انسان کو اپنا پیٹ پالنا، تن ڈھکنا اور بچوں کی پرورش کا بوجھ اُٹھانا ہے اس لئے اس کو کاروبار کرنا پڑتا ہے۔ کاروبار ایک جائز ضرورت ہے۔ اگر جائز طریقے سے کیا جائے تو یہ عبادت بھی ہے۔ اگر ناجائز ہتھکنڈے استعمال کئے جائیں تو گناہ بھی ہے اور حرام بھی۔ اس لئے ہم ذیل میں چند ایک دن موٹی موٹی کاروباری بیماریوں اور مفاسد کا ذِکر کریں گے جن سے عامہ خلائق غافل ہے۔

قسمیں کھانا:

قسمیں کھانے سے غرض یہ ہوتی ہے کہ گاہک چیز خرید لے اور اس کی عموماً اس وقت ضرورت پڑتی ہے جب دال میں کالا ہوتا ہے۔ اس لئے رسول کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔

«قال رسول الله ﷺ إِيَّاكُمْ وَالْحَلْفَ فِيْ الْبَيْعِ فَإِنَّه يُنَفِّقُ ثُمْ يَمْحَقُ» (ابن ماجه عن ابي قتادة۔ كتاب البيوع)

اپنے بیع میں قسم کھانے سے بچو۔ کیونکہ پہلے تو مال چلتا ہے پھر اس کی برکت جاتی رہتی ہے۔

صحیحین میں ہے الحلف منفقة للسلعة وممحقة للبركة (ابو ھريره)

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ قیامت میں تین آدمیوں سے اللہ بات نہیں کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ہی ان کو پاک کرے گا۔

«وَالْمُنْفِقُ سِلْعَةً بِالحلِف الْكَاذِبِ» (ابن ماجه عن ابي ذر) (ایک وہ جو جھوٹی قسم کھا کر مال بیچتا ہے۔)

یہ بیماری جتنی عام ہے وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے اور شرعاً اس کے جو بد نتائج ہیں وہ بھی اب آپ کے سامنے ہیں۔ آمدنی میں نہ برکت ہے اور نہ ہی مالدار کو اطمینانِ قلب نصیب ہے اور نہ ہی اس مال کے ذریعے ان کو کارِ خیر کی توفیق ہوتی ہے۔ اگر کوئی کرتا بھی ہے تو وہ بھی خدا سے کاروبار کرتا یا اس کو سیاسی فوائد کے حصول کا ذریعہ بناتا ہے۔ الا ماشاء اللہ۔

کچے باغ:

یہ ایک عام وبا چل نکلی ہے کہ باغ ابھی کچے ہوتے ہیں اور ان کے سودے ہو جاتے ہیں۔ رسولِ کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔

«نھي رسول الله ﷺ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتّٰي يَبْدُ وَصَلَاحُھَا نَھَي الْبَائِعَ وَالْمُبْتَاعَ» (بخاري و مسلم عن ابن عمر)

حضور ﷺ نے پھلوں کے پکنے سے پہلے اس کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے۔ خریدنے اور بیچنے والے دونوں کو۔

حضرت انس کی روایت میں حَتّي يَبْدُوَ کے بجائے تَزْھُوَآیا ہے۔ صحابی نے پوچھا کہ یہ زَھْوَ کیا ہے فرمایا: «تَحْمَارُّ وَتَصْفَارُّ» (بخاری و مسلم) (پھل پک کر) زرد یا سرخ ہو جائے۔

صَلَاحِھَا کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا «حَتّٰي تَذْھَبَ عَاھَتُھَا» یہاں تک کہ نقصان کا اندیشہ نہ رہے۔

یہی حکم دوسرے کچے کھیتوں کا بھی ہے (ترمذی۔ ابو داؤد و صحیحین۔ انس) کہ آپ نے اس سے منع کیا ہے۔ کیونکہ کیا پتہ، آفات ناگہانی کا شکار ہو جائیں۔ پھر جھگڑا ہو گا یا خریدنے والا اُجڑے گا۔ بہرحال کوئی بھی صورت ہو، بری ہے، ناجائز ہے۔ اس لئے شریعت نے یہ قانون بنا دیا ہے کہ اگر وہ پکنے سے پہلے تلف ہو جائیں تو اتنا وضع کر لیا جائے۔

بیعانہ:

شریعت میں بیعانہ بھی ناجائز ہے۔ بیعانہ سودے کی ایک گونہ ضمانت ہوتی ہے۔ کوئی سودا لے لے تو وہ قیمت میں شمار ہو جاتا ہے۔ نہ لے تو ضبط کر لیا جاتا ہے۔

«عن عمرو بن شعیب عن أبیه عن جدہ قال: نَھٰي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَںْ بَيعِ الْعُرْبَانِ» (رواه مالك) یعنی حضور ﷺ نے عربان (بیعانہ) کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔

قیمت بڑھا کر خریدنا:

جہاں بولی ہوتی ہے، وہاں قیمت بڑھا کر چیز خریدنا جائز ہے لیکن یوں کرنا کہ ایک کے ساتھ سودا ہو گیا ہے، دوسرا اُٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں ہے کہ فلاں سے پچاس روپے لئے ہیں میں اس کے ساٹھ دیتا ہوں۔ لہٰذا اس کو نہ دے، مجھے دے، ناجائز ہے۔

«نھی رسول اللہ ﷺ عن النجش» (بخاری مسلم عن ابن عمر)

آپ نے قیمت بڑھانے سے منع فرمایا ہے۔

آڑھت میں جو بولی ہوتی ہے یا چار آدمی جمع ہو کر کوئی چیز خریدتے ہیں، جب تک بیچنے والا کسی کی بولی پر سودا ختم نہ کرے قیمت بڑھائی جا سکتی ہے۔ ناجائز صورت صرف وہ ہے جہاں بات طے ہو جائے، پھر جا کر دوسرا اس کو گمراہ کرے۔

بخش کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ خریدنے والے کی راہ مارے اور کہے کہ، اس سے نہ لے میں تمہیں اس سے بھی اچی چیز دیتا ہوں۔ بہرحال یہ دونوں بیماریاں عام ہیں۔

انجان کو دھوکا دینا:

ہوشیار لوگ سادہ لوح انسانوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور چرب زبانی کے ۔ذریعے ان کو گھیر لیتے ہیں اور حسب منشا ان کے ہاتھ چیز بیچ دیتے ہیں۔ یہ طریقہ بالکل ناجائز ہے ایسے سادہ لوح لوگوں کو حضور نے یہ سبق پڑھایا ہے کہ ایسے موقع پر یوں کہا کرو۔

«لَا خِلَابَةَ» (بخاري، مسلم عن ابن عمر) دھوکہ والی بات نہیں۔

اس سے مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی انسان کو ٹھگ لے تو اس کو بعد میں اختیار رہتا ہے۔ چاہے تو سودا لوٹا سکتا ہے۔

نقد اور اُدھار پر مختلف بھاؤ:

جو گاہک نقد سودا خریدتا ہے اس سے کم قیمت لیتے ہیں اور جو شخص ادھار لیتا ہے۔ اس سے زیادہ پیسے چارج کرتے ہیں۔ یہ بھی منع ہے۔ ارشاد ہے۔

«دعوا الربا والریبة» (دارمی وابن ماجہ عن عمرؓ)

''ربوا بھی چھوڑ دو اور ریبہ بھی۔''

ربوٰ سود کو کہتے ہیں اور ریبہ وہ منفعت ہے، جس کے جائز ہونے کی شرعی حیثیت مشتبہ ہو۔ ویسے بھی ایک انسان کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی یہ ایک بدترین مثال ہے۔