آنکھوں سے مسلماں کی یارب پھر پردہ غفلت سرکا دے
بھٹکے ہوئے اپنے بندون کو پھر راہ ہدایت دکھلا دے

ایمان کی حرارت سے یارب پھر قلب مسلماں گرما دے
پھر مشعل ایماں روشن ہو پھر شعلہ ایماں بھڑکا دے

وہ ذوق عبادت دے ہم کو جو حسن یقین بن کر چمکے
وہ نور نظر میں پیدا کر جو شمس و قمر کو شرما دے

بدعت کی ظلمت چھٹ جائے باطل کی لعنت مٹ جائے
سنت کی اشاعت ہو ہر سو ، توحید کی خوشبو پھیلا دے

عریانی کے ساماں جل جائیں، فحاشی کے اڈے مٹ جائیں
بے دینی کی آندھی رک جائے الحاد کے طوفاں ٹھہرا دے

قرآن کی تلاوت کا یارب پھر شوق دلوں میں پیدا کر
پھر اس کےمعانی بتلا دے پھراس کے مطالب سمجھا دے

پھر دیکھیں آنکھیں مسلم کی، وہ موسم گل کی شادابی
چودہ سو سال پرانا پھر وہ دور صحابہؓ لوٹا دے

پھر باطل پرحق غالب ہو او رجھوٹا خاسر خائب ہو
پھر کفر سے ایماں ٹکرا دے پھربدر کا قصہ دہرا دے

میدان قیامت میں یارب میں جس دم حاضر خدمت ہوں
جا عاجز تجھ کو بخش دے، اس طرح مجھے تو فرما دے