اللہ تعالیٰ نے ہندوستان کے مسلمانوں میں علم حدیث کا ذوق شوق پیدا کرنے کے لیے مختلف ادوار میں مختلف علماء پیدا کیے جو اپنی عمر معمولی دلچسپی او رانہماک کے باعث سنت و حدیث کے غوامض و حقائق کو سمجھنے کے لیے حرمین تشریف لے جاتے۔ سترہویں اور اٹھارویں صدی میں ہندوستان کے تین مایہ ناز بزرگ ملا طاہر ، شیخ عبدالحق محدث دہلوی اور شاہ ولی اللہ عرب تشریف لے گئے اور وہاں کے جید علماء سے سند حدیث حاصل کی۔ اگرچہ قاضی القضاة او رشیخ الاسلام عبدالحق محدث دہلوی نے ہندوستان کے لوگوں میں حدیث کا ذوق شوق پیدا کرنےکے سلسلے میں اپنی پوری قوت صرف کی، لیکن آپ کے عہد میں فقہ و منطق کے عام ہونے کے بعث علم حدیث کو زیادہ فروغ حاصل نہ ہوسکا او رحدیث رسولؐ کنج کسمپرسی میں چلی گئی۔ شاہجہاں اور عالمگیر کی علم پروری کی وجہ سے آپ قضاء اور افتاء کے مناصب پر فائز رہنے کے باعث درس حدیث کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکے۔ آپ کے بعد اس امر کی تلافی کے لیے اللہ تعالیٰ نے شیخ عبدالکریم کو پیدا کیا، جنہوں نے علم حدیث کی بنیادوں کو مضبوط دیواروں سے استوار کیا۔

شیخ صاحب نے پرانی دہلی میں ''مدرسہ رحمیہ'' کے نام سے ایک اسلامی درس گاہ قائم کی، جہاں تشنگان علم حدیث دور دراز کے علاقوں سے جوق در جوق اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے آنے لگے۔ اب لوگوں میں علم حدیث کے حاصل کرنے کی تحریک پیدا ہوئی لیکن یہ تحریک عظیم الشان دربار میں نموج پیدا نہ کرسکی کیونکہ بارہویں صدی ہجری کے اختتام پر تمام دنیا میں عموماً او رہندوستان میں خصوصاً دین اسلام ضعف اور انتشار کا شکار ہوچکا تھا۔ قرآن اور حدیث کی تعلیم میں کمی کے باعث تقلید شخصی فرض سمجھی جاتی تھی۔ بدعتوں کا روز بروز غلبہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں میں باہمی میل جول و پیار و محبت، اخوت اسلامی و انسانی ہمدردی اور قدرومنزلت کے جذبات دلوں سے ختم ہوچکے تھے۔ گمراہی و ضلالت کے باعث اسلام کا نام و نشان باقی نہ رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ شیخ صاحب اپنی کوششون میں مکمل طور پر کامیاب نہ ہوسکے۔

آپ کے بعد آپ کے قابل فخر بیٹے مسلم الثبوت اور فخر روز گار محدث شاہ ولی اللہ نے مسلمانوں کی روحانی اور اخلاقی اصلاح کے لیے کارخیر کو سرانجام دینے کا بیڑہ اٹھایا اور تقلیدی بندھنوں سے آزاد ہوکر مجتہدانہ شان وشوکت کے ساتھ مفید تصانیف مثلاً مؤطا امام مالک کی دو شرحیں المسویٰ (عربی) اور المصفٰی (فارسی) میں متعدد مضامین تحریر فرمانے کے علاوہ ان دونوں کا ضمیمہ ''الانصاف'' سے ، تکمہ ''العقد الجید في أحکام الاجتہاد'' اور تتمہ اپنی لاجواب اور غیر مسبلوق کتاب ''حجة اللہ البالغة'' سے کیا۔ علاوہ ازیں الدّر الثمین في مبشرت النبي کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم '' ''النوادر في الحدیث'' اور ''چہل حدیث'' بھی تصنیف کیں۔

شاہ صاحب نے علم حدیث کی ترویج و اشاعت میں پیش پیش رہ کر طالبان علم کو ندائے عام دی اور خصوصاً بلاد اسلامیہ کو اسلامی علوم کے باریک و دقیق مسائل کے سرچشموں سے سیراب کیا کہ جس کی خنکی ، شادابی اور تروتازگی سے پورا ہندوستان سرسبز و شاداب ہوگیا۔

شاہ صاحب ایک قابل و لائق، خرید عصر، یگانہ روزگار محدث اور بصیرت افروز حکیم تھے۔ آپ نے حدیث و قرآن کے حقائق کو سمجھنے اور سمجھانے میں متقدمین کی یاد تازہ کردی۔ شاہ صاحب شرح حدیث ، معانی حدیث، توضیح مطالب اور فہم و فراست میں اپنی نظیر آپ ہیں۔

شاہ ولی اللہ کے بعد آپ کے نامور ، مشہور اور لائق و فائق فرزند اکبر حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز نے تیرہ برس کی عمر میں تمام علوم کی تحصیل سے فراغت کے بعد سماعت حدیث کے لیے اپنے والد بزرگوار کی درسگاہ ''رحیمیہ'' میں شمولیت کی۔ آپ کے والد ماجد نے آپ کی ذہانت و حافظہ اور فہم و فراست کو جانچنے کے بعد فرط مسرت سے آپ کو علوم حدیث کا درس دینا شروع کیا۔ آپ نے اپنی فطری لیاقت اور خداداد قابلیت سے علم حدیث کے دشوار گزار مراحل تھوڑے ہی عرصے میں طے کرلیے حتیٰ کہ تمام طلباء آپ کی اس حذاقت و ذہانت پرمتحیر ہوگئے۔ اس دوران میں اگر آپ کے سامنے کوئی مشکل اور دقیق مسئلہ پیش کیا جاتا تو آپ فوراً اسے حل کردیتے۔ والد ماجد شاہ ولی اللہ سے سند حدیث کی اجازت حاصل کرنے کے بعد رسمی طور پر ان کے بہترین دوستوں اور جید علماء شاہ محمد عاشق پھلتی اور خواجہ محمد امین ولی اللہی سے بھی اجازت حاصل کی۔ والد بزرگوار (شاہ ولی اللہ) کی وفات کے بعد اس مدرسہ کا بارگراں آپ کے ناتواں کندھوں پر آگرا، چنانچہ آپ نے مسند علم و فضل پر متمکن ہوتے ہی نہایت تندہی و جانفشانی سے مروجہ علوم کے علاوہ حدیث و تفسیر کے علوم کا درس دینا شروع کیا۔

والد ماجد کے انتقال کے بعد آپ تقریباً بارہ سال تک علوم حدیث و تفسیر کی درس و تدریس میں مصروف رہے۔ علم نبوی کی انتہائی اشاعت سے اکثر علمی سوسائٹیوں اور ادبی حلقوں میں اصول حدیث پر پُرزور مباحثے ہونے لگے۔ علوم فلسفہ و منطق کے ساتھ ساتھ علوم حدیث و تفسیر بھی روز افزوں ترقی پر تھے۔ شاہ عبدالعزیز کی حقائق انگیز شخصیت اپنے دور کے محدثین و مشائخ کا مرجع و ماخذ ہے جنکے تلامذہ کا سلسلہ آفاق گیر ہے۔ آپ نے اپنے پرفتن دور میں حدیث و قرآن کی تشہیرکیلئے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیے، ہندوستان اس کے احسان کے بوجھ سے کبھی بھی سر نہیں اٹھا سکتا۔

ہندوستان میں اس وقت تمام محدثین کا سلسلہ شاہ عبدالعزیز کے واسطہ سے ہی امام شاہ ولی اللہ پر منتہی ہوتا ہے۔ اگرچہ آپ درس و تدریس کے وقت فقہ و متعلقات فقہ کی طرف زیادہ دھیان دیتے تھے لیکن ان کی نسبت حدیث نبویؐ کی آبیاری غیر معمولی توجہ اور انہماک سے کی اور دیگرعلوم آپ کے درس میں بطور ذیل کے تھے۔ گویا تمام علوم متداولہ میں آپ کے مقام عظمت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد نامور علماء آپ کی درسگاہ سے فیض یاب ہوکر نکلے جیسا کہ صاحب ''اتحاف النبلاء'' لکھتے ہیں:
''شاہ عبدالعزیز دروقت خود مرجع علماء و مشائخ بودند دستگاہ ایشاں در جمیع علوم متداولہ و غیر متداولہ از فنون عقلیہ و نقلیہ فوق الوصف ست در کثرت حفظ و علم تعبیر و رؤ و سلیقہ وعظ و انشأ و تحقیقات نفائس علوم و مذاکرہ و مباحثہ باخصوم ممتاز اقران بودند و معتقد فیہ موافق و مخالف۔''1
شاہ عبدالعزیز نے ہندوستان میں ملت اسلامیہ کے لیے تاریخ کی گرانقدر یادگار خدمات سرانجام دیں۔ شاہ ولی اللہ کے بعد آپ کے قابل قدر اور باعث فخر عالم و فاضل جانشین کے عہد می|ں تعلیم و تربیت اور نشرواشاعت کا سلسلہ اس حد تک ترقی کرگیا کہ پورے ہندوستان کے علمی و ادبی حلقوں کا تعلق براہ رسات یا بالواسطہ شاہ عبدالعزیز کی بلند پایہ ذات گرامی سے تھا۔

شاہ عبدالعزیز کی اس عظیم الشان درس گاہ کے تربیت یافتہ تلامذہ فارغ التحصیل ہونےکے بعد پورے اطراف ہند می|ں پھیل گئے ، انہوں نے ہندوستان اور اس کے دیگر مشہور شہروں میں اشاعت علوم دین کے لیے درسگاہیں قائم کی|ں۔اس طرح ہند کے تمام علمی حلقوں کا تعلق اس |خاص علمی مرکز کے ساتھ ہوتا تھا۔ گویا کتاب و سنت کا یہ چراغ |آپ کی ذات ہی سے روشن تھا۔ اس زمانے کے ایک عالم نے اس لیے سیاحت کی کہ اسے علم حدیث کا کوئی ایسا استاد ملے جو شاہ عبدالعزیز جیسے قابل و فاضل القدر جانشین کی تعلیم و تربیت او راشاعت و تبلیغ کے باعث تھا۔

شاہ عبدالعزیز کے درس و تدریس کی بادشاہت سمرقند و بخارا او رمصر و شام تک پھیلی ہوئی تھی|۔ ہندوستان کے کسی علاقے یا شہر میں کوئی شخص ہی ایسا ہوگا کہ جس نے اپ کے خاندان سےباطنی استفادہ نہ کیا ہو یا جسے شاگردی کا فخر حاصل نہ رہا ہو بلکہ |آپ کی ذات کے فیضان سے نہ صرف دہلی بلکہ ہند کے گوشہ گوشہ می|ں علوم حدیث و تفسیر کا چرچا ہوگیا تھا۔ اس دور کے بڑے بڑے علماء آپ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنا باعث افتخار سمجھتے اور فضلاء آپ کی گراں قدر، مایہ ناز اور شاہکار تصنیفات پر کامل بھروسہ رکھتے تھے۔

سرزمین ہند کے باشندوں کے علاوہ باہر کے ملکوں سے آنے والے لوگو|ں نے بھی |آپ سے استفادہ کیا|۔ آپ خصوصاً غوامض حدیث نبویؑ اور تفیر کلام الٰہی میں مصروف و منہمک رہتے تھے۔ شاہ صاحب تمام علوم عقلیہ اور فنون نقلیہ میں فرید عصر شمار ہوتے تھے۔ صاحب علم و عمل لکھتے ہیں کہ:
''آپ منقول میں کلام اللہ اور حدیث سے دلیل پیش کرتے تھے او رمفقول میں جو ثبوت مناسب سمجھتے، خواہ مخواہ یونانیوں میں سے افلاطون ، ارسطو اور متکلمین سے فخر رازی وغیرہ کے اقوال کی تائید می|ں مبتلا نہیں ہوتے تھے او راپنی تحقیقات کو فن معقول میں صاف صاف بیان کردیتے تھے، وہ کسی کی رائے کے موافق ہوں یا نہ ہوں۔'' 2

شاہ ولی اللہ کے بعد |آپ کی اولاد و احفاد نے ان امو رالٰہی کو پوری تندہی سے سرانجام دیا|۔ جیسا کہ نواب صاحب رقم طراز ہیں:
''وَكَذَا بأولاده الأمجاد وَأَوْلَاد أَوْلَاده أولي الْإِرْشَاد المشمرين لنشر هَذَا الْعلم عَن سَاق الْجد وَالِاجْتِهَاد فَعَاد بهم علم الحَدِيث غضا طريا بَعْدَمَا كَانَ شَيْئا فريا وَقد نفع الله بهم وبعلومهم كثيرا من عباده الْمُؤمنِينَ وَنفى بسعيهم المشكور من فتن الْإِشْرَاك والبدع ومحدثات الْأُمُور فِي الدّين مَا لَيْسَ بخاف على أحد من الْعَالمين فَهَؤُلَاءِ الْكِرَام قد رجحوا علم السّنة على غَيرهَا من الْعُلُوم وَجعلُوا الْفِقْه كالتابع لَهُ والمحكوم وَجَاء تحديثهم۔''3

شاہ عبدالعزیز کو علوم نقلیہ اور فنون عقلیہ پر کامل عبور ہونے کے ساتھ ساتھ متعدد علوم و فنون پر بھی پوری دسترس حاصل تھی، لیکن اس کے باوجود طبیعت کا میلان و رجحان حدیث نبوی کی طرف زیادہ تھا۔ علم حدیث سے انتہائی شغف کی بناء پر آپ نے اپنی عمر کا ||آخری او ربیشتر حصہ احادیث نبوی کی تحقیق و تدوین، اس کی اشاعت و تبلیغ کے لیے وقف کردیا تھا، اور علم حدیث کی |خدمت ہی آپ کا اولین نصب العین تھا۔ آپ کی درس گاہ میں حاضر ہونے والے طالبان حق کے لیے |آپ کی تلقین و ارشاد کا اکثر حصہ اتباع اور احیائے سنت تھا|۔ کلام ال|ٰہی کی تفسیر او راحادیث کی روشنی میں اس کے معنی کی توضیح و تشریح کو اپنا مقصد حیات سمجھتے اور نہایت تاکید سے لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتے تھے۔ بلا دِھند میں علم وعمل کی سیادت ان پر اور ان کے بھائیوں پر منتہی ہوتی ہے، جیسا کہ سرسید احمد خا|ں فرماتے ہیں:
''علم حدیث و تفسیر بعد آپ کے تمام ہندوستان سے مفقود ہوگیا۔ علمائے ہندوتان کے خوشہ چیں اسی سرگروہ علماء کے خرمن کمال کے ہیں او رجمیع کملاء اس دیار کے چاشنی گرفتہ اسی زبدہ ارباب حقیقت کے فائدہ فضل و افضال کے۔''4

موصوف نے علوم کی تحصیل اپنے والد بزرگوار او ران کے |خلفاء سے کی|۔ اُن کے حاصل کردہ علوم حدیث و فقہ وتفسیر کی سندیں ان کی تصانیف می|ں مذکور ہی||ں۔ |آپ کے ان علوم سے بہت سی خلقت نے استفادہ کیا۔ انہی علوم کی بدولت آپ کو بڑے بڑے القاب سے نوازا گا۔ مولانا عبدالحئ لکھنوی موصوف کا تذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:
''الشیخ الإمام العالم الکبیر، العلامة المحدث عبدالعزیز بن ولي اللہ بن عبدالرحیم العمري الدهلوي سید علماء نافي زمانه و ابن سید هم لقبه بعضهم سراج الهند و بعضهم حجة اللہ''5
شمس الہند شاہ عبدالعزیز نے سرزمین ہند میں اپنی مساعی جمیلہ کو بروئے کار لاتے ہوئے حدیث و تفسیر کی درس و تدریس ، تصنیف و تالیف اور ہدایت و ارشاد سے مسلمانوں کی اصلاح کی اور فتنو||ں کا سدباب کرتے ہوئے مسلمانون کی دینی،تعلیمی اور ثقافتی حالت کو بہتر بنا کر عظیم انقلاب برا کردیا۔ورنہ اس سے قبل سوائے معقولات کی کتابوں| کے لوگ قرآن و حدیث کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتے تھے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں:
''تیس سال سے دین کا کچھ چرچا ہے ورنہ صبح سے شام تک بجز معقولات کے، کوئی حدیث و تفسیر کی کتابیں کھول کر بھی نہیں دیکھتا تھا، نہ کوئی پڑھاتا تھا اور نہ ہی اس کے متعلق مسائل دریافت کرتا تھا، نہ ہی کوئی حق کا طالب تھا۔ اب الحمدللہ اس کا بہت رواج ہوگیا ہے۔''6

مولانا محمد اشرف علی تھانوی نے شی|خ محمد تھانوی شاگرد شاہ محمد دہلوی سے نقل کیا ہے:
''انہوں نے شاہ عبدالعزیز کی نسبت فرمایا کہ ان کو چھ ہزار احادیث کے متن یاد تھے۔''7

مولانا شاہ عبدالعزیز نے علم حدیث میں دو مشہور کتب ''بستان المحدثین'' اور ''عجالةنافعة '' تصنیف کیں، آپ کی یہ دونوں کتب علوم حدیث کا ذخیرہ ہونے کے باعث نہایت مقبولیت کی نگاہوں سے دیکھی جاتی ہیں۔''بستان المحدثین'' حدیث او ران کے مؤلفین کے حالات و تعارف پر مشتمل ہے او ر''عجالةنافعة'' اصول حدیث کے متعلق ہے۔ حدیث کی ان شاہکار کتب کے علاوہ آپ کی تحقیق و تنقید احادیث بڑے عمدہ پیرائے میں ہے۔

مجدد الف ثانی نے ہندوستان کے دینی و علمی میدان میں طالبین دین کی راہنمائی کرتے ہوئے بہت بلند مقام حاصل کرلیاتھا۔ لیکن آپ کے بعد شاہ ولی اللہ محدث دہلوى نے اپنی گرانقدار تصنیفات سے مسائل دینیہ او راحکام شرعیہ کو امت مسلمہ پر روز روشن کی طرح واضح کردیا، یہاں تک کہ شاہ ولی اللہ کی وفات کے بعد آپ کے جلیل القدر بیٹے شاہ عبدالعزیز نے اپنی علمی خدمات اور مذہبی تعلیمات سے تشنگان حدیث نبویؐ کو علوم و معارف دینیہ سے سرشار و سیراب کیا۔ چنانچہ چودہویں صدی تک ہندوستان میں علوم اسلامیہ کی طرف مکمل رحجان کے اضافے کے باعث فن حدیث می|ںہندی مسلمانوں کا حقیقتاً کوئی عرب ملک شریک و ثانی نہیں بن سکا۔

المختصر شاہ عبدالعزیز کی حدیث نبوی او راتباع سنت کے سلسلے میں انتہائی کوششوں پر اہل ہندوستان او رامت مسلمہ جتنا بھی فخر کریں کم ہے۔

حوالہ جات
1. ''اتحاف النبلاء'' نواب صدیق حسن خان صفحہ297 مطبع نظامی کانپور 1280ھ
2. علم و عمل، وقائع عبدالقادر |خانی ج20 صفحہ 246 مطبع ایجوکیشنل پریس کراچی1960ء
3. الحطة في ذکر صحاح ستة ، ابوالطیب نواب صدیق حسن خان، صفحہ 161۔
4. آثار الصنادید، سرسید احمد خان صفحہ 52 سید الاخبار 1263ھ؍1847ء۔
5. نزهة الخواطر، مولوی عبدالحئ لکھنوی، ج7 صفحہ 268۔ دائرة المعارف العثمانیہ، حیدر آباد دکن۔
6. ملفوطات ِعزیزی صفحہ 91 مطبع مجتبائی میرٹھ، 1314ھ
7. إفاضات الیومیة من الإفادات القیومیة، اشرف علی تھانوی ج1 صفحہ 263، مطبع اشرف المطابع تھانہ بھون|۔