ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • جولائی
1983
اکرام اللہ ساجد
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''بینما انا نائم اتیت بخزائن الارض فوضع فی کفی سواران من ذھب فکبر علی فاوحی الی ان انفخہما فنفختہما فذھبا فاولتہما الکذابین الذین انا بینہما صاحب صنعاء و صاحب الیمامة'' 1''اس دوران جبکہ میں سویا ہوا تھا (یعنی خواب میں) میں زمیں کے خزانوں پر لایا گیا اورمیری ہتھیلی میں سونے کے دو کڑے رکھے گئے، جو مجھے بوجھل محسوس ہوئے تو میری طرف وحی کی گئی، ان پر پھونک ماریے ، پس جب میں نے ان پر پھونکا تو یہ اڑ گئے۔ میں نے (اپنے اس خواب کی) تعبیر یہ کی کہ (کڑے) دو جھوٹے (مدعیان نبوت) ہیں جن میں سے ایک تو صاحب صنعاء (اسود عنسی) ہے او ردوسرا صاحب یمامہ (مسیلمہ کذاب) ہے!''
  • جولائی
1983
محمد بن اسماعیل
سوال: اگر آپ یہ کہیں کہ اس سے یہ لازم آتا ہےکہ تمام امت گمراہی پرمتفق ہوگئی کیونکہ وہ اس کو بُرا کہنے سے خاموش رہے؟ جواب: اجماع کی حقیقت یہ ہےکہ آنحضرتﷺ کے عہد مسعود کے بعد امت محمدیہ کے مجتہدوں کا کسی مسئلہ میں متفق ہونا ہے اور مذاہب کے فقہاء ائمہ اربعہ کے بعد اجتہاد کو محال تصور کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کی یہ بات غلط اور باطل ہے او رایسی بات وہی کہتا ہے جو حقائق سے بے خبر ہوتا ہے تاہم ان
  • جولائی
1983
صلاح الدین یوسف
یہ کہنا کہ ''اللہ تعالیٰ کو فاعل حقیقی مانتے ہوئے کسی کو مدد کے لیے پکارا جائے، تو یہ شرک نہیں۔'' تو عرض ہے کہ اس صورت میں ماننا پڑے گا کہ دنیا میں شرک کا وجود کبھی رہا ہی نہیں ہے۔ اور قرآن کریم میں (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے خوامخواہ لوگوں کومشرک قرار دیا ہے۔قرآن مجید میں بڑی وضاحت کے ساتھ بار بار یہ بات بیان کی گئی ہے کہ عرب کے مشرکین جو دعوت توحید کے مخاطب اوّل تھے ، وہ یہ مانتے تھے کہ زمین
  • جولائی
1983
عبدالرؤف ظفر
حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں پوری جرح و تعدیل کے ساتھ ان تمام روایات کو نقل کیاہے۔ پھر پچیس صحابہ کرامؓ کے اسمائے گرامی نقل کیے ہیں جن سے یہ روایات منقول ہیں۔ان کےاسماء یہ ہیں:حضرت عمر ؓبن خطاب، حضرت علیؓ، حضرت ابن مسعودؓ، حضرت ابوذرغفاریؓ، حضرت مالک بن صعصعہؓ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت شدادؓ بن اوس، حضرت ابی بن کعبؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن قرصؓ، حضرت ابوحیہؓ، حضرت ابویعلیٰؓ
  • جولائی
1983
عبدالرشید عراقی
حضرت شیخ محمد طاہر پٹنی کے بعد علم حدیث کی نشرواشاعت کےسلسلہ میں شیخ عبدالحق بن سیف الدین بخاری کا نام آتاہے۔حضرت شیخ عبدالحق 958ھ (بمطابق 1551ء )کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد شیخ سیف الدین سے حاصل کی، اس کے بعد مختلف اساتذہ کرام سے اکتساب فیض کیا۔ 22 سال کی عمر میں تکمیل تعلیم کے بعد حرمین شریفین کے لیے روانہ ہوئے۔ راستہ میں احمد آباد میں شیخ وجیہ الدین علوی گجراتی (م998ھ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کی صحبت سے فیض حاصل کیا۔
  • جولائی
1983
عبدالرحمن عاجز
آنکھوں سے مسلماں کی یارب پھر پردہ غفلت سرکا دے
بھٹکے ہوئے اپنے بندون کو پھر راہ ہدایت دکھلا دے

ایمان کی حرارت سے یارب پھر قلب مسلماں گرما دے
پھر مشعل ایماں روشن ہو پھر شعلہ ایماں بھڑکا دے