محقق علماء کے نزدیک کسی مسلمان میت کو مسجد کے اندر لاکر اس پر نمازِ جنازہ پڑھنا نہ شرعاً منع ہے اور نہ ہی مکروہ۔ جمہور فقہا یعنی امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ، (ایک روایت کے مطابق) امام مالکؒ، امام اسحقؒ، امام ابوثورؒ، امام داودؒ اور تمام محدثین اسی بات کے قائل ہیں، اگرچہ بعض فقہا، مثلاً امام ابوحنیفہؒ ،امام مالکؒ، ابن ابی ذئبؒ اور ہادویہ وغیرہ، سے اس کی کراہت منقول ہے۔ چونکہ کسی عمل کو مکروہ قرا ردینے کے لئے ٹھوس شرعی دلائل کا موجود ہونا ضروری ہے لہٰذا ہم ذیل میں فریقین کے تمام دلائل اور ان کا علمی جائزہ پیش کریں گے تاکہ اس مسئلہ کی حقیقت واضح ہوجائے اور ہر خاص و عام کے علم میں آجائے، وباللہ التوفیق

مسجد میں نمازِ جنازہ کے جواز کے دلائل

1. «عن أبی سلمة بن عبد الرحمن أن عائشة، لما تُوُفِّي سعد بن أبي وقاص قالت: ادخلوا به في المسجد حتی أصلي عليه، فأنکر ذلك عليها، فقالت: والله لقد صلی رسول الله ﷺ علی ابني بيضاء في المسجد سهيل وأخيه»(۱) ''ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کا انتقال(۲) ہوگیا تو حضرت عائشہؓ نے فرمایا: ان کی میت کومسجد میں لاؤ تاکہ میں ان پر نماز جنازہ پڑھ لوں۔ اس پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے بیضا کے دو بیٹوں حضرت سہلؓ اور ان کے بھائی حضرت سہیل(۳) کے جنازوں کی نماز مسجد میں پڑھی تھی۔''

امام ترمذیؒ نے حضرت عائشہؓ کی اس حدیث کواپنی سند سے روایت کرنے کے بعد 'حسن' قرار دیا ہے۔ شارح ترمذی علامہ شیخ عبدالرحمن محدث مبارکپوریؒ (م ۱۳۵۲ھ) امام ترمذی کی مذکورہ تحسین کی شرح میں فرماتے ہیں: '' اس حدیث کو امام بخاریؒ کے سوا محدثین کی ایک جماعت (یعنی اصحاب ِ سنن وغیرہ) نے روایت کیا ہے۔''(۴)

2. «عن عائشة زوج النبي ﷺ أنها أمرت أن يمر عليها سعد بن أبي وقاص في المسجد حين مات، فتدعو له، فأنکر ذلك الناس عليها، فقالت عائشة: ما أسرع الناس ما صلی رسول الله ﷺ علی سهيل بن بيضاء إلا في المسجد»(۵) ''نبی ﷺ کی زو جہ محترمہ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے یہ حکم دیا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کا جنازہ مسجد میں ان پر سے گزارا جائے تاکہ وہ ان کے لئے دعا کرسکیں (نمازِ جنازہ پڑھیں)۔ کچھ لوگوں نے آں رضی اللہ عنہا کی اس بات پر نکارت کی تو حضرت عائشہؓ نے فرمایا: لوگ کس قدر جلد بازی کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے سہیل ابن بیضاؓ کی نمازِ جنازہ مسجد ہی میں پڑھی تھی۔''

امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ ''لوگ کس قدر جلد بازی کرتے ہیں۔'' سے مراد یہ ہے کہ ''وہ لوگ سنت کو کس قدر جلد بھول گئے ہیں۔'' امام مسلمؒ کی ایک روایت میں بھی اس بات کی صراحت موجود ہے کہ ''لوگ بھول جانے میں کس قدر جلدی کرتے ہیں۔'' جبکہ ابن وہبؒ کا قول ہے کہ : ''وہ لوگ طعنہ کشی اور عیب جوئی میں کس قدر جلدبازی کرتے ہیں۔'' امام مسلمؒ کی ایک روایت سے بھی اس قول کی تائید ہوتی ہے جس میں مروی ہے کہ

''جس بارے میں لوگوں کو علم نہیں ہوتا، اس بارے میں بھی عیب جوئی کرنے میں کس قدر جلد بازی کرتے ہیں۔ وہ لوگ ہمارے اوپر جنازہ کو مسجد میں گزارنے پر عیب نکالتے ہیں، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن بیضائؒ کی نمازِ جنازہ مسجد کے اندر ہی پڑھائی تھی۔''

3. 'صحیح مسلم'کی وہ روایت جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے، ان الفاظ میں مروی ہے «عن عائشة أنها لما توفي سعد بن أبي وقاص أرسل أزواج النبي ﷺ أن يمروا بجنازته في المسجد، فيصلين عليه، ففعلوا فوقف به علی حجرهن يصلين عليه، أخرج به من باب الجنائز الذي کان إلی المقاعد، فبلغهن أن الناس عابوا ذلك، وقالوا: ماکانت الجنائز يدخل بها المسجد، فبلغ ذلك عائشة، فقالت: ما أسرع الناس إلی أن يعيبوا ما لا علم لهم به أعابوا علينا أن يمربجنازة في المسجد، وما صلی رسول الله ﷺ علی سهيل بن بيضاء إلا في جوف المسجد» (۶)

4. « وعن نافع ابن عمر قال: ''صلي علی عمر في المسجد» (۷)

''حضرت عمرؓ کے فرزندؓ سے مروی ہے کہ حضرت عمرؓ کی نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھی گئی تھی۔''

5. « وعن هشام بن عروة، قال: ''رأی رجالا يخرجون من المسجد ليصلوا علی جنازة، فقال: ما يصنع هؤلاء؟ والله ما صلي علی أبی بکر إلا في المسجد»(۸)

''ہشام بن عروہ سے مروی ہے، بیان کیا کہ میرے والد نے لوگوں کو نمازِ جنازہ پڑھنے کے لئے مسجد سے باہر نکلتے دیکھا تو فرمایا: یہ لوگ کیا کررہے ہیں؟ حضرت ابوبکرؓ کی نمازِ جنازہ تو مسجد کے اندر ہی پڑھی گئی تھی۔''

لوگوں کا نمازِ جنازہ پڑھنے کے لئے مسجد سے باہر نکلنے میں اس بات کا بھی احتمال ہے کہ وہ لوگ مسجد سے باہر اس و جہ سے نہ نکلے ہوں کہ وہ اسے مکروہ یا ممنوع یا بدعت سمجھتے ہوں بلکہ عہد ِنبوی میں چونکہ جنائز کے لئے خارج از مسجد ایک جگہ مقرر تھی، اس لئے عین ممکن ہے کہ ان لوگوں نے یہ گمان کیا ہو کہ اسی مقررہ مقام پرنمازِجنازہ ہوگی۔ ورنہ 'نماز جنازہ پڑھنے کے لئے مسجد سے باہرنکلنے' کی بجائے مسجد سے واپس لوٹ جانا مروی ہوتا، واللہ أعلم بالصواب

6. « وعن عروة قال: ''صلي علی أبی بکر في المسجد» (۹)

عروہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ''حضرت ابوبکرؓ کی نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھی گئی تھی۔''

7. «وعن نافع عن ابن عمر أن عمر صلي عليه في المسجد، وصلی عليه صهيب» (۱۰) ''نافع نے ابن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمرؓ  کی نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھی  گئی تھی اور ان کی (یعنی حضرت عمرؓ کی ) نمازِ جنازہ حضرت صہیبؓ نے پڑھائی تھی۔''

امام نوویؒ 'الخلاصہ' میں فرماتے ہیں کہ ''اس کی سند صحیح ہے اور ان دونوں حدیثوں کو امام عبدالرزاق ؒ نے اپنی 'مصنف' میں روایت کیا ہے۔'' (۱۱)

8. امام بیہقیؒ نے روایت کی ہے کہ: ''صدیق اکبرؓ کی نمازِ جنازہ بھی مسجد میں پڑھی گئی، نیز فاروقِ اعظمؓ کی نمازِ جنازہ حضرت صہیبؓ نے مسجد میں پڑھائی تھی۔'' (۱۲)

9. امام بغویؒ (م۵۱۶ھ) فرماتے ہیں:«وثبت أن أبابکر وعمر صلي عليهما في المسجد» (۱۳) ''ثابت ہے کہ ابوبکر و عمر ؓکے جنازوں کے نمازیں مسجد میں پڑھی گئی تھیں۔''

10. امام ابن ابی شیبہؒ نے حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھے جانے کی تخریج ان الفاظ میں فرمائی ہے: «أن عمر صلی علی أبی بکر في المسجد وإن صهيبا صلی علی عمر في المسجد» (۱۴) ''حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی نمازِ جنازہ مسجدمیں پڑھائی اور حضرت صہیبؓ نے حضرت عمرؓ کی نماز جنازہ بھی مسجد میں پڑھائی تھی۔''

ان صحیح و صریح احادیث کے علاوہ فقہاے محدثین نے اپنی گراں قدر اور مشہور زمانہ تصانیف میں اس بارے میں مستقل ابواب قائم کئے ہیں، مثال کے طور پر امام بخاریؒ نے اپنی'صحیح' میں ایک باب یوں قائم کیا ہے: «الصلاة علی الجنائز بالمصلی والمسجد» (۱۵)

امام نوویؒ، امام بغویؒ، امام مالکؒ، امام ابوداؤدؒ، امام طحاویؒ، امام نسائیؒ، امام شوکانیؒ، امام بیہقیؒ اور امام عبدالسلام بن تیمیہؒ (م۶۵۲ھ) نے باب «الصلاة علی الجنازة فی المسجد» (۱۶) قائم کیا ہے جبکہ امام ابن ماجہؒ نے یوں تبویب کی ہے: «باب ماجاء في الصلاة علی الجنائز في المسجد» (۱۷) امام ترمذیؒ اور علامہ سید سابق نے باب: «ماجاء في الصلاة علی الميت في المسجد» (۱۸) قائم کیا ہے۔ امام ابن قیم الجوزیہؒ کے ایک باب کا عنوان ہے: «حکم الصلاة علی الميت في المسجد» (۱۹) امام ابن الجوزیؒ نے «حديث في الصلاة علی الميت في المسجد» (۲۰) کا عنوان باندھا ہے، اور محدثِ عصر علامہ محمد ناصر الدین البانیؒ نے یوں عنوان قائم کیا ہے:«جواز صلاة الجنازة في المسجد والأفضل في المصلی» (۲۱)

یہ جلیل القدر محدثین اور علما اپنی موقر تصانیف میں مذکورہ بالا ابواب قائم کرکے اس کے تحت اس سلسلہ کی متعدد احادیث لائے ہیں، گویا اس طرح انہوں نے نہ صرف مسجد میں میت پر نماز جنازہ پڑھنے کے جواز کو ثابت کیا ہے بلکہ احادیث الباب سے اس پر استدلال اور اس مسئلہ کا استخراج بھی کیا ہے۔ ان فقہاء محدثین کے علاوہ متعدد محقق علمائے زمانہ نے بھی ہر دور میں اپنی معرکۃ الآرا تصانیف میں اس بارے میں خوب تفصیل سے بحث کی ہے، جس کا کچھ تذکرہ ان شاء اللہ آئندہ صفحات میں پیش کیا جائے گا۔ اب ہم مانعینِ جواز کے دلائل اور ان کا جائزہ پیش کرتے ہیں :

مسجد میں نمازِ جنازہ کے مانعین کے دلائل

جو حضرات مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنے سے منع کرتے ہیں، ان کے پاس دو طرح کے دلائل موجود ہیں:1.نقلی دلیل اور2.عقلی دلائل... جہاں تک نقلی دلیل کا تعلق ہے تو جاننا چاہئے کہ اس فریق کے پاس اس بارے میں وارد صرف ایک ہی حدیث ہے اور وہ بھی ایسی کہ جس کی صحت پر متقدمین نے بہت کچھ کلام کیا ہے۔ آئندہ صفحات میں ہم اس حدیث کے الفاظ میں اختلاف، اس کے مقام و مرتبہ، اس پر کلام کی تفصیل اور حقیقت بیان کرنے کے علاوہ اس کے معانی کی تعیین اور رفع تعارض کی کوشش کریں گے... وباللہ التوفیق

امام بغویؒ(م۵۱۶ھ)فرماتے ہیں کہ :''بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ مسجد میں میت پرنمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔یہ قول امام مالکؒ کا ہے کیونکہ صالح مولی التوأمہ حضرت ابوہریرہؓ سے اور وہ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ

«من صلی علی الجنازة في المسجد فلا شيء له» (۲۲)

''جس نے مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھی، اس کے لئے کچھ نہیں ہے۔''

حدیث کے الفاظ میں اختلاف:مخرجین نے مختلف الفاظ کے ساتھ اس حدیث کی تخریج کی ہے، چنانچہ امام ابن قیم الجوزیہؒ (۷۵۱ھ) فرماتے ہیں :

''حدیث کے الفاظ میں اختلاف ہے۔ امام خطیب بغدادیؒ نے اپنی کتاب 'السنن' میں فرمایا ہے کہ اصل الفاظ «فلاشيء  عليه» ہیں، لیکن ان کے علاوہ یعنی دوسروں نے «فلاشيء له» کے الفاظ بھی روایت کئے ہیں۔ امام ابن ماجہؒ نے اپنی 'سنن' میں «فليس له شيء »کے الفاظ روایت کئے ہیں۔'' (۲۳)

امام بغویؒ (۵۱۶ھ) فرماتے ہیں کہ ''ایک روایت میں«فليس له أجر» کے الفاظ بھی وارد ہیں۔'' (۲۴)

شارحِ سنن ابوداود علامہ ابو طیب شمس الحق عظیم آبادیؒ (۱۳۲۹ھ) فرماتے ہیں: 'سنن ابوداود' کے دو قدیم نسخوں میں «فلاشيئ عليه» (یعنی اس پر کوئی گناہ نہیں ہے) کے الفاظ واقع ہیں جبکہ اس کے ایک اور قدیم نسخہ میں 'علیہ' کی جگہ 'لہ' (یعنی اس کیلئے کچھ نہیں ہے) کا لفظ موجود ہے۔ امام منذریؒ فرماتے ہیں کہ خطیب بغدادیؒ کا قول ہے کہ اصل میں اسی طرح ہے، انتہیٰ

راقم الحروف نے بھی یہ عبارت دورِ حاضر کے تین نسخوں میں اسی طرح (یعنی 'علیہ' کے ساتھ) پائی ہے۔ علامہ عینی (حنفیؒ) فرماتے ہیں کہ اما م ابوداودؒ نے «فلاشيئ له» کے الفاظ کے ساتھ اس حدیث کی روایت کی ہے، اور امام ابن ماجہؒ کے الفاظ میں «فليس له شيئ»ہے۔'' (۲۵)

امام منذریؒ (۶۵۶ھ) کا قول ہے کہ: ''اس حدیث کی تخریج امام ابن ماجہؒ نے کی ہے اور ان کے نزدیک «فليس له شيئ» کے الفاظ مروی ہیں۔ (۲۶)

علامہ ملا علی القاری حنفیؒ (۱۰۱۴ھ) امام ابن عبدالبرؒ سے نقل فرماتے ہیں کہ :«فلا أجرله» فاحش خطا ہے اور درست روایت میں «فلا شيء  له» کے الفاظ ہیں۔'' (۲۷)

امام خطیب بغدادیؒ (۴۶۳ھ) کا قول ہے کہ

''فلاشيء له''محفوظ ہے، اگرچہ ''فلاشيء عليه'' اور ''فلا أجرله'' کے الفاظ بھی مروی ہیں، مگر ابن عبدالبرؒ فرماتے ہیں کہ ''فلا أجرله'' کی روایت فحش خطا ہے اور صحیح ''فلاشيء له'' ہے۔'' (۲۸ )

امام شوکانیؒ (۱۲۵۰ھ) فرماتے ہیں کہ :''اس کی تخریج امام ابوداود ؒ نے حضرت ابوہریرہؓ سے کی ہے ، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا : «من صلی علی جنازة في المسجد فلا شيء له» اور امام ابن ماجہؒ نے اس کی تخریج ان الفاظ کے ساتھ کی ہے: ''فليس له شيء'' (۲۹ )

امام زیلعی حنفیؒ (۷۶۲ھ) فرماتے ہیں کہ

''امام ابن ابی شیبہؒ نے اپنی 'مصنف' میں بلفظ ''فلا صلاة له'' (یعنی اس کی نماز ہی نہیں ہوئی) روایت کی ہے، اور امام ابن عدیؒ نے 'الکامل' میں امام ابوداود کے الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے۔'' (۳۰ )

لیکن محدثِ عصر علامہ محمد ناصر الدین البانیؒ فرماتے ہیں کہ

''مجھے یہ الفاظ 'مصنف' میں کہیں نظر نہیں آئے، بلکہ امام ابن ابی شیبہؒ نے 'فلا شيء له' کے الفاظ کی روایت کی ہے۔'' (۳۱)

فلا شييء عليه کے الفاظ 'شاذ' ہیں یا...؟: علامہ شیخ محمد ناصر الدین البانی ؒ فرماتے ہیں:

''یہ حدیث دوسرے الفاظ سے بھی مروی ہے، مثلاً ''فلاشيء له''، سوائے اما م احمدؒ کی روایت کے جس میں ''فليس له شيء'' ہی مروی ہے اور امام ابوداودؒ نے ان سب ائمہ سے مختلف اور شاذ الفاظ روایت کئے ہیں، چنانچہ اس میں 'فلاشيء عليه' مروی ہے۔ اس کے شذوذ کی مزید تاکید اور جماعت ِائمہ کے الفاظ کا'محفوظ' ہونا امام طیالسیؒ اور امام ابن ابی شیبہؒ کی احادیث کے بعد موجود زیادت سے بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ صالح بیان کرتے ہیں کہ ''میں نے ایسے لوگ پائے ہیں جنہوں نے نبی ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ کا زمانہ پایا تھا۔ وہ اگر جنازہ کے لئے آتے اور نمازیوں کو مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھتے دیکھتے تو لوٹ جاتے اور مسجد میں نمازِ جنازہ نہیں پڑھتے تھے۔'' (امام بیہقیؒ نے بھی اس زیادت کی روایت کی ہے لیکن اس میں یہ صراحت ہے کہ میں نے حضرت ابوہریرہؓ کو دیکھا ہے کہ اگر وہ جنازہ کے لئے آتے... الخ) اس زیادت میں صراحت پائی جاتی ہے کہ صالح نے جماعت ِائمہ کے الفاظ ہی میں حدیث کی روایت کی ہے کیونکہ یہ وہی فرد ہیں جو ابوداودؒ کی روایت ''فلاشيء عليه'' کے خلاف اس حکایت کی نسبت ان صحابہ کی طرف کرتے ہیں جو مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنے کو ترک کرتے تھے۔ پس یہ چیز اس کی وضاحت اور ابوداودؒ کی روایت کی نفی کرتی ہے۔'' (۳۲ )

راقم الحروف کی رائے میں، علامہ البانیؒ کا امام ابوداودؒ کی روایت کو 'شاذ' قرار دینا اصولاً درست نہیں ہے کیونکہ 'شاذ' اس حدیث کو کہتے ہیں کہ جس کا راوی خود تو ثقہ ہے لیکن کسی روایت میں اپنے سے اوثق یا اکثر رواۃ کی اس طرح مخالفت کرتا ہے کہ ان میں سے ایک کا صدق دوسرے کے کذب کو مستلزم ہو۔ ایسے راوی کی مخالف روایت کو محفوظ اور ا س کی مخالفت کو مخالفۃ الثقات کہتے ہیں۔ امام شافعیؒ وغیرہ کا قول ہے: «الشاذ مارواه المقبول مخالفا لرواية من هو أولی منه، لا أن يروي ما لا يروي غيره، فمطلق التفرد لا يجعل المروي شاذ کما قيل، بل مع المخالفة المذکور» امام حکم ؒ فرماتے ہیں کہ«إن الشاذ هو الحديث الذي ينفرد به الثقة من الثقات وليس له أصل بمتابع لذلك الثقة» اور امام ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں کہ: «الشاذ هو أن يروي الضابط والصدوق شيئًا فرواه من هو أحفظ منه أوأکثر عددًا بخلاف ماروی بحيث يتعذر الجمع علی قواعد المحدثين» مزید فرماتے ہیں: «ووجه ردّ الشاذ المخالفة لمن هو أوثق من رواية، لا الضعف في راوي الشاذ» مزید تفصیل مصطلح الحدیث کی کتب(۳۳ ) میں دیکھی جاسکتی ہے۔ چونکہ امام ابوداودؒ اور دوسرے تمام ائمہ کی روایات ایک ہی راوی ابن ابی ذئب عن صالح مولی التوأمہ عن ابی ہریرہ مروی ہیں لہٰذا ثقہ واَوثق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، پھر محدثین نے ان روایات میں ا ختلافِ الفاظ کی تاویل اور ان میں جمع و تطبیق کی سعی بھی کی ہے، جس سے معنوی شذوذ بالکلیہ ختم ہوجاتا ہے۔ پس شذوذ فی المتن کا دعویٰ غلط قرار پاتا ہے۔ لغوی اعتبار سے اسے 'منفرد عن الجمهور' تو کہا جاسکتاہے لیکن اصطلاحاً اسے 'شاذ' کہنا ظلم ہے۔ اگر علامہ البانی ؒ شذوذ کی بجائے 'ترجیح' کو اپناتے تو شاید معاملہ اتنا سنگین نہ ہوتا، مگر علامہ رحمہ اللہ نے اس حدیث کو شاذ قرار دے کر گویا غیر معتبر اور مردود قرار دیا ہے، فإنا لله وإنا إليه راجعون۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ کبار محدثین میں سے علل الحدیث کے ماہرین اور نقاد حدیث میں سے کسی کو بھی اس میں شذوذ نظر نہیں آیا۔ اگر علامہ البانیؒ کے نزدیک جمہور سے روایت میں منفرد ہونا ہی شاذ قرار دینے کے لئے کافی ہے تو آخر آں رحمہ اللہ کو اس روایت میں شذوذ کیوں نظر آیاجس میں ''فلا أجر له'' کے الفاظ مروی ہیں حالانکہ بقولِ محدثین یہ فحش خطا ہے۔ میں مزید کہتا ہوں کہ امام طیالسیؒ، امام ابن ابی شیبہؒ اور امام بیہقی ؒکی جس زیادت کی طرف علامہ البانی ؒ نے اشارہ کیا ہے، اس سے کسی بھی طرح ان کے موقف کو تقویت نہیں ملتی ہے کیونکہ یہ زیادت تو اس بات کا اثبات کرتی ہے کہ صحابہ کرامؓ کے دور میں مسجد میں نمازِ جنازہ ہوا کرتی تھی۔ مزید یہ کہ ان صحابہ کرامؓ کا واپس لوٹ جانااس حکم سے ان کی لاعلمی کی بنا پر محمول ہوگا، نہ کہ اس کی کراہت یا ممانعت پر۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان لوگوں کی نگاہ میں رسول اللہ ﷺ کا عام معمول ہی حجت ہو یا پھر چونکہ مسجد کے باہر جنائز کے لئے ایک جگہ عہد ِنبوی میں مخصوص تھی، اس لئے وہ سمجھتے ہوں کہ وہیں جنازہ پڑھا جائے۔ یہ ان اشخاص کی ذاتی رائے تو ہوسکتی ہے، شرعی دلیل نہیں بن سکتی کیونکہ ثابت شدہ عمل نبوی کے مقابلہ میں کسی کا کوئی مخالف موقف لائق اعتنا نہیں ہوسکتا، واللہ أعلم!

پس واضح ہوا کہ مذکورہ بالا زیادت سے یہ نتیجہ اخذ کرنا سراسر ناانصافی پر مبنی ہے کہ اس زیادت کے الفاظ جماعت ائمہ کے الفاظ کو مزید مؤکد اور امام ابوداودؒ کے الفاظ کی نفی کرتے ہیں، لہٰذا علامہ البانیؒ کا یہ قول ناقابل التفات ہے کہ : ''یہ زیادت اس تاویل کے بطلان پر بھی دلالت کرتی ہے جو جماعت ِائمہ کی روایت کو بقول ان کے ابوداودؒ کی روایت: ''فلاشيء عليه'' کے ہم معنی اور غیر متناقض بنانے کے لئے کی جاتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ' تاویل' تصحیح کی ایک شاخ ہے، پس جب کہ ہم نے ابوداود کی روایت کا شذوذ واضح کردیا ہے اور اس میں کوئی شک بھی باقی نہیں ہے تو'تاویل' کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔''(۳۴ )

حدیث ِزیر مطالعہ کی تضعیف

امام ابن حبانؒ (۳۵۴ھ) نے اس حدیث کو صالح بن نبہان کے ترجمہ میں ناقابل استدلال اور غیر معتبر روایت قرار دیتے ہوئے بطورِ مثال پیش کیا ہے، اور فرماتے ہیں کہ

''یہ خبر باطل ہے۔ مصطفی ﷺ کس طرح یہ خبر دے سکتے تھے کہ جو مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھے، اس کے لئے کوئی (اجر) نہیں ہے، حالانکہ خود آں ﷺ نے حضرت سہیل بن بیضاؓ کی نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھائی تھی۔''(۳۵ )

امام ذہبیؒ(۷۴۸ھ) نے بھی صالح بن نبہان کے ترجمہ کے تحت حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ان کی تین احادیث بطورِ مثال نقل کی ہیں جن میں سے ایک یہی زیر بحث حدیث ہے۔ پھر آں رحمہ اللہ نے اس کے متعلق امام ابن حبانؒ کا مذکورہ بالا قول نقل کیا ہے اور مجموعی طور پر ان تینوں احادیث کے متعلق فرماتے ہیں کہ ''صحاح کی یہ احادیث امام ابن معینؒ کے نزدیک وہی مرتبہ رکھتی ہیں جو کہ انہوں نے بیان کیا ہے۔''(۳۶)

امام بغویؒ (۵۱۶ھ) فرماتے ہیں کہ : ''یہ حدیث سنداً ضعیف ہے، اور صالح مولی التوأمہ کے تفردات میں شمار ہوتی ہے۔(۳۷ )

امام نوویؒ (۶۷۶ھ) فرماتے ہیں کہ ''یہ حدیث ضعیف ہے اور اس سے استدلال درست نہیں ہے۔'' امام احمدؒ کا قول ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے، اس میں صالح مولی التوأمہ کا تفرد ہے اور وہ ضعیف ہے۔''(۳۸ ) آں رحمہ اللہ 'الخلاصۃ' میں مزید فرماتے ہیں کہ ''امام احمد بن حنبلؒ، امام ابن منذرؒ، امام خطابی ؒ اور امام بیہقیؒ نے اس حدیث کی تضعیف کی ہے، اور یہ تمام محدثین کہتے ہیں کہ یہ مولی التوأمہ کے تفردات میں سے ہے، اور اس کی عدالت مختلف فیہ ہے۔ ان لوگوں کی سب سے بڑی جرح ان کے 'اختلاط' کی ہے، لیکن یہ بھی کہتے ہیں کہ ابن ابی ذئب کا ان سے سماع 'اختلاط' سے قبل کا ہے۔''(۳۹ )

امام ابن جوزیؒ (۵۹۷ھ) فرماتے ہیں:

''یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ اس کے راوی صالح کی امام مالکؒ نے تکذیب کی ہے ، اور امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں کہ ان کی عقل میں فتور آگیاتھا، چنانچہ ایسی چیزیں لاتے تھے جو موضوعات (من گھڑت) کے مشابہ ہوتی تھیں۔''(۴۰ )

امام زیلعی حنفیؒ (۷۶۲ھ) فرماتے ہیں کہ''امام ابن عدیؒ نے 'الکامل' میں اس حدیث کوبلفظ امام ابوداودؒ وارد کیا ہے اور اسے صالح راوی کی منکرات میں شمار کیا ہے۔'' (۴۱ )

امام ابن قیمؒ (۷۵۱ھ) فرماتے ہیں:

''امام احمدؒ وغیرہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔ امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ہے جس میں صالح مولی التوأمہ کا تفرد ہے۔ اسی طرح امام بیہقیؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث راوی صالح کے تفردات میں شمار ہوتی ہے اور حضرت عائشہؓ کی حدیث اس سے صحیح تر ہے۔ راوئ حدیث صالح کی عدالت کے بارے میں ا ختلاف پایا جاتا ہے۔ امام مالکؒ اس پر جرح کیا کرتے تھے، پھر انہوں نے حضرات ابوبکر و عمررضی اللہ عنہما کا تذکرہ کیا ہے کہ جن کی نماز ہائے جنازہ مسجد میں پڑھی گئی تھیں۔''(۴۲)

امام عبداللہ ؒ بن احمدبن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ : ''میں نے اپنے والد(امام احمد بن حنبلؒ) سے حضرت ابوہریرہؒ کی اس حدیث کے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے حضرت عائشہؓ کی حدیث نقل کرتے ہوئے فرمایا: ''جب تک صالح مولی التوأمہ کی حدیث ثابت نہ ہو، وہ ان کے نزدیک ثبت نہیں یا صحیح نہیں ہے۔''(۴۳)

علامہ سید سابق فرماتے ہیں: ''امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور اس میں التوأمہ کے آزاد کردہ غلام صالح کا تفرد ہے ، اور وہ ناقابل اعتبار راوی ہے۔''(۴۴ )

حدیث زیر مطالعہ کے متکلم فیہ راوی کے متعلق محدثین کی آرا

امام عجلی ؒ نے انہیں 'ثقہ' قرار دیا ہے، حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں: ''صدوق تھے، آخر میں اختلاط کرنے لگے تھے، لہٰذا امام ابن عدیؒ کا قول ہے کہ قدماء مثلاً ابن ابی ذئب اور ابن جریج کے ان سے سماع میں کوئی حرج نہیں ہے، طبقہ رابعہ میں سے تھے اور ۱۲۵ھ میں وفات پائی تھی۔'' آں رحمہ اللہ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ''ان میں ضعف ہے۔'' مزید فرماتے ہیں:''اپنے اختلاط کی وجہ سے ضعیف ہے۔'' اصمعیؒ کا قول ہے کہ ''شعبہؒ ان سے روایت نہیں کرتے تھے، بلکہ اس سے منع فرماتے تھے۔'' امام مالکؒ نے ان کو 'غیر ثقہ' قرار دیا ہے، چنانچہ وہ ان سے کوئی روایت نہیں لیتے تھے۔ امام یحییٰ بن معینؒ سے بھی ان کا 'غیر قوی' ہونا منقول ہے۔ امام احمد فرماتے ہیں کہ ''امام مالکؒ نے صالح کو پایا تھا جبکہ وہ بوڑھے ہوچکے تھے اور اختلاط کرنے لگے تھے۔ جنہوں نے قدیماً ان سے سماع کیا ہے، مجھے ان میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا ہے۔ ان سے اہل مدینہ کے اکابر نے روایت کی ہے۔'' امام یحییٰ قطانؒ فرماتے ہیں کہ : ''مختلط ہوگئے تھے اور ثقہ نہ تھے۔'' امام ابن عینیہؒ فرماتے ہیں کہ ''وہ اختلاط (یعنی گڈمڈ) کرنے لگے تھے، پس میں نے انہیں ترک کردیا تھا۔'' امام جوزجانیؒ کا قول ہے: ''ابن ابی ذئب کا ان سے سماع قدیم ہے لیکن امام ثوریؒ تغییر کے بعد بھی ان کے ساتھ مجالست رکھتے تھے۔'' امام نسائیؒ نے انہیں 'ضعیف' قرار دیا ہے۔ امام ابن معینؒ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ ''ثقہ نہ تھے''، ان کے ایک دوسرے قول کے مطابق ''قوی نہ تھے'' اور ایک بار فرمایا کہ ''ثقہ حجت تھے اور وفات سے قبل خرابی حافظہ کا شکار ہوگئے تھے، پس جنہوں نے اس سے پہلے ان سے سنا ہے، وہ ثبت ہے۔'' امام ابوحاتمؒ کہتے ہیں کہ ''وہ قوی نہ تھے۔'' امام ابن مدینیؒ فرماتے تھے کہ ''ثقہ تھے اِلا یہ کہ وہ عمر رسیدہ اور خرابی ٔحافظہ کاشکار ہوگئے تھے۔ ایک جماعت نے ان کے عمر دراز ہونے اور حافظہ کی خرابی کے بعد بھی ان سے سماع کیا ہے، پس ان کا سماع صحیح نہیں ہے۔ امام ثوریؒ نے ان کی خرابی حافظہ کے بعد ان سے سماع کیا ہے، لیکن ابن ابی ذئب نے ان سے اس سے قبل سماع کیا ہے۔ (ایسا ہی ایک قول امام یحییٰ سے بھی منقول ہے)۔ امام احمدؒ کا قول ہے کہ ''صالح الحدیث تھے۔'' امام ابن شاہینؒ نے ان کو 'عدم ثقہ' بتایا ہے۔ امام سعدیؒ کا قول ہے کہ ''متغیر ہوگئے تھے۔'' ابو محمد عبدالحقؒ نے بھی ان کے 'اختلاط' کا تذکرہ کیا ہے۔ امام بیہقیؒ فرماتے ہیں کہ ''ان کی عدالت مختلف فیہ ہے۔'' امام مالکؒ بن انسؒ ان پرجرح کرتے تھے۔ امام نوویؒ نے انہیں 'ضعیف' لکھا ہے اور فرماتے ہیں کہ ''ان کے ساتھ احتجاج (دلیل پکڑنا) درست نہیں ہے۔ امام احمدؒ نے ان کی تضعیف کی ہے۔'' اور 'الخلاصہ' میں لکھتے ہیں کہ ''ان کی عدالت مختلف فیہ ہے اور ان پر اختلاط ہی کی سب سے بڑی جرح کی گئی ہے، لیکن کہا گیا ہے کہ ابن ابی ذئب کا ان سے سماع اختلاط سے قبل کا ہے۔'' علامہ محمد طاہر پٹنی حنفیؒ (۹۸۶ھ) بیان کرتے ہیں کہ ''صالح مولی التوأمہ مجروح ہے اور حضرت ابوہریرہؓ سے حدیث روایت کرتا ہے۔''

امام ابن جوزیؒ (۵۹۷ھ) فرماتے ہیں: ''صالح مجروح ہے۔ امام شعبہؒ اس سے روایت نہیں کیا کرتے تھے بلکہ اس سے منع فرماتے تھے۔ امام مالکؒ اور اما م یحییٰ کا قول ہے کہ ثقہ نہیں ہے۔ امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں کہ :عقلاً متغیر ہوگئے تھے، چنانچہ ثقات کی طرف سے ایسی روایات لاتے تھے جو کہ موضوعات (من گھڑت) جیسی ہوتی تھیں۔ نتیجۃً ان کے آخری دور کی حدیثیں ان کے قدیم دور کی حدیثوں سے گڈمڈ ہوگئی تھیں اور وہ ان کے درمیان امتیاز نہیں کرپاتے تھے، لہٰذا مستحق ترک ہیں۔''(۴۵ )

امام ابن عبدالبرؒ کا قول ہے کہ: ''صالح مولی التوأمہ اہل علم میں سے تھے، ائمہ حدیث میں سے کچھ نے ان کے ضعف کی وجہ سے ان سے دلیل نہیں پکڑی ہے اور کچھ ان سے احادیث کو قبول کرتے ہیں، بالخصوص جو ابن ابی ذئب ان سے روایت کرتے ہیں، انتہیٰ۔''(۴۶ )

امام ابن قدامہ المقدسیؒ (۶۲۰ھ) فرماتے ہیں کہ : ''مانعین کی دلیل صالح مولی التوأمہ سے مروی وہ حدیث ہے جس کے بارے میں امام ابن عبدالبرؒ کا قول ہے کہ : اہل علم کا ایک طبقہ ان کے ضعف اور مختلط ہوجانے کے باعث ان کی حدیثوں میں سے کچھ بھی قبول نہیں کرتا، جبکہ دوسرا طبقہ ان سے احادیث کو قبول کرتا ہے، بالخصوص وہ احادیث جو ابن ابی ذئب نے ان سے روایت کی ہوں ۔ پھر بھی وہ اس کو مسجد کی آلودگی اور ناپاکی کے خوف پر محمول کرتے ہیں۔''(۴۷)

امام ابن حبانؒ (۳۵۴ھ) فرماتے ہیں: ''چونکہ اختلاط کی وجہ سے وہ اپنی قدیم اور آخر کی احادیث کے مابین امتیاز نہ کرپاتے تھے اور بعض احادیث کو دوسری احادیث کے ساتھ گڈمڈ کردیتے تھے، اور یہ وہ چیز ہے کہ جس سے انسان کی عدالت اُٹھ جاتی ہے، اور اس کی روایات ناقابل استدلال اور غیر معتبر ہوکر رہ جاتی ہیں۔''(۴۸ )

صاحب 'التقیید والإیضاح' فرماتے ہیں: ''وہ فی نفسہٖ صدوق تھے اِلا یہ کہ وہ آخر میں اختلاط کا شکار ہوگئے تھے۔ قدما مثلاً ابن ابی ذئب، ابن جریج اور زیاد بن سعد وغیرہ کی ان سے روایت میں کوئی جرح نہیں ہے۔''(۴۹ )

امام ابن قیم جوزیؒ (۷۵۱ھ) فرماتے ہیں: ''میں کہتا ہوں کہ راوی ٔحدیث صالح فی نفسہٖ ثقہ ہے، جیسا کہ عباس الدوریؒ نے امام ابن معینؒ سے نقل کیا ہے کہ وہ فی نفسہٖ ثقہ تھے۔ ابن ابی مریمؒ اور یحییٰؒ کا قول ہے کہ ثقہ حجت ہے۔ میں نے ان کے متعلق سوال کیا کہ امام مالکؒ نے تو انہیں ترک کیا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ امام مالکؒ نے انہیں حافظہ خراب ہونے کے بعد پایا تھا۔ امام ثوریؒ نے بھی ان کو حافظہ کی خرابی کے بعد پایا تھا لیکن انہوں نے ان سے سماع کیا ہے۔ لیکن ابن ابی ذئب نے ان سے حافظہ کی خرابی سے قبل سماع کیا تھا۔ امام علی بن مدینیؒ فرماتے ہیں کہ وہ ثقہ تھے سوائے اس کے کہ ان کا حافظہ چلا گیا تھا اور وہ بوڑھے ہوگئے تھے، مگر امام ثوریؒ نے ان کے حافظہ خراب ہونے کے بعد بھی سماع کیا ہے، لیکن ابن ابی ذئب کا ان سے سماع اس سے پہلے کا ہے۔ امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں کہ ان کے اندر۱۲۵ھ میں تغیر آگیا تھا، چنانچہ ثقات کی طرف سے ایسی حدیثیں بیان کرتے تھے جو کہ موضوعات کے مشابہ ہوں۔ پس ان کے اخیر دور کی حدیثیں ان کے قدیم دور کی حدیثوں سے گڈمڈ ہوگئی تھیں، اور وہ ان کے درمیان تمیز نہیں کرپاتے تھے، چنانچہ مستحق ترک ہیں۔ انتہیٰ''(۵۰ )

امام منذریؒ (۶۵۶ھ) فرماتے ہیں : ''صالح مولی التوأمہ پر متعدد ائمہ نے کلام کیا ہے۔''(۵۱ )

علامہ ابو طیب شمس الحق عظیم آبادیؒ (۱۳۲۹ھ) فرماتے ہیں: ''صالح مولی التوأمہ کی تضعیف کی گئی ہے ۔ وہ آخر عمر میں اپنی حدیثوں کو بھول گئے تھے۔''(۵۲ )

آں رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں کہ : ''میں کہتا ہوں کہ صالح بن نبہان مولی التوأمہ کے بارے میں امام ابن معینؒ کا قول ہے کہ ثقہ حجت ہے۔ تحریف سے قبل ان سے ابن ابی ذئب نے سماع کیا ہے اور جو چیز ان کے اختلاط سے قبل کی مسموع ہو، وہ ثبت ہے۔ امام ابن عدیؒ فرماتے ہیں کہ قدماء کی ان سے روایت میں کوئی حرج نہیں ہے، جیسا کہ 'الخلاصۃ' میں مذکور ہے۔''(۵۳ )

صالح بن نبہان مولی التوأمہ کے تفصیلی حالات کے لئے مندرجہ ذیل کتب اسماء الرجال(۵۴ ) کی طرف مراجعت مفید ہوگی۔

زیر مطالعہ حدیث کے تحسین و تصحیح

چونکہ ابن ابی ذئب کا صالح مولی التوأمہ سے سماع قبل از اختلاط ثابت ہے لہٰذا حدیث زیربحث لائق اعتبار قرار پاتی ہے، چنانچہ محقق محدثین نے برملا اس کی تحسین فرمائی ہے۔

امام ابن قیم الجوزیہؒ (۷۵۱ھ) فرماتے ہیں: ''یہ حدیث حسن ہے کیونکہ یہ صالح سے ابن ابی ذئب کی روایت ہے اور ان کا سماع صالح کے اختلاط سے قبل کا ہے، لہٰذا ان کا ا ختلاط ان احادیث کے لئے موجب ِردّ نہیں ہے جو کہ اختلاط سے قبل کی ہوں۔''(۵۵ )

شارحِ ترمذی علامہ عبدالرحمن محدث مبارکپوریؒ (۱۳۵۲ھ) فرماتے ہیں: ''میں کہتا ہوں کہ بظاہر ابوداودؒ کی حدیث حسن ہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے'تقریب التہذیب' میں صالح بن نبہان مدنی مولی التوأمہ کے متعلق لکھا ہے کہ صدوق ہے لیکن اپنے آخری دور میں مختلط ہوگئے تھے۔ امام ابن عدیؒ نے لکھا ہے کہ ان سے قدما مثلاً ابن ابی ذئب اور ابن جریج کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے، انتہی۔

امام ابوداودؒ نے یہ حدیث صالح مولی التوأمہ سے ابن ابی ذئب کے واسطہ سے روایت کی ہے، لیکن یہ بھی ثابت ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھائی تھی اور اسی طرح حضرت صہیبؓ نے حضرت عمرؓ کی نمازِ جنازہ مسجد ہی میں پڑھا ئی تھی۔ صحابہ کرامؓ میں سے کسی نے بھی نہ حضرت عمرؓ پرنکارت کی تھی اور نہ ہی حضرت صہیبؓ پر۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا مسجد میں میت کی نماز جنازہ پڑھنے پر اجماع واقع ہوگیا۔ لہٰذا ابوداودؒ کی مذکورہ حدیث کی تاویل اس وجہ سے ضروری ہے کہ یہ حدیث حسن ہے، واللہ تعا'لیٰ أعلم۔'(۵۶ )

محدث مبارکپوریؒ کے اس اقتباس میں علامہ البانیؒ کی اس بات کا جواب بھی موجود ہے کہ امام ابوداودؒ کی حدیث زیر مطالعہ کی تاویل کیوں کر ضروری ہے۔ علامہؒ اس تاویل کی ضرورت سے انکار کرتے ہیں جیسا کہ حاشیہ نمبر ۳۴ سے متعلق اقتباس میں اوپر گزر چکا ہے۔

سید سابق فرماتے ہیں ''کچھ ائمہ نے رسول اللہﷺ کی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔''(۵۷ )

علامہ ناصر الدین البانیؒ نے اس حدیث کو ایک مقام پر بلفظ ''فلاشيء له'' 'حسن' قرار دیا ہے،(۵۸ ) اور بعض دوسرے مقامات پر بحوالہ مسند احمد و ابن ما جہ عن ابی ہریرہؓ ''فليس له شيء'' کے الفاظ کے ساتھ 'صحیح' قرار دیا ہے۔(۵۹ )

علامہ رحمہ اللہ صالح مولی التوأمہ کے مختلط ہونے کی بنا پرائمہ کی جانب سے اس حدیث کی تضعیف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

''میں کہتا ہوں: اس کا سبب یہ ہے کہ وہ مختلط ہوگئے تھے۔ پس جنہوں نے ان سے اختلاط سے قبل سما ع کیا ہے، مثلاً ابن ابی ذئب تو وہ حجت (دلیل) ہیں لیکن جنہوں نے اختلاط کے بعد ان سے سماع کیا ہے، وہ حجت نہیں ہیں۔ یہ تفصیل پرانے اور جدید دور کے تمام علما کی رائے پرقائم ہے (پھرامام ابن ابی حاتمؒ سے، امام احمدؒ اور امام یحییٰ بن معینؒ کے اقوال نقل کرتے ہیں)۔

جب ہم نے یہ تفصیل جان لی اور یہ بھی معلوم ہے کہ یہ حدیث ان سے ابن ابی ذئب کی روایت کردہ ہے تو اس کا اثبات واضح ہوا۔''(۶۰ )

علامہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں: ''پس جن ائمہ ، مثلاً امام بیہقیؒ اور امام احمدؒ نے صالح مولی التوأمہ پرمجمل طعن کو لے کر اس حدیث کو تضعیف کی ہے، وہ لائق التفات نہیں ہے۔''(۶۱ )

پھر آں ؒاس حدیث کی تصحیح سے امام احمدؒ کے وقف کی وجہ بزعم خود بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''میں کہتا ہوں کہ امام احمدؒ نے اس حدیث کی تصحیح سے اس لئے توقف کیا ہے کہ اس وقت تک وہ تفصیل جو ہم نے اوپر نقل کی ہے، ان پر واضح نہ تھی یا وہ سمجھتے تھے کہ حدیث ِمذکور حضرت عائشہؓ کی حدیث کی معارض ہے جو کہ بلا شبہ صحیح ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ کسی حدیث پر نقد کرتے وقت ناقد کو ان فقہی امور کو ہرگز ملحوظ نہیںرکھنا چاہئے جن سے اسے یہ وہم ہوتا ہو کہ وہ فقہی امور اس حدیث کے خلاف ہیں۔ پھر اس چیز کو وہ حدیث پر طعن کے لئے دلیل بنالے۔ یہ چیز اگرچہ علم حدیث کے قواعد میں سے نہیں ہے، لیکن اگر ایسا ہو اور اس نقد پراعتماد کیا جائے تو بہت سی صحیح احادیث جو قوی اسناد سے وارد ہوئی ہیں، ان کا ردّ لازم آئے گا۔ اسی طرح اگر صالح کی حدیث حضرت عائشہؓ کی حدیث کے خلاف ہے تو اس بنا پر اس پرطعن نہیں کرنا چاہئے، بلکہ باعتبارِ حدیثیت ان دونوں حدیثوں کے ثبوت کے بعد انکے مابین موافقت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، جیسا کہ حافظ ابن حجرؒ نے 'شرح النخبہ' میں اور دوسرے ائمہ نے دوسری تصانیف میں بیان کیا ہے۔''(۶۲ )

میں کہتا ہوں کہ علامہ محمد ناصر الدین البانیؒ نے نام نہ لیتے ہوئے بلا واسطہ مذکورہ بالا اقتباس میں محی السنہ بطل جلیل استاذ الائمہ امام احمد بن حنبلؒ کو علل حدیث سے لا علم، فقہی اعتبار سے متعصب، نقد ِحدیث کی مبادیات سے ناواقف اور نقد ِحدیث میں انہیں ناقابل اعتماد ظاہر کرنے کی سعی نامشکور کی ہے، فإناللہ وإنا إلیه راجعون۔

میں پوچھتا ہوں کہ امام ہمام رحمہ اللہ نے کتنی اور ایسی کن کن احادیث پر فقہی امور کوملحوظ رکھتے ہوئے طعن کیا ہے جو قوی اسناد سے وارد ہوئی ہیں؟ اُمت ِمسلمہ اور خود علم حدیث پر امام رحمہ اللہ کے جو عظیم احسانات ہیں، اُمت رہتی دنیا تک ان کے احسانات کے بوجھ تلے دبی رہے گی۔ البتہ علامہ البانیؒ کا مندرجہ ذیل قول اپنی جگہ صد فیصد درست ہے، فرماتے ہیں کہ ''پس اس بیان کے بعد امام ابن حبانؒ کا 'الضعفاء(۱؍۳۶۶)' میں مذکور یہ قول ناقابل التفات ہے: «وهذا خبر باطل ، کيف يخبر المصطفیٰ ﷺ أن المصلي في الجنازة لاشيء له من الأجر، ثم يصلي هو ﷺ علی سهيل ابن البيضا في المسجد»(۶۳ )

حدیث زیر مطالعہ کے معنی کے تعیین اور رفع تعارض کے لئے تاویل

اب جبکہ حدیث زیر بحث لائق استدلال ثابت ہوچکی ہے تو ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اس حدیث کے معانی اور اس کی اصل مراد کو سلف و صالحین، ائمہ و فقہائے حدیث نیز محقق علماء و شارحین کے اقوال کی روشنی میں سمجھا جائے، چنانچہ ملا علی قاری حنفیؒ (۱۰۱۴ھ) فرماتے ہیں:

''صحیح روایت میں''فلاشيئ له'' ہے، میں کہتا ہوں کہ یہ روایت ''فلاشيء عليه'' پر محمول ہے اور میں نے اس مسئلہ کو ایک مستقل رسالہ میں بیان کیا ہے۔''(۶۴ )

لیکن امام بغویؒ (۶۱۵ھ) فرماتے ہیں: ''اگر یہ حدیث ثابت ہوجائے تو بھی اس بات کا احتمال ہے کہ اس سے مراد اجر میں کمی ہو، کیونکہ اگرمسجد میں نماز پڑھی جاتی ہے تو اکثر لوگ وہیں سے واپس لوٹ جاتے ہیں، اور میت کی تدفین میں شریک نہیں ہوتے۔ اس کے برخلاف جس کی نماز قبروں کے پاس صحرا میں ہوتی ہے تو لوگ اسکی تدفین میں بھی شریک ہوتے ہیں اور اس طرح ان کیلئے دو قیراط کا اجر مکمل ہوجاتا ہے۔''(۶۵ )

امام ابن قیم جوزیؒ (۷۵۱ھ) فرماتے ہیں: '' اس بات کا احتمال بھی ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث اگر ثابت ہو تو اس کا معنی یہ لیا جائے کہ اس سے متأولاً اجر میں کمی کا اثبات ہوتا ہے۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ جو لوگ مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھتے ہیں، ان میں سے بیشتر اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں اور تدفین میں شریک نہیں ہوتے۔ جو شخص جنازہ کے لئے سعی کرے، پھر قبروں کے پاس اس کی نمازِ جنازہ پڑھے اور اس کی تدفین میں شریک ہو، اس کے لئے دو قیراط کا اجر ہے۔ اسی طرح جتنے زیادہ قدم چل کر جایا جائے اتنا ہی زیادہ اجر ملتا ہے۔ لہٰذا جو شخص مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھے، اس کے اجر میں مزید کمی ہوئی، بمقابلہ اس شخص کے جو کہ مسجد سے باہر نماز جنازہ پڑھے۔ ایک جماعت نے حدیث کے الفاظ ''فلاشيء له''کی تاویل یہ کی ہے کہ اس سے مراد ''فلاشيء عليه'' ہی ہے تاکہ دونوں الفاظ کے معانی میں وحدانیت و یکسانیت پیدا ہوجائے اور یہ دونوں الفاظ باہم متناقض بھی نہیں ہیں جیساکہ ارشادِ باری ہے:﴿وَإِن أَسَأتُم فَلَها﴾(۶۶ ) اور اس میں ''فلها'' سے مراد ''فعليها'' ہے۔''(۶۷ )

امام خطابیؒ بھی فرماتے ہیں کہ : ''یہ ممکن ہے کہ 'لہ' میں 'لام' بمعنی 'علی' (یعنی 'علیہ') ہو جیسا کہ اس ارشادِ باری تعالیٰ میں﴿وَإِن أَسَأتُم فَلَها﴾ سے مراد ہے۔''(۶۸ )

شارح ترمذی علامہ عبدالرحمن محدث مبارکپوریؒ (۱۳۵۲ھ) فرماتے ہیں: ''جہاں تک امام ابوداودؒ کی مذکورہ حدیث کا تعلق ہے تو میں بھی اس کا جواب چند پہلو سے دیتا ہوں جس طرح کہ امام نوویؒ نے ' صحیح مسلم'کی شرح میں اس کا جواب متعدد وجوہ سے دیا ہے اور ان میں سے اوّل یہ ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے، لہٰذا اس سے دلیل پکڑنا درست نہیں ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ کا قول ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور اس میں مولی التوأمہ کا تفرد ہے، اور وہ خود ضعیف ہے۔ دوم یہ کہ 'سنن ابوداود' کے مشہور، محقق اور مسموع نسخوں میں اس حدیث کے یہ الفاظ ملتے ہیں کہ ''جس نے مسجد میں جنازہ کی نماز پڑھی، اس پر کوئی گناہ نہیں ہے''، لہٰذا اس حدیث سے ان کا استدلال کرنا درست نہیں ہے۔ سوم یہ کہ اگر یہ حدیث ثابت ہوجائے اور یہ بھی ثابت ہوجائے کہ ''اس کے لئے کچھ نہیں ہے'' تو بھی اس کی یہ تاویل واجب ہوگی کہ 'اس پر' (علیہ) یا 'اس کے لئے' (لہ) کوئی گناہ نہیں ہے تاکہ دونوں روایتوں کے مابین جمع و تطبیق قائم ہوسکے۔ مزید فرماتے ہیں کہ 'لہ' ،'علیہ' کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ اس ارشادِ باری تعالیٰ سے واضح ہے:﴿وَإِن أَسَأتُم فَلَها﴾ اور چہارم یہ کہ یہ حدیث اس شخص کے اجر میں کمی پر محمول ہوگی جو مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھ کر لوٹ جائے اور قبرستان تک میت کے ساتھ نہ جائے ، کیونکہ جو اجر اس سے چھوٹا وہ قبرستان تک میت کے ساتھ جانے اور تدفین کے وقت اس کی موجودگی کا ہے۔''(۶۹ )

شارحِ سنن ابی داود علامہ ابوطیب شمس الحق محدث عظیم آبادیؒ (۱۳۲۹ھ) فرماتے ہیں کہ ''یہ بات ثابت ہے کہ حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھی گئی تھیں اور یہ بات بھی معلوم ہے کہ ان دونوں خلفا کے جنازوں کی نمازوں میں عام مہاجرین اور انصار (صحابہؓ)نے شرکت کی تھی۔ پس صحابہ کا اس فعل پر ترکِ نکارت اس کے جواز کی دلیل ہوئی۔ اس بات کا بھی احتمال ہے کہ اس حدیث کا یہ معنی لیا جائے کہ اس سے متاوّلاً اجر میں کمی کا اثبات ہوتا ہے۔ اور یہ اس وجہ سے ہے کہ جولوگ مسجد میں جنازہ کی نماز پڑھتے ہیں، ان میں سے بیشتر نماز کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں اور تدفین میں شریک نہیں ہوتے۔ جو شخص جنازہ کے لئے سعی کرے، اس پرنمازِ جنازہ پڑھے، قبرستان جائے اور تدفین میں شریک ہو تو اس کے لئے دو قیراط کا اجر ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ: ''جس نے نمازِجنازہ پڑھی اس کے لئے ایک قیراط اجر ہے اور جو اس کی تدفین میں بھی شریک ہو اس کے لئے دو قیراط کا اجر ہے'' اور قیراط اُحد پہاڑ کے مثل ہے۔ اس کے علاوہ جتنے زیادہ قدم چل کر جایا جائے، اتنا ہی زیادہ اجر ملتا ہے، لہٰذا جو شخص مسجد میں جنازہ کی نماز پڑھے، اس کے اجر میں مزید کمی ہوئی بمقابلہ اس شخص کے جو میدان میں نمازِ جنازہ پڑھے۔ اور حدیث کے الفاظ ''فلاشيء عليه'' کا معنی یہ ہے کہ اس میں نماز پڑھنے والے پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے حدیث کے الفاظ ''فلاشيء له'' سے مراد یہ بتائی ہے کہ مسجد میں نمازِجنازہ ادا کرنے والے نمازی کے لئے کوئی اضافی فضیلت نہیں ہے، بلکہ (جہاں تک نمازِ جنازہ پڑھنے کا ثواب کا تعلق ہے تو) خواہ مسجد میں ہو یا کسی اور جگہ اس کا اجر برابر ہے۔ اس سے دونوں حدیثوں کے مابین تعارض اور اختلاف دور ہوجاتا ہے۔''(۷۰)

امام شوکانی ؒ (۱۲۵۰ھ) فرماتے ہیں: ''مسجد میں نمازِ جنازہ کی کراہت پراس حدیث سے بھی استدلال کیا جاتا ہے جس کی تخریج امام ابوداود نے حضرت ابوہریرہؓ سے کی ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے: «من صلی علی جنازة في المسجد فلاشيء له»اور امام ابن ماجہؒ نے ان الفاظ کے ساتھ اس کی تخریج کی ہے: ''فليس له شيء'' لیکن اس حدیث کی سند میں صالح مولی التوأمہ ہے جس پر متعدد ائمہ نے کلام کیا ہے۔ امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ : جمہور نے اس کا جواب متعدد وجوہ سے دیا ہے (پھر وہ تمام وجوہ بیان کرتے ہیں جو اوپر حاشیہ نمبر۶۹ سے متعلق 'تحفۃ الاحوذی' کے منقولہ اقتباس میں گزر چکے ہیں)''(۷۱ )

علامہ سید سابق فرماتے ہیں: ''بعض ائمہ نے امام ابوداود ؒکی روایت کے الفاظ: ''جس نے مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھی اس کے لئے کچھ نہیں ہے۔'' سے مراد یہ بتائی ہے کہ اس پر کوئی عذاب نہیں ہے۔''(۷۲)

علامہ محمد ناصر الدین البانیؒ امام ابن قیم الجوزیہؒ کی مذکورہ بالا تحسین حدیث سے مطمئن نظر نہیں آتے، چنانچہ دبے لفظوں میں حدیث عائشہؓ اور حدیث ابوہریرہؓ کے مابین موافقت و تاویل نہ کرنے کا شکوہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ''یہاں اوپر جس موافقت کی طرف اشارہ کیا گیاہے اس کے لئے اگر (امام ابن قیمؒ کی طرف سے) یہ کہا گیا ہوتا تو زیادہ بہتر تھا کہ حدیث عائشہؓ کی غایت مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنے پر دلالت کرنا ہے اور صالح کی حدیث اس کی نفی نہیں کرتی کیونکہ یہ حدیث نمازِجنازہ پر اجر کی مطلق نفی نہیں کرتی بلکہ یہ مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنے کے خصوصی اجر کی نفی کرتی ہے۔''(۷۳ ) (جاری ہے)

حوالہ جات

۱) صحیح مسلم ۳؍۶۳ (۹۷۳)، شرح السنہ ۵؍۳۵۱، سنن ابی داود مع عون ۳؍۱۸۲، جامع الترمذی مع تحفۃ الاحوذی ۲؍۱۴۵، مسنداحمد۶؍۷۹، سنن النسائی ۴؍۶۸، سنن ابن ماجہ (۱۵۱۸)، سنن الکبریٰ للبیہقی ۴؍۵۱، الطحاوی ۱؍۲۸۴، الاصابہ ۲؍۸۴، ۹۱، الاستیعاب ۲؍۹۲،۱۰۷

۲) واضح رہے کہ مشہور صحابی رسول حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی وفات کے بارے میں اصحاب سیر کا اختلاف ہے، چنانچہ عمرو بن علی الفلاس وغیرہ نے ۵۴ھ، واقدی نے ۵۵ھ اور ابونعیم نے ۵۸ھ لکھا ہے۔ (الاصابہ ۲؍۳۱، الاستیعاب ۲؍۲۴-۲۵)

۳) حضرات سہلؓ اور سہیل القرشی بن بیضاء رسول اللہ ا کے صحابی تھے۔ ان کے والد کا نام وہب بن ربیعہ بن ہلال ابن مالک بن ضبہ بن الحرث بن فہر القرشی ہے۔ بیضاء ان کی ماں ہیں جنکا اصل نام دعد ہے۔ یہ دونوں بھائی بدری صحابی ہیں۔ امام ابوحاتم فرماتے ہیں: حضرت سہلؓ ان صحابیوں میںسے ہیں جنہوں نے قبل از ہجرت نبوی مکہ ہی میں اپنے اسلام کو ظاہر کردیا تھا، لیکن حضرت سہیلؓ کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے پہلے ہجرت حبشہ کی لیکن جب اسلام پھیل گیا تو آپؓ رسول اللہ ا کی خدمت میں مکہ حاضر ہوئے اور آپؐ کے ساتھ ہی رہے حتیٰ کہ جب نبی ا نے ہجرت فرمائی تو انہوںنے بھی ہجرت کی۔اس طرح حضرت سہیلؓ نے دوبار ہجرت کی تھی۔ ان دونوں بھائیوں کی و فات مدینہ میں ۹؍ہجری میں ہوئی تھی۔ ابن اسحاقؒ اور ابن سعدؒ وغیرہ نے ان دونوں صحابیوں کا سنہ وفات یہی بیان کیا ہے۔ گویا آں انے ان دونوں صحابیوں کی نما زجنازہ مسجد نبوی میں اپنی عمر مبارک کے تقریباً آخری دور میں پڑھائی تھی۔ انس بن مالک کا قول ہے کہ نبی ا کے بزرگ صحابیوں میں حضرت ابوبکر اور سہل بن بیضاء رضی اللہ عنہما تھے۔(الإصابة في تمییز الصحابة۸۴،۹۰-۹۱، الاستیعاب في أسماء الأصحاب ۲؍۹۲،۱۰۶-۱۰۷)

۴) تحفۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی ۲؍۱۴۶)

۵) الموطأ ۱؍۲۲۹، شرح السنہ ۵؍۳۵۰، التحقیق لابن الجوزی ۲؍۱۳

۶) صحیح مسلم ۳؍۶۳ (۹۷۳)

۷) الموطأ ۱؍۲۳۰، مصنف عبدالرزاق (۵۶۷۷)، نصب الرایہ ۲؍۲۷۷

۸) مصنف عبدالرزاق (۵۶۷۶)، نصب الرایہ ۲؍-۲۷۷

۹) نیل الأوطار ۲؍۷۴۷ ۱۰) نصب الرایہ ۲؍۲۷۷ ۱۱) نفس مصدر

۱۲) سنن الکبریٰ ازبیہقی ۴؍۵۲ ۱۳) شرح السنہ للبغوی ۵؍۳۵۱

۱۴) مصنف ابن ابی شیبہ ۳؍۳۶۴، نیل الأوطار للشوکانی ۲؍۷۴۸ ۱۵) صحیح البخاری مع الفتح ۳؍۱۹۸

۱۶) صحیح مسلم (۹۷۳)، شرح السنہ ۵؍۳۵۰، الموطأ ۱؍۲۲۹، سنن ابی داود مع العون ۳؍۱۸۲، الطحاوی ۱؍۲۸۴، سنن النسائی مع التعلیقات السلفیہ ۱؍۲۲۶، نیل الاوطار ۲؍۷۴۷، سنن الکبریٰ للبیہقی ۴؍۵۱، منتقی الاخبار (مترجم) ۱؍۷۳۶

۱۷) سنن ابن ماجہ (۱۵۱۸)، ضعیف سنن ابن ماجہ الالبانی ص۱۱۶

۱۸) جامع الترمذی مع تحفۃ الاحوذی ۲؍۱۴۵، فقہ السنہ از سید سابق (مترجم)۴؍۵۳

۱۹) زاد المعاد فی ہدی خیر العباد لابن قیم ۱؍۴۸۱

۲۰) العلل المتناھیۃ فی الاحادیث الواھیۃ لابن الجوزی ۱؍۴۱۴

۲۱) سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی ۵؍۴۶۲

۲۲) شرح السنہ ۵؍۳۵۲، سنن ابی داود مع العون ۳؍۱۸۲، سنن ابن ماجہ ۱؍۴۶۲ (۱۵۱۷)سنن الکبریٰ للبیہقی ۴؍۵۱، الطیالسی ۱؍۱۶۵، مسنداحمد ۲؍۴۴۴،۴۴۵، مصنف عبدالرزاق (۶۵۷۹)، مصنف ابن ابی شیبہ ۳؍۳۶۴-۳۶۵، الکامل لابن عدی ۲؍۱۹۸، شرح المعانی للطحاوی ۱؍۲۸۴، التحقیق لابن الجوزی ۲؍۱۳

۲۳) زاد ا لمعاد ۱؍۴۸۱-۴۸۲ ۲۴) شر ح السنہ ۵؍۳۵۲ ۲۵) عون المعبود۳؍۱۸۲

۲۶) کذا فی العون ۳؍۱۸۳ ۲۷) اسرار المرفوعہ للقاری ص۲۳۵

۲۸) نصب الرایہ ۲؍۲۷۵، عون المعبود ۳؍۱۸۲، سلسلۃ الأحادیث الصحیہ ۵؍۴۶۲

۲۹) نیل الأوطار ۲؍۷۴۸ ۳۰) نصب ا لرایہ ۲؍۲۷۵

۳۱) سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ ۵؍۴۶۵-۴۶۶ ۳۲) ایضاً ۵؍۴۶۲-۴۶۳

۳۳) قواعد التحدیث للقاسمی ص ۳۰-۳۱، فتح المغیث للعراقی ص۷۵-۸۷، فتح المغیث للسخاوی ۱؍۲۹۹-۲۳۴، الفیۃ الحدیث للعراقی، مقدمۃ ابن الصلاح، تقریب النواوی، تدریب الراوی للسیوطی ۱؍۲۳۲-۲۳۸، التقیید والایضاح للعراقی ص۸۳-۸۶، النکت علی کتاب ابن الصلاح لابن حجر ص۲۶۳-۲۷۳، ہدی الساری لابن حجر ص۳۸۴،۳۸۵، فتح الباری :۱؍۴۹۱،۵۸۵، ۲؍۱۳۲،۹؍۴۰۷، ۵۹۱،۱۱؍۵۴۸ وغیرہ

۳۴) سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ۵؍۴۶۳ ۳۵) المجروحین ۲؍۳۶۶، نصب ا لرایہ ۲؍۲۷۶

۳۶) میزان الاعتدال ۲؍۳۰۴ ۳۷) شرح السنہ ۵؍۳۵۲ ۳۸) نصب الرایہ ۲؍۲۷۶

۳۹) نفس مصدر ۴۰) العلل المتناھیۃ فی الاحادیث الواھیۃ ۱؍۴۱۴ ۴۱) نصب الرایہ ۲؍۲۷۵

۴۲) زاد المعاد ۱؍۴۸۱-۴۸۲ و نصب الرایہ ۲؍۲۷۶ مختصراً ۴۳) مسائل امام احمدؒ ص۱۲۵

۴۴) الفقہ السنۃ (مترجم انگلش) ۴؍۵۳ ۴۵) التحقیق فی احادیث الخلاف لابن الجوزی ۲؍۱۳-۱۴

۴۶) کذا فی نصب الرایہ ۲؍۲۷۵، سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ۵؍۴۶۲

۴۷) المغنی لابن قدامہ ۲؍۴۹۳-۴۹۴ ۴۸) المجروحین فی الضعفاء ۲؍۳۶۶

۴۹) التقیید والا یضاح ص ۴۵۶ ۵۰) زاد المعاد ۱؍۴۸۲

۵۱) عون المعبود ۳؍۱۸۳ ۵۲) نفس مصدر ۳؍۱۸۲ ۵۳) نفس مصدر

۵۴) تاریخ یحییٰ ابن معین ۲؍۲۶۶، الثقات للعجلی ۱؍۴۶۶، الضعفاء الکبیر للعقیلی ۲؍۲۰۴، المجروحین فی الضعفاء ۲؍۳۶۵-۳۶۶، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ۴؍۴۱۶، میزان الاعتدال ۲؍۳۰۳-۳۰۴، الضعفاء والمتروکین للنسائی (۵۷)، الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی ۲؍۵۱، لسان المیزان ۷؍۲۴۶، تہذیب الکمال ۲؍۶۰۱، خلاصۃ تہذیب الکمال ۱؍۴۶۵، الکاشف ۲؍۲۴، الوافی بالوفیات ۱۶؍۲۷۳، سؤالات محمد بن عثمان بن ابی شیبہ لعلی بن المدینی (۷۶-۸۷) ، تقریب التہذیب ۱؍۳۶۳، تہذیب التہذیب ۴؍۴۰۵، تاریخ ا لکبیر للبخاری ۴؍۲۹۱، تاریخ الصغیر للبخاری ۲؍۵۲، تاریخ اسماء الثقات لابن شاھین ص ۱۷۲، قانون الموضوعات والضعفاء للفتنی ص۲۶۳، الکامل فی الضعفاء لابن عدی ۴؍۱۳۷۳-۱۳۷۴، العلل لاحمد ۱؍۳۴۸، السنن الکبری للبیہقی ۴؍۵۲، ۱؍۳۰۳، فتح الباری ۱؍۴۸۶، ۱۳؍۳۸۴، مجمع الزوائد للہیثمی ۲؍۲۲۱، تحفۃ الاحوذی ۱؍۵۰، ۲۳۸، نصب الرایہ للزیلعی ۱؍۳۵۷،۳۸۹،۲؍۲۷۵، ۲۷۶

۵۵) زاد ا لمعاد لابن قیم ۱؍۴۸۲ ۵۶) تحفۃ الاحوذی ۲؍۱۴۶

۵۷) فقہ السنہ از سید السابق ۴؍۵۳

۵۸) ضعیف سنن ابی داود للالبانی ص۲۲۳، ضعیف الجامع الصغیر للالبانی (۵۶۶۷)، سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی ۵؍۴۶۲

۵۹) صحیح الجامع الصغیر للالبانی ۲؍۱۰۸۷، سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ للالبانی ۵؍۴۶۲

۶۰) سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی ۵؍۴۶۳-۴۶۴

۶۱،۶۲) سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ۵؍۴۶۴ ۶۳) نفس مصدر ۵؍۴۶۵

۶۴) الاسرار ا لمرفوعہ ص۲۳۵

۶۵) شرح السنہ ۵؍۳۵۲ ۶۶) سورۃ الاسراء :۷

۶۷) زاد ا لمعاد ۱؍۴۸۳ ۶۸) کذا فی نصب الرایہ ۲؍۲۷۶

۶۹) تحفۃ الاحوذی ۲؍۱۴۶ وکذا فی نیل الاوطار ۲؍۷۴۸-۷۴۹ و نصب الرایہ ۲؍۲۷۶ مختصراً

۷۰) عون المعبود ۳؍۱۸۲-۱۸۳ و کذا فی زاد المعاد ۱؍۴۸۲-۴۸۳ مختصراً و نصب الرایہ ۲؍۲۷۶ مختصراً

۷۱) نیل الأوطار ۲؍۴۷۸-۴۷۹ ۷۲) الفقہ السنہ ۴؍۵۳

۷۳) سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ۵؍۴۶۵۔ میں کہتا ہوں کہ علامہ البانی ؒ کے پاس اس تاویل کی بعض متاخرین کی رائے کے سوا کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں ہے، واللہ اعلم بالصواب