آپ نے اکثر شام کے وقت غروبِ آفتاب کا منظر دیکھا ہوگا۔ اتنا بڑا سورج جو آپ کی سرزمین سے بھی کئی گنا بڑا ہے، اپنے دن بھر کے سفر کے بعد مغرب کے رخ، دُور، بہت دُور،درختوں، مکانوں ، پہاڑوں یا بادل کے چند ٹکڑوں کی اُوٹ میں اتنی سعادتمندی سے چھپ جاتا ہے ، جھک جاتا ہے، اس تیزی سے زمین کی گود میں گرتا ہوا محسوس ہوتا ہے ، یوں جیسے کہ کسی بہت ہی مقتدر اور اعلیٰ ہستی کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے لیے بیتاب ہو اور پھر چند گھنٹوں کے بعد افق مشرق سے یوں نمودار ہوتا ہے، جیسے کہ اس افق سے دوبارہ طلوع ہونے کی اجازت مل جانے پر خوشی سے مسکراتا ، پھولا نہ سماتا ہو۔ یہ عمل مدتوں سے جاری ہے تو پھر کیا ایسا نہیں ہوسکتا، ایک دن ایسا بھی آئے جب اسے دوبارہ طلوع کی اجازت ملنے کی بجائے واپسی کا حکم مل جائے؟ تب وہ ناچار مغربی افق سے نمودار ہوا اور پھر وہ وقوعہ رونما ہوجائے جسے واقع ہوکر رہنا ہے۔ (إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ) یہ زمین جس کی مدتوں سے قرار حاصل ہے، زلزلوں کی زد میں آجائے۔ پہار جو میخوں کی طرح اس میں گڑے ہوئے ہیں، ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجاویں اور گردوغبار بن کر منتشر ہوجائیں۔ بھک سے اڑ جائیں۔ سورج تاریک ہوجائے، تارے جھڑ جائیں۔ ''إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَاقِعٌ'' کا آوازہ بلند ہو۔ ''إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِ‌ينَ ﴿٤٩﴾ لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ ﴿٥٠'' کی گھڑی سر پر آن پہنچے۔ ''ثُمَّ إِلَىٰ رَ‌بِّهِمْ يُحْشَرُ‌ونَ'' کا منظر سامنے آجائے۔ ''وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ'' کے لیے میزان نصب ہوجائے۔''فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّ‌ةٍ خَيْرً‌ا يَرَ‌هُ ﴿٧﴾ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّ‌ةٍ شَرًّ‌ا يَرَ‌هُ ﴿٨'' کے حسب وعدہ ایک ایک رائی برابر اعمال بھی سامنے آجائیں۔ پھر اعمال نامہ ہاتھوں میں پکڑا دیا جائے اور صورت حال یہ ہو کہ جس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دے دیا گیا تو وہ تو مسرت کے سمندر میں غوطہ زن، پکار پکار کرکہے: ''لوگوں، آؤ میرا ریزلٹ کارڈ دیکھو، کہ مجھے امتیازی حیثیت حاصل ہوگئی'' ''أُولَـٰئِكَ الْمُقَرَّ‌بُونَ'' ''مجھے اللہ نے اپنے مقربین میں شامل کرلیا۔'' یا مجھے فرسٹ ڈویژن ملی یا کم از کم کامیابی کا سرٹیفیکیٹ عطا کردیا گیا۔ ''وَأَمَّا إِن كَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ﴿٩٠﴾ فَسَلَامٌ لَّكَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ﴿٩١'' ہر طرف سے سلامتی کی آوازیں، جھکے ہوئے میرے رسیلے پھل، دودھ اور شہد کی نہریں، اونچے محل، مخملیں فرش، آرام دہ بستر، خدام باادب، خوشی سے باچھیں کھلی ہوئی اور زبان پر ''سبحان اللہ۔ سبحان اللہ'' رب العزت کی تسبیح و تقدیس کے ترانے، لیکن اگر ریزلٹ کارڈ بائیں ہاتھ میں پکڑا دیا گیا تو ''يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ'' کی نامراد تمنائیں، حسرتیں ہی حسرتیں، چہرے پر مردنی چھائی ہوئی، منہ کے بل گرا ہوا ، گھسٹتا ہوا جہنم کی نذر کردیا جائے، تب آگ کے دہکتے ہوئے الاؤ، غضبناک شعلے، شعلہ بار لپٹیں، اونٹوں کی جسامت کی چنگاریاں، پینے کو گرم پانی، کھانے کو زقوم اور زخمیوں کی پیپ، دھوئیں کا سایہ، ہر طرف چیخ و پکار ''يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي'' کے پچھتاوے، ''يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّ‌سُولِ سَبِيلًا'' کی جگر سوز آہیں، ''يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَ‌ابًا'' کی ناکام حسرتیں، آتشیں ستونوں سے بندھا ہوا، ستر ہاتھ لمبی زنجیروں میں جکڑا ہوا، بے یارو مددگار اس قدر کہ موت بھی منہ چھپالے، چمڑوں پر چمڑے بدلے جارہے ہیں، ایک جلا، پگھلا، جل کر راکھ ہوا، دوسرا پھر آموجود، اس پر بھی ''هَلْ مِن مَّزِيدٍ'' کی جہنمی شوخیاں،کلیجے پھٹ بھی جائیں گے تو کیا فرق پڑے گا؟، وہ وحدہ لاشریک کہ صرف وہی اس مصیبت میں کام آسکتا ہے، لیکن اسی کی طرف سے ''هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ'' کے اٹل فیصلے، بارگاہ صمدیت کی بے نیازیاں کہ دروازے بھی بند، تاکہ اب تمہاری فریاد بھی کوئی نہ سنے، ''ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِ‌يمُ'' کی دھمکیاں اس پر مستزاد! کہ ظالم، تو نے دنیا کی کھیتی برباد کر ڈالی، میری عبادت کی بجائے محض مال و زر، عیش و عشرت،عزوجاہ اور صرف تسخیر کائنات اور ارتقائے خودی کو حاصل زندگانی سمجھ لیا تھا، میرے قرآن سے اتنی وضاحتوں ، اتنی تفصیلات کے باوجود تم نے فکر آخرت کا مفہوم کچھ سے کچھ بنا لیا تھا، تم نے محض عقلی گھوڑے دوڑائے، میرے رسولﷺ کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا، بلکہ اس سے اعراض کرتے ہوئے ''وَمَن يُشَاقِقِ الرَّ‌سُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ‌ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرً‌ا'' کا مصداق ٹھہرا، لہٰذا ''فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ'' کے تحت تیری اس زبان کو گرم لوہوں سے داغا جاتا رہے گا جس سے تو زندگی بھر خلق خدا کو گمراہ کرتا رہا۔ اب تیرے لیے نہ کوئی حمایتی ہے، نہ مددگار، دیکھ لے، خوب سمجھ لے، کیا اب بھی تجھے یقین نہیں آیا؟ ''هَـٰذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ'' کہ جہنم تو ایک اٹل حقیقت ہے اور یہی وہ جہنم ہے جسکا تو وعدہ دیا گیا تھا، لیکن جسکی حقیقت کو تو نے کچھ اور ہی معنی پہنا لیے تھے۔

پس اے بندگان خدا، گواہ رہو کہ ایک پکارنے والے نے تمہاری زندگی کا مقصو و مطلوب تمہیں سمجھا دیا۔ اس کے روشن اور تاریک پہلو تمہیں سجھا دیے۔ ایک طرف نیک اعمال کے بدلے میں جنت کی بہاریں ہیں اور دوسری طرف برے اعمال کی پاداش میں گرجتا ہوا جہنم۔ یہ فیصلہ کرنا اب تمہارا کام ہے کہ تم بے عملیوں اور بدعملیوں میں مبتلا ہوکر دنیاوی عیش و عشرت میں مستغرق ''وَبِئْسَ الْمَصِيرُ‌'' اور ''وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ'' کا انتخاب کرتے ہو۔ یا اس چند روزہ زندگی کو غنیمت جان کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول(ﷺ) کی اطاعت کو اپنا شعار بنا کر، اعمال صالحہ سے مزین ، روشن چہروں اور مطمئن دلوں کے ساتھ اپنے خالق حقیقی کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہو۔ جہاں کی اس کی رضا اور رحم و کرم کے سوتے پھوٹ رہے ہیں، اس کی جنت تمہارا انتظار کررہی ہے اور جہاں یہ مسحور کن صدا کانوں کو فرحت بخش رہی ہے۔

يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ﴿٢٧﴾ ارْ‌جِعِي إِلَىٰ رَ‌بِّكِ رَ‌اضِيَةً مَّرْ‌ضِيَّةً ﴿٢٨﴾ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي ﴿٢٩﴾ وَادْخُلِي جَنَّتِي ﴿٣٠...سورہ الفجر

واخردعوانا ان الحمدللہ رب العٰلمین!