع للأموات من أکثر العوام و ما یؤخذ من الدراھم والشمع والزیت و نحوھا إلی ضرائح الأولیاء الکرام تقربا إلیهم فهو بالإجماع باطل و حرام۔'' 9
''معلوم ہونا چاہیے کہ اکثر عوام ، مُردوں کے نام پر جو نذریں نیازیں دیتے ہیں ، چڑھاوے چڑھاتے ہیں، اولیاء کا تقرب حاصل کرنے کے لیے مالی نذرانے پیش کرتے او ران کی قبروں پر چراغ اور تیل جلاتے ہیں وغیرہ، یہ سب چیزیں بالا جماع باطل او رحرام ہیں۔''

''درمختار'' کی مشہور شرح الرد المختار (المعروف فتاویٰ شامی ) میں اس کی شرح یوں کی گئی ہے:
''قوله باطل و حرام لوجوه منها أنه نذر لمخلوق لا یجوز لأنه عبادة و العبادة لاتکون لمخلوق ومنها أن المنذرو له میت والمیت لایملك و منھا أنه إن ظن إن المیت یتصرف في الأمور دون اللہ تعالیٰ و اعتقادہ ذٰلك کفرا'' 10

یعنی '' اس نذر لغیر اللہ کے باطل او رحرام ہونے کی کئی وجوہ ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ:
یہ قبروں کے چڑھاوے وغیرہ مخلوق کے نام کی نذریں ہیں او رمخلوق کے نام کی نذر جائز ہی نہیں۔اس لیے کہ (نذر بھی) عبادت ہے اور عبادت کسی مخلوق کی جائز نہیں۔
او رایک وجہ یہ ہے کہ منذدرلہ (جس کے نام کی نذر دی جاتی ہے) مُردہ ہے اور مُردہ کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔
اور ایک وجہ یہ ہے کہ نذر دینے والا شخص مردوں کے متعلق یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ اللہ کے سوا کائنات میں تصرف کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، حالانکہ مردوں کے متعلق ایسا عقیدہ رکھنا بھی کفر ہے۔


فتاویٰ عالمگیری کا فتویٰ:
اسی طرح فتاویٰ عالمگیری، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے پانچ سو حنفی علماء نے مرتب کیا ہے، اس میں لکھا ہے:
''والنذر الذي یقع من أکثر العوام بأن یأتي إلیٰ قبر بعض الصلحآء و یرفع سترہ قائلا یا سیدي فلان إن قضیت حاجتي فلك مني من الذھب مثل کذا باطل إجماعا!''
''اکثر عوام میں جو یہ رواج ہے کہ وہ کسی نیک آدمی کی قبر پر جاکر نذر مانتے ہیں کہ اے فلاں بزرگ، اگر میری حاجت پوری ہوگئی تو اتنا سونا (یا کوئی اور چیز ) تمہاری قبر پر چڑھاؤں گا۔ یہ نذر بالا جماع باطل ہے۔''

پھر لکھا ہے:
''فما یؤخذ من الدراھم ونحوھا و ینقل إلیٰ ضرائع الأولیاء الکرام تقریا إلیهم فحرام بالإجماع'' 11
''پس جو دینار و درہم یا او رچیزیں اولیاء کرام کی قبروں پر ان کا قرب حاصل کرنے (ان کو راضی کرنے) کے لیے لی جاتی ہیں۔ وہ بالاجماع حرام ہیں۔''

مردوں سے استغاثہ و استعانت کرنے والے کا یہ عقیدہ بھی ہوتا ہے کہ وہ میرے حال سے واقف ہے ا وروہ عالم الغیب ہے کیونکہ اس عقیدے کے بغیر ہزاروں میل کے فاصلے سے کسی مُردہ بزرگ کو پکارنے کا کوئی مطلب ہی نہیں رہتا او راللہ کے سوا کسی اور کو عالم الغیب سمجھنے والے کی بھی فقہ حنفی میں تکفیر کی گئی ہے۔ چنانچہ ملا علی قاری حنفی شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں:
''ثم اعلم أن الأنبیاء لم یعلموا المغیبات من الأشیاء إلا ما علمهم اللہ تعالیٰ أحیانا و ذکر الحنفیة تصریحا بالتکفیر باعتقاد أن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یعلم الغیب لمحارضة قوله تعالیٰ قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَ‌ٰتِ وَٱلْأَرْ‌ضِ ٱلْغَيْبَ إِلَّا ٱللَّهُ'' کذا في المسامرة!'' 12
یعنی '' معلوم ہونا چاہیے کہ انبیاء علیہم السلام غیب کی صرف انہی باتوں کو جانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ وقتاً فوقتاً ان کو بتلا دے اور فقہائے حنفیہ نے اس عقیدے کو، کہ ''رسول اللہ ﷺ کو علم غیب تھا'' صراحة کفر قرار دیا ہے کیونکہ یہ عقیدہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ''قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَ‌ٰتِ وَٱلْأَرْ‌ضِ ٱلْغَيْبَ إِلَّا ٱللَّهُ'' کے معارض (مخالف) ہے۔ یہی بات (شیخ ابن الہمام نے) مسائرہ میں ذکر کی ہے۔''

فقہ حنفی کی ایک اور مشہور کتاب فتاویٰ قاضی خان میں ہے:
''رجل تزوج امرأة بغیر شهود فقال الرجل واطرأة خدائے راد پیغامبر را گواہ کردیم'' قالوا یکون کفرا  لأنه اعتقد أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یعلم الغیب وھوما کان یعلم الغیب حین کان في الأحیاء فکیف بعد الموت'' 13
''کسی آدمی نے کسی عورت سے بغیر گواہوں کے نکاح کیا، البتہ مرد عورت نے یہ کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ او راس کے رسولؐ........ کو گواہ بناتے ہیں، فقہائے (حنفیہ)کہتے ہیں کہ ایسا کہنا کفر ہے اس لیے کہ اس کا اعتقاد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ غیب جانتے ہیں۔ حالانکہ آپؐ اپنی زندگی میں عالم الغیب نہ تھے، دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد آپؐ عالم الغیب کیوں کر ہوسکتے ہیں۔''

اور فتاویٰ بزازیہ میں ہے:
''وقال علماء نا من قال إن أرواح المشائخ حاضرة تعلم یکفر'' 14
یعنی ''ہمارے (حنفی ) فقہاء نے کہا ہے کہ جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ بزرگوں کی روحیں حاضر ہوتی اور غیب جانتی ہیں، وہ کافر ہے۔''

اسی طرح فقہ حنفی میں قبروں کا طواف، قبروں کو چومنا، ان کی تعظیم کے لیےجھکنا او روہاں دست بستہ قیام وغیرہ یہ تمام چیزیں ناجائز اور حرام لکھی ہیں او رقبروں پر سجدے کو کفر تک سے تعبیر کیا گیا ہے۔

قبروں کے پجاری بالعموم او ران کے وکیل و حمایتی بالخصوص اس آئینے میں اپنا سراپا دیکھ کر فیصلہ کرلیں کہ خود فقہ حنفی ان کی بابت کیا فیصلہ صادر کررہی ہیں؟ ہم یہاں رسول اللہ ﷺ کے وہ فرمودات نقل نہیں کررہے ہیں جن میں یہود و نصاریٰ کو اسی لیے ملعون قرار دیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے نیک لوگوں او رنبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا (کہ مضمون خاصا طویل ہوگیا ہے) اس لیے اب ہم بات کو سمیٹتے ہیں۔

یا شیخ عبدالقادر شیئا للہ کیوں ناجائز ہے؟
اس تفصیل سے واضح ہے کہ ''یاعلی مدد''، '' أغثني یارسول اللہ، اور یا شیخ عبدالقادر شیئا للہ'' وغیرہ جیسے الفاظ اور وظیفوں سے فوت شدگان سے استغاثہ (مدد طلب کرنا) حرام، ناجائز اور مشرکانہ فعل ہے کیونکہ ایسا کرنے والے کا عقیدہ یہی ہوتا ہے کہ جس کو وہ مدد کے لیے پکار رہا ہے، وہ اس کی فریاد سننے پر قادر ہے، وہ عالم الغیب ہے، وہ کائنات میں تصرف کرنے کا اختیار رکھتا ہے ۔ حالانکہ یہ تمام صفات اللہ تعالیٰ کی ہیں جو صرف اس کے ساتھ خاص ہیں۔ اسی لیے فقہ حنفی میں اس امر کو شرک و کفر سے تعبیر کیا گیاہے او رحنفی بزرگوں نے اسی بنا پر ''یا شیخ عبدالقادر شیئاللہ''کو ناجائز ساور کفر و شرک لکھا ہے۔ چنانچہ قاضی ثناء اللہ حنفی پانی پتی فرماتے ہیں:
''آنچہ جہال می گویند یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئا للہ یا خواجہ شمس الدین پانی پتی شیئا للہ جائز نیست، شرک و کفر است'' 15

اور مولانا عبدالحئ حنفی لکھوی لکھتے ہیں کہ اس وظیفے سے احتراز لازم و واجب ہے، بعض فقہاء نے اس پرکفر تک کا اطلاق کیا ہے، نیز اس وظیفہ کے پڑھنے والے کے دل میں یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ وہ مردہ بزرگ عالم الغیب اور صاحب اختیار ہے او ریہ عقیدہ شرک ہے۔ ان کی اصل عبارت یہ ہے:
''ازیں چنیں وظیفہ احتراز لازم وواجب ۔ اولاً ازیں جہت کہ ایں وظیفہ متضمن شیئا للہ است و بعض فقہاء از ماہمچو لفط حکم کفر کردہ اند چنانکہ در درمختار می نویسد کذا قول شئ للہ قیل یکفر انتہیٰ۔ ثانیاً ازیں جہت کہ ایں وظیفہ متضمن است ندائے اموات را ازا مکنہ بعیدہ و شرعاً ثابت نیست کہ اولیاء راقدر تے حاصل است کہ از مکنہ بعیدہ و ندارا بشنوند۔ البتہ سماع اموات سلام زائر قبر را ثابت است بلکہ اعتقاد ایں کہ کسے غیر حق سبحانہ حاضر و ناضر و عالم خفی و جلی در ہر وقت و ہر ان است اعتقاد شرک است۔ درفتاویٰ بزازیہ می نویسد تزوج بلا شہود و قال خدائے و رسول خدا و فرشتگان را گواہ کردہ ام یکفر لأنه اعتقد أن الرسول والملك یعلمان الغیب وقال علما ء نا من قال إن أرواج المشائخ حاضرة تعلم یکفر'' 16

''وحضرت شیخ عبدالقادر اگرچہ از اجلہ اولیاء امت محمدیہ ہست اندو مناقب و فضائل شان لا تعدو لا تحضی اند لیکن چنین قدرت شاں کہ فریاد را از امکنہ بعیدہ بشنوندوبہ فریاد رسند ثابت نیست واعتقاد ایں کہ آنجناب ہر وقت حال مریدان کودمی و انند و ندائے شان می شوند اس عقائد شرک است'' 17

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی  لکھتے ہیں:
''بدانکہ د ریں مقام مزلة الاقدام بسیارے افتادہ اندد درشافع و مشفوع الیہ فرق نہ کردہ اندمی گویند یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئاللہ یعنی اے شیخ عبدالقادر جیلانی چیزے از برائے خدا بدہ، دریں کلام خدا تعالیٰ را شفیع گردانیدہ اندو حضرت شیخ راد ہندہ و حقیقت بالعکس می نماید'' 18
''جاننا چاہیے، یہ بہت سے لوگوں کے پھسل جانے کا مقام ہے، انہوں نے سفارش کرنے والے او رجس کی طرف سفارش کی جائے، میں فرق نہیں سمجھا۔ کہتے ہیں یا شیخ عبدالقادر شیئاللہ یعني''اے شیخ عبدالقادر جیلانی خدا کے لیے کچھ دے'' اس کلام میں انہوں نے خدا کو سفارشی بنایا ہے اور حضرت شیخ کو دینے والا حالانکہ حقیقت اس کے برعکس معلوم ہوتی ہے۔'' 19

اس طرح کی استمداد کو، جووظیفہ مذکور (شیئا للہ) میں کی گئی ہے حضرت شاہ ولی اللہ  نے خدا کی توہین قرار دیا ہے، چنانچہ وہ اس کے بعد لکھتے ہیں:
''ازیں جادریافت شدکہ بواسطہ خدا از مخلوق حاجت خواستین خصوصاً از عالمیان غیب گویا کدارا بے چارا دانستن و مخلوق راتو ناو دانا پند اشتن است۔ معاذ اللہ من ذلک'' 20
یعنی ''اس سے ثابت ہوا کہ زندہ وغیر زندہ مخلوق کے پاس اللہ تعالیٰ کو شفیع بنا کر لایا اس کا واسطہ دے کر مخلوق سے حاجت روائی چاہنا گویا کدا کو عاجز سمجھنا اور مخلوق کو توانا تو جاننا ہے۔معاذ اللہ من ذالك'' 21


حوالہ جات
1. صحیح مسلم، کتاب الحج، باب التلبیة وصفتها ووقتها
2. صحیح بخاری ج2، ص732، تفسیر سورہ جن
3. مکتوب امام ربانی، دفتر سوم، مکتوب 41
4. الفوز الکبیر في أصول التفسیر ص11
5. حجة اللہ البالغة۔ باب في حقیقة الشرك ، ص61
6. تفسیر عزیزی۔ پارہ تبارک الذی۔ سورہ مزمل۔ صفحہ 181
7. فتاویٰ عزیزی۔ ج1 ص134، طبع مجتبائی دہلی
8. حوالہ مذکور ص121
9. آخر کتاب الصوم
10. رد المختار، جلد دوم صفحہ 439، طبع مصر 1944ء
11. الفتاویٰ الہندیہ المعروف فتاویٰ عالمگیری، جلد اوّل صفحہ 216، باب الاعتکاف طبع مصر
12. شرح فقہ اکبر ، صفحہ 182، طبع مجتبائی
13. فتاویٰ قاضی خاں برحاشیہ فتاویٰ عالمگیری، ج3 ص576، طبع بولاق 1310ھ فتاویٰ بزازیہ ص325، برحاشیہ فتاویٰ عالمگیری ص325 ج6
14. بحوالہ فتاویٰ مولانا عبدالحئ ج2 ص34، بحوالہ فتاویٰ بزازیہ ص326 برحاشیہ فتاویٰ عالمگیری جلد6
15. ارشاد الطالبین:ص18
16. انتہیٰ
17. مجموعہ فتاویٰ مولانا عبدالحئ لکھنوی حنفی۔ ج2 ص34
18. البلاغ المبین۔ ص114۔ 115 طبع لاہور
19. ترجمہ ''البلاغ المبین'' طبع ملتان، ص112
20. البلاغ المبین فارسی ص115
21. ترجمہ اُردو۔ ص112