Mohaddis-267-Feb2003

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

مَانِعین کے بعض عقلی دلائل اور ان کا جواب

اب ہم مانعین کی طرف سے پیش کئے جانے والے بعض عقلی دلائل اور ان کا علمی جائزہ پیش کرتے ہیں:

1. نسخ حدیث کا دعویٰ

امام ابن قیم جوزیؒ فرماتے ہیں کہ ''امام طحاویؒ نے حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث کو اپنا مسلک بنایا ہے جبکہ حضرت عائشہؓ کی حدیث دوسرے مسلک کی ترجمان ہے۔ پس فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کا سہیل بن بیضاؓء کی نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھانا منسوخ ہے، اور رسول اللہﷺ کے ان دو افعال میں سے وہ دوسرے فعل کو اس دلیل کے ساتھ ترک کرتے ہیں کہ عام صحابہؓ نے حضرت عائشہؓ کے ایسا کرنے پر نکارت کی تھی اور وہ لوگ ایسا ہرگز نہ کرتے اِلا یہ کہ جو چیز منقول ہوئی ہے، اس کے خلاف وہ علم رکھتے ہوتے۔ لیکن ایک جماعت نے امام طحاویؒ کے اس قول کو ردّ کیا ہے جن میں امام بیہقیؒ وغیرہ شامل ہیں۔ امام بیہقیؒ فرماتے ہیں کہ اگر حضرت ابوہریرہؓ کے پاس حضرت عائشہؓ کی روایت کے منسوخ ہونے کی دلیل ہوتی تو وہ اس کا تذکرہ اس دن ضرور کرتے جس دن کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھی گئی تھی، یا اس دن جبکہ حضرت عمر بن خطابؓ کی نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھی گئی تھی ،یا اس دن جبکہ لوگوں نے حضرت عائشہؓ کے مسجد میں جنازہ لانے کے حکم پر نکارت کی تھی، یا پھر اس وقت حضرت ابوہریرہؓ اس کا ذکر ضر ور کرتے جبکہ اس بارے میں حضرت عائشہؓ نے حدیث بیان کی تھی۔ جن لوگوں نے حضرت عائشہ کے فعل پر نکارت کی تھی یہ تو وہ لوگ تھے جن کو اس امر کے جواز کا علم نہ تھا، چنانچہ جب آں ؓ نے اس بارے میں حدیث بیان کی تو سب کے سب خاموش گئے اور کسی نے نہ اس حدیث کا انکار کیا اور نہ ہی کسی دوسری حدیث سے حضرت عائشہؓ کے ساتھ اختلاف کیا۔'' (۷۴ )

الغرض حضرت عائشہؓ کی حدیث کے منسوخ ہونے کا مذکورہ بالا دعویٰ قطعاً بے بنیاد ہے۔ اس کے بے بنیاد ہونے کے جو دلائل امام ابن قیم الجوزیہؒ نے بیان کئے ہیں، ان سے بہتر جواب اور کیا ہوسکتاہے؟

ان دلائل کے علاوہ نسخ کی چند شروط محققوں اور اصولیوں کے ہاں ضروری ہیں جن کی عدم موجودگی کی صورت میں نسخ کا دعویٰ باطل قرار پاتا ہے۔ اب ہم یہ جائزہ لیں گے کہ نسخ حدیث کا مذکورہ دعویٰ کیا ان شرائط کو پورا کرتا ہے یا نہیں؟ پس نسخ کی پہلی شرط یہ ہے کہ ناسخ و منسوخ کے لئے لازم ہے کہ وہ دونوں ایک ہی محل میں وارد ہوں۔(۷۵) دوم یہ کہ نسخ کا دعویٰ اسی وقت قابل قبول ہوتا ہے جبکہ تاریخ کا علم ہوا اورجمع و تطبیق محال ہو۔(۷۶ )سوم یہ کہ نسخ بلا دلیل ثابت نہیں ہوتا۔(۷۷ ) چہارم یہ کہ نسخ احتمال سے بھی ثابت نہیں ہوتا۔(۷۸) پنجم یہ کہ نبیﷺ کا کسی کئے جانے والے عمل کو مجرد ترک کردینا بھی اس کے نسخ کے جواز کی دلیل نہیں ہے۔(۷۹) ششم یہ کہ نسخ خبر میں داخل نہیں ہوتا۔(۸۰ ) ہفتم یہ کہ اجمال منسوخ نہیں ہوتا۔(۸۱ ) اور ہشتم یہ کہ بقول امام ابن حزمؒ :نسخ کسی امر کی ممانعت یا کسی ممانعت کو ترک کرنے کے لئے ہی ہوتا ہے۔(۸۲) وغیرہ اور ہر شخص بخوبی جان سکتا ہے کہ امام طحاویؒ کا مذکورہ بالانسخ کا دعویٰ ان شرائط میں سے کسی بھی شرط کو پوری نہیں کرتا، بلکہ صرف احتمال کی بنیاد پرمبنی ہے، اور امام موصوف ؒ کے متعلق یہ بات بہت مشہور ہے کہ آپؒ خلافِ اصول محض احتمال کی بنا پر کسی چیز کے منسوخ ہونے کا دعویٰ کردیتے ہیں، چنانچہ امام ابن حجر عسقلانی ؒ (۸۵۲ھ) فرماتے ہیں: ''الطحاوi يکثر من إدعاء النسخ بالاحتمال''(۸۳)

میں مزید کہتا ہوں کہ امام طحاوی حنفی ؒ (۳۲۱ھ) اور دیگر مانعین کا یہ کہنا بھی قطعاً بے دلیل بات ہے کہ جن لوگوں نے حضرت عائشہؓ پر اعتراض کیا تھا، وہ عام صحابہؓ تھے۔ اگر مانعین کے پاس ان معترض صحابہؓ کے اسمائے گرامی موجود ہوں تو پیش کریں۔ جس طرح مانعین دعویٰ کرتے ہیں، اسی طرح میں بھی یہ کہتا ہوں کہ حضرت عائشہؓ پراعتراض کرنے والے لوگ صحابہ ؓ نہیں بلکہ دو چار تابعین یا تبع تابعین یا پھر صغار صحابہ رہے ہوں گے۔ صغار صحابہؓ اس لئے کہ اگر ان معترضین کا شمار کبار صحابہؓ میں ہوتا تو انہیں رسول اللہﷺ اور آپؐ کے بعد دو خلفا کا عمل یقینا ذہن نشین ہوتا، لہٰذا وہ ایسی بات ہر گز زبان پر نہ لاتے۔

ہماری اس بات کو دو طرح سے تقویت ملتی ہے :

اوّل یہ کہ اگر مسجد میں جنازہ کا لانا باعث ِعیب ہوتا تو حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے جنازوں کے وقت کسی شخص نے اعتراض کیوں نہ کیا، حالانکہ اس وقت جلیل القدر اور اصحابِ فضل صحابہؓ کی وافر تعداد موجود تھی اور لوگ سنت ِنبوی بھولے نہیں تھے۔ دوم یہ کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی وفات کم از کم ۵۴ھ سے ۵۸ ھ کے درمیان کسی وقت ہوئی تھی اور اس دوران مدینۃ النبی میں صحابہؓ سے زیادہ تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کی بھرمار تھی اور تابعینؒ میں الحارث بن عبداللہ ہمدانی اعور اور المختار بن ابی عبیدثقفی جیسے بدنام زمانہ کذاب بھی موجود تھے۔ کوئی بعید نہیں کہ انہیں جیسے کسی بدطینت شخص نے حضرت عائشہؓ کے تقویٰ، تورّع، تطوع اور علم و فضل کوبھلا کر ان کے اوپر اعتراض کیا ہو۔ اگر معترضین ان مجروح تابعین میں سے نہ ہوں بلکہ عام تابعین ہوں تو بھی چونکہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل تک علم کے انتقال میں جو کمی واقع ہوتی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ لہٰذامعلوم ہوا کہ عام صحابہ کے معترض ہونے کا دعویٰ غلط اور کسی ٹھوس بنیاد سے عاری ہے، اور حدیث کے الفاظ: «فأنکرذلك الناس عليها»، «أن الناس عابوا ذلک» اور «ما أسرع الناس إلی أن يعيبوا مالا علم لهم به» میں«الناس» سے مراد وہی لوگ ہیں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے، والله أعلم بالصواب!

2. میت کے نجس اور مردار ہونے کا دعویٰ

امام ابن رشد قرطبیؒ (۵۹۵ھ) فرماتے ہیں کہ

''بعض کے نزدیک صحابہ کرامؓ کا حضرت عائشہؓ پر نکارت کرنا ان کے نزدیک اس عمل کے برخلاف کسی دوسرے عمل کے مشہور ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ اس کے لئے وہ رسول اللہ ﷺ کے مصلیٰ جاکر نجاشی کی نمازِ جنازہ پڑھنے سے استشہاد کرتے ہیں۔ اور بعض کا دعویٰ ہے کہ اس کی ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ بنی آدم کی میت مردار ہوتی ہے، لیکن یہ قول ضعیف ہے کیونکہ مردار (المیتۃ) ایک شرعی حکم ہے اور ابن آدم کے لئے مردار کا حکم بلا دلیل ثابت نہیں ہوتا۔'' (۸۴)

کسی مومن کی میت پرالمیتۃ کے حکم کے بلا دلیل دعویٰ کی بابت علامہ ابن رشدؒ کی تردید آپ نے ملاحظہ فرمائی، اب میت کے نجس ہونے کے دعویٰ کی حقیقت بھی ملاحظہ فرما لیں:

امام شوکانیؒ (۱۲۵۰ھ) فرماتے ہیں کہ :''مزید یہ کہ مسجد میں میت کی نماز جنازہ پڑھنے کی کراہت کا جو سبب بتایا جاتا ہے وہ ان کے دعویٰ کے مطابق میت کا نجس ہونا ہے، لیکن یہ دعویٰ باطل ہے کیونکہ مؤمن نہ زندہ نجس ہوتا ہے اور نہ مردہ۔''(۸۵)

کسی مسلمان کی میت کی عدمِ نجاست کی بابت چند احادیث رسول بھی ملاحظہ فرما لیں:

1. حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے ، فرماتے ہیں کہ میری ملاقات نبیﷺ سے ہوئی، لیکن اس وقت میں 'جنبی' (ناپاک) تھا، چنانچہ میں غسل کرنے کیلئے چلا گیا۔ نبیﷺنے دریافت فرمایا تم کہاں رہ گئے تھے؟ میں نے آپؐ کو بتایا تو آپؐ نے فرمایا: ''إن المؤمن لا ينجس''(۸۶)

2. بعض دوسری روایات میں ''إن المؤمن لا ينجس''(۸۷) کے الفاظ بھی مروی ہیں۔

3. حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

''لا تنجسوا موتاکم، فإن المسلم ليس ينجس حيا ولا ميتا''(۸۸)

4. حضرت ابن عباسؓ ہی سے مروی ایک دوسری روایت میں 'المسلم'کی بجائے 'المؤمن' کے الفاظ بھی مروی ہیں، چنانچہ منقول ہے: ''المؤمن حياً وميتاً'' (۸۹)

5. حضرت ابن عباسؓ کی ایک حدیث میں ہے: ''إن ميتکم يموت طاهرًا'' (۹۰)

3. میت کو مسجد سے باہر رکھ کر مسجد میں نماز جنازہ ادا کرنے کا دعویٰ

امام ابن حجر عسقلانی ؒ (۸۵۲ھ)، امام شوکانیؒ (۱۲۵۰ھ) اور علامہ شمس الحق عظیم آبادی ؒ (۱۳۲۹ھ) فرماتے ہیں کہ

''بعض لوگ مسجد میں حضرت سہیلؓ کی نمازِ جنازہ کو اس بات پر محمول کرتے ہیں کہ ان کی میت مسجد سے باہر رکھی گئی تھی اور نمازی مسجد کے اندر تھے اور یہ چیز بالاتفاق جائز ہے۔ لیکن ان کا یہ قول محل نظر ہے، کیونکہ حضرت عائشہؓ کے اس حکم پر جب لوگوں نے نکارت کی تھی، جو حضرت سعد بن وقاصؓ کے جنازہ کو آپؓ کے حجرہ کے قریب سے لے کر گزرنے سے متعلق تھا تاکہ وہ اس پر نمازِ جنازہ پڑھ سکیں، تو آں رضی اللہ عنہا نے اسی واقعہ سے اپنے موقف پراستدلال کیا تھا۔ اور بعض لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ یہ عمل متروک قرار پایا ہے کیونکہ جن لوگوں نے حضرت عائشہؓ کے اس عمل پر نکارت کی تھی وہ لوگ صحابہ کرامؓ تھے، لیکن ان کے اس قول کا ردّ یوں ہے کہ جب حضرت عائشہؓ نے ان لوگوں کی نکارت کا انکار کیا تو ان لوگوں نے اس کو تسلیم کرلیا تھا۔ پس یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ آں رضی اللہ عنہا کو وہ حکم یاد تھا جو کہ وہ صحابہؓ (معترضین) بھول گئے تھے۔ اور امام ابن ابی شیبہؒ وغیرہ نے روایت کی ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے اور حضرت حضرت صہیبؓ نے حضرت عمرؓ کے جنازوں کی نمازیں مسجد میں پڑھائی تھیں، بلکہ ایک روایت میں تو یہ زیادتی بھی ملتی ہے کہ ''جنازہ کو مسجد میں منبر کی جانب رکھا گیا تھا۔'' یہ چیز اس امر کے جواز پر اجماعِ صحابہ کی متقاضی ہے۔''(۹۱)

4. صرف بصورتِ عذر ہی مسجد میں نمازِ جنازہ کے جواز کا دعویٰ

امام ابن قیم جوزیؒ (۷۵۱ھ) فرماتے ہیں:

''پس ان دو حدیثوں کے بارے میں یہ لوگوں کی مختلف آرا ہیں لیکن حق بات وہی ہے جس کا ہم نے پہلے تذکرہ کیا ہے کہ آںﷺکی سنت اور آپؐ کا طریقہ مسجد سے باہر جنازہ کی نماز پڑھنا ہے اِلا یہ کہ کوئی عذر ہو۔ یہ دونوں اُمور جائز ہیں لیکن مسجد سے باہر نمازِ جنازہ پڑھنا ہی افضل ہے ، واللہ اعلم''(۹۲)

اسی طرح ابن حجر حضرت ابن عمرؓ کی 'صحیح بخاری' میں وارد حدیث کے متعلق فرماتے ہیں :

''حضرت ابن عمرؓ کی یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جنازوں کیلئے ایک خاص جگہ مقرر تھی، جہاں جنازہ کی نمازیں پڑھی جاتی تھیں، اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ بعض جنائز کی نمازوں کا مسجد میں واقع ہونا امر عارض یا جواز کے بیان کیلئے تھا۔ واللہ أعلم''(۹۳)

میں کہتا ہوں کہ جہاں تک کسی عذر یا امر عارض کی وجہ سے مسجد میں نمازِ جنازہ کے جواز کا تعلق ہے تویہ بعید ہے کیونکہ اگر واقعتہً ایسا ہوتا تو حضرت عائشہؓ اورجو امہات المومنینؓ ان کے ساتھ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی میت کو مسجد ِنبوی میں لانے کے وقت موجود تھیں۔ ان سے یہ امر پوشیدہ نہ ہوتا، نیز یہ کہ انہوںؓ نے جنازہ کو مسجد میں بلاعذر لانے کامطالبہ کیا تھا، پھر جن اصحاب رسولﷺ وغیرہ نے حضرت عائشہؓ کے اس فعل پرنکارت کی تھی وہ کسی عذر یا امر عارض کی عدمِ موجودگی کے باعث نہ تھی بلکہ وہ اصلاً مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنے ہی کو غلط سمجھتے تھے جیسا کہ اوپر روایات کی تفصیل سے واضح ہوتا ہے۔ نیز یہ کہ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ حضرات سہل و سہیل نیز ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کے جنازوں کے مسجد ِنبوی میں پڑھے جانے کے وقت کون سا عذر درپیش تھا؟ پس معلوم ہوا کہ مسجدمیں نمازِ جنازہ پڑھنے کو کسی عذر یا امر عارض کے ساتھ مشروط کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ یہ ایک خلافِ واقعہ اور ایسا دعویٰ ہے جو محتاج دلیل ہے، واللہ أعلم

مسجد میں بلا عذر نمازِ جنازہ کاجواز لیکن خارج از مسجد

نمازِ جنازہ پڑھنے کی افضلیت، علما کی نظر میں

مشاہیر علما میں سے امام ابن قدامہ مقدسیؒ (۶۲۰ھ) فرماتے ہیں:

''اگر مسجدکی آلودگی کا خوف نہ ہو تو مسجد میں میت پر نمازِ جنازہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ امام شافعی، امام اسحاق، امام ابوثور اور امام داود رحمہم اللہ کا قول ہے۔ امام مالک اور امام ابوحنیفہ رحمہماللہ نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے، کیونکہ 'مسند' میں نبیﷺ سے مروی ہے: «من صلی علی جنازة في المسجد فلاشيء له» لیکن ہمارے نزدیک وہ حدیث حجت ہے جس کی روایت امام مسلمؒ وغیرہ نے حضرت عائشہؓ سے کی ہے، فرماتی ہیں کہ ''رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن بیضاؓ کی نمازِ جنازہ مسجد ہی میں پڑھائی تھی۔'' (پھر حضرت عائشہؓ کی مکمل حدیث بروایت ِامام مالکؒ اور حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے جنازوں کی مسجدمیں نمازوں سے متعلق دو روایات نقل کرتے ہیں، پھر فرماتے ہیں کہ ) یہ تمام واقعات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں ہوئے اور انہوں نے اس پر کوئی نکارت نہیں کی، لہٰذا اس پر اجماعِ صحابہ ہوگیا۔ چونکہ نمازِ جنازہ بھی نماز ہی کی ایک قسم ہے، اس لئے انہوں نے دوسری تمام نمازوں کی طرح (اسے بھی مسجد میں پڑھنے سے) منع نہیں کیا۔''(۹۴)

امام ابوعیسیٰ ترمذی (۲۷۹ھ) اپنی سند کے ساتھ حضرت عائشہؓ سے مروی حدیث بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

''یہ حدیث حسن ہے اور اسی پر بعض اہل علم کا عمل ہے۔ امام شافعیؓ کا قول ہے کہ امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ مسجد میں میت پر نمازِ جنازہ نہ پڑھی جائے، مگر خود امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ مسجد میں میت پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی اور اسی حدیث کو وہ اپنے قول کی دلیل بناتے ہیں۔''(۹۵)

امام ابی الفرج ابن جوزیؒ (۵۹۷ھ) فرماتے ہیں کہ : ''مسجد میں میت پر نمازِ جنازہ پڑھنا مکروہ نہیں ہے، لیکن امام ابوحنیفہ اور امام مالک رحمہما اللہ کا قول ہے کہ مکروہ ہے۔''(۹۶)

امام خطابیؒ (۳۸۸ھ) فرماتے ہیں کہ : ''یہ ثابت ہے کہ حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما دونوں کی نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھی گئی تھیں اور یہ بات معلوم ہے کہ ان دونوں خلفا کے جنازوں کی نمازوں میں عام مہاجرین اور انصار شریک تھے۔ پس انکا اس فعل پر ترکِ نکارت اسکے جواز کی دلیل ہوئی۔''(۹۷)

امام نوویؒ (۶۷۶ھ) فرماتے ہیں: ''مسجد میں میت پر نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے۔''(۹۸)

امام باجوریؒ فرماتے ہیں: ''سنت یہ ہے کہ میت پرنمازِ جنازہ مسجد میں پڑھی جائے۔''(۹۹)

امام محمد بن رشد قرطبیؒ (۵۹۵ھ) فرماتے ہیں: ''مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنے کے بارے میں علما کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض علما نے اس کی اجازت دی ہے اور بعض نے اسے مکروہ بتایا ہے۔ ان علما میں امام ابوحنیفہؒ اور امام مالک کے بعض اصحاب شامل ہیں۔ امام مالکؒ سے بھی اس کی کراہت منقول ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق ایسا اس وقت ہے جبکہ جنازہ مسجد کے باہر ہو اور لوگ مسجد میں داخل ہوں۔ اس بارے میں اختلاف کا سبب حضرت عائشہؓ اور حضرت ابوہریرہؓ کی احادیث ہیں۔ حضرت عائشہؓ کی حدیث جس کی روایت امام مالکؒ نے کی ، میں مروی ہے (پھر حدیث عائشہ ؓ نقل کرتے ہیں) جبکہ حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث میں مذکور ہے (پھر حدیث ابوہریرہؓ نقل کرتے ہیں)۔ حضرت عائشہؓ کی حدیث ثابت ہے جبکہ حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث غیر ثابت یا ثبوت کے اعتبار سے متفق علیہ نہیں ہے۔''(۱۰۰)

امام ابن حجر عسقلانیؒ (۸۵۲ھ) فرماتے ہیں: ''امام بخاریؒ نے حضرت ابن عمرؓ کی حدیث سے مسجد میں جنازوں کی نماز کی مشروعیت پر استدلال کیا ہے۔ اس بات کو حضرت عائشہؓ کی 'صحیح مسلم' والی حدیث سے تقویت ملتی ہے جس میں مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے حضرت سہیل بن بیضاؓ کی نمازِجنازہ مسجد ہی میں پڑھائی تھی۔''(۱۰۱)

امام ابن قیم جوزیؒ (۷۵۱ھ) فرماتے ہیں: ''مسجدمیں نمازِ جنازہ پڑھنا رسول اللہ ﷺ کی مسلسل یا دائمی سنت نہیں تھی، بلکہ آپؐ جنازہ کی نماز مسجد کے باہر پڑھا کرتے تھے، لیکن کبھی کبھار آپؐ مسجد میں بھی نمازِ جنازہ پڑھ لیتے تھے، جس طرح کہ آپؐ نے حضرت سہیل بن بیضاؓ اور ان کے بھائی کی نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھی تھی۔ لیکن یہ نہ آپؐ کا طریقہ تھا اور نہ ہی آپؐ کی عادت، بلکہ امام ابوداؤدؒ نے اپنی'سنن' میں ابوہریرہؓ سے صالح مولی التوأمہ کی حدیث روایت کی ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: «من صلی علی جنازة في المسجد فلاشيء له»(۱۰۲)

امام شوکانیؒ (۱۲۵۰ھ) حضرت عائشہؓ کی حدیث کے متعلق فرماتے ہیں کہ ''یہ حدیث مسجدمیں میت کے داخل کرنے اور مسجد ہی میں اس پر نمازِ جنازہ پڑھنے کے جواز پردلالت کرتی ہے۔ امام شافعیؒ، امام احمدؒ، امام اسحاقؒ اور جمہور کا یہی قول ہے۔ امام ابن عبدالبرؒ فرماتے ہیں۔ اہل مدینہ نے امام مالکؒ سے بھی ایک روایت کے مطابق ایسا ہی نقل کیا ہے۔ ابن حبیب مالکیؒ کا قول بھی یہی ہے، لیکن ابن ابی ذئب، امام ابوحنیفہؒ اور مشہور روایت کے مطابق امام مالکؒ، ہادویہ اور ان تمام لوگوں نے اس کی کراہت بیان کی ہے جو میت کی نجاست کے قائل ہیں۔''(۱۰۳)

علامہ نور الدین ابوالحسن محمد بن عبدالہادی سندھی حنفیؒ (۱۱۳۹ھ) التعلیق علی المجتبیٰ میں حدیث ِعائشہ ؓکے الفاظ إلافي المسجد کی شرح میں فرماتے ہیں:

''بظاہر یہ حدیث مسجد میں نمازِ جنازہ کے جواز میں وارد ہے۔ چونکہ نبیﷺکی عادت مسجد سے باہر نمازِ جنازہ پڑھنا تھی، لہٰذا یہ کہنا زیادہ اقرب ہے کہ مسجد میں نمازِ جنازہ کے جواز کے باوجود مسجد کے باہر نمازِ جنازہ پڑھنا افضل ہے۔ واللہ أعلم''(۱۰۴)

علامہ محمد ناصر الدین البانیؒ نے علامہ ابوالحسن سندھیؒ کا یہ قول ذرا تفصیل سے یوں نقل کیا ہے

''پس یہ حدیث اس بیان کے لئے ہے کہ جس طرح دوسری فرض نمازوں کے مسجد میں پڑھنے پراجر ملتا ہے، اس طرح مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنے کاکوئی اضافی اجر محض اس وجہ سے نہیں ملتا ہے کہ وہ مسجد میں پڑھی گئی ہے مگر اصل نماز کااجر باقی رہتا ہے۔ جہاں تک اس حدیث سے استفادہ کرتے ہوئے بعض لوگوں کو یہ وہم ہوا ہے کہ مسجد میں ہونے کے باعث اس کا اجر سلب ہوجاتا ہے تو جاننا چاہئے کہ اس حدیث سے مسجد میں نمازِ جنازہ کی اباحت مستفاد ہوتی ہے اور یہ بھی کہ مسجد کے باہر نماز پڑھنے کے مقابلہ میں اس کی کوئی زیادہ فضیلت نہیں ہے۔ حسب ِموقع دلائل کے مابین تعارض کو دفع کرنے اور موافقت پیدا کرنے کی غرض سے اس احتمال کی تعیین بھی کرنی چاہئے۔ اس بنا پر مسجد میں نماز جنازہ کی کراہت کا قول دشوار ہے، البتہ یہ کہنا چاہئے کہ مسجد کے باہر نماز پڑھنا افضل ہے اور یہ اس بنا پر کہ آں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیشتر حالات میں مسجد کے باہر ہی نماز پڑھتے تھے اور مسجد میں آپؐ کا یہ فعل صرف ایک یا دو بار تھا، واللہ أعلم۔''(۱۰۵)

میں کہتا ہوں کہ علامہ البانیؒ نے اسی قول کو پسند کیا ہے، چنانچہ حاشیہ نمبر ۷۳ کے متعلق اوپر گزری عبارت علامہ سندھیؒ کے اسی قول سے مستفاد ہے۔

علامہ محدث شمس الحق عظیم آبادیؒ (۱۳۲۹ھ) فرماتے ہیں کہ ''سنن ابوداود کی اس باب کے تحت وارد دونوں حدیثیں مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھے جانے کی مشروعیت پردلالت کرتی ہیں۔ حافظ ابن حجرؒ نے 'فتح الباری' میں لکھا ہے کہ :یہی جمہور کا قول ہے، لیکن امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ چیز پسند نہیں ہے اور امام ابوحنیفہؒ، ابن ابی ذئبؒ اور ان تمام لوگو ں نے جو میت کی نجاست کے قائل ہیں، اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے۔ البتہ جو لوگ میت کے پاک ہونے کے قائل ہیں، ان میں سے بھی بعض مسجد کی آلودگی کا خدشہ بیان کرتے ہیں۔''(۱۰۶)

علامہ عبدالرحمن محدث مبارکپوریؒ (۱۳۵۲ھ) فرماتے ہیں: ''جنازہ کی نماز مسجد میں پڑھنا جائز ودرست ہے، 'صحیح مسلم' میں حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے سہلؓ اور ان کے بھائی (سہیلؓ) کے جنازہ کی نماز مسجد میں پڑھی ہے اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے جنازہ کی نماز بھی مسجد ہی میں پڑھی گئی ہے۔ مگر مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنے کی عادت نہیں کرنی چاہئے، بلکہ نمازِ جنازہ کے واسطے مسجد کے علاوہ کوئی اور جگہ مقرر کرنی چاہئے ، جیسا کہ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں مسجد نبوی کے علاوہ ایک خاص جگہ نمازِ جنازہ کے واسطے مقرر تھی۔''(۱۰۷)

علامہ محدث مبارکپوریؒ امام مالکؒ کے قول بروایت ِامام شافعیؒ کو نقل کرتے ہوئے ایک مقام پر فرماتے ہیں:

''یہ قول ابن ابی ذئبؒ، ا مام ابوحنیفہؒ اور ان تمام لوگوں کا ہے جو میت کے نجس ہونے کے قائل ہیں۔ یہ تمام حضرات حضرت ابوہریرہؓ کی مرفوع حدیث : ''من صلی علی جنازة في المسجد فلاشيء له''رواہ ابوداود، سے دلیل پکڑتے ہیں۔ اور ان میں سے بعض اس بات سے دلیل پکڑتے ہیں کہ اس عمل کا متروک ہونا قرار پایا ہے، کیونکہ جن لوگوں نے حضرت عائشہؓ پرنکارت کی تھی وہ لوگ صحابہ کرامؓ تھے، لیکن حافظ ابن حجرؒ نے اس بات کی تردید یوں فرمائی ہے کہ جب حضرت عائشہؓ نے ان لوگوں کی نکارت کا انکار کیا تو ان لوگوں نے حضرت عائشہؓ کی بات تسلیم کرلی تھی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت عائشہؓ کو وہ حکم یاد تھا جس کو وہ لوگ بھول چکے تھے۔''(۱۰۸)

علامہ محدث مبارکپوریؒ امام شافعیؒ کے قول کہ مسجد میں میت پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی اور حدیث الباب سے ان کے استدلال کی شرح میں فرماتے ہیں کہ

''یہ قول امام احمدؒ، امام اسحاقؒ اور جمہور کا ہے۔یہ لوگ اس باب میں وارد حدیث سے استدلال کرتے ہیں اور اس بات سے بھی دلیل پکڑتے ہیں کہ نبیﷺ نے مصلیٰ میں نجاشی کی نمازِ جنازہ پڑھی تھی، جیساکہ 'صحیح البخاری' میں مروی ہے اور چونکہ مصلیٰ بھی مسجد کے حکم ہی میں داخل ہے، چنانچہ لائق اجتناب چیزوں سے اس میں بھی پرہیز مطلوب ہے۔ اس کی دلیل حضرت اُمّ عطیہ کی یہ حدیث ہے کہ :''حائضہ عورت مصلیٰ سے دور رہے۔'' حافظ ابن حجر ؒ 'فتح الباری' میں فرماتے ہیں کہ امام ابن ابی شیبہؒ وغیرہ نے روایت کی ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھائی، اسی طرح حضرت صہیبؓ نے حضرت عمرؓ کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھائی تھی، بلکہ ایک روایت میں تو یہ زیادتی بھی ملتی ہے کہ : ''اور جنازہ کو مسجد میں منبر کی جانب رکھا۔'' اور یہ چیز اس کے جواز پر اِجماع کی متقاضی ہے۔ میں کہتاہوں کہ حق بات یہ ہے کہ یہ جائز ہے۔''(۱۰۹)

مولانا عبدالتواب محدث ملتانی ؒ (۱۳۶۶ھ) حضرت عائشہؓ سے مروی 'صحیح مسلم' کی حدیث کی شرح میںلکھتے ہیں: ''حدیث ِہذا دلیل ہے اس پر کہ مسجد میں جنازہ پڑھنا جائز ہے۔ یہی قول ہے جمہور علما کا، لیکن ابوحنیفہؒ و مالکؒ نے کہا کہ درست نہیں اور حدیث کی ایک بعید تاویل کرتے ہیں۔''(۱۱۰)

مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانیؒ فرماتے ہیں کہ

''حنفیہ اس کی کراہت ِتحریمی کے قائل ہیں، جیسا کہ اکثر احناف کا قول ہے، یا کراہت ِتنزیہی ہے، جیسا کہ ابن ہمامؒ اور صاحب تعلیق الممجد(مولانا محمد عبدالحئ لکھنوی حنفیؒ ۱۳۰۴ھ)کی رائے ہے، لیکن بظاہر یہ جائز ہے، جیسا کہ علامہ سندھیؒ نے بیان کیا ہے۔''(۱۱۱)

علامہ شیخ محمد بن ابراہیم تویجری فرماتے ہیں:

''سنت یہ ہے کہ جنازوں پر نماز اس جگہ پڑھی جائے جو کہ نمازِ جنازہ کے لئے مقرر کی گئی ہو۔ میت پر نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھنا بھی جائز ہے۔''(۱۱۲)

علامہ سید سابق فرماتے ہیں:

''اگر پلیدی کا خدشہ نہ ہو تو مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کی بنیاد'صحیح مسلم' کی حضرت عائشہؓ والی حدیث ہے جس میں مروی ہے کہ: نبی ﷺنے سہیل بن بیضاؓ کی نمازجنازہ مسجد میں پڑھی تھی۔ اسی طرح صحابہ کرامؓ نے حضرات ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے جنازوں کی نمازیں مسجد میں ادا کیں، مگر کسی نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا، کیونکہ نمازِ جنازہ بھی دوسری نمازوں کی طرح ایک نماز ہی ہے۔ امام ابوحنیفہؒ اور امام مالکؒ رسول اللہﷺکی ایک حدیث کے حوالہ سے اس کی اجازت نہیں دیتے۔ آں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسجد میں نماز جنازہ پڑھے اس کے لئے کچھ نہیں (کوئی اجر نہیں ) ہے۔ یہ حدیث رسول اللہﷺاور آپؐ کے اصحابؓ کے عمل کے خلاف ہے بلکہ دوسری وجوہ کے باعث ضعیف بھی ہے۔''(۱۱۳)

علامہ سید سابق امام ابن قیمؒ سے ناقل ہیں کہ

''مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنا نبیﷺکا بالعموم طریقہ نہ تھا، بلکہ عام طور پر آپؐ مسجدکے باہر نمازِ جنازہ پڑھا کرتے تھے، اِلا یہ کہ جب مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنے کا کوئی معقول سبب ہو، بعض موقعوں پر آپؐ نے مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھی ہے جیسے کہ ابن بیضاؓ کا معاملہ میں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنازہ کی نماز مسجد کے اندر و باہر ہر دو جگہ پڑھی جاسکتی ہے، لیکن مسجد کے باہر ایسا کرنا افضل ہے۔''(۱۱۴)

علامہ عبدالعزیز محمد سلمان فرماتے ہیں

''اگر مسجد پلیدی سے محفوظ رہے تو میت پر مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنا مباح ہے جیسا کہ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے، فرماتی ہیں کہ :''اللہ کی قسم رسول اللہﷺنے بیضاؓ کے دو بیٹوں کی نمازِجنازہ مسجد میں پڑھی تھی اور سعید بن منصورؒ کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کی نمازِ جنازہ بھی مسجد میں پڑھی گئی تھی۔''(۱۱۵)

علامہ محمدناصر الدین البانیؒ فرماتے ہیں: ''جنازہ پر مسجد میں نماز پڑھنا حدیث ِعائشہؓ کی وجہ سے جائز ہے (پھر حدیث ِعائشہؓ اور اس کے مخرجین کی بابت ذکر کرتے ہیں) لیکن جنازہ پر مسجد کے باہر ایسی جگہ نماز پڑھنا افضل ہے جو نمازِ جنازہ کے لئے مقرر اور مخصوص ہو، جیسا کہ نبیﷺکے عہد ِمبارک میں ہوتا ہے اور بیشتر آپؐ کا معمول بھی یہی تھا۔''(۱۱۶)

علامہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں: ''میں کہتا ہوں کہ اس جمع و تطبیق کے بعد جو حدیث صالح و حدیث عائشہؓ کے درمیان بیان ہوئی اور یہ کہ دونوں حدیثیں مسجد میں نمازِ جنازہ کی اباحت پر دلالت کرتی ہیں اور اس بات پر بھی کہ مسجد سے باہر نماز پڑھنا افضل ہے تو اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ جمع و تطبیق نفسانی خواہشات اور مسلکی تعصب سے پاک ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہی رسول اللہﷺ کا بیشتر معمول رہا ہے، جیسا کہ 'احکام الجنائز' میں واضح کیا گیا ہے۔''(۱۱۷)

شیخ عبداللہ بن محمد الطیار فرماتے ہیں: ''اگر تلویث (آلودگی) کا خوف نہ ہو تو مسجد میں میت پر نماز جنازہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے یہ امام شافعی، امام اسحاق، امام ابوثور اور امام ابوداود رحمہم اللہ کا قول ہے ، جبکہ امام مالک اور امام ابوحنیفہ رحمہما اللہ نے اسے مکروہ بتایا ہے۔''(۱۱۸)

نمازِ جنازہ کے لئے دورِ نبوی میں مخصوص جگہ

1. جہاں تک مسجد کے باہر نمازِ جنازہ کے لئے کسی جگہ کو مخصوص ومقرر کرنے کا تعلق ہے تو اس بارے میں امام بخاریؒ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے یوں روایت کی ہے:«إن اليهود جاء وا إلی النبي ﷺ برجل منهم وامرأة زنيا فأمر بهما فرجما قريبًا من موضع الجنائز عند المسجد» (۱۱۹) ''نبیﷺ کے پاس یہودی اپنوں ہی میں سے ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر حاضر ہوئے جنہوں نے زنا کا ارتکاب کیا تھا۔ پس آپؐ نے ان کے بارے میں حکم فرمایا لہٰذا انہیں مسجد کے قریب جنازوں کی جگہ کے پاس سنگسار کیا گیا۔''

امام ابن حجر عسقلانیؒ (۸۵۲ھ) فرماتے ہیں: ''ابن بطالؒ نے ابن حبیبؒ سے نقل کیا ہے کہ مدینہ منورہ میں جنائز کی نماز پڑھنے کی جگہ مسجد النبیﷺسے جڑی ہوئی مشرق کی جانب تھی۔''(۱۲۰)

علامہ البانیؒ نے عہد ِنبوی میں مسجد نبوی سے باہر جنائز کے لئے ایک جگہ مخصوص ہونے کی تائید میں چار احادیث ذکر کی ہیں جن میں سے پہلی حدیث تو یہی حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مذکورہ بالا'صحیح البخاری' والی حدیث ہے۔

2. دوسری حدیث حضرت جابر بن عبداللہؓ سے یوں مروی ہے:« مات رجل، فغسلناه وکفناه وحنطناه ووضعناه لرسول الله ﷺ حيث توضع الجنائز عند مقام جبريل ثم آذنا رسول الله ﷺ بالصلاة عليه، فجاء معنا الخ»(۱۲۱)

''ایک شخص مرگیا تو ہم نے اسکو غسل دیا، اس کو کفن پہنایا اور اسے خوشبو لگائی، پھر رسول اللہﷺ کیلئے اسے مقامِ جبریل کے پاس جنازوں کے رکھے جانے کی جگہ رکھ دیا۔ پھر ہم نے رسو ل اللہ ا کو اسکی نماز جنازہ کیلئے بلایا۔ پس آپؐ ہمارے ساتھ تشریف لائے، الخ''

3. تیسری حدیث محمد بن عبداللہ بن جحش سے مروی ہے، فرماتے ہیں : «کنا جلوسا بفناء المسجد حيث توضع الجنائز ورسول اللهﷺجالس بين ظهرانينا فرفع رسول اللهﷺبصره إلی السماء ... الخ»(۱۲۲) ''ہم مسجد کے سامنے کھلی اس جگہ بیٹھے ہوئے تھے جس جگہ جنازے رکھے جاتے تھے اور رسول اللہﷺ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے۔ پس رسو ل اللہ ا نے اپنی نگاہ مبارک آسمان کی طرف اٹھائی... الخ''

4. اس بارے میں چوتھی حدیث بعض اصحاب النبیﷺ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ:

''اہل عوالی کی ایک مسکین عورت تھی جو بہت عرصہ سے بیما رتھی۔ رسول اللہﷺ اس کے پڑوسیوں میں سے جو آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، اس کی کیفیت معلوم کرتے اور حکم دیتے کہ اگر وہ مرجائے تو آپؐ کو خبر دیئے بغیر اسے دفن نہ کریں تاکہ آپؐ اس کی نمازِجنازہ پڑھا سکیں: «فتوفيت تلك المرأة ليلاً واحتملوها فأتوا بها مع الجنائز أوقال موضع الجنائز عند مسجد رسول اللهﷺليصلي عليها رسول اللهﷺ کما أمرهم فوجدوه قد نام بعد صلاة العشاء فکرهوا أن يهجدوا رسول اللهﷺمن نومه فصلوا عليها ثم انطلقوا بها... الخ»

''پس ایک رات یہ عورت مرگئی تو لوگ اسے جنازوں کے ساتھ آپؐ کے پاس لائے یا راوی نے یہ کہا کہ اسے مسجد ِنبوی کے پاس جنائز کی جگہ لائے تاکہ آںﷺ اس کی نمازِ جنازہ پڑھا سکیں، جیسا کہ آں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا تھا۔ جب لوگوں نے پایا کہ آپﷺ عشا کی نماز کے بعد سوگئے ہیں تو انہیں آںﷺ کو نیند سے جگانا بُرا محسوس ہوا، پس ان لوگوں نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی اور اسے لے کر چلے گئے...الخ''

خلاصۂ بحث

رسول اللہﷺ، خلفاے راشدین، ازواجِ مطہرات اور صحابہ کرام کے عمل نیز صحابہ کرامؓ کے اجماع، اُمت کے متواتر عمل، محدثین، جمہور فقہا اور علماے سلف و خلف کی بے شمار آرا اس بات کی متقاضی ہیں کہ مسجد کے اندر بلاعذر نمازِ جنازہ پڑھنے میں قطعاً کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ ایسا کرنا بہرصورت شرعاً درست وجائز ہے۔ نہ اس امر میں کسی قسم کی کوئی کراہت ہے اورنہ قباحت، نیز یہ کہ مانعین کے پاس اپنے موقف کو ثابت کرنے کیلئے ٹھوس دلیل موجود نہیں ہے۔

لیکن اس کے ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ مسجد کے باہر کسی مقام کو جنائز کے لئے مخصوص و مقرر کرلیا جائے تو اس جگہ ہی نمازِ جنازہ پڑھنا افضل ہے کہ یہی رسول اللہﷺ کا عام معمول تھا، لیکن اگر کوئی شخص کبھی کبھار تعلیم اُمت کی نظر سے یا اس مردہ سنت کو زندہ کرنے کی نیت سے یا اس عمل کو بھی سنت ِنبوی سمجھ کر مسجد میں نمازِ جنازہ ادا کرے تو اس کا یہ عمل مستحسن ہے اور ان شاء اللہ اس کے لئے وہ ماجور ہوگا، واللہ أعلم بالصواب!
حوالہ و حاشیہ

(۷۴) زاد المعاد ۱؍۴۸۲، نصب الرایہ۲؍۲۷۶ (۷۵) فتح الباری ۵؍۲۸۱

(۷۶) نفس مصدر ۱؍۳۴۱، ۵۸۹، ۳؍۱۸۱، ۱۰؍۸۳، ۱۱؍۵۳۴،۱۲؍۲۵۸،۱۳؍۳۵۵ (۷۷) نفس مصدر ۱۳؍۳۱۶

(۷۸) نفس مصدر ۱؍۲۷۷،۵۶۳،۵۹۲،۲؍۵۶،۱۹۶،۳۶۳، ۴۱۰،۴۷۰، ۳؍۵۴۳، ۴؍۸۳، ۳۳۰، ۴۵۳، ۴۵۹، ۳۷۱،۳۸۲، ۵؍۵۷، ۱۴۴،۲۳۱، ۲۸۲،۴۱۲،۶؍۶۲،۹؍۳۱۰،۶۵۱، ۱۰؍۱۷، ۲۴۲،۳۶۲،۳۹۰، ۱۲؍۲۰۰،۲۸۵

(۷۹) نفس مصدر ۳؍۵۴۷ (۸۰) نفس مصدر ۱؍۳۱۸،۳؍۱۴،۱۰؍۳۹۰، ۳۹۷،۱۱؍۳۴۰

(۸۱) نفس مصدر ۳؍۴۳۳ (۸۲) نفس مصدر ۳؍۱۱ (۸۳) نفس مصدر ۹؍۴۸۷

(۸۴) بدایۃ المجتہد نہایۃ المقتصد ۱؍۲۴۲-۲۴۳ (۸۵) نیل الأوطار ۲؍۷۴۸

(۸۶) متفق علیہ کما فی التحقیق لابن الجوزی ۲؍۴

(۸۷) مسنداحمد ۵؍۳۸۴،۴۰۲، صحیح مسلم ۳۷۱، سنن ابی داود۲۳۰، سنن نسائی ۱؍۱۴۵، سنن ابن ماجہ ۵۳۵

(۸۸) سنن الدارقطنی ۲؍۷۰، مستدرک للحاکم ۱؍۳۸۵، التحقیق لابن الجوزی ۲؍۴

(۸۹) رواہ البخاری تعلیقاً ۳؍۱۲۵ ورواہ الشافعی ایضاً (۹۰) سنن الکبری للبیہقی ۳؍۳۹۸

(۹۱) فتح الباری ۳؍۱۹۹، نیل الاوطار ۲؍۸۴۸، عون المعبود ۳؍۱۸۲ (۹۲) زاد ا لمعاد ۱؍۴۸۳

(۹۳) فتح الباری ۳؍۱۹۹ (۹۴) المغنی ۲؍۴۹۳-۴۹۴ (۹۵) جامع الترمذی مع التحفۃ ۲؍۱۴۶

(۹۶) التحقیق لابن الجوزی ۲؍۱۳ (۹۷) کذا فی زاد المعاد ۱؍۴۸۲-۴۸۳

(۹۸) منہاج الطالبین ق ۲؍۳۴ (۹۹) حاشیۃ علی ابن القاسم للباجوری ۱؍۴۲۴

(۱۰۰) بدایۃ المجتہد۱؍۲۴۲-۲۴۳ (۱۰۱) فتح الباری ۳؍۱۹۹ (۱۰۲) زاد ا لمعاد ۱؍۴۸۱

(۱۰۳) نیل الاوطار ۲؍۸۴۸ (۱۰۴) کذا فی التعلیقات السلفیہ ۱؍۲۲۶ (۱۰۵) الصحیحۃ ۵؍۴۶۵

(۱۰۶) عون المعبود ۳؍۱۸۲ (۱۰۷)کتاب الجنائز للمبارکفوری ص۴۸،۴۹، درایۃ ص ۱۴۴، تلخیص الجیر ص۱۶۳

(۱۰۸) تحفۃ الاحوذی ۲؍۱۴۶ (۱۰۹) نفس مصدر و کذا فی فتح الباری ۳؍۱۹۹ ،ایضا

(۱۱۰) حاشیۃ علی بلوغ المرام (مترجم) ص۱۹۰ (۱۱۱) التعلیقات السلفیہ ۱؍۲۲۶

(۱۱۲) مختصر الفقہ الاسلامی ص۵۱۰ (۱۱۳) الفقہ السنہ (مترجم)۴؍۵۳ (۱۱۴) نفس مصدر

(۱۱۵) الاسئلۃ و الاجوبۃ الفقہیہ المقرونۃ بالادلۃ الشرعیۃ ۱؍۲۶۵ (۱۱۶) احکام الجنائز و بدعھا اللالبانی ص۱۰۶

(۱۱۷) نفس مصدر ص۱۰۶،۱۰۷ و سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ۵؍۴۶۵ (۱۱۸)کتاب الصلاۃ ص۲۷۵

(۱۱۹) صحیح البخاری ۳؍۱۹۹ (۱۲۰) فتح الباری ۳؍۱۹۹

(۱۲۱) اخرجہ الحاکم ۲؍۵۸ وقال صحیح الاسناد و وافقہ الذہبی فی 'التلخیص' ورواہ البیہقی ۶؍۷۴،۷۵ و الطیالسی ۱۶۷۳

و احمد ۳؍۳۳۰ باسناد حسن کما قال الھثیمی فی مجمع الزوائد ۳؍۳۹

(۱۲۲) اخرجہ احمد ۵؍۲۸۹ والحاکم ۲؍۲۴ وقال صحیح الاسناد و وافقہ الذہبی فی 'تلخیصہ' واقرہ المنذری فی 'ترغیبہ' ۳؍۳۴

(۱۲۳)اخرجہ البیہقی ۴؍۴۸ باسناد صحیح والنسائی مختصراً ۱؍۲۸۰،۲۸۱ وذکرہ الالبانی فی اَحکام الجنائز ص۸۹،۱۰۶،۱۰۷