سادہ الفاظ میں انسانی کلوننگ سے مراد ایسا عمل ہے جس کے ذریعے مردانہ کرمِ منی اور نسوانی بیضہ کے فطری ملاپ کے بغیر خلیاتی سطح پر سائنسی عمل کے ذریعے سلسلہ تناسل جاری رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ا س میں نسوانی بیضہ کے خلیہ کا کسی بھی دوسرے جنسی یا غیر جنسی خلیہ سے اس طرح ملاپ کروایا جاتاہے کہ نسوانی بیضہ کے خلیہ 'الف' کا مرکزہ نکال کرضائع کردیا جاتا ہے اور دوسرے غیر جنسی، مردانہ یا زنانہ خلیے'ب' (جو جسم کے کسی بھی حصے سے لیا جا سکتا ہے) کا مرکزہ نکال کراس نسوانی بیضہ میں فٹ کردیا جاتا ہے۔ 'ب' خلیہ چونکہ جسم کے کسی بھی حصہ کا ہوسکتا ہے، اس لئے اس میں پورا انسان بنانے کی صلاحیت دَب کر، اس مخصوص حصہ کی صلاحیتیں غالب ہوتی ہیں۔ چنانچہ کرنٹ کے ذریعے اس کی کامل صلاحیتوں کو دوبارہ متحرک کردیا جاتا ہے۔اور اس مصنوعی طریقہ سے تیار ہونے والے خلیہ کو اسی کرنٹ کے ذریعے نمو اور تقسیم در تقسیم کے مراحل کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔گویا کہ اب یہ خلیہ اس 'نطفہ امشاج' یا 'زایگوٹ' کے مرحلہ تک پہنچ جاتا ہے جو روایتی طریقہ تولید کے بعد وجود میں آتا تھا۔بعد ازاں اس زایگوٹ کو رحم مادر میں منتقل کردیا جاتاہے۔اگلے مراحل روایتی ہی ہوتے ہیں۔

دو خلیوں (الف اورب) سے ایک خلیہ مصنوعی طور پر حاصل کرنے کی و جہ اور فوائد کیا ہیں اور اس کا اس روایتی زایگوٹ سے کیا فرق ہے؟ اسی کے جواب میں کلوننگ کی ساری محنت کا حاصل پوشیدہ ہے...

کرمِ منی اور نسوانی بیضے کے فطری ملاپ کی صورت میں بھی دراصل ایک نیا خلیہ ہی وجود میں آتا ہے۔ جو نمو کی فطری صلاحیت کی بنا پر تقسیم در تقسیم کا عمل شروع کرتا ہے اور مخصوص ماحول میںآخرکار ایک بچے کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔یہ نیا خلیہ مرد اور عورت کے دو جنسی خلیوں کے ملاپ سے بنتا ہے۔انسانی جنسی خلیات کے مرکزوں میں۲۳، ۲۳ اکیلے کروموسومز ہوتے ہیں، جبکہ انسانی غیرجنسی خلیہ کے مرکزہ میں ۲۳ جوڑے کروموسومز ہوتے ہیں۔ ان کروموسومزمیں ہی تمام موروثی جین اور ڈی این اے وغیرہ ہوتے ہیں، جن کی بنا پر انسان میں وراثت آگے منتقل ہوتی ہے۔جنسی خلیات میں ۲۳، ۲۳ کروموسومز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دراصل خلیات کے وہ مرکزے قابل ملاپ ہوتے ہیں ۔ جنسی خلیوں کے ۲۳ اکیلے ، اکیلے کروموسومز ملاپ کے بعد جب ۲۳ جوڑے (آسان الفاظ میں ۴۶) کروموسومز بن جاتے ہیں تو ان ۲۳ جوڑوں والے خلیہ سے ہی انسان کی تخلیق کا عمل شروع ہوسکتاہے۔جنسی خلیات کے مرکزوں کی ملاپ کی صورت ایک انسان دو مرکزوں سے مل کر وجود میں آتا ہے اور اس میں دو انسانوں کی خصوصیات اُلجھی ہوتی ہیں، کوئی خوبی ایک انسان کی اور دو سری دوسرے انسان کی، جبکہ بعض خوبیاں ان انسانوں کے والدین یا نسل کی بھی۔ اس صورت میں کسی خوبی یا صلاحیت کا حصول یقینی نہیں رہتا بلکہ مختلف عوامل کے نتیجے میں بعض خوبیاں بعض پر غلبہ حاصل کرلیتی ہیں۔

اس کا حل یہ سوچا گیا کہ غیر جنسی خلیہ کا۴۶ کروموسومز پر مشتمل مرکزہ کسی ایسے خلیہ کے بیرونی حصہ میں داخل کرلیا جائے جو اس کی آگے پیدائش کی بھی ضامن ہو، اور یہ ضمانت صرف نسوانی بیضہ کے خلیہ کے بیرونی حصہ میں موجود ہوتی ہے۔چنانچہ کوئی بھی غیر جنسی خلیہ کا مرکزہ مصنوعی طریقہ سے نسوانی بیضہ کے خول میں داخل کیا گیا ہے اور اسے آگے مستقل خلیہ کی طرح افزائش ؍نمو کے لئے تیارکیا گیاہے۔ایسی صورت میں دومرکزوں میں ٹکرائو نہیں ہوتا، نہ ہی خصوصیات کی جنگ ہوتی ہے، بلکہ مقابل کچھ بھی معلومات موجودہی نہیں ہوتیں۔ جس انسان کا یہ مرکزہ ہوگا ، بالکل اس جیسا دوسرا انسان پیدا ہوگا، جنس، رنگ، فطری وموروثی صلاحیتوں وغیرہ کے اعتبار سے۔ابھی یہ تو ایک خواہش ہے ، جو ابھی تدریجی مراحل میں ہے اور مکمل تعبیر کی محتا ج ہے!!

کلوننگ کی بعض صورتوں میں مردانہ خلیہ کی بھی ضرورت نہیں، بلکہ ب خلیہ جس سے مرکزہ لینا مقصود ہے، اسی عورت کے جسم کے کسی بھی حصہ کا ہوسکتا ہے جس سے بیضہ لیا گیا۔ یادرہے کہ مرد پیدا کرنے کی صلاحیت صرف مردانہ خلیوں کے کروموسومز میں ہی ہوتی ہے۔فطری طریقہ تولید کی صورت میں اگرمردکے مرکزہ کے کروموسومزکی بیٹا پیدا کرنے والی خصوصیت مقابل مرکزہ پر غلبہ حاصل کرے تو بیٹا ورنہ بیٹی پیدا ہوتی ہے۔چنانچہ مرد پیدا کرنے کے لئے تو مردانہ غیر جنسی خلیہ کا مرکزہ ضروری ہے، لیکن عورت پیدا کرنے کے لئے نسوانی بیضہ کے خلیہ کو مرد کے خلیہ کی ضرورت نہیں!!

انسان کی وفات کے بعد ، یا دورانِ زندگی بھی جسم کے بعض خلیات مردہ ہوجاتے ہیں، مردہ خلیات سے یہ عمل نہیں کیا جاسکتا۔ اگر انسان کی وفات کے بعد اس کے بعض خلیات کو سائنسی طریقہ سے محفوظ کرلیا جائے تو ان کو کچھ عرصہ زندہ بھی رکھا جاسکتا ہے اور ان کی مدد سے اس انسان کی نقل تیار کرنے کا امکان بھی ہے۔

کلوننگ کی ایک صورت معالجاتی کلوننگ کی بھی ہے۔ انسا ن کے بعض اعضا ناکارہ ہوجائیں تو اس میں دوسرے انسان کے اعضا کی پیوند کاری وقتی فائدہ دیتی ہے، انسانی جسم انہیں قبول کرنے سے انکار کرتا رہتا ہے جس کے لئے دوائوں کے ذریعے انسانی جسم کی قوت مدافعت کم کی جاتی ہے، جو مجموعی طور پر بذاتِ خود بڑی ضرر رساں ثابت ہوتی ہے۔اس لئے کلوننگ کے ذریعے متاثرہ؍ مطلوبہ اعضا کے ہوبہو تیاری بھی ممکن ہے۔ ایسی صورت میںسابقہ طریقہ ہی بروئے کار لا کرزایگوٹ میں جب جفت تقسیم در تقسیم کا عمل شروع ہوتا ہے تو اس سے بعض ایمبریو حاصل کر لئے جاتے ہیں اور بعض کیمیکلز ڈال کر پورا انسان بنا نے کی بجائے بعض مخصوص اعضاء پیداکرنے کی طرف مائل کرنا ممکن ہوچکا ہے۔ یہ اعضاء رحم مادر کی بجائے کسی مطلوبہ ماحول میں چند دنوں میں پیدا کئے جاسکتے ہیں، جو مرکزہ والے انسان کے جسم میں مزاحمت کی بجائے قبولیت کا رجحان پائیں گے۔

کلوننگ کے جہاں بہت سے فوائد متوقع ہیں وہاں اس کے متعددنقصانات بھی ہیں۔ شریعت میں اس سائنسی عمل کی کس حد تک گنجائش ہے اور کس حد تک نہیں؟ یہ بھی بڑا تفصیل طلب موضوع ہے۔کلوننگ کی صورت میں جن فوائد کا دعویٰ کیا جاتا ہے، وہ بھی یقینی نہیں بلکہ ان میں سے اکثر خواہش کا ہیں یا صرف دعووں کا درجہ رکھتے ہیں۔ ادارۂ محدث میں 'کلوننگ کی شرعی حیثیت' پر بحث مباحثہ کے لئے جید علما کو عنقریب ایک مذاکرہ کی صورت میں اظہارِ خیال کی دعوت دی جارہی ہے۔چونکہ شرعی حیثیت سے پہلے اصل مسئلہ کی نوعیت کو سمجھنا بنیادی ضرورت رکھتا ہے، اس لئے شرعی آراء کی اشاعت کو فی الحال مذاکرہ تک مؤخر کیا جارہا ہے۔