نہ زعم علم و ہنر ہے نہ دعوئ تحقیق
عطائے حق ہے ثنائے رسولؐ کی توفیق!

وہ ذات پاک سراپا ہے صادق و مصدوق
غلام جس کے ہمہ تن مصدق و صدیق

زمانہ جس کی دیانت کی خود گواہی دے
عدوئے جاں بھی کرے جس کے صدق کی تصدیق

وہی جو بے کس و مظلوم کا ہے خیر اندیش
یتیم و عاجز و عاصی کا غمگسار و رفیق!

شہنشہوں میں امیروں میں کجلاہوں میں
نہ دلربا کوئی ایسا نہ دلنواز و شفیق

اسی کا اسوہ ہے رہبر ہجوم باطل میں
ہر ابتلاء میں ہے تعلیم اس کی میری صدیق

نہیں ہے خواجہ بطحا کے ذکر کے قابل
جو چشم ہو نہ نم آلود قلب ہو نہ رقیق

نظام فاتح مکہ کی پھر ضرورت ہے
ابھر رہے ہیں دوبارہ بتان عہد عتیق

علیم نعت صحیفہ ہے اک محبت کا
نہ فلسفہ ہے ، نہ منطق نہ نکتہ ہائے دقیق