ایک آواز سنائی دی ہے کہ مسلمان کو توحید کی نشرواشاعت ، شرک کی بیخ کنی اور بدعات و لغویات کی تردید کے علاوہ بھی تبلیغ دین کی ضرورت ہے۔ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت اور اخلاق و عادات کے لیے بھی اسلامی تعلیمات درکار ہیں۔ حقوق و فرائض سے ناواقفیت بھی ناگزیر ہے۔ معاشرت، معیشت اور سیاسیات سے آگاہ ہونا بھی از بس ضروری ہے۔ ادھر رُوس ہماری شہ رگ کو دبائے بیٹھا ہے، اس کے مقابلےکے لیے جہاد کی تیاریوں کی بھی شدید ضروت ہے۔ لیکن آپ نے تو صرف توحید، شرک، سنت او ربدعات سے متعلقہ رٹے پٹے مسائل ہی کو موضوع سخن بنا رکھا ہے۔ کیا اپ اپنے طرز عمل پرنظرثانی کی زحمت گوارا فرمائیں گے؟

اس سوال نے ہمارے لیے فکرونظر کی نئی راہیں کھول دی ہیں۔ چنانچہ ہمارےخیال میں صورت حال کچھ یوں ہے کہ :
رسول اللہ ﷺ نے مسلمان کی مثال کھجور کے درخت سے دی ہے۔(1) اور اگر ہم اس مثال کو اسلام پر فٹ کریں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایمان بمنزلہ بیج کے ہے۔ جب یہ بیج پھوٹتا ہے تو اسے ہم کلمة توحید ''لا إلٰه إلا اللہ محمد رسول اللہ'' کے اقرار سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔ ''الصلوٰة عماد الدین'' کے تحت نماز اس درخت کاتنا ہے، جبکہ دیگر اعمال اس کی شاخیں ہیں۔ اور معاملات ،حقوق و فرائض، معیشت و معاشرت، تعلیم و تربیت، عدل و انصاف اور سیاست و جہانبانی اس کے مختلف پہلو ہیں۔

اس مثال سے ہمارا مقصود یہ ہےکہ آج اگر اہل اسلام اپنی اولاد او رمعاشرہ کی بے راہروی سے نالاں، حقوق و فرائض کے پہچاننے سے عاری، معاشی اور معاشرتی ناہمواریوں کا شکار ہوئے ہیں۔ اگر ان کی سیاست شتر بے مہار ہوچکی او راپنی سلامتی کاخطرہ انہیں لاحق ہوا ہے جس کا علاج ڈھونڈنے کی غرض سے وہ براہ راست ان کی طرف متوجہ ہونا چاہتے ہیں تو بالافظ دیگران کی نظریں شاخوں اور پتوں یا اس درخت کے مختلف پہلوؤں کی طرف تو اٹھی ہیں۔ لیکن جڑیں، جو نہ جانے کب کی کھوکھلی ہوچکی ہیں۔ جن کے باعث نہ صرف تناخشک ہوا ہے، بلکہ شاخیں بے رونق او رپتے ویران ہوکر اس حال کو پہنچے ہیں، وہ اب بھی اس سے اغماض برتنا چاہتے ہیں۔
اسی شجر اسلام کے بارے مین کسی نے کیا خوب کہا ہے ؎


نہیں یہ وہ شجر جس نے کہ پانی سے غذا پائی
صحابہؓ نے پلایا خون ، تب اس نے پرورش پائی
ائمہ دیں بنے مالی تو پھر اس پر بہار آئی
ہوئے ہم ناخلف ایسے کہ اس کی شکل مرجھائی

درخت تو واقعی مرجھکا چکا ۔لیکن اس کا باعث وہ کھوکھلی جڑیں ہیں جو اب پہچانی نہیں جاتیں، کہ یہ کس درخت کی جڑیں ہیں؟ تو پھر کیا ان حالات میں شاخوں اور پتوں کی سرسبزی و شادابی کاخیال مضحکہ خیز ہی نہیں؟۔ رہی یہ بات کہ دشمنوں نے اس کی کونپلوں کو کاٹا ہے یا براہ راست وہ اس کی جڑوں پر حملہ آور ہوئے ہیں؟ او رکیا اغیار نے یہ کام کیا ہے اپنوں ہی نے اس کی جڑوں پرآرے چلا دیئے ہیں۔ اس کی تحقیق تو کسی مؤرخ و محقق اسلام ہی کا کام ہے۔ البتہ اغلب گمان یہ ہے کہ اپنوں نے جب جڑوں کو کھودنا شروع کیا تو اغیار بھی کلہاڑے لےکرآگئے۔ اب حالت یہ ہے کہ دشمنان اسلام اس کی موجودہ حالت کو دیکھ کر مطمئن ہوگئے ہیں، او رمسلمان جب جڑوں کا خیال چھوڑ کر ، پتوں کی ویرانی پرآہ سرد کھینچتا ، ان کو دیکھ کر کڑھتا او ران کی سرسبزی و شادابی کی تمنا کرتا ہے ، تو اس کی ہر ایسی خواہش پر اعداء اسلام کا ایک عدد قہقہہ فضا میں بلند ہوجاتا ہے۔

''الإسلام ھو التوحید کله!'' اسلام پورے کا پورا توحیدہے، جب ہم توحید کی بات کریں گے تو یہ پورے اسلام کی بات ہوگی۔ توحید تو وہخون ہے جو جسد اسلام میں رواں دواں ہے۔ ایمان قوت، جو قلب مومن سے حاصل ہوتی ہے، اس خون کو تما اعضاء جسمانی میں متحرک رکھتی ہے۔ اگر یہ خون صالح او رپاکیزہ ہے تو تمام اعضاء دل سے صحیح قوت حاصل کریں گے او راپنا فعل صحیح طور پر انجام دیں گے۔ لیکن اگر یہ خون کفر و شرک کی نجاستوں سےآلودہ ہوجائے یا اس کومتحرک رکھنے والی قوت میں کوئی نقص واقع ہوجائے، تو پورے اعضاء جسمانی اس سے متاثر ہوں گے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
''إن في الجسد لمضغة إذا صلحت صلح الجسد كله وإذ افسدت فسد الجسد كله.....ألاوھي القلب!''
کہ''جسم میں ایک لوتھڑا ہے، اگریہ صحیح رہے تو پورا جسم تندرست رہتا ہے، لیکن اگر یہ مبتلائے فساد ہوجائے تو پورا جسم بگاڑ کا شکار ہوجاتا ہے۔ اور یہ(لوتھڑا) دل ہے!''

یہی وجہ ہےکہ ہم توحید کی بات کرتے ہیں جب توحید کے موضوع کو چھیڑا جائے گا، شرک کی تردید خود بخود ہوگی۔ اور توحید چونکہ سنت رسول اللہ ؐ کی صورت میں متشکل ہوتی ہے لہٰذا توحید کا ذکر کرتے وقت بدعات و لغویات کا زیر بحث آنا بھی ناگزیر ہے او رچونکہ اسلام پورے کا پورا توحید ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ توحید کے علاوہ بھی ہمیں تبلیغ دین کی ضرورت ہے، درست نہیں ہے۔

اب ہم امثلہ و تشبیہات سے قطع نظر کرتے ہوئے براہ راست ان پہلوؤں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں:
سوال میں توحید کے علاوہ جہاد کی تیاریوں کی ضرورت کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ مقام غور ہے کہ ایک ہی میدان میں، ایک ایسی تلواروں سے لڑی جانے والی ایک ہی جنگ میں دو جماعتیں باہم متقابل ہیں۔ ان دونوں جماعتوں کا تعلق ابنائےآدم سے ہے۔ جنگ کے اس منظر میں اگرپہلی جماعت کاایک فرد دوسری جماعت کے فرد کا سرتن سے جدا کرتا ہے تو مؤرخ اسلام کا قلم قاتل کو ''شقي القلب'' کے الفاظ سے یاد کرتا ہے۔ لیکن اگر دوسری جماعت کا کوئی فرد پہلی جماعت کے کسی فرد کا سرنیزے کی اَنی پر اچھالتا ہے تو یہی مؤرخ قاتل کو''غازی'' کے نام سے موسوم کرتا ہے۔ پہلی جماعت کا مقتول اس مؤرخ کی نظروں میں''جہنم رسید'' ہے جبکہ دوسری جماعت کا مقتول صرف اس مؤرخ کی نظروں میں''شہید'' ہی نہیں بلکہ قرآن مجید میں ہے:
﴿وَلَا تَقُولُوالِمَن يُقْتَلُ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمْوَ‌ٰتٌۢ ۚ بَلْ أَحْيَآءٌ وَلَـٰكِن لَّا تَشْعُرُ‌ونَ ﴿١٥٤...سورۃ البقرۃ
''اور جو کوئی اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے اسے مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن جن کی زندگی کا تمہیں شعور نہیں۔''

سوال یہ ہے کہ ان ہر دو مقتولین کے سلسلہ میں یہ تفاوت کیوں ہے؟ظاہر ہے اوّل الذکر اگر جہنم رسید ہوا تو محض اس لیے کہ وہ مشرک ہے ، اور ثانی الذکر''شہید'' صرف اس لیے ہے کہ اس نے کلمہ توحید کا اقرار کرکے ایمان کو اپنے دل میں جگہ دی ہے۔ ت وپھر توحید کو بالائے طاق رکھ کر ''جہاد''، جہاد کیوں کہلائے گا؟ ''شہید''، ''شہید فی سبیل اللہ'' کیونکر کہلائے گا؟ توحید کی روح کو اگر اس جسم سے نکال دیا جائے گا تو یہی شہید یا تو شہید وطن کہلائے گا یا شہید قوم کہلائے گا او ریا پھر شہید جمہوریت کہلائے گا!

جہاد کی اہمیت بلا شبہ بہت زیادہ ہے، لیکن توحید سے الگ یہ کوئ چیز نہیں، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ، بلکہ تمام انبیاء کرام علیہم الصلوٰة والسلام نے پہلے توحید کا آوازہ بلند کیا تھا۔آپؐ نے مکہ کی گلیوں میں تیرہ سال تک صرف توحید کے وعظ کہے تھے اور تلوار مدینہ میں جاکر اٹھائی۔ صحابہؓ نے بھی پہلے کلمہ ہی پڑھا تھا او راس کے بعد ان کے ہاتھ تلوار کے قبضہ کی طرف بڑھے تھے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ یہاں(.....) کا ماحول مکہ کے ماحول سے مختلف ہے، یہاں بت خانے موجود نہیں، تو ہم یہ عرض کریں گے کہ شرک کی اصل ایک ہے، لیکن اس کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں۔ ایک شرک وہ تھا جو مکہ کے بت خانوں میں ہوتا تھا،

2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ او راس ترقی یافتہ دور میں ایک ترقی یافتہ شرک وہ بھی ہے جو بت خانوں او رمقابر کے علاوہ ایوان ہائے سیاست میں جنم لے رہا ہے۔ ایک عوام کا شرک ہے تو دوسرا سیاستدانوں کا۔ لیکن سیاستدان وطن پر چادریں چڑھاتے ہیں، قوم پر پھول نچھاور کرتے ہیں۔ او رجمہوریت کی خاطر اپنا خون بہانے کو قربانی سمجھتے او راسے شہادت سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیکن سیاستدانوں کا معبود ان کی اپنی خواہشات ہیں، جن کی تکمیل کے لیے وہ اکثریت کا سہارا لیتے ہیں، کہ اکثریت جو فیصلہ دے گی وہ قانون بن جائے گا۔ لیکن وہ دین اسلام کہ جس کے ہم دعویدار ہیں، جس سے بغاوت کرکے ہی ہم اس اضطراب و کسمپرسی کا شکار ہوئے ہیں، او راسی لیے اس کی یادآج ہمیں سناتی ہے ، اس دین کے شارع اللہ رب العزت نے اپنے کلام مبارک میں واضح طور پر ارشاد فرمایا:
﴿قَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِىَ ٱلشَّكُورُ‌ ﴿١٣...سورۃ سبا''''کہ میرے شکرگزار بندے(تو) تھوڑے ہی(ہوتے) ہیں۔''

نیز فرمایا:
﴿وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ‌ مَن فِى ٱلْأَرْ‌ضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ...﴿١١٦﴾...سورۃ الانعام
''اے نبیؐ! اگرآپ اکثریت کے پیچھے چلیں گے تو یہ آپ کو اللہ کی راہ سے دور کردیں گے۔''

اور اللہ تعالیٰ کے مقرر شدہ قوانین کے علاوہ قوانین ڈھونڈنے والوں کے لیے تنبیہ یوں فرمائی:
﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَـٰفِرُ‌ونَ ﴿٤٤...هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ﴿٤٥...هُمُ ٱلْفَـٰسِقُونَ ﴿٤٧...سورۃ المائدہ
کہ '' جس نےاللہ کے قوانین کے مطابق فیصلے نہ کیے، وہ کافر ہیں، وہ ظالم ہیں اور فاسق ہیں۔''

آپ نے دیکھا کہ توحید کو الگ کرنے سے جہاد، جہاد نہ رہا، شہید، شہید نہ رہا اور سیاست صورت چنگیزی اختیار کرگئی۔ لیکن اگر جسد اسلام کو توحید کی روح سے محروم نہ کیا جائے تو ہر چیز اپنے اصل مقام پر فٹ بیٹھتی ہے۔ او ریہی ہم چاہتے ہیں ، اسی لیے ہم توحید پر زور دیتے ہیں، اسی لیے سنت رسول اللہ ﷺ کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں، جس سے ایک طرف شرک کی بیخ کنی ہوتی ہے ، تو دوسری طرف بدعات و لغویات کی تردید! جس سے بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ہم نے صرف توحید و سنت کو موضوع بحث بنا کرباقی تمام امور سے صرف نظر کرلیا ہے، جبکہ حقیقت یہ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ''الإسلام ھو التوحید کله!''

یہی حال اولاد کی تعلیم وتربیت او راخلاق و آداب کا ہے۔ اس میدان میں بھی بنیادی طور پر ایمان قوتون کو متحرک کرنا ضروری ہے او ریہ توحید و سنت کی اشاعت کے بغیر ممکن نہیں۔ وہ''نونہالان قوم'' کہ جو ہوش سنبھالنے سے لے کر تادمآخر، اپنی پوری زندگی گانے سن سن کر گزار دیتے ہیں۔ گندی اور بے حیا فلموں سے عشق و محبت ، جنسیات اور جرائم کی تربیت حاصل کرتے ہیں، فحش لٹریچر سے جی بہلاتے ہیں۔ اخبارات میں ہر صبح چھپنے والے، برہنہ سر اور برہنہ لباس عورتوں کے رنگین فوٹو جن کی گرمئ نگاہ اور گرمئ محفل کا سبب بنتے ہیں او رزندگی کے کسی موڑ پر اگر کہیں مذہب سے انہیں واسطہ پڑ بھی جائے، .......................... ان کی سفلی خواہشات کی تکمیل اور جنسی جذبات کی تسکین کے بھرپور سامان موجود ہوں، ایسے لوگوں کی براہ راست تربیت کے لیے خواہ کتنے ہی پاپڑ کیوں نہ بیلے جائیں، نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات رہے گا۔کیاآپ سمجھتے ہیں کہ ریڈیو، ٹیلیویژن ایسے ذرائع ابلاغ ان کے تعمیر اخلاق کا فریضہ سرانجام دیں گے؟ جو انہیں گانے بھی سناتے ہیں او راخلاق وآداب کے موضوع پر تقریریں بھی! یا وہ اخبارات انہیں راہ راست پر لانے میں ممد و معاون ثابت ہوسکیں گے جو اس قدر ڈھیٹ واقع ہوئے ہیں کہ خود ہی یہ خبر چھاپتے ہیں۔''اخبارات میں عورتوں کے فوٹو چھاپنے والوں کا سختی سے نوٹس لیا جائے گا!'' لیکن اسی اخبار کے اسی صفحہ پر کوئی نہ کوئی شرمناک تصویر موجود ہوگی، جبکہ صفحہ اوّل نگارخانہ کی تصویر پیش کررہا ہوگا، لیکن کسی کونے میں اسلامی تعلیمات کا کوئی کالم بھی شامل اشاعت ہوگا۔ جہاں اخلاق وآداب کا معیار یہ ہو، جہاں صحافت کا منہ یوں کالا کیا جائے، جہاں اصلاح کو یوں سربازار رسوا کیا جائے اور جہاں زہر کا نام تریاق رکھ دیا جائے، وہاں صحت و سلامتی، اصلاح احوال اور اخلاق وآداب کی توقع کیونکر کی جاسکتی ہے ؎


میر کیا سادہ ہیں کہ بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

کیا ہمارے ان ذرائع ابلاغ کے یہ تربیت یافتگان او رمذہب و ملت عشق کے یہ شیدائی جو گھنگھرو باندھ کر ڈھول کی تھاپ پر ناچتے اور سردھنتے ہیں، کیا آپ ان سے یہ توقع کرسکتے ہیں کہ مستقبل میں وہ کسی سنجیدہ سیاست کے متحمل او رکسی پاکیسہ قیادت کا بوجھ اٹھا سکیں گے؟ معیشت و معاشرتی کے میدانوں اور عدل و انصاف کے ایوانوں میں یہ اپنی عظمتوں کے جھنڈے گاڑیں گے، یا جہاد کے میدانوں میں یہ کارہائے نمایاں انجام دے سکیں گے؟نہیں، بلکہآپ ان سے یہ توقع بھی نہ رکھیں کہ بڑھاپے کا سہارا بننا تو کجا، وہ آپ کے ہونٹوں سے پانی کا پیالہ لگائیں گے؟ یاآپ کوادب و احترام سے مخاطب ہی کریں گے، تو پھر کیا حقوق و فرائض کی پہچان کی توقع ان سے عبث ہی نہیں؟ سنئیے، اصلاح احوال کا ایک ہی طریقہ ہے، او روہ یہ کہ ان فرزندان قوم کا تعلق اللہ اور اس کے رسولؐ سے جوڑ کر ان کی ایمان قوتوں کو مہمیز کیا جائے۔ یہی مفہوم توحید ہے، اور یہ وہ نسخہ کیمیا تھا جس نے سرزمین عرب کے اخلاقی مریضوں کو صحت و سلامتی کا پیغام دیاتھا۔ جوأ، شراب نوشی، زنا، قتل و غارت، قتل اولاد، جھوٹ ، غرض وہ کون سی برائی تھی جو عربوں میں موجود نہیں تھی، لیکن جب توحید و سنت کے ذریعے ان کا تعلق براہ راست اللہ رب العزت سے قائم ہوگیا، تو وہ کون سی سعادت تھی جسے انہوں نے اپنی جھولیوں میں نہیں بھر لیا؟شراب ام الخبائث ہے، لیکن اسے یک لخت حرام نہیں کیا گیا، ایک مدت تک مسلمان کلمہ بھی پڑھتے رہے، لیکن شراب بھی پیتے رہے۔نمازیں بھی ادا کرتے رہے لیکن اس کےساتھ ہی ساتھ بنت عنب کوبھی حلق سے اتارتے رہے، تاہم توحید و سنت کے درس کو ایک لمحہ کے لیے بھی فراموش نہیں کیا گیا۔ تاآنکہ اس کے ذریعے جب ایمانی قوتیں حد کمال کو پہنچیں تو ساغر و مینا کے پرخچے اڑا دینے کو صرف ایک اشارہ کافی اور وافی ثابت ہوا۔ اسلام کے مخاطبین اوّلین کی اصلاح و تربیت کے سلسلہ میں یہ نتکہ اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں، اگراس نقطہ کو ملحوظ نہ رکھتے ہوئے انہیں براہ راست شراب نوشی سے روکنے کی کوشش کی جاتی تو شائد ایک عرب بھی شراب سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہ ہوتا۔ پس یہی نسخہ ہم بھی آزمانا چاہتے ہیں۔

معیشت و معاشرت تو شجر اسلام کے مختلف پہلو ہیں، لیکن ایمان اس کا بیج ہے، بیج تندرست ہوگا تو اس تنا درخت کی سرسبزی و شادابی خود بخود ہی نظروں میں کشش پیدا کرے گی۔ جبکہ بیمار بیج یقینا ً تباہی اور ویرانی کو دعوت دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے:
﴿وَمَنْ أَعْرَ‌ضَ عَن ذِكْرِ‌ى فَإِنَّ لَهُۥ مَعِيشَةً ضَنكًا...﴿١٢٤﴾...سورۃ طہ
کہ ''جس نےہماری یاد کو بھلا دیا، ہم اس کا جینا دو بھر کردیں گے؟''

او ریہی حال زندگی کے دوسرے پہلوؤں کا ہے۔ یاد رکھئے، اسباب و ذرائع سے بالاقوت(SuperPower)اللہ رب العزت کی ہستی ہے۔ اس کارخانہ حیات میں اسی کی قدرت کارفرما ہے او رمسلمان کا تو واحد سہارا ہی وہی ہے۔ اس سے سچا تعلق ہی ہماری دنیوی و اخروی سعادتوں کا ضامن ہے، اس کی رضا حاصل ہے تو مسلمان ہر میدان کا شہسوار ہے۔ جہاد کے میدانوں میں ''مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی'' کے مصداق زنگ بھری تلواروں سے بھی داد شجاعت دے سکتا اور معرکہ بدر کی یاد تازہ کرسکتا ہے۔ سیاست کے میدانوں میں بظاہر انتہائی کڑی شرائط کو تسلیم کرکے بھی ''إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا ﴿١...سورۃ الفتح'' کی بشارتیں سن سکتا ہے۔ اخلاق وآداب کی تربیت گاہوں میں اب بھی''اللہ ربي لا أشرك به شیئا'' کی میٹھی لوریوں کی صدائیں ابھر سکتیں اور اس کےخوشگوار نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ عدل و انصاف کے ایوانوں میں آج بھی عدالت فاروقی کی یاد تازہ ہوسکتی ہے۔ہماری معیشت آج بھی اس قدر مستحکم ہوسکتی ہے کہ زکوٰة بانٹنے کے لیے نکلیں تو کوئی مستحق زکوٰة نظر نہ آئے اور امن و امان کی کیفیتآج بھی یہ رنگ دکھا سکتی ہے کہ تنہا عورت سر پر سونے کا تھال رکھ کر جنگل عبور کرجائے تو اُسے کوئی یہ تک نہ پوچھے ،''تو کون ہے او ر کہاں کا ارادہ ہے؟''

لیکن اگراللہ رب العزت کی رضا حاصل نہیں، اس سے تعلق منقطع ہوچکا او راس کی اطاعت کی جگہ عصیان و سرکشی نے لے لی ہے تو مسلمان کو زیر کرنے کے لیے اسلام دشمن طاقتوں کو میدان میں اترنے کی بھی ضرورت نہیں کہ یہ صورت حال خود ہی عذاب خداوندی کو دعوت دے گی اور زندگی کے کسی میدان میں جولانیاں دکھانا تو دور رہا، مسلمانخود زندگی سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے گا، بے موت بھی مارا جائے گا، وہ اقوام و ملل کہ جن کی تباہیوں او ربربادیوں کی داستانیں قرآن مجید میں مذکور ہیں، آج بھی پکار پکار کر زبان حال سے کہہ رہی ہیں۔


دیکھو ہمیں جو دیدہ عبرت نگاہ ہو

ہم وہی ہیں کہ لہلہاتے باغوں کے گلچیں، فلک بوس محلات کے مکیں، لذائذ دنیوی کےآشنا اور زندگی کی تمام راحتوں اور مسرتوں سے شاد کام تھے۔آج اگر ہمارا نام و نشان تک مٹ چکا ہے تو اس کا واحد سبب یہ ہے کہ ہم نےخالق حقیقی سے اپنا رشتہ توڑ لیا تھا ہمارے اعمال نے اس کی خوشنودی و رضا کی بجائے اس کے غضب کو للکارا تھا۔ ہم نے توحید کے محل کو چکنا چُور کیاتھا او رشرک کےآستانوں کو سجایا تھا۔ جس کی پاداش میں زندگی کی مہلتیں ہم سے اس طرح چھن گئیں کہ زمین وآسمان ہماری حالت پرآنسو تو کیا بہاتے، ان کے درمیان موجود مظاہر قدرت ہی ہمارے شدید دشمن ثابت ہوئے۔
﴿كَمْ تَرَ‌كُوامِن جَنَّـٰتٍ وَعُيُونٍ ﴿٢٥﴾ وَزُرُ‌وعٍ وَمَقَامٍ كَرِ‌يمٍ ﴿٢٦﴾ وَنَعْمَةٍ كَانُوافِيهَا فَـٰكِهِينَ ﴿٢٧﴾ كَذَ‌ٰلِكَ ۖ وَأَوْرَ‌ثْنَـٰهَا قَوْمًا ءَاخَرِ‌ينَ ﴿٢٨﴾ فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ ٱلسَّمَآءُ وَٱلْأَرْ‌ضُ وَمَا كَانُوامُنظَرِ‌ينَ ﴿٢٩...سورۃ الدخان 3
او ریہ بات محتاج وضاحت ہی کہاں ہے کہ اللہ رب العزت سے رشتہ جوڑ لینے کا سب سے موثر بلکہ واحد ذریعہ توحید ہے او راس سے تعلقات کے انقطاع کا بڑا اور واحد سبب اس کی الوہیت میں دوسروں کو شریک کرنا اور اس کے رسولؐ کے بتلائے ہوئے طریقوں سے انحراف کرکے ایجاد بندہ کو گلے لگا لینا ہے۔یاد رکھئے، توحید ہے تو اسلام ہے، اسلام ہے تو مسلمان ہے، مسلمان ہے تو جان ہے، او رجان ہے تو جہان ہے، لیکن اگر توحید نہیں تو اسلام نہیں، اسلام نہیں تو مسلمان نہیں، اور اگر مسلمان نہیں تو نہ جان ہے نہ جہان ہے، نہ جان کی امان ہے۔ سچ فرمایا اللہ رب العزت نے:﴿ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ عَنِ ٱلْعَـٰلَمِينَ ﴿٩٧...سورۃ آل عمران''

مندرجہ بالا سطور میں ہم نے توحید کی اہمیت کو واضح کیا ہے، اصلاح احوال کے لیے ایمانی قوتوں کو مہمیز کرنے کی بات کی ہے او رشجر اسلام کو سرسبز و شاداب دیکھنے کے لیے جڑوں کی نگہداشت پر سور دیاہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم نے اپنی پوری توجہ صرف جڑوں پر مرکوز کرکے باقی تمام اجزاء سے صرف نظر کرلیا ہے۔ یہ محض الزام ہے، حقیقت نہیں، جیسا کہ ہم نے لکھا، اسلام پورے کا پورا توحیدہے او راسلام کا یہ درخت سارے کا سارا ہماری توجہ کا مرکز و محور ہونا چاہیے۔ جڑوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اس کے تنے، شاخوں اور پتوں کی حفاظت بھی ضروری ہے ، کہ اگر انہیں کاٹ ڈالا جائے تو محض جڑیں کس کام کی؟ یہی وجہ ہے کہ ہم نے عبادات و معاملات، معیشت و معاشرت ، حقوق و فرائض، اخلاق وآداب او رسیاست و جہانبانی وغیرہ مختلف پہلوؤں کی طرف بھی اکثر توجہ دی ہے، تاہم ترتیب وہی ملحوظ رکھی جائے گی جو ایک درخت کی نشوونما کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ گویا طریق کار میں اختلاف ہے۔ ہم ایمانی قوتوں کو مہمیز کرکے اصلاح احوال کے نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں، جیساکہ سیرت رسول اللہ ﷺ سے ہمیں اس سلسلہ میں بھر پور راہنمائی ملتی ہے او رجس کا ذکر ہم اوپر کرچکے ہیں، لیکن آج اگر اس کے بغیر، اس کو نظر انداز کرکے براہ راست اصلاح کی توقع کی جارہی ہے تو ہمارے نزدیک یہ عبث او ربیکار ہے۔ پہلی صورت میں طریق کار کی درستی کے علاوہ اللہ رب العزت کی نصرت و تائید بھی ہمارے شامل حال ہوگی، لیکن دوسری صورت میں نہ صرف طریق کار غلط او رمبنی برحماقت ہوگا ، کہ نہ تو کوئی عمارت دیواروں اور بنیادوں کے بغیر تعمیر ہوسکتی ہے او رنہ ہی کوئی درختفضا میں مکمل و معلق ہوکر بعد میں زمین میں جڑیں پکڑتا ہے۔ علاوہ ازیں خدا تعالیٰ سے براہ راست تعلق قائم کیے بغیر یا اس تعلق کو منقطع کرکے شاہراہ حیات پرگامزن ہوکر منزل سے ہمکنار ہونا تو درکنار، اس پر پاؤں جما لینا بھی مشکل ہوگا۔

آخر میں ہم البتہ اہل توحید سے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ توحید محض ایک تجریدی تصور نہیں، بلکہ ایک انقلابی عمل ہے۔ یہ عمل جس طرح ایک مومن کی زندگی میں جاری و ساری ہے، اسی طرح پورے اسلامی معاشرہ میں بھی اسے رواں دواں ہونا چاہیے، یہ سوچنا ضروری ہے کہ قرون اولیٰ کے مسلمان توحید کی دولت سے مالا مال ہوئے تو انقلاب اسلامی نے صرف سرزمین عرب ہی نہیں ، پوری دنیا کی تاریخ کے دھارے موڑ دیئے تھے، لیکن آج اگر مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہورہے تو اس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ ہم نے توحید کو زندگی سے الگ تھلگ ایک خیالی حیثیت دے رکھی ہے، جس کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام جب پورے کا پورا توحید ہے تو توحید کا یہ رنگ زندگی کے ہر پہلو میں نظر آنا چاہیے۔ محض عقائد کے چند مظاہر تک اسے محدود رکھنے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوئے ہیں کہ''ہم نے توحید کے علاوہ دیگر تمام امور سے آنکھیں بند کرلی ہیں!'' ہم نے عرض کیا نا، کہ شرک کی بیماری صرف قبروں او رآستانوں تک محدود نہیں بلکہ ہماری انفرادی او راجتماعی زندگی کے جملہ شعبوں پربھی مسلط ہے جن کو مشرف بہ اسلام کرنا ضروری ہے۔ عائلی نظام ہو یا سماجی رسوم، اقتصاد و معیشت ہو یا سیاست و اقتدار، نظام تعلیم ہو یا دستور و قانون کے تصورات، ان سبھی کے اندر توحید کو روح رواں بننا چاہیے، جبکہ حالت یہ ہےکہ کوئی کسی مخصوص دور کے بعض مسائل تک توحید و شرک کے دائرہ کار کو محدود رکھتا ہے تو کوئی اپنے اقتدار کی چوبیں گاڑنے کے لیے ایوانہائے حکومت کو چیلنج کرنا اصل توحید قرا ردیتا ہے۔ توحید کا یہ جزوی تصور درست نہیں، چنانچہ سبھی میدانوں میں ان عقائد کو سمونے اور راسخ کرنے کی ضرورت ہے جسکے لیے تحریری، تقریری، تدریسی، تصنیفی، علمی، عملی، جانی او رمالی ہر قسم کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ناگزیر ہے۔ لیکن افسوس کہ اس طرف بالکل توجہ نہیں دی جارہی ، بالفاظ دیگر ، یہ میدان جس قدر اہمیت کا حامل او رتوجہ کا مستحق تھا، اسی قدر اس سے پہلو تہی اختیار کی جارہی او راس سے اغماض برتا جارہا ہے۔ حالانکہ توحید کو اگر بعض جزوی مسائل یا زندگی کے مخصوص پہلوؤں تک محدود رکھا گیا تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ ہم جہاں توحید کے صحیح تصور کو پانے میں ناکام رہے ہیں وہاں ہم اس کے تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکے۔ جو یقیناً ایک بہت بڑا المیہ ہوگا اور جس کے خطرناک نتائج کاآج ہم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ یاد رکھئے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ دین صرف اسلام ہی ہے۔ إن الدين عندالله الإسلام۔اس کے بغیر کوئی بھی دین قابل قبول نہ ہوگا۔ ومن يبتغ غير الإسلام دينا فلن يقبل منه او راسلام پورے کا پورا توحید ہے۔ إن الإسلام ھو التوحید کله۔

وآخردعوانا أن الحمد للہ رب العالمین


حوالہ جات
1. ''عن ابن عمرؓ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: إن من الشجرة شجرة لا یسقط ورقها، وإنها مثل المسلم ، فحدثوني ماھي؟ فوقع الناس في شجر البوادي۔ قال عبداللہ: ووقع في نفسي أنها النخلة، فاستحییت، ثم قالوا : حدثنا ماھي یارسول اللہ ؟ قال ھي النخلة'' (بخاری، کتاب العلم)
''حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ کرامؓ ) سے مخاطب ہوکر فرمایا: ''ایک درخت ایسا ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور اس (درخت کی ) مثال مسلمان کی مثال ہے۔ بھلا بتائیے تو وہ کون سا درخت ہے؟'' اس پر لوگوں (صحابہؓ) نے اپنے جنگلی درختوں کے بارے میں سوچنا شرو ع کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ (راوی حدیث) فرماتے ہیں، میں سمجھ گیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے لیکن بتانے میں جھجک مانع ہوئی ۔ صحابہؓ نے بالآخر کہا، ''یارسول اللہ ﷺ، آپ ہی بیان فرمائیے ، وہ کون سا درخت ہے؟'' رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''یہ کھجور کا درخت ہے!''
اور قرآن مجید میں ہے:
أَلَمْ تَرَ‌ كَيْفَ ضَرَ‌بَ ٱللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَ‌ةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْ‌عُهَا فِى ٱلسَّمَآءِ ﴿٢٤﴾تُؤْتِىٓ أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَ‌بِّهَا ۗ وَيَضْرِ‌بُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُ‌ونَ ﴿٢٥...سورۃ ابراھیم
''(اے نبیؐ) اپؐ نے غور فرایا ، کس طرح اللہ تعالیٰ نے پاک کلمے کی مثال ایک پاک درخت سے بیان فرمائی ہے (یہ درخت ایسا ہے کہ اس کی جڑیں زمین میں گہری جمی ہوئی ہیں او رچوٹی آسمان سےباتیں کررہی ہیں او ریہ اپنے رب کے حکم سے ہر آں پھل لاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے اسی طرح مثالیں بیان فرماتے ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔''
2. فرمایا رسول اللہ ﷺ نے : ''لعن اللہ الیهود والنصاریٰ اتخذوا قبور أنبیاء ھم و الصالحین مساجد!''
3. کتنے ہی باغ، چشمے، کھیتیاں او رشاندار محل تھے جو وہ چھوڑ گئے۔ کتنے ہی عیش کے سامان تھے جو دھرے کے دھرے رہ گئے۔ یہ تھا ان کا انجام، او رہم نے دوسروں کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔ پھر نہ تو آسمان ان پر رویا او رنہ ہی زمین نے ان کی حالت پر آنسو بہائے او رذرا سی مہلت بھی ان کو نہ دی گئی۔