4

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

تعلیم کی اہمیت:
دین اسلام میں تعلیم کی اہمیت مسلّم ہے۔ تاریخ انسانیت میں یہ منفرد مقام اسلام ہی کو حاصل ہے کہ وہ سراسر علم بن کر آیا اور تعلیمی دُنیا میں ایک ہمہ گیر انقلاب کا پیامبر ثابت ہوا اسلامی نقطۂ نظر سے انسانیت نے اپنے سفر کا آغاز تاریکی اور جہالت سے نہیں بلکہ علم اور روشنی سے کیا ہے۔ تخلیقِ آدم کے بعد خالق نے انسانِ اول کو سب سے پہلے جس چیز سے سرفراز فرمایا وہ علمِ اشیاء تھا۔ یہ اشیاء کا علم ہی ہے جس نے انسانِ اول کو باقی مخلوقات سے ممیز فرمایا اور قرآنِ حکیم کے فرمان کے مطابق تمام دوسری مخلوقات پر اس کی برتری قائم کی۔ علم، قیادت کے ضروری لوازم اور ان اہم ترین عوامل میں سے ے جو کسی تہذیب کے صحتمند ارتقاء اور نشوونما کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔
اسلام کے سوا دُنیا کا کوئی مذہب یا تمدن (Culture) ایسا نہیں ہے جس نے تمام انسانوں کی تعلیم کو ایک ضرورت قرار دیا ہو۔ یونان اور چین نے غیر معمولی علمی اور تمدنی ترقی کی لیکن وہ بھی تمام انسانوں کی تعلیم کے قائل نہ تھے بلکہ علم کو ایک خاص طبقہ میں محدود رکھنے کے قائل تھے۔
افلاطون اپنی ''جمہوریہ'' (Republic) میں جو اونچے سے اونچا خواب دیکھا سکا اس میں بھی فلاسفہ اور اہلِ علم کے ایک مخصوص طبقے ہی کو اس امتیاز سے نوازا گیا ہے۔ اسلام وہ واحد دین ہے جس نے تمام انسانوں پر تعلیم کو فرض قرار دیا اور اس فرض کی انجام دہی کو معاشرے کی ایک ذمہ داری بنایا۔
جس زمانہ میں انڈیا کا تمدن روبکمال تھا اس میں علم کو برہمنوں میں محدود کر دیا گیا تھا۔ کسی شودر کو تحصیلِ علم کی اجازت نہ تھی۔ شودر کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈال دیاجاتا تھا، تاکہ وہ علمی بات نہ سن سکے۔ یورپ کی تنگ نظری اور تعصب کا یہ حال تھا کہ اسپین میں ایک مجلس قائم ہوئی تھی جس کا کام یہ تھا کہ جو شخص مذہب کے خلاف کوئی تحقیقی کام کرے اس پر کفر کا فتویٰ عائد کیا جائے چنانچہ اٹھارہ برس میں یعنی 1481ء سے لے کر 1498ء تک دس ہزار دو سو بائیس آدمی ارتداد کے الزام میں زندہ جلا دیئے گئے۔ اس مجلس نے آغازِ قیام سے آخر تک تین لاکھ چالیس ہزار آدمیوں کو کافر اور ملحد قرار دیا جن میں سے اکثر کو آگ میں جلا دیا گیا۔
دُور بین کے موجد گلیلیو نے کوپرنیکس کی تائید میں ایک کتاب لکھی جس میں ثابت کیا کہ زمین آفتاب کے گرد گھومتی ہے، اس پر مذکورہ مجلس نے اس کو سزا کا ستوجب قرار دیا چنانچہ اس کو گھٹنوں کے بل کھڑا کر کے یہ حکم دیا گیا کہ وہ اس مسئلہ سے انکار کرے لیکن جب وہ اپنے عقیدہ پر ثابت قدم رہا تو اسے قید خانہ بھیج دیا گیا جہاں وہ دس سال تک محبوس رہا۔ کوپرنیکس نے تحقیقات کی روشنی میں ثابت کیا کہ زمین اور چاند آفتاب کے گرد گھومتے ہیں اس پر مذکورہ مجلس نے اس پر کافر اور مرتد ہونے کا فتویٰ صادر کیا۔ کولمبس نے جب کسی نئے جزیدہ کی دریافت کے لئے سفر کرنا چاہا تو کلیسا نے فتویٰ دیا کہ اس قسم کا ارادہ مذہب کے خلاف ہے۔ زمین کے گول ہونے کا خیال جب اوّل اوّل ظاہر کیا گیا تو پادریوں نے سخت مخالفت کی کہ یہ عقیدہ کتابِ مقدس کے خلاف ہے۔ غرض ہر قسم کی علمی تحقیقات پر پادریوں نے کفر و ارتداد کے الزام لگائے، اس کے نتیجہ میں یہ رائے قائم ہوئی کہ مذہب جس چیز کا نام ہے وہ علم اور حقیقت کے خلاف ہے۔ i
یہ نکتہ ملحوظِ خاطر رہے کہ اسلام میں سینکڑوں فرقے پیدا ہوئے اور ان میں اس قدر اختلاف رہا کہ ایک نے دوسرے کی تکفیر کی، مگر علمی تحقیقات کی وجہ سے کبھی کسی شخص کی تکفیر نہیں کی گئی بلکہ مسلمانوں نے علمی تحقیقات اور ایجادات کو کبھی مذہب کا حریف و مقابل نہیں سمجھا۔
حضورِ اکرم ﷺ پر جو پہلی وحی نازل ہوئی وہ علم کے مقام اور تعلیم و تعلم کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے:
اقْرَ‌أْ بِاسْمِ رَ‌بِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿١﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ﴿٢﴾ اقْرَ‌أْ وَرَ‌بُّكَ الْأَكْرَ‌مُ ﴿٣﴾ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ﴿٤﴾ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥...سورۃ العلق
''پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ انسان کو خون سے پیدا کیا۔ پڑھ اور تیرا رب کریم ہے، وہ جس نے قلم سے تعلیم دی۔ انسان کو ان چیزوں کی تعلیم دی جن کو وہ نہ جانتا تھا۔''
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر وحی کا آغاز علم کے تذکرے سے ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی پہلی صفتِ خلق اور دوسری صفت عطائے علم بیان فرمائی ہے۔ مزید یہ کہ حاملِ وحی و قرآن، رسولِ آخر الزمانؐ کو حکم دیا کہ وہ یہ دُعا فرماتے رہا کریں:
وَقُل رَّ‌بِّ زِدْنِي عِلْمًا ﴿١١٤...سورۃ طہ
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام عقلی اور علمی دعوت ہے۔ اس کا مبتداء اور منتہاء علم ہے۔
سرورِ کائنات ﷺ کی جانب سے جو فرائض تفویض ہوئے ان کا تذکرہ سورة الجمعہ کے آغاز میں فرمایا۔ یہ چار ہیں:
1. تلاوتِ آیات
2. تعلیمِ کتاب
3. تعلیمِ حکمت
4. تزکیۂ نفوس
اسی کی روشنی میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:
''إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا''
کہ ''مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔'' 1
تحصیلِ علم کے بارے میں حضورؐ کے ترغیبی ارشادات:
تحصیلِ علم کے ضمن میں نبی کریم ﷺ کے ترغیبی و تاکیدی احکام نے اہلِ اسلام کو ہمہ تن علم کی جانب متوجہ کر دیا۔ اس ضمن میں چند امور کا تذکرہ ضروری ہے:
تحصیلِ علم کی جو فضیلت آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائی تھی اس کے زیرِ اثر محدّثین نے احادیث کے اکثر مجموعوں میں علم کو پہلے چند ابواب میں جگہ دی۔ صحیح بخاری میں ''بدء الوحي'' اور ''کتاب الإیمان'' کے بعد ''کتاب العلم'' لائی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ حدیث اور محدّثین کی نظر میں علم کی اہمیت کیا ہے۔ صحیح بخاری کی طرح احادیث کے دوسرے مجموعوں میں بھی تعلیم و تعلم کے اصول و طرق کے بارے میں واضح ارشادات موجود ہیں۔ 2
ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے علم کے حصول کر حمتِ الٰہی کا موجب قرار دیا نیز طلبِ علم کو جنت کا ذریعہ ٹھہرایا ہے۔ ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے اِس علمِ ہدایت کو، جو آپﷺ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملا، فراواں بارش سے تشبیہ دی ہے جو ثمر آور ہوتی ہے۔
حضورؐ نے فرمایا علم حاصل کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے علم کا حصول ضروری ہے، علم کی طلب عبادت ہے، علم کی تلاش جہاد ہے، بے علموں کو علم سکھانا صدقہ ہے، مستحق لوگوں کو علم سکھانا اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہے، علم حلال و حرام کے ما بین امتیاز کا نشان ہے، دوستوں میں زینت ہے، علم کے ذریعے بلندی اور امانت ملتی ہے، علم اہلِ علم کی سیرت کو مکمل کر کے اسے دوسروں کے لئے نمونہ بناتا ہے اور اہلِ علم کے لئے بر و بحر کے رہنے والے دُعا کرتے ہیں۔'' 3
فاضل روزنتال ان احادیث سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ احادیث میں باب العلم کی تدوین اور روایتِ حدیث کی جستجو نے مسلمانوں کے لئے کئی دوسرے علوم و فنون کی راہیں کھول دی ہیں مثلاً رجال، سیر، تاریخ، جغرافیہ، علم الانساب والقبائل، علمِ درایت و فقہ و کلام، سیاحت و سفر بلکہ خود ایجاد و اکتساب کا ذوق، یہ سب علوم قرآن و حدیث کے رہینِ منت ہیں۔
تحصیلِ علم اور اصحاب الحدیث:
یہ قدرتی امر تھا کہ قرآن و حدیث کی اس رہنمائی میں محدّثینؒ، صحابہؓ و تابعین نے تحصیلِ علم پر بالخصوص زور دیا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ لڑکوں کو پڑھتے دیکھتے تو فرماتے:
''شاباش! تم علم کے سر چشمے ہو، تاریکی میں روشنی ہو۔ تمہارے کپڑے پھٹے پرانے ہوں تو کیا، مگر دل تر و تازہ ہیں۔ تم علم کے لئے گھروں میں مقیدّ ہو، مگر تم ہی قوم کے مہکنے والے پھول ہو۔''
حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ سے پوچھا گیا ''آپ کب تک علم حاصل کرتے رہیں گے؟'' جواب دیا ''موت تک!''
سفیان بن عینیہ سے پوچھا گیا ''طلبِ علم کی ضرورت سب سے زیادہ کسے ہے؟'' جواب دیا ''جو سب سے زیادہ صاحبِ علم ہے۔''
محدّثین کے نزدیک علم کی دو قسمیں ہیں:
(1) فرضِ دین (2) فرضِ کفایہ
دین کے فرائض کا اجمالی علم فرضِ عین ہے اس کی تحصیل ہر شخص کے لئے لازمی ہے۔ دوسرے علوم کی تحصیل اور ان میں تبحرّ محدّثین کے نزدیک فرضِ کفایہ ہے۔ ایسے علم کو اگر ایک آدمی بھی حاصل کرے اور باقی کسی وجہ سے نہ بھی کریں تو اس علاقے کے لوگ گنہگار نہیں ہوں گے۔ مگر سب حاصل کریں تو یہ سعادت ہے۔
حضرت حسن بصریؒ کا قول ہے کہ محض اللہ تعالیٰ کی خاطر علمِ حدیث کا حصول دُنیا کی تمام نعمتوں سے بہتر ہے۔ امام زہری فرماتے ہیں کہ ''علم سے بہتر کوئی طریقہ نہیں جس سے عبادتِ الٰہی ممکن ہو۔'' 4
صدرِ اسلام میں کتابتِ حدیث کا اہتمام:
احادیث و آثار کے مطالعہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نبی کریم ﷺ صحابہؓ کو اس بات کی سخت تاکید فرماتے تھے کہ جو بات آپؐ سے سنیں اس کو ضبطِ تحریر میں لے آئیں تاکہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے۔ اسی لئے راویانِ حدیث کے یہاں کتابتِ حدیث کا سخت اہتمام پایا جاتا تھا۔
مندرجہ ذیل آثار ملاحظہ ہوں:
1. سعید بن جبیرؓ روایت کرتے ہیں کہ ''میں حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ساتھ چلا جا رہا تھا، دورانِ سفر دونوں حضرات احادیث بیان کرتے تو میں ان کو کجاوے کی لکڑی پر لکھ لیتا اور جب سواری سے اترتا تو ان کو تحریر کر لیتا۔'' 5
2. عبد اللہ بن دینار بیان کرتے ہیں کہ خلیفہ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے امیرِ مدینہ ابو بکر ابن حزم کو حکم بھیجا کہ ''رسولِ کریمؐ کی احادیث اور سنن کو لکھ لیجئے اس لئے کہ مجھے علم کے ضائع ہو جانے اور اہلِ علم کے ناپید ہونے کا اندیشہ دامن گیر ہے!'' 6
3. معاویہ بن قرّة المزنی کہا کرتے تھے کہ ''جو شخص علم کو ضبطِ تحریر میں نہ لائے اس کے علم پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے'' 7
4. ربیع بیان کرتے ہیں کہ ایک روز امام شافعیؒ ہمارے یہاں آئے، ہم اکٹھے بیٹھے تھے، فرمانے لگے:
''یہ علم انسان کے پاس سے اس طرح بھاگ جاتا ہے جیسے باغی اونٹ۔ اس لئے اس کو کتابوں میں محفوظ کر لو اور قلم کے ذریعے اس کی نگرانی کیجیے۔'' 8
5. مشہور مفسر طبری تفسیر ابنِ جریر میں لکھتے ہیں کہ ''اہلِ علم نے سورة الکہف کی آیات ''وَكَانَ تَحْتَهُ كَنزٌ لَّهُمَا'' کے بارے میں اختلاف کیا ہے کہ اس آیت میں کنز سے کیا مراد ہے۔ ابنِ عباس، ابنِ جبیر اور مجاہد کے نزدیک کنز سے علمی اوراق اور رسالے مراد ہیں۔'' 9
ایک روز حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹوں اور بھتیجوں کو بلا کر کہا:
''اے میرے بیٹو اور بھتیجو! ابھی آپ کم سن ہیں جلد ہی بڑے ہو جائیں گے اس لئے علم کے حاصل کرنے میں سہل انگاری سے کام نہ لیجیے۔ تم میں سے اگر کوئی اس علم کو آگے نہ پہنچا سکے تو اسے لکھ کر اپنے گھر میں محفوظ کر لے۔''! 10
مشہور مستشرق گولڈ زیر رقمطراز ہے:
''صدرِ اسلام میں لفظِ علم کا اطلاق ان شرعی احکام پر کہا جاتا تھا جو رسولِ کریمؐ اور آپﷺ کے صحابہؓ سے مروی و منقول ہوں۔ اِسی طرح لفظِ علم اور حدیث دونوں ایک ہی چیز سمجھے جاتے تھے۔ خصوصاً محدّثین کے یہاں تو یہی اصطلاح رائج تھی۔ غالباً دیگر اہلِ علم کا زاویۂ نگاہ بھی یہی تھا جیسا کہ اس کا اظہار امام ابن عبد البر کی تحریر کردہ اس فضل سے ہوتا ہے جو بطورِ خاص آپ نے علم کے اصول اور حقیقت کے بارے میں تحریر کی ہے۔ خطیب بغدادی کے عصر و عہد تک محدّثین یہی سمجھتے رہے کہ صرف حدیثِ رسولؐ ہی کا نام علم ہے اس لئے کہ حدیث نبوی جملہ اصولِ دین کی جامع ہے۔'' 11
امام غزالی کی رائے:
حجة الاسلام امام غزالیؒ نے احیاء علوم الدین کا آغاز کتاب العلم سے کیا ہے اور اس میں اس موضوع سے متعلق جامع تفصیلات دی ہیں، فرماتے ہیں:
''میری نگاہ میں علم کا مقصد انسان کے لئے سعادتِ ابدیہ کا حصول ہے۔ علم اعظم الاشیاء ہے۔ اور اعظم الاشیاء وُہ شے ہے جو اس سعادت تک پہنچائے۔ اس لئے حاصل کلام یہ ہے كہ أصلُ السَّعَادَة فِي الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةُ ھُوَ الْعِلْمُ اس سعادت کا ثمرہ ہے، قربِ ربّ العالمین آخرت میں، اور عزووقار اس دُنیا میں۔ علم کا مقصد سعادت اخروی کے ساتھ ساتھ تخلیقِ کائنات کی دریافت اور تکمیل بھی ہے۔ دین کا نظام دنیا کے نظام کے بغیر چل نہیں سکتا، کیونکہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ علم اللہ تعالیٰ کا نور ہے جس کی ایک تجّلی عقل ہے۔ عقل سے وہ جملہ علوم متعلق ہیں جو دنیوی مصالح سے بحث کرتے ہیں لیکن علم کی ایک برتر نوع بھی ہے جس کا منبع وحی و الہام ہے اور جو براہِ راست فیضانِ الٰہی سے وابستہ ہے۔ یہی علم یقینی اور قطعی ہے۔ اگرچہ عقلی علوم بھی، جو کسی نہ کسی طرح اس علمِ یقینی سے فیض یاب ہوتے ہیں، اپنی جگہ لائقِ اعتماد ہیں۔'' 12
امام صاحب نے دنیوی مصالح کو غایاتِ علم میں شامل کر کے ان توہمات کا ازالہ کر دیا ہے جو قدیم زمانے کے بعض صوفیاء کی جانب منسوب ہیں۔ اس سے دورِ جدید کے بعض عقلاء کے اس الزام کی بھی تردید ہوتی ہے کہ مسلمانوں نے علم کو محض آخرت سے وابستہ کر رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ی تفریق یا تو پرانے راہبانہ خیالات کی اختراع ہے یا موجودہ مغرب کے مادی ذہن کی۔ اس کے برعکس مسلمانوں کا نقطۂ نظر کی ہے اس میں دین بھی ہے اور دنیا بھی۔ صحیح دین داری صحیح دنیا داری کی متقاضی ہے اور صحیح دنیا داری دین ہی کا ایک حصہ ہے 13
تعلیم کیا ہے:
تعلیم کی اس اہمیت کے بعد یہ بتانا انتہائی ضروری ہے کہ تعلیم کیا چیز ہے اور معلمِ اول ﷺ کے نزدیک اس کے اساسی اصول کیا ہیں؟ لفظِ تعلیم کا مادہ علم (ع۔ل۔م) ہے جو جہل کی ضّد ہے۔ علم کے معنی ہیں ''اَلْعِلْمُ إِدْرَاکُ الشَّيءِ بِحَقِیْقَتِهِ۔'' (کسی شے کی حقیقت کا ادراک) 14
قرآنِ مجید میں لفظِ علم مختلف اشتقاقی صورتوں میں 778 مرتبہ وارد ہوا ہے۔ ان میں علم کی دونوں قسمیں شامل ہیں:
علم کی تعریف:
1۔ وہ علم جو ذات باری کی صفت خاص ہے اور جو علیم، عالم اور علام وغیرہ صورتوں میں موجود ہے۔
2۔ وہ علم جو مخلوق خصوصاً انسان کو بھی ارزانی ہوا ہے۔
قرآنِ مجید میں اس مادے کے اشتقاقات کی کثرت سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اسلام میں علم کو غیر معمولی بلکہ فوق الکل اہمیت حاصل ہے۔ اسلامی ادبیات میں علم کا لفظ مختلف معانی کے لئے استعمال ہوا ہے۔ قرآنِ مجید میں علم کے ساتھ حکمت کی اصطلاح بھی آئی ہے۔ ظاہر ہے کہ حکمت میں علم سے زائد معانی موجود ہیں۔ امام غزالی نے ''احیاء'' میں علم کے ساتھ فضل کی اصطلاح کا ذکر کر کے لکھا ہے کہ یہ علم سے زائد اور برتر حقیقت ہے۔ علم کے مرادفات میں ادراک، شعور اور معرفت جیسے الفاظ بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔
علماء نے علم کی کسی قطعی اور جامع و مانع تعریف سے بالعموم احتراز کیا ہے چنانچہ امام غزالی نے المستصفیٰ میں اور الآمدی نے ابکار اور احکام میں یہی بات کہی ہے۔ امام فخر الدین رازی فرماتے ہیں کہ علم کی تعریف کی کوشش لا حاصل ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ علم ایمان و ایقان اور ذوق و کشف کا نام ہے جو ہوتا ضرور ہے مگر اس کی تعریف نہیں کی جا سکتی۔ مگر اس کے باوجود علم کی بے شمار تعریفیں کی گئی ہیں۔ ان تعریفات کے لئے جدید ترین ماخذ روزنتقال کی Knowledge Triumphant مطبوعہ لائیڈن 1970ء ہے۔ تعریفوں کی اس کثرت کا سبب نقطہ ہائے نظر کا اختلاف ہے۔ کہیں دینی، کہیں متکلمین کا، کہیں منطقیوں کا، کہیں حکماء کا، کہیں تصوّف کا۔ ظاہر ہے کہ زاویۂ نظر تعریف کو متعین شکل دینے میں کار فرما ہوا کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں تعریف خود بخود مختلف ہو جاتی ہے۔
ان تفصیلات سے یہ نتیجہ نکالنا مشکل نہیں کہ مسلمانوں میں علم کی تحریک ان کے دینی منبع یعنی قرآنِ مجید سے پیدا ہوئی اور وہ انہی راستوں پر آگے بڑھی جو مسلمانوں نے مطالعۂ قرآنی اور احکامِ الٰہی کی پیروی میں اختیار کیے۔ چنانچہ دینی علوم کے علاوہ مختلف دوسرے علوم مثلاً جغرافیہ، تاریخ، رجال اور نظری و تجربی علوم مثلاً سائنس و ریاضیات نیز علم الاشیاء مثلاً طبیعات و فلکیات وغیرہ اسی رہنمائی کے رہینِ منت ہیں۔ مغربی علماء ایک زمانہ تک یہی کہتے رہے کہ انسانی علم کے بارے میں انسان کا رویہ محض نظری اور داخلی ہے یعنی عملی و تجربی نہیں۔ لیکن یہ خیال درست نہیں اسلام میں علم کا مقصد جہاں معرفتِ ذات و صفاتِ باری تعالیٰ ہے وہاں فلاح و خیر انسانی بھی ہے۔ یہ تصورِ قرآنِ مجید کی آیات سے مترشح ہوتا ہے مگر اس کی اساسیات محض مادی نہیں۔ مغرب کے فلسفۂ عملیت کے برعکس اس میں مادی فوائد کے علاوہ روحانی نفع اور آخرت کی خیر بھی شامل ہے۔
روزنتال کا تعصّب:
مشہور مصنف روزنتال نے ''Knowledge Triumphant'' میں جو بات تحریر کی ہے درست نہیں کہ اسلام نے علم پر یہ غیر معمولی زور عیسائیوں کے بعض دینی و علمی رسائل کی بناء پر دیا ہے۔ اس لئے کہ موجودہ رسائل کی موجودگی کے باوجود عیسائیوں اور یہودیوں کی علمی تحریک اس زمانے میں اس انداز پر نہیں چلی جس پر مسلمانوں کے یہاں بڑھی اور پھیلی اور اگر کوئی تھی بھی تو وہ اتنی زور دار نہ تھی کہ اس سے آنحضرت ﷺ اتنے اثر پذیر ہوئے جتنا کہ روزنتال نے ظاہر کیا ہے۔
یہ مغرب کی مادہ پرستی ہے کہ وہ علم لدنی کا قائل نہیں۔ ورنہ انبیاءؑ تو درکنار، عام انسانوں کے علم کا ایک بڑا حصہ بھی ہدایتِ ربانی کا فیضان ہے۔ جس طرح خود حیات ایک فیضانِ الٰہی ہے، اِسی طرح علم بھی فیضانِ ایزدی ہے۔
قرآنِ مجید کے مطالعہ سے یہ حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ علمِ انسانی سے مراد محض تصور ہی نہیں، اِس کی تصدیق بھی اِس میں شامل ہے، حواس سے محسوس کرنے کے بعد اِسے پرکھنا، تجزیہ کرنا، حقیقت تک رسائی حاصل کرنا، اور اس پر عمل کر کے اس سعادتِ دارین کا ذریعہ بنانا غایتِ اصلی ہے۔
تعلیم کے اسلامی اصول:
اسلام نے علم کا جو تصور دیا ہے اس میں سب سے بنیادی چیز یہ ہے کہ علم کا سرچشمہ ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔ انسان کی ہدایت کا علم بھی اِسی کی طرف سے ہے۔ حواس اور عقل و تجربہ بڑے اہم ذرائع ہیں۔ لیکن وحی سب سے اعلیٰ ذریعۂ علم ہے۔ نیز یہ کہ علم کا تعلق محض لوازمِ حیات ہی سے نہیں، مقاصدِ حیات سے بھی ہے۔ یہی وہ تصور ہے جس سے ہمارے نظامِ تعلیم کا پورا مزاج بنتا ہے۔
1. تعلیم اور تربیت کا باہمی تعلق:
اسلام نے علم کا جو تصور دیا ہے اس میں تعلیم اور تربیت دونوں کو یکساں اہمیت دی گئی ہے کہ ایک کو دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے نظامِ تعلیم میں تعلیم اور سیرت سازی ایک ہی حقیقت کے دو پہلو رہے ہیں اور اس کا اظہار علم و فضل کی اصطلاح سے بھی ہوتا ہے جو علم، نیکی اور اخلاقِ حسنہ میں بڑھے ہوئے ہونے کے مفہوم کو ادا کرتی ہے۔
تعلیم صرف تدریس عام ہی کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے ایک قوم خود آگہی حاصل کرتی ہے۔ اور یہ عمل اس قوم کو تشکیل دینے والے افراد کے احساس و شعور کو نکھارنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ نئی نسل کی وہ تعلیم و تربیت ہے جو اسے زندگی گزارنے کے طریقوں کا شعور دیتی ہے اور اس میں زندگی کے مقاصد و فرائض کا احساس پیدا کرتی ہے۔ تعلیم ہی سے ایک قوم اپنے ثقافتی اور ذہنی ورثے کو آئندہ نسلوں تک پہنچاتی ہے اور ان میں زندگی کے ان مقاصد سے لگاؤ پیدا کرتی ہے جنہیں اس نے اختیار کیا ہے۔ تعلیم ایک ذہنی، جسمانی اور اخلاقی تربیت ہے اور اس کا مقصد اونچے درجے کے ایس تہذیب یافتہ مرد اور عورتیں پیدا کرنا ہے جو اچھے انسانوں اور کسی ریاست کے ذمہ دار شہریوں کی حیثیت سے اپنے فرائض کو انجام دینے کے اہل ہوں۔ ہر دور کے ممتاز ماہرینِ تعلیم کے نظریات کا مطالعہ اِسی تصوّرِ تعلیم کا پتہ دیتا ہے۔
جان اسٹورٹ مل مغرب کے ان مشاہیر میں سے ہے جنہوں نے تعلیم اور تربیت کے باہمی لزوم کی نشاندہی کی ہے۔ وہ لکھتا ہے:
''اپنے وسیع تر مفہوم میں تعلیم کی حدود بہت زیادہ ہیں۔ انسانی کردار اور صلاحیت پر پڑنے والی ان چیزوں کے بالواسطہ اثرات بھی اِس کے دائرۂ کار میں شامل ہیں جن کے فوری مقاصد بالکل ہی دوسرے ہوتے ہیں۔''
جان ملٹن تعلیم کی تعریف یوں کرتا ہے۔
''میرے نزدیک مکمل اور شریفانہ تعلیم وہ ہے جو انسان کو بحالتِ جنگ و امن اپنی اجتماعی و نجی زندگی کے فرائض دیانت و مہارت اور عظمت کے ساتھ ادا کرنے کے لئے تیار کرتی ہے۔ '' ii
امریکی فلاسفر جان ڈیوی کے نزدیک ''تعلیم افراد اور فطرت سے متعلق بنیادی طور پر عقلی اور جذباتی رویوں کے تشکیل پانے کا عمل ہے۔ '' iii
ڈاکٹر پارک کا خیال ہے کہ ''تعلیم رہنمائی یا مطالعہ سے علم حاصل کرنے اور عادات اختیار کرنے کا عمل یا فن ہے۔ '' iv
پس تعلیم وہ مسلسل عمل ہے جس کے ذریعے نئی نسلوں کی اخلاقی، ذہنی اور جسمانی نشوونما بھی ہوتی ہے اور وہ اپنے عقائد و تصورات اور تہذیب و ثقافت کی اقدار بھی اِس سے اخذ کرتی ہیں۔ ماہرینِ تعلیم اس لفظ سے دو مفہوم مراد لیتے ہیں۔ وسیع تر مفہوم میں یہ ان تمام طبیعی و حیاتیاتی، اخلاقی و سماجی اثرات کا احاطہ کرتا ہے جو فرد اور قوم کے طرزِ زندگی کی تشکیل کرتے ہیں اور محدود معنی میں یہ صرف ان اثرات پر حاوی ہے جو اساتذہ کے ذریعے اسکولوں، کالجوں اور دوسری درس گاہوں میں مرتب ہوئے ہیں۔ بہرکیف تعلیم ایک ہمہ گیر عمل ہے اور شاگرد کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر اس کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ایک قوم کی زندگی کا انحصار ہی اس کی تعلیم پر ہے۔ ایک چینی کہاوت اس بات کی کتنی صحیح عکاسی کرتی ہے:
''تمہارا منصوبہ اگر سال بھر کے لئے ہے تو فصل کاشت کرو۔ دس سال کے لئے ہے تو درخت اگاؤ، دائمی ہے تو افراد پیدا کرو۔''
قرآنِ عزیز میں رسول اللہ ﷺ کو تلاوتِ آیات اور تعلیمِ کتاب و حکمت، کے ذریعے تزکیۂ نفوس کا جو مشن تفویض ہوا ہے اس سے تعلیم و تربیت کا باہمی ربط و تعلق بخوبی واضح ہوتا ہے۔
2. بامقصد تعلیم:
تعلیم بجائے خود منزل نہیں، منزل کے حصول کے لئے ایک ذریعہ ہے۔ اے۔ این۔ وائٹ ہیڈ کہتے ہیں:
''تعلیم کی رُوح یہ ہے کہ وہ مذہبی ہو۔''
علامہ اقبالؒ کا خیال بھی یہی تھا کہ اسلام ہماری زندگی اور تعلیم کا مقصد ہونا چاہئے۔ تعلیم کا اولین مقصد یہ ہونا چاہئے کہ طلبہ میں ان کے مذہب اور نظریۂ حیات کی تفہیم و آگہی پیدا کرے اس کے معنی یہ ہوں گے کہ زندگی کا مفہوم اور مقصد دنیا میں انسان کی حیثیت، توحید، رسالت، آخرت اور انفرادی اور اجتماعی زندگی پر ان کے اثرات، اخلاقیات کے اسلامی اصول، اسلامی ثقافت کی نوعیت اور ایک مسلمان کے فرائض اور اس کا مشن انہیں سمجھایا جائے۔ انہیں بتایا جائے کہ وہ کس طرح اعلیٰ مقاصد کے لئے دنیا کی تمام قوتوں کو استعمال کریں۔ تعلیم کے ذریعے ایسے افراد پیدا کرنے چاہئیں جو انفرادی اور اجتماعی زندگی کے بارے میں اسلامی نظریات پر بھرپور یقین کے حامل ہوں اور اسے ان کے اندر ایک ایسا اسلامی نقطۂ نظر پیدا کرنا چاہئے کہ وہ زندگی کے ہر میدان میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنا راستہ خود بنا سکیں۔
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
''لوگوں میں سے درجۂ نبوت کے قریب تر اہلِ علم اور مجاہدین ہیں۔ اہلِ علم اس لئے کہ انہوں نے لوگوں کو وہ باتیں بتائیں جو رسولِ کریمؐ لائے تھے اور مجاہدین اس لئے کہ انہوں نے پیغمبروں کی لائی ہوئی شریعت پر اپنی تلواروں سے جہاد کیا۔'' 15
مشہور اہلِ قلم والٹرلپ مین نے ایک تقریر میں کہا تھا:
''اسکول اور کالج دنیا میں ایسے افراد بھتیجے رہے ہیں جو اس معاشرے کے تخلیقی اصولوں کو نہیں سمجھ پاتے جس میں انہیں رہنا ہے۔ اگر یہی نج رہی تو موجودہ تعلیم آخر کار مغربی تہذیب کو تباہ کر دے گی اور واقعہ یہ ہے کہ یہ تباہ کر رہی ہے۔''
امریکی تعلیم پر راک فیلر کی رپورٹ بھی اِسی خامی کی نشاندہی کرتی ہے:
''طلبہ اپنی زندگی کا کوئی مقصد و مفہوم چاہتے ہیں۔ اگر ان کا زمانہ، ان کی ثقافت اور ان کے راہنما انہیں کوئی عظیم مفہوم، مقاصد و تصورات نہ دیں تو پھر وہ اپنے لئے حقیر اور فرومایہ مقاصد متعین کر لیتے ہیں۔''
تعلیم کے پسِ منظر کے مکمل جائزے کے بعد پروفیسر ہیرلڈ ایچ ٹیٹس لکھتے ہیں:
''تعلیم نے اپنے آپ کو ماضی کے روحانی ورثے سے الگ کر لیا ہے مگر اس کا کوئی مناسب بدل دینے میں ناکام رہی ہے۔ نتیجة پڑھے لکھے افراد بھی ایمان و ایقان سے زندگی کے اقدار کے صحیح احساس سے، اور دنیا کے بارے میں کسی ناقابلِ شکست ہمہ گیر نقطۂ نظر سے عاری ہیں۔''
ان خیالات سے پتہ چلتا ہے کہ مغرب میں بے مقصد تعلیم کانظریہ دم توڑ رہا ہے۔ مغرب کے اکثر ماہرینِ تعلیم اور علمائے عمرانیات یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ تہذیب و تمدن کی ترقی اور ثقافت کے تحفظ کی راہ میں یہ نظریہ کس قدر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ (باقی)

حوالہ جات
1. صحیح بخاری
2. تفصیل کے لئے دیکھئے کتب احادیث بمد و ''مفتاح کنوز السنة'' نیز ''المعجم المفهرس لألفاظ الحدیث النبوي بذیل مادّة علم
3. دیگر احادیث فضیلتِ علم کے لئے دیکھیے ''اردو و دائرہ معارف اسلامیہ'' ج 13 ص 452 وما بعد
4. اردو دائرہ معارف اسلامیہ ج 13
5. الجامع لأخلاق الراوي والسامع ص 55
6. تقیید العلم للخطیب
7. سنن دارمی ج 1 ص 136 جامع بیان العلم ج 1 ص 74
8. تقیید العلم للخطیب ص 114
9. تفسیر ابنِ جریر ج 16 ص 5 تقیید العلم ص 117
10. تقیید ص 91، دارمی ج 1 ص 126 تاریخ بغداد ج 6 ص 399، کنز العمال ج 5 ص 339۔ ربیع الابرار للزمخشری ص 13
11. انسائیکلو پیڈیا آف اسلام مادۂ فقہ، نیز مقالہ مکڈانلڈ در انسائیکلوپیڈیا بر لفظ علم ج2 ص 498، جامع بیان العلم ج 2 ص 33
12. اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ ج 13 بحوالہ احیاء للغزالی
13. حوالہ مذکورہ 465
14. مفردات امام راغب
15. احیاء علوم الدین ''للغزالی ج 1 باب العلم

i. الکلام شبلی نعمانی ص 165
ii. Every Man's Library, P.46. by Milton, John.
iii. Dewey John, Democracy and Education quoted by Hoghes, A.g. and Hughe, E.4, Education, some educatioanl problem, long man's london, 1960. P81.
iv. Park Dr. Joe, Introduction, New York, 1958. P.3.