گذشتہ سے پیوستہ

خیرالبشرﷺ
اب ہم کتاب و سنت کی روشنی میں یہ جائزہ لیں گے کہ کیا حضور اکرمﷺ نور تھے او راس بناء پر آپؐ کا سایہ نہیں تھا یا کتاب و سنت اس عقیدہ باطلہ کی تردید کرتے ہوئے آپؐ کو خیر البشر کے مقام عظمیٰ و ارفع پر فائز کرتے ہیں۔ لیکن اس سے قبل ہم یہ وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم درحقیقت اس سلسلہ کی طول طویل بحثوں سے گریز چاہتے ہیں۔ آج دنیا جس مقام پر پہنچ چکی ہے، اسے کتاب و سنت کے اس پیغام کی کہیں زیادہ ضرورت ہے جو انسانیت کو تباہی کے راستوں سے ہٹا کر امن و سلامتی کی راہوں پر گامزن کرنے میں ممدو معاون ہوسکتا ہے او رہم دیکھتے ہیں کہ ان مباحث سے ایک تو ہمیں وہ راہنمائی میسر نہیں آرہی جو کہ وقت کا شدید ترین تقاضا ہے اور دوسرے یہ مباحث مسلمانون کو اپنے اصل مقصد سے بھی دور لے جارہے ہیں۔ تاہم عقائد کے سلسلہ میں اس چیز سے بالکل بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا بالخصوص جبکہ اسلام کے کچھ نادان دوستوں نے بشر نور، علم غیب او رحاضر ناظر کے مسائل کو اس قدر ہوا دی ہے کہ جو شخص ان مسائل میں ان کا ہم خیال و ہم عقیدہ نہیں اس کو وہ گردن زدنی تصور کرتے او رگستاخان رسول کے نام سے یاد کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود اس پیغام سے کوسوں دور ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے انسانیت کو دیا تھا اور جس کی بناء پر دنیا کفر و شرک کے ہولناک ویرانوں میں سے نکل کر ایک نئی روشنی سے واقف و آشنا ہوئی تھی!

اعتراض:
نبی اکرمﷺ کے نور ہونے اور آپؐ کا سایہ نہ ہونے پر قرآن مجید کی اس آیت سے بھی استدلال کیا جاتا ہے کہ:
﴿قَدْ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٌ‌وَكِتَـٰبٌ مُّبِينٌ ﴿١٥...سورۃ المائدہ
''مذکورہ آیت سے معلوم ہوا کہ آپ نور تھے اور نور کا سایہ نہیں ہوتا۔''

جواب:
''نور و کتاب مبین'' میں جو واؤ ہے اس میں اختلاف ہے کہ یہ عطف مغایرت ہے یا عطف تفسیری۔ پہلی صورت میں نور سے مراد حضور علیہ الصلوٰة والسلام کی ذات گرامی مراد ہوگی اور دوسری صورت میں اس سے مرا دخود قرآن کریم ہوگا اور اسی کو بعض مفسرین نے ترجیح دی ہے۔ علاوہ ازیں اگر آیات کے سیاق و سباق او راس بارے میں نور سے متعلقہ دیگر ایات دیکھی جائیں تو اُن سے بھی اسی بات کی تائید ہوتی ہے کہ یہاں نور سے مراد قرآن مجید ہے۔ مثلاً اسی آیت کے شروع میں ''يَـٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَ‌سُولُنَا'' (یعنی ''اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارا رسولؐ آیا ہے'') کے الفاظ وارد ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک ہی آیت میں اب دوبارہ ''قَدْ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٌ‌وَكِتَـٰبٌ مُّبِينٌ ﴿١٥...سورۃ المائدہ'' سے مراد کتاب اللہ ہی ہوسکتی ہے نہ کہ آپؐ کی ذات مبارک۔ کیونکہ آپؐ کا ذکرمبارک تو شروع آیت میں ہوچکا: ''قَدْ جَاءَكُمْ رَ‌سُولُنَا!''

علاوہ ازیں اس سے اگلی آیت کے الفاظ یوں ہیں:
﴿يَهْدِى بِهِ ٱللَّهُ مَنِ ٱتَّبَعَ رِ‌ضْوَ‌ٰنَهُ...﴿١٦﴾...سورۃ المائدہ
''کہ اللہ تعالیٰ اس سے ہر اس شخص کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی رضا مندی کی پیروی کرے۔''

اس آیت میں ''به'' ضمیر مفرد لائی گئی ہے ۔ اگر نور او رکتاب مبین دو الگ الگ چیزیں ہوتیں یعنی ''نور'' سے مراد حضور اکرمﷺ ہوتے تو آپؐ اور ''کتاب مبین'' دونوں کے لیے مفرد کی بجائے ضمیر تثنیہ لائی جاتی۔ یعنی ''به'' کی بجائے ''بهما'' فرمایا جاتا ، لیکن ایسا نہیں ہے لہٰذا ثابت ہوا کہ ''نور'' سے مراد یہاں ''کتاب مبین'' ہی ہے۔

قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر حضورؐ کا اور قرآن کریم کا ذکر اس طرح فرمایا ہے:
﴿وَٱتَّبَعُواٱلنُّورَ‌ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ ۙ أُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ﴿١٥٧...سورۃ الاعراف
''جن لوگوں نے اس نور کی اتباع کی جو اپؐ کے ساتھ نازل کیا گیا، یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔''

اس آیت کے بھی شروع میں پہلے حضورؐ کا ذکر بایں الفاظ آگیا ہے:

﴿ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّ‌سُولَ ٱلنَّبِىَّ ٱلْأُمِّىَّ ٱلَّذِى يَجِدُونَهُۥ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِى ٱلتَّوْرَ‌ىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ'' ..... الایة 1

او رپھر آخر آیت میں قرآن کریم کا ذکر لفظ ''نور'' کے ساتھ کیا گیا ہے جو آپؐ پر اتارا گیا۔ بالکل اسی طرح جس طرح زیر بحث آیت میں پہلے ''قد جآءکم رسولنا'' کے الفاظ آئے ہیں اور پھر آخر میں ''قدجآء کم من اللہ نور و کتاب مبین'' کے الفاظ وارد ہیں۔ لہٰذا ان قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس آیت میں جس ''نور'' کا ذکر ہے اس سے مراد قرآن کریم ہی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید کو ''نور'' کے لفظ سے اور بھی کئی جگہ تعبیر کیا گیاہے، مثلاً
﴿يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدْ جَآءَكُم بُرْ‌هَـٰنٌ مِّن رَّ‌بِّكُمْ وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكُمْ نُورً‌ا مُّبِينًا ﴿١٧٤...سورۃ النساء
''کہ اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے برہان آئی او رہم نے تمہاری طرف ''نور مبین'' یعنی قرآن مجید اتارا!''

اسی طرح سورہ تغابن پ28 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿فَـَٔامِنُوابِٱللَّهِ وَرَ‌سُولِهِۦ وَٱلنُّورِ‌ ٱلَّذِىٓ أَنزَلْنَا...﴿٨﴾...سورۃ التغابن
''کہ اللہ پر ایمان لاؤ، او راس کے رسولؐ پر اور اس ''نور'' (قرآن مجید) پر جو ہم نے اتارا۔''

غور فرمائیے! ان دونوں آیات میں قرآن مجید ہی کو لفظ نور سے تعبیر فرمایا گیا ہے، بلکہ دوسری آیت میں رسول اللہ ﷺ اور نور (قرآن مجید) کا ذکر الگ الگ بیان فرمایا ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ ''زیر بحث آیت میں بھی ''قَدْ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٌ‌'' سے مراد قرآن مجید ہی ہے۔''

یہ بھی یاد رکھیئے! کہ مذکورہ بالا ایک آیت ہی میں یہ احتمال ہے کہ یہاں ''نور'' سے مراد حضور اکرمﷺ کی ذات گرامی بھی ہوسکتی ہے۔ کسی دوسری آیت میں آپؐ کو ''نور'' نہیں کہا گیا۔ لیکن یہاں بھی بقول مفسرین اس سے قرآن مجید بھی مراد لیا جاسکتا ہے تو آیت میں دو معنی کا احتمال پیدا ہوگیا جبکہ اصول یہ ہے:
''إذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال''
کہ ''جب احتمال پیدا ہوجائے تو استدلال باطل ہوجایا کرتا ہے۔''

دیکھئے تفسیر جامع البیان تحت آیت مذکورہ:
''قَدْ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٌ‌۔ أي قرآن أو محمد عليه الصلوٰة والسلام!''


بعض ائمہ نے یہ معنی بھی کیے ہیں:
''بعنایة الازل وصلتم إلی نور الکتاب و نور التوحید''
''یعنی اس سے نور کتاب اور نور توحید مراد ہے'' 2

نور ِنبوت و ہدایت:
اگر آیت ''قَدْ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٌ‌'' سے حضور اکرمﷺ کی ذات بابرکات ہی مراد لی جائے، تو بھی اس سے ''نور نبوت '' اور ''نور ہدایت''مراد ہوگا، نہ کہ وہ نور جس کی بریلوی دوستوں نے رٹ لگا رکھی ہے۔ چنانچہ علامہ زرقانی نے حضور علیہ الصلوٰة والسلام کے نور ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
''حضور علیہ الصلوٰة والسلام کا معاملہ نبوت اپنی آن بان کے ساتھ وضوح کے درجہ کمال پر ہے (کہ) مؤمنین او رعارفین کے قلوب کو اپنی شریعت غرا کے ذریعے خوب مجلیٰ او رمنور کردیا ہے۔ اس لیے آپؐ کو ''نور '' ،''هادي'' اور ''سراج منیر'' کہا گیا ہے۔''

اپنوں کی گواہی:
1۔ مفتی احمد یار صاحب بریلوی تحریر فرماتے ہیں کہ:
''حضور ﷺ کے رب کے نور ہونے کے نہ تو یہ معنی ہیں کہ:
(الف) حضورﷺ خدا کے نور کا ٹکڑا ہیں۔
(ب) نہ یہ کہ رب کا نور حضورﷺ کے نور کا مادہ ہے۔
(ج) نہ یہ کہ حضورﷺ خدا کی طرح ازلی، ابدی، ذاتی نور ہیں۔
(د) نہ یہ کہ رب تعالیٰ حضورﷺ میں سرایت کرگیا ہے تاکہ کفر اور شرک لازم آئے۔
آپ ایسے ہی نور ہیں جیسے اسلام او رقرآن نور ہیں'' 3

2۔ مولانا احمد رضا خان صاحب کے ترجمہ قرآن مجید ''کنز الایمان'' او رمولانا نعیم الدین صاحب مراد آبادی کا حاشیہ ''خزائن العرفان'' بھی ملاحظہ فرما لیجئے۔
﴿قَدْ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٌ‌وَكِتَـٰبٌ مُّبِينٌ ﴿١٥...سورۃ المائدہ
''بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا او رروشن کتاب۔'' 4

''سید عالم ﷺ کو نور فرمایا، کیونکہ آپؐ سے تاریکی کفر دور ہوئی اور راہ حق واضح ہوئی'' 5

داعيا إلى الله بإذنه و سراجا منيرا'' کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے:
''اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا ہے او رچمکادینے والا نور ہے۔'' 6

اور حاشیہ پڑھیے:
''درحقیقت ہزاروں آفتابوں سے زیادہ روشنی آپؐ کے نور نبوت نے پہنچائی او رکفرو شرک کے ظلمات شدیدہ کو اپنے نور حقیقت افروز سے دور کردیا اورخلق کے لیے معرفت الٰہی تک پہنچنے کی راہیں روشن اور واضح کردیں اور ضلالت کی تاریک وادیوں میں راہ گم کرنے والوں کو اپنےنور ہدایت سے راہ یاب فرمایا او راپنےنور نبوت سے ضماور اور قلوب و ارواح کو منور کیا۔'' 7

اس اقتباس کو بغور پڑھیئے: کیا ا س میں ہمارے مذکورہ بالا عقیدہ کی مکمل تائید نہیں کہ آیہ زیر بحث میں اگر ''نور'' سے حضور اکرمﷺ کی ذات بابرکات ہی مراد لی جائے تو بھی ا س سے ''نور نبوت''اور ''نور ہدایت'' مراد ہوگا؟''
''الفضل ما شھدت به الأعداء''

ایک موضوع حدیث:
بریلوی علماء ، عوام الناس کو مغالطہ دینے کے لیے حضورﷺ کے نور ہونےکے سلسلہ میں اکثر ایک حدیث بیان کرتے ہیں کہ:
''أول ما خلق اللہ نوري''

لیکن آج تک کسی نے اس کی سند بیان نہیں کی او رنہ بیان کرسکتا ہے ۔ لہٰذا حدیث معلق بلا سند ، استدلال اور احتجاج کے قابل نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ اقسام مردود میں سے ہے 8

اسی رح روایان مجہول سے مروی حدیث بھی لائق تسلیم نہیں ہوتی۔اس صورت میں حدیث مذکو رکا متصل، مرفوع اور صحیح ہونا جب تک ثابت نہ ہو، قابل توجہ نہیں ہے۔

علامہ سید سلیمان ندوی سیرة النبیؐ جلد 3 صفحہ 635 میں اس حدیث کے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ:
''اسکی روایت عام طور پر زبانوں پر جاری ہے۔ مگراس روایت کا پتہ احادیث کے دفتر میں مجھے نہیں ملا۔ البتہ ایک روایت مصنف عبدالرزاق میں ہے:
''یا جابر أوّل ما خلق اللہ نور نبیك من نورہ''
زرقانی وغیرہ نے اس روایت کونقل کیا ہے مگر افسوس ہے کہ اس کی سند نہیں لکھی۔''

گویا یہ حدیث بھی بغیر سندکے ہے۔ مزید یہ کہ یہ روایت بھی مصنف عبدالرزاق کی ہے جو کہ تیسرے طبقہ کی کتاب ہے او راس تیسرے طبقہ کی کتابوں کے بارے میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی  یوں رقم طراز ہیں:
''والتزام صحت نمودہ و کتب آنہادر شہرت و قبول در مرتبہ طبقہ اول و دوم نہ رسیدہ۔ہر چند مصنفین آں کتب موصوف بودند بتجردر علم حدیث و وثوق و عدالت و ضبط و احادیث صحیح و حسن و ضعیف بلکہ متہم بالوضع نیز دراں کتب یافتہ میشود۔ در رجال آں کتب بعضے موصوف بعدالت اندوبعضے مستورو بعضے مجہول و اکثر آن احادیث معمول بہ نزد فقہاء نہ شدہ اند بلکہ اجماع برخلاف انہا منعقد گشتہ........ اسماء آں کتب ایں است ۔ مسند شافعی، سنن ابن ماجہ، مسند دارمی، مسند ابی یعلیٰ، مصنف عبدالرزاق، ابوبکر بن ابی شیبہ الخ۔'' 9
کہ ''اصل میں (ان کی ) صحت کا التزام انہوں نے نہیں کیا او رجو شہرت او رمقبولیت طبقہ اوّل اور دوم کو حاصل ہوئی وہ ان (تیسرے طبقہ کی) کتابوں کونہ ہوئی۔ اگرچہ ان کتابوں کے مصنفین (بذات خود) علوم حدیث، وثوق اور عدالت و ضبط میں متبحر تھے، لیکن احادیث صحیح، حسن ، ضعیف بلکہ موضوع تک ان کتابوں میں پائی جاتی ہیں او ران کے راوی بعص ثقہ ہیں، بعض غیر معروف او رمجہول ہیں، اور (اسی لیے) ان کتابوں کی اکثر احادیث ائمہ فقہاء کے نزدیک معمول بہ نہیں ہیں بلکہ ان کے ترک کرنے پر اجماع منعقد ہوا ہے..... ان کے نام یہ ہیں۔ مسند شافعی، ابن ماجہ، دارمی، مسند ابویعلیٰ موصلی، مصنف عبدالرزاق، منف ابوبکر بن ابی شیبہ.... الخ''

یہ ہے وہ مصنف عبدالرزاق جس سے یہ حدیث نقل کی جاتی ہے۔ یعنی اس کتاب میں موضوع احادیث تک موجود ہیں۔ اب اس حدیث کی سند کا حال دیکھے بغیر کوئی کیسے اسے باور کرلے؟

علاوہ ازیں اس حدیث پرایک او رپہلو سے بھی گفتگو ہوسکتی ہے اور وہ یہ کہ اگربالفرض محال اس حدیث کو قابل توجہ بھی سمجھ لیا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ سارا جہان ہی نور ہے او راس میں کسی کی خصوصیت نہیں ہے کیونکہ اس حدیث کا پورا مضمون یہ ہے کہ:
''سب سے اوّل حضورؐ کا نور پیدا ہوا او رپھر حضورؐ کے نور سے قلم، لوح، عرش الٰہی، حاملین عرش، کرسی، باقی فرشتے، آسمان زمیں سب کچھ پیدا ہوا۔''

بس اس نور سے اگر کوئی چیز مستثنیٰ ہے تووہ صرف بدنصیب انسان ہے، جس کی پیدائش کو حق تعالیٰ نے اپنی تکلیق کا شاہکار بتایا ہے۔ جس خاک سے بشر کا پتلا بنا تھا، وہ تو نور ہے مگر وہ بشر جو اس مٹی سے بنا وہ خاکی کا خاکی ہی رہا۔ بہت خوب!

صحیح حدیث سے ثابت ہےکہ:
''أوّل ما خلق اللہ القلم'' 10
لیکن اس بے سند حدیث میں قلم کو بھی آپؐ کے نور سے پیدا کیا جارہا ہے۔ فیاللعجب!

مسئلہ کا دوسرا پہلو:
اب تک جو کچھ تحریر کیا گیا ہے، اس کا تعلق مسئلہ کے اس پہلو سے تھا کہ ''حضورؐ نور تھے او رآپؐ کا سایہ نہیں تھا۔''لیکن اب ہم مسئلہ کے دوسرے پہلو پر بھی کہ ''آپؐ بشر تھے'' آیات قرآنی، احادیث نبوی، اقوال ائمہ کرام او ربالخصوص مجدد الف ثانی رحمة اللہ علیہ کے فرمودات سے روشنی ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ مسئلہ کے دونوں پہلو واضح ہوجائیں او رکسی قسم کا الجھاؤ باقی نہ رہے۔ وباللہ التوفیق!

بشر، آدمی اور انسان سب ہی مترادف او رہم معنی الفاظ ہیں جبکہ ''رجل'' ان کی ایک صفت ''مذکر'' کا نام ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ہم نے پہلے جتنے انبیاء مبعوث فرمائے ہین ، سب مرد (رجل) ہی تھے، جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے:
وَمَآ أَرْ‌سَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِ‌جَالًا نُّوحِىٓ إِلَيْهِم...﴿١٠٩﴾...سورۃ یوسف
کہ ''اے نبیؐ! ہم نے آپ سے پہلے آدمی ہی رسول بنا کر بھیجے ہیں، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔''

تمام انبیاء کا اعلان بشریت:
چنانچہ تمام انبیاء علیہم السلام نے اپنی بشریت کا اعلان ان الفاظ میں فرمایا:
﴿قَالَتْ لَهُمْ رُ‌سُلُهُمْ إِن نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌ‌مِّثْلُكُمْ...﴿١١﴾...سورۃ ابراھیم
کہ ''سب رسولوں نے اعلان فرمایا کہ ہم تو تمہاری طرح کے بشر ہی ہیں۔''

حضرت ابراہیم کی دُعا:
حضور اکرم ﷺ کے متعلق ، حضرت ابراہیم ؑ نے اللہ تعالیٰ سے جودعا کی۔ اس کے الفاظ قابل غور ہیں:
﴿رَ‌بَّنَا وَٱبْعَثْ فِيهِمْ رَ‌سُولًا مِّنْهُمْ...﴿١٢٩﴾...سورۃ البقرۃ
کہ ''اے ہمارے رب، ان لوگوں میں، انہی میں سے ایک رسولؐ مبعوث فرما۔''

''منهم'' (انہی میں سے) کا لفظ شدید غوروفکر کا متقاضی ہے ، یعنی مکہ کے رہنے والوں میں سے ، آل ابراہیم ؑ سے! اب ایک معمولی عقل و ذہن کا مالک بھی یہ بات سمجھ سکتا ہ کہ مکہ میں خاکی انسان بستے تھے یا فرشتے یا کوئی نور مخلوق؟ اگر مکہ والے بشر تھے اور رسول اللہ ﷺ نور تھے تو ''منهم'' کا مطلب کیا ہوا؟

مستجاب الدعوات کا اعلان:
چنانچہ یہ دعاء متجاب بھی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مزید واضح الفاظ میں اعلان فرمایا:
﴿لَقَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَ‌سُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ...﴿١٦٤﴾...سورۃ ابراھیم
کہ ''اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر احسان (عظیم) فرمایا ہے کہ ان میں ایک رسولؐ انہی کی جانوں میں سے مبعوث فرمایا ہے۔''

آنحضرت ﷺ کا اعلان:
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہے:
﴿قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٌ‌مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰٓ إِلَىَّ...﴿١١٠﴾...سورۃ الکھف
کہ ''اے نبیؐ، آپ اعلان فرما دیجئے ، میں تمہاری مثل ایک بشر ہوں، مجھ پر وحی آتی ہے۔''

﴿قُلْ سُبْحَانَ رَ‌بِّى هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرً‌ا رَّ‌سُولًا ﴿٩٣...سورۃ بنی اسرائیل
'' (نیز آپ یہ بھی ) فرما دیجئے کہ ........ میں تو صرف بشر رسول ہوں۔''

بشریت رسولﷺ پر تعجب کی وجہ:
انبیاء علیہم السلام کی بشریت کے تصور سے کفار کے بدکنے کی وجہ یہ تھی کہ انسان اور بشر ان فطری کمزوریوں سے داغدار ہوتا ہے جو ایک حادث شے کا خاصہ ہوسکتی ہے۔ مثلاً کھانا، پینا، سونا، جاگنا، چلنا ، پھرنا، تعلقات زن و شو و غیرہ۔ گو یا جن کو اللہ تعالیٰ سے خصوصی تعلق ہو، ان کو ان چیزوں سے منزہ ہونا چاہیے۔چنانچہ کفار کہتےتھے:
﴿مَالِ هَـٰذَا ٱلرَّ‌سُولِ يَأْكُلُ ٱلطَّعَامَ وَيَمْشِى فِى ٱلْأَسْوَاقِ...﴿٧﴾...سورۃ الفرقان
کہ ''یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا پیتا او ربازاروں میں چلتا پھرتا ہے؟''

نیز یہ کہ:
﴿مَا هَـٰذَآ إِلَّا بَشَرٌ‌مِّثْلُكُمْ يَأْكُلُ مِمَّا تَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَشْرَ‌بُ مِمَّا تَشْرَ‌بُونَ ﴿٣٣﴾ وَلَئِنْ أَطَعْتُم بَشَرً‌ۭا مِّثْلَكُمْ إِنَّكُمْ إِذًا لَّخَـٰسِرُ‌ونَ ﴿٣٤...سورۃ المومنون
''(وہ ایک دوسرے سے کہا کرتے) یہ رسول تو تمہارے جیسا بشر ہے ، وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو او روہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔ اگر تم نے اپنے جیسے بشر کی پیروی کی تو تم تو مارے گئے۔''

حق تعالیٰ کا جواب :
(الف) بشریت رسولؐ پر تعجب کیوں؟
﴿أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰ رَ‌جُلٍ مِّنْهُمْ...﴿٢﴾...سورۃ یونس
''لوگوں کو اس بات پر تعجب کیوں ہے کہ ہم نے انہی میں سے ایک مرد کی طرف وحی نازل فرمائی؟''

(ب) یہ باتیں تو تمام انبیاء و رسول میں پائی جاتی تھیں:
﴿وَمَآ أَرْ‌سَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ ٱلْمُرْ‌سَلِينَ إِلَّآ إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ ٱلطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِى ٱلْأَسْوَاقِ...﴿٢٠﴾...سورۃ الفرقان
کہ ''اے نبیؐ، (ان کی باتوں سے دل میں ملال نہ لائیے) ہم نے آپ سے قبل جتنے بھی رسول بھیجے ہیں، وہ سبھی کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے۔''
یعنی یہ باتیں مانع رسالت نہیں ہیں!


(ج) لوگوں کو انبیاء و رسول پرایمان لانے سے انہی غلط فہمیوں نے باز رکھا تھا:
﴿وَمَا مَنَعَ ٱلنَّاسَ أَن يُؤْمِنُوٓاإِذْ جَآءَهُمُ ٱلْهُدَىٰٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓاأَبَعَثَ ٱللَّهُ بَشَرً‌ا رَّ‌سُولًا ﴿٩٤...سورۃ بنی اسرائیل
کہ ''لوگوں نے ، جب اُن کے پاس ہدایت آئی ، اسے قبول کرنےسے صرف اس بناء پر انکار کردیا کہ ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے ایک بشر کو رسول بنا کر کیوں بھیجا ہے۔''

یعنی کفار کا خیال یہ تھا کہ رسالت کے لیے کوئی نورانی مخلوق ہی موزوں ہوسکتی ہے جو بشری عیوب او رکمزوریوں سے منزہ ہو ۔ لیکن اللہ نے فرمایا:
﴿قُل لَّوْ كَانَ فِى ٱلْأَرْ‌ضِ مَلَـٰٓئِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَلَكًا رَّ‌سُولًا ﴿٩٥...سورۃ بنی اسرائیل
''(اے نبیؐ!) آپ (یہ ) فرما (کر ان کی اس غلط فہمی کو دور کر) دیجئے کہ اگر زمیں پر فرشتے آباد ہوتے او رمطمئن ہوکر چلتے پھرتے تو ہم یقیناً ان کی طرف (کسی) فرشتہ ہی کو رسول بنا کر بھیجتے (لیکن چونکہ زمیں پر انسان آباد ہیں، لہٰذا ان کی طرف بشر ہی کو رسول بنا کربھیجا گیا ہے!)''

امام خازن حنفی اپنی تفسیر خازن میں اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
''والمعنیٰ أن عادة اللہ جاریة من أول مبدإ الخلق أنه لم یبعث إلا رسولا من البشر فهذا عادة مستمرة و سنة جاریة قدیمة''
کہ'' اس کے معنی یہ ہیں کہ ابتدائے آفرینش سے سنت اللہ یہی رہی ہے کہ بشر کے بغیر کبھی رسول نہیں بھیجا گیا۔ یہ خدا کی دائمی عادت اور دیرینہ سنت جاریہ ہے!''

احادیث میں بشریت کا ذکر: کھجوروں کو پیوند لگانے والی مشہور حدیث میں آپؐ نے فرمایا:

"إنما أنا بشر مثلکم''11
''میں تمہاری طرح ایک بشر ہوں۔''

2۔ حجة الوداع کے مشہور خطبہ کے دوران آپؐ نے فرمایا:
''أما بعد یٰأیھا الناس إنما أنابشر یوشك أن یأتیني رسول ربي''الحدیث 12

3۔ ایک مقدمہ کے سلسلہ میں ارشاد ہوا۔
''إنما أنا بشرو إنکم تختصمون إلي '' الحدیث 13
''تم میرے پاس اپنے جھگڑے لے کر آتے ہو او رمیں ایک بشر ہوں!''

4۔ سجدہ سہو کی مشہور حدیث میں فرمایا:
''إنما نا بشر انسیٰ کما تنسون'' 14
''میں ایک بشر ہوں او رمیں تمھاری طرح بھول جاتا ہوں۔''

5۔ایک اور حدیث میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
''إن محمداً بشر یغضب کما یغضب البشر'' 15
''محمدﷺ تو ایک بشر ہیں، جیسے بشر غصے میں ہوتا ہے ویسے آپؐ بھی ہوتے ہیں۔''

6۔ حضرت عائشہؓ ہی فرماتی ہیں:
''وکان بشر من البشر'' 16
''حضور اکرم ﷺ بشروں میں سے ایک بشر تھے۔''

اب بریلوی دوستوں کو چاہیے کہ وہ بشر کے معنی ہی بدل دیں کہ اس کے بغیر ان کے لئے کوئی چارہ کار نہیں ہے۔

بزرگوں کے اقوال: اب آپ اس مسئلہ پر بزرگوں کے اقوال ملاحظہ فرمائیے، اس کے بعد فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے:
1۔ امام ابن ہمام حنفی مسامرہ میں لکھتے ہیں:
''إن النبي إنسان''17
کہ ''نبی یقیناً انسان ہے!'' (لیجئے، بشر کے معانی تبدیل کرنے کی گنجائش بھی ختم ہوئی)

2۔ شرح عقائد نسفی میں ہے:
''قد أرسل اللہ رسلا من البشر إلی البشر!''
''بے شک اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں سے ہی انسانوں کی طرف رسول بھیجے!''

3۔ پیر سید علی بن محمد جرجانی لکھتے ہیں:
''الرسول إنسان بعثه اللہ إلی الخلق لتبلیغ الأحکام!'' 18
کہ ''رسول انسان ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ تبلیغ احکام کے لیے مخلوق کی طرف مبعوث فرماتا ہے۔''

4۔ اس کے حاشیہ پر لکھا ہے:
''وتقییدہ بالإنسان لأن الرسول لا یکون إلا بشرا!'' 19
''انسان ہونےکی قید اس لیے ہ ےکہ رسول بشر ہی ہوتا ہے۔''

5۔ امام غزالی فرماتے ہیں:
''بہ برہان و عقل و تجربہ معلوم شد کہ ایں بہ پیغمبراں مخصوص نیست چہ پیغمبرہم آدمی است قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٌ‌مِّثْلُكُمْ دلیل اوست!'' i

کہ ''عقل و تجربہ او ربرہان سے یہ معلوم ہوگیا کہ یہ انبیاءؑ کے ساتھ خاص نہیں ہے کیونکہ پیغمبر بھی آدمی ہے اور قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٌ‌مِّثْلُكُمْ اس کی دلیل ہے!''

6۔ علامہ عبدالحئ حنفی لکھنوی فرماتے ہیں:
''بشریت حضور علیہ الصلوٰة والسلام از قول سید ولد آدم ثابت و دلیل آں قولہ تعالیٰ ''قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٌ‌مِّثْلُكُمْ'' 20
7۔ قاضی عیاض نے اپنی کتاب شفاء میں ایک عنوان پیغمبر کی بشریت ثابت کرنے کے لیے قائم کیا ہے۔ دلائل قرآنیہ کے ذکر کے بعد لکھتے ہیں:

''فمحمد و سائر الأنبیاء من البشر أرسلوا إلی البشر'' 21
کہ ''محمدﷺ او رباقی سب انبیاء بشر ہیں اور بشر کے لیے ہی رسول بنا کربھیجے گئے ہیں۔'' 22

8۔ صاحب قصیدہ بردہ امام شرف الدین بوصیری قدیدہ بردہ میں لکھتے ہیں:
''فمبلغ العلم فيه إنه بشر۔ وإنه خیر خلق اللہ کلهم''
کہ ''حضورﷺ کے بارے میں ہمارے علم کی انتہا یہ ہے کہ آپؐ بشر اور تمام مخلوق سے بہتر ہیں۔''

بشریت پر ایمان :
9۔ امام شیخ ولی الدین ابن العراقی سے کسی نے پوچھا کہ کیا حضور علیہ الصلوٰة والسلام کی بشریت پر ایمان رکھنا ایمان کے لیے شرط ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ضروری ہے:
''فلا شك فه کفرہ لتکذیبه القرآن و جحدما تلقته قرون الإسلام خلفا عن سلف'' 23
کہ ''ایسے شخص کے کفر میں کوئی شک نہیں، کیونکہ اس نے قرآن کی تکذیب کی اور ایک ایسی ٹھوس حقیقت کا انکار کیا جس کو پہلوں سے پچھلوں تک تمام قرون اسلامیہ نے تسلیم کیا۔''

10۔ امام بزاری حنفی لکھتے ہیں:
''لا النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشر'' 24
''....... کیونکہ حضور ﷺ بشر ہیں۔''

11۔ کتاب فصول عماویہ میں ہے:
''ومن قال لا أدري أن النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم أھم کان إنسیا أو جنیا یکفر''
کہ ''جس نے کہا، خدا جانے حضورﷺ انسان تھے یا جن؟ وہ کافر ہوگیا''

12۔ علامہ شامی حنفی فرماتے ہیں:
''وحاصله أنه قسم البشر إلی ثلاثة أقسام خواص الأنبیاء'' 25
کہ ''اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس نے بشر کی تین قسمیں بیان کی ہیں، ان میں سے ایک قسم خاص انبیاء کی ہے''

13۔ امام زرقانی نے مواہب لدنیہ ص124 ج3 میں حضور اکرمﷺ کے اسماء گرامی میں ایک نام ''بشر'' بھی لکھا ہے او رشیخ عبدالحق محدث دہلوی نے مدارج النبوت باب ہفتم میں بھی اسی طرح لکھا ہے:
مولانا احمد رضا خان صاحب اور مفتی نعیم الدین صاحب مراد آبادی:
آخر میں ہم بریلویوں کے پیرومرشد اور عالم مولوی احمد رضا خاں بریلوی نیز مفتی نعیم الدین صاحب مراد ابادی کے اقوال پیش کرکے فیصلہ احباب پر چھوڑتے ہیں:
﴿وَمَآ أَرْ‌سَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِ‌جَالًا نُّوحِىٓ إِلَيْهِمْ...﴿٤٣﴾...سورۃ النحل
''اورہم نے تجھ سے پہلے نہ بھیجے مگر مرد جن کی طرف ہم وحی کرتے ہیں۔'' (ترجمہ، مولانا احمد رضا خاں صاحب)

اس کے حاشیہ میں مفتی نعیم الدین صاحب لکھتے ہیں:
''شان نزول: یہ آیت مشرکین مکہ کے جواب میں نازل ہوئی جنہوں نے سید عالم ﷺ کی نبوت کا اس طرح انکار کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی شان اس سے برتر ہے کہ وہ کسی بشر کو رسول بنائے۔ انہیں بتایا گیا، کہ سنت الٰہی اسی طرح جاری ہے۔ ہمیشہ اس نے انسانوں میں سے مَردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے!''
﴿ٱللَّهُ يَصْطَفِى مِنَ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةِ رُ‌سُلًا وَمِنَ ٱلنَّاسِ...﴿٧٥﴾...سورۃ الحج
''البتہ چن لیا ہے فرشتوں میں سے رسول اور آدمیوں میں سے۔'' (ترجمہ احمد رضا خاں)

اور حاشیہ میں مفتی صاحب لکھتے ہیں:
''مثل جبرائیل ؑو میکائیل ؑ۔''
''مثل حضرت ابراہیم ؑ و حضرت عیسیٰ ؑ او رحضرت سید عالم ﷺ!''

ان حواشی کے بعد وہ لکھتے ہیں:
''شان نزول: یہ آیت ان کفار کے ردّ میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے بشر کے رسول ہونے کا انکار کیاتھا او رکہا تھا کہ بشر کیسے رسول ہوسکتا ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اللہ جسے چاہے اپنا رسول بنائے۔ وہ انسانوں سے بھی رسول بناتا ہے اور ملائکہ میں سے بھی، جسے چاہے!''

3۔﴿ فَقَالُوٓاأَبَشَرٌ‌يَهْدُونَنَا...﴿٦﴾...سورۃ التغابن
''تو بولے، کیا آدمی ہمیں راہ بتائیں گے؟ تو کافر ہوئے!'' ( ترجمہ احمد رضا خاں صاحب)

اور حاشیہ پر مفتی صاحب لکھتے ہیں:
''یعنی انہوں نے بشر کے رسول ہونے کا انکار کیا اور یہ کمال بے عقلی او رنافہمی ہے! ..... پھر بشر کا رسول ہونا تو نہ مانا او رپتھر کا خدا ہونا تسلیم کرلیا!''

نیز مفتی صاحب اپنی مشہور کتاب ''کتاب العقائد'' میں لکھتے ہیں:
''نبوت کا بیان: اللہ تعالیٰ نے خلق کی ہدایت او رراہنمائی کے لیے جن پاک بندوں کو اپنے احکام پہنچانے کے واسطے بھیجا ان کو نبی کہتے ہیں۔ انبیاء وہ بشر ہین جن کے پاس وحی آتی ہے!''

دوستو! آپ قال اللہ اور قال الرسول کو تو جانے دیجئے ، کم از کم اپنے بزرگوں کی بات ہی مان لیجئے، ورنہ ان کا نام لینا بھی چھوڑ دیجئے، او ریا پھر تسلیم کرلیجئےکہ:


اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

حضرت مجدّد الف ثانی کا نطریہ بشریت: مجدّد صاحب کے بارے میں مستقل عنوان قائم کرنے کی دو وجہیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ مجدّد صاحب اہل علم بھی ہیں اور اہل دل بھی۔ گویا کہ شریعت او رطریقت کے جامع ہیں اور دوسرے یہ کہ ہماری اس تحریر کے اصل محرک اپنے آپ کو ''مجددیہ'' کہلواتے او رلکھواتے ہیں۔ اس نسبت پر نہ صرف انہیں فخر ہے بلکہ وہ ڈنکے کی چوٹ پر اس کا اظہار بھی کرتے ہیں او رہم بھی مجدّد صاحب کو مجدّد الف ثانی تسلیم کرتے ہوئے ان ہی کو اس مسئلہ میں ثالث تسلیم کرتے ہیں۔ امید ہے کہ وہ بھی اس پیش کش کو منظور کریں گے۔

مجدّد صاحب کے جو مکتوب اس وقت تک منظر عام پر آئے ہیں، ان کا جو حضرات مطالعہ کرچکے ہیں، وہ ہمارے اس بیان کی تائید فرمائیں گے کہ تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰة والسلام او ربالخصوص ہمارے رسول عربی ﷺ کی ذات بابرکات کی بشریت کے بارہ میں آپ کا نظریہ دو ٹوک اور نہایت واضح ہے۔ آپ اپنے ایک مکتوب گرامی میں شیخ فرید کو لکھتے ہیں:
''کلمہ دیگر کہ مخصوص بایں بزرگواراں (انبیائے علیہم الصلوٰة والسلام) است ایں است کہ خود را بشر میداند مثل سائر مردم!'' 26
یعنی ''ان بزرگوں (انبیائے کرام علیہم الصلوٰة والسلام) کا دوسرا مخصوص کلمہ یہ ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کی طرح اپنے آپ کو بشر جانتے ہیں۔''

حضرت مجدّد علیہ الرحمة اس غلط فہمی کا بھی ازالہ کرتے ہیں کہ مانا سب بشر ہی سہی، تاہم نفس نسانیت میں تو آخر ان میں کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہونا چاہیے کیونکہ لوگ لوگ ہیں او رنبی نبی..... چنانچہ آپ نے اپنے اس خط میں، جو حضرت خواجہ عبیداللہ کے نام تحریر فرمایاتھا، لکھتے ہیں کہ:
''نمی بینی کہ انبیاء علیہم الصلوٰة والتسلیمات یا عامہ در نفس انسانیت برابر اندو درحقیقت و ذات متحد، تفاضل باعتبار صفات کاملہ آمدہ است و آنکہ صفات کاملہ ندارد گویا ازاں خارج است و از خصائص و فضائل آں نوع محروم باوجود ایں تفاوت و نفس انسانیت زیادتی و نقصان راہ نمی یا بدونمی تواں گفت کہ آں انسانیت قابل زیادتی و نقصان است!'' 27
یعنی ''کیا آپ نہیں دیکھتےکہ انبیاء علیہم الصلوٰة والسلام نفس انسانیت میں عام لوگوں کے ساتھ برابر ہیں او رنوعی ماہیت او رذات میں سب ایک ہیں۔ ایک دوسرے پر (اُن کو جو) برتری (حاصل ہے وہ) صفات کاملہ کے اعتبار سے ہے اور جن میں یہ صفات کاملہ نہیں ہیں، وہ گویا اس نوع سے خارج اور اس کے خصائص و فضائل سے محروم ہے او راس تفاوت صفاتیہ کے باوجود نفس انسانیت میں کمی بیشی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا او ریہ کہنا ممکن نہیں رہتا کہ وہ انسانیت کمی بیشی کے قابل ہے!''

اس عبارت کو غور سے پڑھیئے او رسوچئے، ہم ببانگ دہل یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہمیں مجدّد صاحب کے اس نظریہ سے مکمل اتفاق ہے۔ پھر کیا آپ حضرات وہی فتویٰ مجدّد صاحب پر بھی لگائیں گے جو آپ اکثر و بیشتر اپنے مخالفین پر لگاتے رہتے ہیں۔ یا مجدّدیہ'' نسبت رکھنے کی بناء پر اپنے عقائد پر بھی نظرثانی کی زحمت گوارا فرمائیں گے؟ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت کی توفیق نصیب فرمائے۔

مجدّد صاحب نے اس امر سے بھی بحث کی ہے کہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰة والسلام ملائکہ سے افضل کیوں ہیں؟ فرماتے ہیں ، صرف اس لیے کہ وہ خاکی ہیں اور خاک میں جو ''جوہر نمو'' ہے وہ نور کے لیے بھی قابل رشک ہے۔ چنانچہ خواجہ عبداللہ وخواجہ عبیداللہ کو لکھتے ہیں:
''نبوت و رسالت درجہ است نبی را کہ ملک بآں نرسیدہ است و آں درجہ از راہ عنصر خاک آمدہ است کہ مخصوص بہ بشر است!'' 28
یعنی '' نبوت و رسالت میں نبی کے لیے ایک ایسا درجہ مخصوص ہے کہ وہاں تک فرشتہ کی رسائی نہیں ہوسکتی اور وہ درجہ خاکی عنصر کی راہ سے آیا ہے جو صرف بشر سے مخصوص ہے۔''

باقی یہ وہم رہ جاتا ہے کہ نبوت اور رسالت سے سرفرازی کے بعد شائد ماہیت ہی تبدیل ہوجاتی ہو، مجدّّد صاحب فرماتے ہیں کہ یہ بھی غلط ہے کیونکہ صفات و خصائص بشریت کا ارتفاع کسی بشر سے بھی ممکن نہیں۔ چنانچہ آپ مولانا حسن دہلوی کو اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں کہ:
''وارتفاع صفات بشریت بالکل درکلی ممکن نیست چہ درخواص وچہ در اخص خواص!'' 29
اس کے بعد آپ نے یہ بتایا ہے کہ ''صفات بشریت کا ارتفاع ہوجائے تو وہ ممکن نہ رہے بلکہ واجب ہوجائے۔'' ''وآں محال عقلی و شرعی است!'' (مکتوب مذکور)....... ''اور یہ عقلاً و شرعاً محال ہے!''

گو سب انبیاء علیہم السلام میں ہمارے حضورﷺ بھی شامل ہیں، تاہم آپ نے حضورﷺ کا الگ بھی ذکر فرمایا ہے۔ لکھتے ہیں:
''اے برادر، محمد رسول اللہ ﷺ بآں علو شان بشر بود و بداغ حدوث و امکان!''30
''اے بھائی ، شان کی اس بلندی او ررفعت کے باوجود حضرت محمدﷺ بشر تھے!'' نیز حدوث و امکان سے بھی آپؐ متصف تھے!''

مجدّد صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ سے اپنی بشریت کا اعلان بھی کرایا ہے:
''حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ حبیب خودرا ﷺ بہ اکدوجہ امر مے فرماید باظہار بشریت خود کما قال سبحانه و تعالیٰ ''قل إنما أنا بشر مثلكم يوحى إلي و إتیان لفظ ''مثلکم'' از برائے تاکید بشریت است۔'' 31
یعنی ''اللہ تعالیٰ ن اپنے حبیب ﷺ کو بشریت کےلیے بڑی تاکید فرمائی ، جیساکہ قرآن مجید میں ہے کہ ''فرما دیجئے کہ میں تمہاری طرح کا بشر ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔'' ''لفظ مثلکم بشریت کی تاکید کے لیے ہے!''

نیز آپ نے بشریت کو حضورﷺ کے لیے ننگ یا کسر شان نہیں قرار دیا بلہ اسے آپؐ کی شان عبدیت کے شایان بتایا ہے!'' 32

غور فرمائیے کہ کتاب و سنت کی ان صریح نصوص کے ہوتے ہوئےاور بزرگان دین کے ان واضح اقوال کے باوجود بھی بریلوی طبقہ کی طرف سے ''آپؐ نور تھے اور آپؐ کا سایہ نہیں تھا'' کے دلائل ڈھونڈنا او ران کے لیے تاویلات کی ایسی پٹاری کھول بیٹھنا کہ جن کا سر ہو نہ پیر، کیاڈھٹائی کی انتہاء نہیں؟ یہ بوالعجبیاں انہی کو مبارک ہوں جو ہر معاملہ میں پیٹ کے نقطہ نظر سے سوچنے کے عادی ہوچکے ہیں، جو ہر معقول بات سے روگردانی کو اپنا شیوہ بنا چکے ہیں او رہرنامعقول بات کو ''معرفت'' کے حسین پردوں میں چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اہل حق کا یہ شیوہ نہیں ہے۔

یہ حضرات یہ نہیں سوچتے کہ قرآن مجید کی واضح نصوص او راحادیث کے صاف الفاط سے اعراض کرکے انہوں نے کتنی بڑی جسارت کی ہے کہ روز حشر اس کے لیے خدا تعالیٰ کے حضور انہیں جواب دہ بھی ہونا پڑے گا۔ لہٰذا ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ یہ حضرات اپنے معتقدین پر اور خود اپنے آپ پر بھی رحم فرماتے ہوئے ان بھول بھلیوں سے نکلنے کی کوشش کریں جنہوں نے دین اسلام کی عظمتوں کو گہنا دیا ہے۔


حوالہ جات
1. ایضاً
2. تفسیر عرائس البیان في حقائق القرآن، تفسیر آیت مذکور صفحہ 177
3. رسالہ نور صفحہ 7 مصنفہ مولانا احمد یار خان صاحب
4. کنز الایمان
5. خزائن العرفان
6. کنزالایمان
7. خزائن العرفان
8. دیکھئے نخبة الفکر
9. عجالہ نافعہ صفحہ 7
10. جامع ترمذی کتاب القدر
11. مسلم بحوالہ مشکوٰة شریف ص28
12. مسلم بحوالہ مشکوٰة شریف ص568
13. بخاری و مسلم بحوالہ مشکوٰة شریف
14. بخاری شریف بحوالہ مشکوٰة شریف ص92
15. مسلم
16. شمائل ترمذی
17. مسامرہ ص198
18. شرح عقائد ص29
19. حاشیہ شرح عقائد ص29
20. فتاویٰ جلد دوم
21. القسم الثالث
22. ملاحظہ ہو تکمیل الایمان شیخ عبدالحق ص37
23. مواہب الدنیہ مقصد سادس، نوع ثالث ص53 ج2
24. فتاویٰ بزازیہ ص221 ج6
25. حاشیہ۔ درمختار
26. دفتر اوّل مکتوب 63 دربیان آنکہ دراصول دین متفق اندو مختلف در فروع دیں اند
27. مکتوب ص266 دفتر اوّل دربیان بعضے از عقائد کلامیہ
28. دفتر اوّل مکتوب نمبر 225
29. دفتر سوم مکتوب 122؍3 دربیان حقائق انبیاء و ملائکہ علیہم الصلوٰة والسلام
30. مکتوب 173؍1، بنام میر محمد نعمان
31. مکتوب 173؍1) بنام محمد علی خان
32. دفتر سوم مکتوب ص122, 239

 


 

i. کیمیائے سعادت امام غزالی