ایک علمی جائزہ
روزنامہ ''جنگ'' لاہورکی متعدد قسطوں پر مدیر ''رضوان'' لاہور جناب علامہ محمود احمد رضوی کا ایک مضمون شائع ہوا ہے ،'جو ہے تو کسی اور سلسلے میں' لیکن اس میں اس بہانے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیر اللہ کو مدد کے لیے پکارنا شرک نہیں ہے کیونکہ :
''اگر غیر اللہ کو مدد کے لیے پکارنا شرک ہے تو معلوم ہونا چاہیے کہ شروع سے یعنی صحابہ کرامؓ سے لے کر اب تک مسلمانوں کا اس پر اجماع و اتفاق رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مؤثر حقیقی و فاعل حقیقی اعتقاد کرتے ہوئے اور بزرگان دین کووسیلہ امداد و مظہر اعانت الٰہی قرار دیتے ہوئے ان سے استغاثہ کرنا اور ان کو امداد کے لیے پکارنا جائز ہے چنانچہ فتاویٰ کی کتابوں میں سے مشہور کتاب فتاویٰ خیریہ میں ہے ''یا شیخ عبدالقادر شیئا للہ'' کہنا جائز ہے کیونکہ یہ پکار محض ہے او راللہ کے لیے اس سے سوال ہے۔ اسی طرح امام شمس الدین الرملی الشافعی اپنے فتاویٰ میں فرماتے ہیں: ''انبیاء ، رسولوں، اولیاء و علماء اور صالحین سے استغاثہ کرنا (ان کو امداد کے لیے پکارنا) جائز ہے۔ اللہ کے رسول و پیغمبر و اولیاء و صالحین وصال کے بعد بھی مدد کرسکتے ہیں'' پھر تحریر کیا گیا ہے ''یہ ہے وہ عقیدہ و مسلک جس پر اہل اسلام آج تک گامزن ہیں۔'' 1
(یہی مضمون جناب رضوی صاحب کے ماہوار رسالے ''رضوان'' لاہور (جولائی 1982ء) میں بھی شائع ہوا ہے)

دُعا (پکارنا) عبادت ہے یا نہیں؟
اب ہم مختصراً اخبار مذکور کے ''دلائل'' کی حیثیت واضح کرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہا گیا ہے کہ غیر اللہ کو مطلقاً پکارنا شرک نہیں ہے، البتہ غير الله كی عبادت و پرستش شرک ہے۔ بلا شبہ مطلقاً پکارنا شرک نہیں ہے، ہم اپنے بچے کو پکار کر بلاتے ہیں، کسی دوست کو آواز دیتے ہیں اور کسی کو زور سےندا دیتے ہیں یہ شرک نہیں ہے، نہ یہ پکارنا مابہ النزاع ہے۔مابہ النزاع پکارنا (جو شرک کی ایک صورت ہے) وہ ہے جو لوگ ، مردہ (قبروں میں مدفون)لوگوں کو مافوق الاسباب طریق سے پکارتے ہیں جیسے ''یا شیخ عبدالقادر شیئا للہ'' ''یارسول اللہ أغثنا''، ''یا علي مدد'' وغیرہ۔ یہ پکارنا شرک ہی کے ذیل میں آتا ہے کیونکہ پکارنے والا ان کی بابت یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ ہزاروں میل کے فاصلے کے باوجود یہ مردہ بزرگ میری آواز کو سنتا ہے، میرے حالات سےباخبر ہے، وہ حاضر ناظر ہے اور کائنات میں تصرف کرنےکا اختیار رکھتا ہے، اسی لیے یہ شخص اس بزرگ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس کے نام کی نذر و نیاز دیتا ہے، اس کے نام پر جانور قربان کرتا ہے، اس کی قبر پر غلاف چڑھاتا ہے اور اس کی ناراضی سے ڈرتا ہے، اس کا اعتقاد ہوتا ہے کہ اگر میں نے گیارہویں نہ دی (یعنی اس بزرگ کے نام کی نیاز نہ دی)تو وہ مجھ سے ناراض ہوجائیں گے، میرے کاروبار کا نقصان پہنچائیں گے، حالانکہ عالم الغیب ، نافع و ضار، حاضر و ناظر اور متصرف فی الامور صرف اللہ کی ذات ہے او ریہ تمام صفات اللہ کے لیے خاص ہیں ، جن میں اس کا کوئی شریک نہیں۔لیکن ''یاعلی مدد'' یا ''یا شیخ عبدالقادر شیئا للہ'' وغیرہ پکارنے والا یہ تمام صفات خداوندی اس مردہ بزرگ میں تسلیم کرتا ہے اور اس بزرگ کو ان الوہی صفات میں شریک گردانتا ہے۔

اس عقیدے کے ساتھ کسی بھی مردہ شخص کو پکارنا ہی اس کی عبادت و پرستش ہے۔ اسی کو قرآن نے ''یدعون'' کے لفظ سے تعبیر کیا ہے جس کے معنی محترم مضمون نگار نے خود ہی '' عبادت و پوجا'' کیے ہیں۔ شاید موصوف سمجھتے ہیں کہ عوام کو اس طرح مغالطٰہ دینا آسان ہے کہ ہم تو بزرگوں کو صرف پکارتے ہیں، ان کی عبادت و پرستش نہیں کرتے حالانکہ اس طرح مافوق الاسباب طریقے سے کسی کو پکارنا، یہی اس کی عبادت ہے، اسی لیے دعاء (پکارنا) بھی بلا اختلاف ، عبادت ہی سمجھی جاتی ہے، نبیﷺ کا فرمان ہے:
''الدعاء ھو العبادة'' 2
''پکارنا (دعا کرنا) یہی عبادت ہے۔''

بلکہ دوسری روایت میں فرمایا:
''الدعاء مخ العبادة'' 3
''دعاء (پکارنا) عبادت کا مغز ہے!''

اور قرآن کریم نے بھی دعاء کو عبادت ہی کہا ہے۔ فرمایا:
﴿وَقَالَ رَ‌بُّكُمُ ٱدْعُونِىٓ أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَسْتَكْبِرُ‌ونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِ‌ينَ ﴿٦٠...سورۃ المومن
''تمہارے رب نے فرمایا مجھے پکارو، میں تمہاری پکار کو قبول کروں گا، بلا شبہ جو لوگ میری عبادت (یعنی مجھے پکارنے او رمجھ سے دعائیں کرنے) سے انکار کرتے ہیں، عنقریب وہ جہنم میں ذلیل و خوار ہوکر داخل ہوں گے۔''

یہاں '' یستکبرون عن دعوتي'' کی جگہ اللہ تعالیٰ نے ''عن عبادتي'' کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں او رقرآن مجید کا یہ سیاق صاف بتلا رہا ہے کہ مافو ق الاسباب طریق سے کسی کو پکارنا اور حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر اس سے دعاء کرنا اس کی عبادت ہی ہے۔ اس لیے مردہ بزرگوں کو مدد کے لیے پکارنا او راس سے استغاثہ کرنا اور ''یا شیخ عبدالقادر شیئا للہ'' ، ''یاعلی مدد'' وغیرہ کہنا ان کی عبادت و پرستش ہی ہے۔ قیامت کے دن یہ بزرگ اپنی اس عبادت و پرستش کا بالکل انکار کردیں گے اور بارگاہ الٰہی میں عرض کریں گے کہ مولائے کریم ہم تو ان کی عبادت و پوجا (جو یہ دعاء و استغاثہ کی صورت میں ہماری کرتے تھے) سےبالکل بے خبر تھے۔
﴿إِن كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَـٰفِلِينَ ﴿٢٩...سورۃ یونس

یہاں بھی مردہ بزرگوں سے دعا کو اُن کی عبادت ہی کہا گیا ہے جس سے وہ روز قیامت انکار کریں گے او رکہیں گے کہ ہمیں تو ان کی عبادت (دعاء و پکار) کا کوئی علم ہی نہیں، بہرحال کسی شخص کو مافوق الاسباب طریق سے اسے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارنا، اس سے استمداد کرنا اور اس سے دعائیں کرنا یہ اس کی عبادت ہی ہے۔اسے غلط اور تفاسیر کے خلاف کہنا خود غلط بلکہ مغالطٰہ انگیزی ہے۔ع دیتے ہیں دھوکہ بازیگر کھلا

صحابہؓ و تابعین نے کسی بھی مُردے کو کبھی نہیں پکارا!
یہ دعویٰ کرنا کہ ''صحابہ کرامؓ سے لے کر اب تک مسلمانوں کا اس پر اجماع و اتفاق رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مؤثر حقیقی و فاعل حقیقی اعتقاد کرتے ہوئےفوت شدہ بزرگان دین کو بطور وسیلہ پکارنا، ان سے استغاثہ کرنا او ران کی امداد کے لیے پکارنا جائز ہے'' صحابہ کرامؓ او رامت مسلمہ پربہت بڑا افتراء او ربہتان عظیم ہے۔ ''سبحانک ھٰذا بہتان عظیم'' اگر ایسا ہوتا تو صحابہ کرامؓ کے دور کی کوئی دلیل پیش کرنی چاہیے تھی۔ تابعین و تبع تابعین کا کوئی واقعہ پیش کرنا چاہیے تھا او رکچھ نہیں تو اپنے امام (امام ابوحنیفہ) ہی کا کوئی قول پیش کیا ہوتا، فقہ حنفی کی مشہور و متداول کتاب کا کوئی حوالہ دیا ہوتا۔ دعویٰ تو مقالہ نگار نے اتنا بڑا کیا ہے لیکن حوالہ اگر وہ دے سکے ہیں تو صرف دو غیر معروف کتابون کا، جن میں سے ایک گیارہویں صدی ہجری کے ایک شافعی فتاویٰ کا ہے ۔ نہ صحابہؓ و تابعین کا کوئی مستند یا غیر مستند حوالہ، نہ ائمہ اربعہ نہ مجتہدین سے کسی کا ارشاد او رنہ فقہ حنفی سے کوئی دلیل۔ یہ عجیب اجماع و اتفاق ہے!

امر واقعہ یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ اور ائمہ عظام اور فقہائے احناف، ان میں سے کسی نے بھی کسی مردہ کو امداد کے لیے نہیں پکارا، کبھی ان سے استغاثہ نہیں کیا کیونکہ ان کا عقیدہ یہی تھا کہ مرنے کے بعد کوئی مردہ کسی کی فریاد نہیں سن سکتا ۔ جس کی صراحت قرآن نے کی ہے:
﴿وَمَآ أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِى ٱلْقُبُورِ‌ ﴿٢٢...سورۃ الفاطر ''اے پیغمبرؐ تو قبر والوں کو کوئی بات نہیں سنا سکتا!''

ہمارے دعوے کے دلائل:
اس کے دلائل سنئیے! صحیح بخاری میں حدیث موجود ہے:
''عن أنس بن مالك أن عمر بن الخطاب کان إِذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبدالمطلب رضي اللہ عنه فقال اللهم إنا کنا نتوسل إلیك بنبینا صلی اللہ علیه وآله وسلم فتسقینا وأنا نتوسل إلیك بعم نبینا فاسقنا قال فیسقون'' 4
''حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے دور میں جب بھی قحط سالی ہوتی تو حضرت عمرؓ حضرت عباسؓ سے بارش کی دعا کرواتے اور فرماتے، اے اللہ پہلے ہم تیرے نبیؐ سے بارش کے لیے دعا کرواتے (جب وہ زندہ ہم میں موجود تھے تو تو ہمیں باران رحمت سے سیراب فرماتا۔اب (جبکہ نبیﷺ ہم میں موجود نہیں ہیں) تیرے نبی3 کے چچا کو ہم تیری بارگاہ میں بطور وسیلہ (یعنی دعا کے لیے ) پیش کرکے دعاء کررہے ہیں، یا اللہ! اس دعاء کو قبول فرما کر ہم پر بارش کا نزول فرما!'' (راوی کہتا ہے) اس پر بارش ہوجاتی!''

اور فتح الباری میں حضرت عباسؓ کی دعاء کے یہ الفاظ منقول ہیں:
''اللهم إنه لم ینزل بلاء إلا بذنب ولم یکشف إلا بتوبة وقد توجه القوم بي إلیک لمکاني من نبیك وھٰذا أیدینا إلیك بالذنوب و نواصینا إلیك بالتوبة فاسقنا الغیث''
''یا اللہ بلاؤں کا نزول گناہوں کی وجہ سے ہی ہوتا ہے اور توبہ کے ذریعے سے وہ دور ہوجاتی ہیں۔ یا اللہ! تیرے نبیؐ کے ساتھ مجھ کو قریبی تعلق اور نسبت کی وجہ سے جو عزت و مقام حاصل ہے اس کے پیش نظر انہوں مجھے تیری بارگاہ میں ذریعہ بنایا ہے، (یعنی دعا کے لیے لائے ہیں) یا اللہ! یہ گناہ آلود ہاتھ تیرے طرف پھیلے ہوئے ہیں او رہمارا پیشانیاں توبہ کے لیے تیری طرف جھکی ہوئی ہیں، یا اللہ! ہم پربارش نازل فرما!''

روایت کے الفاظ یہ ہیں:
''فأرخت السمآء مثل الجبال حتی أخصبت الأرض و عاش الناس'' 5
''اس دعاء کے بعد آسمان نے پہاڑوں جیسے دھانے کھول دیئے، زمین خوب شاداب ہوگئی اور لوگوں میں زندگی کی لہر دوڑ گئی۔''

اس واقعے سے صحابہ کرامؓ کا طرز عمل واضح ہوجاتا ہے کہ انہوں نے کسی مردہ شخص سے دعاء نہیں کرائی، حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ سے استغاثہ نہیں کیا، انہیں مدد کے لیے نہیں پکارا او ران کا واسطہ دے کر دعاء نہیں مانگی بلکہ رسول اللہ ﷺ کی بجائے آپؐ کے چچا حضرت عباسؓ سے درخواست کی کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعاء کریں۔ استسقاء کی دعا اور نماز مجمع عام میں ہوتی ہے تو گویا صحابہ کرامؓ کا عام فعل یہی قرار پایا۔ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد آپؐ تک سے دعاء کرانا جائز نہیں تو آپؐ سے زیادہ صاحب فضیلت کون ہے کہ جس سے موت کے بعد اب جاکر دعاء کرائی جائے اور جسے مدد کے لیے پکارا جائے؟

صحابہ کرامؓ ہی کے دور کا ایک اور واقعہ ہے جسے ملا علی قاری حنفی نے مرقاة شرح مشکوٰة میں دسویں صدی ہجری کے شافعی فقیہ ابن حجر مکی ہیثمی کے حوالے سے نقل کیا ہے:
''قال ابن حجر و استسقٰی معاویة بن یزید بن الأسود فقال اللهم إنا نستسقي بخیرنا وأفضلنا اللهم إنا نستسقي بیزید بن الأسود یا یزید ارفع یدیك إلی اللہ فرفع یدیه ورفع الناس أیدیهم فثارت سحابة من المغرب کأنها ترس وھبت ریح فسقوا حتیٰ کاد الناس لا یبلغون منازلهم'' 6
یعنی'' ابن حجر (مکی) کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ نے حضرت یزید بن اسود کو ساتھ لے کر بارش کے لیے دعاء کرائی اور فرمایا، ''اے اللہ ! ہم میں جو بہتر اور افضل ہے اس کے ذریعے سے ہم تیری بارگاہ میں بارش کی دعاء کرتے ہیں، اے اللہ ہم یزید بن اسود کو ساتھ لائے ہیں او راستسقاء کررہے ہیں۔'' (پھر حضرت معاویہ نے کہا) ''اے یزید! بارگاہ الٰہی میں دعا ء کےلیے ہات اٹھایئے۔'' انہوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور لوگوں نے بھی ہاتھ اٹھا لیے۔ پس مغرب کی طرف سے ڈھال کی طرح ایک گھٹا اٹھی اور ہوا چلی او ران کےلیے بارش کا اس طرح نزول ہوا کہ قریب تھا کہ لوگ اپنے گھروں کو نہ پہنچ سکیں۔''

اس واقعہ سے بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرامؓ کا عمل زندہ ہے دعاء کرانے کا تو تھا، لیکن مُردہ سے دعاء کرانے کا ان کے ہاں کوئی تصور نہ تھا۔چنانچہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی حضرت عباسؓ سے بارش کی دعاء کرانے کی حدیث ذکر کرکے فرماتے ہیں:
''ازیں جا ثابت شد کہ توسل بہ گزشتگان و غائبان جائزنہ و اشتندو گرنہ عباسؓ از سرور عالمؐ بہتر نہ بود چرا نہ گفت کہ توسل می کردیم بہ پیغمبرؐ تو والحال توسل می کنیم بہ روح پیغمبرؐ تو!'' 7
یعنی ''اس واقعے سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرامؓ گزرے ہوئے (فوت شدگان) اور غائب لوگوں کا وسیلہ پکڑنا جائز نہیں سمجھتے تھے ورنہ حضرت عباسؓ ، رسول اللہ ﷺ سے بہتر نہ تھے( اگر و فات شدہ سے دعاء کرانا جائز ہوتا) تو انہوں نے کیوں نہ کہا کہ یا اللہ پہلے ہم تیرے نبی کے ساتھ وسیلہ پکڑتے تھے، اب ہم تیرے نبیؐ کی روح کے ساتھ وسیلہ پکڑتے ہیں۔''

یہ تو واقعات ہوئے عہد صحابہؓ و تابعین کے۔ اب خاص امام ابوحنیفہ کا ایک واقعہ ملاحطہ ہو جس کو شاہ محمد اسحاق دہلوی کے ایک شاگرد رشید، مولانا محمد بشیر الدین قنوجی متوفی 1296ھ نے فقہ کی ایک کتاب ''غرائب فی تحقیق المذاہب'' کے حوالہ سے لکھا ہے:
''رأی الإمام أبوحنیفة من یأتي القبور لأھل الصلاح فلیسلم و یخاطب و یتکلم و یقول یاأھل القبور ھل لکم من خبر وھل عندکم من أثر انی أتیتکم من شهور و ولیس سؤالي إلا الدعاء فھل دریتم أم غفلتم فسمع أبوحنیفة بقول یخاطب بھم فقال ھل أجابوالك؟ قال لا فقال له سحقا لك و تربت یداك کیف تکلم أجسادا لا یستطیعون جوابا ولا یملکون شیئا ولا یسمعون صوتا و قرأ ''وما أنت بمسمع من في القبور'' (تفہیم المسائل(8) مولانا بشیر الدین قنوجی)
''امام ابوحنیفہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کچھ نیک لوگوں کی قبروں کے پاس آکر سلام کرکے ان سے کہہ رہا ہے، ''اے قبر والو! کیا تمہیں کچھ خبر بھی ہے اور کیا تمہیں کچھ اثر بھی ہے، میں تمہارے پاس کئی مہینوں سے آرہا ہوں اور تمہیں پکار رہا ہوں۔ تم سے میرا سوال بجز دعاء کرانے کے اور کچھ نہیں۔ تم میرے حال کو جانتے ہو یا میرے حال سے بے خبر ہو؟'' امام ابوحنیفہ نے اس کی یہ بات سن کر اس سے پوچھا، ''کیا (ان قبر والوں نے) تیری بات کا جواب دیا؟'' وہ کہنے لگا ''نہیں'' آپ نے فرمایا ''تجھ پر پھٹکار ہو، تیرے ہاتھ خاک آلودہ ہوں، تو ایسے (مُردہ) جسموں سے بات کرتا ہے جو نہ جواب دینے کی طاقت رکھتے ہیں نہ کسی چیز کا اختیار رکھتے ہیں او رنہ کسی کی آواز (فریاد) ہی سن سکتے ہیں۔'' پھرامام صاحب نے قرآن کی یہ آیت پڑھی ''وما انت بمسمع من فی القبور'' (سورة الفاطر) ''اے پیغمبرؐ! تو اُن کو نہیں سنا سکتا جو قبروں میں ہیں۔''

علامہ آلوسی حنفی بغدادی اپنی تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں:
''إن الاستغاثة بمخلوق و جعله و سیلم بمعنیٰ طلب الدعاء منه لاشك في جوازه وإن کان المطلوب منه حیا ........ وأما إذا کان المطلوب منه میتا أوغائباً فلا یستریب عالم أنه غیر جائز وأنه من البدع التي لم یفعلها أحد من السلف'' 9
''کسی شخص سے درخواست کرنا او راس کو اس معنی میں وسیلہ بنانا کہ وہ اس کے حق میں دعاء کرے، اس کے جواز میں کوئی شک نہیں بشرطیکہ جس سے درخواست کی جائے وہ زندہ ہو.... لیکن اگر وہ شخص جس سے درخواست کی جائے مُردہ ہو یا غائب ، تو ایسے استغاثے کے ناجائز ہونے میں کسی عالم کو شک نہیں، اور مردوں سے استغاثہ ان بدعات میں سے ہے جن کو سلف میں سے کسی نے نہیں کیا۔''

اس سے معلوم ہوا کہ صحابہؓ و تابعین، ائمہ کرام اور تمام اسلاف صالحین زندہ نیک لوگوں سے تو دعاء کرانے کے قائل تھے لیکن کسی مُردہ کو انہوں نے مدد کے لیے نہیں پکارا، ان سے استغاثہ نہیں کیا، حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ تک سے استغاثہ نہیں کیا۔ اب اپ کے بعد اور کون سی ہستی ایسی ہے جو آپؐ سے زیادہ فضیلت رکھتی ہو کہ اسے مدد کے لیے پکارا جائے او راس سے استعانت کی جائے۔ فہل من مدکر! ....... (جاری ہے)

حوالہ جات
1. خلاصہ از اخبار مذکور، قسط 2، 3
2. مشکوٰة کتاب الدعوات ، ص194
3. حوالہ مذکور
4. صحیح بخاری، ج1 ص137، باب سوال الناس الإمام الاستسقاء إذا قحطوا
5. فتح الباری باب المذکور، پ4 ص544 طبع دہلی
6. مرقاة ج2، ص288، طبع قدیم
7. البلاغ المبین، ص16 طبع لاہور
8. شاہ محمد اسحاق دہلوی کے ردّ میں ایک کتاب تصحیح المسائل نامی مولوی فضل رسول بدایونی نے لکھی تھی، جس کا جواب مولانا بشیر الدین قنوجی نے تفہیم المسائل سے دیا تھا ، خوب مدلل کتاب ہے۔ 1200ھ میں پہلی دفعہ مطبع مطیع الرحمٰن جہاں آباد میں طبع ہوئی پھر دوسری دفعہ محمدی پریس لاہور میں چھپی، تاریخ طبع معلوم نہیں۔
9. ج2 ص297، طبع قدیم 1301ھ