جناب اکبر رحمانی
مدیر ماہنامہ ''آموز گار''جلگاؤں ، انڈیا
افکار معاصرین

ماہنامہ 'محدث' لاہور

مدیر اعلیٰ: حافظ عبدالرحمٰن مدنی

قیمت عام شمارہ: دو روپے، زر سالانہ 20 روپے

ملنے کا پتہ: 99۔ جے ماڈل ٹاؤن ، لاہور

اس الحاد اور مادیت کے دور میں ایک خالص علمی و دینی رسالے کی اشاعت خاصا مشکل کام ہے۔ ''مجلس التحقیق الاسلامی'' لاہور کا یہ ترجمان دسمبر 1970ء سے نہایت پابندی سے شائع ہورہا ہے۔ نفیس کتابت، آفسٹ کی حسین طباعت، کاغذ سفید اور سرورق اعلیٰ، آرٹ پیٹر رنگین ، سائز 8؍02x26،صفحات ٤٨۔ رسالہ ظاہری و باطنی دونوں اعتبار سے اعلیٰ و معیاری ہے۔مندرجات و مشمولات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مسلک اہلحدیث کا ترجمان ہے لیکن دیگر مسالک کے خلاف عناد و تعصب کی جھلک کہیں نظر نہیں آتی۔ دینی مسائل کے علاوہ ریاست کے مسائل پربھی فکر انگیز مضامین و مقالات شائع ہوتے ہیں۔ ہرجگہ منصفانہ اور معتدلانہ رویہ دکھائی دیتا ہے۔ ''آموز گار'' کے اجراء کے بعد سے یہ رسالہ پابندی سے تبادلہ میں آرہا ہے۔ اس وقت میرے پیش نظر نومبر 1982ء کا شمارہ ہے۔ فکرونظر کے تحت مدیر معاون اکرام اللہ ساجد کا فکر انگیز ادایہ ہے۔ دارالافتاء ایک مستقل کالم ہے جس میں مولانا عزیز زبیدی مختلف مسائل کی قرآن و احادیث کی روشنی میں تشریح کرتے ہیں۔ مقالات میں الاستاذ محترم ابراہیم شقرہ کا مقالہ '' نبوی انداز تربیت'' قابل مطالعہ ہے۔ تحقیق و تنقید کے عنوان کے تحت مولانا عبدالرحمٰن کیلانی کے مقالہ نظریہ ارتقاء کی دوسری اور آخری قسط ہے۔ اس مقالے میں مقالہ نگار نے ڈارون کے نظریہ ارتقاء کے تارپود بکھیر کر رکھ دیئے ہیں۔ دراصل ان میں منکر حدیث پرویز کے افکار کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ تاریخ و سیر کے تحت مضامین بھی کافی تحقیقی اور علمی ہیں۔

جناب عبدالرؤف ظفر کا مضمون ''قریش او ردیگر عرب قبائل کی تجارت'' اور محترمہ ثریا ڈار کا مضمون ''شاہ عبدالعزیز دہلوی بحیثیت محدث'' اس لائق ہیں کہ انہیں بار بار پڑھا جائے۔ علمی و تحقیقی مضامین کے علاوہ اس میں صالح شعر و ادب بھی شائع ہوتا ہے۔ تبصرہ کتب مستقل کالم ہے۔

جو حضرات دین کا ذوق رکھتے ہیں انہیں نہ صرف یہ رسالہ پابندی سے پڑھنا چاہیے بلکہ اس کی توسیع اشاعت میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ یقیناً یہ رسالہ ہندوستان کے دینی حلقوں میں بھی کافی مقبول ہوگا۔ بشرطیکہ اس کی خریداری کا یہاں کوئی معقول انتظام ہوجائے۔

۔۔۔۔۔۔::::::۔۔۔۔۔۔