حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
''بینما أنا نائم أتیت بخزائن الأرض فوضع في کفي سواران من ذھب فکبر علي فأوحی إلی أن أنفخهما فنفختهما فذھبا فأولتهما الکذابین الذین أنا بینهما صاحب صنعاء و صاحب الیمامة'' 1
''اس دوران جبکہ میں سویا ہوا تھا (یعنی خواب میں) میں زمیں کے خزانوں پر لایا گیا اورمیری ہتھیلی میں سونے کے دو کڑے رکھے گئے، جو مجھے بوجھل محسوس ہوئے تو میری طرف وحی کی گئی، ان پر پھونک ماریے ، پس جب میں نے ان پر پھونکا تو یہ اڑ گئے۔ میں نے (اپنے اس خواب کی) تعبیر یہ کی کہ (کڑے) دو جھوٹے (مدعیان نبوت) ہیں جن میں سے ایک تو صاحب صنعاء (اسود عنسی) ہے او ردوسرا صاحب یمامہ (مسیلمہ کذاب) ہے!''

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا ایک خواب ، جس کا مضمون اگرچہ قرآن مجید میں مذکور نہیں، تاہم اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کی تصدیق فرمائی کہ :
﴿لَّقَدْ صَدَقَ ٱللَّهُ رَ‌سُولَهُ ٱلرُّ‌ءْيَا بِٱلْحَقِّ ۖ لَتَدْخُلُنَّ ٱلْمَسْجِدَ ٱلْحَرَ‌امَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُ‌ءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِ‌ينَ لَا تَخَافُونَ ۖ..... الایة!'' (الفتح :27)
'' اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کا خواب سچا کر دکھلایا کہ تم لوگ مسجد حرام میں امن و امان کے ساتھ ان شاء اللہ ضرور داخل ہوگے، اس حالت میں کہ تم سرمنڈوائے اور بال ترشوائے ہوگے اور تم کو کسی قسم کا کوئی خوف (لاحق)نہ ہوگا!''

اور یوسف کا خواب، جو آپ ن اپنے والد ماجد حضرت یعقوب سے بیان فرمایا، قرآن مجید میں یوں مذکور ہے:
﴿يَـٰٓأَبَتِ إِنِّى رَ‌أَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ‌ كَوْكَبًا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ‌ رَ‌أَيْتُهُمْ لِى سَـٰجِدِينَ ﴿٤...سورۃ یوسف
''ابا جان، میں نے دیکھا کہ گیارہ ستارے ، سورج اور چاند مجھے سجدہ کررہے ہیں۔''

جس کی تعبیر بھی یوسف نے خود ہی بیان فرمائی۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے:
﴿وَرَ‌فَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى ٱلْعَرْ‌شِ وَخَرُّ‌والَهُۥ سُجَّدًا ۖ وَقَالَ يَـٰٓأَبَتِ هَـٰذَا تَأْوِيلُ رُ‌ءْيَـٰىَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَ‌بِّى حَقًّا...﴿١٠٠﴾...سورۃ یوسف
کہ '' یوسف نے اپنے والدین کو (اپنے ساتھ) تخت پر بٹھایا اور آپ کے بھائی آپ کے سامنے (تعظیماً) سجدہ میں گر گئے تو یوسف نے فرمایا: '' ابا جانا یہ ہے میرے اس خواب کی تعبیر، جس کا اس سے قبل (میں آپ سے ذکر کرچکا ہوں) او رجسے اللہ تعالیٰ نے سچا کردکھایا ہے ''

قرآن مجید میں حضرت ابراہیم کا خواب بھی مذکور ہے ، جب انہوں نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل سے فرمایا تھا:
﴿يَـٰبُنَىَّ إِنِّىٓ أَرَ‌ىٰ فِى ٱلْمَنَامِ أَنِّىٓ أَذْبَحُكَ فَٱنظُرْ‌ مَاذَا تَرَ‌ىٰ ۚ قَالَ يَـٰٓأَبَتِ ٱفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ‌ ۖ سَتَجِدُنِىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّـٰبِرِ‌ينَ ﴿١٠٢...سورۃ الصافات
''اے میرے لخت جگر، میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تجھے ذبح کررہا ہوں، پس بتا، تیری کیا رائے ہے؟'' اسماعیل نے فرمایا، ''ابا جان، آپ کو جس بات کا حکم دیا گیا ہے، کر گزریئے، آپ یقیناً مجھے صابر و شاکر پائیں گے''

پھر اس کے بعد قرآن مجید میں اس خواب کی تعبیر یوں مذکور ہے:
﴿فَلَمَّآ أَسْلَمَا وَتَلَّهُۥ لِلْجَبِينِ ﴿١٠٣﴾ وَنَـٰدَيْنَـٰهُ أَن يَـٰٓإِبْرَ‌ٰ‌هِيمُ ﴿١٠٤﴾ قَدْ صَدَّقْتَ ٱلرُّ‌ءْيَآ ۚ إِنَّا كَذَ‌ٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ ﴿١٠٥﴾ إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ ٱلْبَلَـٰٓؤُاٱلْمُبِينُ ﴿١٠٦﴾ وَفَدَيْنَـٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ ﴿١٠٧﴾ وَتَرَ‌كْنَا عَلَيْهِ فِى ٱلْءَاخِرِ‌ينَ ﴿١٠٨...سورۃ الصافات
''پھر جب باپ بیٹا دونوں فرمانبرداری پر مستعد ہوئے او رباپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا ، تو ہم نے اسے پکارا ''اے ابراہیم، (ہاتھ روک لیجئے) آپ نے اپنا خواب سچا کر دکھایا، ہم نیکوں کو اسی طرح جزا دیا کرتے تھے۔ یقیناً یہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی (جس میں آپ پورے اترے) او رہم نے اس کے بدلہ میں بڑی قربانی دی اور ہم نے اسے پچھلوں کے لیے آپ کا ورثہ اور ترکہ بنا دیا''

کتاب و سنت سے یہ خواب اور ان کی تعبیر نقل کرنے سے ہمارا مقصود یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوٰة السلام کے خواب سچے او ریقینی ہوتے ہیں۔ رسول اللہﷺ کے پہلے خواب میں جھوٹے مدعیان نبوت کا ذکر ہے جو قتل کردیے گئے آپ ؐ کے دوسرے خواب میں، جن کی تصدیق قرآن مجید نے فرمائی ہے، فتح مکہ کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ چنانچہ یہ مسلّمہ تاریخی حقائق ہیں او رتمام مسلمانوں کا ان پر اتفاق ہے!

یوسف کا خواب بھی بالکل سچا ثابت ہوا اور (آخری) حضرت ابراہیم کا خواب تو ایسا خواب ہے جونہ صرف رؤیائے انبیاء علیہم الصلوٰة والسلام کے صدق پر دال ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی کہ انبیاء علیہم الصلوٰة والسلام کے خواب حجت ہوتے ہیں اور وحی کی ایک قسم! ذرا غور تو فرماویئے، اللہ تعالیٰ کا ایک برگزیدہ بندہ خواب میں اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کرتے ہوئے دیکھتا ہے او رپھر وہ محض اس خواب کی بناء پر اپنے لخت جگر کو زمین پر لٹا کر اس کی گردن پر چھُری چلا دیتا ہے۔ اللہ، اللہ ، یہ یقین و اعتماد! کوئی شخص یہ تصور تک نہیں کرسکتا کہ وہ اپنے بدترین دشمن کی بھی جان لینے پر محض اس لیے تُل جائے کہ خواب میں اس نے یہ منظر دیکھا ہے، لہٰذا وہ اس کا حقدار اور یہ خواب اس کے لیے حجت ہے نہیں، بلکہ اگر وہ ایسا کرے گا تو قصاص میں خود بھی قتل کیا جائے گا۔ لیکن یہاں کوئی عدو جاں نہیں، اپنے جگر کا ٹکڑا، اپنی حقیقی اولاد ہے اور ذرا اس غلام حلیم (اسماعیل ) کا یقین و اعتماد بھی ملاحظہ ہو کہ ﴿إِنِّىٓ أَرَ‌ىٰ فِى ٱلْمَنَامِ أَنِّىٓ أَذْبَحُكَ...﴿١٠٢﴾...سورۃ الصافات'' کے جواب میں یوں گویا ہوتا ہے: ﴿يَـٰٓأَبَتِ ٱفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ‌...﴿١٠٢﴾...سورۃ الصافات'' یعنی وہ اس ''رؤیت في المنام'' کوامر الٰہی سے تعبیر کررہا ہے پھر معاملہ یہیں پر ختم نہیں ہوجاتا، اس خواب کو نہ صرف حقیقت کا رنگ دیا جاتا ہے کہ باپ بیٹا دونوں مستعد ہوکر ذبح کرنے اور ذبح ہونے کے صبر آزما مراحل سے گزرتے ہیں، بلکہ خدائے عزوجل خواب کی اس تعبیر کی تصدیق ﴿قَدْ صَدَّقْتَ ٱلرُّ‌ءْيَآ...﴿١٠٥﴾...سورۃ الصافات'' کے الفاظ سے فرمانے کے علاوہ اس عظیم قربانی کو شرف قبولیت سے بھی نوازتے ہیں۔ ہاں مگر ، یہ تو اس کا کرم ہے کہ جان بھی نہ گئی، امتحان بھی لے لیا۔امتحان میں کامیابی کی سند بھی عطا فرمائی اور إِنّا كَذٰلِكَ نَجزِى المُحسِنينَ ﴿٨٠...سورة الصافات کا اعلان بھی فرما دیا۔

اور کیا اسی پر بس ہے؟ نہیں، بلکہ ''إني أرى في المنام'' کی بنیاد پر اس سنت کا اجراء جو تاقیامت اس عظیم واقعہ کی یاد ہر سال تازہ کرتی رہے گی۔

دین اسلام انسانی زندگی کے تمام لمحات میں اپنے ماننے والوں کی راہنمائی فرماتا ہے، حتیٰ کہ بیداری و خواب کے فطری معمولات کے پہلو کوبھی اس نے تشنہ نہیں چھوڑا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
''الرؤیا الصالحة جزء من ستة وأربعین جزء امن النبوة'' 2
''کہ سچا خواب، نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے''

نیز فرمایا:
''لم یبق من النبوة إلا المبشرات''
''نبوت سے صرف مبشرات باقی ہیں۔''
اس پر صحابہؓ نے وضاحت چاہی۔
''اے اللہ کے رسولؐ، مبشرات کے کیا معنی ہیں؟''
تو آپؐ نے فرمایا:
''الرؤیا الصالحة'' ''اچھے خواب'' 3
اور آپؐ نے یہ بھی فرمایا:
''من راٰني فقد راٰني فإن الشیطان لا یتمثل في صورتي'' 4
کہ '' جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے مجھی کو دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔''

قبل اس کے کہ ہم موضوع سخن کو آگے بڑھائیں، ان غلط فہمیوں کا ازالہ ضروری سمجھتے ہیں جو مذکورہ بالا احادیث سے پید کی جاتی ہیں:
1۔ ''خوابین نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہیں '' کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ نبیؐ کے واسطہ کے بغیر بھی ہدایت حاصل ہوسکتی یا نبوت کا سلسلہ اب بھی خوابوں کے ذریعہ جاری ہے کہ اس طرح تو ختم نبو ت ، تکمیل رسالت اور بعثت رسولؐ کی کوئی حیثیت ہی باقی نہیں رہ جاتی۔ بلکہ اس کا مطلب یہ کہ خواب وحی کی ایک قسم ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
''إنا معاشر الأنبیاء تنام أعیننا ولا تنام قلوبنا''
کہ ''ہم انبیاء (علیہم السلام) کے گروہ کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل بیدار رہتے ہیں۔''

اور بیداری میں چونکہ انبیاؑء پر وحی کا نزول ہوتاہے، لہٰذا سوتے میں (یعنی خواب میں) بھی ان پر وحی نازل ہوتی ہے''

چنانچہ امام قرطبی لکھتےہیں:
''کانت الرسل تأتیهم الوحي أیقاظا ورقود افإن الأنبیاء لا تنام قلوبهم''
کہ ''اللہ کے رسولوں پر جاگتے اور سوتے ہر دو حالتوں میں وحی ہوتی ہے کیونکہ انبیاؑء کے دل نہیں سوتے''

او رجہاں تک نبوت کے جاری رہنے نہ رہنے کی بات ہے، تو یہ حضرت اُم ایمنؓ کے اس واقعہ سے بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ آپؓ کے پاس اپنی زندگی میں تشریف لے جایا کرتے تھے۔ آپؐ کے وصال کے بعد شیخین (حضرت صدیق اکبر، فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہا) آپ کے پاس گئے تو آپ رونے لگیں۔ شیخین ن ےجب رونے کی وجہ پوچھی تو فرمانے لگیں، ''میں اس لیے روتی ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کے دنیا سے اُٹھ جانے کے بعد اب وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے۔''

علاوہ ازیں وفات النبیؐ پر حضرت فاطمہؓ کے اس شعر سے بھی اس سلسلہ میں رہنمائی ملتی ہے۔ ؎


إنا فقدناك فقد الأرض وابلها
وغاب مذغبت عنا الوحي والکتب5

''آپ ؐ سے ہماری محرومی ایسی محرومی ہے جیسے زمین سے تراوت جاتی رہتی ہے۔ جب سے آپؐ دنیا سے تشریف لے گئے ہیں، ہم سے وحی او رکلام الٰہی کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے۔''

2۔ او رجہاں تک ''لم یبق من النبوة إلا المبشرات'' کا تعلق ہے ، تو یہ تسلیم کہ سچے خواب اب بھی دکھائی دے سکتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ اب کسی سچے خواب کوحجت سمجھتے ہوئے اس پر عمل بھی کیا جائے] مثلاً قرآن مجید سے ہم نے حضرت ابراہیم کے خواب کا ذکر کیا ہے، ایسا ہی خواب اگر آج کوئی شخص دیکھتا ہے تو کیا اس کےلیے اس پر عمل بھی جائز ہوگا؟ ہرگز نہیں؟ وجہ یہ کہ نبی اپنے ملکہ نبوت کی بناء پر (جووہبی ہوتا ہے نہ کہ کسبی) یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ کسی خواب کی حقیقت کیا ہے؟ نبی اور غیر نبی میں ایک فرق یہ بھی ہےکہ نبی میں نہ صرف خواب کی حقیقت تک پہنچنے کی استعداد ہوتی ہے بلکہ اس پراس کے لیے عمل بھی ضروری ہوتا ہے جب کہ غیر نبی نہ تو اس کی حقیقت جان سکتا ہے اور نہ ہی اس پر عمل کی اُسے اجازت ہے، کیونکہ عمل کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تصدیق ضروری ہے جو اُسے حاصل نہیں، ہاں انبیاء علیہم السلام کو یہ تصدیق حاصل ہوتی ہے لہٰذا وہ اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔ سچ ہے کہ :
''رؤیا الأنبیآء وحي بخلاف غیرھم'' کہ ''انبیاؑء کا خواب وحی ہوتا ہےبخلاف غیر انبیاء کے''

پھر یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ کسی سچے خواب کے بارے میں پہلے سے یہ کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ یہ خواب سچا ہے؟ او راگر بعد میں یہ یقین حاصل ہوا کہ یہ خواب سچا تھا تو اس کا نفس واقعہ پرکیا اثر پڑے گا؟ او رخواب سچے بھی ہوتے ہیں، جھوٹے بھی۔ بلکہ سچا خواب کافر کو بھی دکھائی دے سکتا ہے (مثلاً فرعون کو خواب آیا اور اس کی تعبیر کا وہ خود شکار بھی ہوا) اور مومن کا خواب بھی جھوٹا ہوسکتا ہے۔ اس سچ او رجھوٹ کا فیصلہ کون کرے گا؟ جبکہ عمل کے لیے سچائی کا یقین ضروری ہے جو صرف نبی کو ملکہ نبوت کی بناء پر حاصل ہوتا ہے۔

پس ان ہر دو احادیث کو سامنے رکھ کر یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ سچا خواب نبوت کا ایک حصہ ہے۔(i) او رسچے خوابوں کا وجود چونکہ اب بھی ہے، اس لیے ایسے خوابوں سے جو پیشگی خوشی ملتی ہے او ربعد میں وہ عملاً حاصل بھی ہوجائے تو اس کا فائدہ بشارت کا ہوگا، تاہم اس کی حیثیت تفاول کی ہوگی کیونکہ شرع میں تفاول (فال حاصل کرنا) جائز ہے اور تطیر (بدشگونی)ناجائز۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
''لاطیرة'' ''(اسلام میں) بدفعالی کا کوئی جواز نہیں''

جبکہ تفاول (نیک فال) کا ثبوت رسول اکرم ﷺ سے یوں ملتا ہے کہ ایک دفعہ آپؐ تشریف فرما تھے تو سعدؓ بن معاذ حاضر ہوئے۔ آپؐ نے انہیں دیکھ کر فرمایا: ''جاء سعد'' ''سعد آگئے'' یعنی آپؐ نے اس سے یہ بشارت او رنیک فال حاصل کی کہ ''سعد'' کے نام میں سعادت موجود ہے گویا سعد کے آنے سے مسلمانوں کو فتح کی سعادت حاصل ہوگی۔اس واقعہ سے یہ ظاہر ہےکہ فال اور بشارت صرف خوابوں کی بشارت ہونے کا جو ذکر ہے، اس سے مراد ان خوابوں کا باعث اطمینان ہونا ہے جیسے انبیاؑء کو وحی سے اطمینان حاصل ہوتا ہے لیکن غیر نبی کو اطمینان کے علاوہ کوئی علم غیب حاصل نہیں ہوتا جبکہ نبی کو وحی کے ذریعہ اطمینان کے علاوہ غیبی امور سے بھی مطلع کردیا جاتاہے۔

لہٰذا ان احادیث کی بناء پر نہ تو اجرائے نبوت پر استدلال ہوسکتا ہے نہ ختم نبوت ، منصفب رسالت اور بعثت رسول پر کوئی زد پڑتی ہے او رنہ ہی یہ عقیدہ رکھا جاسکتا ہے کہ نبی کے بغیر اب بھی اللہ تعالیٰ سے براہ راست راہنمائی کا کوئی ذریعہ ممکن و موجود ہے، ہاں کشف سے ہم انکار نہیں کرتے تاہم خوابوں کی طرح یہ بھی حجت نہیں۔

اور جب یہ جان لینے کا قرینہ ہی موجود نہیں کہ کوئی خواب سچا ہے یا جھوٹا، او راسی بناء پر اب اس پر عمل بھی ناممکن ہے، تو ظاہر ہے یہ خواب جیسے کچھ بھی ہوں، ہمارے لیے ان کی حیثیت تخیلات سے زیادہ نہیں او رجو لوگ تخیلات میں پڑتے ہیں، ﴿وَٱلشُّعَرَ‌آءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلْغَاوُۥنَ ﴿٢٢٤﴾ أَلَمْ تَرَ‌ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ ﴿٢٢٥...سورۃ الشعراء'' کے تحت عملی دنیا سے کٹ جاتے ہیں، کہ تخیلاتی (ما بعد الطبیعاتی) میدان میں طبیعاتی (سائنسی) قواعد و ضوابط سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

3۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان ہے کہ ''جس نے خواب میں مجھے دیکھا، اس نے مجھی کو دیکھا، کیونکہ شیطان میری شکل نہیں بن سکتا'' بالکل درست ہے، لیکن یہ اس کے لیے ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کو آپؐ کی زندگی میں دیکھا ہے۔ ورنہ ایک شخص خواب میں یہ دیکھتا ہے ، کوئی ہستی اس سے مخاطب ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اب اس شخص کے پاس کون سی کسوٹی ہے جس کی بناء پر وہ یقین کرلے کہ واقعی یہ آپؐ ہی ہیں، آپؐ کی شکل سے آشنا تو وہ ہے نہیں ، لہٰذا ممکن ہے شیطان ، (آپؐ کے علاوہ، کیونکہ آپؐ کی شکل تو وہ بنا نہیں سکتا)، کسی دوسری شکل میں آکر یہ دھوکا دے او رباور کرائے کہ میں اللہ کا رسول ہوں، کہ وہ بڑا دھوکے باز ہے۔ ظاہر ہے جو شخص آپؐ کو آپؐ کی زندگی میں پہچانتا ہے (یعنی صحابی) خواب میں آپؐ کی زیارت کرتا ہے تو یقیناً اس نے آپؐ ہی کو دیکھا لیکن ایک غیر صحابی، جسے آپؐ کی صورت کی پہچان نہیں خواب میں کوئی صورت دیکھ کر کیونکر یہ فیصلہ کرسکتا ہےکہ یہی رسول اللہ ﷺ کی صورت ہے۔ لہٰذا وہ آپؐ ہی کی زیارت کا شرف حاصل کرچکا ہے۔ بالفاظ دیگر، پہلے یہ متحقق ہونا ضروری ہے کہ اس نے آپؐ ہی کو دیکھا ہے۔ پس صحابیؓ کا اپؐ کو خواب میں دیکھنا حجت ہوگا، عیر صحابی کا نہیں۔

اور اسی سلسلہ کا ایک وصاحت طلب پہلو یہ بھی ہے کہ کوئی غیر صحابی آپ کو خواب میں دیکھتا ہے، آپ اسے کوئی حکم دیتے ہیں، جس پر وہ عمل کو ضرورت قرار دیتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ آپؐ کو پہچانتا نہیں، یہ کیسے باور کرے گا کہ یہ حکم آپؐ ہی نے اس کو دیا ہے؟ ظاہر ہے یہ فیصلہ بھی صرف ایک صحابی ؓ کے لیے ممکن ہے غیر صحابی کے لیے نہیں۔ کہ جب وہ حیات مبارکہ میں آپؐ کی زیارت کے بغیر آپؐ کو پہچان نہیں سکتا، تو آپؐ کی آواز سنے بغیر اسے کیسے پہچان سکتا ہے؟ بالخصوص جبکہ آپؐ کی آواز کو پہچان لینے کا اب کوئی ذریعہ بھی موجود نہیں۔

اور خواب میں آپؐ کا کسی کو کوئی حکم دینا اس لیے بھی محل نظر ہے کہ نبوت تو تمام ہوچکی، تکمیل دین بھی ہوگئی، وصال مبارک کے بعد اب آپؐ تبلیغ وحی پر مقرر نہیں ہیں۔لہٰذا اب خواب میں آپؐ کے کسی فرمان کی یہ حقیقت نہیں کہ گویا یہ اب بھی وحی نازل ہورہی ہے۔ ویسےبھی خواب میں آپؐ کا دیکھنا تو حجت ہے، لیکن آپؐ نے یہ نہیں فرمایا کہ ''میں نے خواب میں جس سے گفتگو کی اس نے مجھی سے گفتگو کی''

اب ہم اس تمام بحث کو چند نکات میں سمیٹتے ہیں:
1۔ انبیاء علیہم السلام کے خواب سچا ہوتے ہیں او رحجت شرعیہ بھی۔ جبکہ غیر نبی کے خواب کے بارے میں پہلے سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ سچا ہے، لہٰذا وہ بعد میں سچا ثابت ہونے کے باوجود بھی حجت نہیں بن سکتا۔
2۔ نبی کا خواب چونکہ وحی کی ایک قسم ہے، لہٰذا اس پر عمل بھی اس کے لیے ضروری ہوتا ہے لیکن غیر نبی کا خواب نہ وحی ہوتا ہے نہ اس کے لیے اس پر عمل جائز ہے۔
3۔ رسول اللہ ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے۔
4۔ خواب میں آپؐ کا دیکھنا اس کے لیے حجت ہے جو آپؐ کو پہچانتا ہو اور یہ اعتماد صرف صحابیؓ کو ہوسکتا ہے کہ اس نے آپؐ ہی کو دیکھا۔
5۔ خواب میں آپؐ نے اپنی گفتگو کو حجت قرار نہیں دیا۔
6۔ مذکورہ بالا احادیث کی بناء پر نہ تو اجرائے نبوت پر کوئی استدلال ہوسکتا ہے ، نہ منصب رسالت پر۔ او رنہ ہی ختم نبوت اور تکمیل رسالت پر کوئی زد پڑتی ہے۔
7۔ او ران تمام وضاحتوں کے بعد یہ بات بلا ریب و تردّد کہی جاسکتی ہے کہ خوابوں پر انحصار کرنے والے تخیلاتی دنیا میں بھٹک رہے ہیں، حقیقت سے ان کو دور کا بھی واسطہ نہیں۔ گویا یہ توہمات کی دنیا ہے او رانہی توہماتی دنیا کے باسیوں کے متعلق قرآن مجید نے فرمایا ہے:
﴿هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ ٱلشَّيَـٰطِينُ ﴿٢٢١﴾ تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿٢٢٢﴾ يُلْقُونَ ٱلسَّمْعَ وَأَكْثَرُ‌هُمْ كَـٰذِبُونَ ﴿٢٢٣﴾ وَٱلشُّعَرَ‌آءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلْغَاوُۥنَ ﴿٢٢٤﴾ أَلَمْ تَرَ‌ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ ﴿٢٢٥﴾ وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ ﴿٢٢٦...سورۃ الشعراء
''کیا میں تمہیں خبردوں، شیاطین کا نزول کن لوگوں پر ہوتا ہے؟ یہ ہر ایک جھوٹے گنہگار پراترتے ہیں، سنی سنائی باتیں پہنچاتے ہیں او ران میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔ شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں، کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر جنگل میں سرگردان ہیں او رجوکچھ کہتے ہیں، خود نہیں کرتے۔''

آمدم برسر مطلب ،16 فروری 1983ء کو جن امریکی علماء کا فتویٰ اخبارات میں شائع ہوا ہے، خوابوں کے سلسلہ میں کتاب و سنت کی روشنی میں ان تصریحات کے بعد اس بات کی کوئی اہمیت باقی رہ جاتی ہے کہ:
''الحمدللہ، فقراء کی ایک مسکین جماعت پہلی جماعت تھی جس نے 1977ء کے ماہ اپریل میں پاکستان کے لوگوں کو آگاہ کردیا تھا کہ مشاہدہ کے مطابق نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ نے محترم محمد ضیاء الحق کو نامزد کردیا ہے کہ بھٹو کی جگہ لے لیں ''6

اور اس پر جب پاکستانی علماء نے ان کا تعاقب کیا تو 18 فروری کے اخبارات میں انہوں نے (بزعم خویش) وضاحتاً ارشاد فرمایا:
''چند حضرات نے رویائے صالح میں حضور نبی کریمﷺ سے ملاقات کی تو انہیں بتایاگیاکہ صدر ضیاء الحق سوشلسٹ بھٹو کی جگہ آجائیں گے...... یہ بات 1977ء میں، جبکہ ابھی بھٹو برسراقتدار تھے، بتائی گئی تھی۔'' 7

اسی اشاعت کے صفحہ 7 کالم 5، 6 میں انہوں نے جو دلائل نقل کیے ہیں وہ یہ ہیں:
1۔ حضور نبی کریم ﷺ نے خوابوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ نیک بندے کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہوتاہے۔
2۔ اچھے خواب من اللہ ہوتے ہیں او رنبی کریم ﷺ نے نیک خواب دیکھنے والون کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنا خواب دوسروں کو بیان کریں۔
3۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے کہ حضورﷺ کی نبوت کی ابتدائ سچے خوابوں سے ہوئی تھی۔
4۔ بخاری شریف میں سرور کائنات کا یہ ارشاد ہے کہ جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا تو حقیقتاً اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آسکتا۔
5۔ اگر اسلام میں خواب کی حیثیت نہ ہوتی تو حضرت ابراہیم اپنے فرزند ارجمند کے گلے پر چھُری نہ رکھ دیتے۔
6۔ ہمارا فتویٰ پریس ریلیز نہیں بلکہ قرآن پاک اور سنت رسول اللہ ﷺ کی نمائندگی کرتا ہے۔
7۔ یہ قوم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیوں نہیں کرتی، جس نے انہیں ایک اسلام او رملک دشمن ظالم فرمانروا سے نجات دلوا کر ایک نیک اور صالح شخص کو مقرر کردیا۔''


قارئین کرام ! ابتداء میں ہم نے جو بحث کی ہے، اس کی روشنی میں یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ ان علماء حضرات نے قرآن پاک اور سنت رسولؐ اللہ کی کس حد تک نمائندگی فرمائی ہے، تاہم مزید یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ:
1۔ ''نیک بندے کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہوتا ہے!'' کی بناء پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ نبوت کا چھیالیسواں حصہ ان حضرات کومل گیا ہے جنہوں نے یہ رؤیائے صادقہ دیکھے ہیں؟''
2۔ اچھے خواب من اللہ ہوتے ہیں او رنبی کریم ﷺ نے نیک خواب دیکھنے والون کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنا خواب دوسروں کوبیان کریں'' لیکن مذکورہ بالا وضاحت کی بناء پر اوّلاً تو یہ خواب آپ کے لیے حجت نہیں کہ آپ یہ اعلان فرما دیں کہ بھٹو کی جگہ اب محترم ضیاء الحق کو رسول اللہ ؐ نے نامزد کیا ہے۔ ثانیاً نبی کریم ؐ نے اچھا خواب بیان کرنے کی کوئی ترغیب نہیں فرمائی بلہ جب آپؐ نے بُرے خواب بیان کرنےسے منع فرما دیا تو اس سے اچھے خواب بیان کرنے کی صرف اجازت مفہوم ہوتی ہے۔
3۔ حضور ﷺ کی نبوت کی ابتدائ سچے خوابوں سے ہوئی تھی'' تو کیا اب ''رؤیائے صادقہ'' دیکھنے والے یہ حضرات بھی نبی بننےکی تیاریوں میں مصروف ہوچکے ہیں؟ اس بے ادبی کی سزا کے متعلق بھی آپ کا فتویٰ درکار ہے۔
4۔ جس شخص نے مجھے دیکھا تو حقیقتاً اس نے مجھے ہی دیکھا'' کیا آپ کو یقین ہے کہ جس ہستی کو ان علمائے کرام نے دیکھا تھا وہ آپ ہی کی ذات گرامی تھی؟ آپ حضورﷺ کے صورت آشنا کب ہوئے؟ آپ کی عمر تو بہت تھوڑی معلوم ہوتی ہے۔
5۔ ''اگر اسلام میں خواب کی حیثیت نہ ہوتی تو حضرت ابراہیم اپنے فرزند ارجمند کے گلے پر چھری نہ رکھ دیتے!'' کیا ایسا ہی کوئی خواب اگر آپ حضرات میں سے کوئی صاحب دیکھ کراس کی تعبیر کر ڈالین تو امریکہ میں اس کی کیا سزا ہے؟
6۔ ''یہ قوم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیوں نہیں کرتی کہ جس نے انہیں ایک اسلام اور ملک دشمن ظالم فرمانروا سے نجات دلوا کر ایک نیک اور صالح شخص کو مقرر کردیا۔''
16 فروری کی اشاعت میں محترم ضیاء الحق کو رسول اللہ ؐ نے مقرر کیا تھا، لیکن اس کے دو ہی دن بعد 18 فروری کوبھٹو سے نجات دلوا کر ایک نیک اور صالح شخص کو اللہ تعالیٰ نے مقرر کردیا۔ ع

جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے!

اے کاش اپریل 1977ء کی بجائے یہ حضرات دسمنر 1970ء میں یہ خواب دیکھ لیتے تو نہ پاکستان دولخت ہوتا اور نہ ہی ایک اسلام او رملک دشمن ظالم فرمانروا پاکستان پر مسلط ہوتا۔
او روہ بھی تو ایک خواب ہی تھی جس نے جہلم کے 18۔ افراد کو سمندر کی لہروں کی نذر کردیا۔اس افسوسناک واقعہ کا عبرتناک پہلویہ ہے کہ جن لوگون کو اس ''بشارت'' پر یقین تھا اور اسی بناء پر انہوں نے اپنے تئیں ٹین کے بکسون میں بند کرکے سمندر کی لہروں کے حوالے کیا تھا، تاکہ کربلائے معلّیٰ پہنچ سکیں، وہ تو منزل مقصود نہ پاسکے، ہاں جنہوں نے تردّد کا شکار ہوکر آخری وقت میں حوصلے ہار دیئے تھے وہ بچ جانے والوں کے ساتھ بذریعہ ہوائی جہاد منزل مراد پہنچ گئے۔ ﴿إِنَّ فِى ذَ‌ٰلِكَ لَعِبْرَ‌ةً لِّأُولِى ٱلْأَبْصَـٰرِ‌﴿١٣﴾...سورة آل عمران''

پس ہم دو ٹوک الفاظ میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دین اسلام نہ تو ہمارے خوابوں کا مرہون منت ہے او رنہ ہی خوابوں کی اس توہماتی دنیا میں بسنے والے ان نادان دوستوں کی اسلام کی ضرورت ہے۔

ہاں اے علماء حضرات، اگر آپ کو خوابوں سے اسی قدر شغف تھا تو انہی خوابوں سے آپ نے اتباع رسول اللہ پر استدلال کیا ہوتا۔ آج کے اس دور میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو حدیث رسول اللہؐ کے انکاری او راس کو حجت شرعیہ سمجھنے سے گریزاں ہیں۔ حضر ت ابراہیم کے خواب کے حوالے سے آپ انہیں یہ بتا سکتے تھے کہ فرمان رسول اللہ ؐ تو درکنار، کہ اس کی تائید میں نص قرآنی ''وما ینطق عن الھویٰ۔ ان ھو الا وحی یوحیٰ'' موجود ہے۔ رسول اللہؐ کا خواب تک حجت شرعی ہے او ریہ خواب بھی ایسا خواب تھا کہ ایک عام آدمی اس کی حقیقت کا تور کرکے ہی کانپ جاتا ہے، لیکن حضرت ابراہیم نے اسی ایک خواب کی بنیاد پر وہ کام کردکھلایا جس کی تاریخ عالم میں کوئی ایک مثال بھی نہیں ملتی۔ پھر یہ نہیں ہوا کہ ایک باپ نے اگر اپنے حقیقی بیٹے کی گردن پر چھری چلانی ہے تو وہ بارگاہ ایزدی میں مجرم ٹھہرا، نہیں بلکہ اس کے اس عمل کو قربانی سے موسوم کیا گیا۔ اسے شرف قبولیت سے نوازا کیا او را سکے ایسے ہی کارناموں پربارگاہ حقیقی سے اسے ''انی جاعلک للناس اماما'' کا وہ اعزاز حاصل ہوا کہ آج ہم اس امت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوٰة والسلام) کی ملت ہی ملت ابراہیمی کے نام سے موسم ہے۔ آپ ان منکرین حدیث سے یہ پوچھ سکتے تھے کہ فرمان رسول اللہ ؐ کو حجت نہ سمجھنے والو، آج اگر پوری امت محمدیہ ہر سال لاکھوں، کروڑوں جانوروں کو اس خدائے عظیم کے نام پر قربان کردینی ہے اور تاقیامت ایسا ہی ہوتا رہے گا تو اس عظیم یادگار کی بنیاد کس چیز پر قائم ہے؟ مفسر قرآن ہونے کا دعویٰ کرنے والو، قرآن ہی کو فیصل تسلیم کرلو۔ سنو، اس کی بنیاد اسی خواب ابراہیمی پرقائم ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں یوں مذکور ہے۔
﴿يَـٰبُنَىَّ إِنِّىٓ أَرَ‌ىٰ فِى ٱلْمَنَامِ أَنِّىٓ أَذْبَحُكَ فَٱنظُرْ‌ مَاذَا تَرَ‌ىٰ...﴿١٠٢﴾...سورۃ الصافات

عظیم باپ نے خواب دیکھا او راسے بیٹے کے سامنےبیان کیا۔ تو عظیم بیٹے نے فوراً لبیک کہی:
﴿يَـٰٓأَبَتِ ٱفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ‌ ۖ سَتَجِدُنِىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّـٰبِرِ‌ينَ ﴿١٠٢...سورۃ الصافات
''والد بزرگوار، (آپ کا خواب بھی حجت ہے او راپ کا اس خواب کو بیان کرنا بھی حجت ہے۔ میرا ایمان ہے، یہ خواب امر الٰہی ہے لہٰذا وہی کچھ کر گزریئے جس کا آپ کو حکم ملا ہے (جو جہاں تک میرا تعلق ہے) آپ یقیناً مجھے صابر و شاکر پائیں گے۔''

ولعل فیه لفایة لمن له درایة
واٰخردعوانا أن الحمد للہ رب العالمین


حوالہ جات
1. بخاری و مسلم
2. بخاری، مسلم عن انسؓ
3. بخاری،مسلم عن ابی ہریرہؓ
4. بخاری، مسلم عن ابی ہریرہؓ
5. رحمة للعالمین
6. روزنامہ جنگ 16 فروری صفحہ 8 کالم 2
7. روزنامہ جنگ صفحہ اوّل کالم 6

i. اس سے مراد یہ ہےکہ وحی کی جو قسم خواب پر مشتمل ہوتی ہے، اچھے خوابوں کا تعلق اس سے ہے، اگرچہ نبی کے خواب کی حقیقت کسی دوسرے نیک یا بد کے اچھے خواب سے مختلف ہوتی ہے، کیونکہ اولاً تو غیر نبی کو اپنے خواب کی صداقت پر یقین حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ حاصل نہیں ہے کہ نبی ایسا یقین وہبی ملکہ نبوت کی بناء پر حاصل کرتاہے جو غیر نبی کے پاس نہیں، ثانیاً یہی وجہ ہے کہ غیر نبی کو کسی زعم کی بناء پر اپنے خواب پر عمل کرنے کی اجازت نہیں کہ اسے اگر وہ حکم الٰہی سمجھ کراختیار کرتا ہے تو یہ بلا دلیل کے ہے اور اگر وہ اسے حکم الٰہی نہ سمجھتے ہوئے اختیار کرتا ہے تو اس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں، البتہ علماء سے ایسے خوابوں کے بارے میں جو یہ شرط منقول ہے کہ ایسے خواب اگر شرع کے مطابق ہوں تو معتبر ہیں، اس شرط کا عملاً کوئی اثر نہیں ، کیونکہ اگر شرع کی مطابقت کی شرط ملحوظ رہے تو ایسے خواب کے لیے دلیل خود شرع ہوئی نہ کہ خواب ۔