حضور نبی اکرم ﷺ سے صدقِ دل سے محبت کرنا ہر مسلمان کے دین و ایمان کا بنیادی تقاضا ہے اور آپؐ سے اظہارِ محبت کی اہم ترین صورت یہ ہے کہ آپؐ کے اَقوال و فرمودات (احادیث ِنبویہ) سے محبت کی جائے اور آپؐ کی احادیث اور فرمودات سے محبت کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں خلوصِ دل سے سچا و منزل من اللہ (یعنی وحی) تسلیم کیا جائے۔ انکی کامل اتباع و اطاعت کی جائے، انہیں اپنا اوڑھنا، بچھونا اور حرزِ جان بنا لیا جائے، انہیں پڑھا، لکھا اور یاد کیا جائے اور انہیں دوسرے لوگوں تک ہر ممکنہ ذریعے سے منتقل کیا جائے۔

مولانا وحید الزماں کا نام ان خوش قسمت لوگوں کی فہرست میں شامل ہے، جنہوں نے آنحضرت ا کے ارشادات و فرمودات سے اظہارِ محبت کرتے ہوئے علم حدیث کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ اس کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے کہ صحاح ستہ و موطأ کے وہ تراجم جو گذشتہ سو سال سے تاحال ہر دینی و علمی لائبریری کی زینت بنے ہوئے ہیں، مولانا مرحوم ہی کے فیضانِ قلم کا نتیجہ ہیں اور آج تک ہونے والے دیگر تراجم میں انہی سے بکثرت استفادہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مرحوم نے 'موضحۃ الفرقان مع تفسیر وحیدی' کے نام سے قرآن مجید کا اُردو ترجمہ مع مختصر تفسیر بھی تالیف کی ۔ علاوہ ازیں فقہ کی بعض ضخیم کتابوں کے ترجمے بھی آپ نے کیے۔ مثلا طالب ِعلمی کے دور میں شرح الوقایہ پڑھنے کے دوران اس کا مکمل ترجمہ بھی کر دیا۔ عربی سے اُردو ترجمہ کرنے میں آپ کوخداداد ملکہ حاصل ہو چکا تھا جیسا کہ حاجی محمد ادریس بھوجیانی ؒ لکھتے ہیں کہ

'' کچھ عرصہ بعد ایسا ملکہ حاصل ہو گیا تھا کہ بڑی سے بڑی کتابوں کا ترجمہ بلا تکلف کر لیتے تھے اور کہیں لغت دیکھنے کی حاجت نہیں ہوتی تھی!'' (اربابِ علم وفضل: ص ۱۴۱)

آپ محض اُردو تراجم کے شہسوار ہی نہ تھے بلکہ عربی میں گہری مہارت بھی رکھتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ مرحوم نے بعض عربی کتابوں کی تصحیح وتہذیب میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ بھوجیانی رقمطراز ہیں کہ ''ہندوستان کے ممتاز محدث حضرت شیخ علاؤ الدین علی متقی (المتوفی ۹۷۵ھ) کی شہرہ آفاق تالیف 'کثیر العمال فی سنن الاقوال والافعال' کو جب ۱۳۱۰ھ میں دائرۃ المعارف النظامیہ، حیدر آباد دکن نے طبع کرانا چاہا تواس کی تصحیح کے لیے اربابِ حل وعقد کی نظر انتخاب جس پر پڑی وہ حضرت مولانا وحید الزمان ؒ کی ذاتِ گرامی تھی۔چنانچہ یہ اہم کام آپ ہی کے سپرد ہوا۔ یہ نسخہ نہایت غلط تھا،لیکن آپ نے محنت ِشاقہ سے اس کی تصحیح کی اور اس کام کو پوری تن دہی سے پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔'' (اربابِ علم وفضل: ص ۱۴۶)

مولانا کو دینی کتب تصنیف وتالیف ،تراجم اور تصحیح وتہذیب کا جتناشوق تھا، اس سے کہیں زیادہ کتابوں کو طبع کرانے اور پھر مفت تقسیم کرانے کا شوق تھا۔ حتیٰ کہ اپنی بے شمار کتابوں کے حقوق بھی محفوظ نہ کرئے بلکہ بھوجیانی کے بقول ''آپ نے فرمایا: میری تالیف کردہ کتاب جو شخص چاہے طبع کر وائے۔ اس طرح مطبع والوں نے آپکی تالیف کردہ کتابوں کو طبع کر کے خوب دولت کمائی۔ ''(ایضاً ۱۴۶،۱۴۷)

مولانا مرحوم ۱۲۶۷ھ میں کانپور میں پیدا ہوئے اور اپنے والد بزرگوار مسیح الزماں اور برادر اکبر حافظ بدیع الزماں کے علاوہ دیگر علمائے کانپور سے دینی علوم حاصل کئے اور چھوٹی ہی عمر میں تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع کردیا، یاد رہے کہ مرحوم نے حجاز کے کبار علما سے بھی دینی علوم حاصل کئے جبکہ شیخ الکل سید نذیر حسین دہلویؒ سے سندحدیث حاصل کی۔ (ملاحظہ ہو:نزہۃ الخواطر از عبدالحی لکھنویؒ:۸؍۵۱۴)

موصوف کے مسلک و عقیدہ کے حوالہ سے لوگوں میں اختلافِ رائے پایا جاتا ہے، بعض لوگ آپ کو حنفی ومقلد اور بعض اہلحدیث قرار دیتے ہیں جبکہ بعض نے آپ کے شیعہ ہونے کا بھی گمان ظاہر کیا ہے۔ بعض کاخیال ہے کہ آپ پہلے حنفی المذہب تھے پھر احادیث کے تراجم کے دوران آپ مسلکاً اہلحدیث ہوگئے۔ (اربابِ علم وفضل از محمد ادریس بھوجیانی ص ۱۳۹)

موصوف کی مختلف کتابیں اور تراجم دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کتاب میں تو وہ تقلید کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور کہیں دوسری کتاب میں اس سے زیادہ شدت سے تقلید کی تردید کررہے ہوتے ہیں۔ بعض اقتباسات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرحوم شیعہ فکر سے متاثر ہیں جبکہ اکثر و بیشتر مقامات پر موصوف شیعہ حضرات کی تردید و ابطال کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں، اسی طرح کہیں یہ شک پڑتا ہے کہ موصوف حنبلی ہیں یااہلحدیث ہیں؟ جبکہ ان کے بعض اقوال سے کتاب وسنت کی حدود میں آزادیٔ فکر کے حامل نظر آتے ہیں۔ گویا ان کے عقیدہ ومسلک کی نشاندہی کرنا خاصا اُلجھا ہوا مسئلہ ہے۔

علامہ وحید الزماں مرحوم کے مختلف الجہت افکار و خیالات سے ایک یہ الجھن بھی پیدا ہوتی ہے کہ جب ان کی خدمات حدیث اور علم دوستی کو دیکھا جاتا ہے تو ہر مسلک کے لوگ انہیں اپنا ہم مسلک و ہم مشرب قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان کے تفردات و شذوذ پر نظر پڑتی ہے تو پھر ہر ایک کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ ان سے برأت کرکے دوسرے مسلک کو بدنام کیا جائے اور ان کے تفردات سے بھی اس طرح فائدہ اٹھایا جائے۔ إن هی الاقسمة ضيزی !

مرحوم کی 'لغات الحدیث' نامی کتاب کی روشنی میں ان کے عقیدہ ومسلک پر حتمی روشنی ڈالی جاسکتی ہے کیونکہ یہ وہ ضخیم اور قیمتی کتاب ہے جو موصوف نے اپنی زندگی کے آخری حصہ میں تالیف کی تھی۔ جیسا کہ اسی کتاب کے مقدمہ میں مصنف رقم طراز ہیں کہ

''اب شروع ۱۳۲۴ھ سے باوجود اس کے، میں کمالِ نقاہت اور ضعف پیری اور امراضِ مختلفہ میں گرفتار تھا لیکن اس پر بھی اوقات کو خالی گذارنا مشکل معلوم ہوا اور بالہامِ غیبی یہ حکم ہواکہ ایک کتاب لغات حدیث میں بزبان اُردو مرتب کر اور اس میں جہاں تک ہوسکے فریقین یعنی اہل سنت اور امامیہ کی حدیثیں جمع کرتاکہ حدیث ِشریف کے تمام طالبین کو شرح کا کام دے۔'' (دیکھئے : ج۱؍ ص۴)

یاد رہے کہ موصوف ۱۳۳۸ھ میں فوت ہوئے جبکہ مذکورہ کتاب کی تالیف ۱۳۲۴ھ میں انہوں نے شروع کی اور ظاہر ہے اتنی ضخیم کتاب کی تیاری میں بھی چند سال لگے ہوں گے۔ موصوف کے اپنے ہی بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی وفات سے چند سال پہلے اس کی تکمیل کرلی تھی، البتہ اس کی اشاعت میں موصوف کو مختلف مشکلات کا سامنا رہا جیسا کہ موصوف کے اس دعائیہ جملے سے ظاہر ہوتا ہے : ''یااللہ! تو اس کتاب کو قبول فرما اور اپنے فضل و کرم سے اس کو میری زندگی میں تمام اور شائع کرا دے۔'' (مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو: کتابِ مذکور کا مقدمہ از مصنف)

موصوف کی اس کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شروع میں حنفی المذہب تھے مگر بعد میں انہوں نے اس سے رجوع کرلیا۔ چنانچہ موصوف لکھتے ہیں کہ ''میں نے وجوبِ تقلید ِمذہب ِمعین میں جو ابتدائے طالب علمی میں لکھا تھا، اس سے بعد میں رجوع کرلیا۔ اسی طرح صفات اللہ میں متکلمین کی تاویلات اورتسویلات سے جن میں، میں عنفوانِ شباب میں گرفتار تھا( سے بھی رجوع کرلیا ہے) اور اب بھی اللہ تعالیٰ شانہ خوب جانتا ہے کہ مجھے دین کے مسائل میں کوئی نفسانیت یا تعصب نہیںہے اور نہ اپنے قول سے، اگر وہ غلط نکلے، رجوع میں کوئی شرم ہے۔'' (لغات الحدیث بذیل کلمہ شطن)

اسی طرح موصوف تقلید ِشخصی کی تردید کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ ''مسلمانوں نے بھی انہی (یہود و نصاریٰ) کا شیوہ ۴۰۰ھ کے بعد اختیار کیا۔ ابوحنیفہؒ اور شافعیؒ کو گویا پیغمبر کی طرح معصوم سمجھ لیا۔ بس انہوں نے جو کہہ دیا، اس کو آنکھ بند کرکے وحی سمجھتے ہیں اور اللہ اور رسول کے کلام کو طاقِ نسیاں پر رکھ دیا ... سچے مسلمان وہ ہیں جو قرآن کو سمجھ کر اس کے معانی اور مطالب میں غور کرتے ہیں اور اس کے اَوامر اور نواہی پرعمل کرتے ہیں، اسی طرح صحیح بخاری اور دوسری حدیث کی تمام کتابوں کو سمجھ کر پڑھتے ہیں، ان پر عمل کرتے ہیں اور حدیث یا آیت کے موجود ہوتے ہوئے اس کے خلاف کسی کا قول نہیں مانتے، ابوحنیفہ ہوں یا شافعی یا ان سے بھی کوئی بڑے غوث ہوں یا قطب!! سب آنحضرت ا کے ایک ادنیٰ غلام، کفش بردار ہیں اور سب نے بالاتفاق یہی وصیت کی ہے کہ ''قرآن اور حدیث پر چلو اور ہماری پیروی ہرگز نہ کرنا۔ جو قول ہمارا قرآن وحدیث کے خلاف پاؤ، اس کو دیوار پر پھینک مارو۔'' (لغات بذیل کلمہ سنن)

موصوف کے سامنے اگر کسی بڑے امام یا فقیہ کاکوئی ایسا قول آتا ہے جو واضح طور پر قرآن و حدیث سے متعارض ہو تو موصوف اس قول کی تائید و تصحیح کرنے کے لئے قرآن و حدیث میں تاویل و تنسیخ کا سہارا لینے کی بجائے برملا قرآن و حدیث کو ترجیح دیتے ہیں اور اس قول کو باطل، غلط اور قابل تردید قرار دیتے ہیں۔ مثلاً امام ابوحنیفہؒ کے حوالہ سے 'اشعار بدن'( ہدی کے اونٹ کی کوہان کو چیرا دینے)کو مکروہ سمجھنے کو خلافِ حدیث قرار دیتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ ''ابوحنیفہؒ کا قول صحیح حدیثوں کے برخلاف ہے اور خود انہی (امام صاحب) کی وصیت کے موافق چھوڑ دینے کے لائق ہے۔''

(ایضاً:بذیل کلمہاشعار،نیز بذیل مادّہ سکراور سواد)

مذکورہ اقتباسات سے معلوم ہوتا ہے کہ موصوف کسی بھی مذہب ِمعین کی تقلیدجامد کے مخالف تھے بلکہ اس کے برعکس کئی مسائل میں قرآن وحدیث کی براہِ راست پیروی کے قائل تھے۔ چونکہ اہلحدیث مکتب ِفکر کا بھی یہی نکتہ نظر ہے جن کے سر خیل امام احمد بن حنبل ؒ بھی ہیں۔ فقہ کی بجائے 'اصل شریعت'(قرآن وحدیث) سے امام احمد بن حنبل کی زیادہ وابستگی ہی بنا پر آج ان سے منسوب حضرا ت میں تقلیدی تعصب سب سے کم ہے۔ اس لئے مولانا مرحوم کبھی اپنے تئیں امام احمدبن حنبل ؒ سے منسوب کرتے ہیں اور اسی بنا پر خود کو حنبلی ظاہر کرتے ہیں۔مثلاً صحیح بخاری کی تشریح میں ایک باب کہ ''جب پانی اور مٹی دونوں ہی میسر نہ ہوں تو نماز کیا کرے؟'' کے تحت حاشیہ میں رقمطراز ہیں کہ

''ہمارے امام احمد بن حنبل ؒ اور شافعی اور اہلحدیث کا یہ قول ہے کہ وہ یوں ہی نماز پڑھ لے پھر جب پانی یا مٹی ملے تو نماز کا لوٹانا واجب نہیں ۔(جبکہ) امام ابوحنیفہ ؒ کا یہ قول ہے کہ ایسا شخص نماز نہ پڑھے اور اس پر قضا واجب ہے ۔'' ( تیسیر الباری، ترجمہ وتشریح صحیح بخاری از وحید الزمان: صفحہ۲۶۰؍جلد۱)

اسی طرح تیمم کے حوالہ سے رقمطراز ہیں کہ '' ہمارے امام احمد بن حنبل اور اہلحدیث کا یہی قول ہے کہ تیمم میں ایک بار (زمین پر ہاتھ) مارنا کافی ہے ...لیکن حنفیہ کے نزدیک دو بار ہاتھ مارناچاہیے۔'' (ایضاً: ۱؍ ۲۶۲)

بسا اوقات خود کو 'اہلحدیث' ظاہر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ''جو لوگ مکہ میں رہتے ہیں یا مکہ میں آگئے ہوں، وہ حرم ہی سے عمرے کا احرام باندھ کر عمرہ ادا کرسکتے ہیں۔ ان کو حرم کی حد سے باہر جاکر جیسے تنعیم یا جعرانہ جاکر وہاں سے احرام باندھنا ضروری نہیں۔ اکثر اہلحدیث کا یہی قول ہے اور ہمارے اصحاب میں سے صاحب ِسبل السلام نے اسی کو ترجیح دی ہے۔'' (لغات بذیل کلمہ عمرہ)

صاحب ِ'سبل السلام' محمد بن اسماعیل امیر صنعانی ؒ چونکہ اہلحدیث مکتب ِفکر کے ممتاز فرزند تھے، اس لئے مولانا مرحوم کا اپنی نسبت ان کی طرف کرنا اور دیگر کئی مقامات پر بھی قرآن وحدیث سے براہِ راست مسائل اخذ کرنے کا نکتہ نظر بیان کرنا اس بات کی تصدیق کردیتے ہیں کہ مرحوم حنبلی (۱)یا اہلحدیث تھے اور آخر دم تک اسی موقف پر رہے۔ مگر اہلحدیث ہونے کے باوجود موصوف عوامی مسلک اہل حدیث سے قدرے آزاد شخصیت کے مالک تھے۔چنانچہ بے شمار مقامات پر ان کے افکار اہلحدیث مکتب ِفکر کی ترجمانی نہیں کرتے مثلاً 'لغات' ہی میں ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ

''مجھے میرے ایک دوست نے لکھا کہ جب سے تم نے کتاب ہدیۃ المھدي تالیف کی ہے تو اہلحدیث کا ایک بڑا گروہ جیسے مولوی شمس الحق عظیم آبادی اور مولوی محمد حسین صاحب لاہوری اور مولوی عبداللہ صاحب غازی پوری اور مولوی فقیراللہ صاحب پنجابی اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری وغیرہم تم سے بددل ہوگئے ہیں اور عامۂ اہلحدیث کا اعتقاد تم سے جاتا رہا۔ میں نے ان کو جواب دیا: الحمدللہ کوئی مجھ سے اعتقاد نہ رکھے، نہ میرا مرید ہو، نہ مجھ کو پیشوا اور مقتدیٰ جانے، نہ میرا ہاتھ چومے، نہ میری تعظیم و تکریم کرے۔ میں مولویت اور مشائخیّت کی روٹی نہیں کھاتا کہ مجھ کو ان کی بے اعتقادی سے کوئی ڈر ہو۔ ان مولویوں کو ایسی باتوں سے ڈرائیے جو پبلک کے قلوب اپنی طرف مائل کرانا اپنے معتقدوں کی جماعت بڑھانا، ان سے نفع کمانا، ان کی دعوتیں کھانا، ان سے نذریں لینا، چندہ کرانا چاہتے ہوں۔ فقط'' (لغات بذیل مادّہ شر)

اس اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ موصوف کتاب و سنت کی آزادانہ طور پرپیروی کے مدعی تھے اور اُنہیں جو حق معلوم ہوتا تھا، وہ برملا اس کا اظہار کردیتے، قطع نظر اس کے کہ کون سا گروہ کیا کہتا اور کیا کرتا ہے۔ اس کی تائید موصوف کے درج ذیل اقتباس سے بھی ہوتی ہے:

''فاعتزل الفرق کلها'' یعنی ان سب فرقوں سے الگ رہ۔ یہی ہمارا زمانہ ہے جس فرقہ کو دیکھو وہ یا اِفراط میں مبتلا ہے یا تفریط میں! ... ایک طرف تو مقلدوں کا گروہ ہے جو تقلید کی بدعت میں گرفتار اور حدیث پر چلنے والوں کی دشمنی پر تلے ہوئے ہیں۔

دوسری طرف غیر مقلدوں کا گروہ ہے جو اپنے تئیں اہلحدیث کہتے ہیں۔ انہوں نے ایسی آزادی اختیار کی ہے کہ مسائل اجماعی کی بھی پرواہ نہیں کرتے؛ نہ سلف صالحین، صحابہ اور تابعین کی۔(۲) قرآن کی تفسیر صرف لغت سے اپنی من مانی کرلیتے ہیں۔ حدیث شریف میں جو تفسیر آچکی ہے، اس کو بھی نہیں سنتے۔ بعض عوام اہلحدیث کا یہ حال ہے کہ انہوں نے صرف رفع الیدین اور آمین بالجہر کو اہل حدیث ہونے کے لئے کافی سمجھا ہے۔ باقی اور آداب و سنن اور اخلاقِ نبوی سے کچھ مطلب نہیں۔ غیبت ، جھوٹ، افترا سے باک نہیں کرتے۔ ائمہ مجتہدین رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اولیاء اللہ اور حضرات صوفیا کے حق میں بے ادبی اور گستاخی کے کلمات زبان پر لاتے ہیں۔ اپنے سوا تمام مسلمانوں کو مشرک اور کافر سمجھتے ہیں۔بات بات میں ہرایک کو مشرک اور قبر پرست کہہ دیتے ہیں۔ شرکِ اکبر کی شرکِ اصغر سے تمیز نہیں کرتے۔

ایک طرف خارجیوں اور ناصبیوں کا زور ہے جو حضرات اہل بیت کرام کے، جن کی محبت اور تعظیم سرمایۂ ایمان ہے، دشمن بنے ہوئے ہیں اور اہل بیت کے دشمنوں اور مخالفوں کی طرفداری اور حمایت پر اَڑے ہوئے ہیں؛ دوسری طرف تبرائی رافضیوں کا شور ہے جو آنحضرت ا کے جاں نثار اور مخلصین صحابہ اور خلفائے راشدین اور اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کو برا کہتے ہیں اور حق تعالیٰ کے غضب سے نہیں ڈرتے۔

ایک طرف ڈھیلا سکھاؤ ظاہر پرست کٹھ ملاؤں کا زور ہے جو حضرات صوفیا کی تحقیر کرتے ہیں اور اولیاء اللہ سے بالکل محبت اور اعتقاد نہیں رکھتے۔ نہ اصلاحِ باطن کی کوشش کرتے ہیں۔ یہودیوں کی طرح صرف ظاہری اصلاح پر زور دیتے ہیں... دوسری طرف گور پرستوں اور پیر پرستوں کا شور ہے جوشرک و بدعت میں گرفتار ہیں۔ اولیاء اللہ کی قبروں کا بوسہ اور طواف کرتے ہیں۔ وہاں عرضیاں لٹکاتے ہیں، نذریں چڑھاتے ہیں، ان کی منت مانتے ہیں، قبروں پر میلے جماتے ہیں، وہاں عرس صندل مالی روشنی چراغاں کرتے ہیں اور نماز، روزہ سے زیادہ ان کاموں کا اہتمام کرتے ہیں۔ سچے متبعین ِسنت کو جو قبر کی زیارت سنت کے موافق کرتے ہیں، 'وہابی' ،'منکر اولیا' قرار دیتے ہیں۔ یا الٰہ العالمین! کیا فساد کا زمانہ آگیا ہے۔ تو ہی اس زمانہ میں ایمان کابچانے والا ہے۔ ہم کوصراطِ مستقیم پر جس میں نہ اِفراط ہو، نہ تفریط، قائم رکھ۔ آمین !۔'' (لغات الحدیث بذیل مادّہ شعف)

مذکورہ اقتباس جہاں موصوف کی آزادیٔ فکر کی بھرپور عکاسی کرتا ہے وہاں ان کے صحابہ کرام کے سچا شیدائی ہونے اور ان کے خلاف زبانِ طعن دراز کرنے والوں سے بریٔ الذمہ ہونے کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ مرحوم کے مسلک کے بارے میں ہمیں انہی کے معاصر مولانا حکیم سید عبدالحی(والد سید ابو الحسن ندوی) کی رائے ہی سے اتفاق ہے جسے وہ اپنی کتاب 'نزہۃ الخواطر' میں ان الفاظ کے ساتھ تحریر فرما چکے ہیں کہ

''کان شدیدا في التقلید في بدایة أمرہ ثم رفضه وتحرر واختار مذھب أھل الحدیث مع شذوذ عنھم في بعض المسائل'' (ص۵۱۵، ج۸)

''موصوف ابتدائی دور میں تقلید کے پرزور حامی تھے، پھر تقلید سے تائب ہوکر 'اہل حدیث'ہوگئے لیکن اس کے باوجود بعض مسائل میں یہ 'اہلحدیث' سے بھی جداگانہ نکتہ نظر رکھتے تھے۔''