گزشتہ سے پیوستہ

نظریہ ارتقاء
3۔ تیسری آیت یہ ہے:
وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارً‌ا ﴿١٤...سورۃ نوح
(1) ''حالانکہ اسی نے تم کو مختلف حالات میں پیدا کیاہے۔'' 1
(2) ''حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح (کی حالتوں) میں پیدا کیا ہے۔'' 2
(3) ''حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح سے بنایا ہے۔''3.........اور اس سے مولانا مودودی نے وہی تخلیقی مراحل مراد لیے ہیں جو رحم مادر میں ہوتے ہیں۔

پرویز صاحب اس آیت سے ارتقائے زندگی کے مراحل مراد لیتے ہیں۔ لیکن کوئی ایسی وجہ نہیں کہ اس سے رحم مادر کے مراحل مراد نہ لیے جائیں جبکہ سورہ علق کی مندرجہ بالا آیت اس کی وضاحت بھی کررہی ہے او رکوئی ایسا قرینہ بھی موجود نہیں جس سے پرویز صاحب کے نظریہ کی تائید ہوسکے۔

وَاللَّـهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْ‌ضِ نَبَاتًا ﴿١٧...سورۃ نوح
(1) '' اور خدا ہی نے تم کو ز میں سے پیدا کیا ہے۔'' 4
(2) ''اللہ نے تم کو ز میں سے پیدا کیا۔'' 5
(3) ''اور اللہ نے تم کو ز میں سے عجیب طرح اُگایا۔'' 6

پرویز صاحب اس کا ترجمہ کرتے ہیں: ''او رہم نے تمہیں ز میں سے اُگایا ایک طرح کا اگانا۔'' او راس سے مراد یہ لیتے ہیں کہ انسان نباتات اور حیوانات کے راستے سے ہوتا ہوا وجود میں آیا ہے۔

آیت مندرجہ بالا میں ''نبت'' کا لفظ لغوی اعتبار سے ہر بڑھنے والی چیز پر بولا جاتا ہے۔ نباتات، حیوانات او رانسان سب پر اس کا یکساں استعمال ہوتا ہے۔ (امام راغب) اس کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ جب کوئی چیز خوب پھل پھول رہی ہو تو یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً ''نبت الغلام'' بمعنی ''لڑکے کا جوان ہونا، بچہ کی پرورش کرنا۔'' (لازم و متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔7

''نبت ثدي الجاریة'' ''لڑکی کے پستان ابھر آنا'' (منتہی الادب)اسی طرح جب ایک بچہ کی اس طرح پرورش ہورہی ہو کہ وہ اپنی اصل عمر سے بڑا اور خوب پلا پوسا معلوم ہوتا ہو تو ''انبت'' کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں ہے:
تَقَبَّلَهَا رَ‌بُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا...﴿٣٧﴾...سورۃ آل عمران
''تو خدانے مریم ؑ کو پسندیدگی کے قابل قبول فرمایا او راسے اچھی طرح پرورش کیا۔''

اندریں صورت حال یہ آیت بھی نظریہ ارتقاء کی کوئی موثر دلیل نہیں ہوسکتی۔

5۔ قصہ آدم کے سلسلہ میں پرویز صاحب نے درج ذیل آیت کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے کہ :
وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْ‌نَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ...﴿١١﴾...سورۃ الاعراف
''او رہم نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تمہاری شکل صورت بنائی، پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔''

اس سے آپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ آیت مذکور ہ میں جمع کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ آدم ؑ سے پہلے بنی نوع انسان موجود تھی کیونکہ ملائکہ کے سجدہ کا ذکر بعد میں ہوا ہے۔ پھر سورہ اعراف کی آیات 11۔25 تک توجہ دلائی ہے جہاں کہیں آدم اور اس کی بیوی کے لیے تثنیہ کا صیغہ آیا ہے، لیکن اکثر مقامات پر جمع کا صیغہ ہے۔

اس کے جواب میں اتنا ہی عرض کریں گے کہ آپ اگر آیات (11۔25) کے بجائے (2۔25) پر غور کرنے کو فرما دیتے تو تثنیہ کے صیغہ کی حقیقت معلوم ہوجاتی۔

ابتداء میں حضور اکرمﷺ کے دور کے تمام موجود انسانوں کو مخاطب کیا گیا ہے کہ ''اپنے پروردگار سے نازل شدہ وحی کی تابعداری کرو۔'' پھر آگے چل کر آدمؑ، آپؑ کی بیوی اور ابلیس وغیرہ کا قصہ مذکور ہے تو قرآن میں حسب محل صیغوں کا استعمال ہوا ہے ۔ ان آیات کے مخاطب آدمؑ اور ان کی اولاد ہے نہ کہ آدمؑ او ران کے آباء و اجداد یا بھائی بند، جو آپ کے خیال میں اس جنت میں رہتے تھے جس کے متعلق خدا نے فرمایا:
''يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ'' ''اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔''

اگر جنت میں اس ''آدم'' کی سابقہ نسل بھی رہتی تھی تو محض آدم اور اس کی بیوی کو جنت میں رہنےکی ہدایت بالکل بے معنی ہوجاتی ہے۔

اس آیت کا دوسرا پہلو جس کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے صرف حضرت آدمؑ کوبطور خصوصی تخلیق پیدا کیا تھا تو ایت بالا میں ''کم'' کی ضمیر جمع کیوں استعمال ہوئی ہے؟ تو ہم عرض کریں گے کہ محاورہ عرب میں موقع و محل کے لحاظ سے واحد کے لیے جمع کے استعمال کی او ربھی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ ۙ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ ﴿٣٣...سورۃ الزمر
''اور جو شخص سچی بات لے کر آیا او رجس نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ متقی ہیں۔''

تخلیق آدم سے متعلق درج ذیل آیت اپنے مفہوم میں بالکل صاف ہے۔ ارشاد باری ہے:
هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ‌ لَمْ يَكُن شَيْئًا مَّذْكُورً‌ا ﴿١...سورۃ الانسان
''بے شک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی قابل ذکر چیس نہ تھا۔''

اب دیکھئے ''دہر'' سے مراد وہ زمانہ ہے جس کا آغاز ابتدائے آفرینش سے ہوا ہے اور عصر سے مراد وہ زمانہ ہے جس کا آغاز تخلیق آدم سے ہوا ہے کیونکہ انسانی افعال و اعمال پر اللہ نے عصر کو بطور شہادت پیش کیا ہے دہر کو نہیں۔ ارشاد باری ہے کہ اس ''دہر'' میں انسان پرایسا وقت بھی آیا ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔ اگر وہ نباتات حیوانات یا بندر کی اولاد ہوتا تو یہ چیزیں تو سب قابل ذکر ہیں۔ آکر ان کا نام لینے میں کیا حرج تھا؟ ہمارے خیال میں یہی ایک آیت ڈارون کے نظریہ ارتقاء کو کلی طور پر مردود قرار دینے کے لیے کافی ہے۔

تخلیق آدم او رقرآن:
اب دیکھئے اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کے جو مختلف مراحل بیان فرماوے ہیں وہ یہ ہیں:
تراب بمعنی خشک مٹی (المومن:67)،2۔ أرض بمعنی عام مٹی یا ز میں (نوح:17)، 3۔ طین بمعنی گیلی مٹی گاڑا (الانعام:2)، 4۔ طین لازب بمعنی لیسدار او رچپک دار مٹی (الصفٰت:11)، 5۔ حمأ مسنون بمعنی بدبودار کیچڑ (الحجر:26)، 6۔ صلصال بمعنی ٹھیکرا۔حرارت سے پکائی ہوئی مٹی (ایضاً)، 7۔ صلصال کالفخار بمعنی ٹن سے بچنے والی ٹھیکری( الرحمٰن:14)

یہ ساتوں مراحل بس جمادات میں پورے ہوجاتے ہیں۔ مٹی میں پانی کی آمیزش ضرور ہوئی لیکن پھر وہ بھی پوری طرح خشک کردیا گیا۔ غور فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسان کے جو سات مراحل بیان فرمائے ہیں وہ سب کے سب ایک ہی نوع (جمادات) سے متعلق ہیں۔ ان میں کہیں نباتات او رحیوانات کا ذکر آیا ہے؟ اگر انسان کی تخلیق نباتات او رحیوانات کے راستے سے ہوتی تو ان کا بھی کہیں تو ذکر ہونا چاہیے تھا۔

پھر قرآن میں یہ بھی مذکور ہے:
قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ...﴿٧٥﴾...سورۃ ص
''خدا نے فرمایا کہ اے ابلیس جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اس کے آگے سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے منع کیا؟''

اب خدا کے ہاتھوں سے اس لیے انکار کردیا جائے کہ خدا کے متعلق تجریدی تصور ہی راہ صواب ہے۔ یا ''ید'' سے مراد قوت و قدرت ہے اور حدیث اگر آیت کی تائید کرے تو اسے ظنی کہہ دیا جائے او راگر تورات بھی تائید کرے تو اس کی ہر ایسی آیت کو محرف قرار دیا جائے جو آپ کے قرآنی فکر سےمتصادم ہو۔ یہ سب کچھ کرلینے کے بعد نظریہ ارتقاء جیسے ناقابل اعتماد نظریہ کو صحیح قرآنی فکر قرار دیا جائے تو دلائل کی بات رہ کہاں جاتی ہے؟

قصّہ آدم و ابلیس
جنّت، شجر ممنوع اور ہبوط آدم:
اب پرویز صاحب کی زبانی سنئیے کہ آدم و ابلیس کی تمثیلی داستان کیا ہے؟ او رجنت، ابلیس، آدم، ملائکہ وغیرہ سے کیا مفہوم ہے؟ فرماتے ہیں:
''جنت کی زندگی سے مراد نوع انسانی کی زندگی کا وہ ابتدائی دور ہے جس میں رزق کی فراوانیاں تھیں۔...... انسان ملکیت کے لفظ سے ناآشنا تھا، جس کا جہاں جی چاہے سامان زیست لے لیتا ۔ جس کا پہلا دور قبائلی زندگی کا تھا یعنی اب نوع انسانی مختلف ٹکڑوں میں بٹ کر الگ الگ ہوگئی۔عربی زبان میں الگ الگ ہونے کو مشاجرت کہتے ہیں۔ اسی کا نام وہ شجر ہے جس کے قریب جانے سے انسان کو روکا گیا تھا۔'' 8

اب دیکھئے کہ
(1) اگر جنت سے مراد رزق کی فراوانیاں ہی ہے تو اس سے تو انسان کے سب آباؤ اجداد اور دیگر حیوانات فائدہ اٹھا رہے تھے۔ آدم و حوا کو جنت میں آباد کرکے خدا نے اس جوڑے پر کون سا احسان فرمایا تھا؟
(2) مشاجرت کے معنی تو واقعی الگ الگ ہونےکےہیں لیکن دیکھنا تو یہ ہے کہ آیا مشاجرت اور شجر کے ایک ہی معنی ہیں؟ شجر اسم جنس ہے اور شجرة کسی ایک درخت کو کہتے ہیں، الگ الگ بننے کو نہیں کہتے۔ جب کبھی یہ لفظ بطور اسم استعمال ہوگا اس کے معنی درخت ہی ہوں گے۔
(3) جس کسی آدمی کو اللہ نے اس شجر یا مشاجرت سے منع کیا تھا (یعنی الگ الگ ٹکڑوں میں بٹ جانا) وہ تو پہلے ہی واقع ہوچکی تھی۔ ایک چیز کے ہوجانے کے بعد یہ کہنا کہ ''ایسا نہ کرنا'' کیا معنی رکھتا ہے؟

ابلیس او رملائکہ:
''انفرادی عقل کا یہ تقاضا کہ دنیا میں سب کچھ میرے ہی لیے ہونا چاہیے، ابلیس کہلاتا ہے''
''ملائکہ یعنی کائنات کی قوتیں (جن سے رزق پیدا ہوتا ہے) انسان کے تابع فرمان ہیں.......... وہ سب اس کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔'' 9

''وہ جذبہ جس کے متعلق قرآن نے کہا ہے کہ ابلیس نے آدم کے کان میں یہ افسوں پھونک دیا کہ وہ اسے حیات جاوید عطا کرے گا اور اس کا ذریعہ بتلایا اولاد۔ یہ ہے مفہوم اس تمثیلی بیان کا جس میں کہا گیا ہے کہ اس حیات جاوید کے حصول کی تمنا میں انسان کے جنسی ترغیبات ابھر کر سامنے آگئے۔''10

1۔ اب دیکھئے، ابلیس کی کئی تعبیریں یہ لوگ کرتے ہیں۔کہیں اس سے مراد عقل بیباک ہوتی ہے جو وحی کے تابع نہ ہو۔ کہیں ابلیس سے سرکشی او ربغاوت مفہوم لیا جاتا ہے۔ کہیں اسے ذاتی مفاد سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ یہ لفظ بس موم کی ناک ہے جدھر چاہیں موڑلیں۔ البتہ ان سب معانی میں ایک بات بطور قدر مشرک ضرور پائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ابلیس کوئی علیحدہ چیز نہیں ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ابلیس نے تو خدا کے سامنے جھگڑا ہی یہ کھڑا کیا تھا ، کہ میں آدم سے افضل ہوں۔ اگرانسان کے علاوہ ابلیس کا تصور ممکن نہیں تو یہ جھگڑا آخر کس نے کیا او رکس سے کیا؟

2۔ یہی حال لفظ ''ملائکة'' کا ہے، لیکن اس سے مراد انسان کے اندر نیکی کی قوتیں سمجھا جاتا ہے، کبھی اسے ملکہ فطری سے تعبیر کیا جاتا ہے کبھی کائنات کی خارجی قوتوں سے۔ اس مقام پر ان قوتوں کو رزق سے محدود کردیا گیا ہے۔ان سب تعبیروں میں قدر مشترک یہی ہے کہ ملائکہ اپنا کوئی خارجی وجود یا تشخص نہیں رکھتے جبکہ قرآن مجید سے یہ ثابت ہے کہ ان کا خارجی وجود ہے اور ان پر ایمان لانا ایمان بالغیب کا ایک حصہ ہے۔

3۔ ابلیس کے فریب سے آدم اور اس کی بیوی نے درخت کا پھل چکھ لیا تھا۔پرویز صاحب فرماتے ہیں کہ وہ پھل جنسی ترغیبات تھیں، جس کے ذریعہ اولاد پیدا ہوتی ہے او رانسان بزعم خود حیات جاوید حاصل کرلیتا ہے۔''

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ (اس نظریہ کے مطابق) جنسی ترعیبات تو انسان سے بہت پہلے بندر میں بھی او راس سے پہلے دیگر حیوانات میں بھی موجود تھیں اور اس سے بہت عرصہ بعد انسان غیر انسانی او رنیم انسانی حالتیں طے کرتا ہوا انسان بنا ہے۔ توالدو تناسل اور اولاد کا سلسلہ بھی بندروں میں موجود تھا۔ پھر اس مقام پر ابلیس نے آدم کو جنسی ترغیبات کی یہ کیا پٹی پڑھائی تھی؟

نظریہ ارتقاء او راسلامی تعلیمات کا تقابل
1۔ قرآن انسان سےمتعلق اشرف المخلوقات کا تصور پیش کرتا ہے جبکہ نظریہ ارتقاء اسے بندر کی اولاد قرار دے کر اسے پست مقام پر لے آتا ہے۔ بندر انسان کے بمقابلہ حقیر تر اور ذلیل تر مخلوق ہے جس کا اعتراف سرسید احمد نےبھی ''کونوا قردة خاسئین'' کی تفسیر کے تحت کیا ہے۔

مغربی مفکرین کی یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ انہوں نے جب بھی انسان سے متعلق اپنے نظریات پیش کیے ہیں تو اسے حیوانی سطح سے اوپر نہیں اٹھنے دیتے۔ ارسطو نے انسان کو حیوان ناطن کہا، ڈارون نے اسے بندر کی اولاد قرار دیا۔ سگمنڈ فرائڈ نے اسے جنسی حیوان کہا او رمارکس ولینن نے انسان کو معاشی حیوان سے تعبیر کیا جبکہ قرآن انسان کو تمام مخلوقات سے بلند تر مقام پر فائز کرتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَلَقَدْ كَرَّ‌مْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ‌ وَالْبَحْرِ‌ وَرَ‌زَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ‌ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا ﴿٧٠...سورۃ بنی اسرائیل
''او رہم نے بنی آدم کو عزت بخشی او ران کو جنگل او ردریا میں سواری دی او رپاکیزہ روزی عطا کی او راپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی۔''

2۔ نظریہ ارتقاء وحدت حیات کا تصور پیش کرتا ہے جبکہ قرآن مجید ''کان الناس امة واحدة'' کہہ کر وحدت امت کا تصور پیش کرتا ہے۔ وحدت امت سے مراد یہ ہے کہ جو حقوق اللہ نے انسان کو دیے ہیں دوسری کسی مخلوق کو نہیں دیے۔مثلاً انسان حلال جانوروں کو ژبح کرکے کھا سکتا ہے او ران سے او ربھی کئی طرح سے استفادہ کرسکتا ہے لیکن نظریہ وحدت حیات انسان کو ایسے حقوق عطا نہیں کرتا۔ اسی بناء پر ہندوؤں کےہاں اہنسا کا اصول کارفرما ہے اور وحدت الوجود کے قائلین جانوروں کو بھی بالکل اپنے ہم مرتبہ تصور کرتے ہیں۔

3۔ اسلامی تعلیمات کا انحصار ایمان بالغیب پر ہے۔ ایمان بالغیب کے اجزاء یہ ہیں:
''خدا پر ایمان، فرشتوں کے خارجی وجود پرایمان، نبیوں پر ایمان، الہامی کتابوں اور یوم آخرت پر ایمان، جبکہ نظریہ ارتقاء ایمان بالغیب کے اکثر اجزاء کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔جیسا کہ اس کتاب میں متفرق مقامات پر ذکر آیا ہے۔''

4۔ نظریہ ارتقاء الحاد کی راہوں پر ڈال دیتا ہے۔ اس کا سب سے پہلے اثر اس نظریہ کے بانی ڈارون پر ہوا۔ اشتراکی دہریت پسند اس نظریہ کا پرچار صرف اسی لیے کرتے ہیں کہ یہ نظریہ مذہب سے ڈور لے جاتا ہے حالانکہ اشتراکی فلسفہ کی بنیاد نظریہ اضداد یا جدلی نظریہ پر ہے جو نظریہ ارتقاء کے مخالف ہے۔ تاہم یہ لوگ نظریہ ارتقاء کا پرچار محض اس لیے کرتے ہیں کہ اس سے مذہب سے تنفر اور اشتراکیت کے لیے راستہ ہموار ہوسکے جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نظریہ ارتقاء اسلا م کے بنیادی عقائد سے براہ راست متصادم ہے۔

نظریہ ارتقاء کا مستقبل
نظریہ ارتقاء کا مطالعہ کرنے سے از خود یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ انسان جو ارتقائی منازل طے کرتا ہوا حیوانیت سے گزر کر درجہ انسانیت تک پہنچا ہے تو اب اس کی اگلی منزل کیا ہوگی؟ یہ نظریہ اگلی منزل کی کوئی نشاندہی نہیں کرتا۔ البتہ مغربی مفکرین یہ بات ضرور کہتے ہیں کہ اب انسان کی اگلی منزل طبعی نہیں بلکہ ذہنی ہوگی۔ پرویز صاحب اس سوال کے جواب میں پروفیسر جوڈ کا اقتباس نقل کرتے ہیں:
''انسانیت کے ارتقاء کی اگلی منزل طبعی نہیں بلکہ ذہنی اور نفسی ہوگی پہلے پہل انسان ارتقاء کی منزلیں طے کرکے حیوانیت سے انسانیت کے درجہ پر آیا۔ پھر اس نے صنعت و حرفت کی مدد سے اپنے آپ کو آلات و اسباب سے آراستہ کیا۔ ہمارے اس دور میں انسان نے صنعت و حرفت پر پورا کمال حاصل کر لیا ہے۔ اب اس کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اس منزل سے آگے بڑھے او رجس طبیعی ارتقاء نے اسے مجبور کردیا تھا کہ وہ حیوان سے ترقی کرکے انسان کے درجے میں قدم رکھے پھر اس کی جبلی ضرورتوں نے اوزار و آلات بنوائے اور وہ مشین او راسٹیم کا خالق بنا۔ اسی طرح وہ آج مجبور ہے کہ اپنا قدم آگے بڑھائے، اور اس کا یہ قدم مادی نہیں بلکہ ذہبی اور نفسی ترقی کی طرف ہوگا۔'' 11

مندرجہ بالا اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ:
1۔ انسان کے اس فجائی ارتقاء نے ، جس سے اسے قوت اختیار و ارادہ حاصل ہوا تھا اس کے مادی ارتقاء کو ختم کردیا ہے۔ بالفاظ دیگر ڈارون کے نظریہ ارتقاء کی آخری منزل بس انسان ہی ہے۔

2۔ اگر طبیعی ارتقاء ہی نے حیوانی زندگی کو مجبور کیا تھا کہ وہ انسانی زندگی میں قدم رکھے تو حیوانی زندگی تو آج بھی موجود ہے لیکن کیا طبیعی ارتقاء نے کسی حیوان کو مجبور کیا ہے کہ وہ انسانی زندگی میں قدم رکھے؟ اگر ایسا نہیں او ریقیناً ایسا نہیں تو یہ نظریہ از خود غلط قرار پاتا ہے۔

3۔ ذہنی ترقی تو واضح ہے کہ کبھی پتھر کا زمانہ تھا، پھر دھات کا زمانہ آیا، پھر صنعت و حرفت کا، آج ایٹمی دو رہے لیکن اس میں نفسی ترقی کی کیا بات ہوتی؟

صراطِ مستقیم کیا ہے؟
پرویز صاحب کا نظریہ ارتقاء سے متعلق ایک مضمون پڑھنے کے بعد کسی نے سوال کیاکہ:
''آپ نے لکھا کہ انسان سلسلہ ارتقاء کی اُوپر کی کڑی ہے تو اس سے ظاہر ہے کہ انسان میں مادی تغیرات سے زیادہ او رکچھ نہیں، مادہ پرست بھی یہی کہتے ہیں۔ یہ کس طرح درست ہوسکتا ہے، اگر یہ ارتقاء مادی ہے تو انسان کا مزید ارتقاء بھی مادی ہونا چاہیے، کیا صراط مستقیم پر چلنے کے معنی یہی ہیں؟ یعنی جس خط پر اس وقت تک ارتقاء ہوتا چلا آیا ہے اسی پر آگے ارتقاء ہو۔'' 12

اس خط سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صراط مستقیم سے مراد پرویز صاحب کے نزدیک وہ لائن ہے جس پر زندگی سفر کرتی ہوئی پہلے جرثومہ حیات سے انسان تک پہنچی ہے اور اس صراط مستقیم کی اتنی منازل انسان طے کرچکا ہے ، اب یہ صراط مستقیم آگے کہاں جاتا ہے۔ اس کی تفصیل بھی پرویز صاحب کی زبانی ملاحہو فرمائیے:
''آپ نے صراط مستقیم سے جو مفہوم اخذ کیا ہے وہ حقیقت پر مبنی نہیں۔ قرآن کی یہ جامع اصطلاح بڑے اہم نکات کی حامل ہے۔جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ہوں، قرآن سے پہلے ذہن انسان کی دوری حرکت کا قائل تھا جس میں آگے بڑھنے کا تصور ہی نہ تھا۔ قرآن نے زندگی کا حرکیاتی تصور پیش کرکے بتایاکہ حیات کسی چکر میں گردش نہیں کررہی بلکہ اپنے ارتقائی منازل طے کرتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے۔ لہٰذا اس کی حرکت آگے بڑھنے والی ہے۔ صراط مستقیم سے اس غلط فلسفہ حیات (یعنی زندگی کے چکر میں گردش کرنے) کا ابطال ہوگیا او راس صحیح مقصود حیات (یعنی زندگی کے آگے بڑھنے) کا اثبات ہوگیا، پھر چونکہ مستقیم میں توازن قائم رکھنے کا پہلو بھی مضمر ہے۔ اس لیے یہ حقیقت بھی سامنے آگئی کہ زندگی مختلف قوتوں میں توازن قائم رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا نام ہے۔ اس کے ساتھ ہی قرآن نے یہ بھی بتایا کہ ''صراط مستقیم'' پر چلنے سے مراد یہ نہیں کہ زندگی اپنی موجودہ سطح پر چلتی رہے گی ۔ زندگی کی راہ سیدھی بھی ہے اور بلندیوں کی طرف جانے والی بھی۔ یعنی ایسا خط جو کسی نچلے نقطے سے اوپر کےنقطے کی طرف جائے لَتَرْ‌كَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ ﴿١٩...سورۃ انشقاق تاکہ تم طبقاً طبقاً اوپر چڑھتے چلے جاؤ گے۔ اس سے زیادہ واصح الفاظ میں بتادیا کہ صراط مستقیم تمہارے اس نشوونما دینے والے (رب) کی راہ (قانون) ہے جو ذِي الْمَعَارِ‌جِ ﴿٣...سورۃ المعارج ہے۔ یعنی سیڑھیوں والا خدا۔ سیڑھی سیدھی بھی ہوتی ہے اور اوپر لے جانے کا ذریعہ بھی۔ گھسٹتے ہوئے اوپر جانے کا ذریعہ نہیں بلکہ ابھرتے ہوئے ،جمپ کرتے ہوئے اوپر چڑھنے کا ذریعہ، یہ وہ ذریعہ ہے جس سے انسان أَقْطَارِ‌ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ یعنی موجودہ زمان و مکان کی حدود سے آگے بھی نکل سکتا ہے۔'' 13

سو یہ ہے وہ صراط مستقیم جس پر آئندہ انسانی زندگی کا ارتقاء ہوگا۔ گویا آپ کے خیال میں قرآن صرف ارتقاء کی یہ پیچیدگی حل کرنے کے لیے نازل ہوا تھا کہ آئندہ زندگی کا سفر کس لائن پر ہوگا او روہ لائن کیسی ہوگی؟ غورفرمائیے کہ انسان کے اوّلین مخاطب جو ان پڑھ تھے، انہوں نے اس فلسفیانہ پیچیدگیوں کو سمجھ لیا ہوگا؟ بہرحال آپ نے سیاق و سباق سے قطع نظر کرتے ہوئے کوئی آیت کہیں سے لی اور کوئی کہیں سے او ریہ ثابت کردیا ہےکہ زندگی کی صراط مستقیم جو انسانی زندگی تک ز میں ہی پر تھی۔اب وہ اوپر کی طرف چڑھے گی۔ مگر سوال یہ ہے کہ زندگی کو اس صراط مستقیم کے ذریعہ اوپر چڑھنے کا فائدہ کیا ہوگا۔ آپ کے نزدیک اوپر کوئی خدا تو ہے نہیں، وہ تو ہر جگہ موجود ہے، پھ راوپر جاکر زندگی کرے گی کیا؟

ایک روحانی بزرگ صراط مستقیم کا تصور کچھ اس طرح پیش کرتے تھے کہ ذات باری سے ہر ایک جاندار ایک روحانی شعاع کے ذریعے منسلک ہے او راس کی دلیل میں وہ یہ آیت پیش کرتے تھے:
''مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا'' (ہود:56) ''(ز میں پر)جو کوئی چلنے پھرنے والا ہے خدا اس کی چوٹی کو پکڑے ہوئے ہے۔''

ان کے تصور کے مطابق اس روحانی شعاع کا ایک سرا ہر جاندار کے دماغ میں پیوست ہے اور دوسرا خدا کے ہاتھ میں ہے۔ یہی روحانی شعاع صراط مستقیم ہے او راسی پر روحانی سفر ہوگا۔ اس ز میں سے اوپر ہوائی کرہ کے بعد سب سے پہلے جہنم آتا ہے پھر اعراف، پھر جنت، پھر عالم لاہوت، ملکوت، مثال او رعالم امر ہیں۔ پھر اس کے بعد عرش الٰہی ہے او راس سے اوپر ذات باری تعالیٰ او ربزعم خویش یہ بزرگ یہ روحانی سفر طے بھی کرچکے تھے۔ ان کی صراط مستقیم سے متعلق یہ تحقیق یا ان کی دوسری تحقیقات ٹھیک ہوں یا غلط، اس سے ہمیں سروکار نہیں، البتہ ایک بات ان کی قابل فہم ہے او روہ یہ کہ وہ خدا کو اوپر سمجھتے تھے۔لہٰذا ان کی صراط مستقیم کا رُخ اوپر کی طرف ہی ہونا چاہیے تھا۔ مگر پرویز صاحب کے نزدیک خدا اوپر تو ہے نہیں بلکہ ہر جگہ موجود ہے۔پھر انہیں صراط مستقیم کو اوپر کی طرف لے جانے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ اور یہ سوال بھی تاحال حل طلب ہے کہ اس صراط مستقیم کے ذریعہ ارتقاء کی اگلی منزل کیا ہوگی؟ اس سلسلہ میں آپ فرماتے ہیں:

ارتقاء کی اگلی منزل:
''ان تصریحات سے آپ نے دیکھ لیا ہوگا کہ نہ تو انسان خالص طبیعی ارتقاء کی آخری کڑی ہے (بلکہ اس کی انسانیت طبعی ارتقاء کے سلسلہ علت و معلول سے الگ ہے) او رنہ ہی اس کا مزید ارتقاء طبیعی ہوگا۔طبیعی ارتقاء کی پیداوار صرف اس کا جسم ہے، اس میں جوہر انسانیت غیر طبیعی ہے، جسم انسانی میں اس جوہر انسانیت کے فیصلوں کے لیے معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ۔ اس کے بعد مزید ارتقاء جسمانی نہیں بلکہ جوہر انسانیت کا ہوگا جسے ہم موت کہتے ہیں، وہ درحقیقت جوہر انسانیت کا جسم کے آسرے کو چھوڑ دینے کا نام ہے۔ جوہر انسانیت (انسانی اختیار و ارادہ) کی نشوو ارتقاء ، قرآنی نظام ربوبیت سے ہوتی ہے۔ زندہ وہ ہے جس کے اختیار و ارادے کی قوتیں (قرآن کی روشنی میں) تمام خارجی کائنات کو (جس میں خود اس کا جسم بھی شامل ہے) مسخر کیے جاتی ہیں۔ نہ کہ وہ جس کے جسم کی طبیعی مشینری چل رہی ہے۔ جو اس طرح زندہ ہے وہ موت سے مر نہیں سکتا، اسی کا نام ارتقاء کی اگلی منسل طے کرنا ہے۔'' 14

اس اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ:
1۔ ارتقاء کی اگلی منزل موت ہے جب جسم کا آسرا ختم ہوجائے گا۔

2۔ لیکن یہ ارتقاء کی منزل وہی طے کرسکے گا جس کا جوہر انسانیت نشوونما یافتہ ہو۔ جو قرآنی نظام ربوبیت کے اختیار کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ موت تو سب کو اتی ہے او رجسم کا آسرا بھی سب کا ختم ہوتا ہے۔ جولوگ نظام ربوبیت کے ذریعہ اپنے جوہر انسانیت کی نشوونما کرلیں گے وہ تو ارتقاء کی اگلی منزل طے کرجائیں گے او رجو اس نظام کو اختیار نہیں کرتے یا اس پر ایمان نہیں لاتے ان کا کیا بنے گا؟

آخرت کا تصور:
''جسم کا کام انسانی قوت فیصلہ (نفس) کے لیے معلومات فراہم کرنا او راس کے فیصلوں کو جاری کرنا ہوگا (یعنی قرآنی نظام ربوبیت یا قانونی معاشرے میں) اس قوت میں جس قدر پختگی اور وسعت ہوتی جائے گی اسی قدر انسانی زندگی ابدیت سے ہمکنار ہوتی جائے گی ۔ جب جسمانی نظام طبیعی قانون کے تحت مضمحل ہوکر منتشر ہوجائے گا (جسے موت کہتے ہیں) تو اس پختگی اور وسعت یافتہ قوت (نفس) کا کچھ نہیں بگڑے گا ، اس کے بعد اسے معلومات فراہم کرنے او راس کے فیصلوں کو نافذ کرنے والا او رنظام مل جائے گا۔'' 15

اس اقتباس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ موت کے وقت نظریہ ارتقاء کا اصول بقاء لاصلح (Survival of the Fittest) لاگو ہوگا۔پھر جس انسان نے اپنے نفس کو قرآنی نظام ربوبیت کے ذریعہ جس قدر پختہ کرلیا ہوگا، اسی قدر اس کا نفس ابدیت سے ہمکنار ہوگا۔ اسی نظریہ کا دوسرا پہلو یہ بھی نکلتا ہے کہ جن لوگوں نے اس نظام کے ذریعہ اپنے نفس کو پختہ نہیں بنایا وہ ختم ہوجائیں گے او رتربیت یافتہ نفوس جو ابدیت سے ہمکنار ہونے والے ہیں۔ ان کو معلومات فراہم کرنےکے لیے (نیا جسم نہیں) بلکہ نیا نظام بھی مل جائے گا۔

اخروی زندگی:
اب کسی صاحب نے اس نئے نظام کے متعلق آپ سے مزید روشنی ڈالنے کی درخواست کی تو آپ نےاس کی وضاحت بدیں الفاظ فرمائی:
''زندگی کی موجودہ منزل میں انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ زندگی کی آئندہ منزل کے متعلق کچھ معلوم کرسکے۔ ہمارے ذرائع معلومات، ہمارے حواس و احساسات ہیں او ران کا تعلق محسوسات و مدرکات سے ہے۔ لہٰذا جو چیزیں اس دائرہ سے باہر ہوں۔ ان کے متعلق ہم اپنے موجودہ ذرائع معلومات سےکچھ معلوم نہیں کرسکتے آنے والی زندگی کیسی ہوگی؟ اس کا نظام کیا ہوگا؟ اس کی شکل و صورت کیا ہوگی؟ ہم نہیں جان سکتے۔ اس پر البتہ ہمارا ایمان ہے کہ زندگی کا سلسلہ غیر منقطع ہے، اس لیے اس زندگی کےبعد دوسری زندگی بھی یقینی ہے۔ اب تو سائنس کی تحقیقات کا رخ بھی اس طرف ہے کہ اس زندگی کے بعد دوسری زندگی کا امکان یقینی ہے۔''

''علاوہ ازیں اس زندگی میں اس کاوش کی ضرورت بھی نہیں کہ آنے والی زندگی کی کیفیت کیا ہوگی؟ آنے والی زندگی کا تعین قانون مکافات عمل کے لیے ضروری ہے اور جس شخص کا یمان ہے کہ زندگی مسلسل ہے۔ اس کا یہ ایمان قانون مکافات عمل کی غیر منقطع ہمہ گیری کے لیے کافی ہے۔ یہی وہ ایمان ہے جس پر اسلامی تصور حیات کی عمارت اٹھتی ہے۔'' 16

سائل نے جو نئے نظام پر روشنی ڈالنے کے لیے کہا تو اس کا جواب آپ نے دو صورتوں میں دیا ہے:
1۔ ہم موجودہ احساسات سے اس نظام کو سمجھ نہیں سکتے۔
2۔ اس نظام کو سمجھنے کی ہمیں اس دنیا میں کوئی ضرورت بھی نہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ قرآن نے جو آخرت، یوم جزا و سزا، جنت و دوزخ کی لاتعداد تفصیلات بیان کی ہیں او رحضور اکرمﷺ نے اپنی مکی زندگی کا بیشتر حصہ اس نئے نظام کو ہی ذہن نشین کرانے پر صرف کردیا، کیااس سے ہم صرف اس وجہ سے قطع نظر کرلیں کہ وہ دنیا نظام ہمارے حیطہ ادراک سے باہر ہے۔ وحی سے روشنی حاصل کرنے او رایمان بالآخرت کا کیا مطلب ہے؟ اب نئے نظام کے ادراک کی ضرورت تو یہ ہے کہ اسی ادراک اور عقیدہ کی بناء پر ہماری یہ دنیوی زندگی بگڑتی یا سنورتی ہے۔اگر انہیں جاننے کی ضرورت ہی نہیں تو قرآن نے اتنی تفصیلات کیوں بیان کی ہیں؟

آپ زندگی کے غیر منقطع ہونے پر ایمان صرف اس لیے نہیں رکھتے ہیں کہ اس پر اسلامی تصور حیات کی عمارت اٹھتی ہے بلکہ اس کی دوسری وجوہ بھی آپ نےبیان فرمادی ہیں۔

1۔ اب تو سائنس کی تحقیقات کا رخ بھی اس طرف ہے کہ اس زندگی کے بعد دوسری زندگی کا امکان یقینی ہے۔
2۔ مکافات عمل کا وہ بے لچک قانون جو کائنات میں جاری و ساری ہے او رجسے مادہ پرست بھی تسلیم کرتے ہیں۔

ہمارے اس خیال کو بدظنی پر محمول نہ کیا جائے۔ اگر وحی پر ایمان لانے کی بات درست ہو تو پھر نئے نظام کی تفصیل میں ہمارے موجودہ حواس پر انحصار کی ضرورت بھی کب پیش آتی ہے؟ ایمان بالغیب تو اسی چیز کا نام ہے کہ جو باتیں ہمارے حیطہ ادراک سے باہر ہیں۔ انہیں ہم صرف اس لیے درست تسلیم کریں کہ وہ بذریعہ وحی ہم تک پہنچی ہیں۔

طلوع اسلام کا تضاد:
پرویز صاحب بہرحال اس بات کےقائل ہیں کہ زندگی غیر منقطع ہے او رموت کے بعد بھی جاری رہے گی، لیکن آپ کے استاد جناب حافظ اسلم صاحب مرنے کے بعد اور قیامت تک کے درمیانی عرصہ یعنی برزخ میں کسی طرح کی زندگی کے قائل نہیں۔ قرآنی فیصلے میں ایک طویل مضمون، عذاب قبر کے عنوان سے شائع ہوا ہے جس میں حافظ صاحب موصوف نے بدلائل ثابت کیا ہے کہ ازروئے قرآن برزخ میں کوئی زندگی نہیں، جبکہ پرویز صاحب زندگی کے غیر منقطع ہونےکے قائل ہیں۔

حوالہ جات
1. تفسیر ثنائی
2. فتح محمد جالندھری
3. تفہیم القرآن
4. فتح محمدجالندھری
5. تفسیر ثنائی
6. تفہیم القرآن
7. المنجد
8. ابلیس و آدم صفحہ 51، 52
9. ص52 ایضاً
10. ابلیس و آدم صفحہ 53
11. قرآنی فیصلے صفحہ 340
12. قرآنی فیصلے صفحہ 335
13. ایضاً صفحہ 342
14. ایضاً صفحہ 348

15. ایضاً صفحہ 347
16. ایضاً صفحہ 310


i. سرسی جنت سے مراد انسان کا عہد طفلی، شجرہ ممنوعہ سےمراد عقل و شعور او رہبوط آدم سے مراد عقل و شعور کے بعد کی زندگی لیتے ہیں۔پرویز صاحب اس مسئلہ میں سید صاحب سے پورا پورا اختلاف رکھتے ہیں او ربالکل نئی تاویلات پیش فرماتے ہیں۔