3۔ نبیﷺ نےاپنے منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہؓ کی مطلقہ بیوی سے نکاح کیا تو منافقین اور مخالفین نے پروپیگنڈہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا، نبیؐ نے یہ نکاح خود نہیں کیا بلکہ ہمارے حکم سے کیا ہے:
﴿فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرً‌ا زَوَّجْنَـٰكَهَا لِكَىْ لَا يَكُونَ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ حَرَ‌جٌ فِىٓ أَزْوَ‌ٰجِ أَدْعِيَآئِهِمْ إِذَا قَضَوْا۟ مِنْهُنَّ وَطَرً‌ا...﴿٣٧﴾...سورۃ الاحزاب
''پھر جب زید کا جی اس سے بھر گیا تو ہم نے اس کا نکاح آپؐ سے کردیا تاکہ اہل ایمان کے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سےنکاح کرنے میں کوئی حرج مانع نہ ہو، جبکہ وہ ان سے جی بھر چکے ہوں (یعنی طلاق دے چکے ہوں)''

یہ آیت اس نکاح ہونے کے بعد نازل ہوئی۔ اس سے پہلے نبیؐ کو جو حکم دیا گیا تھا کہ آپؐ زید کی مطلقہ بیوی سے نکاح کرلیں، قرآن مجید میں کہین نہیں ہے۔
4۔ ﴿وَإِذْ يَعِدُكُمُ ٱللَّهُ إِحْدَى ٱلطَّآئِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ‌ ذَاتِ ٱلشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِ‌يدُ ٱللَّهُ أَن يُحِقَّ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَـٰتِهِۦ وَيَقْطَعَ دَابِرَ‌ ٱلْكَـٰفِرِ‌ينَ ﴿٧...سورۃ الانفال
''او رجب اللہ تم سے وعدہ فرما رہا تھا کہ دو گروہوں (تجارتی قافلہ اور لشکر قریش) میں سے ایک تمہارے ہاتھ آئے گا اور تم خیال کرتے تھے کہ بے زور گروہ تمہیں ملے گا حالانکہ اللہ جانتا تھا کہ اپنے کلمات سے حق کو حق کر دکھائے او رکافروں کی کمر توڑ دے۔''

قرآن مجید میں کوئی اس وعدے کی آیت نہیں دکھا سکتا جس میں یہ فرمایا گیا ہو کہ ''اے مسلمانو! دو گروہوں میں سے ایک تم کو ملے گا'' معلوم ہوا، وہ چیز قرآن کے علاوہ کچھ اور ہے، جس کو حدیث یا ''وحی غیر متلو'' کہا جاتا ہے۔
5۔ ﴿مَا قَطَعْتُم مِّن لِّينَةٍ أَوْ تَرَ‌كْتُمُوهَا قَآئِمَةً عَلَىٰٓ أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ ٱللَّهِ...﴿٥﴾...سورۃ الحشر
''تم نے جو تنے (کھجور کے) کاٹ دیئے ہیں یا اُن کو اپنی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا تو یہ سب خدا کے حکم سے تھا۔''

جب اسلامی لشکر نے قبیلہ یہود بنو نضیر کے درخت کاٹ ڈالے، یہ کام انہوں نے جنگی تدبیر کی بناء پر کیا تھا۔ یہود نے یہ صورت حال دیکھ کر محمدﷺ کو آواز دی او رکہا، آپ اللہ کے نبی ہیں اور اصلاح کے مدّعی ہیں۔ کیا درختوں کو کاٹنا او رجلانا بھی اصلاح ہے؟ اس کے جواب میں یہ آیت اتری ۔ 1

اس آیت سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتؐ کو قرآن مجید کے علاوہ بھی احکامات دیئے جاتے رہے ہیں کیونکہ یہاں جس امر کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ ''یہ کام انہوں نے اللہ کے حکم سے کیا ہے'' ظاہر ہے یہ قرآن مجید میں نہیں ہے بلکہ یہ اذن وحی کے ذریعہ سے دیا گیا ہے جسے حدیث کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وحی صرف قرآن تک محدود نہیں ہے۔

6۔ اسی طرح جنگ بدر پر تبصرہ کرتے ہوئے، ارشاد الٰہی ہے:
﴿إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَ‌بَّكُمْ فَٱسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّى مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةِ مُرْ‌دِفِينَ ﴿٩...سورۃ الانفال
''جبکہ تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے، تو اس نے تماھری فریاد کے جواب میں فرمایا، '' میں تمہاری مدد کے لیے لگاتار ایک ہزار فرشتے بھیجنے والا ہوں!''

قرآن مجید میں یہ آیت کسی جگہ نہیں، جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانون کی اس فریاد کا جواب دیا گیا ہو۔ ان آیات قرآنیہ سے معلوم ہوا کہ آنحضرتؐ پر قرآن مجید کے علاوہ بھی وحی آتی تھی جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبرؐ کی راہنمائی فرماتے تھے۔

یہ تمام آیات قرآنی پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ قرآن مجید کے علاوہ بھی وحی آنحضرتؐ پر آتی تھی او ریہ آنحضرتؐ کے وہ اقوال ، افعال اور احوال ہیں جو ہمارے پاس احادیث کی مدون و مستند کتابوں کی صورت میں موجود ہیں۔

8۔ آنحضرتؐ پیغمبر ہونے کے ساتھ ساتھ انسان بھی تھے۔ ''من أنفسکم'' ''تم میں سے '' ''من أنفسهم'' انہیں میں سے'' اور ''منهم'' ''ان میں سے'' کے الفاظ قرآن مجید میں مذکور ہیں۔ایک جگہ اس طرح ارشاد ہے:
﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَ‌سُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ ٱلرُّ‌سُلُ ۚ أَفَإِين مَّاتَ أَوْ قُتِلَ ٱنقَلَبْتُمْ عَلَىٰٓ أَعْقَـٰبِكُمْ ۚ...﴿١٤٤﴾...سورۃ آل عمران
''اور محمؐدتو بس ایک رسول ہی ہیں، ان سے قبل او ربھی رسول گزر چکے ہیں، سو اگر وہ وفات پاجائیں یا قتل ہوجائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟''

نیز فرمایا:
﴿وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ‌ۢ مِّن قَبْلِكَ ٱلْخُلْدَ ۖ أَفَإِين مِّتَّ فَهُمُ ٱلْخَـٰلِدُونَ ﴿٣٤...سورۃ الانبیاء
''ہم نے آپ سے قبل بھی کسی بشر کو ہمیشہ زندہ رہنے کے لیے نہیں بنایا، سو کیا اگر آپؐ کی وفات ہوجائے تو وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔''

آنحضرتؐ نے خود ارشاد فرمایا:
''إنما أنا بشر مثلکم أنسٰی کما تنسون فإذا نسیت فذکروني'' 2
''میں تمہاری طرح بشر ہی ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔ پس جب میں بھول جاؤں تو تم مجھے یاد کرا دیا کرو۔''

آپؐ نے صحابہؓ کو کھجوروں کی پیوند کاری سے منع فرمایا تو اس سال پھل کم ہوا۔ صحابہؓ کے شکایت کرنے پر ارشاد فرمایا:
''أنتم أعلم بأمر دنیا کم'' 3
''اپنے دنیا کے معاملات تم زیادہ بہتر سمجھتے ہو۔''

چنانچہ صحابہؓ سے مشورہ کرنے کا بھی اللہ تعالیٰ نے آنحضرتؐ کو حکم فرمایا:
﴿وَشَاوِرْ‌هُمْ فِى ٱلْأَمْرِ‌ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ...﴿١٥٩﴾...سورۃ آل عمران
''ان سےمعاملات میں مشورہ کیجئے، پھر جب اپ عزم کرلیں تو خدا تعالیٰ پر توکل فرمائیے۔''

اس میں آنحضرتؐ کی توہین نہیں۔انسان ہونےکی حیثیت سے اگر کوئی بات خلاف منشا ہوجاتی تو خدا تعالیٰ کی طرف سے راہنمائی ہوجاتی۔ بلکہ اس میں آپؐ کی فضیلت کا پہلو نمایاں ہے۔

قرآن مجید کے نزول کے ساتھ ساتھ مزید راہنمائی جاری رہی۔ آیات ملاحظہ ہوں:
﴿مَا كُنتَ تَدْرِ‌ى مَا ٱلْكِتَـٰبُ وَلَا ٱلْإِيمَـٰنُ...﴿٥٢﴾...سورۃ الشوری''آپؐ کو یہ خبر نہ تھی کہ کتاب کیا ہے او رایمان کیا ہے۔''

﴿أَلَمْ نَشْرَ‌حْ لَكَ صَدْرَ‌كَ ﴿١...سورۃ الشرح ''کیا ہم نے آپؐ کی خاطر آپ کا سینہ کشادہ نہیں کردیا۔''

﴿وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدَىٰ ﴿٧...سورۃ الضحی''اور آپؐ کو بے خبر پایا سو راستہ بتا دیا۔''

﴿وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُن تَعْلَمُ...﴿١١٣﴾...سورۃ النساء''اور آپؐ کو وہ سکھایا جس کا آپؐ کو علم نہیں تھا۔''

ان تمام آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کے علاوہ بھی آپؐ پر وحی کا نزول ہوتا تھا گویا حجیت حدیث کا ثبوت خود قرآن سے نمایاں ہے۔

اب آئیے ان اعتراضات کی طرف ، جو واقعہ معراج کے سلسلہ میں صاحب مضمون نے اٹھائے ہیں:
1۔ قرآن مجید عام قصّوں او رکہانیوں کی کتاب نہیں کہ اس میں واقعات کو دلچسپی قائم رکھنے کے لیے تسلسل سے بیان کیا جاتا۔ بیت المقدس کے سفر کے ساتھ آسمانوں کے سفر کا ذکر نہیں ہوا تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟ اس کا ذکر دوسری جگہ سورة النجم میں صاف طور پر موجود ہے۔ مناسب ہے اگر یہاں پر پورے سفر سے متعلقہ آیات کو مع مخترں شرح درج کردیا جائے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿سُبْحَـٰنَ ٱلَّذِىٓ أَسْرَ‌ىٰ بِعَبْدِهِۦ لَيْلًا مِّنَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَ‌امِ إِلَى ٱلْمَسْجِدِ ٱلْأَقْصَا ٱلَّذِى بَـٰرَ‌كْنَا حَوْلَهُۥ لِنُرِ‌يَهُۥ مِنْ ءَايَـٰتِنَآ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيرُ‌ ﴿١...سورۃ بنی اسرائیل
''پاک ہے وہ ذات جو اپنےبندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا، جس کے ماحول کو ہم نے برکت عطا فرمائی ہے، تاکہ اپنے بندے کو اپنی آیات دکھائیں، بے شک وہی خدا ہر چیز کو سنتا او ردیکھتا ہے۔''

﴿وَمَا جَعَلْنَا ٱلرُّ‌ءْيَا ٱلَّتِىٓ أَرَ‌يْنَـٰكَ إِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ...﴿٦٠﴾...سورۃ بنی اسرائیل
''جو منظر ہم نے آپ ؐ کو دکھلایا وہ صرف اس لیے کہ لوگوں کی آزمائش مقصود تھی۔''

سورة النجم میں ہے:
﴿وَٱلنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ ﴿١﴾ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰ ﴿٢﴾ وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْهَوَىٰٓ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْىٌ يُوحَىٰ ﴿٤﴾ عَلَّمَهُۥ شَدِيدُ ٱلْقُوَىٰ ﴿٥﴾ ذُو مِرَّ‌ةٍ فَٱسْتَوَىٰ ﴿٦﴾ وَهُوَ بِٱلْأُفُقِ ٱلْأَعْلَىٰ ﴿٧﴾ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ ﴿٨﴾ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ ﴿٩﴾ فَأَوْحَىٰٓ إِلَىٰ عَبْدِهِۦ مَآ أَوْحَىٰ ﴿١٠﴾ مَا كَذَبَ ٱلْفُؤَادُ مَا رَ‌أَىٰٓ ﴿١١﴾ أَفَتُمَـٰرُ‌ونَهُۥ عَلَىٰ مَا يَرَ‌ىٰ ﴿١٢﴾ وَلَقَدْ رَ‌ءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَ‌ىٰ ﴿١٣﴾ عِندَ سِدْرَ‌ةِ ٱلْمُنتَهَىٰ ﴿١٤﴾ عِندَهَا جَنَّةُ ٱلْمَأْوَىٰٓ ﴿١٥﴾ إِذْ يَغْشَى ٱلسِّدْرَ‌ةَ مَا يَغْشَىٰ ﴿١٦﴾ مَا زَاغَ ٱلْبَصَرُ‌ وَمَا طَغَىٰ ﴿١٧﴾ لَقَدْ رَ‌أَىٰ مِنْ ءَايَـٰتِ رَ‌بِّهِ ٱلْكُبْرَ‌ىٰٓ ﴿١٨...سورۃ النجم
'' قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے، تمہارا ساتھی بھٹکا ہے نہ بہکا ہے۔ وہ اپنی خواہش سے بات نہیں کرتا، اس کی بات ایک پیغام ہے جواس کو بھیجا جاتا ہے۔ اس کو سخت قوتوں والے (جبرائیل فرشتے) نے سکھا یا ہے، زور آور نے، پھر وہ سیدھا ہوا او روہ اچنے کنارے پر تھا، پھر وہ نزدیک ہوا مزید نزدیک ہوا، اتنا کہ دو کمان یا ا س سے بھی کم فاصلہ رہ گیا (جبرائیلؑ او رآنحضرتؐ) پھر اس نے اللہ کے بندے کو جو بتلانا تھا وہ بتلایا۔ رسول ؐ کے دل نے اس چیز کو جھٹلایا نہیں جو اس نے دیکھا۔ کیا تم آپس میں اس کے متعلق جھگڑتے ہو جو اس نے دیکھا۔ اس نے اس کو ایک بار اور سدرة المنتہیٰ کے پاس دیکھا، اس کے پاس بہشت ہے جس وقت ڈھانک رکھا تھا بیری کو جس چیز نے ڈھانک رکھا تھا۔ نہ نظر بہکی نہ حد سے بڑھی۔ بے شک پیغمبرؐ نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں!''

سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں بیت المقدس تک کے سفر کا ذکر ہے لیکن ''لنریہ من اٰیتنا'' کی تفسیر میں تفسیر روح المعانی جلد 15 صفحہ 12 میں لکھا ہے۔
''بیت اللہ او ربیت المقدس کے ارد گرد کی برکات کے علاوہ اس سے مراد آپؐ کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا اور خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہونا بھی ہے۔''

اسی تفسیر میں ہے:
'' صرف بیت المقدس کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ حکمت کا تقاضا تھا تاکہ اس پرایمان لائیں۔ پھر آسمانی سفر کا ذکر ہے۔''

تفسیر روح المعانی جلد15 صفحہ 105 آیت نمبر 60 میں ''رؤیا'' سے مراد وہ عجیب چیزیں ہیں جو آنحضرتؐ نے لیلة الاسراء کو آسمان و زمین کی دیکھیں۔ تفسیر بیضاوی، تفسیر معالم التنزیل او رخازن میں بھی یہی ہے۔

حجة اللہ البالغہ جلد دوم صفحہ 200 مصنفہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی میں ہے:
''وأسري به إلی المسجد الأقصیٰ ثم إلیٰ سدرة المنتهی ، وإلیٰ ماشآء اللہ، وکل ذٰلك بجسدہ في الیقظة''
''آنحضرتؐ مسجد اقصیٰ رات کو تشریف لے گئے پھر وہاں سے سدرة المنتہیٰ او رجہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا، گئے، یہ سب کچھ عالم بیداری میں جسد ِاطہر کے ساتھ واقعہ ہوا۔''

رؤیا کو اگر خواب کے معنی میں لیا جائے تو یہ لوگوں کےلیے آزمائش کا سبب نہیں بن سکتا جبکہ کلام الٰہی سے معلوم ہوچکا ہے کہ یہ رؤیا آزمائش کا سبب تھا۔ خواب میں انسان ہر قسم کی عجیب و غریب چیزیں دیکھ سکتا ہے جس کا صاحب مضمون رضوانی صاحب کو بھی اعتراف ہے۔ اگر آنحضرتؐ اس رؤیا کو خواب سے تعبیر فرماتے تو لوگوں کو مذاق اڑانے اور تعجب کرنےکی کیا ضرورت تھی؟ یہ واقعہ لوگوں کے لیے آزمائش اسی صورت میں بن سکتا ہے جبکہ اسے بیداری کا سفر تصور کیا جائے۔ ''رؤیا'' عربی زبان میں صرف خواب کے لیے نہیں آتا۔ بلکہ ''رؤیا '' اور ''رؤیت'' (دیکھنا) دونوں ہم معنی ہیں اور ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں جیسے قربیٰ اور ''قربت'' کے الفاظ ہم معنی ہیں۔ اکثر مفسرین ''رؤیا'' اور ''رؤیت'' میں لغوی لحاظ سے فرق نہیں سمجھتے۔ کہا جاتاہےکہ ''رأیت بعیني رؤیة و رؤیا'' میں نے آنکھوں سے دیکھا۔''

اسی آیت کی تفسیر مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے اس طرح مروی ہے:
''ھي رؤیا عین أریها رسول اللہ لیلة أسري به'' 4
''وہ آنکھ کا رؤیا جو آنحضرتؐ کو شب معراج دکھایا گیا۔''

تفسیر فتح القدیر میں ہے:
''رؤیا سے مراد خواب نہیں، بلکہ حقیقت ہے، اگر محض خواب ہوتا تو لوگوں کی آزمائش کی کیا صورت ہوسکتی تھی؟''5

تفسیر قرطبی اور دیگر تفاسیر متداولہ میں بھی یہی معنی ہیں۔

سورة بنی اسرائیل کی دونوں آیتوں کی تفسیر میں علمائے سلف نے یہی لکھا ہے کہ آنحضرتؐ مکہ سے بیت المقدس تشریف لے گئے ، وہاں انبیاؑء کی جماعت کرائی او رپھر آسمان کی سیر کی۔ قدرت خداوندی کے مختلف مناظر دیکھے۔ آسمانی سفر کے مشاہدات کی پوری تفصیل سورة النجم میں مذکور ہے۔
﴿وَلَقَدْ رَ‌ءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَ‌ىٰ ﴿١٣﴾ عِندَ سِدْرَ‌ةِ ٱلْمُنتَهَىٰ ﴿١٤...سورۃ النجم
''اس کو دوسری مرتبہ سدرة المنتہیٰ کے پاس دیکھا۔''

حضرت مسروقؓ نے حضرت عائشہؓ سے اس آیت کے متعلق پوچھا تو حضرت عائشہؓ نے فرمایا:
''إنما ذاك جبرائیل'' 6
''یہ جبرائیلؑ تھے!''

آنحضورؐ نے جبرائیل کو ان کی اصلی شکل میں دو مرتبہ دیکھا۔'' 7


ُ﴿فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ ﴿٩...سورۃ النجم
''دو قوسوں کے برابر یا اس کے قریب'' کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے:
''إنه رأیٰ جبرائیل له ست مأة جناح'' 8
''آنحضرتؐ نے جبرائیل کو دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔''

حضرت عائشہؓ کی روایت میں آنحضرتؐ نے دو مرتبہ جبرائیل ؑ کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا یعنی ایک مرتبہ ابتدائے نبوت میں، جس کی طرف ''وهو بالأفق الأعلى'' میں ارشاد ہے اور دوسری مرتبہ معراج کے وقت، جس کا ذکر آیت 13 میں ہے 9

پہلی مرتبہ دیکھنے کا ذکر حضرت جابرؓ سے ہے کہ آپؐ نے سورہ مدثر کے نزول کے وقت جبرائیل ؑکو دیکھا:
''فإذا الملك الذي جآء ني بحراء قاعد علیٰ کرسي بین السماء والأرض'' 10
''وہ فرشتہ جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پربیٹھا ہوا تھا۔''

ان آیات اور روایات مستند سےمعلوم ہوتا ہےکہ آنحضرتؐ نے اصلی شکل میں ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام کو ابتدائے نبوت میں دیکھا اور دوسری مرتبہ آسمانوں پر سدرة المنتہیٰ کے پاس دیکھا۔

﴿مَا كَذَبَ ٱلْفُؤَادُ مَا رَ‌أَىٰٓ ﴿١١...سورۃ النجم'' ''قلب نے دیکھی ہوئی چیز میں کوئی غلطی نہیں کی!''

بعض اوقات آنکھ کسی چیز کو دیکھتی ہے تودل اس کو جھٹلا دیتا ہے۔ مثلاً سورج کو صبح کے وقت قد وقامت میں مشرقی پنجاب سے چھوٹا سا دیکھتے ہیں، لیکن دل اس بات سے انکار کرتا ہے او رکہتا ہے کہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ اس طرح پانی میں گری ہوئی چیز کو ابھرا ہوا دیکھتے ہین لیکن آنکھ کا ایسا دیکھنا غلط ہوتا ہے۔ جب دیدہ و دل میں اختلاف ہو تب یہ سمجھنا کہ آنکھ حقیقت اصلیہ کو دیکھ رہی ہے، غلط ہوتا ہے۔ لیکن حقائق کی اصلیت اور انکشافات کی حقیقت پر جب دل و نگاہ کا یقین اور وثوق اور اعتبار مجتمع ہوجائے تو شک نہیں رہتا کہ نظارہ بصیرت افروز او ربصارت افزاء ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اس بیان سے ہی مقصود ہے کہ نظارہ شکو ک و شبہات سے بالاتر ہوکر پورے یقین سےکیا۔'' 11

مولانا عبدالماجد دریا آبادی نے لکھا ہے:
''فواد اور رؤیت دونوں کے اجتماع سے ثابت ہوتا ہے کہ آپؐ نے چشم دل سے بھی دیکھا اور چشم جسم سے بھی۔ آنکھ نے بھی صحیح دیکھا اور دل نے بھی تصدیق کی ۔ بصارت اور بصیرت دونوں اس مشاہدہ یا نظارہ پر متفق رہے۔''

﴿أَفَتُمَـٰرُ‌ونَهُۥ عَلَىٰ مَا يَرَ‌ىٰ ﴿١٢...سورۃ النجم'' ''کیا ان (پیغمبرؐ) سے ان چیزوں میں نزاع کرتے ہو جو ان کی دیکھی ہوئی ہیں؟''

مولانا دریا آبادی فرماتے ہیں:
''کیسے غضب کی بات ہے تم نبیؐ سے نزاع اس چیز میں کررہے ہوں جو اس کی سنی ہوئی یا خیال و گمان کی ہوئی نہیں۔ خوب اچھی طرح دیکھی بھالی، جانچی پڑتالی ہوئی او رتخیلات و معقولات و مسموعات کے عالم سے کہیں گزر کر اس کے لیے دائرہ مشاہدات میں آچکی ہیں!'' 12
﴿مَا زَاغَ ٱلْبَصَرُ‌ وَمَا طَغَىٰ ﴿١٧...سورۃ النجم'' ''اس کی نگاہ نہ تو ہٹی اور نہ بڑھی۔''

اس آیت میں آپؐ کے ذوق او رحسن ادب کا ذکر ہے۔
﴿لَقَدْ رَ‌أَىٰ مِنْ ءَايَـٰتِ رَ‌بِّهِ ٱلْكُبْرَ‌ىٰٓ ﴿١٨...سورۃ النجم'' ''آپ ؐ نے اپنے پروردگار کے بڑے بڑے عجائبات دیکھے''

ان میں جبرائیل ؑ کا اپنی اصلی شکل میں نظر آنا، آسمانوں کی سیر، سدرة المنتہیٰ کا دیکھنا، فرشتوں کا نظر آنا، انبیاؑء سے ملاقات اور جنت و دوزخ کامشاہد شامل ہے۔

ان دونوں سورتوں (بنی اسرائیل او رالنجم) کی تفاسیر پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتؐ نےجسم کے ساتھ بیداری کی حالت میں مکہ سے بیت المقدس تک، اور پھر آسمانوں کامشاہدہ کیا۔ پہلی سورہ میں مختصر اشارہ ہے مگر ''النجم'' میں آسمانی سفر کی پوری تفصیل آگئی ہے۔ ایسا ہونا خلاف عقل نہیں۔ ہم واقعات کو خود بھی حالات کے مطابق تفصیل اور اختصار سے بیان کرتے رہتے ہیں۔

2۔ قرآن مجید سے معراج کا ثبوت پورے دلائل کے ساتھ واضح ہوچکا ہے۔ لفظ معراج کے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ عقل مند کو تو اشارہ ہی کافی ہوتا ہے لیکن یہاں تو ہر قسم کی تفصیل بھی پوری طرح سے بیان ہوئی ہے۔ ؎

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد ِمسلمان
اللہ کرے تجھ کو عطا جدّت کردار


3۔ رؤیا کے معنی مفسرین او راہل لغت نے آنکھ سے دیکھنے کے کیے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا: '' اس سے مراد آنحضرتؐ کا آنکھ سے دیکھنا مراد ہے۔'' حضرت ابن عباسؓ کا ایک قول یہ بھی ہے کہ ''میرا ایمان ہے کہ نبی ؐ کومعراج بیداری اور جسم کے ساتھ ہوا تھا۔'' 13

قریش نے اسی وجہ سے تکذیب کی تھی کہ آنحضرتؐ نے فرمایا تھا کہ ''میں نے جاکر دیکھا ہے'' اگر خواب کا معاملہ ہوتا تو نہ قریش تکذیب کرتے او رنہ ہی آپؐ ان کو جواب دیتے: چنانچہ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتؐ نے فرمایا:
''لما کذبني قریش قمت في الحجر فجلی اللہ لي بیت المقدس فطفقت أخبرھم عن آیته وأنا أنظر إلیه'' 14
''جب قریش نے مجھے جھٹلایا تو میں حجر (بیت اللہ کا مقام جو حطیم کے پاس ہے) کے حصہ میں کھڑا ہوگیا، اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے بیت المقدس کو ظاہر کردیا۔ میں اسے دیکھ کر انہیں اس کی نشانیاں بتاتا تھا۔''

مسلم کی شرح میں امام نووی نے لکھا ہے:
''أسري بجسده'' '' آنحضرتؐ رات کو جسم کے ساتھ (معراج پر) تشریف لے گئے۔''

قرآن و حدیث میں غور کرنے کے بعد آنحضرتؐ کے جسمانی معراج کے دلائل درج ذیل ہیں:
1۔ سورہ اسراء کے شروع میں لفظ ''سبحان'' میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طاقت اور قدرت اس سفر مع جسداطہر کو ظہور میں لانے سے قاصر نہیں ہے۔اگریہ محض خواب کی بات ہوتی تو اس لفظ کے استعمال کی ضرورت ہی نہ تھی۔
2۔ عبد کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آنحضرتؐ جسم کے ساتھ تشریف لے گئے کیونکہ روح اور جسم دونوں کے مجموعے کا نام ''عبد'' ہے اور لسان العرب میں عبد کے متعلق لکھا ہے : ''الانسان '' 15
تاج العروس میں ہے:
''الإنسان حرا کان أو رقیقا'' 16
''انسان خواہ آزاد ہو یا غلام، اکیلے روح کو انسان نہیں کہتے۔''
3۔ خدا تعالیٰ نے جب خود اپنے کلام میں اس کو خواب کا واقعہ قرار نہیں دیا تو کسی اور کو اٹکل پچو سے اسے کواب کا واقعہ قرار دینے کی کیا ضرورت ہے؟ جس سے ادب کی بجائے بے ادبی کا پہلو نکلتا ہے کہ خدا تعالیٰ فرمائیں کہ ''ہم نے اپنے بندے کورات کے وقت یہ سفر کرایا'' لیکن ہم کہیں، ''ہم نہیں مانتے!''
4۔ صحیح احادیث میں یہ بیان ہے کہ آپؐ براق پر سوار ہوئے۔ آپؐ نے انبیاؑء کی بیت المقدس میں جماعت کرائی۔ آپؐ کو دودھ کا پیالہ پیش کیا گیا جسے آپؐ نے نوش فرمایا۔ یہ تمام جسمانی خواص ہیں۔
5۔ واقعہ معراج خواب ہوتا تو کفار کو تکذیب کی ضرورت ہی نہ تھی۔ آنحضرتؐ نے بیداری میں اس کا پیش آنا بیان فرمایا تو کفار نے جھٹلایا۔
6۔ ''رؤیا'' بمعنی ''رؤیت'' ہے جس کے معنی آنکھ سے دیکھنا ہے، جیسا کہ حضر ت عبداللہ بن عباسؓ اور قدماء مفسرین نے بیان کیا ہے۔
7۔ تفسیر قرطبی میں ہے:
''اسراء سے متعلقہ احادیث متواتر ہیں، حدیث متواتر کی ایک شرط یہ ہوتی ہے کہ محدث سے آنحضرتؐ تک اس کی اتنی سندیں ہوں کہ عادتاً ان لوگوں کا عمداً یا اتفاقاً جھوٹ پر متفق ہونا محال ہو!'' .................. (جاری ہے)


حوالہ جات
1. فتح القدیر
2. صحیح مسلم ، ج ص232
3. صحیح مسلم ج2 ص264
4. بخاری ج2 ص684، ترمذی ج2 ص163
5. فتح القدیر، الجامع بین معنی الروایت الدرایة من علم التفسیر ج3 ص200
6. صحیح مسلم ج1 ص98
7. ایضاً ص118
8. بخاری ج2 ص72
9. ابن کثیر، ترمذی ج2 ص183
10. مسلم: ج1 ص110
11. رحمة للعالمین ج3 ص135
12. تفسیر ماجدی صفحہ 1052
13. رحمة للعالمین ،ج 3 صفحہ 137
14. بخاری ج2 ص684، ترمذی ج2 ص168
15. جلد 3 صفحہ 230
16. ج2 ص409