کوئی بھی اہل دنیا کو جو دل سے پیارکرتاہے
وہ گویا دشمن خوابیدہ کوبیدار کرتا ہے

عمل صالح بشر کو خلد کا حقدار کرتا ہے
عمل طالح بشر کو ہمکنار نار کرتا ہے

خلاف دیں کوئی سازش پس دیوار کرتا ہے
خدائے پاک اُسے رُسوا سر بازار کرتا ہے

گزرتا ہے کوئی جب آبلہ پا دشت الفت سے
فضائے دشت الفت کو وہ لالہ زار کرتا ہے

سمجھتا ہے سعادت وہ رہ حق میں صعوبت کو
بیان حق بات مرد حق سر دربار کرتا ہے

وہ بے شک لائق عفو و کرم ہے دونوں عالم
میں ندامت سے جو اپنے جرم کا اقرار کرتا ہے

بشر کس درجہ ناداں ہے گناہوں کی عفونت سے
بدن کے ساتھ اپنی روح بھی بیمار کرتا ہے

سمجھتا ہے جسے غمخوار جاں ہمدرد جاں اپنا
اسی سے اپنے غم کا ہر کوئی اظہار کرتا ہے

فرشتے تھر تھرا اٹھتے ہیں ساتوں آسمانوں پر
کوئی مومن کسی مومن سے جب تکرار کرتا ہے

اسے اپنی طرف نار جہنم کھینچ لیتی ہے
کوئی بدبخت جب حد شریعت پار کرتا ہے

خدا کے قہر کو آواز دیتا ہے وہ اے عاجز
جو انکار پیامات شرابرار کرتا ہے