عالم اسلام کے معروف محقق، مؤرخ اور مفسر ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ گذشتہ دنوں فلوریڈا کے ہسپتال میں ۹۶ سال کی عمر میں اپنے خالق حقیق سے جاملے۔ ان کی وفات، ان کے کارناموں اور مشن سے واقف لوگوں کے لئے ایک جانکاہ حادثے سے کم نہیں۔ 'موت العالم موت العالم' کی ضرب المثل ان پر صادق آتی ہے۔تحقیقی و علمی دنیا کا یہ عظیم ستارہ طویل عرصے تک دیارِ مغرب میں بیٹھ کر اپنے علمی جواہر بکھیرتا رہا اور بلا شبہ ان کے یہ کام عالم اسلام کے لئے منفرد ونایاب جواہر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر حمید اللہ ۱۶؍ محرم ۱۳۲۶ھ (۱۹۰۵ئ) کو حیدر آباد دکن کے کوچہ حبیب علی شاہ میں پیدا ہوئے۔ آپ جنوبی ہند کے مشہور خاندان 'نواسط' سے تعلق رکھتے تھے جو اپنی دینی، علمی، تحقیقی سرگرمیوں کی و جہ سے مشہور اور قدرومنزلت سے سرفراز ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی، پھر مدرسہ دارالعلوم جامعہ نظامیہ میں انگریزی کا امتحان دے کر جامعہ عثمانیہ میں داخل ہوئے اور وہاں سے ایم اے، ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ لیکن حصولِ علم کی تشنگی اور تحقیق و جستجو کا ذوق بڑھتا گیا ۔ چنانچہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے یورپ پہنچے۔ جہاں آپ نے بون یونیورسٹی (جرمنی) سے اسلام کے بین الاقوامی قانون پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈی فل کی ڈگری حاصل کی، اور سوربون یونیورسٹی (پیرس) سے 'عہد ِنبویؐ اور خلافت ِراشدہؓ میں اسلامی سفارت کاری' پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹر آف لیڈز کی ڈگری پائی۔

ڈاکٹر صاحب کی متنوع اور پیچیدہ تحقیقی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والا شخص حیرت وممنوعیت کی کیفیت میںمبتلا ہوجاتا ہے کہ ان کی ساری کی ساری زندگی تحقیق و جستجو، اشاعت اور تبلیغ اسلام ہی سے عبارت ہے۔ اس سلسلے میں آپ ابن تیمیہؒ کے متبع نظر آتے ہیں۔ ہر قسم کے تکلّفات اور جھمیلوں سے آزاد بس اپنے مشن میں مگن اور آپ نے اس مشن کو بڑی کامیابی سے پوراکیا۔

ڈاکٹر صاحب نے ایک سو سے زائد کتب تصنیف کیں۔ مختلف بین الاقوامی جرائد میں آپ کے ۹۲۱ مقالہ جات شائع ہوئے۔ فرانسیسی زبان میں قرآن پاک کا ترجمہ اور تفسیر بھی آپ کا نمایاں کام ہے۔ اسی طرح سیرت النبیؐ؛ محمد رسول اللہؐ، عہد ِنبویؐ کا نظامِ حکمرانی، عہد ِنبویؐ کے میدانِ جنگ، رسول اللہؐ کی سیاسی زندگی الوثائق السیاسیۃ(عربی) مطبوعہ قاہرہ اور دیگر بہت سی اہم کتب اہل علم وتحقیق کے لئے یادگار حیثیت رکھتی ہیں۔

اسی طرح آئین پاکستان کے بنیادی نکات کی تیاری کے سلسلے میں انہوں نے مولانا سیدسلیمان ندوی، ظفر احمد انصاری وغیرہ کے ساتھ مل کر کام کیا۔ علما کے بائیس نکات اور نظامِ تعلیم کے خاکے کی تیاری میں بھی آپ شامل رہے۔ اسلامی یونیورسٹی بہاولپور میں دیئے گئے آپ کے لیکچرز خطباتِ بہاولپور کے نام سے شائع ہوکر بڑی دادِ تحقیق وصول کرچکے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے تحقیقی شہ پاروں میں سب سے اہم 'صحیفہ ہمام ابن منبہ' کی تلاش اور اس کی اشاعت ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو یہ مسودہ جرمنی کی ایک لائبریری سے ملا جسے انہوں نے ایڈٹ کرکے اور یہ ثابت کرکے شائع کیا کہ اس مجموعے میں پائی جانے والی احادیث اور بعد کے مجموعوں میں لکھی ہوئی احادیث میںکوئی فرق نہیں۔ انہوں نے بڑے منطقی اور تاریخی اعتبار سے ثابت کیا کہ تدوین حدیث اور کتابت ِحدیث کا کام دورِ رسالت اور دورِ خلافت ہی میں شروع ہوگیا تھا۔

ڈاکٹر صاحب نہ صرف ان تحقیقی سرگرمیوں میں مصروف رہے، بلکہ تدریس اور تبلیغ بھی ان کا میدانِ کا ر رہے۔ ان تبلیغی مشاغل کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے ایک جریدے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ

''آج کل یہاں (پیرس) میں ایسے موضوع سے متعلق میرا پروگرام چل رہا ہے جس میں اسلام کے نقطہ نظر کی ترجمانی کے لئے میرا انتخاب کیا گیاہے ، موجودہ موضوع حضرت ابراہیم ؑہیں۔ تحقیق کے دوران نئے گوشے میرے سامنے آئے، مثلاً ہندوؤں کے رامائن اور یونانیوں کے مشہور شاعر ہومرکی نظم 'اوڈیسی' حضرت ابراہیم کے دورکی تصانیف ہیں اور ان کی واقعہ نگاری پر حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کے واقعہ کا اثر موجود ہے۔

یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ مسلمان جو واقعہ حضرت اسماعیل ؑ سے منسوب کرتے ہیں، وہ حضرت اسحق ؑ سے تعلق رکھتا ہے۔ میں نے ان کی کتابوں اور تاریخی ترتیب کے حوالے سے ثابت کیاکہ قرآن کا بیان کردہ واقعہ ہی درست ہے۔ اس پر یہودی علما نے کہا کہ اگر ہم آپ کی تحقیق کو درست تسلیم کرلیں تو ہمارا مذہب ہی باطل قرار پائے گا۔ ''

اس سوال پر کہ آپ نے پیرس ہی کو کیوں اپنی مستقل رہائش کے لئے منتخب کیا ، ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ایک تو ایسا تحقیقی ادارہ کہیں موجود نہیں۔ دوسرے یہاں ۸۰ لاکھ اور ایک کروڑ کتابوں پر مشتمل ایسی لائبریریاں موجود ہیں جن کی کہیں نظیر نہیں ملتی۔ یہاں ایک ایک موضوع پر، خصوصاً عالم عرب پر بڑی لائبریریاں موجود ہیں جن میں عالم عرب سے متعلق ہر زبان میں کتابیں یکجا مل جاتی ہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے اسی تحقیقی و علمی ذوق کی بنا پر دیارِ مغرب کو اپنا مسکن بنایا اور اپنی ساری زندگی اسی ذوق کی نذر کردی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنا طویل عرصہ مغرب میں رہنے کے باوجود ان کی طرزِ زندگی یا ان کی فکر پر مغربیت کا ادنیٰ سا شائبہ تک نہیں۔ اسی طرح عجز و انکساری بھی ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ سادگی اور قناعت کو اپنایا۔ انہیں کئی دفعہ مختلف لوگوں کی طرف سے ہر طرح کے تعاون کی پیش کش ہوئی لیکن انہوں نے کبھی اس طرف دھیان نہ دیا۔ وہ کسی بھی قسم کی آسائش کو جنہیں آج کے دور میں 'ضروریات' تصور کیا جاتا ہے، غیر ضروری اور وقت کا ضیاع خیال کرتے تھے۔ انہیں حکومت ِپاکستان کی طرف سے کئی ایک پیش کشیں ہوئیں لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ جس کام میں مصروف ہیں، وہ زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔

ڈاکٹر صاحب کو مشرق و مغرب کی نو زبانوں پر قدرت حاصل تھی۔ ان زبانوں میں اردو، انگریزی، فرانسیسی، عربی، جرمنی، اَطالوی، ترکی، روسی اور فارسی زبانیں شامل ہیں۔ ڈاکٹر صاحب مختلف جامعات میں تدریسی فرائض بھی سرانجام دیتے رہے۔ اس غرض سے وہ انقرہ کی ارضِ یوم یونیورسٹی میں لیکچر کے لئے ہر ہفتہ پیرس سے انقرہ جایا کرتے تھے۔

ڈاکٹر صاحب پیرس کے ایک تحقیقی مرکز سے وابستہ ہوئے اور ریٹائرمنٹ تک اسی ادارے سے منسلک رہے اور بعدازاں بھی اپنی علمی تحقیقی سرگرمیوں کو اسی طرح جاری رکھا۔ ان کی زندگی 'کام، کام اور صرف کام' کی عملی تفسیر ہے جس میں آرام نام کی کوئی شے نظر نہیں آتی۔ اور بلاشبہ ڈاکٹر صاحب نے علمی وتحقیقی، تبلیغی اور تدریسی میدان میں جو کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں،اس کے لئے کئی دماغ اور کئی زندگیاں درکار ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو حصول مقصد کے لئے کھپا کر احمد بن حنبلؒ اور ابن تیمیہ ؒ کی روایت کو زندہ کیا ہے اور آئندہ نسلوں کے لئے تحقیق وتفوق، محنت و قربانیوں کی ایسی راہ متعین کی ہے جو ان کے لئے مشعل راہ بنے گی۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جب ہم اپنے مشاہر پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسے نابغہ روزگار کم ہی نظر آتے ہیں۔ جنہوں نے تحقیق و تصنیف کے ساتھ دعوت و تبلیغ کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہوں اور بلاشبہ ایسے ناموں میں ڈاکٹر حمیداللہ مرحوم کا نام انتہائی نمایاں ہے۔ ان کی سرگرمیاں تحقیق و تفوق کے ساتھ دعوت و تبلیغ کا خوبصورت امتزاج ہیں۔ ان کی زندگی اسلامی احکامات کا عملی نمونہ نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر حمیداللہ مرحوم نے اپنے کام کو کبھی وجہ افتخار نہیں بنایا ہمیشہ اعتراف، معذرت، تواضع اور انکساری کا پیکر نظر آتے۔ اپنی وسعت علمی کے باوجود کبھی اپنی رائے پر اصرار نہیں کیا۔ نرم دم گفتگو گرم دم جستجو کا مکمل عکس ان کی زندگی اور ان کے کاموں میں دیکھا جاسکتا ہے۔

گذشتہ دنوں ڈاکٹر مرحوم کے حوالے سے شیخ زید اسلامک سنٹر، پنجاب یونیورسٹی میں تعزیتی سیمینار منعقد ہوا۔ جہاں ڈاکٹرؒ مرحوم کے حوالے سے ہونے والی تقاریر سے راقم نے یہ بات محسوس کی کہ ڈاکٹرؒ صاحب کی ذاتِ گرامی اور ان کے کاموں کے حوالے سے مکمل طور پر کسی کو بھی آگاہی نہیں، ان کے بہت سے کام ابھی زیرطبع ہیں جب کہ مطبوعہ مواد کا مکمل ریکارڈ بھی شاید ہی کہیں دستیاب ہو۔ ہمارے ہاں یہ روایت ہے یا شاید ہر جگہ کہ کسی شخص کی اہمیت اور اس کے کاموں کی افادیت اکثر اس کے جانے کے بعد ہوتی ہے۔ جس کا اظہار بعض مقررین نے بھی کیا۔ بہرطور یہ امر خوش آئند ہے کہ اس 'روایتی غفلت' کی تلافی کا سامان اس صورت میں کرنے کی تجویز سامنے آئی کہ اسلامک سینٹر میں ایک چیئر ڈاکٹر حمیداللہؒ مرحوم کے نام سے شروع کی جائے۔ اگر اس تجویز پر عملدرآمد ہوا تو یہ ڈاکٹر حمیداللہؒ مرحوم کے تحقیقی وتاریخی مشن کو آگے بڑھانے میں ایک بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔

ڈاکٹر صاحب علمی و تحقیقی میدان میں جو وِرثہ چھوڑ کر گئے ہیں، بلا شبہ اس پر فخرکیا جاسکتا ہے ۔یہ ورثہ اُمت ِمسلمہ کے لئے ایک ایسی قندیل ہے جس کی روشنی سے ہمیشہ تشنگانِ علم مستفید ہوتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی جملہ کاوشوں کو توشہ آخرت بنائے۔ آمین!
؎ خدا تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے !