عَنْ زیْدِ بْنِ ةَرْقَمَ رَضِیَ اللّٰه تَعَالٰی عَنْه قالَ قَالَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰه صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْه وَسَلَّمْ ''یَا رَسُوْلَ الله مَا ھٰذِہِ الْأُضَاحِي'' قَالَ ''سُنَّة أَبِیْکُمْ إِبْرَاھِیْمَ عَلَیه السَّلَامُ۔ الحدیث''
''حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے جنابِ رسالت مآب ﷺ سے دریافت کیا، ''اے اللہ کے رسولؐ، یہ قربانیاں کیا چیز ہیں؟'' ''آپ ؐ نے فرمایا'' یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام کی سُنّت ہے!''
حضرت ابراہم علیہ السلام التحیة والسلام کی حیاتِ مبارکہ پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالنے سے مندرجہ بالا فرمانِ رسول (ﷺ) کی حقیقت اُبھر کر سامنے آجاتی ہے کہ آپؑ کی پوری زندگی قربانیوں ہی سے عبارت ہے۔
آپؑ نے جس ماحول میں آنکھ کھولی، جس فضا میں پرورش پائی، اس کا تقاضا یہ تا کہ آپؑ اپنے دیگر ہموطنوں کی طرح اپنے معبودِ حقیقی کی پہچان سے کوسوں دُور رہ کر بے شمار معبودانِ باطلہ کے سامنے اپنی ہستی کو مدغم کر دیں۔ لیکن دریائے شرک کی طغیانیوں میں بُری طرح غوطے کھانے والوں میں سے ایک اور صرف ایک ہستی ایسی تھی جو اپنے آپ کو ان سرکش موجوں کے حوالے کر دینے کے خلاف ﴿إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَ‌بِّي سَيَهْدِينِ ﴿٩٩...سورۃ الصافات''1 کی صدائے احتجاج بلند کر رہی تھی۔ یہ ہستی حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام کی ہستی تھی!
قرآنِ حکیم نے معبودِ حقیقی کی پہچان کے لئے حضرت ابراہیمؑ کی کاوشوں کا تفصیلی نقشہ مرتب فرمایا ہے:
﴿فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَ‌أَىٰ كَوْكَبًا ۖ قَالَ هَـٰذَا رَ‌بِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ ﴿٧٦...سورۃ الانعام
کہ ''جب رات ہو گئی تو حضرات ابراہیمؑ نے آسمان پر ایک روشن ستارے کو دیکھ کر کہا، ''یہ (ستارہ) میرا رب ہے!'' لیکن جب یہ ستارہ غروب ہو گیا تو آپؑ نے فرمایا، ''میں کسی ایسی چیز کو رب ماننے کے لئے تیار نہیں جو غروب بھی ہو جاتا ہو!''
﴿فَلَمَّا رَ‌أَى الْقَمَرَ‌ بَازِغًا قَالَ هَـٰذَا رَ‌بِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِي رَ‌بِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ ﴿٧٧...سورۃ الانعام
''پھر جب آپؑ نے چاند کو خوب چمکدار پایا تو فرمایا، ''میرا رب تو یہ ہے!'' لیکن جب یہ بھی غروب ہو گیا تو آپؑ نے (بڑے اندوہ سے) کہا کہ ''اگر میرے رب نے میری راہنمائی نہ فرمائی تو میں گم کردہ راہ لوگوں میں سے ہو جاؤں گا!''
﴿فَلَمَّا رَ‌أَى الْقَمَرَ‌ بَازِغًا قَالَ هَـٰذَا رَ‌بِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِي رَ‌بِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ ﴿٧٧...سورۃ الانعام
''پھر جب آپؑ نے سورج کو بہت ہی روشن دیکھا تو فرمایا، ''یہ میرا رب ہے کہ یہ (پہلوں کی نسبت) بہت بڑا بھی ہے'' لیکن جب سورج بھی غروب ہو گیا تو آپ نے اپنی قوم کو مخاطب کر کے فرمایا، ''میں تمہاری اس مشرکانہ روش سے بہت ہی بیزار ہوں!''
لھٰذا
﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ‌ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِ‌كِينَ ﴿٧٩...سورۃ الانعام
''میں اس ذات کے سامنے سر تسلیمِ خم کرتا ہوں جس نے زمین و آسمان کو بنایا، اور میں تمام معبودانِ باطلہ سے منہ موڑ کر صرف اسی ایک کو معبودِ حقیقی مانتا ہوں، کیونکہ میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں!''
حضرت ابراہیمؑ کی سب سے بڑی قربانی یہ تھی کہ آپؑ نے اپنے مشرکانہ ماحول، اپنے خاندان، اپنی قوم اور بادشاہِ وقت سے نہ صرف بغاوت کی بلکہ ان کے جھُوٹے اور ناکارہ خداؤں کو کلہاڑے کے پے د پے وار کر کے پاش پاش کر دیا۔ اور اس سلسلہ میں جان تک لٹا دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔ چنانچہ جب ہر طرف سے﴿حَرِّ‌قُوهُ وَانصُرُ‌وا آلِهَتَكُمْ ﴾ 2کی صدائیں بلند ہوئیں تو اس بندۂ حنیف نے دہکتے ہوئے الاؤ میں چھلانگ لگا کر دنیا والوں کو یہ بتا دیا کہ دیکھو، توحید کے تقاضے یوں پورے کیے جاتے ہیں۔ اللہ کو الٰہ ماننا اسے کہتے ہیں۔ حق و باطل کے معرکوں میں صفحۂ ہستی پر ایثار و سرفروشی کے انمٹ نقوش یوں ثبت کیے جاتے ہیں۔ اور راہِ حق میں لٹ جانا، پِٹ جانا، کٹ جانا ہی عین عبادت ہے اور جس کے لئے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے، اس پر یہ کوئی احسان بھی نہیں کہ

؎ جان دی، دی ہوئی اُسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ معبودِ حقیقی کی بارگاہ میں تَن مَن دَھن قربان کر دینے کا عزم کر لینے والوں کے جواب میں ''يَا نَارُ‌ كُونِي بَرْ‌دًا وَسَلَامًا'' 3کی صدائیں اکثر گونج ہی جایا کرتی ہیں!
پھر دیکھنے والوں نے یہ منظر بھی دیکھا کہ ایک بوڑھا باپ اپنے شیر خوار بچہ کو سینے سے لگائے، اپنی اہلیہ کو ساتھ لیے ''ودیٔ غیر ذی ذرع'' کی طرف رواں دواں ہے۔ جہاں پرندہ پر نہیں مار سکتا۔ جہاں کی زمین روئیدگی کو ترستی ہے۔ جس کی فضا کسی ذی روح کو پناہ دینے کے لئے تیار نہیں۔ ایسے مقام پر یہ اپنے لختِ جگر اور اپنی رفیقۂ حیات کو تن تنہا چھوڑ کر، الٰہ العالمین کی بارگاہ میں یہ دعاء کر کے واپس روانہ ہوجاتا ہے:
﴿رَّ‌بَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّ‌يَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ‌ ذِي زَرْ‌عٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّ‌مِ رَ‌بَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْ‌زُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَ‌اتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُ‌ونَ ﴿٣٧''
کہ ''اے ہمار رب، میں نے اپنی اولاد کو (تیرے حکم سے اور صرف تیرے ہی سہارے پر) ایک ایسی وادی میں، جو سرسبزی و شادابی سے محروم ہے، تیرے محترم گھر کے قریب ٹھہرا دیا ہے۔ اے ہمارے رب، یہ اس لئے کہ یہ لوگ نمازیں قائم کریں، اب یہ تیرا کام ہے کہ لوگ کشاں کشاں اس مقام پر پہنچیں، اور تو یہاں کے باسیوں کو ہر قسم کے پھلوں کے رزق سے مالا مال بھی فرمائے تاکہ یہ تیرا شکر ادا کر سکیں!''
توکل، صبر، ایثار اور تسلیم و رضا کی یہ وہ داستان ہے ''جدّ الانبیاء'' حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰة والسلام سے وابستہ ہے۔ اور اسی توکل و ایثار کا یہ نتیجہ ہے کہ چند سال بعد جب آپؑ اپنے اہل و عیال کی خبر لینے کے لئے دوبارہ اس مقام پر پہنچتے ہیں تو اس وادیٔ ''غیر ذی ذرع'' کو شہر کی طرح آباد پاتے ہیں۔ جو زمین پانی کو ترستی تھی، اب اس سے پانی کے سوتے پھوٹ رہے ہیں۔ جو سر زمین زندگی کے آثار سے محروم تھی، اب رونقوں کی آماج گاہ بن چکی ہے۔ اور جس طفلِ شیر خوار کو وہ سامانِ زیست سے نا آشنا چھوڑ کر گئے تھے، آج جو انِ رعنا ہے! لیکن ابھی ایک اور کڑا امتحان باقی ہے۔ حکم ہوتا ہے، اے بندۂ حنیف، اپنی حنیفیت کی ایک اور مثال قائم کرو۔ اپنے اس فرزندِ دلبند کو لٹا کر، اس کے حلقوم پر چھری رکھ کر، خود اپنے ہاتھ سے اس کی رگِ حیات کاٹ ڈالو۔ اور پھر آسمان نے یہ منظر بھی دیکھا کہ ایک بوڑھا باپ اپنے لختِ جگر کو، اپنی ہی اولاد کو، صرف معبودِ حقیقی کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر، رسیوں سے باندھ کر زمین پر پچھاڑ لیتا اور اس کا رشتۂ حیات منقطع کرنے کے لئے اس کے گلے پر چھُری رکھ کر چلا دیتا ہے۔ اور زبان سے اپنے عزم کا ایک بار پھریوں اظہار کرتا ہے:
﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٦٢﴾ ﴿لَا شَرِ‌يكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْ‌تُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ﴿١٦٣...سورۃ الانعام
کہ ''الٰہالعالمین، میری نماز، میری قربانی (حتّٰی کہ) میرا جینا اور مرنا، سب تیرے ہی لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، تو نے ایسا ہی مجے حکم دیا ہے اور میں (ایثار اور خلوص کی ایسی انمٹ مثالیں پیش کرنے والا) سب سے پہلا مسلمان ہوں!''
اوریہ تو اس کا کرم ہے کہ اِن تمام مراحل سے گزرنے کےباوجود بھی باپ بیٹا صحیح سلامت ہنسی خوشی گھر کو روانہ ہوتے ہیں۔ اِس سند کے ساتھ کہ:
﴿وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَ‌اهِيمَ رَ‌بُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا...﴿١٢٤﴾...سورۃ البقرۃ
کہ ''جب ابراہیمؑ کو اس کے رب نے چند کڑے امتحانات میں آزمایا اور وہ ان میں سرخرو ہوا۔ تو فرمایا، ابراہیمؑ، میں نے تمہیں (پوری دنیا کے) لوگوں کا امام بنا دیا!۔''
یہ ہے قربانی کی وہ حقیقت جس کی طرف خاتم النبیین، سید الاولین والاٰخرین، ﷺ نے ''سُنَّةُ أَبِیْکُمْ إِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ'' کہہ کر ارشارہ فرمایا ہے!
قربانیاں ہم بھی دیتے ہیں، زور و شور سے دیتے ہیں، ہر سال دیتے ہیں اور زبان سے ﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٦٢﴾ ﴿لَا شَرِ‌يكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْ‌تُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ﴿١٦٣...سورۃ الانعام'' کا اعتراف بھی کرتے ہیں لیکن مقامِ غور ہے کہ ہماری یہ قربانیاں صرف گوشت کھانے کی تقریب ہے یا ایثار و خلوص کی وہ روح بھی ان میں کار فرما ہے جس کو خلیل اللہؑ نے زندہ و جاوید بنا دیا تھا؟ کیا ان قربانیوں سے مقصد واقعة یہ اظہار و عزم ہے کہ اے اللہ، جس طرح ہم اس جانور کو تیرے نام پر قربان کر رہے ہیں۔ بالکل اِسی طرح اگر ضرورت پڑی تو اپنی جان، اپنا مال، اپنی اولاد، اپنی خواہشات سب کچھ تیرے نام پر لٹا ڈالیں گے، ان کے گلے پر چھری پھیر دیں گے۔ تیرے لیے ہر چیز سے دست بردار ہو جائیں گے؟ اور یہ کہنے کی تو غالباً ضرورت ہی نہیں کہ قربانی کہ ''سُنَّة اَبِیْکُمْ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْهِ السَّلَامُ'' بنانے کے لئے غیر اللہ سے وہ رشتہ کاٹ لینا ہی اصل مقصود ہے جو رشتہ ایک بندے اور اس کے معبودِ حقیقی کے درمیان ہونا چاہئے، لیکن جو قربانی نام و نموادار یا کاری اور غیر اللہ سے اس رشتہ ہی کی استواری کی بھینٹ چڑھ جائے، جس کو کاٹنا مقصود ہے، تو یہ قربانی ، قربانی کہلانے کی حقدار بھی ہے یا نہیں؟
وَمَا عَلَیْنَا إِلَّا الْبَلَاغ!


حوالہ جات
1. ''میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں، وہ مجھے جلد ہی کوئی راہ دکھا دے گا!''
2. اس کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو۔
3. اے آگ ٹھنڈی ہو جا لیکن سلامتی والی!