جن کی باتوں میں شفا ہو اسےبیمار کہو
جس کی فطرت میں وفا ہو اسے غدار کہو!

وہ جو حالات کی شدت سے سرراہ گر جائے
غم کے مارے ہوئے اس شخص کو میخوار کہو!

سنگریزے ہیں فقط ہاتھ میں ان کے لیکن
ہم سے کہتے ہیں کہ اُن کو در شہوار کہو!

پھول تو پھول ہیں کانٹے بھی نہ اُگتے ہوں جہاں
ایسے ویران بیابان کو گلزار کہو!

جبکہ دشمن ہے قوی تر تو نمٹنے کے لیے
اپنی ٹوٹی ہوئی لکڑی کو بھی تلوار کہو!

ہاں رقیبوں کی رقابت کا تقاضا ہے نعیم
اس جفا کار ستمگار کو دلدار کہو!