سامنے جب تک نظر کے تیرا کا شانہ رہا
آنکھ مصروف نظارہ، قلب مستانہ رہا

بے قراری میں قرار آیا سرِ راہ وفا
مرحلہ ہر ایک وجہ قرب جانا نہ رہا

میں کہیں بھی تھا کسی بھی غم کسی بھی حال میں
پیش خدمت تیرے، میرے دل کا نذرانہ رہا

حشر کے دن حشر ہوگا تیرا ان لوگوں کے ساتھ
جن سےبھی بزم جہاں میں تیرا یارانہ رہا

سامنے جن کے رہا حبِ امارت کا مآل
حال دل ان کا فقیری میں امیرانہ رہا

میرے افسانے پراک دنیا ہمہ تن گوش تھی
ایک دنیا کی زباں پر میرا افسانہ رہا

شمع محفل تا سحر کچھ اس طرح جلتی رہی
تاسحر گردش میں اس کے گرد پروانہ رہا

عمر بھر جس نےکیا غیروں سے اپنوں سا سلوک
عمر بھی اپنوں میں وہ مسکین بے گانہ رہا

ہوگئے وہ بھی بالآخر غرق بحر معصیت
جن کا اہل معصیت سے ربط و یارانہ رہا

وہ فراز دار ہو یا بُرش تلوار ہو
سربخم تیری رضا پر تیرا دیوانہ رہا

زندگی تیری رہی ہے موت کی دہلیز پر
موت کے مفہوم سے عاجز تو بے گانہ رہا